علیؑ کی تکبیر

اے محبّین کی حالت سے بے خبر!

اے محبّین کی آتشِ دل سے بے بخبر بدبخت شخص!

اے مخلصین کے سوز وگداز اور ان کے نور اعمال سے غافل شخص!

کیا تجھے گمان تھا کہ ان کے اعمال، میرے اور تیرے جیسے ہیں؟

تم کو تو یہی خیال ہوگا کہ حضرت علیؑ اور ہماری نماز میں بس اتنا فرق ہے کہ

وہ ولاالضالّین کی مدّ کو ذرا لمبا کر دیتے ہوں گے؟

یا ان کا رکوع و سجدہ و ذکر اور وِرد زیادہ طولانی ہوتا تھا؟

یا ان کو یہ امتیاز تھا کہ ایک رات میں کئی سو رکعت پڑھتے تھے؟

کیا سید الساجدین بھی حور العین، ناشپاتی اور انار کی خاطر گریہ وزاری کرتے تھے؟

انہیں بزرگ ہستیوں کی قسم اگر ہم سب مل کر بھی حضرت علیؑ کی طرح لا الہ الا اللہ کہنا چاہیں تو ناممکن ہے

میرے سر پر خاک اگر میں خیال کروں کہ میں نے ولایتِ علی کے مقام کی معرفت کا حق ادا کیا ہے۔

مقامِ علیؑ کی قسم! رسول خداﷺ کے علاوہ دوسرے انبیائے مرسلین اور ملائکہ مقربین بھی علیؑ کی طرح ایک تکبیر کہنا چاہیں تو نہیں کہہ سکتے۔

ان کے دل کا حال ان کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

امام خمینی (رحمه الله)

چهل حدیث، حدیث 3

+ لکھاری عباس حسینی در 7 Oct 2021 و ساعت 10:4 PM |

امام صادق علیہ السلام اور دعوتِ امامت

 

حج کا موقع ہے۔ عرفات کے مقام پر تمام حاجی جمع ہیں۔ کوئی یمن سے، کوئی حجاز سے، کوئی کوفہ سے، کوئی بصرہ سے، کوئی مصر سے، کوئی ایران سے، غرض عالم اسلام کے کونے کونے سے لوگ حج کرنے مکہ آئے ہوئے ہیں۔ یقینا یہ مسلمانوں کا سب سے بڑا اجتماع تھا۔ اس دور میں ذرائع ابلاغ بھی محدود ہی تھے۔ خطابت کے ذریعے سے لوگوں سے مخاطب ہونا ہی سب سے بہترین ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ امام صادق علیہ السلام موقع غنیمت جانتے ہوئے ایک مرتبہ اس اجتماع میں کھڑے ہوتے ہیں۔ یقینا آپ علیہ السلام کوئی اہم پیغام پہنچانا چاہتے ہیں۔

ایک مرتبہ اس امام معصوم کی آواز عرفات کے میدان میں گونجی۔ ایک طرف رخ کیا اور اپنے پیغام کو تین مرتبہ دھرایا۔ پھر دوسری طرف رخ کیا اور تین مرتبہ دھرایا۔ اس طرح اپنے چاروں طرف رخ کر کے تین تین مرتبہ اور کل بارہ مرتبہ وہ پیغام تکرار فرمایا۔

امام عالی مقامؑ کا وہ اہم پیغام کچھ یوں تھا:

 أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم كَانَ الْإِمَامَ ثُمَّ كَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ثُمَّ الْحَسَنُ ثُمَّ الْحُسَيْنُ ثُمَّ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ ثُمَّ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ ثُمَّ هَه‏

اے لوگو! رسول اللہﷺ لوگوں کے امام تھے۔ پھر علیؑ بن ابی طالبؑ امام تھے، پھر حسنؑ، پھر حسینؑ، پھر علی بن حسینؑ، پھر محمد بن علیؑ اور پھر میں۔

(هَه‏ عرب کی خاص لغت میں "انا" کے معنی میں ہے۔ یعنی میں۔)

یقینا امام کا یہ پیغام چار سو پھیل گیا اور پھر جب حاجی اپنے اپنے علاقوں کی طرف واپس گئے تب ان کے ذریعے پورے عالم اسلام تک امام کا یہ پیغام پہنچ گیا۔ اس طرح امام نے حج کے عظیم اجتماع سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے حق اور حقیقت کا پیغام پورے عالم اسلام تک پہنچایا اور تمام لوگوں پر حجت تمام کی۔

(بحار الانور، ج 47، ص 58)


ٹیگس: امام صادق
+ لکھاری عباس حسینی در 18 Jun 2020 و ساعت 12:49 AM |

خورشیدِ عالم

زمانہ غیبت میں وجود امام مہدی علیہ السلام سے استفادے کی کیفیت

 

امام زمان علیہ السلام سے عصرِ غیبت میں استفادے کی کیفیت کے حوالے سے ایک اہم تشبیہ متعدد روایات میں ذکر ہوئی ہے۔ ان روایات کے مطابق زمانہ غیبت میں لوگ آپ کے وجودِ مبارک سے ایسے استفادہ کریں گے جیسے بادلوں کی اوٹ میں موجود سورج سے کرتے ہیں۔ تشبیہ میں سب سے اہم بحث وجہِ شبہ کی ہوتی ہے۔ پس یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ وجودِ مبارک امام زمان علیہ السلام اور سورج کے درمیان وجہِ شبہ کیا ہے؟ اس حوالے سے علماء نے متعدد نکات ذکر کئے ہیں۔

 

۱۔ سورج چاہے ظاہر ہو یا بادلوں کے پیچھے، جس نظام میں ہم جی رہے ہیں اس کا مرکز ہے۔ اسی طرح امام زمان علیہ السلام کا وجود اس کائنات کا مرکز ہے جس کے گرد باقی تمام موجودات چکرکاٹ رہی ہیں۔ "ببقائه بقيت الدنيا وبيمنه رزق الوراء وبوجوده ثبتت الأرض والسماء."

 

۲۔ سورج کے فوائد بہت زیادہ ہیں جن میں سے اکثر فائدے سب انسانوں تک ہمیشہ پہنچتے رہتے ہیں، فرق نہیں کرتا سورج کے آگے بادل ہوں یا نہ ہوں۔ مثلا سورج کی حرارت اور روشنی جو بادلوں کے باوجود زمین تک پہنچتی رہتی ہیں۔ سورج کی کشش ثقل جس پر یہ نظام کھڑا ہے۔ اگر ایک لمحے کے لیے سورج ہٹ جائے اس نظام نے تباہ ہونا ہے۔ زمین پر موجوداکثر نعمتوں کا سورج سے واسطہ ہے۔ امام کے بارے بھی کہا گیا کہ ان کے وجود کی برکت سے زمین سے سبزہ اگتا ہے، بارانِ رحمت کا نزول ہوتا ہے، چشمے جاری ہوتے ہیں، نہریں بہتی ہیں۔(بِنَا يُنَزِّلُ اَلْغَيْثَ وَ تُنْشَرُ اَلرَّحْمَةُ وَ تَخْرُجُ بَرَكَاتُ اَلْأَرْضِ) لہذا کہا گیا اگر حجتِ خدا نہ ہوتو ساری زمین انسانوں سمیت برباد ہوجائے گی۔(لو بقيت الأرض بغير إمام لساخت)

 

۳۔ بادلوں نے سورج کو نہیں گھیرا، بلکہ ہمیں گھیرا ہو اہے جس کی وجہ سے ہم سورج کو دیکھنے سے محروم ہیں۔ سورج کے فیض میں کبھی کسی وقت کوئی کمی نہیں ہوئی۔ اس کا فیض مسلسل جاری ہے۔ فرض کریں یہی بادلوں کے پیچھے موجود سورج بھی نہ ہو تب اس نظام اور ہماری دنیا کا کیا بنے گا؟ وجودِ امام زمانؑ بھی اسی طرح ہے۔ آپؑ کے فرمان کےمطابق: ہم مسلسل تمہاری یاد اور فکر میں ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو سختیاں اور دشمن تمہیں گھیر لیتے۔"إنا غير مهملين لمراعاتكم ولا ناسين لذكركم ولولا ذلك لنزل بكم اللأواء واصطملكم الأعداء."

 

۴۔ سورج اور انسانوں کے درمیان بادلوں کا  پردہ ان لوگوں کے لیے جو بادلوں سے نیچے زندگی گزار رہے ہوں۔ اگر کسی میں یہ صلاحیت ہو کہ وہ بادلوں سے آگے کا فاصلہ طے کرے تب وہ سورج کی روشنی سے براہ راست فیض یاب ہو سکتا ہے۔ امام زمانؑ ان لوگوں کی نسبت غائب ہیں جو دنیا اور مادیات کے ساتھ چسپے ہوئے ہیں۔ جو لوگ معنویت کے آسمانوں میں سیر کررہے ہوتے ہیں وہ ہمیشہ امامؑ کے حضور میں ہیں۔

 

۵۔  بادلوں کی اوٹ میں موجود سورج سے استفادے کے باوجود لوگ بادلوں کے ہٹنے کے منتظر رہتے ہیں تاکہ استفادہ اور بڑھ جائے۔ انہیں علم ہے ان بادلوں نے بالآخر ہٹ جانا ہے۔  اسی طرح حقیقی منتظرین ہر لحظہ پردۂ غیبت کے ہٹنے کے منتظر رہتے ہیں اور کبھی مایوس نہیں ہوتے۔

 

۶۔ تمام تر دلیلوں کے باوجود اگر کوئی امام مہدیؑ کے وجود کا منکر ہو تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے تمام تر آثار کے باوجود کوئی پشتِ بادل موجود سورج کا منکر ہو۔

 

۷۔  بعض اوقات سورج کا پشتِ ابر چلے جانا لوگوں کی منفعت میں ہوتا ہے۔ اسی طرح بعض مصلحتوں کی بنا پر ایک مدت تک امام کا پردۂ غیب میں رہنا لوگوں کے فائدے میں ہے۔

 

۸۔ امام کا وجود سورج کی مانند ہے جس کا نفع ہر عام و خاص تک پہنچتا ہے۔ سورج بادلوں کے پیچھے ہو یا بادلوں کے بغیر جو "اندھا" ہو اس کے لیے سورج کی روشنی کسی کام کی نہیں۔

 

استفادہ از کتاب

بحار الانور، علامہ مجلسی، جلد 52

عصارہ خلقت، علامہ جوادی آملی


ٹیگس: امام مہدی, امام زمان
+ لکھاری عباس حسینی در 9 Apr 2020 و ساعت 12:1 AM |

امامِ غائب کی برکات

تحریر: عباس حسینی

 

ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال آئے کہ اس امام کا کیا فائدہ جو غائب ہیں؟ جو ہماری دسترس میں نہیں؟ جن سے ہم میل ملاقات نہیں کر سکتے؟جن سے ہم سوال اور مسائل نہیں پوچھ سکتے؟

 

امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کے اسباب پر اگر ہم غور کریں تو اس سوال کا جواب خود بخود واضح ہوگا۔ امام کی غیبت ہماری وجہ سے ہے۔ در حقیقت امام غیب میں نہیں ہم غیب میں ہیں۔ جن میں لیاقت اور استعداد ہے وہ امام سے ملاقات بھی کرتے ہیں اور ان کی فیوضات سے شرفیاب بھی ہوتے ہیں۔امام پردے میں نہیں، ہم پردے میں ہیں۔ بقول کسی شاعر کے:

پردہ آنکھوں پر پڑا ہے، وہ کہاں پردے میں ہیں؟!

 

البتہ عام لوگوں کی نسبت بھی امام کا وجود سراسر فیض، برکت، عطا، بخشش اور فائدہ مند ہے۔

یہاں ہم اس مختصر تحریر میں  امام کے وجود کےصرف  چند فوائد کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ (تفصیلات کے لیے کتابوں کی طرف مراجعہ کیجیے۔)

 

۱۔ بہت ساری روایات کے مطابق ہر دور میں خدا کی کسی حجت کا زمین پر ہونا ضروری ہے۔ امام فیضِ الہی کے مخلوقات تک پہنچنے کے لیے واسطہ ہوتے ہیں۔ اسی حجتِ خدا کی برکت سے زمین سے سبزہ اگتا ہے، بارانِ رحمت کا نزول ہوتا ہے، چشمے جاری ہوتے ہیں، نہریں بہتی ہیں۔(بِنَا يُنَزِّلُ اَلْغَيْثَ وَ تُنْشَرُ اَلرَّحْمَةُ وَ تَخْرُجُ بَرَكَاتُ اَلْأَرْضِ) لہذا کہا گیا اگر حجتِ خدا نہ ہوتو ساری زمین اپنے باسیوںسمیت برباد ہوجائے گی۔(لو بقيت الأرض بغير إمام لساخت)

 

۲۔ معنوی ہدایت: ظاہری ہدایت کے علاوہ باطنی اعمال کے ذریعے ہدایت (تکوینی ہدایت)بھی معصوم کا کام ہے۔ امام باطنی ہدایت کے ذریعے لوگوں کو خدا کی طرف بلاتے اور اس ذات باری کے قریب کرتے ہیں۔ قرآن کی تعبیر میں "وَجَعَلْنَاهُمْ اءَئِمَّةً یَهْدُونَ بِأمْرِنَا" امام کا کام امرِ خدا کے ذریعے لوگوں کی ہدایت ہے۔باطنی ہدایت  کا تعلق عالم امر اور ملکوت سے ہے۔ امام اپنی نورانیت اور باطنی تصرف کے ذریعے شائستہ افراد کو خدا کے قریب جانے میں مدد فرماتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مشہور مستشرق ہانری کربن نے کہا: تشیع دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے خدا اور مخلوق کے درمیان ہدایت کے وسیلے کو ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھا ہوا ہے۔تشیع کے مطابق ولایت کا سلسلہ اب بھی باقی ہے جس کا تعلق لوگوں کی معنوی ہدایت سےہے۔امام صادق ؑ نے اسی مطلب کی طرف اشارہ فرمایا: (مَا زَالَتِ اَلْأَرْضُ إِلاَّ وَ لِلَّهِ فِيهَا اَلْحُجَّةُ يُعَرِّفُ اَلْحَلاَلَ وَ اَلْحَرَامَ وَ يَدْعُو اَلنَّاسَ إِلَى سَبِيلِ اَللَّهِ .) جب تک زمین ہے اس میں اللہ کی طرف سے حجت بھی ضرور ہوگی جو لوگوں کو حلال اور حرام کے بارے بتائے گی اور لوگوں کو خدا کے راستے کی طرف دعوت دے گی۔

 

۳۔ دینِ خدا کی حفاظت: امیر المؤمنین ؑ کی حدیث(لا تخلو الارض من قائم لله بحجّة، إمّا ظاهراً مشهوراً، وإمّا خائفاً مغموراً، لئلاّ تبطل حجج الله وبيّناته) کے مطابق زمین کسی بھی وقت حجت خدا سے خالی نہیں ہو سکتی چاہے وہ حجت ظاہر ہو  چاہے مخفی، تاکہ دین ضائع ہونے سے اور تحریف سے بچ جائے۔ امام زمانؑ پردہ غیب سے دین کے امور کی سرپرستی فرما رہے ہوتے ہیں۔ آپ جہاں مناسب سمجھیں اپنے لطف کےذریعے فقہاء اور علماء کو درست راستے کی نشاندہی فرماتے  ہیں۔ اس حوالے سے شیخ مفید کا واقعہ مشہور ہے جہاں آپ نے ایک مسئلے میں غلط فتوی صادر کیا اور امام زمانؑ نے ان کے فتوی کی اصلاح کی۔ اسی طرح بہت سارے عرفاء کے واقعات ملتے ہیں جہاں وہ مختلف شکلوں میں اپنی مشکلات امام کی بارگاہ سے حل کرتے تھے۔اسی لیے امام صادقؑ نے فرمایا: (إِنَّ اَلْأَرْضَ لاَ تَخْلُو إِلاَّ وَ فِيهَا إِمَامٌ كَيْمَا إِنْ زَادَ اَلْمُؤْمِنُونَ شَيْئاً رَدَّهُمْ وَ إِنْ نَقَصُوا شَيْئاً أَتَمَّهُ لَهُمْ) زمین امام سے خالی نہیں رہے گی۔ اگر مومنین (دین میں) کچھ اضافہ کریں تو امام اسے کم کرتے ہیں، اگر کم کریں تو امام اسے پورا کرتے ہیں۔

 

۴۔ امام کا وجود امید کی کرن: ایک ایسے امام کا وجود جن کے بارے میں یہ عقیدہ ہو کہ انہوں نے دنیا سے ظلم و ستم کا خاتمہ کرنا ہے اور عدل و انصاف قائم کرتے ہوئے دنیا بھر کے مظلومین اور مستضعفین کے حقوق کا دفاع کرنا ہے تمام انسانیت کے لیے امید کا باعث ہے۔ ایسی صورت حال میں دنیا بھر کے مظالم دیکھتے ہوئے بھی انسان کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا۔ بشریت کے روشن مستقبل کی امید اسے ہمیشہ طاقت بخشتی ہے۔

 

۵۔ زمانہ غیبت میں امام عصرؑ سے استفادے کی کیفیت کے حوالے سے جب امام صادقؑ سے پوچھا گیا تو آپؑ نے یوں جواب دیا: (كما ينتفعون بالشمس إذا سترها السحاب) زمانہ غیبت میں امام سے لوگ ایسے فائدہ اٹھائیں گے جیسے بادلوں کی اوٹ میں موجود سورج سے لوگ استفادہ کرتے ہیں۔ امامؑ کے پردۂ غیب میں جانے کے اسباب پر بحث ایک الگ موضوع ہے، البتہ اس کی وجہ سے آپ کے وجود کے فائدے کم ضرور ہوئے ہیں، لیکن ختم ہرگز نہیں ہوئے، جیسے بادلوں کی اوٹ میں موجود سورج۔

 


ٹیگس: امام مہدی, امام زمان
+ لکھاری عباس حسینی در 8 Apr 2020 و ساعت 3:53 AM |

امام زمان علیہ السلام

اور

چھوٹی عمر کی امامت

تحریر: عباس حسینی

 

امامت ایک بہت بڑا منصب ہے۔ دین اور دنیا کے امور کی زمام سنبھالنے کا نام ہے۔ امام معاشرے کا پیشوا ہوتا ہے۔ امام،  ہادی اور رہبر ہوتا ہے جس کے پیچھے سارے معاشرے نے چلنا ہوتا ہے۔ اندرونی مسائل ہوں یا بیرونی مشکلات سب کو حل کرنے کی ذمہ داری امام کے کاندھوں پر ہوتی ہے۔ امامت کی ان تمام تر سنگین ذمہ داریوں کو دیکھتے ہوئے یہ سوال پیش آتا ہے کہ ایک چھوٹا سا بچہ کہ جس کی عمر پانچ یا آٹھ سال ہو وہ کیسے اتنی بڑی ذمہ داری سنبھال سکتا ہے؟ اس بات کی کیا توجیہ ہےکہ شیعوں کے ہاں پانچ اور آٹھ سال کےبچے امام بنتے رہے ہیں۔

 

یہ بات درست ہے کہ امام مہدی علیہ السلام جب منصب امامت پر فائز ہوئے اس وقت آپ کی عمر 5 سال تھی۔ اسی طرح  منصب امامت سنبھالتے وقت امام تقی علیہ السلام کی عمر 7 سال جبکہ  امام علی نقی علیہ السلام کی عمر 9 سال تھی۔

 

ایک تو وہی جواب ہے  جو امام جواد علیہ السلام نے اپنی امامت کے حوالے سے اشکال کرنے والوں کو دیا تھا کہ یہ منصب الہی ہے خدا جسے چاہے جب چاہے دیتا ہے۔ کسی کو بچپن میں دیتا ہے تو کسی کو چالیس سال کی عمر میں۔ حضرت عیسیؑ ابھی ماں کی گود میں تھے کہ اعلان فرمایا:" إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا" (میں خدا کا بندہ ہوں۔ اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔)قرآن نے حضرت یحیٰؑ کے بارے میں کہا: "يَا يَحْيَى خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّة وآتَيْناهُ الْحُكْمَ صَبِيَّاً" (اے یحیٰ، کتاب کو مضبوطی سے پکڑو، اور ہم نے اسے بچپنے میں حکم(نبوت) عطا کیا۔)اور یہ تو فخر عیسیؑ اور فخر یحیؑ ہیں، ان کی امامت کے بارے میں شک کیوں؟

 

 امام در حقیقت علم لدنی کا مالک ہوتا ہے۔ امام کسی کے پاس جا کر علم نہیں سیکھتا۔ امامت منصب الہی ہے۔ لیاقت دیکھ کر خدا کا عطا کیا ہوا تحفہ ہے۔ لہذا اس حوالے سے چھوٹی عمر اوربڑی عمر کا کوئی فرق نہیں۔ خداوند متعال اپنی بے پناہ قدرت کے ساتھ چھوٹے سے بچے کی عقل کو کامل بنا سکتا ہے۔ جس طرح چاہے کسی کو رشد دے سکتا ہے۔

 

اور پھر انسان کی حقیقت اس کا جسم نہیں، اس کی روح ہے۔ ائمہ علیھم السلام کی ارواح طیبہ کے حوالے سے روایات میں آیا ہے کہ

 خدا کی سب سے پہلی مخلوقات ہیں۔البتہ اس نورانی عالم میں وہ سب ایک نور تھےجو بسیط شکل میں موجود تھا۔ وہ نور تمام تر کمالات کا مالک تھا۔ پس جب ہم اس نورانی مرتبے کو ملحوظ رکھتے ہیں تب عالم مادی میں آنے کے بعد ان کی کم عمری پر اشکال بے معنی سا لگتا ہے چونکہ سارے کمالات ان کو پہلے سے حاصل ہیں۔ وہ عام انسانوں کی طرح ہرگز نہیں ہیں۔ پس اس حوالے سے عام انسانوں کے ساتھ ان کا مقایسہ درست نہیں۔

 

 تاریخی حوالے سے بھی دیکھیں تو سارا زمانہ ان کے علمی کمالات اور رشدِ عقلی کے معترف نظر آتا ہے۔ یحی بن اکثم کا واقعہ ملاحظہ کیجیے کہ جو ریاست کا مفتی اعظم تھا لیکن امام تقی علیہ السلام کی علمی قدرت کے سامنے ہار ماننے پر مجبور ہوگیا اور مامون عباسی  کو بھی کہنا پڑا: "وأن صغر السن فيهم لا يمنعهم من الكمال" کہ چھوٹی عمر اس خاندان میں کمالات کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے۔

 

 اسی طرح  تاریخ کہتی ہے کہ امام تقی علیہ السلام  کے بعض اصحاب آپ سے سوالات کرتے گئے اور چند دنوں کے اندر آپ نے  تیس ہزار سوالوں کے جواب دے دئیے جبکہ اس وقت آپ کی عمر صرف 9 سال تھی۔

 

سید محمد باقر صدر علیہ الرحمہ نے  استقراء کے حوالے سے اپنے جدید نظریے (جو حساب احتمالات پر قائم ہے)  کے مطابق اس مسئلے کو عقلی بنیادوں پر حل کیا ہے ۔

سید صدر کے مطابق اتنی کم عمری میں ائمہ علیھم السلام کا  منصب امامت سنبھالنا شیعیت کی حقانیت کی سب سےبڑی دلیل ہے۔  حالانکہ اس وقت شیعہ طائفہ میں بڑے بزرگان اور اصحاب بھی تھے لیکن سب ائمہ علیھم السلام کی امامت پر متفق تھے۔ یقینا ان ہستیوں میں کچھ ایسا دیکھا ہوگا جو ان کی امامت کے معترف ہوگئے۔

 

یہاں پر چند احتمالات ہیں۔

۱۔ لوگوں کو پتہ نہیں چلا کہ امام ابھی چھوٹے اور کم عمر ہیں۔ یہ احتمال ممکن نہیں چونکہ شیعہ اپنے اماموں کو لوگوں سے چھپا کر نہیں رکھتے تھے، بلکہ لوگوں کا امام سے براہ راست رابطہ ہوتا تھا۔

۲۔ اس وقت کے لوگ اتنے سادہ تھے کہ چھوٹے سے بچے کی امامت قبول  کر لی۔ یہ بات بھی ممکن نہیں چونکہ ان میں بڑے بڑے اصحاب بھی تھے جو مکتب امام صادق علیہ السلام کے پروردہ تھے۔ جو علمی اور فقہی اعتبار سے بڑے مراتب پر فائز تھے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک چھوٹے بچے نے اتنے بڑے اصحاب کو (نعوذ باللہ) اپنی "جھوٹی" امامت پر قائل کیا ہو؟جبکہ اس وقت شیعیت مدینے سے  لے کرکوفہ اور قم تک پھیلی ہوئی تھی۔

۳۔ امامت کا مفہوم لوگوں کے لیے واضح نہیں تھا۔ لوگ شاید امامت کو بادشاہت کی طرح نسل در نسل وراثت سمجھتے تھے۔ اس کی شروط اور تفصیلات سے آگاہ نہیں تھے۔تاریخی حوالے سے یہ بات بھی درست نہیں چونکہ تقریبا دو صدیوں سے شیعوں کے درمیان امامت کا سلسلہ چل رہا تھا اور اس کے مفہوم، شرائط اور صفات سے بخوبی آگاہ تھے۔

۴۔ چوتھا احتمال یہ ہے کہ سارے شیعوں نے جھوٹ اور باطل پر اتفاق کر لیا ہو۔ یہ بھی عقلی طور پر اور تاریخی بنیادوں پر ممکن نہیں۔ شیعوں میں بڑے متقی ، پرہیزگار اور باوفا اصحابِ ائمہؑ موجود تھے۔ ان سب کا جھوٹ پر اتفاق کیسے ممکن ہے؟تاریخ گواہ ہے کہ شیعوں نے اذیتیں اور صعوبتیں  برداشت کی ہیں لیکن اپنے عقیدے سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے۔

 

پس یہ سارے احتمالات جب ختم ہوں تو صرف یہی احتمال بچتا ہے کہ امام معصوم ہوتے تھےجن میں معاشرے کو چلانے کی تمام تر خداداد صلاحیتیں موجود تھیں۔ لہذا اس وقت کے بڑے بڑے اصحاب بھی حکمِ خدا کے تحت ان کی اتباع کرتے تھے۔ اگر خدا نخواستہ ان میں کسی قسم کی کمی ہوتی تو مخالفین زمین آسمان ایک کر دیتے کہ یہ دیکھو شیعوں کے امام میں یہ کمی ہے۔ وہ زمانہ علمی ترقی اور عروج کا زمانہ تھا۔ یونانی فلسفہ تک کا ترجمہ ہو چکا تھا۔ لیکن ان سب کے باوجود اپنے تو اپنے ، مخالفین کو بھی ان ائمہؑ  کی تعریفوں کے پل باندھتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ یہ سب ان کی حقانیت کی دلیل ہے۔

 

فلسفی حل اور جواب:

انسان کی عمر کا اندازہ عام طور پر زمین کی سورج کے گرد حرکت سے لگایا جاتا ہے۔ فرض کریں ایک انسان کی پیدائش سے لے کر اب تک زمین نے 30 مرتبہ سورج کے گرد اپنا چکر مکمل کر لیا ہے تو کہا جاتا ہے اس انسان کی عمر 30 سال ہے۔ فلسفی حوالے سے زمان، مقدارِ حرکت کا نام ہے۔ عام حساب و کتاب میں  انسان کی عمر کا لحاظ کرتے ہوئے انسان کی اپنی حرکت کا لحاظ کیے بغیر، زمین کی حرکت کو معیار بنایا جاتا ہے۔ جبکہ زمین کی حرکت کی نسبت انسان کی طرف دینا ایک نوع مجاز گویی ہے، حقیقت نہیں۔ یعنی حقیقت میں زمین نے حرکت کی ہے، انسان نے حرکت نہیں کی۔

 

انسان کی حقیقی حرکت یہ ہے کہ اس کا وجود اختیاری طور پر متحرک ہو اور قربِ پرودرگار کی منازل طے کرے۔ اس کی روح تجرد کے مراحل طے کرے۔ اس حرکت کا اگر لحاظ کیا جائے تب انسانوں کی حقیقی عمر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اب ممکن ہے ایک انسان عمومی اعتبار سے 50 سال کا سفر طے کرے لیکن روحانی حرکت کے لحاظ سے اس نے کوئی خاص فاصلہ طے نہ کیا ہو۔ پس ممکن ہے اس کی حقیقی عمر ایک بچے کی مانند ہو۔ جبکہ اس کے برخلاف، ممکن ہے ایک شخص جس کی عمر ظاہری لحاظ سے چند سال ہو، لیکن باطنی سیر اور کمالات کی طرف سفر کے لحاظ سے اس کی حقیقی عمر بہت زیادہ ہو۔ ائمہ علیہم السلام کے حوالے سے ہم اسی بات کے قائل ہیں۔


ٹیگس: امام مہدی, امام زمان
+ لکھاری عباس حسینی در 7 Apr 2020 و ساعت 1:59 AM |

امام زمان علیہ السلام اور لمبی عمر

تحریر: سید عباس حسینی

 

شیعہ عقائد کے مطابق امام مہدی علیہ السلام کی ولادت 255 ہجری میں ہو چکی ہے۔ اس وقت 1441 ہجری کا سال چل رہا ہے۔ اس لحاظ سے امام مہدی علیہ السلام کی عمرمبارک  1186 سال ہے۔ عام طور پر سوال کیا جاتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے ایک انسان اتنی لمبی عمر جی لے؟ دنیا میں جو اس وقت رائج ہے اس لحاظ سے زیادہ سے زیادہ ایک انسان سو سال یا اس سے کچھ زیادہ زندہ رہ سکتا ہے۔ اتنی لمبی مدت تک کے لیے  کوئی کیسے زندہ رہ سکتا ہے؟

 

اس سوال کے مختلف جوابات دئیےجا سکتے ہیں جن میں سے بعض نقضی جواب ہوں گے جو مخاطب کو چپ کروانے کے لیے دئیے جاتے ہیں، جبکہ کچھ حلی جوابات ہوں گے جو مسئلے کو سرے سے حل کریں گے۔

 

۱۔ ابلیس جو بدی کا محور ہے اورشیطان کا نمائندہ ہے اگر ہزاروں سال سے زندہ ہے تو رحمان کے نمائندے کے زندہ رہنے پر اشکال کیوں؟

 

۲۔ حضرت عیسیؑ کے بارے میں تمام مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ ہے کہ وہ زندہ ہیں۔ قرآن نےسورہ نساء کی آیات 157 تا 159 میں  کہا کہ حضرت عیسیؑ کے قتل ہونے کی بات غلط ہے۔ عیسائیوں کو اس حوالے سے غلط فہمی ہوئی ہے بلکہ اللہ تعالی نے انہیں اپنی طرف اٹھایا ہے۔ وَما قَتَلُوهُ وَما صَلَبُوهُ وَلكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ... وَ ما قَتَلُوهُ يَقِيناً بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَ كانَ اللَّهُ عَزِيزاً حَكِيماً  (انہوں نے حضرت عیسیؑ کو قتل کیا نہ سولی چڑھایا بلکہ دوسرے شخص کو ان کی شبیہ بنا دیا گیا تھا۔۔۔ انہوں نے مسیح کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں اپنی طرف اٹھایا ہے۔) حضرت عیسیؑ کی ولادت کو اس وقت 2020سال گزر چکے ہیں۔ اگر کسی مصلحت کے تحت عیسیؑ زندہ رہ سکتے ہیں تو آخری نؐبی کے وصی کے زندہ رہنے پر اشکال کیوں؟

 

۳۔ اسی طرح مسلمانوں کے مطابق حضرت خضرؑ بھی زندہ ہیں۔ کچھ روایات کےمطابق حضرت الیاسؑ بھی زندہ ہیں۔ حضرت ادریسؑ کے زندہ ہونے کے حوالے سے بھی اقوال موجود ہیں۔ ایسے میں صرف امام زمانؑ کی عمر مبارک پر اشکال کیوں؟

 

۴۔ تاریخی طور پر ثابت ہے کہ بہت سارے انبیاء بہت لمبی عمر پاتے رہے ہیں۔ مختلف روایات کے مطابق حضرت آدمؑ نے 930 سال، حضرت ہودؑ نے 670 سال، حضرت ایوبؑ نے 226 سال، حضرت یعقوبؑ نے 170 جبکہ حضرت نوحؑ نے 2500 سال عمر پائی۔ بعض روایات کےمطابق آپ کو کشتی بنانے میں 200 سال لگے۔ حضرت نوح ؑکے بارے میں قرآن(سورہ) میں آیا ہے کہ آپ نے 950 سال اپنی قوم میں تبلیغ کی۔ وَلَقَدْ أَرْسَلْنا نُوحاً إِلى قَوْمِهِ فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلاَّ خَمْسِينَ عاماً فَأَخَذَهُمُ الطُّوفانُ (اور بتحقیق ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان کے درمیان پچاس سے کم ایک ہزار سال رہے۔ پھر طوفان نے انہیں گرفت میں لیا۔)آیت طوفان سے پہلے کی مدت 950 سال بتار ہی ہے۔ وہ بھی اس وقت سے جب آپ مبعوث بہ رسالت ہوئے۔ پس ان مثالوں کو دیکھتے ہوئے کسی نیک شخصیت کے لیے لمبی عمر پانا  سنن الہٰی کے عینِ مطابق ہے۔

 

۵۔ ایک اور مثال اصحاب کہف کی ہے جن کے بارے میں قرآن میں ایک پوری سورت موجود ہے۔ قرآن کے مطابق وہ 309 سال تک زندہ رہے۔ وَلَبِثُوا فِي كَهْفِهِمْ ثَلَاثَ مِائَةٍ سِنِينَ وَازْدَادُوا تِسْعًا۔ وہ خدا جو اصحابِ کہف کو ایک خاص ہدف کے تک اتنی مدت تک زندہ رکھتاہے کسی مصلحت کے تحت امام مہدی علیہ السلام کو بھی زندہ رکھ سکتا ہے۔

 

6۔ یہ خدا کا ارادہ ہے کہ امام زمان علیہ السلام اتنی لمبی مدت تک زندہ رہیں اور جب تک خدا نے چاہا زندہ رہیں گے۔ خداکے "کن" اور ارادے کے سامنے کونسی چیز ٹھہر سکتی ہے؟ پس عمر امام زمان علیہ السلام پر اشکال در حقیقت خدا کے ارادے پر اشکال ہے۔ اللہ تعالی اپنا یہ ارادہ عام اور عادی طریقے سے بھی پوار کر سکتا ہے اور غیر عادی طریقے  "خرقِ عادت" کے ذریعے بھی۔ علامہ طباطائی کے نزدیک یہ خرقِ عادت کے ذریعے ہے۔ خرقِ عادت کوئی محال کام نہیں ہوتا بلکہ عام اسباب سے ہٹ کر غیر معلوم اور غیر مرئی اسباب کے ذریعے خداوند متعال وہ کام انجام دیتا ہے۔ پس طولِ عمر کے مختلف عوامل و اسباب ہو سکتے ہیں جن سے انسان اب تک غافل اور بے خبر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس آج بھی طولِ عمر کو ناممکن اور محال نہیں قرار دیتی۔ (شیعہ در اسلام)

 

7۔ انسان کی عمر کا تعلق گردشِ لیل و نہار سے ہے۔ جب ہماری زمین سورج کے گرد ایک چکر مکمل کرتی ہے تو اسے ایک شمسی سال کہاجاتا ہے۔ یہ چکر 365 دنوں میں مکمل ہوتا ہے۔ اب اگر کوئی ہستی "صاحب الزمان" ہو، زمان اس کے قبضہ قدرت میں ہو اور وہ زمان کا مالک ہو تب اس کے بارے میں طولِ عمر کا اشکال بے معنی سا لگتا ہے۔

 

خلاصہ یہ کہ کسی انسان کا طولِ عمر پانا نہ عقلی اور منطقی طور پر محال ہے اور نہ علمی اور سائنسی طور پر۔ اس کے باوجود کوئی اس بات کا منکر ہو تب اسے اپنی  دلیل پیش کرنی چاہیے۔


ٹیگس: امام مہدی, امام زمان
+ لکھاری عباس حسینی در 7 Apr 2020 و ساعت 1:55 AM |

امام کاظم علیہ السلام اور زندان

 

امام موسی کاظم علیہ السلام وہ امام ہیں جن کی مبارک عمر کے چودہ سال (بعض روایات کے مطابق سات سال) زندانوں میں گز گئے۔

آپ علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ جس طرح خوشی کے لمحات گزر جاتے ہیں اور ان کو دوام نہیں، بالکل اسی طرح سختی کے ایام نے بھی گزر جانا ہے۔ ہاں البتہ ایک ایسا دن ہے جس میں خداوند متعال ظالموں سے ان کے تمام تر مظالم کا بدلہ لے گا۔ آپ علیہ السلام نے زندان سے ھارون رشید کے نام ایک خط لکھا اس میں یہی پیغام موجود تھا۔ "إنه لن ينقضي عنّي يوم من البلاء إلّا انقضى عنك معه يوم من الرخاء حتّى نفضي جميعاً إلى يوم ليس له انقضاء يخسر فيه المبطلون" جس طرح میری سختی کے دن گزر رہے ہیں تیری خوشی کے دن بھی بالکل اسی طرح ختم ہو رہے ہیں۔ پھر ہم سب ایک ایسے دن میں جمع ہوں گے جس دن نے ختم نہیں ہونا۔ اس دن باطل کے پیروکار نقصان میں ہوں گے۔

امام عالی مقام علیہ السلام زندان کو عبادت، اطاعت اور صبر کی بہترین جگہ سمجھتے تھے۔ ان ذرائع سے انسان کمال کے مراتب طے کر سکتا ہے۔ انسان زندان کے ذریعے محکم ارادے کے ساتھ سختیاں برداشت کرنے کا درس حاصل کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امام علیہ السلام زندان کو خدا کا قرب حاصل کرنے کے لیے ایک بہترین فرصت سمجھتے تھے۔ جب زندان میں ڈالا گیا تب آپ علیہ السلام فرمایا: "اللهم إنّك تعلم أنّي كنت أسألك أن تفرغني لعبادتك ، اللهم وقد فعلت ، فلك الحمد" پروردگارا! تو خوب جانتا ہے میری دعا تھی کہ میں تیری عبادت کے لیے مکمل فرصت پیدا کروں۔ پروردگار تو نے یہ فرصت عطا کی ہے۔ تیرے لیے حمد ہے۔ امام عالی مقام رات بھر نماز، دعا، قرآن کی تلاوت اور عبادت میں مصروف رہتے اور دن کو اکثر روزے رکھتے۔

  انسان خدا کی رضا پر راضی رہتا ہے۔ امام علیہ السلام کو کاظم کہنے کی ایک وجہ ہی یہی بیان ہوئی ہے کہ آپ علیہ السلام لب شکایت سے تر کیے بغیر تمام تر سختیوں کو برداشت کرتے تھے اور بدترین دشمنوں کے مقابلے میں بھی اپنا غصہ ہمیشہ پی جاتے تھے۔

امام علیہ السلام نے زندان میں بہت زیادہ سختیاں جھیلیں لیکن اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے پر ہرگز راضی نہ ہوئے۔ جب کسی نے کہا کہ اگر آپ علیہ السلام فلاں بندے سے بات کر لیتے تو وہ ہارون کے سامنے آپ علیہ السلام کی سفارش کرتا اور اس سختی سے آپ علیہ السلام کو نجات  ملتی۔ آپ علیہ السلامنے فرمایا: میرے والد گرامی نے اپنے آباء سے نقل کیا ہے: "أن الله عزّ وجلّ أوحى إلى داود : يا داود ، إنّه ما اعتصم عبد من عبادي بأحد من خلقي دوني ... إلّا وقطعت عنه أسباب السماء ، وأسخت الأرض من تحته" اللہ تعالی نے حضرت داؤد پر وحی نازل کی: اے داؤد میری مخلوقات میں سے کوئی مجھے چھوڑ کر مخلوق سے مدد نہیں چاہتا۔۔ مگر یہ کہ آسمان کے تمام اسباب اس سے قطع ہو جاتے ہیں اور اس کے نیچے کی زمین کو وہ ناراض کر دیتا ہے۔


ٹیگس: امام کاظم
+ لکھاری عباس حسینی در 20 Mar 2020 و ساعت 8:36 PM |

اربعین حسینی کی مختصر تاریخ

تحریر: سید عباس حسینی

(مجلہ سفیر روحانیت، زیر اہتمام جامعہ روحانیت بلتستان، شمارہ ۵، ۲۰۱۸ء میں چھپا مضمون)

اربعین عربی زبان میں چالیس کے عدد کو کہا جاتا ہے۔ فارسی میں اسے چہلم کہتے ہیں۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں کے درمیان آج بھی یہ رسم ہے کہ کوئی شخص اس دنیا سے چلا جائے تو اس کے چالیس روز بعد اس کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی، فاتحہ خوانی اور مجالس وغیرہ کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔

امام حسین علیہ السلام کی جہاں اور بہت ساری خصوصیات ہیں، وہیں ان کا یہ خاص امتیاز بھی ہے کہ ہمارے تمام اماموں میں سے صرف آپ علیہ السلام کے لیے اربعین کی زیارت کتابوں میں وارد ہوئی ہے اور اس زیارت کی خاص فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اربعین کے موقع پر آپ کی زیارت پر جانے کی بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے۔ اسی طرح سے آپ کی زیارت کے لیے پیدل جانے کے حوالے سے مختلف روایات آئی ہیں جو اس کام کے اجر وثواب کو مختلف انداز میں بیان کرتی ہیں۔

 آپ علیہ السلام کی شہادت چونکہ 10 محرم الحرام 61 ہجری میں ہوئی تھی، اس لحاظ سے 20 صفر 61 ہجری کو آپ کا اربعین بنتا ہے۔ آپ کے چاہنے والے اس وقت سے لے کر اب تک ہر سال اس مخصوص تاریخ کو آپ کا اربعین مناتے ہیں اور اس عظیم قربانی پر آپ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔دنیا بھر سے لاکھوں زائرین  20 صفر کی  تاریخ کو کربلا کا رخ کرتے ہیں اور آپ کی زیارت سے شرفیاب ہوتے ہیں۔ پچھلے چند سالوں میں جو ایک نیا سلسلہ دیکھنے کو آیا ہے وہ یہ ہے کہ اربعین حسینی کے موقع پر دنیا کا سالانہ سب سے بڑا مذہبی اجتماع کربلا میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس اجتماع کے دوران لاکھوں زائرین بصرہ، بغداد اور دوسرے عراقی شہروں خصوصا نجف سے کربلا کا فاصلہ پیدل طے کرتے ہیں اور پیادہ کربلا پہنچ کر امام عالی مقام کی خدمت میں حاضری دیتے ہیں اور اظہارِ عقیدت کرتے ہیں۔ اس دوران عراقی شہریوں کی طرف سے زائرین کی پذیرائی اور دل کھول کر خدمت قابلِ دید ہے جس کی مثال ملنا محال ہے۔

عددِ چالیس(اربعین) کا راز

علم الاعداد کے ماہرین نے چالیس کے عدد کی کچھ خصوصیات بیان کی ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کی تائید بہت سارے دینی معاملات اور احکام سے بھی ہوتی ہے۔ مثلا قرآن کریم کے مطابق اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام کو پہلےتیس دن کے لیے کوہ طور پر بلایا۔ پھر مزید دس دن کے اضافے کے ساتھ چالیس دن مکمل کیے۔ (اعراف:142) قرآن کریم کے مطابق انسان چالیس سال کی عمر میں رشدِ عقلی تک پہنچتا ہے۔(احقاف:15) یا جب اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کو صحرائے سینا میں بھٹکنے (تیہ) کی سزا دی اس کے لیے چالیس سال کی مدت مقرر کی۔ (مائدہ:26) اسی طرح روایات میں آیا ہے کہ جو شخص چالیس دنوں تک اپنے آپ کو اللہ کے لیے خالص کر لے اس کے دل سے حکمت کے چشمے اس کی زبان پر جاری ہوں گے۔[1] جو شخص بھی چالیس احادیث حفظ کرلے قیامت کے دن فقیہ اور عالم محشور ہوگا۔[2]  بہت سارے انبیاء جن میں سے ہمارے رسول حضرت محمد مصطفیﷺ بھی ہیں چالیس سال کی عمر میں مبعوث برسالت ہوئے۔ بعض گناہوں کے بارے میں روایات میں آیا ہے کہ ان کی وجہ سے چالیس روز تک عبادت قبول نہیں ہوتی۔ اسی طرح نماز شب  میں چالیس مومنوں کے  لیے دعا کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ بعض روایات کے مطابق جس شخص کے جنازے میں چالیس مومن اس کی مغفرت کے لیے دعا کریں اللہ تعالی اس کو بخش دیتا ہے۔ روایات کے مطابق مسجد کے اردگرد چالیس گھر تک مسجد کے ہمسائے شمار ہوتے ہیں۔ بہت ساری دعاوں کے بارے میں چالیس روز تک مسلسل پڑھنے کی تاکید ہوئی ہے۔ بعض پھلوں کے بارے میں روایات میں آیا ہے کہ ان کے چالیس روز تک کھانے کے مختلف اثرات ہیں۔ اس طرح کے اور بھی بہت سارے موارد روایات میں بیان ہوئے ہیں۔ ان کے علاوہ علم الاعداد کے ماہرین بھی اس عدد کی مختلف خصوصیات بیان کرتے ہیں۔

روایات کے مطابق جب بھی کوئی مومن بندہ اس دنیا سے جاتا ہے تو زمین اس کی موت پر چالیس دنوں تک گریہ کرتی ہے۔[3]  امام حسین علیہ السلام کے حوالے سے خصوصی طور پر روایات میں آیا ہے کہ آپ کی شہادت کے بعد چالیس دنوں تک آسمان آپ پر گریہ کناں رہا۔ راوی نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا: آسمان کا گریہ کیا تھا؟ آپ نے جواب میں فرمایا: چالیس روز تک سورج سرخی کے ساتھ نکلتا رہا اور اور سرخی کے ساتھ ڈوبتا رہا۔[4] اسی طرح روایات کے مطابق آپ کی شہادت کے بعد آسمان، زمین،سورج اور فرشتے چالیس دنوں تک آپ کے غم میں اشک بہاتے رہے۔ [5]

اربعینِ حسینی کی اہمیت:

امام عسکری علیہ السلام کی مشہور حدیث  جس میں آپ نے مومن کی پانچ علامات بیان کی ہیں اس حدیث میں اربعین کے موقع پر امام حسین علیہ السلام کی زیارت کو مومن کی علامت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: (عَلَامَاتُ‏ الْمُؤْمِنِ‏ خَمْسٌ صَلَاةُ الْخَمْسِينَ وَ زِيَارَةُ الْأَرْبَعِينَ وَ التَّخَتُّمُ فِي الْيَمِينِ وَ تَعْفِيرُ الْجَبِينِ وَ الْجَهْرُ بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيم)[6] اس روایت کے مطابق روزانہ 51 رکعت نماز(واجب اور مستحب نمازیں ملا کر)، دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا، سجدے میں سر خاک پر رکھنا، نماز میں بسم اللہ کو بلند آواز سے پڑھنا اور اربعین کی زیارت ایک مومن کی علامات ہیں۔

شیعوں کے نزدیک اربعینِ حسینی کی اہمیت اس وجہ سے بھی زیادہ ہے چونکہ تاریخ اور روایات کے مطابق امام زین العابدین علیہ السلام اور اہل بیت کرام کی مخدرات عصمت جنہیں واقعہ کربلا کے بعد اسیر بنا کر کوفہ و شام لے جایا گیا تھا وہ رہائی کے بعد اسی تاریخ کو واپس کربلا پہنچے تھے اور انہوں نے امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا کی پہلی بار زیارت کی تھی۔ تواریخ کے مطابق یہ قافلہ اپنے ساتھ امام حسین علیہ السلام کا کٹا ہوا سر بھی واپس لایا تھا، جسے کربلا ہی میں اسی تاریخ کو آپ کے جسد اطہر کے ساتھ دفن کیا گیا۔

اربعین حسینی کا پہلا زائر

تاریخ کے مطابق اربعینِ حسینی کا پہلا زائر صحابی رسول حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری ہیں آپ اپنے غلام عطیہ کے ساتھ 20 صفر 61 ہجری کو کربلا میں وارد ہوتے ہیں۔ اس وقت جابر کی بینائی ختم ہو چکی تھی۔ غلام کے مطابق جس وقت جابر کربلا پہنچے تو پہلے فرات میں غسل کیا، پھرقبر امام حسین علیہ السلام پر آئے اور عطیہ سے کہا: میرا ہاتھ قبر پر رکھ دیں۔ کچھ دیر بعد جابر بے ہوش ہو کر قبر پر گر پڑے۔ عطیہ نے چہرے پرپانی ڈالا اور جابر ہوش میں آئے۔ جابر نے تین مرتبہ بلند آوازسے کہا: یاحسین علیہ السلام۔ اور پھر کہا: "حَبیبٌ لا یُجیبُ حَبیبَه."[7] دوست، دوست کو جواب نہیں دے رہے۔ امام عالی مقام اور دوسرے شہداء کی زیارت کرتے ہیں۔ آپ کی موجودگی میں ہی امام زین العابدین علیہ السلام اور دوسرے اسیران اہل بیت شام سے کربلا پہنچتے ہیں جہاں سب مل کرشہداء کی زیارت بھی کرتے ہیں اور ماتم اور گریہ وزاری بھی کرتے ہیں۔[8]

پیادہ روی کی تاریخ:

امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیے ایک خصوصیت جو روایات میں ذکر ہوئی ہے وہ پیدل چل کر زیارت کرنے کی ہے۔ اس حوالے سے متعدد روایات ہیں جو اس کام کے بے شمار اجروثواب کو بیان کرتی ہیں۔ امام صادق علیہ السلام کی روایت کی مطابق "جو بھی امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیے پا پیاده آتا ہے اس کے ہر قدم پر اللہ تعالی ہزار نیکیاں لکھتا ہے، ہزار گناہ مٹا دیتا ہے اور ہزار مرتبہ اس کے درجات میں اضافہ کرتا ہے۔"[9] سب سے پہلی شخصیت جو پیدل چل کر امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیے آئی، وہ صحابی رسول جابر بن عبد اللہ انصاری ہیں۔ ان کے بعد بھی دنیا بھر سے عاشقان ِامامت و ولایت آپ کے زیارت کے لیے مختلف زمانوں میں آتے رہے۔ بعض محققین کے نزدیک ائمہ معصومین کے دور میں بھی لوگ دور دراز سے اربعین کے موقع پر آپ کی زیارت کے لیے پیدل آتے تھے۔ لہذا اس لحاظ سے ائمہ کے دور سے ہی یہ سنت چلی آئی ہے۔ بنی امیہ اور بنی عباس کی حکومتوں نے اگرچہ اس راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی بڑی کوششیں کیں، لیکن کسی نہ کسی شکل میں کربلا کی طرف پیادہ روی کا سلسلہ چلتا ہی رہا۔[10] معتصم عباسی کے دور میں اگرچہ زیارت ابا عبد اللہ سے روکنے کی بڑی کوششیں کی گئیں اور زائرین کے ہاتھ پاوں تک کاٹے گئے، لیکن زیارت کا سلسلہ نہ رک سکا۔ 

موجودہ دور میں جس شخصیت نے نجف سے کربلا تک پیدل زیارت پر جانے کی اس حسینی تحریک کا آغاز کیا وہ شیخ انصاری(وفات 1864ء) کی شخصیت ہیں۔ آپ کی مرجعیت کے زمانے میں کربلا کی طرف پیادہ روی کا زور و شور سے انتظام ہوتا تھا۔  ان کے بعد کچھ عرصے کے لیے یہ تحریک کم رنگ ہو کر رہ گئی لیکن شیخ میرزا حسین نوری(وفات 1902ء)، کتاب مستدرک الوسائل کے مصنف نے دوبارہ اس تحریک کو زندہ کیا۔ ان کے ساتھ ان کے چاہنے والوں کی بھی ایک کثیر تعداد ہوتی تھی جو ایک قافلے کی شکل میں کربلا کی طرف پیدل چلتے تھے۔  مجتہد وعارف بزرگوار میرزا جواد آقا ملکی تبریزی (وفات 1925ء) کے بارے میں بھی نقل کرتے ہیں کہ وہ بھی اپنی زندگی میں کئی بار نجف سے کربلا پیدل زیارت کے لیے جاتے رہے۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے شہید بزرگوار علامہ سید عارف حسین الحسینی(وفات 1988ء) کے بارے میں بھی علماء بیان کرتے ہیں کہ اکثر شبِ جمعہ پیدل نجف سے  کربلا امام عالی مقام کی زیارت کے لیے جاتے تھے۔

ان کے علاوہ بہت سارے علماء و مجتہدین کے بارے میں نقل ہوا ہے کہ کربلا کی طرف پیادہ روی کو انتہائی اہمیت دیتے تھے۔ "اعیان الشیعہ" کے مولف سید محسن امین عاملی(وفات 1952ء) اپنے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ میں دس سال تک نجف میں رہا ہوں۔ اس دوران سال بھر کی خاص مناسبتوں پر امام حسین علیہ السلام کی زیارت پر کربلا کی زیارت سے ضرور مشرف ہوتا تھا۔ اکثر پیدل کربلا کی طرف ہم چل پڑتے۔ اس سفر میں ان کے ساتھ جبل عامل اور نجف کے دوسرے طلاب بھی ملحق ہوتے اور ایک قافلہ سا بن جاتا۔ مشہور کتاب "الغدیر" کے مصنف علامہ امینی(وفات 1970ء) کے بارے میں بھی نقل ہوا ہے کہ اکثر پیدل کربلا جاتے تھے۔ کربلا کے نزدیک پہنچتے ہی ان کی حالت تبدیل ہو جاتی اور آنکھوں سے آنسووں کا نہ رکنے والے سلسلہ شروع ہو جاتا۔ سید محمود حسینی شاہرودی(وفات 1974ء) جو عراق کے مشہور مرجع تھے کے بارے میں نقل ہوا ہے کہ پیدل کربلا جاتے تھے۔ ان کے شاگرد اور عقیدت مند بھی انکے ساتھ ساتھ چلتے تھے۔ ان کے بارے مشہور ہے کہ چالیس بار پیدل امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیے گئے ہیں۔ امام خمینی کے فرزند حاج مصطفی خمینی(وفات1977ء) کے بارے نقل ہوا ہے کہ تمام اہم مناسبات جیسے نیمہ رجب، نیمہ شعبان، روز عرفہ اور مخصوصا اربعین کے موقع پر پیدل نجف سے کربلا جاتے تھے۔ لبنان کے مشہور عالم دین سید موسی صدر(گمشدگی 1979ء) کے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ آپ پیدل امام حسین علیہ السلام کی زیارت پر جانے کا عشق رکھتے تھے۔  ان تمام مجتہدین اور علماء کے علاوہ آیت اللہ   میرزا نائینی، شیخ محمد حسین غروی، آیت اللہ ملکوتی، شہید آیت اللہ مدنی اور بہت سارے علماء کے بارے نقل ہوا ہے کہ وہ سال بھر کی مختلف مناسبتوں خصوصا اربعین کے موقع پر کربلا کی طرف پیادہ روی کرتے تھے۔[11]

عراق کے سابق صدر صدام حسین کے دور میں کربلا کی طرف پیادہ روی پر پابندی لگائی گئی۔ اس کے باوجود عاشقین ابا عبد اللہ خفیہ راستوں سے چلتے ہوئے، راتوں کو سفر کرتے ہوئے اپنے آپ کو اربعین کے موقع پر کربلا پہنچاتے تھے۔ 2003ء  میں صدام کی حکومت کے خاتمے کے بعد اس تحریک نے مزید زور اور رونق پکڑ لی اور آج یہ اجتماع سالانہ منعقد ہونے والا دنیا کا سب سے بڑا دینی اجتماع ہے۔ پچھلے چند سالوں میں اس عظیم اجتماع میں شرکت کرنے والوں کی تعداد اڑھائی کروڑ تک بھی بتائی گئی ہے۔

آج اربعین کی تحریک ایک عالمگیر تحریک بن چکی ہے جو ظہور حضرت ولی عصر علیہ السلام کے لیے بہترین زمینہ فراہم کر سکتی ہے۔ بقول رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای: اربعین میں مقناطیسِ حسینی کا جاذبہ تمام لوگوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اربعین حسینی، شعائر اسلامی میں سے ہے۔ اربعین کے اس عظیم اجتماع کے پیچھے خدا کا ہاتھ ہے۔ یہ عشق اور بصیرت کا راستہ ہے۔ اس عظیم اجتماع میں صرف اجسام ایک دوسرے کے قریب نہیں آتے، بلکہ ارواح بھی ایک دوسرے سے مانوس ہوتی ہیں۔ یہ اجتماع اسلام کی عزت اور مسلمانوں کی وحدت کا سبب ہے۔[12]


حوالہ جات:

 

[1] ۔ "مَا أَخْلَصَ عَبْدٌ لِلَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ أَرْبَعِينَ صَبَاحاً إِلَّا جَرَتْ‏ يَنَابِيعُ‏ الْحِكْمَةِ مِنْ قَلْبِهِ عَلَى لِسَانِهِ." (عیون اخبار الرضا، محمد بن علی بن بابویہ، ج 2، ص 69، نشر جھان تہران، چاپ اول، 1378 ہجری۔)

[2] ۔ مَنْ حَفِظَ مِنْ أُمَّتِي أَرْبَعِينَ‏ حَدِيثاً يَنْتَفِعُونَ بِهَا بَعَثَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقِيهاً عَالِماً. (عیون اخبار الرضا، ج ۲، ص 35۔)

[3] ۔إِنَّ الْأَرْضِ‏ لَتَبْكِي‏ عَلَى الْمُؤْمِنِ إِذَا مَاتَ أَرْبَعِينَ صَبَاحاً. (امالی، شیخ طوسی، ص 535، دار الثقافہ قم، چاپ اول، 1414 ہجری۔)

[4] ۔  إِنَّ السَّمَاءَ بَكَتْ‏ عَلَى‏ الْحُسَيْنِ‏ بْنِ عَلِيٍّ وَ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا وَ لَمْ تَبْكِ عَلَى أَحَدٍ غَيْرِهِمَا قُلْتُ وَ مَا بُكَاؤُهَا قَالَ مَكَثَتْ أَرْبَعِينَ يَوْماً تَطْلُعُ كَشَمْسٍ بِحُمْرَةٍ وَ تَغْرُبُ بِحُمْرَةٍ قُلْتُ فَذَاكَ بُكَاؤُهَا قَالَ نَعَمْ. (کامل الزیارات، جعفر بن محمد قولویہ، ص 89، دار المرتضویہ نجف اشرف، چاپ اول، 1356 ہجری۔ )

[5] ۔  کامل الزیارات، ص 81۔

[6] ۔تهذیب الاحکام، طوسی، محمد بن حسن، ج 6، ص 52، دار الکتب الاسلامیہ، تهران، 1407ہجری۔

[7] ۔ بحار الانوار، محمد باقر مجلسی، ج 65، ص 130، دار احیاء التراث العربی بیروت، چاپ دوم، 1403 ہجری۔

[8] ۔ لہوف کی روایت کے مطابق: "وَ لَمَّا رَجَعَ نِسَاءُ الْحُسَيْنِ ع وَ عِيَالُهُ مِنَ الشَّامِ وَ بَلَغُوا الْعِرَاقَ قَالُوا لِلدَّلِيلِ مُرَّ بِنَا عَلَى طَرِيقِ كَرْبَلَاءَ فَوَصَلُوا إِلَى مَوْضِعِ الْمَصْرَعِ فَوَجَدُوا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ رَحِمَهُ اللَّهُ وَ جَمَاعَةً مِنْ بَنِي هَاشِمٍ وَ رِجَالًا مِنْ آلِ رَسُولِ اللَّهِ ص قَدْ وَرَدُوا لِزِيَارَةِ قَبْرِ الْحُسَيْنِ ع فَوَافَوْا فِي وَقْتٍ وَاحِدٍ وَ تَلَاقَوْا بِالْبُكَاءِ وَ الْحُزْنِ وَ اللَّطْمِ وَ أَقَامُوا الْمَآتِمَ الْمُقْرِحَةَ لِلْأَكْبَادِ وَ اجْتَمَعَ إِلَيْهِمْ نِسَاءُ ذَلِكَ السَّوَادِ فَأَقَامُوا عَلَى ذَلِكَ أَيَّاما." (اللھوف فی قتلی الطفوف، سید علی بن موسی ابن طاووس، ص 196، نشر جھان تہران، چاپ اول، 1348 شمسی۔ )

[9] ۔ "مَنْ أَتَى قَبْرَ الْحُسَيْنِ‏ مَاشِياً كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ وَ مَحَا عَنْهُ أَلْفَ سَيِّئَةٍ وَ رَفَعَ لَهُ أَلْفَ دَرَجَة" (وسائل الشیعہ، شیخ حر عاملی، ج 14، ص 440، موسسہ آل البیت قم، چاپ اول، 1409 ہجری۔)

[10] ۔ دیکھیے: دیکی شیعہ: http://fa.wikishia.net/

[11] ۔ اس حوالے سے دیکھیے: ویب سائٹ شیخ احمد شرفخانی: https://www.sharafkhani.com/

اور ولایت نیٹ: https://www.welayatnet.com/fa/news/100338

[12] ۔ ویب سائٹ آیت اللہ خامنہ ای: http://farsi.khamenei.ir/speech-content?id=34856

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ٹیگس: امام حسین, اربعین
+ لکھاری عباس حسینی در 30 Oct 2018 و ساعت 12:48 PM |

واقعہ کربلا : مختصر دفاعی تجزیہ

[سید عباس حسینی]

 (مجلہ سفیر روحانیت زیر اہتمام جامعہ روحانیت بلتستان شمارہ ۲، ۲۰۱۵ء، ص ۱۹ - ۲۳ چھپا مضمون)

          کسی بھی واقعہ  یا حادثہ کو دیکھنےاور پھر تجزیہ کرنے  کے مختلف زاویے  ہوسکتے ہیں جن میں سے ہر ایک اس واقعہ کے کسی نئے رخ یا نئی جہت  کو ہم تک پہنچا رہا ہوتا ہے۔ واقعہ کربلا تاریخ کا وہ عظیم واقعہ ہے جو اگرچہ مدتِ زمان کے لحاظ سے دیکھا جائے تو نصف روز یا زیادہ سے زیادہ ایک دن کی مدت پر پھیلا واقعہ ہے[1]  لیکن اپنے اثرات اور نتائج کے حوالے سے تاریخ کا منفرد اور بے نظیر واقعہ ہے جو ہمیشہ کے لیے امر ہوگیا ہے۔ اس عظیم واقعہ کو بھی مختلف جہتوں سے مطالعہ کیا جا سکتا ہے، جن میں سے ایک اہم جہت دفاعی پہلو ہے کہ اگر کوئی دفاعی تجزیہ نگار اس جنگ کو خالص جنگی اصولوں  پر پرکھنا چاہے تو کیا نتائج اخذ ہوں گے؟  طرفین میں سے ہر ایک نے اس جنگ کو جیتنے کے لیے کیسے منصوبہ سازی کی؟ افراد اور اسلحے کے لحاظ سے طرفین کی صورت حال کیا تھی؟ کیسے جنگ کے مراحل طے ہوئے؟ اور کیسے جنگ کا خاتمہ ہوا اور نتائج واثرات کیا نکلے؟

 امام حسین علیہ السلام کی فوج اور آپ کی پالیسی:

امام عالی مقام کی فوج اور جنگی پالیسیوں کا جائزہ چند نکات میں لیا جا سکتا ہے:

فوج کی تعداد: حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ لڑنے والے سپاہیوں کی تعداد مشہور کے مطابق ۷۲ ہے۔[2] جبکہ دشمن کی تعداد مشہوریہی ہے کہ ۲۵ سے ۳۰ ہزار تھی۔ دفاعی حوالے سے صرف تعداد کو مد نظر رکھ کر تجزیہ کیا جائے تو ۷۲ کا ۲۵۰۰۰ سے کوئی مقابلہ بنتا نہیں۔ لہذا اس جنگ  کا فیصلہ شایدعام تجزیہ نگار تعداد دیکھ کر ہی فورا کر لے۔ لیکن خدا کا قانون الگ ہے اور تاریخ بھی یہی  بتاتی ہے کہ بسا کم تعداد بہت بڑی تعداد پر غالب آتی ہے۔[3]   کمیت معتبر نہیں، کیفیت مہم ہے۔ جنگ بدر کا نتیجہ بھی ہمارے سامنے ہے کہ جب ۳۱۳ نے ایک ہزار کا غرور خاک میں ملایا تھا۔ کربلا میں بھی ۷۲ باوفا جان نثاروں کے خوف سے ہزاروں کی پیشانیوں پر پسینے چھوٹے تھے۔

ایک عجیب تاریخی فوج: عام طور پر فوج میں بھرتی ہونے والے سپاہی کے لیے کڑی شرائط رکھی جاتی ہیں۔ چوڑا سینہ، لمبا قد، جسمانی فٹنس سے لے کر عمر کی حد سب چیزیں دیکھی جاتی ہیں۔ لیکن امام حسین علیہ السلام کی فوج عجیب قسم کی فوج ہے جس میں ہر عمر  کے سپاہی ہیں۔ چھے ماہ کا ننا سپاہی علی اصغر سے لےکر اسی سال کے بوڑھے تک۔ جبکہ طرف مقابل میں سارے سپاہی قد وکاٹھ کے ساتھ اکثریت جوانوں پر مشتمل ہے اور دفاعی ساز وسامان سے لیس ہیں۔دفاعی حوالوں سے دیکھا جائے توان کا کوئی مقابلہ بنتا نہیں ہے۔ لیکن آسمان نے وہ عجیب منظر ملاحظہ کیا جب کربلا کے چھے ماہہ علی اصغر نے بھی دشمن کی فوج میں ہل چل مچا دی۔ اصحاب میں سے ہر ایک نے شجاعت کے وہ جوہر دکھائے کہ فلک پر فرشتے بھی عش عش کر اٹھے۔ اسی لیے امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: میرے اصحاب جیسے اصحاب نہ میرے بابا کو ملے اور نہ میرے بھائی کو۔ ان سے بہتر اصحاب میں نے نہیں دیکھا۔ اسی طرح میری اہل بیت سے بہتر اور نیک اہل بیت بھی میں نے نہیں دیکھا۔ [4]

ایک عجیب فیصلہ: جنگ جب سر پر ہو تو کوئی بھی سپہ سالار اپنے سپاہیوں کو واپس جانے کی اجازت نہیں دیتا۔ طارق بن زیاد نےاندلس کی جنگ میں  اس خوف سے کہ سپاہی واپس بھاگ نہ  جائیں کشتیاں جلا دی تھیں۔ جبکہ کربلا میں اامام عالی مقام سب ساتھیوں کو واپس جانے کی اجازت دے رہے ہیں۔ بیعت اٹھانے کی بات کر رہے ہیں۔ایک دفعہ عمومی اجازت دی ا ور کہا: "میں نے تم لوگوں کو اجازت دے دی، تم سب لوگ چلے جاؤ، میری طرف سے تمہارے اوپر کوئی ذمہ داری بھی نہیں۔ یہ رات  کا اندھیرا ہے اس کا سہارا لے کر نکل جاؤ۔" یہ بھی کہا: "تم میں سے ہر ایک میرے اہل بیت میں سے ایک فرد کا ہاتھ تھام لے کر ساتھ لے چلو، اور اپنے شہروں کو واپس چلے جاؤ۔" بعض کے نام لے کر خصوصی اجازت بھی دی۔ حضرت عقیل کی اولاد کو مخاطب کر کے کہا: "اے عقیل کے بیٹے، مسلم کی شہادت تمہارے لیے کافی ہے۔ تم لوگ چلے جاؤ ، میں نے تمہیں اجازت دی۔"[5]

           دفاعی حوالے سے یہ بات خلاف عقل ومنطق دکھائی دیتی ہے۔لیکن امام عالی مقام نے سب اصحاب کو فیصلہ کرنے کا اختیار دیا۔ بغیر کسی جبر اور لالچ کے،سوچ سمجھ کر،  امام وقت کا ساتھ دیتے ہوئے ،  موت کا راستہ اختیار کرنے کی وجہ سے اصحاب کا رتبہ اور بلند ہوا اور سب نے انتہائی خلوص سے فداکاری کے جوہر دکھائے۔ یقینا اگر مجبوری کی حالت میں امام کا ساتھ دیتے تو ایسا نتیجہ ہرگز نہیں نکلتا۔

اخلاقِ جنگی: جنگ میں عام طور پر دشمن کو زیر کرنے کے لیے ہر قسم کے اسلحے، حیلے بہانے اور مکر وفریب  سے استفادہ کیا جاتاہے۔ دشمن کا پیاسا لشکر جب حر بن یزید ریاحی کی قیادت میں امام کا راستہ روکنے پہنچا تو آپ  اس  موقعہ سے استفادہ کر سکتے تھے۔ لیکن آپ نے دشمن کے سپاہیوں کو حتی ان کے جانوروں کو بھی پانی پلایا۔ [6]جنگی تکنیک کے حوالوں سے یہ بھی خلاف منطق ہے۔ لیکن یہ تو صفین والے امام کے فرزند ہیں جنہوں نے بھی لشکرِ معاویہ کی طرف سے پانی بند کرنے کے باوجود جب نہر پر آپ کا قبضہ ہوا تو پانی بند کرنے سے انکار کیا تھا۔ ان کا تعلق اس خاندان سے ہے جو انتہائی سخت حالات میں بھی اخلاقی اصولوں کا خیال رکھتے ہیں۔ کبھی بھی اپنے ہدف کے حصول کے لیے پست طریقوں سے استفادہ نہیں کرتے۔

جنگی ٹیکنیک: امام عالی مقام جس وقت کربلا پہنچے ہیں سب سے پہلے آپ نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ  کسی ایسی جگہ کا انتخاب کیا جائے جہاں سے دشمن کا مقابلہ کرنا آسان ہو، جہاں دشمن پشت کی طرف سے حملہ نہ کر سکے۔ اصحاب نے کہا کہ "ذو حسم" کا علاقہ ایسا ہی ہے، لہذا آپ نے جلدی سے اپنے کاروان کو "ذو حسم" پہنچایا اور خیمہ زن ہوگئے۔ [7]  اسی طرح روز عاشور بھی امام عالی مقام نے  جنگ سے پہلے خیموں کے گرد خندق کھودنے اور اس میں آگ لگانے کا حکم دیا۔[8]  چونکہ علم تھا دشمن بہت پست قسم کے لوگ ہیں، اور خیموں پر پیچھے سے حملہ کرسکتے ہیں۔ دفاعی حوالے سے یہ انتہائی اہم قدم تھا۔ چونکہ اگر ایسا نہ کرتے تو آپ کی فکر ہمیشہ خیموں کی طرف اور مخدرات عصمت کی طرف ہوتی اور لڑائی متاثر ہوتی۔ خندق کھود کر اور اس میں آگ لگا کر آپ بہت حد تک مطمئن ہو کر دشمن کا مقابلہ کرنے چلے۔

جنگ کے آغاز سے انکار: امام عالی مقام نے کربلا میں دشمن پر تمام حجتیں تمام کیں تاکہ بعد میں دشمن کے پاس کوئی بہانہ نہ بچے۔ عاشور کی شب جس طرح سے آپ نے دشمن سے مانگ کر ایک رات کی مہلت لی ہے اسی طرح سے دشمن کو سوچنے سمجھنے کے لیے ایک رات کی مہلت دی بھی ہے ، کہ وہ اندازہ کریں کتنے بڑے جرم کا مرتکب ہونے جارہے ہیں۔ اسی طرح بار بار خطبہ دیتے ہوئے آپ دشمن کی ضمیر جگانے کی کوشش کرتے رہے ،جس کے کچھ اثرات بھی ہوئے۔ جیسے حر کا اپنے بیٹے اور غلام سمیت آپ کے لشکر میں آکر ملنا۔ لیکن تمام کوششوں کے باوجود دشمن جنگ کی ضد کرتے رہے تو پھر بھی آپ نے جنگ میں پہل کرنے سے انکار کیا۔ جس وقت آپ نے خیموں کی پشت پر خندق کھود کر آگ لگائی تو شمر قریب آیا اوراس نے  آواز دی: "اے حسین، قیامت کی آگ سے پہلے دنیا میں ہی آگ لگا دی؟" تو اس وقت مسلم بن عوسجہ نے کہا: "یابن رسول اللہ ، میری جا ن آپ پر قربان، اگر اجازت دیں تو اک تیر سے میں شمرکا کام تمام کرسکتا ہوں ۔" امام علیہ السلام نے جوا ب دیا: "نہیں، میں پسند نہیں کرتا کہ جنگ کا آغاز میری طرف سے ہو۔"[9]

غازی عباس کو جنگ کی اجازت نہ دینا: مشہور یہی ہے کہ امام عالی مقام نے اپنے سب سے قوی سردار غازی عباس علمدار علیہ السلام کوباقاعدہ جنگ کی اجازت نہ دی۔ بعض محققین کے نزدیک آپ  نے حر اور زہیر کو دشمنوں کے نرغے سے چھڑانے کے لیے مختصر جنگ کی۔ جب آپ نے جنگ کی اجازت چاہی توامام عالی مقام نے صرف اتنا کہا کہ ہوسکے تو بچوں کےلیے پانی کی کوئی سبیل کرو[10]۔ پس آپ کا مقصد کسی طرح خیموں تک پانی پہنچانا ٹھہر گیا۔  اس کی کیا وجوہات تھیں کہ امام نے غازی عباس کو باقاعدہ جنگ کی اجازت نہیں دی؟دفاعی حوالے سے کیا یہ درست اقدام تھا؟

محققین کے نزدیک شاید امام کے اس اقدام کی وجہ یہ تھی کہ حضرت عباس آپ کے لشکر کے علمدار تھے اور اس زمانے میں علم کا گرنا شکست کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ امام کی خواہش تھی آخری لمحات تک پرچم بلند رہے تاکہ اہل حرم کو حوصلہ ملتا رہے۔ لہذا امام عالی مقام نے ہر دفعہ حضرت عباس کو جنگ کی باقاعدہ اجازت دینے سے انکار کیا۔ [11]امام عالی مقام کے بیان میں یہی اشارہ ہے جب آپ نے ارشاد فرمایا: "آپ میرے لشکر کے علمدار ہیں۔ اگر آپ گئے تو میرا لشکر بکھر جائے گا۔"[12]

جنگی قانون سے ہٹ کر: عام طور پر جنگ کا قانون  یہ ہے کہ سپہ سالار سب سے آگے ہوتا ہے اور فوج پیچھے ہوتی ہے۔ سپہ سالار سب سے پہلے خود کومیدان میں پیش کرتا ہے۔ جبکہ کربلا میں منظر برعکس نظر آتا ہے۔ اصحاب وانصار پہلے لڑتے ہیں، اور اہل بیت کے افراد بعد میں۔ جبکہ سپہ سالار سب سے آخر میں مقابلہ کے لیے جاتا ہے۔ شاید وجہ یہ ہو کہ باقی جنگوں میں مرنا مشکل جبکہ زندہ رہنا آسان ہوتا ہے، لیکن کربلا میں مرنا آسان تھا، جبکہ اتنے مصائب اور پیاس کی شدت  میں زندہ رہنا، ساتھیوں  کا غم سہنا ، لاشیں اٹھانا اور پھر شہید ہونا زیادہ مشکل مرحلہ تھا، اس لیے امام نے اپنے آپ کو سب سے آخر میں رکھا، کہ سب سے مشکل مرحلے کو خود اپنے لیے انتخاب کیا۔

 

 دشمن کے اقدامات:

لشکرِ امام میں پھوٹ ڈالنے کی سازش: دشمن کی طرف سے  ہر ممکن کوشش کی گئی کہ امام  کے لشکر میں پھوٹ ڈالا جائے۔ اسی خاطر بعض افراد کے لیے امان نامہ دینے کی کوشش کی گئی۔ شمر کی طرف سے غازی عباس اور ان کے بھائیوں کے لیے امان دینے کی کوشش کی گئی کہ وہ بنی کلاب سے ہیں اور ننھیال کی طرف سے شمر کے  خاندان سے ہیں۔ یہ جنگی تکنیک تھی  جس کے ذریعے امام کی  فوج کے قوی ترین سردار کو لشکر سے جدا کرنا چاہتے تھے اور فوج کی معنوی حالت کو نیچے لا کر نفسیاتی شکست دینا چاہتے تھے۔

شمر، امام کے لشکر کے قریب آیا اور آواز دی: "ہمارے بہن کی اولاد کہاں ہیں؟" تو حضرت عباس، جعفر اور عثمان نکل آئے۔ شمر نے کہا: "تم لوگ امان میں ہو چونکہ ماں کی طرف سے ہمارے رشتہ دار ہو۔ ان لوگوں کی طرف سے جواب آیا: "تم پر خدا کی لعنت ہو، تمہارے امان پر خدا کی لعنت ہو، تم ہمارے ماموں بن کر ہمیں امان دیتے ہو، جبکہ رسول اللہ ﷺ کے بیٹے کے لیے کوئی امان نہیں؟"[13]  اس طرح حضرت عباس اور ان کے بھائیوں نے اپنی بصیرت سے دشمن کی سازش کو ناکام بنا دیا۔

پست ترین اقدامات،  جیسے پانی بند کرنا: اس ۷۲ کے لشکر سے دشمن کے خوف کی یہ حالت تھی کہ ۷ محرم الحرام سے امام کے لشکر پر پانی بند کیا گیا۔ شاید دشمن کی خواہش  یہ تھی کہ پیاس سے مجبور ہو کر امام عالی مقام اور آپ کا لشکر سر جھکانے پر مجبور ہوجائیں گے۔ لیکن کربلا کی اس تپتے صحراء میں العطش کی صداؤں میں لشکرِ امام نے شجاعت کے ایسے جوہر دکھائے کہ یقینا اگر پانی سے سیراب ہوتے تو جنگ کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔ سخت پیاس کی حالت میں جو ایسی جنگ لڑیں وہ اگر پانی سے سیراب ہوتے تو یقینا دشمن کے لیے مزید مشکلات پیدا کرتے۔

اہل بیت اطہار کو اسیر بنانے کی غلطی: دشمن ظاہری فتح اور جیت کی خوشی میں چور کربلا سے بچ جانے والے افراد کو بشمول امام زین العابدین علیہ السلام کو اسیر بنا کر پہلے کوفہ اور پھر وہاں سے شام لے گیا۔ جنگی حوالے سے یہ دشمن کی بہت بڑی غلطی تھی۔ دشمن کے اس غلط فیصلے سے امام زین العابدین علیہ السلام اور ثانی زہراء سلام اللہ علیہا نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور کربلا والوں کا پیغام شہر شہر پہنچانے کے علاوہ کربلا میں ڈھائے جانے والے مظالم کی داستان ساری دنیا تک پہنچائی اور یزید اور اس کے کارندوں کوہر دو جہان میں  رسوا کیا۔

نتیجہ:

          امام نے دشمن کا مقابلہ انتہائی بصیرت اور شجاعت سے کیا۔ ایسا نہیں ہے کہ اپنی کم تعداد اور دشمن کی بڑی تعداد دیکھ کر بغیر کسی مقابلے کے دشمن کے سامنے سر جھکائے ہوں۔ جنگ کے سارے تیکنیک آپ نے استعمال کیےاور منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھے۔ آپ  اورآپ کے اصحاب کی شجاعت  اور فداکاری دیکھ کر دشمن کے حوصلے پست ہوگئے۔ یہی وجہ ہے کہ آخری وقت تک کسی بزدل کی جرات نہیں تھی کہ آپ کے نزدیک آئے، حالانکہ آپ زخموں سے چور زمین پر نڈھال پڑے تھے۔ دشمن پتہ کرنا چاہتے تھے کہ آپ زندہ ہیں یا شہید ہوچکے؟ ایک لعین نے مشورہ دیا کہ آواز دو"خیموں پر حملہ ہوا" اگر حسین زندہ ہوا  تو ضرور اٹھیں گے۔ یہ سب دشمن کے خوف اور بزدلی کی نشانی ہے۔ جبکہ امام عالی مقام اور آپ کے باوفا اصحاب نے شجاعانہ لڑتے ہوئے، دشمن کو للکارتے ہوئے ، جان جان آفرین کے حوالے کی۔

          یہاں یہ بنیادی سوال اٹھتا ہے کہ اس جنگ کا نتیجہ کیا ہوا؟  کون ہارا کون جیتا؟

          بظاہر دیکھاجائے تو امام حسین کے لشکر کو شکست ہوئی چونکہ سارے مارے گئے۔ جو بچ گئے  تھے ان کو اسیر بنا لیا گیا۔ لاشوں کی بے حرمتی کی گئی۔ لیکن اس جنگ کے نتیجے کو ایک اور زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے، اور وہ زاویہ جنگ کے اہداف اور مقاصد کے حوالے سے ہے۔ یزیدی فوج کا مقصد امام عالی مقام سے بیعت لینا تھا جس میں وہ بری طرح ناکام ہوئی۔ امام نے عزت کو موت کو ذلت کی زندگی پر ترجیح دی۔ یزید کا مقصد اس واقعہ کو کربلا کی اس ریگزار میں دفن کرنا تھا لیکن ثانی زہراء اور امام چہارم کے خطبوں نے دشمن کے تمام عزائم خاک میں ملا دئیے۔  دشمن کی تمام پالیسیاں ناکام ہوگئیں اور بظاہر جیتنے کے باوجود ذلیل اور رسوا ہوگئے۔ امام عالی مقام نے نیزے پر بھی قرآن پڑھ کر، ثانی زہرا نے علی علیہ السلام کے لہجے میں خبطے ارشاد فرما کر، امام زین العابدین علیہ السلام نے یزید کے دربار میں دشمن کو ذلیل اور رسوا کر کے اپنی جیت اور فتح کا اعلان کیا۔



حوالے وحواشی:

[1] ۔ اگرچہ کربلا کے واقعہ کےحقیقی  علل و اسباب تقریبا ۵۰ سال پر محیط ہیں چونکہ کربلا کا آغاز سقیفہ ہے۔سقیفہ میں آکر اسلامِ ناب کے مقابلے میں جعلی اسلام کا تعارف کرایا گیا جس میں سیاست کو دین سے الگ کیا گیا۔ اگر سقیفہ کی پیداوار معاویہ جیسے دشمن ِاسلام کو شام پر مسلط نہ کرتے تو شاید اس سانحہ کے مقدمات ہی فراہم نہ ہوتے۔

[2] ۔ ابو مخنف کی روایت کے مطابق آپ کے لشکر میں ۳۲ گھڑ سوار اور ۴۰ پیدل تھے اس طرح مجموعی تعداد ۷۲ بنتی ہے۔ شیخ مفید نے بھی شہداء کے سروں کی تعداد ۷۲ لکھی ہے۔ اسی طرح سے زیارت ناحیہ میں، جو سید بن طاووس نے اپنی کتاب اقبال میں نقل کی ہے، ۷۲ شہداء کے نام ذکر ہوئے ہیں۔  [دیکھیے: مقتل ابی مخنف، ص 113، اور "بررسی تاریخ عاشوراء ، دکتور ابراہیم آیتی، ص 107۔]

[3] ۔ "كم من فئة قليلة غلبت فئة كثيرة بإذن الله۔" سورہ بقرہ، آیت 249۔

[4] . "إني لا أعلم أصحابا أولى ولا خيرا من أصحابي، ولا أهل بيت أبر ولا أوصل من أهل بيتي..." مقتل ابی مخنف، ص ۱۰۷, ارشاد، شیخ مفید، ج ۲، ص 91۔

[5] ۔"ألا وإني قد أذنت لكم فانطلقوا جميعا في حل ليس عليكم مني ذمام ، هذا الليل قد غشيكم فاتخذوه جملا" يا بني عقيل ، حسبكم من القتل بمسلم ، فاذهبوا أنتم فقد أذنت لكم"۔ دیکھیے: مقتل ابی مخنف، ص 107 تا 109، ارشاد، شیخ مفید، ج 2، ص 91، 92۔

[6] ۔ دیکھیے: مقتل ابی مخنف، ص 82۔

[7] ۔ دیکھیے: مقتل ابی مخنف ، ص 81۔

[8] ۔ "وجعلوا البيوت في ظهورهم ، وامر بحطب وقصب كان من وراء البيوت تحرق بالنار مخافة ان يأتوهم من ورائهم" مقتل ابی مخنف، ص 113، ارشاد، شیخ مفید، ج ۲، ص 95۔

[9] ۔ دیکھیے : مقتل ابی مخنف، ص ۱۱۶۔

[10] ۔ "فقال الحسين عليه السلام : فاطلب لهؤلاء الأطفال قليلا من الماء" دیکھیے: بحار الانوار، ج 45، ص 41۔

[11] ۔ دیکھیے۔ انٹرویو : محقق تاریخ رجبی دوانی۔  www.fardanews.com/fa/news/206825

[12] ۔ "فبكى الحسين عليه السلام بكاء شديدا ثم قال : يا أخي أنت صاحب لوائي وإذا مضيت تفرق عسكري" بحار الانوار، ج ۴۵، ص ۴۱۔

[13] ۔ "لعنك الله ولعن أمانك ، أتؤمننا وابن رسول الله لا أمان له ؟" دیکھیے: مقتل ابی مخنف، ص 104، ارشاد، شیخ مفید، ج ۲، ص ۸۹۔ بعض روایات کے مطابق دشمن کی طرف سے کئی بار کوشش کی گئی کہ کسی طرح سے حضرت عباس اور ان کے بھائی امان نامہ قبول کر لیں۔ اس مقصد کے لیے پہلے بھی کوششیں کی گئیں۔ بطور مثال عبد اللہ ابن ابی محل ،جو حضرت عباس علمدار وغیر کے ماموں زاد تھے ، کی طرف سے اپنے غلام عبد اللہ کے ہاتھوں بھی امان نامہ بھیجا گیا۔ جس کے جواب میں حضرت عباس نے کہا: "أمان الله خير من أمان ابن سمية." ملاحظہ ہو: مقتل ابی مخنف، ص 103، 104،  بررسی تاریخ عاشورء، ابرہیم آیتی، ص  124۔


ٹیگس: کربلا
+ لکھاری عباس حسینی در 15 Sep 2018 و ساعت 3:3 PM |

حسین علیہ السلام کا سچا حبیب

تحریر: سید عباس حسینی

(مجلہ سفیر روحانیت زیر اہتمام جامعہ روحانیت بلتستان شمارہ ۴، ۲۰۱۷، ص ۴۱ - ۴۳ و ص ۵۴ پر چھپا مضمون)

اس نے غلام کو حکم دیا:"فورا سے پہلے گھوڑا آمادہ کرو۔" اسے اس کے مولا وآقا نے بلایا تھا۔ابھی کچھ دیر پہلے کی بات ہے جب حبیب اپنی زوجہ کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا ۔ زوجہ کے منہ میں لقمہ اٹک گیا۔ مومنہ بول اٹھی: لگتا ہے کسی کریم ابن کریم کا خط آرہا ہے۔ اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی۔پوچھا کہ کون ہے؟ کہا: میں حسینؑ  کا قاصد ہوں۔ حسین ؑ کا نام سننا تھا حبیب کی جبینِ عقیدت احترام میں خم ہوئی۔ ادب سے خط پکڑا اور پڑھنا شروع کیا۔ زوجہ نے پوچھا: کیا لکھا ہے؟بتایا کہ مدد کے لیے بلایا ہے۔

حسین ابن علی ؑنے حبیب کے نام  جودو سطروں کا  خط لکھا تھا اس میں صرف اتنا لکھاہوا  تھا: "مـن الـحـسین بن علی بن أبی طالب الى الرجل الفقیه حبیب بن مظاهر اما بعد: یاحبیب، فانت تـعـلـم قـرابتنا من رسول اللّه صلی الله علیه و آله و انت اعرف بنا من غیرك، و انت ذوشیمة و غیرة فلا تبخل علینا بنفسك، یجازیك رسول اللّه صلی الله علیه و آله یوم القیامة"۔  حسین ابن علی ؑ کی طرف سے مردِ فقیہ حبیب بن مظاہر کے نام۔ اما بعد! اے حبیب۔ رسول خدا ﷺ سے ہماری کیا رشتہ داری ہے تم جانتے ہو۔ باقی سب سے زیادہ تم ہماری معرفت رکھتے ہو۔  اور تم ایک اچھے اخلاق کے مالک اور غیرت مند انسان ہو۔ پس ہماری خاطر اپنی جان لٹانے سے دریغ مت کرنا۔ قیامت کے دن رسول خدا ﷺتمہیں اس کا اجر دیں گے۔

اس نے غلام کو حکم دیا کہ "فورا سے پہلے گھوڑا آمادہ کرو اور شہر سے باہر نخلستان کے ساتھ منتظر رہو۔" حبیب اہل وعیال سے خدا حافظی کر کے جب وہاں پہنچے تو دیکھتے ہیں کہ غلام گھوڑے سے مخاطب ہے: "اگر میرا مولا نہ آئے تو تم فکر مت  کرنا، میں خود تجھ پر سوار امام کی مدد کے لیے جاؤں گا۔ تم مجھے ہوا کی رفتارسے  کربلا پہنچانا۔ اےتلوار تم بجلی کی مانند فرزند فاطمہ ؑکے دشمنوں پر برسنا۔" حبیب غلام کی بات سن کر رو  کر کہنے لگے: میرے ماں باپ آپ پر فداہو ں اے ابا عبد اللہ۔ غلام تجھ پر فدا ہونے کو تیار ہیں۔ ہم آزادآپ پر کیوں کر فدا  نا ہوں؟ غلام سے کہا: تم راہ خدا میں آزاد ہو۔ غلام نے قدموں میں پڑ کر کہا: میرے آقا حبیب!کیا آپ چاہتے ہیں خود جنت چلے جائیں اورہم راہی جہنم ہوں؟ میں بھی آپ  کے ساتھ حسینؑ  کی نصرت  کے لیے جانا چاہتا ہوں۔ دونوں ساتھ کربلا کی طرف گامزن ہوئے۔

اس کے سید و سردار نےاسے  آواز دی تھی، لیکن بتایا نہیں تھا مشکل کیا ہے۔  لیکن حبیب،حسین ؑکے بچپن کا ساتھی تھا۔ فورا سمجھ گیاحسینؑ کسی سخت مشکل میں ہیں۔  اور یہ حبیب اور کوفے کے دوسرے سردار ہی تھے جنہوں نے خط لکھ کر حسینؑ  کو کوفہ بلایا. اور جب حسینؑ نے اپنا قاصد بنا کر مسلم بن عقیل کو کوفہ بھیجا تھا حبیب نے مسلم کا بھرپور ساتھ دیاتھا۔ لوگوں سے مسلم کے لیے بیعت لی تھی ۔ [1]

           حبیب کی خواہش تھی وہ ہوا کے دوش پر اڑ کر جلدی سے اپنے آقا کے محضر میں حاضر ہوں۔راستے بھر میں حبیب سوچ رہا تھا میرے مولا پر کونسا ایسا کٹھن وقت آیا ہے کہ ہم غلاموں کو آواز دی ہے؟ یہ سوچ اس کو اندر سے کھائے جا رہی تھی۔ اس کی خواہش تھی کسی طرح کوفہ اور کربلا کا فاصلہ یکدم ختم ہوجائے۔  لیکن یہ کیا آگے سے دشمن نے کوفہ کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔ انسان تو کیا کوفہ سے نکلنے والے ہر ذی روح پر دشمن کی نظر تھی۔ وہ کسی قسم کی امداد کربلا میں حسین ابن علی ؑکے قافلے تک نہیں پہنچنے دے رہےتھے۔لیکن حبیب اس حصار کو توڑ کر کربلا کے لیے نکلنے میں کامیاب رہے۔

کربلا کا یہ عجیب مرحلہ ہے  جہاں ایک طرف حسین ؑاپنے ساتھیوں کو واپس جانے کی اجازت دے رہے ہیں۔ چراغ گل کر کے کہہ رہے ہیں جاؤ۔ جو جانا چاہتا ہے چلے جاؤ ، میری طرف سے کوئی شکایت نہیں۔ میرے اہل بیت کے ایک ایک فرد کا ہاتھ پکڑ کر انہیں بھی ساتھ لے جاؤ۔ یہاں تک کہ جانے والوں کو جنت کی بھی ضمانت بھی دے رہے ہیں۔ لیکن دوسری طرف کچھ لوگوں کو خصوصی طور پر خط لکھ کر حسین بلا رہے ہیں۔ یقینا یہ خاص الخاص اصحاب ہیں جن کی یاد اس مشکل اور کھٹن مرحلے میں حسینؑ کو آرہی ہے۔  حبیب پر حسینؑ  کی خاص نظر ِکرم ہے۔ آپ کے لشکر کے بارہ علم تھے جن میں سے گیارہ پرچم تقسیم کر دئیےگئے۔ ایک پرچم جو رہ گیا تھا ہر ایک کی خواہش تھی وہ علم اسے حاصل ہو۔ لیکن حسین ؑنے فرمایا: میں یہ علم اس کودوں گا جو اسے دشمن کے سینے میں جا کر گاڑھے گا۔ پوچھا گیا مولا وہ شخص کون ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ میرا فخر، طہارت کا عنصر حبیب بن مظاہر ہے، جو بہت جلد میری مدد کو پہنچےگا۔[2]

حبیب مولا امام حسینؑ کے ہی نہیں، مولائے متقیان ؑاور امام حسن مجتبی ؑکے بھی با وفا ساتھی تھے۔حبیب کو پانچ اماموں کی معیت کا شرف حاصل ہے۔ ہر جنگ میں مولا امیر کا ساتھ دیا تھا، اور نتیجےمیں مولا نے کچھ خاص علم تحفے میں حبیب کو دئیے تھے جن میں سے ایک "علم البلایا و المنایا"  بھی تھا جس کے ذریعے مستقبل کے امور دیکھ سکتے تھے۔ کہتے ہیں ایک دن میثم تمار گھوڑے پر سوار گزر رہے تھے، حبیب نے جب میثم کو دیکھا تو دونوں آپس میں باتیں کرنے لگے۔ حبیب نے کہا: جیسے میں ایک بوڑھے شخص کو دیکھ رہا ہوں جس کے سر کے آگے سے بال نہیں ہیں، پیٹ نکلاہوا ہے۔ "دار رزق" کے سامنے وہ خربوزہ بیچتا ہے۔ اسے محبت اہل بیت کے جرم میں تختہ دار پر لٹکایا جائے گا اور اس کا پیٹ پھاڑا جائے گا۔ حبیب کی مراد اس شخص سے میثم تمار تھے۔ میثم نے بھی فورا کہا: میں بھی ایک شخص کو جانتا ہوں جس کا چہرہ سرخ ہے، پیامبر اکرم کے فرزند کی مدد کے لیے وہ نکلے گااور مارا جائے گا اور پھر اس کے سر کو کوفہ کی گلیوں میں پھرایا جائے گا۔ میثم کی مراد حبیب تھے۔ [3]

یہ وہی حبیب ہیں جو کوفہ میں معلم قرآن تھے۔حافظ قرآن تھے اور  بچوں کو قرآن مجید کی تعلیم دیتے تھے۔ قرآن سے حبیب کو خاص انس اور محبت تھی۔ ہر شب قرآن خوانی میں مشغول رہتے۔ہر رات ایک قرآن ختم کرنا ان کا معمول تھا۔  شاید یہ سب کربلا کی تیاری ہی تھی۔ ایک طرف ثانی زہراء حضرت زینب علیا مقام ؑ کوفے کی خواتین کو قرآن کا درس دیتی تھیں تو دوسری طرف حبیب بچوں کو قرآن سکھاتے تھے۔ کل کو جب حبیب اور دوسرے اصحاب کے سر نیزوں پر اٹھا کر کوفہ لائے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ یہ باغیوں کے سر ہیں تو کوفہ کے بچے چیخ اٹھیں گے: "نہیں، یہ باغی نہیں ہو سکتے، یہ تو ہمیں قرآن سکھایا کرتے تھے۔" اور جب خواتین کو اسیر کر کے قافلے کی شکل میں کوفہ لایا جائے گا اور اعلان کیا جائے گا کہ باغیوں کا قافلہ ہے اس وقت کوفے کی خواتین بول اٹھیں گی:"نہیں ، یہ باغی نہیں ہو سکتیں۔ یہ تو ہمیں قرآن کا درس دیا کرتی تھیں۔"

حبیب گھوڑا دوڑاتے ہوئے کربلا کی طرف گامزن تھے۔ ادھر حسینؑ خیمے میں حبیب کے منتظر ہیں۔ ۶ محرم کا دن ہے۔ خیمے کے باہر موجود لوگ دور سے ایک سایہ دیکھتےہیں جو اس طرف بڑھتا چلا آرہا ہے۔ جوں جوں سایہ نزدیک آتا گیا سوار کے چہرے کا خدودخال واضح ہوتا گیا۔ چہ مگوئیاں شروع ہوئیں۔ یہ صدا ثانی زہرا ؑکے کانوں تک جا پہنچی۔ پوچھنے پر بتایا: دختر علؑی، حبیب ہماری مدد کو آیا ہے۔ زینب کبری ؑنے کہا: اس کے استقبال کے لیے جائیے اور میرا سلام حبیب تک پہنچائیے۔حبیب کا دل تڑپ رہا ہے کہ شاید کربلا پہنچنے میں دیر کر دی ہے۔ کسی نے زینب ؑکا سلام حبیب تک پہنچایا۔ حبیب نے اپنا چہرا پیٹا اور  ایک مشت خاک سر پر ڈال کر کہنے لگے: تف ہو مجھ پر ۔ یہ کیسا وقت آگیا ہے کہ بتول زادیاں  ہم غلاموں کو سلام بھیجیں۔[4]

حبیب کی شجاعت بھی قابل دید ہے۔ جب ہر طرف سے یزیدی فوج کے قافلے پر قافلے آتے جا رہے تھے حبیب مولا کے سامنے جا کر دست بستہ عرض کرتے ہیں مولا یہاں قریب میں ہی بنی اسد کا محلہ ہے۔ اجازت دیں میں جا کر ان کو آپ کی نصرت کے لیے بلاتا ہوں۔ مولا نے اجازت مرحمت کی۔ حبیب رات کی تاریکی اوڑ کر بنی اسد کے ہاں جا پہنچا اور لوگوں سے خوبصورت پیرائے میں کہا:"میں تمہارے پاس نہایت اچھی خبر لے کر آیا ہوں۔ تمہارے نبی ﷺکے فرزند کی نصرت کے لیے تمہیں بلاتا ہوں۔ عمر بن سعد نے ان کو گھیر لیا ہے۔ تم لوگ میرے قبیلے کے لوگ ہو۔ میں یہ نصیحت لے کر آیا ہوں۔ اگر میری بات مانو گے تو دنیا اور آخرت کا شرف پاوگے۔ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تم میں سے جو بھی اس راستے میں مارا جائے گا وہ علیین میں حضرت محمدﷺ کے جوار میں ہوگا۔ "[5] حبیب کی متاثر کن خطابت سن کر عبد اللہ بن بشر نے فورا نصرت کی حامی بھری۔ پھر ایک ایک کرکے لوگ آملے اور تعداد نوے تک جا پہنچی۔ حبیب یہ چھوٹا سا قافلہ لے کر حسینؑ کی طرف چلنے لگے۔ لیکن عمر بن سعد کو خبر ہوگئی تھی۔ چار سو کا لشکر بھیج کر عمر بن سعد نے اس قافلے کو روکا۔ آپس میں گھمسان کی جنگ ہوئی ۔ لیکن بنی اسد کے لوگ حسین ابن علی ؑکے خیموں تک نہ پہنچ سکے۔ حبیب بن مظاہر اکیلے شرمندہ حسینؑ کے پاس واپس آگئے۔ خبر سن کر مولا نے صرف اتنا کہا: لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔

اور حبیب کی معرفت ملاحظہ کیجیے۔ شب عاشور حبیب کو یزید بن حصین نے دیکھا کہ آپ ہنستے ہوئے خیمے سے نکل رہے تھے۔ کہا کہ حبیب! یہ کیا ہنسنے کا وقت ہے؟ حبیب نے جواب دیا: خوشی کا اس سے بہتر موقع اور کونسا ہوگا؟ خدا کی قسم بس کچھ ہی لمحے رہ گئے ہیں جب یہ ظالم لوگ اپنی تلواروں کے ساتھ ہم پر پل پڑیں گے اور ہم جا کے حور العین سے گلے لگائیں گے۔ [6]

حبیب کو لشکر کے  میسرہ کا امیر بنایا گیا تھا۔روز عاشور حبیب کی روح بے تاب ہے۔ سینے میں تنگی سی محسوس ہو رہی ہے۔ روح جسم پر بوجھل ہے۔  جتنا جلدی ممکن ہو فرزند زہراء ؑپر اپنی جان لٹانا چاہتے ہیں۔ صبح سے اب تک کئی بار حبیب دشمن پر حملہ آور ہو چکا ہے۔ لیکن ابھی تک اذن ِشہادت نہیں ملا۔ حسین ؑکے لیے بھی عزیز دوست کی جدائی انتہائی سخت ہے۔ اتنے میں دوپہر کی نماز کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ ابوثمامہ صائدی نماز کی یاددلاتے ہیں تو حسینؑ ، حبیب کو بھیجتے ہیں کہ نماز کی مہلت لی جائے۔ حصین بن نمیر ملعون گستاخی کرتا ہے: حسینؑ سے کہو جتنی چاہے نماز پڑھ لو، ان کی نماز درگاہ خداوندی میں قبول نہیں۔" یہ سن کر حبیب کا چہرہ غصے سے لال ہوجاتا ہے۔ شمشیر نکال کر اس کی زبان کاٹنا چاہتے ہیں۔ درگیر ہوجاتے ہیں۔حصین کی مدد کے لیے اس کے ساتھی آجاتے ہیں اوربھیڑیوں کی بھیڑ میں حسین ؑکا شیر گر جاتا ہے۔ ابھی حبیب کے بدن میں کچھ رمق باقی ہی تھی کہ دشمن پیکر مبارک سے سر کو جدا کر لیتے ہیں۔ حسینؑ تیر کی مانند حبیب کی طرف دوڑتے ہیں۔ حبیب کے بے سر لاشے پر بیٹھ کر حسؑین  نوحہ فریاد کرتے ہیں: "للهِ دَرُّکَ يا حَبِيب لَقَدْ کُنْتَ فاضِلاً تَخْتِمُ الْقُرآنَ فِي لَيلَةِ واحِدَة" . اے حبیب! تو کتنا خوش قسمت ہے۔ تم واقعی بافضیلت ہو جو ایک رات میں قرآن ختم کیا کرتا تھا۔ [7]  اور پھرشکستہ دل کے ساتھ نوحہ پڑھتے ہیں: "عِنْدَاللهِ أحْتَسِبُ نَفْسِي وَحُماةَ أَصْحابِي" میں اپنی  اور اپنے اصحاب کی شہادت کا حساب خدا پر چھوڑتا ہوں۔[8]

کربلا میں حبیب کی قبر آج بھی اس بات  پر گواہ ہے کہ وہ باب الحسین  ؑہیں۔ حسینؑ تک پہنچنا ہے تو حبیب سے ہو کر گزرنا پڑے گا۔  سب شہداء سے الگ حبیب کی قبر اس کےخاص  مقام ا ورالگ منزلت کی گواہ ہے۔ حسینؑ   کا دربان بن کر حبیب ہر آنے والے زائر کو قبیلہ بنی اسد کی طرف سے خوش آمدید کہتےہیں اور ہر جانے والے زائر کو الوداع کرتےہیں۔


حوالہ جات:

 

[1] ۔ دیکھیے: مجید مسعودی، سہ رفیق (حبیب بن مظاہر، میثم تمار، رشید ہجری)، انتشارات دلیل ما، چاپ 4، ص 30۔

[2] ۔ دیکھیے: حیاۃ حبیب بن مظاہر، نشر حرم امام حسین، چاپ اول، 1432 ہجری، ص 83.

[3] ۔دیکھیے: شیخ عباس قمی، سفینۃ البحار، ج 2، ص 26، چاپ اسوہ قم، ط ۱، 1414ہجری۔

[4] ۔ دیکھیے: مجید مسعودی، سہ رفیق، ص 43۔اور حیاۃ حبیب بن مظاہر، ص 103۔

[5] ۔ کشی، محمد بن عمر، رجال کشی، ج 1، ص 292،  موسسہ آل بیت قم، 1404 ہجری، اور علامہ مجلسی، بحار الانور، ج 44، ص 387، چاپ دار احیاء التراث العربی بیروت، 1403 ہجری۔

[6] ۔ شیخ عباس قمی، سفینۃ البحار، ص 27۔

[7] ۔ دیکھیے: مجید مسعودی، سہ رفیق، ص 62 سے 67۔

[8]. حیاۃ حبیب بن مظاہر، ص 163۔


ٹیگس: حبیب بن مظاهر, کربلا
+ لکھاری عباس حسینی در 13 Sep 2018 و ساعت 2:54 PM |

امام تقی علیہ السلام اور چھوٹی عمر کی امامت

تحریر: سید عباس حسینی

 

امامت ایک بہت بڑا منصب ہے۔ دین اور دنیا کے امور کے زمام سنبھالنے کا نام ہے۔ امام معاشرے کا پیشوا ہوتا ہے۔ امام،  ہادی اور رہبر ہوتا ہے جس کے پیچھے سارے معاشرے کو چلنا ہوتا ہے۔ اندرونی مسائل ہوں یا بیرونی مشاکل سب کو حل کرنے کی ذمہ داری امام کے کاندھے پر ہوتی ہے۔ امامت کی ان تمام تر سنگین ذمہ داریوں کو دیکھتے ہوئے یہ سوال پیش آتا ہے کہ ایک چھوٹا سا بچہ کہ جس کی عمر پانچ یا آٹھ سال ہو وہ کیسے اتنی بڑی ذمہ داری سنبھال سکتا ہے؟ اس بات کی کیا توجیہ ہےکہ شیعوں کے ہاں پانچ اور آٹھ سال کےبچے امام بنتے رہے ہیں۔

یہ بات درست ہے کہ امام محمد تقی علیہ السلام جب منصب امامت پر فائز ہوئے اس وقت آپ کی عمر ۷ سال تھی۔ اسی طرح  منصب امامت سنبھالتے وقت امام علی نقی علیہ السلام کی عمر 9 سال، امام عسکری  علیہ السلام کی عمر 22 سال اور حضرت امام زمان علیہ السلام کی عمر صرف 5 سال تھی۔

ایک تو وہی جواب ہے  جو خود امام جواد علیہ السلام نے اپنی امامت کے حوالے اشکال کرنے والوں کو دیا تھا کہ یہ منصب الہی ہے خدا جس کو چاہے جس وقت دے  دیتا ہے۔ کسی کو بچپن میں دیتا ہے تو کسی کو چالیس سال کی عمر میں۔ حضرت عیسی ابھی ماں کی گود میں تھا کہ اعلان ہوا:"إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا" . قرآن نے حضرت یحی کے بارے میں کہا: "يَا يَحْيَى خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّة وآتَيْناهُ الْحُكْمَ صَبِيَّاً" اور یہ تو فخر عیسی اور فخر یحی ہیں۔ ان کی امامت کے بارے میں شک کیوں؟ امام در حقیقت علم لدنی کا مالک ہوتا ہے۔ امام کسی کے پاس جا کر علم نہیں سیکھتا۔ امامت منصب الہی ہے۔ لیاقت دیکھ کر خدا کا عطا کردہ تحفہ ہے۔ لہذا اس حوالے سے چھوٹی عمر اوربڑی عمر کا کوئی فرق نہیں۔ خداوند متعال اپنی بے پناہ قدرت کے ساتھ چھوٹے سے بچے کی عقل کو کامل بنا سکتا ہے۔ جس طرح چاہے کسی کو رشد دے سکتا ہے۔

لہذا تاریخی حوالے سے بھی دیکھیں تو سارا زمانہ ان کے علمی کمالات اور رشدِ عقلی کے معترف نظر آتے ہیں. یحی بن اکثم کا واقعہ ملاحظہ کیجیے کہ جو ریاست کا مفتی اعظم تھا لیکن امام تقی علیہ السلام کی علمی قدرت کے سامنے ہار ماننے پر مجبور ہوگیا اور مامون عباسی  کو بھی کہنا پڑا: "وأن صغر السن فيهم لا يمنعهم من الكمال" کہ چھوٹی عمر اس خاندان میں کمالات کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے۔  اسی طرح  تاریخ کہتی ہے کہ امام تقی علیہ السلام  کے بعض اصحاب آپ سے سوالات کرتے گئے اور چند دنوں کے اندر آپ نے  تیس ہزار سوالوں کے جواب دے دئیے جبکہ اس وقت آپ کی عمر صرف 9 سال تھی۔

سید محمد باقر صدر علیہ الرحمہ نے  استقراء کے حوالے سے اپنے جدید نظریے (جو حساب احتمالات پر قائم ہے)  کے مطابق اس مسئلے کو عقلی بنیادوں پر حل کیا ہے ۔

سید صدر کے مطابق اتنی کم عمری میں امام جواد علیہ السلام کا  منصب امامت سنبھالنا شیعیت کی حقانیت کی سب سےبڑی دلیل ہے۔  حالانکہ اس وقت شیعہ طائفہ میں بڑے بزرگان اور امام رضا  علیہ السلام کے اصحاب بھی تھے لیکن سب امام جواد علیہ السلام کی امامت پر متفق تھے۔ یقینا اس بچے میں کچھ ایسا دیکھا ہوگا جو اس کی امامت کے معترف ہوگئے۔

یہاں پر چند احتمالات ہیں۔

۱۔ لوگوں کو پتہ نہیں چلا کہ امام جواد علیہ السلام ابھی چھوٹے اور کم عمر ہیں۔ یہ احتمال ممکن نہیں چونکہ شیعہ اپنے اماموں کو لوگوں سے چھپا کر نہیں رکھتے تھے، بلکہ لوگوں کا امام سے براہ راست رابطہ ہوتا تھا۔

۲۔ اس وقت کے لوگ اتنے سادہ تھے کہ چھوٹے سے بچے کی امامت قبول  کر لی۔ یہ بات بھی ممکن نہیں چونکہ ان میں بڑے بڑے اصحاب بھی تھے جو مکتب امام صادق علیہ السلام کے پروردہ تھے۔ جو علمی اور فقہی اعتبار سے بڑے مراتب پر فائز تھے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک چھوٹے بچے نے اتنے بڑے اصحاب کو اپنی "جھوٹی" امامت پر قائل کیا ہو؟جبکہ اس وقت شیعیت مدینے سے کوفہ اور قم تک پھیلی ہوئی تھی۔

۳۔ امامت کا مفہوم لوگوں کو واضح نہیں تھا۔ لوگ شاید امامت کو بادشاہت کی طرح نسل در نسل وراثت سمجھتے تھے۔ اس کی شروط اور تفصیلات سے آگاہ نہیں تھے۔تاریخی حوالے سے یہ بات بھی درست نہیں چونکہ تقریبا دو صدیوں سے شیعوں کے درمیان امامت کا سلسلہ چل رہا تھا اور اس کے مفہوم، شرائط اور صفات سے بخوبی آگاہ تھے۔

۴۔ چوتھا احتمال یہ ہے کہ سارے شیعوں نے جھوٹ اور باطل پر اتفاق کر لیا ہو۔ یہ بھی عقلی طور پر اور تاریخی بنیادوں پر ممکن نہیں. شیعوں میں بڑے متقی ، پرہیزگار اور باوفا اصحاب ائمہ بھی تھے۔ ان سب کا جھوٹ پر اتفاق کیسے ممکن ہے؟تاریخ گواہ ہے کہ شیعوں نے اذیتیں اور صعوبتیں  برداشت کی ہیں لیکن اپنے عقیدے سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے۔

پس یہ سارے احتمالات جب ختم ہوں تو صرف یہی احتمال بچتا ہے کہ آپ امام معصوم تھے جس میں معاشرے کو چلانے کی تمام تر صلاحیتیں خداداد موجود تھیں۔ لہذا اس وقت کے بڑے بڑے اصحاب بھی حکم خدا کے تحت آپ کی اتباع کرتے تھے۔ اگر خدا نخواستہ اس بچے میں کسی قسم کی کمی ہوتی تو مخالفین زمین آسمان ایک کر دیتے کہ یہ دیکھو شیعوں کے امام میں یہ کمی ہے۔ وہ زمانہ علمی ترقی اور عروج کا زمانہ تھا۔ یونانی فلسفہ تک کا ترجمہ ہو چکا تھا۔ لیکن ان سب کے باوجود اپنے تو اپنے ، مخالفین کو بھی اس امام کی تعریفوں کے پل باندھتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جتنی بار بھی امام سے سوال پوچھنے کی، امام کو  شرمندہ کرنے کی یا لا جواب کرنے کی کوشش کی گئی خود سوال کرنے والا ، لا جواب ہوگیا۔ یہ سب آپ کی حقانیت کی دلیل ہے۔

تاریخی حوالے سے یہ بات عجیب ہے کہ مختلف اماموں کے بعد اگلے امام کے حوالے سے کچھ اختلافات سامنے آتے گئے۔ کچھ نئے فرقے بھی وجود میں آگئے۔ مثلا امام زین العابدین کے بعد زیدیہ فرقہ، امام صادق علیہ السلام کے بعد اسماعیلیہ اور فطحیہ فرقہ اور واقفیہ فرقہ کہ جس نے امام کاظم علیہ السلام کی شہادت کے بعد توقف کیا۔  لیکن امام جواد کی چھوٹی عمر کے باوجود شیعہ طائفہ نے بالاجماع آپ کی امامت کو قبول کیا۔ کسی  بھی حوالے سے کسی نے کوئی شک یا توقف نہیں کیا۔ کوئی نیا فرقہ وجود میں نہیں آیا۔ یہ خود آپ کی حقانیت اور علمی وعملی کمالات کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

 

+ لکھاری عباس حسینی در 22 Aug 2017 و ساعت 5:50 PM |

ائمہ علیھم السلام  کو "قطب" کیوں کہا جاتا ہے؟

 

سید عباس حسینی

 

قطب لغت میں چکی کے اس  مرکزی حصے(کیلی) کو کہا جاتا ہے جو نچلی طرف  اور ثابت ہوتاہے، اور اسی کےمحور میں   اوپر والا پاٹ گھوم رہا ہوتا ہے۔

قطب کے قاعدے کے تحت، اس کائنات کا نظام ایک مرکز کے گرد گھوم رہا ہے۔ اس کائنات کا ظہور، اسی مرکز سے ہوا ہے۔حدیث لولاک کے مطابق وہ مرکز اور قطب ، حقیقت محمدی  ﷺہے۔ اس مرکزیت اور قطب کو ائمہ اطہار نے بیان کیا ہےاور اس کی حقیقت کے بارے میں بات کی ہے۔ مثلا حضرت امیر علیہ السلام کے بیانات کے مطابق:

  • جب حضرت امیر علیہ السلام نے مدینے سے بصرہ کی طرف سفر کا آغاز کیا، اہل کوفہ کو خط لکھا جس میں اپنے آپ کو قطب کے طور پر معرفی کرتے ہوئے فرمایا: "و قامت الفتنه علی القطب فاسرعوا الی امیرکم"۔ تمہارے قطب کے خلاف سازش ہوئی ہے، اپنے امیر کی طرف جلدی چلے آو۔
  • خطبہ شقشقیہ میں حضرت نے قطب کے بارے میں فرمایا: "انه لیعلم ان محلی فیها محل القطب من الرحی"۔ اور وہ جانتا ہے خلافت کے حوالے سے میری منزلت وہی ہے جو چکی کے اندر اس کی کیلی کی ہے۔
  • قطب کی حقیقت، اہمیت اور اس کے اسرار کے حوالے سے حضرت کا بیان ہے کہ اس کائنات کے نظام کا محور قطب ہی ہے۔ اس کے بغیر نظام مختل اور مضطرب ہو جائے گا۔" و انما انا قطب الرحی تدور علی و انا بمکانی ، فاذا فارقته ، استحار مدارها و اضطرب ثقالها"۔ اور میرا مقام اس (کائنات کی چکی میں)اس کی    کیلی کی مانند ہے، چکی میرےگرد گھومتی ہے جبکہ میں اس نظام میں ایسی جگہ کھڑا ہوں کہ اگر اس جگہ کو چھوڑ دوں تو اس کی گردش کا دائرہ متزلزل ہوجائے گا ۔

یہ بیانات اسی معنی کی طرف اشارہ ہے جو بعض روایات میں یوں بیان ہوا ہے۔"و لولا الحجه لساخت الارض"۔ اگر حجت خدا نہ ہو تو زمین دھنس جائےگی۔

  • ایک اور طولانی حدیث میں حضرت امیر علیہ السلام، پیامبر اکرمﷺاور عترت پاک کے حوالےسے  مختلف صفات کے بیان میں فرماتے ہیں:" هم راس دایره الایمان و قطب الوجود و سماء الجود"۔ یہ ہستیاں ایمان کے دائرے کاآغاز، وجود کا مرکز، اور جود و سخاوت کی بلندی ہیں۔

 

  • (دیکھیے: سیمای اہل بیت علیھم السلام در عرفان اسلامی)
+ لکھاری عباس حسینی در 6 Aug 2017 و ساعت 4:43 PM |

جناب ام البنین ؑ، اک مثالی خاتون

(An Introduction of Hazrat Umm ul Baneen as)

سید عباس حسینی

 

حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی حیات میں مولائے متقیان ؑ نے دوسری شادی نہیں کی، جس طرح سے حضرت خدیجہؑ کی زندگی میں رسول اکرم ﷺ نے کوئی دوسری شادی نہیں کی تھی۔ بی بی کی شہادت کے بعد مولائے متقیان ؑ نے اپنے بھائی عقیل کو بلا کر کہا: میرے لیے عرب کے کسی شجاع خاندان سے ایک خاتون کا رشتہ چاہیے تاکہ اس کے بطن سے ایک دلاور بیٹا اس دنیا میں آئے جو میری شجاعت کا وارث ہو۔ (أنظر لي امرأة قد ولدتها الفحولة من العرب لأتزوجها فتلد لي غلاماً فارساً

اس زمانے میں عرب کے چار خاندان چار خصوصیات کے حوالے سے مشہور تھے: بنی ہاشم عزت وعظمت میں، بنی امیہ سیاسی تدبیروں میں، بنی کلاب شجاعت اور بہادری میں اور بنی ثقیف خوبصورتی اور جمال میں۔ جناب عقیل عرب کے بہادر ترین خاندان بنی کلاب سے جناب امیر ؑ کے لیےخاتون پسند کر لائے۔

نام ان کا بھی فاطمہ ہی تھا لیکن بعد میں زیادہ بیٹوں کی وجہ سے ام البنین کی کنیت کے ساتھ مشہور ہوئیں۔

جب بیاہ کر مولا کے دولت سرا میں لائی گئیں تو حسنین علیہما السلام ابھی بہت چھوٹے اور بیمار تھے۔ دلہن نے گھر آتے ہی سب سے پہلے حسنینؑ کی خبر لی اور ان کی تیمارداری کی۔ آپ نے عملی طور پر ان کی ماں کا کردار ادا کیا اور ان کی دلجوئی اورخدمت میں ہمیشہ مصروف رہیں۔ اپنے بیٹوں سے زیادہ سے حسنین ؑ کو توجہ اور وقت دیتی تھیں۔ خود کو فاطمہ کے نام سے پکارنے سے منع کیا گیا، کہیں حسنین ؑیہ نام سن کر اپنی ماں حضرت زہرا ؑ کی یاد میں نہ کھو جائیں اور کہیں یہ بات ان کے لیے غم اور آزار کا باعث نہ بنے۔

اس شادی کے نتیجے میں خدا نے تین اور بیٹوں کے علاوہ حضرت قمر بنی ہاشمؑ سے آپ کو نوازا۔ حضرت ام البنین نے اپنے بیٹوں کو منع کیا ہوا تھا کہ حسنین ؑ کو بھائی کہہ کر کبھی مت پکارنا۔ یہ زہراء اطہرؑ کے بطن سے ہیں اور تمہارے آقا ومولا اور سید وسردار ہیں۔ تم لوگ ان کی برابری نہیں کر سکتے۔ یہی تربیت تھی اور پاکیزہ دودھ کا اثر تھا کہ حضرت عباس عملدارؑ عمر کے آخری لحظے تک امام حسین علیہ السلام کو سیدی ومولای کہہ کر پکارتے رہے۔

واقعہ کربلا کے بعد جب بشیر امام زین العابدین ؑ کے حکم سے مدینے میں داخل ہوئے تاکہ لوگوں کو کربلا کے واقعے کے حوالے سے اور اسیران کے حوالے سے آگاہ کریں تب ان کی ملاقات جناب ام البنین سے ہوئی۔ سب سے پہلے امام حسینؑ کے بارے میں پوچھا۔ بشیر نے کہا: خدا تجھے صبر دے، تیرا عباسؑ مارا گیا۔ ام البنین نے کہا: حسینؑ کی خبر سناو۔ بشیر نے دوسرے فرزند کی شہادت کی خبر سنائی۔ اسی طرح تیسرے اور چوتھے فرزند کی شہادت کی بھی خبر سنائی لیکن ام البنین ہر بار امام حسین ؑ کے بارے میں ہی پوچھتی رہیں۔ جناب ام البنین نے کہا: میری ساری اولاد اور جو کچھ اس آسمان کے نیچے ہیں حسینؑ پر قربان ہو۔ اور پھر جب بشیر نے امام حسینؑ کی شہادت خبر دی تو ام البنین نے کہا: اے بشیر، میرے دل کو اس خبر نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ اور پھر فریاد شروع کی۔

کربلا کے واقعے کے تین سال بعد ۱۳ جمادی الثانی ۶۴ ہجری کو آپ کی وفات ہے۔ آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ آپ کے حوالے سے مشہور ہیں کہ اپنے بیٹے غازی عباس علمدارؑ کی طرح آپ بھی باب الحوائج ہیں۔

+ لکھاری عباس حسینی در 12 Mar 2017 و ساعت 11:11 PM |

انسان کا اولین ظہور۔۔ ابن مسکویہ کا نظریہ

علامہ اقبال کے قلم سے


انتخاب: سيد عباس حسينى

 


اقبال کے مطابق اس نظریے کو اس کی علمی حیثیت کی وجہ سے نہیں بلکہ صرف ا س لیے پیش کیا ہے کہ اس سے پتہ چلتاہے کہ مسلمانوں کی فکر اس دور میں بھی کتنی متحرک تھی۔
اقبال لکھتا ہے:
ابن مسکویہ(٩٣٢ ء سے ١٠٣٠ء) کا خیال ہے کہ ارتقاء کے سب سے نچلے درجے میں پودوں کو پیدا ہونے اور نشونما پانے کے لیے کسی بیج کی حاجت نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ نوع کو بیج کے ذریعے قائم رکھتے ہیں۔اس قسم کے پودے جمادات سے صرف اس لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں کہ ان میں کسی قدر حرکت کی قوت ہوتی ہے جو بلند درجہ نباتات میں اور ترقی کرجاتی ہے اور اپنا مزید اظہار اس طرح سے کرتی ہے کہ پودا اپنی شاخیں پھیلا دیتاہے اور اپنی نوع کو بیج کے ذریعہ سے قائم رکھتا ہے۔پھر حرکت کی قوت رفتہ رفتہ ترقی کرتی ہے یہاں تک کہ ہم ایسے درختوں تک پہنچ جاتے ہیں جن کا تنا اور پتے اور پھل ہوتے ہیں۔ ارتقاء کےآخری درجہ میں انگور کی بیل اور کھجور کا درخت آتے ہیں جو گویا حیوانی زندگی کے دروازہ پر کھڑے ہیں۔
کھجور کے درخت میں جنسی امتیازات واضح طور پر نمودار ہو جاتا ہے۔ جڑوں اور ریشوں کے علاوہ اس میں ایسی چیزبھی پیدا ہوتی ہو جاتی ہے جو حیوان کے دماغ کی طرح کام کرتی ہے جس کی سلامتی پر کھجور کے درخت کی زندگی کا انحصار ہوتا ہے۔یہ نباتاتی زندگی کابلند ترین مقام ہے جس کے بعد حیوانی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔
حیوانی زندگی کا پہلا قدم زمین میں گڑ جانے سے آزادی ہے، جو آزادی حرکت کا پیش خیمہ ہے۔ یہ حیوانی زندگی کا اولین درجہ ہے جس میں چھونے کی حس سب سے پہلے اور دیکھنے کی قوت سب سے آخر میں نمودار ہوتی ہے۔حسوں کے ارتقاء سے حیوان حرکت کی آزادی حاصل کرتاہے۔ جیسا کہ کیڑوں مکوڑوں اور رینگنے والے جانوروں، چیونٹیوں اور شہد کی مکھی کی صورت میں ہوتا ہے۔
چوپایوں کی حیوانی زندگی گھوڑے میں اور پرندوں کی حیوانی زندگی باز میں اپنے کمال پر پہنچتی ہے اور آخر کار بندر میں جو ارتقاء کی آخری سیڑھی پر حضرت انسان سے صرف ایک قد م پیچھے ہے، انسانیت کے سرحدوں تک جا پہنچتی ہے۔
بعد کا ارتقاء ایسے حیاتیاتی تغیرات پیدا کرتا ہے جس کے نتیجہ کے طور پر عقلی اور روحانی قوتیں بڑھتی جاتی ہیں یہاں تک کہ انسانیت بربریت سے نکل کر تہذیب کے میدان میں قدم رکھ لیتی ہے۔
پس زندگی ایک ارتقائی حرکت ہے۔

(اقبال نے ابن مسکویہ کا یہ نظریہ ان کی کتاب الفوز الاصغر سے پیش کیا ہے۔)
بحوالہ: حکمت اقبال، محمد رفیع الدین، ص ١٥٩، ١٥٨، ناشر: ادارہ تحقیقات اسلامی ، بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد پاکستان

 

+ لکھاری عباس حسینی در 17 Feb 2017 و ساعت 10:11 PM |

خلقت حضرت حواء علیها السلام

تحقیق: سید عباس حسینی

 

          حضرت حواء علیها السلام مادر بشریت، اولین زنی در روی زمین وهمسر حضرت آدم علیه السلام است. قرآن مجید درباره خلقت حضرت آدم به تفصیل پرداخته است، اما درباره چگونگی خلقت حضرت حواء علیها السلام  موقف قرآن خيلي واضح و صريح نيست. برای همین درباره خلقت حواء علیها السلام حرف های زیادی گفته شده است وشبهه های متعددی رخ داده است.

          شایع ترین شبهه این است که خداوند متعال حواء را از دنده آدم علیه السلام خلق کرده است، آن هم در حالت خواب، نه بیداری، تا این که آدم درد زیادی نکشد. برای همین مردها یک دنده، از زن ها کم دارند. البته این شبهه و این نظریه مستند روایی هم دارد. در تورات موجود همین نظریه ذکر شده وبیشتر اهل سنت قائل به همین قول هستند. در مقابل دسته ای از روایات شیعه این نظریه را به شدت نفی می کند.

ما اینجا اول خلقت حضرت حواء علیها السلام را از منظر قرآن و در مرحله بعدی از منظر روایات بررسی می کنیم.

قرآن وخلقت حواء علیها السلام

          قرآن کریم در سوره نساء می فرماید: يا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ واحِدَةٍ وَ خَلَقَ مِنْها زَوْجَها وَ بَثَّ مِنْهُما رِجالاً كَثيراً وَ نِساء. (نساء: 1) همین طور در سوره اعراف وزمر آیاتی با همین لحن آمده است. "هُوَ الَّذی خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ واحِدَةٍ وَ جَعَلَ مِنْها زَوْجَها لِیَسْکُنَ إِلَیْها" (اعراف: 189) خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ واحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْها زَوْجَها (زمر: 6).

          ظاهر این آیات این است که حضرت حواء را، از حضرت آدم علیه السلام خلق کرده است چون فرموده است "خلق منها" یا "جعل منها" که مرجع ضمیر نفس واحده است، ومراد از آن حضرت آدم علیه السلام است.

           تفسیر قمی همین قول وتفسیر را قبول کرده است. که فرمود: يا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ واحِدَةٍ يعني آدم ع‏ وَ خَلَقَ مِنْها زَوْجَها يعني حواء برأها الله من أسفل أضلاعه‏.[1]

          ولی بیشتر مفسرین این تفسیر را قبول ندراند، ومراد آیه را این می گیرند که خداوند متعال همسر آدم را از جنس او (جنس بشر) آفرید، نه از جسم او. شاهد بر این مطلب آیات دیگر از خود قرآن است.

به طور مثال: وَ مِنْ آياتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْواجاً لِتَسْكُنُوا إِلَيْها. (روم: 21) اینجا هم تعبیر همان است که از نفس شماها همسران شما را آفریدیم. وهیچ کس شک ندارد که مراد "از جسم شما" هرگز نیست.

همین طور: : وَ اللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْواجا (نحل: 72) شاهد بر همین تفسیر است.[2]

همین طور حضرت علامه در تفسیر المیزان انکار می کند که حضرت حوا از بدن آدم خلق شده باشد، وتصریح می کند که آیت هیچ گونه دلالتی بر این معنی ندارد. آیت فقط همین را بیان می کند که همسر آدم از نوع خود آدم بوده است وانسانی بوده مثل او. پس آنها در نوع تماثل داشتند. همین طور نسل آدم همه بر می گردد به این دو فرد که متماثل ومتشابه بودند.[3]

خلقت حضرت حواء علیها السلام در روایات

          روایات درباره خلقت حضرت حواء علیها السلام اختلاف دارند. حد اقل می توان به دو گروه از این روایات اشاره کرد.

گروه اول: روایاتی که بیان می کنند حضرت حواء علیها السلام از جسم آدم علیه السلام آفریده شده است، که در بعضی روایات به دنده چپ هم اشاره شده. بیشتر این روایات در کتاب "المیراث" آمده است.

  • از امام صادق علیه السلام در کتاب شریف کافی نقل شده است: اِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ علیه السلام مِنَ الْمَاءِ وَ الطِّينِ فَهِمَّةُ ابْنِ آدَمَ فِي الْمَاءِ وَ الطِّينِ وَ خَلَقَ حَوَّاءَ مِنْ آدَمَ فَهِمَّةُ النِّسَاءِ فِي الرِّجَالِ فَحَصِّنُوهُنَّ فِي الْبُيُوت‏.[4]
  • در کتاب "من لا یحضره الفقیه" درباره میراث خنثی آمده است. امام صادق علیه السلام از پدرش امام باقر علیه السلام نقل کرده:

أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ علیه السلام كَانَ يُوَرِّثُ الْخُنْثَى فَيَعُدُّ أَضْلَاعَهُ فَإِنْ كَانَتْ أَضْلَاعُهُ نَاقِصَةً مِنْ أَضْلَاعِ النِّسَاءِ بِضِلْعٍ وَرَّثَ مِيرَاثَ الرَّجُلِ لِأَنَّ الرَّجُلَ تَنْقُصُ أَضْلَاعُهُ- عَنْ ضِلْعِ النِّسَاءِ بِضِلْعٍ لِأَنَّ حَوَّاءَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلْعِ آدَمَ علیه السلام الْقُصْوَى الْيُسْرَى فَنَقَصَ مِنْ أَضْلَاعِهِ ضِلْعٌ وَاحِد.[5]

  • همچنین در کتاب "من لا یحضره الفقیه" از امیر المومنین علیه السلام نقل شده:

فَقَالَ علیه السلام إِنِّي حَكَمْتُ عَلَيْهَا بِحُكْمِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى خَلَقَ حَوَّاءَ مِنْ ضِلْعِ آدَمَ الْأَيْسَرِ الْأَقْصَى وَ أَضْلَاعُ الرِّجَالِ تَنْقُصُ وَ أَضْلَاعُ النِّسَاءِ تَمَام‏.[6]

  • ·        از امام باقر علیه السلام: سَأَلَ طَاوُسٌ الْيَمَانِيُّ أَبَا جَعْفَرٍ علیه السلام لِمَ سُمِّيَ آدَمُ آدَمَ قَالَ لِأَنَّهُ رُفِعَتْ طِينَتُهُ مِنْ أَدِيمِ الْأَرْضِ السُّفْلَى قَالَ فَلِمَ سُمِّيَتْ حَوَّاءُ حَوَّاءَ قَالَ لِأَنَّهَا خُلِقَتْ مِنْ ضِلْعِ حَيٍّ يَعْنِي ضِلْعَ آدَم‏.[7]

          روایات در این باب به همین معنی زیاد است.

اشکالات بر این دسته روایات

          بر این دسته روایات چند تا اشکال وارد کرده اند.

  • نسبت عجز به خداوند

آن خدایی که آدم را از گل آفریده، قادر است بر این که حواء را هم از گل بیافریند. پس هیچ الزامی نیست بگوییم حواء علیها السلام را از دنده آدم علیه السلام آفریده است. به همین مطلب در صحیحه زراره اشاره شده است که وقتی از امام صادق  علیه السلام پرسید:قِيلَ لَهُ إِنَّ أُنَاساً عِنْدَنَا يَقُولُونَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ خَلَقَ حَوَّاءَ مِنْ ضِلْعِ آدَمَ الْأَيْسَرِ الْأَقْصَى قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَ تَعَالَى عَنْ ذَلِكَ عُلُوّاً كَبِيراً أَ يَقُولُ مَنْ يَقُولُ هَذَا إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى لَمْ يَكُنْ لَهُ مِنَ الْقُدْرَةِ مَا يَخْلُقُ لآِدَمَ زَوْجَتَهُ مِنْ غَيْرِ ضِلْعِه‏.[8]

  • ·         نکاح آدم با نفس خود (نکاحه مع ضلعه)

اگر حواء علیها السلام از جسم آدم خلق شده باشد لازم می آید که نکاح آنحضرت با بعضی از خود آن شده باشد. واین امری است مستهجن که آدم با زنی نکاح کند که جزء خودش بوده. کما این که در شریعت نکاح با دختر حرام است، چون دختر جزئی از خود آدم است.

          برای همین در ادامه همان راوایت علل الشرائع امام صادق علیه السلام فرمود:

وَ جَعَلَ لِمُتَكَلِّمٍ مِنْ أَهْلِ التَّشْنِيعِ سَبِيلًا إِلَى الْكَلَامِ يَقُولُ إِنَّ آدَمَ كَانَ يَنْكِحُ بَعْضُهُ بَعْضاً إِذَا كَانَتْ مِنْ ضِلْعِهِ مَا لِهَؤُلَاءِ حَكَمَ اللَّهُ بَيْنَنَا وَ بَيْنَهُم‏.[9]

 

گروه دوم: روایاتی هستند که به شدت انکار می کنند حضرت حوا از جسم آدم و دنده او خلق شده باشد.

  • در علل الشرایع زراره از امام صادق علیه السلام وقتی می پرسد که بعضیها می گویند حواء از دننده آدم خلق شده است، حضرت خیلی اظهار تعجب می کنند.

 سُئِلَ علیه السلام: عَنْ خَلْقِ حَوَّاءَ وَ قِيلَ لَهُ إِنَّ أُنَاساً عِنْدَنَا يَقُولُونَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ خَلَقَ حَوَّاءَ مِنْ ضِلْعِ آدَمَ الْأَيْسَرِ الْأَقْصَى قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَ تَعَالَى عَنْ ذَلِكَ عُلُوّاً كَبِيراً أَ يَقُولُ مَنْ يَقُولُ هَذَا إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى لَمْ يَكُنْ لَهُ مِنَ الْقُدْرَةِ مَا يَخْلُقُ لآِدَمَ زَوْجَتَهُ مِنْ غَيْرِ ضِلْعِه‏.[10]

  • در تفسیر عیاشی ذیل تفسیر آیت 1 از سوره نساء، عمرو بن ابی المقدام از امام باقر علیه السلام نقل می کند:

سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ علیه السلام مِنْ أَيِّ شَيْ‏ءٍ خَلَقَ اللَّهُ حَوَّاءَ فَقَالَ أَيُّ شَيْ‏ءٍ يَقُولُ هَذَا الْخَلْقُ قُلْتُ يَقُولُونَ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَهَا مِنْ ضِلْعٍ مِنْ أَضْلَاعِ آدَمَ فَقَالَ كَذَبُوا كَانَ يُعْجِزُهُ أَنْ يَخْلُقَهَا مِنْ غَيْرِ ضِلْعِهِ فَقُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ مِنْ أَيِّ شَيْ‏ءٍ خَلَقَهَا فَقَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ آبَائِهِ علیهم السلام قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى قَبَضَ قَبْضَةً مِنْ طِينٍ فَخَلَطَهَا بِيَمِينِهِ وَ كِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ فَخَلَقَ مِنْهَا آدَمَ وَ فَضَلَتْ فَضْلَةٌ مِنَ الطِّينِ فَخَلَقَ مِنْهَا حَوَّاء.[11]

تاویل روایات گروه اول وجمع بین روایات

پس ما باید روایات دسته اول را تاویل کنیم، چون "الجمع مهما امکن اولی من الطرح". علما برای جمع وتاویل این روایات چند تا اقوالی ذکر کرده اند. به چند تا از آنها اشاره می کنیم.[12]

  • روایات دسته اول (که بر خلقت حواء علیها السلام از دنده یا جسم آدم علیه السلام دلالت دارند) را حمل بر تقیه بکنیم، چون این همان قول عامه است. ودر اخذ به خلاف عامه مصلحت و رشاد است، کما این که در تعارض ادله و روایات یکی از معیارهای ترجیح همین است.
  • مراد از خلقت حواء از دنده آدم هرگز این است که از جسم حضرت آدم یا از یکی از اعضای بدنشان خلق شده باشد. بلکه مراد این است که خلقت حضرت حواء از گل دنده آدم بوده است. یعنی از گلی وخاکی که دنده حضرت آدم علیه السلام خلق شد، وقتی یک مقداری باقی ماند خداوند متعال از آن حواء را خلق فرمود. به این تاویل می توانیم بین این دو گروه ادله جمع کنیم ومصالحه کنیم.

از روایت عمرو بن ابی المقدام هم، همین معند تایید می شود که فرمود: إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى قَبَضَ قَبْضَةً مِنْ طِينٍ فَخَلَطَهَا بِيَمِينِهِ وَ كِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ فَخَلَقَ مِنْهَا آدَمَ وَ فَضَلَتْ فَضْلَةٌ مِنَ الطِّينِ فَخَلَقَ مِنْهَا حَوَّاء.

 

 

مصادر ومراجع

   *  قرآن کریم

  • ابن بابویه، محمد بن علی، علل الشرائع، کتابفروشی داوری، قم، چ1، 1385ق.
  • ابن بابویه، محمد بن علی، من لا یحضره الفقیه، دفتر انتشارات اسلامی، قم، چ2، 1413ق.
  • عیاشی، محمد بن مسعود، تفسیر العیاشی، المطبعه العلمیه، تهران، 1380ق.
  •  قمی، علی بن ابراهیم، تفسیر القمی، تحقیق: طبیب موسوی جزایری، دار الکتاب، قم ایران، چ3، 1363ش.
  • مجلسی، محمد باقر بن محمد تقی، بحار الانوار، دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1403ق.
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، دار الکتب الاسلامیه، تهران، چ10، 1371ش.

 



[1] . تفسیر قمی، ذیل تفسیر همین آیه.

[2] . تفسیر نمونه، ذیل تفسیر آیه 1 از سوره نساء.

[3] . تفسیر المیزان، ذیل آیه 1 از سوره نساء.

[4] . الکافی، ج5، ص 337.

[5] . من لا یحضره الفقیه، ج4، ص 362.

[6] . من لا یحضره الفقیه، ج4، ص 328.

[7] . بحار الانوار، ج11، ص 100.

[8] . علل الشرایع، ج1، ص 17، 18.

[9] . علل الشرایع، ج1، ص 18.

[10] . علل الشرایع، ج1، ص 17، 18.

[11] . تفسیر العیاشی، ج1، ص 216.

[12] . برای آگاهی بیشتر: بحار الانوار، ج11، ص 222.

+ لکھاری عباس حسینی در 9 Jan 2017 و ساعت 11:14 PM |

بلتستان کی سیاسی تاریخ (۲)

(ڈوگرہ راج   + جنگ آزادی)

(از تاریخ بلتستان ، یوسف حسین آبادی)

تلخیص: سید عباس حسینی

 

ڈوگرہ دور 1840 تا 1948 عیسوی

  • رنجیت سنگھ کے دور میں جموں کے ڈوگرہ راجپوت خاندان کے دو بھائی گلاب سنگھ اور دھیان سنگھ نے فتح کشمیر(1819) اور پھر جموں کو فتح کرنے کے حوالے سے بے مثال خدمات انجام دیں۔ ان خدمات کو وجہ سے مہاراجہ رنجیت سنگھ ان پر مہربان ہوگیا اور ان کے باپ کشور سنگھ کو جموں کا راجہ بنا دیا۔ 1823 میں رنجیت سنگھ نے گلاب سنگھ کو جموں کا راجہ بنادیا۔ اس طرح پنجاب کی سکھ سلطنت کی سرپرستی میں جموں میں ڈوگرہ حکومت قائم ہوگئی۔
  • سکردو کے راجہ کے بیٹے محمد شاہ اور کھرمنگ کے راجہ علی شیر خان کی خیانت اور  دعوت پر زور آور سنگھ (گلاب سنگھ کی فوج کا کمانڈر) نے بلتستان پر حملے کا منصوبہ بنایا۔ اور مختلف علاقوں کو دھوکے سے فتح کرتے ہوئے سکردو پہنچا۔
  • سکردو کے راجہ احمد شاہ کھرپوچو قلعے میں محصور ہوگیا۔ ان کے پاس تین سال تک کے مقابلے کے لیے کافی خوراک اور دیگر سامان قلعہ موجود میں موجود تھا۔پندرہ روز کے محاصرے کے بعد بھی محصورین پر کچھ اثر ہوتا ہوا نظر نہیں آیا تو زور آور سنگھ مایوس سا ہوا۔ اسے دیکھ کر علی شیر خان نے فریب کاری سے قلعہ فتح کرنے کا منصوبہ بنایا۔
  • اس نے احمد شاہ سے قسم کھا کر کہا کہ زور آور سنگھ کا سکردو پر قبضے کا کوئی ارادہ نہیں۔ وہ تو صرف ولیعہد محمد شاہ کے ساتھ جو نا انصافی ہوئی ہے اس سلسلے میں جھگڑے میں تصفیہ کرنے آیا ہے۔  اس قسم پر اعتبار کر کے احمد شاہ جب زور آور سنگھ کے پاس ولیعہد کے حوالے سے معاملات طے کرنے آیا تو انہیں گرفتار کر کے بیڑیاں پہنا دی گئیں۔
  • ڈوگرہ فوج نے کھرپوچو قلعے کو خوب لوٹ لیا۔ بہت سے آدمیوں کو قتل کیا اور بہت سوں کو مختلف اذیتیں دیں۔ زور آور سنگھ نے فاتح کی حیثیت سے مظالم کی انتہا کر دی۔
  • زور آور سنگھ نے راجہ احمد شاہ کو معزول کر کے اس کے بیٹے محمد شاہ کو سات ہزار روپے سالانہ خراج دینے کی شرط پر سکردو کا برائے نام راجہ بنا دیا۔ اس کے ساتھ ہی بلتستان کی آزاد سلطنت کا خاتمہ ہوگیا۔
  • ۱۸۴۲ عیسوی میں بلتستان کے مختلف راجاوں اور روسا نے ڈوگروں کےتسلط سے جان چھڑانے کی بھرپور کوشش کی۔ مختلف جگہوں پر بغاوت کی۔ گلاب سنگھ نے اپنے معتمد خاص وزیر لکھپت کو بغاوت فرو کرنے کے لیے بلتستان بھیجا۔ کچھ مقامی لوگوں کی خیانت کی وجہ سے اس نے بغاوت پر کنٹرول کر لیا۔ تحریک آزادی کے علمبرداروں اور کارکنوں کو عبرتناک سزائیں دیں۔بہتوں کو تہہ تیغ کیا اور بعض کے سروں کو عبرت کے لیے نمایاں مقاماں پر لٹکا دیا۔
  • وزیر لکھپت نے آئندہ کے پھر بغاوت کے ڈر سے کھرپوچو قلعے کو مسجد کے سوا آگ لگا کر تباہ کر دیا۔
  • ڈوگرہ حکومت نے 1902 میں پہلی بار یہاں کی زمینوں کی اقسام اور فصلوں کی آمدن کی تشخیص کی اور اس کے مطابق نقد مالیہ اور اجناس کا لگان عائد کر دیا۔ زمینوں کی خرید وفروخت پر پابندی عائد کر دی گئی۔
  • ڈوگروں کے قبضے جمانے کے فورا بعد بیگار کا سسٹم رائج کر دیا۔ جس کے تحت بلتستان کے طول وعرض میں ہر پڑاو پر گرد ونواح سے ۵۰ قلی اور پانچ گھوڑے ہمہ وقت سرکاری مہمانوں اور ملازموں کی خدمت کے لیے حاضر رکھے جاتے تھے۔ ہر گھرانے کو سال میں چالیس روز تک پڑاو پر بیگار کی ڈیوٹی دینی پڑتی تھی۔
  • بیگار والوں کو ملازموں کو دودھ ، لکڑی اور ان کے مویشویوں کے لیے چارہ بھی فراہم کرنا پڑتا تھا۔ آفیسروں کی خواتین کو ڈولیوں میں بٹھا کر این منزل سے دوسری منزل تک پہنچانا پڑتا۔ ایک ڈولی کے ساتھ آٹھی قلی ہوتے۔ چنانچہ آخری ڈوگرہ وزیر لالہ امرناتھ جب سکردو آیا تو اس کی دونوں بیویاں اور بچے تین پالکیوں میں سوار تھے۔ اور چوتھی پالکی میں اس کے آٹھ کتے سوار تھے۔
  • 1947 میں تقسیم ہند کی خبریں ہندوستان مزدوری کے لیے گئے مزدوروں اور کچھ مقامی افراد کو ریڈیو کے ذریعے پہنچنی لگیں اور یہاں کے باشندوں نے پاکستان میں شمولیت کے لیے کوششیں تیز کر دیں۔

 

جنگ آزادی بلتستان ۱۹۴۸ عیسوی

  • یکم نومبر 1947 عیسوی کو گلگت کو مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت فتح کر لیا اور ڈوگرہ تسلط سے آزادی حاصل کر لی۔
  • انقلابیوں نے جمہوریہ گلگت کے نام سے ایک عارضی حکومت قائم کر لی۔ اور عملا یکم نومبر سے لے کر ۱۶ نومبر ۱۹۴۷ تک اس چھوٹی سی مملکت پر مقامی افراد نے حکومت کی۔ حکومت پاکستان کو تار پر تار دئیے گئے کہ گلگت کو اپنا حصہ تسلیم کرتے ہوئے یہاں اپنا نمائندہ بھیج دے۔
  • گلگت کے بعد مقامی افراد نے روندو کو فتح کر لیا۔ اس کے بعد روندو کے راجہ کی دعوت پر گلگت کے انقلابیوں نے بلتستان کی طرف پیش قدمی کی اور مقامی افراد کی مدد سے ڈوگروں کو بھگانا شروع کیا۔ لیکن ڈوگرہ فوج سکردو چھاونی میں محصور ہوگئی اور زبردست مقابلہ کیا۔
  • فروری سے اگست ۱۹۴۸ تک چھاونی میں محصور ڈوگرہ سپاہیوں اور کچھ سکھ خاندانوں نے بھرپور مزاحمت دکھائی۔ مگر انہیں سری نگر سےخاطر خواہ  کمک اور امداد نہیں پہنچ سکی اور بالآکر ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوئے۔
  • ۱۴ اگست ۱۹۴۸ کی صبح کو کرنل تھاپا نے پانچ آفیسروں اور دیگر فورسز و فیملیز کے ساتھ اپنے آپ کو آزاد فورسز کے حوالے کر دیا۔ اس طرح بلتستان پر ۱۰۸ سال حکومت کرنے کے بعد ڈوگرہ عہد کاخاتمہ ہوا۔
  • فتح کے فورا بعد سکردو چھاونی پر پاکستان کا پرچم لہرایا گیا۔
  • 21ا پریل 1948 کو اقوام متحدہ نے کشمیر کے حوالے سے ایک قرارداد منظور کی جس کے تحت جموں وکشمیر کے ہندوستان یا پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے کیا جائے گا۔ گلگت بلتستان کی آزادی کے بعد پاکستان نے رائے شماری کو اپنے حق میں کرنے کی خاطر مقامی باشندوں سے پوچھے بغری ان علاقوں کے مستقبل کو کشمیر کے ساتھ منسلک کیا۔ جو اب تک جاری ہے۔
  • اپریل ۱۹۴۹ میں بدنام زمانہ معاہدہ کراچی کے تحت حکومت پاکستان، حکومت آزاد کشمیر اور کشمیر کی سیاسی جماعت مسلم کانفرنس نے فیصلہ کیا کہ گلگت بلتستان کا انتظام حکومت پاکستان کےسپرد رکھا جائے گا۔ اس معاہدے پر حکومت پاکستان کے وفاقی وزیر بےمحکمہ مشتاق احمد گورمانی، آزاد کشمیر کے صدر سردار ابراہیم خان اور مسلم کانفرنس کے صدر چوہدری  غلام عباس نے دستخط کئے۔ اس معاہدے میں گلگت بلتستان کا کوئی نمائندہ شامل نہیں تھا ۔ اس طرح مقامی افراد کی نمائندگی کے بغیر چند پرائیوں نے مل کر اپنی مدد آپ کے تحت جنگ لڑ کر آزادی حاصل کرنے والے اور پاکستان کے لیے بے شمار قربانی دینے والے اس علاقے کے ساتھ ظلم وناانصافی پر مبنی ایک فیصلہ صادر کیا جس پر اب تک نہایت سختی کے ساتھ عمل ہو رہا ہے۔ جبکہ مقامی افراد قریب ستر سال سے اپنے آپ کو پاکستانی منوانے کی  ناکام کوشش کر رہے ہیں اور اپنے انتہائی بنیادی حقوق کے لیے اب تک چیخ رہے ہیں۔ لیکن ان کی یہ آواز اب تک صدا بہ صحرا ثابت ہو رہی ہے۔

 

+ لکھاری عباس حسینی در 30 Aug 2016 و ساعت 11:40 PM |

بلتستان کی سیاسی تاریخ (1)

قدیم تاریخ۔۔    تا ڈوگرہ راج 1840 ء

(از تاریخ بلتستان، یوسف حسین آبادی)

تلخیص: سید عباس حسینی

 

قدیم تاریخ:

سلطنت پولولو

  •  ۴۰۳ عیسوی میں فاہیان پہلا چینی زائر تھا جس کے سفرنامے میں سلطنت پولولو  کا تذکرہ ملتاہے۔
  • ۶۲۶ عیسوی میں اگلا چینی زائر ہوان تسانگ ان علاقوں میں پہنچا۔اس نے بھی اپنے سفرنامے میں ان علاقوں کا تذکرہ کیا ہے۔
  • چینی سرکاری ریکارڈ کے مطابق ۶۹۶ عیسوی میں بڑے پولولو (بلتستان) کے حکمران کا ایلچی چین کے دربار میں پہنچا۔
  • ۷۱۷ عیسوی میں بڑے پولولو کے بادشاہ کو چین کے شہنشاہ کی طرف سے وانگ کا خطاب ملا۔دستاویز اب بھی چینی زبان میں موجود ہے۔
  • ۷۲۰ مٰیں اس علاقے پر تب کا تسلط قائم ہو گیا اور چینی دربار کے ساتھ تعلقات ختم ہوگئے۔

 

تبتی دور 721 عیسوی تا 842 عیسوی

  • ۷۲۱ عیسوی میں تبت کے بادشاہ نے بڑے پولولو یعنی بلتستان کو فتح کیا۔پولولو کا بادشاہ بھاگ کر چھوٹے پولولو میں منتقل ہوگیا۔
  • تبتیوں نے بلتستان پر سوا سو سال حکومت کی اوراس عرصے میں مختلف بادشاہ تبدیل ہوتے رہے۔

 

طوائف الملوکی 842 عیسوی تا 1190 عیسوی

  • تبت کے بادشاہ لنگ درما کے قتل کے ساتھ ہی دیگر تبتی مقبوضات کی طرح بلتستان بھی آزاد ہو گیا اور جگہ جگہ چھوٹی چھوٹی ریاستیں قائم ہو گئیں۔
  • کہتے ہیں اسی زمانے میں وادی سکردو کے موضع کچورہ اور بغاردو کے درمیان سیلابی ملبے نے بند کی شکل اختیار کی اور دریائے سندھ کا پانی رک گیا اور عظیم جھیل کی شکل اختیار کر گیا۔
  • دسویں صدی عیسوی کے آغاز سے لے کر بارھویں صدی کے اواخر تک کی تین صدیوں کے دوران بلتستان کبھی آزاد، کبھی ترکستان اور کبھی کشمیر کے زیر تسلط رہا۔

 

بلتستان قرون وسطی میں 1190 عیسوی  تا 1840 (ساڑھے چھے سو سال کا عرصہ)

  • بارہویں صدی  کے اواخر میں مقامی طور پر سکردو میں شگر گیالپو کا خاندان، شگر میں اماچہ، خپلو میں یبگو، روندو میں لونچھے، پوریگ میں گاشو اور کھرمنگ میں انٹھوک چھے مختلف خاندان حکمرانی کرنے لگے۔
  • اسی دوران سکردو میں مقپون خاندان کی حکومت قائم ہوگئی۔اور ان کی حکومت کو رفتہ رفتہ عروج حاصل ہوا یہاں تک کہ سولہویں صدی عیسوی کے اواخر تک مقپون خاندان نے رفتہ رفتہ سکردو، روندو، کھرمنگ، پوریگ، استور، شگر اور خپلو پر مشتمل تبت خورد کے نام سے بلتستان کی ایک متحدہ ریاست قائم کر لی۔
  • اس کے بعد مقپون خاندان ایک طرف لداخ اور دوسری طرف کافرستان چترال تک کے علاقوں کو اپنے زیر نگیں لایا۔
  • جب مقپون خاندان پر زوال آیا اکثر مفتوحہ علاقے علحیدہ ہو گئے۔ لیکن روندو بشمول حراموش، استور، کھرمنگ،شگر اور خپلو پر مشتمل بلتستان کی سلطنت پر ڈوگرہ دور کے آغاز (۱۸۴۰ عیسوی) تک مقپون خاندان کی حکومت قائم رہی۔
  • کھرمنگ کچھ عرصے کے لیے لداخ کے قبضے میں چلا گیا۔استور، روندو، کھرمنگ، شگر اور خپلو اور طولتی پر سکردو کے مقپون خاندان کی ذیلی شاخیں حاکم تھیں۔جب بھی سکردو کی حکومت کی کمزور ہوئی شگر اور خپلونے سرکشی اختیار کر لی۔
  • علی شیر خان انچن اسی سلسلے کے طاقتور ترین حکمران ہیں۔ جنہوں نے 1588 عیسوی سے لے کر 1625 عیسوی تک (۳۷ سال) بلتستان پر حکومت کی۔
  • ۱۵۸۶ عیسوی میں مغل بادشاہ اکبر اعظم نے کشمیر کو فتح کر لیا۔ اس کے ساتھ ہی مغل سلطنت کی سرحدیں جنوب کی طرف بلتستان کی سلطنت سے آملیں۔ تخت دلی کی طرف سے بلتستان کی طرف سفارتکاری شروع ہوئی جس کے نتیجے میں علی شیر خان انچن کی بیٹی کا رشتہ شہزادہ سلیم (جہانگیر) سے طے ہوا۔یہ شہزادہ سلیم کی آٹھویں بیوی تھیں۔
  • علی شیر خان نے اپنے دور میں مشرق کی طرف لداخ تک اور مغرب کی طرف چترال کافرستان تک کے علاقوں کو فتح کر کے سلطنت بلتستان میں شامل کر لیا۔اس طرح ان کی شہرت ایران اور ہندوستان کے ایوانوں تک پہنچ گئی۔
  • علی شیر خان نے گل خاتوں نامی مغل سے شادی کر لی تھی۔جس نے شوہر کی غیر موجودگی میں میندوق کھر کا محل، ہلال باغ، اس باغ کو سیراب کرنے کےلیے گنگوپی نہر اور کھرپوچوقلعے تک جانے کا راستہ تعمیر کروایا تھا۔
  • علی شیر خان انچن نے اپنے دور میں کھرپوچو قلعے کی مزید توسیع کی اور مستحکم کیا۔ اس قلعے کو بوخا بادشاہ نے اپنے دور میں تعمیر کیا تھا۔ علی شیر نے اس میں سات منزلہ محل تعمیر کرایا۔
  • انچن کے دور میں ہی سکردو شہر کے اطراف میں فصیل تعمیر کی گئی۔ چار مقامات پر  تھورگو دروازہ، سدپارہ دروازہ، برگے دروازہ اور پشاوری دروازہ کے نام سے چار دروازے نصب کر کے پہرے بٹھا دیے اور شہر کو ناقابل تسخیر بنایا۔
  • 1658 عیسوی میں دہلی کے تخت پر اورنگزیب کا قبضہ ہوا۔ ۱۶۶۳ میں اس نے کشمیر کا سفر کیا۔ اس دوران سکردو کے حکمران شاہ مراد نے کشمیر میں جا کر اس کے دربار میں حاضری دی۔
  • شاہ مراد نے اپنے دور میں گلگت اور چترال کو دوبارہ فتح کیا۔
  • مقپون سلسلے کے آخری بادشاہ احمد شاہ نے 1800 سے 1840 تک بلتستان پر حکومت کی۔
  • اسی دوران 1799 عیسوی میں لاہور پر سکھ سلطنت کا ظہور ہوا۔ رنجیت سنگھ نے 1819 میں افغانیوں(درانی حکومت) کو شکست دے کر کشمیر پر قبضہ کر لیا۔ اس طرح پنجاب کی سکھ سلطنت کی سرحدیں بلتستان سے آملیں۔
  • احمد شاہ نے اپنی ریاست کو سکھوں سے بچانے کے لیے متعدد بار ہندوستان میں موجود انگریزوں سے رابطے کی کوشش کی ۔
  • سکھوں کے خلاف احمد شاہ کی سرگرمیوں کی رپورٹ کی وجہ سے 1833 عیسوی میں بلتستان پر سکھوں نے حملے کا آغاز کر دیا۔
  • کھرمنگ کے بادشاہ علی شیر خان احمد شاہ کا بھانجا اور داماد تھا۔ لیکن ان کی آپس میں کچھ معاملات پر چپقلش تھی۔ادھر احمد شاہ نے اپنے بیٹے محمد شاہ کونا اہلی کی وجہ سے  ولیعہدی سے محروم کیا۔ ولیعہدی سے محرومی پر محمد شاہ 1836 عیسوی میں فرار ہو کر دیوسائی کے راستے کشمیر پہنچ گیا۔ کشمیر کے سکھ صوبیدار نے اسے لاہور میں رنجیت سنگھ کے پاس بھیج دیا۔رنجیت سنگھ نے اسے اپنے ماتحت راجہ گلاب سنگھ کے پاس جموں بھیج دیا۔ گلاب سنگھ سے اسے لداخ میں زور آور سنگھ کے پاس بھیج دیا۔ زور آور سنگھ نے اسے بلتستان پر حملے کا بہترین موقع جانا۔۱۸۳۶ میں کھرمنگ کا بادشاہ راجہ علی شیر خان بھی لداخ میں پناہ لیے ہوئے تھے۔
  • 1838 عیسوی میں علی شیر خان نے خود زور آور سنگھ سے ملاقات کی اور اسے بلتستان پر حملے کی دعوت دی اوراپنی طرف سے  بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔
  • مئی 1835  میں لداخ کو زور آور سنگھ نے فتح کر لیا۔
  • 1840  عیسوی میں ڈوگروں نےلداخ کے راستے بلتستان پر فیصلہ کن حملہ کیا اور پھر اس کے بعدایک صدی سے زیادہ عرصے تک کے لیے بلتستان پر ڈوگروں کا قبضہ رہا۔

 

+ لکھاری عباس حسینی در 26 Aug 2016 و ساعت 2:35 PM |

بلتستان کی مذہبی تاریخ

 

(از تاریخ بلتستان، یوسف حسین آبادی)

تلخیص: عباس حسینی

 

  • بلتستان میں اسلام سے پہلے بدھ مت، اور اس سے پہلے بون چھوس رائج تھا۔تاہم اندازہ کیا جاتا ہے اس سے بھی پہلے یہاں زرتشتی مذہب رائج تھا۔

 

  • ایک اندازے کے مطابق اشوک کے دور میں بدھ مت مذہب لداخ کی طرف پھیلا۔ بلتستان میں بھی بدھ مت اسی دور میں پھیلا ہوگا۔ لیکن جدید تحقیق کے مطابق بلتستان میں بدھ مت تبت سے نہیں، کشمیر کی طرف سے پھیلا۔

 

 

  • بدھ مت دور کے باقیات میں سے ایک سکردو شہر کے قریب منٹھل گاوں میں واقع وہ چٹان ہے جس پر تصویریں اور عبارات کندہ ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق یہ کتبہ سن ۱۰۰۰ عیسوی سے پہلے کا ہے۔

 

  • چودہویں صدی عیسوی کے آخر ربع میں ایرانی مبلغین کے ذریعے بلتستان میں اسلا م پھیلنا شروع ہوا۔

 

  • سید علی ہمدانی اپنےسینکڑوں مریدوں اور شاگردوں کے ساتھ ۱۳۷۳ عیسوی سے ۱۳۸۳ کے درمیان تین بار کشمیر تشریف لائے۔ آپ کی تبلیغ سے لوگوں نے اسلام قبول کیا۔سکردو، شگر برالدو تک اور خپلو چھوربٹ تک آپ نے اسلام پھیلایا۔

 

 

  • ۱۴۴۶ عیسوی میں سید علی ہمدانی کے خواہر زادے اور شاگرد خاص سید محمد نور بخش بطور ان کے خلیفہ بلتستان تشریف لائے۔ آپ کی مشہور کتاب فقہ احوط ہے۔ ان کے مقلدین آج بھی کثرت سےبلتستان میں موجود ہیں   اور ان فرقے کا نام ہی نوربخشیہ پڑ گیا ہے۔

 

  • میر شمس الدین عراقی بت شکن ۱۴۹۹ تا ۱۵۰۵ عیسوی کے دوران کشمیر سے سکردو تشریف لائے اور کچھ عرصہ یہاں اشاعت اسلام میں مصروف رہے۔

 

 

  • سترہویں صدی عیسوی کے آغاز میں دو بھائی سید علی اور سید ناصر طوسی ترکستان سے سلتورو گلیشئیر کے راستے وارد بلتستان ہوئے۔ کہا جاتا ہے سید ناصر میں داسونید کے پہاڑ پر غائب ہوگئےاور سیدعلی نے کواردو میں سکونت اختیار کی۔ مقامی روایات کے مطابق ان کے دو اور بھائی سید محمود اور سید حیدر علی بھی ان کے ساتھ تھے۔ سید محمود کی قبر کشو باغ جبکہ سید حیدر علی کا مقبرہ قمراہ میں ہے۔

 

  • اٹھارہویں صدی عیسوی میں دو بھائی میر عارف اور ابو سعید خپلو میں وارد ہوئے۔ میر عارف نے تھغس اور ابو سعید نے کریس میں سکونت اختیار کی۔میر عارف کی بیٹی کی شادی ابو سعید کے بیٹے سید مختار کے ساتھ ہوئی۔

 

 

  • روندو کے سید علی اکبر، سکردو کے شیخ جواد ناصر الاسلام، چھوترون کے آغا سید عباس اور کواردو کے شیخ غلام حسین اور شیخ عبد اللہ بلتستان کے پہلے مقامی علما اور ہم عصر تھے۔

 

  • بیسویں صدی کے ابتدائی نصف کے دوران بلتستان میں انگریز عیسائی مبلغوں کے ذریعے عیسائیت کی تبلیغ شروع ہوئی لیکن اسے یہاں شرف قبولیت حاصل نہ ہوا۔ ان مبلغوں نے بلتی میں کتاب " کھوملوکسی لم "یعنی راہ نجات لکھا تھا اور ساتھ میں متی کی انجیل کا بلتی میں ترجمہ بھی کیا تھا۔
+ لکھاری عباس حسینی در 24 Aug 2016 و ساعت 11:41 PM |

علامہ حلّی کا تاریخی مناظرہ

علامہ حلی کے ہاتھوں ، بادشاہ "خدا بندہ" کے شیعہ ہونے کا خوبصورت قصہ

ترجمہ: سید عباس حسینی

 

علامہ حلی کی زندگی کی اہم خصوصیت، ان کے ہاتھوں بادشاہ   "محمد خان خدا بندہ" کا شیعہ ہونا ہے کہ جس کی وجہ سے اور بھی بہت سارے لوگ شیعہ ہوئے اور شیعہ کتابیں پھیل گئیں۔ اور جس کے بعد ایران میں مذہب جعفری کو ملک کے رسمی مذہب کے طور اعلان کیا گیا ۔

تفصیل کچھ یوں ہے کہ 709 قمری کو ایلخانیان سلسلے کے گیارہویں بادشاہ "خدا بندہ "نے شیعہ مذہب اختیار کر لیااور شیعہ مذہب کو پھیلانے میں اہم خدمات انجام دیں اور جب تبریز گیا اور وہاں کے تخت پر بیٹھا تو اسے "بخشے گئے بادشاہ "کا لقب دیا گیا۔ انہی کے حکم سے  ملک میں نئے سکے رائج کرنے کا حکم دیا گیا جن کے ایک طرف پیامبر اکرم ﷺ اور ائمہ معصومین کے نام نقش کئے گئے اور دوسری طرف اس کا اپنا نام۔

خدا بندہ اصل میں سنّی تھا، لیکن کچھ وجوہات نے اس کے دل کو شیعیت کی طرف مائل ہونے پر مجبور کیا۔  علماء کی بڑی بڑی مجلسیں ترتیب دینا اسے پسند تھا،  انہی مجالس میں سے ایک میں علامہ حلی بھی پہنچے اور شافعی عالم دین شیخ نظام دین کو مناظرہ میں شکست دی۔ بادشاہ علامہ حلی کی دلائل سن کر مبہوت ہوا اور زبان ان کےگن گانے لگی اور کہا: "علامہ حلی کی دلیلیں بالکل واضح ہیں۔ لیکن ہمارے علماء جس راستے پر چلے ہیں اس کو دیکھتے ہوئے فی الحال اس کی مخالفت کرنا اختلاف اور جھگڑے کا باعث ہے۔ اس لیے ضروری ہے  ان باتوں پر پردہ پڑا رہے اور لوگ آپس میں مت جھگڑیں۔"

اس کے بعد بھی مناظروں کا سلسلہ چلتا رہا اور علامہ حلی کی دلیلوں کو سن کر اور علمی مرتبے کو دیکھ کر بادشاہ متاثر ہوتا رہا۔ آخر کار بادشاہ کی طرف سے اپنی بیوی کو تین بار طلاق دینے کا مسئلہ پیش آیا۔ ایک دن بادشاہ کو غصہ آیا اور ایک ہی مجلس میں تین بار اپنی بیوی کو تجھے طلاق ہے کا صیغہ دہرایا۔ بعد میں بادشاہ کو اپنے اس کام پر شرمندگی ہوئی۔ اسلام کے بڑے بڑے علماء کو بلایا گیا اور ان سے اس مسئلے کا حل پوچھا۔ سب علماء کا ایک ہی جواب تھا: "اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ آپ اپنی بیوی کو طلاق دیں، اور پھر وہ کسی مرد کے ساتھ شادی (حلالہ) کر لیں، پھر وہ اگر طلاق دیتا ہے تو آپ دوبارہ اس عورت کے ساتھ شادی کر سکتے ہیں۔"  بادشاہ نے پوچھا:  "ہر مسئلے میں کچھ نہ کچھ اختلاف اور گنجائش ہوتی ہے۔ اس مسئلے میں ایسا کچھ نہیں ہے؟" سب علماء نے مل کر کہا:   "نہیں۔ اس کے علاوہ کوئی راہ حل نہیں۔"  وہاں بیٹھا ایک وزیر بولا: "میں ایک عالم دین کو جانتا ہوں جو عراق کے حلًہ شہر میں رہتے ہیں اور ان کے مطابق اس طرح کی طلاق باطل ہے۔"  (اس کی مراد علًامہ حلی تھے)۔ خدا بندہ نے علامہ حلی کو خط لکھ کر اپنے پاس بلا لیا۔ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے علامہ حلی نے حلہ سے سلطانیہ (زنجان کے قریب کا ایک علاقہ) کی طرف رخت سفر باندھ لیا۔ بادشاہ کے حکم سے ایک بہت بڑی مجلس کا اہتمام کیا گیا اور تمام مذاہب کے علماء کو دعوت دی گئی جن میں اہل سنت کے چاروں فقہوں کے بڑے علماء شامل تھے۔

علًامہ حلًی کا اس مجلس میں آنے کا انداز سب سے مختلف اور عجیب تھا۔ جوتے اتار کر ہاتھ میں لیے، تمام اہل مجلس کو سلام کیا اور پھر جا کے بادشاہ کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئے۔ دوسرے مذاہب کے علماء نے فورا اعتراض کیا: "بادشاہ حضور! کیا ہم نے نہیں کہا تھارافضیوں کے علماء میں عقل کی کمی ہوتی ہے۔"  بادشاہ نے کہا: " اس نے یہ جو حرکت کی ہے اس کی وجہ خود اس سے پوچھو۔"  علمائے اہل سنت نے علامہ حلی سے تین سوال کیے:

۱۔ کیوں اس مجلس میں آتے ہوئے بادشاہ کے سامنے نہیں جھکے؟ اور بادشاہ کو سجدہ نہیں کیا؟

۲۔ کیوں آدابِ مجلس کی رعایت نہ کی اور بادشاہ کے ساتھ جا کے بیٹھ گئے؟

۳۔ کیوں اپنے جوتے اتار کر ہاتھ میں لیے آگئے؟

علامہ حلی نے جواب دیا:  پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ پیامبر اکرم ﷺ حکومت میں سب سے بلند مرتبہ رکھتے تھے، جبکہ لوگ (صحابہ) ان کو صرف سلام کرتے تھے، سجدہ نہیں کرتے تھے۔ قرآن کریم کا بھی یہی حکم ہے: (... فَاِذا دَخَلْتُمْ بُیُوتا فَسَلِّمُوا عَلَی اَنْفُسِکُمْ تَحِیَّةً مِنْ عِنْدِاللّهِ مبارَکَةً طَیِّبَةً...)ترجمہ: پس جب  گھروں میں داخل ہوں تو اپنے اوپر سلام کرو، اور خدا کی طرف سے بھی پر برکت اور پاکیزہ سلام ہو۔  اور تمام علمائے اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ غیر خدا کے لیے سجدہ جائز نہیں۔

دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ چونکہ اس مجلس میں سوائے بادشاہ کے ساتھ والی کرسی کے کوئی اور نشست خالی نہ تھی، اس لیے میں وہاں جا کے بیٹھ گیا۔

اور جہاں تک تعلق ہے تیسرے سوال کا کہ کیوں اپنےجوتے ہاتھ میں لیے آیا اور یہ کام کوئی عاقل انسان نہیں کرتا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے ڈر تھا  کہ باہر بیٹھے حنبلی مذہب کے لوگ میرے جوتے نہ چرا لیں۔ چونکہ پیغمبر اکرمﷺ کے زمانے میں ابو حنیفہ نے آپ ﷺکی جوتے چرا لیے تھے۔  حنفی فقہ کے علماء بول پڑے:  بے جا تہمت مت لگائیں۔ پیغمبر اکرمﷺ کے زمانے میں امام ابوحنیفہ پیدا ہی نہیں ہوئے تھے۔  علًامہ حلی نے کہا: میں بھول گیا تھا وہ شافعی تھے جنہوں نے آپﷺ کے جوتے چرا لیے تھے۔ شافعی مذہب کے علماء نے فریاد بلند کی: تہمت مت لگائیں۔ امام شافعی تو امام ابو حنیفہ کے روز وفات پیدا ہوئے تھے۔ علًامہ حلًی نے کہا: غلطی ہوگئی۔ وہ مالک تھے جنہوں نے چوری کی تھی۔ مالکی مذہب کے علماء فورا بول پڑے: چپ رہیں۔ امام مالک اور پیامبر اکرمﷺ کے درمیان سو سال سے زیادہ کا فاصلہ ہے۔ علًامہ حلی نے کہا: پھر تو یہ چوری کا کام احمد بن حنبل کا ہوگا۔ حنبلی علماء بول پڑے کہ امام احمد بن حنبل تو ان سب کے بعد کے ہیں۔

اسی وقت علامہ حلی نے بادشاہ کی طرف رخ کیا اور کہا: آپ نے دیکھ لیا کہ یہ سارے علماء اعتراف کر چکے کے اہل سنت کے چاروں اماموں میں سے کوئی ایک بھی پیامبر اکرمﷺ کے زمانے میں نہیں تھے۔ پس کیا بدعت ہے جو یہ لوگ لے کر آئے ہیں؟ اپنے مجتہدین میں سے چار لوگوں کو چن لیا ہے اور ان کے فتوی پر عمل کرتے ہیں۔ ان کے بعد کوئی بھی عالم دین چاہے جتنا بھی قابل ہو، متقی ہو، پرہیزگار ہو،  اس کےفتوی پر عمل نہیں کیا جاتا۔  بادشاہ خدا بندہ نے اہل سنت کے علماء کی طرف رخ کر کے کہا: سچ ہے کیا کہ اہل سنت کے اماموں میں سے کوئی بھی پیغمبر اکرمﷺ کے زمانے میں نہیں تھا؟ علماء نے جواب دیا: جی ہاں۔ ایسا ہی ہے۔ یہاں علامہ حلی بول پڑے: صرف شیعہ مذہب ہے جس نے اپنا مذہب امیر المومنین علی ابن ابی طالبؑ سے لیا ہے۔ وہ علیؑ جو رسول خدا کی جان تھے، چچا زاد تھے، بھائی تھے اور ان کے وصی تھے۔ شاہ خدا نے کہا: ان باتوں کو فی الحا ل رہنے دو، میں نے تمہیں ایک اہم کام کے لیے بلایا ہے۔ کیا ایک ہی مجلس میں دی گئی تین طلاقیں درست ہیں؟ علامہ نے کہا: آپ کی دی ہوئی طلاق باطل ہے۔ چونکہ طلاق کی شرائط پوری نہیں ہیں۔ طلاق کی شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ دو عادل  مرد طلاق کے عربی صیغے کو سن لیں۔ کیا آپ کی طلاق کو دو عادل لوگوں نے سنا ہے؟ بادشاہ نے کہا : نہیں۔  علامہ نے کہا: پس یہ طلاق حاصل  نہیں ہوئی اور آپ کی بیوی اب بھی آپ پر حلال ہے۔ (اگر طلاق حاصل ہوتی بھی تو ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقیں ، ایک طلاق کے حکم میں ہیں۔)

اس کے بعد بھی علامہ نے اہل سنت علماء کے ساتھ کئی مناظرے کئے اور ان کے تمام اشکالات کے جوابات دئیے۔ شاہ خدا بندہ نے اسی مجلس میں شیعیت قبول کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد علامہ حلی کا شمار بادشاہ کے مقربین میں سے ہونے لگا اور انہوں نے حکومتی  امکانات سے اسلام اور تشیع کو مضبوط کرنے کے لیے استفادہ کیا۔

حسن اتفاق یہ کہ شاہ خدا بندہ اور علامہ حلًی دونوں ایک ہی سال میں ، یعنی 726 ہجری میں اس دنیا سے انتقال کر گئے۔

 

+ لکھاری عباس حسینی در 17 Mar 2016 و ساعت 6:2 PM |
فتح مکہ کے وقت لشکر اسلام کا مکہ میں دخول
علامہ علی نقی نقن کی خوبصورت منظر کشی
حضرت (صلی ا للہ علیہ وآلہ وسلم) نے سواری طلب فرمائی۔ ایک ناقہ کوہ تن قصوی نامی حضرت کے سامنے آیا اور حضرت نے نور طور کی طرح جس پر جلوہ فرمایا۔​
جلوہ میں بے شمار پیاد سوار تگ ودو میں تھے، ادھر جوانوں کا شور وغوغا، ادھر گھوڑوں کے ہنہنانے سے کان پڑی آواز نہ سنائی دیتی تھی۔​
قلب لشکر میں سید مختار تھے، گرد وپیش ہالے کی طرح مہاجر وانصار تھے، راہ خدا میں سرفروشی پر سب تیار تھے اور روبرو حضرت کے حیدر کرار تھے۔ یہاں پر کوئی مثال کھپتی ہے، ہاں چاند کے سامنے تارے کی تشبیہ البتہ کچھ پھبتی ہے، وسعت خدا میں نشاں زرفشاں تھا، ڈاب ٰ میں ذوالفقار پر کہکشاں کا گماں تھا۔​
اس کروفر سے لشکر خدا چلا۔۔۔۔۔۔۔۔​
(تاریخ اسلام، علامہ علی نقی نقن، مجلد 4، ص 436)​
+ لکھاری عباس حسینی در 27 Feb 2016 و ساعت 9:13 PM |


خیمہ حرؑ سے در شبیرؑتک۔۔۔۔

سید عباس حسینی


    وہ امام ؑ کے سامنے سر جھکائے ندامت بھرے انداز میں کھڑا تھا۔آنکھیں اس کی زمین کو چیر رہی تھیں۔۔۔ ہمت نہیں ہو پا رہی تھی کہ امام ؑکے چہرہ مبارک کا سامنا کرسکے۔۔۔ کیونکہ یہ وہی تھاجس نے سب سے پہلے قافلہ امامؑ کو روکا تھا۔۔۔ وہ امام ؑ سے معافی کا طلبگار تھا۔۔۔ اور امامؑ کا دل جو مخز ن راز امامت تھا۔۔۔ وہ اتنا وسیع تھاکہ فورا بخوشی امامؑ نے حر ؑ کو معاف کر دیا۔۔۔ کیونکہ اللہ معاف کرنے والوں کو پسندفرماتاہے۔


    محرم ٦١ ہجری کی دوسری تاریخ تھی۔۔ نیکوکاروں کا وہ قافلہ اپنی منزل کی طرف گامزن تھا۔ اچانک سامنے سے گھڑ سواروں کا اک دستہ نمودار ہوا۔۔ یہ گھڑسوار قریب سے قریب ہوتے گئے۔۔ وہ لوگ پیاسے تھے۔۔ دستہ کے سپہ سالار نے آگے بڑھ کر امام ؑسے پانی کی بھیگ مانگی۔۔ مولا نے فورا حکم دیا کہ ان سب کو پانی پلایا جائے۔۔ اور ان کے جانوروں کو۔۔ کیونکہ جائز نہیں کہ پانی موجود ہو اور کوئی ذی روح پانی کے لیے تڑپ رہا ہو۔۔ اور یہ تو صفین والے امام ؑ کے فرزند ہیں۔۔ جب انہوں نے بھی دشمن کے لیے پانی نہیں روکا تھا۔۔ انسان جانور سب نے جی بھر کے پانی سے پیاس بجھا لی۔۔ انسان تو ہمیشہ سے ناشکرا واقع ہوا ہے۔۔ لیکن جانوروں نے اپنی معصوم زبان میں امام ؑ کا شکریہ ضرور ادا کیا ہو گا۔۔ یہ وہی دستہ تھا جو حرؑ بن یزید ریاحی کی سربراہی میں امام ؑ کا رستہ روکنے کربلا پہنچا تھا۔


    سرزمین کربلا نے اک اور عجیب منظر بھی دیکھا۔۔ وقت کا امام ؑ اس لق ودق صحراء  میں نماز کی امامت کے لیے کھڑا ہوتاہے۔۔ نماز میں وہ اثر ، تکبیر میں وہ خلوص، سجدہ میں وہ خشوع۔۔ کہ صحرا کے جنگلی جانور بھی رک رک کر دیکھتے ہیں۔۔ اور پھر کچھ ہی دیر میں امام وقت کی امامت میں۔۔ صف بہ صف ہو کر خالق حقیقی کے سامنے سر جھکائے ۔۔ اس کی حمد وثناء میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ وہ فوجی دستہ جو امام ؑ کا راستہ روکنے آیا تھا۔۔ وہ جو امام ؑ کا دشمن تھا۔۔وہ بھی اسی امام ؑکی امامت میں نماز پڑھنے کو شرف سمجھتا ہے۔۔ حر ؑ اور اس کے ساتھی صف بستہ امام وقت کی امامت میں نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔۔ اور فضیلت وہ کہ جس کا اعتراف دشمن کرے۔


    حر ؑ اپنے آپ کو جنت ودوزخ کے درمیان پاتا ہے۔۔ پوچھنے والے نے پوچھا کہ عرب کے شجاع ترین فرد کو کیاہو گیا۔۔ کیوں متردد ہے؟۔۔حر ؑنے جب دیکھا کہ قوم حسین ؑ کے قتل سے کم پر راضی نہیں ہے۔۔ حر ؑ نے بہت مشکل فیصلہ کیا۔۔ میں جنت پر کسی چیز کو فوقیت نہیں دوں گا۔۔ اگرچہ مجھے جلایا جائے اور ٹکڑے ٹکڑے کیا جائے۔۔اپنے گھوڑے کو دوڑایا اور لشکر حسینؑ میں آشامل ہو ا۔
    ازل سے جاری اس خیر وشر کی جنگ کو حر ؑجیت چکا تھا۔۔ وہ فاصلہ جو خیمہ حر ؑ سے در شبیر ؑ تک کا تھا انتہائی کم مگر دشوار تھا۔۔ لیکن حر ؑ بہت خوش قسمت تھا ۔۔ کیونکہ وہ یہ دشوار فاصلہ طے کر چکا تھا۔۔ لیکن اس سے بڑھ کر حر ؑ کی خوش قسمتی اس امامت کی نوید میں تھی۔۔ کہ '' اے حر ؑ تیری ماں نے تیرا نام سچ رکھا ۔۔ کہ تو دنیا میں بھی حر اور آخرت میں بھی حر ہے۔''

جس نے حسینؑ مان کے سر کو جدا کیا                   آدیکھ تو حسین ؑ نے اس حر ؑ کو کیا دیا
ماں کا رومال باندھ کے زہراء ؑ کے لعل نے                        حرؑ کی جبیں سے داغ ندامت مٹا دیا


    خیر وشر کی یہ جنگ آج بھی جاری ہے۔۔ اور ہم میں سے ہر کسی نے یہ جنگ لڑنی ہے، حر ؑ ہمارے لیے نمونہ عمل ہیں، ہم نے بھی خیمہ حر ؑ سے در شبیر ؑ تک کا سفرطے  کرنا ہے۔

 

+ لکھاری عباس حسینی در 21 Feb 2016 و ساعت 7:48 PM |

امام رضاؑ اور مسئلہ ولی عہدی

تحریر: سید عباس حسینی

 

تمام مومنین ومومنات کو ١١ ذی القعدہ ١٤٣٣ھ یوم ولادت باسعادت شاہ خراسان امام علی بن موسی الرضا ؑ مبارک ہو۔


امام رضاؑ سلسلہ عصمت کی دسویں کڑی اور آسمان امامت کے آٹھویں آفتاب ہیں۔ آپ ؑ کی ولادت با سعادت ١١ ذی القعدہ سن ٤٨ ھ میں ہوئی۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ یہ وہی سال ہے جس میں آپؑ کے جد بزرگوار امام صادق ؑ کی شہادت واقع ہوئی۔ گویا یہ غیبی اشارہ تھا کہ ایک عالم آل محمد کی جگہ دوسرے عالم آل محمد نے لینی ہے اور بعد میں امام رضا ؑعالم آل محمد ؑ کے لقب سے ہی مشہور ہوئے۔

آپ ؑ کے القابات میں رضا، غریب طوس، غریب الغربائ، عالم آل محمد، صابر، زکی ، رضی ہیں لیکن آ پ مشہور رضا کے لقب سے ہوئے۔

آپ کی زندگی کے مختلف گوشے ہیں جن پر بات کی جا سکتی ہے لیکن سب سے اہم مسئلہ ولی عہدی کا ہے۔ اس حوالے سے اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ آپ نے ایک ظالم کا ولی عہد ہونا کیسے قبول کیا؟
اگرچہ تاریخ کا ہر قاری یہ محسوس کر لے گا کہ امام ؑ نے ولی عہدی اپنی مرضی سے قبول نہیں کی بلکہ اس حوالے سے اما مؑ کو مجبور کیا گیا۔
امام ؑ نے خود اس سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ حضرت یوسف پیغمبر تھے، انہوں نے کافر بادشاہ سے خودسے وزارت طلب کی اور کہا: (اجعلنی علی خزائن الارض انی حفیظ علیم)، میں نے خود سے ولی عہدی طلب کی اور نہ ہی مامون کافر ہے۔


اب سوال یہ ہے کہ مامون عباسی نے کیونکر امام ؑ کو ولی عہد بنانا چاہا اور وہ اس سے کیا سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتا تھا؟ بہت سے علماء کا اس حوالے سے خیال ہے کہ مامون ولی عہدی کے حوالے سے مخلص تھا۔ مامون نے اس وقت نذر مانی تھی جب اس کے اور اس کے بھائی امین کے درمیان نزاع انتہاء کو چھو رہا تھا اور سارے عباسی عرب ماں کا بیٹا ہونے کی وجہ سے امین کا ساتھ دے رہے تھے۔ مامون کے لیے وہ وقت انتہائی مشکل وقت تھا۔ لہذا اس نے نذر مانی کہ وہ اگر اپنے بھائی پر جیت جاتا ہے تو وہ خلافت کو اس کے حقیقی حقدار تک پہنچائے گا۔ خدا نے اس کی دعا سن لی اور وہ اپنے بھائی پر غلبہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ نذر پوری کرنے کے لیے اس نے خاندان رسالت کے تمام افراد کی فہرست بنائی جن کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ ان تمام افراد میں اس کو اما م رضاؑ ہی خلافت کے لیے سب سے موزوں نظر آیا۔ لہذا اس نے امام کو خلافت کی پیشکش کی۔ اس قول کو شیخ صدوق علیہ الرحمۃ نے بھی قبول کیا ہے۔ لیکن اکثر محققین اس بات سے متفق نظر نہیں آتے۔ کیونکہ مامون اس باپ کا بیٹا ہے جس نے مامون ہی کو نصیحت کرتے ہوئے کہاتھا کہ (الملک عقیم) مملکت بھانجھ ہوتی ہے اگر تو بھی اس میں مجھ سے نزاع کرے گا تو تیر آنکھیں پھوڑ دوں گا۔ لہذا یہ بعید ہے کہ مامون واقعا خلافت کو اس کے حقدار تک پہنچانا چاہتا تھا۔

بعض حضرات تو اس حدتک کہتے ہیں کہ مامون حقیتا شیعہ تھا اور وہ امام سے دلی عقیدت رکھتا تھا لہذا وہ امام رضا ؑکو ہی حقیقی خلیفہ سمجھتا تھا۔ لیکن یہ بات انتہائی بعید ہے۔ اگر وہ واقعی شیعہ ہوتا تو اپنے وقت کے امام کو زہر دے کر شہید نہ کرتا۔
تحقیق یہ ہے کہ مامون اس ولی عہدی کے ذریعے شیعیان علیؑ کی ہمدردی سمیٹنا چاہتا تھا، چونکہ عباسی امین کے قتل کے بعد پہلے ہی اس کے خلاف ہوچکے تھے۔ اب علوی بھی اس کے خلاف ہوں اور مختلف جگہوں پر بغاوتوں کا اٹھنا اس کے لیے بہت مہنگا ثابت ہو سکتا تھا۔ لہذا اس نے نہایت چالاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امام ؑ کو اس بات پر مجبور کیا آپ ؑ ولی عہدی قبول کر لے ۔ قبول نہ کرنے کی صورت میں قتل کی دھمکی بھی دی، اور امام ؑ نے کچھ شروط کے ساتھ یہ ولی عہدی قبول کر لی۔ اور تاریخ نے ثابت کردیا کہ مامون اپنے سیاسی مقصد کے حصول میں کامیاب رہا اور امام کی ولیعہدی کے دو سالوں میں شیعوں کی طرف سے حکومت وقت کے خلاف کوئی بغاوت کی تحریک نہیں اٹھی۔
لیکن یہ بھی تاریخ نے دیکھا کہ وہ مملکت جہاں امام کو ولی عہد بنا کر لائے تھے وہاں ٹھیک بارہ صدیوں بعد امام رضا ؑ کے ہی ایک سچے بیٹے حضرت امام خمینی (رض) نے امام ؑ کی حکومت، اسلامی جمہوریہ کے نام سے قائم کر دی۔ اور آج بھی امام رضاؑ اس حکومت کی نگرانی خود فرما رہے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو تا انقلاب قائم دائم رکھے ۔

+ لکھاری عباس حسینی در 12 Feb 2016 و ساعت 12:18 AM |