امام رضاؑ اور مسئلہ ولی عہدی

تحریر: سید عباس حسینی

 

تمام مومنین ومومنات کو ١١ ذی القعدہ ١٤٣٣ھ یوم ولادت باسعادت شاہ خراسان امام علی بن موسی الرضا ؑ مبارک ہو۔


امام رضاؑ سلسلہ عصمت کی دسویں کڑی اور آسمان امامت کے آٹھویں آفتاب ہیں۔ آپ ؑ کی ولادت با سعادت ١١ ذی القعدہ سن ٤٨ ھ میں ہوئی۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ یہ وہی سال ہے جس میں آپؑ کے جد بزرگوار امام صادق ؑ کی شہادت واقع ہوئی۔ گویا یہ غیبی اشارہ تھا کہ ایک عالم آل محمد کی جگہ دوسرے عالم آل محمد نے لینی ہے اور بعد میں امام رضا ؑعالم آل محمد ؑ کے لقب سے ہی مشہور ہوئے۔

آپ ؑ کے القابات میں رضا، غریب طوس، غریب الغربائ، عالم آل محمد، صابر، زکی ، رضی ہیں لیکن آ پ مشہور رضا کے لقب سے ہوئے۔

آپ کی زندگی کے مختلف گوشے ہیں جن پر بات کی جا سکتی ہے لیکن سب سے اہم مسئلہ ولی عہدی کا ہے۔ اس حوالے سے اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ آپ نے ایک ظالم کا ولی عہد ہونا کیسے قبول کیا؟
اگرچہ تاریخ کا ہر قاری یہ محسوس کر لے گا کہ امام ؑ نے ولی عہدی اپنی مرضی سے قبول نہیں کی بلکہ اس حوالے سے اما مؑ کو مجبور کیا گیا۔
امام ؑ نے خود اس سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ حضرت یوسف پیغمبر تھے، انہوں نے کافر بادشاہ سے خودسے وزارت طلب کی اور کہا: (اجعلنی علی خزائن الارض انی حفیظ علیم)، میں نے خود سے ولی عہدی طلب کی اور نہ ہی مامون کافر ہے۔


اب سوال یہ ہے کہ مامون عباسی نے کیونکر امام ؑ کو ولی عہد بنانا چاہا اور وہ اس سے کیا سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتا تھا؟ بہت سے علماء کا اس حوالے سے خیال ہے کہ مامون ولی عہدی کے حوالے سے مخلص تھا۔ مامون نے اس وقت نذر مانی تھی جب اس کے اور اس کے بھائی امین کے درمیان نزاع انتہاء کو چھو رہا تھا اور سارے عباسی عرب ماں کا بیٹا ہونے کی وجہ سے امین کا ساتھ دے رہے تھے۔ مامون کے لیے وہ وقت انتہائی مشکل وقت تھا۔ لہذا اس نے نذر مانی کہ وہ اگر اپنے بھائی پر جیت جاتا ہے تو وہ خلافت کو اس کے حقیقی حقدار تک پہنچائے گا۔ خدا نے اس کی دعا سن لی اور وہ اپنے بھائی پر غلبہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ نذر پوری کرنے کے لیے اس نے خاندان رسالت کے تمام افراد کی فہرست بنائی جن کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ ان تمام افراد میں اس کو اما م رضاؑ ہی خلافت کے لیے سب سے موزوں نظر آیا۔ لہذا اس نے امام کو خلافت کی پیشکش کی۔ اس قول کو شیخ صدوق علیہ الرحمۃ نے بھی قبول کیا ہے۔ لیکن اکثر محققین اس بات سے متفق نظر نہیں آتے۔ کیونکہ مامون اس باپ کا بیٹا ہے جس نے مامون ہی کو نصیحت کرتے ہوئے کہاتھا کہ (الملک عقیم) مملکت بھانجھ ہوتی ہے اگر تو بھی اس میں مجھ سے نزاع کرے گا تو تیر آنکھیں پھوڑ دوں گا۔ لہذا یہ بعید ہے کہ مامون واقعا خلافت کو اس کے حقدار تک پہنچانا چاہتا تھا۔

بعض حضرات تو اس حدتک کہتے ہیں کہ مامون حقیتا شیعہ تھا اور وہ امام سے دلی عقیدت رکھتا تھا لہذا وہ امام رضا ؑکو ہی حقیقی خلیفہ سمجھتا تھا۔ لیکن یہ بات انتہائی بعید ہے۔ اگر وہ واقعی شیعہ ہوتا تو اپنے وقت کے امام کو زہر دے کر شہید نہ کرتا۔
تحقیق یہ ہے کہ مامون اس ولی عہدی کے ذریعے شیعیان علیؑ کی ہمدردی سمیٹنا چاہتا تھا، چونکہ عباسی امین کے قتل کے بعد پہلے ہی اس کے خلاف ہوچکے تھے۔ اب علوی بھی اس کے خلاف ہوں اور مختلف جگہوں پر بغاوتوں کا اٹھنا اس کے لیے بہت مہنگا ثابت ہو سکتا تھا۔ لہذا اس نے نہایت چالاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امام ؑ کو اس بات پر مجبور کیا آپ ؑ ولی عہدی قبول کر لے ۔ قبول نہ کرنے کی صورت میں قتل کی دھمکی بھی دی، اور امام ؑ نے کچھ شروط کے ساتھ یہ ولی عہدی قبول کر لی۔ اور تاریخ نے ثابت کردیا کہ مامون اپنے سیاسی مقصد کے حصول میں کامیاب رہا اور امام کی ولیعہدی کے دو سالوں میں شیعوں کی طرف سے حکومت وقت کے خلاف کوئی بغاوت کی تحریک نہیں اٹھی۔
لیکن یہ بھی تاریخ نے دیکھا کہ وہ مملکت جہاں امام کو ولی عہد بنا کر لائے تھے وہاں ٹھیک بارہ صدیوں بعد امام رضا ؑ کے ہی ایک سچے بیٹے حضرت امام خمینی (رض) نے امام ؑ کی حکومت، اسلامی جمہوریہ کے نام سے قائم کر دی۔ اور آج بھی امام رضاؑ اس حکومت کی نگرانی خود فرما رہے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو تا انقلاب قائم دائم رکھے ۔

+ لکھاری عباس حسینی در 12 Feb 2016 و ساعت 12:18 AM |