آیت الله محمدتقی مصباح یزدیؒ

ایک عہد ساز شخصیت

 

1934ء میں یزد میں پیدا ہوئے مجتہد، فلسفی، مفسر قرآن، معلم اخلاق اور حوزہ علمیہ قم کے اساتید میں سے تھے۔ آپ حوزہ کے رسمی دروس کے ساتھ ساتھ دیگر علوم جیسے فزکس (طبیعیات)، کیمسٹری (کیمیا)، فیزیالوجی (جسمانیات) اور فرنچ زبان کی بھی تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں۔ آپ نے یزد سے قم ہجرت کی اور مکاسب‌، کفایہ اور شرح منظومہ کے دروس میں شرکت کی، پھر آیت اللہ بروجردؒی اور امام خمینیؒ کے خارج فقہ کے دروس میں شرکت کی۔ اسی زمانے میں آپ علامہ طباطبائیؒ سے آشنا ہوئے اور ان کے دروس اور اخلاق میں شریک ہوئے۔ آپ نے پندرہ سال تک آیت اللہ بہجتؒ کے دروس میں شرکت کی۔

 

 امام خمینیؒ تعلیمی تحقیقی ادارہ (موسسه آموزشی پژوهشی امام خمینیؒ) کے بانی اور سربراہ تھے۔ مجلس خبرگان رہبری (ایران کی سپریم کونسل جو سپریم مذہبی و سیاسی لیڈر کو چنتی ہے) کی رکنیت، شورائے عالی انقلاب فرہنگی (تہذیبی انقلاب کی اعلی مشاورتی کمیٹی) کی رکنیت، جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم (حوزہ علمیہ قم کے اساتید کی مجلس) کی رکنیت اور مجمع جہانی اہل بیت ؑ(اہلبیتؑ عالمی اسمبلی) کی اعلی مشاورتی کمیٹی کی صدارت آپ کی خدمات میں سے رہی ہیں۔

 

آیت اللہ مصباح یزدیؒ گذشتہ دہائیوں میں ایران کے اندر ولایت مطلقہ فقیہ کے اہم ترین حامیوں اور نظریہ کاروں میں شمار ہوتے رہے ہیں۔ مختلف ادوار میں ولایت فقیہ کے دفاع میں آپ کا اہم کردار رہا ہے۔

 

انقلاب اسلامی سے پہلے پہلوی حکومت کے خلاف لکھے جانے والے سیاسی بیانیوں اور خطوط کے دستخطوں میں علامہ مصباح یزدیؒ کا نام دکھائی دیتا ہے۔ آپ رہبر معظم کے ساتھ فعال گیارہ رکنی خفیہ گروہ کے کاتب تھے جس کے لیے آپ نے مخصوص "رسم الخط" بھی ایجاد کیا تھا جسے صرف آپ سمجھ سکتے ہیں۔

 

سنہ 1995ء میں موسسہ آموزشی پژوہشی امام خمینیؒ (انسٹیٹیوٹ) کی بنیاد رکھی گئی۔ مختلف علوم انسانی کے شعبوں میں تعلیمات اسلامی کے وضاحت اور ان سے استفادہ اور معارف اسلامی و علوم انسانی میں محققین کی تربیت اس ادارے کے اغراض و مقاصد میں تھے۔ اس انسٹیٹیوت کے تحت اب تک انسانی علوم کے نایاب موضوعات پر سینکڑوں کتابیں چھپ چکی ہیں اور ہزاروں شاگرد فارغ التحصیل ہو چکے ہیں۔

 

علامہ مصباح یزدیؒ نے علوم اسلامی جیسے تفسیر، فلسفہ، منطق، فلسفہ دین، سیرتِ معصومینؑ، اخلاق، عرفان اور معارف اسلامی جیسے موضوعات میں متعدد آثار تدوین کئے ہیں جن میں سے بعض کتابوں کا اردو میں ترجمہ ہو چکا ہے۔

 

ستاد انقلاب فرہنگی تشکیل ہونے کے ساتھ ہی علامہ مصباحؒ اس کے رکن بن گئے اور یونیورسٹیوں کے نصاب کو اسلامی بنانے کے لئے حوزہ و یونیورسٹی تعاون مرکز تشکیل پایا تو آپ اس کے بنیادی سرگرم رکن تھے۔

 

آیت‌اللہ مصباح یزدیؒ، مجلس خبرگان رہبری کے دوسرے دور میں خوزستان کے نمائندے اور تیسرے اور چوٹھے دور میں تہران کے نمائندے تھے۔

 

آپ مئی سنہ 1997ء سے اکتوبر سنہ ۲۰۱۲ء تک اہلبیت عالمی اسمبلی کی اعلی مشاورتی کونسل کے صدر رہے۔

 

آیت‌اللہ مصباحؒ سنہ 1997ء میں تہران کی نماز جمعہ میں خطبہ سے پہلے تقریر کرتے تھے۔ آپ کی یہ تقریریں بعد میں " نظریہ سیاسی اسلام" کے عنوان سے دو جلدوں میں شائع ہوئیں۔

 

آیت‌اللہ مصباح یزدیؒ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے رکن رہے ہیں۔

 

سنہ 2011ء سے علامہ مصباح یزدیؒ کے کچھ چاہنے والوں اور حامیوں نے جبہہ پائداری کے نام سے ایک سیاسی پارٹی تشکیل دی تھی۔ انھوں نے علامہ مصباح یزدیؒ کو اس پارٹی کے بزرگ رہنما کے عنوان سے پیش کیا تھا۔ آپ نے اس پارٹی کے آئین کی تصدیق کی تھی۔

 

آیت اللہ مصباح یزدیؒ کو رہبر معظم سے اور رہبر معظم کو ان سے خاص عقیدت تھی۔ رہبر معظم نے ان کی شخصیت سے متعلق فرمایا:

(بنده نزدیک به چهل سال است که جناب آقای مصباح را می‌شناسم و به ایشان به عنوان، یک فقیه، فیلسوف، متفکر و صاحب نظر در مسائل اساسی اسلام ارادت دارم. اگر خدای متعال به نسل کنونی ما، این توفیق را نداد که از شخصیت‌هایی مانند علامه طباطبایی و شهید مطهری استفاده کند، اما به لطف خدا این شخصیت عزیز و عظیم القدر خلع آن عزیزان را در زمان ما پر می‌کند.)

یعنی میں چالیس سال سے آغا مصباحؒ کو جانتا ہوں۔ ایک فقیہ، فلسفی، مفکر اور سیاسی مسائل کے تجزیہ نگار کے عنوان سے ان سے عیقدت رکھتا ہوں۔ اگر اللہ تعالی نے موجودہ نسل کو علامہ طباطبائیؒ اور شہید مرتضی مطہریؒ جیسی شخصیات سے استفادے کی توفیق سے محروم رکھا ہے، تو خدا کے لطف سے یہ عزیز اور عظیم القدر شخصیت (علامہ مصباحؒ) ان کی کمی کو اس زمانے میں پورا کر رہی ہے۔


رہبر معظم کا یہ عظیم ساتھی، انقلاب کا اہم رکن، یہ عالم با عمل (یکم جنوری 2012ء) شہید قاسم سلیمانیؒ کی شہادت کے ایام میں ہم سب کو سوگوار کرتے ہوئے راہی دارِ بقا ہوئے۔

خدا رحمت کند این عاشقان پاک طینت را

حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

+ لکھاری عباس حسینی در 2 Jan 2021 و ساعت 12:11 AM |

شاعر مشرق علامہ اقبال کے بارے میں رهبر معظم سید علی خامنہ ای حفظہ اللہ کے تعریفی کلمات

 

  • اقبال کا فارسی کلام میرے نزدیک شعری معجزات میں سے ہے۔ ہمارے ادب کی تاریخ میں فارسی میں شعر کہنے والے غیر ایرانی بہت زیادہ ہیں لیکن کسی کی بھی نشان دہی نہیں کی جا سکتی جو فارسی میں شعر کہنے میں اقبال کی خصوصیات کا حامل ہو۔
  • میں درخواست کرتا ہوں کہ آپ اقبال کے کلام کو زندہ کیجیے۔ اقبال کو متعارف کرانے کا بہترین ذریعہ ان کا کلام ہے اور اقبال کو کوئی بھی دوسرا بیان متعارف نہیں کرا سکتا۔ اقبال مانند آفتاب شاعر ہیں اور ان کے بعض فارسی اشعار اپنے عروج پر پہنچے ہوئے ہیں۔ بعض اوقات تو ان کا کلام ساتویں آسمان پر پہنچا ہوا ہے اور نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔
  • اقبال ایک عظیم مصلح اور حریت پسند شخص ہیں البتہ اقبال کو صرف سماجی مصلح نہیں کہا جا سکتا۔ اقبال کا مسئلہ صرف ہندوستان کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ اسلامی دنیا اور مشرق کا مسئلہ تھا۔ (بطور شاہد اقبال کے کلام کا مجموعہ: پس چه باید کرد ای اقوام شرق)
  • اقبال ایک ہوشیار مرد اور المومن کیس (مومن ہوشیار ہوتا ہے) کے مصداق استعماری سیاست کی ریشہ دوانیوں اور کاموں کو پہچانتے تھے۔ یہ بات اقبال کی عظمت کی کاملا نشاندہی کرتی ہے۔
  • اس تاریک رات میں جس میں کوئی ستارہ نہ تھا، اقبال نے خودی کی مشعل روشن کی۔ اقبال نے صرف ہندوستان کی نہیں، ساری دنیا کی فکر کی۔ اپنے ملک میں انہوں نے ثقافتی اور سیاسی انقلاب برپا کیا۔ اقبال کا پہلا مشن ہندوستانی معاشرے کو اسلامی تشخص، اسلامی امن اور اسلامی شخصیت بلکہ انسانی شخصیت کی طرف متوجہ کرنا تھا۔
  • اقبال کے پورے دیوان میں اور ان کے سارے کلام میں انسان پیغمبر اکرمﷺ سے عشق کو دیکھتا ہے۔
  • اسلام کی ترویج مین امت توحیدی کی ذمہ داری اقبال کے پرجوش ترین نظریات میں سے ایک ہے۔ اقبال کا خیال ہے مسلمانوں اور امت اسلامیہ جنہیں اسلام کی ترویج کرنی چاہیے چین سے نہیں بیٹھنا چاہیے تاکہ اس کام کو انجام دے سکیں۔
  • اقبال کی کتاب میں شاید سو بار سے زیادہ اسلام اور مسلمان کی آفاقاقیت اور اس کے عالمی وطن کا ذکر آیا ہے۔
  • اقبال نے اس قدر زیادہ دل چسپ اور اچھے موضوعات پر گفتگو کی ہے کہ انسان کو سمجھ نہیں آتا کس کو فوقیت دی جائے اور بیان کیا جائے۔
  • میں جب سے اقبال کے کلام سے آشنا ہوا ہوں دیکھتا تھا کہ اس کلام کی اچھی وضاحت کی ضرورت ہے۔ مجھے اس بات کا دکھ ہوتا تھا۔ ضرورت ہے کہ کچھ لوگ علامہ اقبال کے مدنظر مضامین اور مفاہیم کی تشریح کریں۔
  • اقبال بلاشک مشرق کا بلند ستارہ ہے۔ بے جا نہ ہوگا اگر ہم اقبال کو اس لفظ کے حتمی معنی میں مشرق کا بلند ستارہ پکاریں۔ امید ہے ہم اقبال کا حق ادا کر سکیں۔ اقبال کی شناخت میں اپنی قوم کی تاخیر کا ازلہ کر سکیں۔
  • اقبال کو اس طرح جیسا کہ ان کا حق ہے زندہ کریں۔ ان کے کلام کو کورس کی کتابوں اور دیگر کتابوں میں شامل کریں اور پیش کریں۔

 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

اقبال مشرق کا بلند ستارہ

رهبر معظم سید علی خامنه ای (حفظه الله)

 

 


ٹیگس: علامہ اقبال, رہبر معظم
+ لکھاری عباس حسینی در 10 Nov 2020 و ساعت 11:11 PM |

میترا نہیں، زینب ہوں۔

شہیدہ حجاب شہیدہ زینب کمایی کا تذکرہ

 

زینب کمایی کی ولادت1969ء میں  آبادان (بصرہ کے بالمقابل ایرانی شہر) میں ہوئی۔ ماں نے ان کا نام "میترا" رکھا۔ جب میترا بڑی ہوئیں تو انہوں نے اپنے نام پر اعتراض کیا۔ انہوں نے اپنی ماں سے کہا: "یہ کونسا نام ہے جو آپ نے میرے لیے چنا ہے؟ اگر اگلی دنیا میں آپ سے پوچھا جائے کہ کیوں میرا نام میترا رکھا ہے؟ تب آپ کیا جواب دیں گی؟ میں چاہتی ہوں میرا نام "زینب" ہو۔ میں حضرت زینب (ع) کی طرح بننا چاہتی ہوں۔

 

میترا نے اپنے خاندان والوں کو قائل کیا کہ ان کا نام میترا سے بدل کے زینب رکھ دیا جائے۔ ایک دن روزہ رکھا، افطاری کے وقت دوستوں کو دعوت دی اور اپنا نام تبدیل کرنے کا اعلان سنایا۔

 

ان کی ماں کے مطابق زینب میرے تمام بچوں سے مختلف تھی۔ کسی بھی کام پر اعتراض نہیں کرتی تھی. بہت صبر کرنے والی لیکن سب سے زیادہ کام کرنے والی۔ گھر کے تمام کاموں میں میری مدد کرتی تھی۔ لباس، کھیل اور کھانے پینے کے پیچھے بھاگنے کی بجائے نماز، روزہ اور قرآن کی طرف بھاگتی تھی۔

 

شاید یہی وجہ تھی کہ زینب کو بچپن سے ہی مختلف خواب آنے شروع ہو گئے۔ زینب کی عمر چار پانچ سال ہوگی جب خواب دیکھا کہ آسمان کے تمام ستارے ایک بڑے ستارے کی تعظیم کر رہے ہیں۔ جب خواب سے بیدار ہوئی تو مجھ سے کہا: وہ زیادہ نور والا ستارہ حضرت فاطمہ زہراء (س) تھیں۔

 

زینب سکول کی کلاسز کے حوالے سے بھی انتہائی محتنی تھی۔ جب پرائمری میں تھی تب قرآن کی کلاسوں میں بھی شرکت کرتی تھی۔ قرآن کی کلاسوں میں جانے کے بعد زینب کو حجاب سے محبت ہو گئی۔ زینب چوتھی کلاس سے ہی باحجاب ہوگئی۔ سکول میں بعض اسٹوڈنٹس ان کے حجاب کا مذاق بھی اڑاتے تھے۔ اس وقت سے زینب روزے بھی رکھتی تھی حالانکہ آبادان میں بہت سخت گرمی پڑتی تھی۔

 

جب انقلاب کے ایام شروع ہوئے زینب نے اپنے سکول میں انقلاب کے لیے کام کرنا شروع کیا۔ امام خمینی (رہ) کے پیغامات سننے کے بعد زینب ہر پیر اور جمعرات کو روزہ رکھتی تھی۔ اپنی اخلاقی تربیت کی طرف بھی بہت توجہ کرتی تھی اور اس حوالے سے ایک مکمل پروگرام (ٹیبل) بنایا ہوا تھا۔ انقلاب کی کامیابی کے بعد زینب دینی مدرسے (حوزہ علمیہ) جانا چاہتی تھیں۔ وہ کہا کرتی تھیں: "ہمیں چاہیے دین کو اچھی طرح سمجھیں تاکہ اس پر عمل کر سکیں۔"

 

ابھی انقلاب کو زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ جنگ شروع ہوئی اور زینب کی فیملی کو آبادان سے اصفہان شفٹ ہونا پڑا۔ زینب نے وہاں اسکول میں داخلہ لیا۔ زینب کا شہیدوں سے ایک خاص تعلق تھا۔ کسی بھی شہید کا جنازہ لایا جاتا تو زینب اس کی تشییع میں ضرور شرکت کرتی۔ شہید کی قبر سے تھوڑی مٹی اٹھاتی، اپنے ساتھ لے آتی اور تبرک کے طور پر اپنے پاس رکھتی۔

 

جنگ کے دوران زینب انقلاب کی مدد کے لیے ہمیشہ کوشاں رہی۔ اپنا جیپ خرچ اور ٹیکسی کا کرایہ بچا کر پیدل سکول جایا کرتی تھی۔ بچے ہوئے پیسوں سے کتابیں خرید کر ہسپتال جا کر جنگ کے زخمیوں میں تقسیم کرتی۔ حجاب کے حوالے سے ان زخمیوں کے اقوال ریکارڈ کر کے دوسروں تک پہنچاتی۔

 

ان کی ماں کے مطابق: میں نے کئی مرتبہ سردیوں کی راتوں میں زینب کو نماز فجرسے پہلے اٹھ کر نمازِ شب پڑھتے دیکھا ہے۔ جس رات زینب نے حضرت زہراء (س) کی تعلیم کردہ دعائے نور یاد کی اس رات عجیب خواب دیکھا۔ وہ دیکھتی ہے کہ سیاہ چادر میں ملبوس ایک خاتوں ان کے ساتھ بیٹھ جاتی ہیں اور دعائے نور کی تفسیر بیان کرتی ہیں۔ اس خوبصورت تفسیر کو سن کر زینب خواب میں رونا شروع کرتی ہیں۔ خواب میں زینب کچھ بچوں کو وہی تفسیر پڑھا رہی تھی۔

 

ایک رات ماں دیکھتی ہے کہ زینب کا سجدہ کا کچھ زیادہ طولانی ہوا ہے اور وہ مسلسل روئے جا رہی ہے۔ پوچھنے پر سرخ ہوئی آنکھیں پونچھتی ہوئی بولی: ماما! میں امام خمینیؒ کے لیے گریہ کر رہی ہوں۔ امام خمینیؒ تنہا ہیں۔ سختیاں بہت ہیں۔ جنگ کی وجہ سے ملک میں بہت مشکلات ہیں اور امام خمینیؒ سب سے زیادہ پریشان ہیں۔

 

اسکول سے واپسی پر زینب محلے کی مسجد (مسجد الھدی) میں جا کر پہلے نماز پڑھتی پھر گھر آتی تھی۔ 21 مارچ 1983ء جب مسجد سے واپس آرہی تھی منافقین نے زینب کو اغوا کیا اور اس کی چادر کے ساتھ اس کا گلا گھونٹ دیا۔ تین دن کی تلاش کے بعد ان کی لاش ملی۔ اس وقت کے منافقین نے زینب کے قتل کی ذمہ داری قبول کی۔ وہ اس چودہ سالہ بچی کی جدوجہد سے خائف تھے۔ امام خمینیؒ اور انقلاب سے زینب کے عشق کو وہ اپنے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔

زینب کمایی کی ڈائری سے:

(یہ تحریر 14 سال کی عمر میں انہوں لکھی تھی):

 

🍃 اس (ذات باری) کے نام سے جس سے میرا وجود ہے، جس کی طرف جانا ہے، میری زندگی اس کی خاطر ہے۔ میں نے اسی کی طرف جانا ہے۔ میں اسے حس کرتی ہوں، اپنے وجود کے ذرے ذرے میں اس کا احساس ہے، لیکن بیان نہیں کیا جا سکتا۔

 

🍃 خدایا! جب میں اس عمر تک پہنچ چکی ہوں۔۔۔ ابھی مجھے علم ہوا ہے کہ یہ فانی دنیا کتنی کم قیمت ہے۔ اب مجھے سمجھ آتی ہے کہ شہداء کس طرح عاشقانہ تجھ سے ملاقات کے لیے دوڑتے ہیں۔۔ خدایا! مجھے بھی اپنی آرزو تک پہنچا دے اور شہادت مجھ تک پہنچا دے۔


ٹیگس: شہید, شہادت
+ لکھاری عباس حسینی در 22 Apr 2020 و ساعت 5:48 AM |

"دشمن کی خاردار تاروں سے وہی گزر سکتا ہے، جو اپنے نفس کی خاردار تاروں میں نہ پھنسا ہو۔"

علی چیت سازیان۔۔ 25 سال کا ایک جوان۔۔ جو اس کم عمری میں ایک پورے لشکر کا کمانڈر بن جاتا ہے۔خلوص، محبت، وفاداری، شجاعت، بہادری اور معاملہ فہمی کا عظیم پیکر۔  نہیں معلوم لوگ کیسے اتنے کم وقت میں اتنا زیادہ فاصلہ طے کر لیتے ہیں۔ یقینا خدا کا خاص لطف و کرم ان کے شامل ہوگا۔ اس کم عمری میں دین فہمی کے واقعات پڑھ کے انسان ششدر رہ جاتاہے۔

بیوی کہتی ہے:

ہم بوعلی ہاسپٹل کے سامنے سے گزر رہے تھے۔

میں نے علی آغا سے کہا: چند مہینوں بعد ہمارا بچہ اسی ہاسپٹل میں اس دنیا میں آئے گا۔

تعجب کے ساتھ کہا: "یہاں؟"

میں نے کہا: "ہاں، یہ پرائیویٹ ہاسپٹل ہے اور ہمدان کا سب سے اچھا ہاسپٹل یہی ہے۔"

علی نے کہا: "نہیں، ہم اس ہسپتال میں جائیں گے جہاں سارے غریب لوگ جاتے ہیں۔ یہ امیروں کی جگہ ہے۔ یہاں آنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔"

نکاح کے وقت اپنی بیوی سے علی چیت سازیان کہتے ہیں:

"موت سے میرا فاصلہ ایک سیکنڈ کا ہے۔ دعا کریں  مجھے شہادت نصیب ہو۔ ہر لمحہ ممکن ہے میں زخمی، اسیر یا شہید ہو جاؤں۔ "" میرے پاس دنیا کے مال سے کچھ بھی نہیں۔ نہ گھر ہے، نہ گاڑی ہے، نہ پیسے ہیں۔ لیکن خدا کا شکر میرا جسم سالم ہے۔ " "حضرت زہراء (س) اور اہل بیت کرام (ع) کے ہم عاشق ہیں۔ ان کے مبارک ناموں پر زبان پر لانے کے لیے بھی ایک خاص قسم کی توفیق اور لیاقت چاہیے۔"

یہ کتاب علی چیت سازیان کی باوفا  بیگم زہرا پناہی روا کی آپ بیتی ہے جسے بہناز ضرابی زادہ نے داستان کی شکل میں لکھا ہے۔ کتاب کا اردو میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ مطالعہ کا ذوق رکھنے والے تمام احباب سے کتاب پڑھنے کی سفارش کروں گا۔

رہبر معظم (حفظہ اللہ) کتاب کی تقریظ میں لکھتے ہیں:

"ایک ایسے جوان مرد کے جہاد اور اخلاص کی کہانی جس نے جوانی میں ہی بڑے الہی بندوں کا مقام اور مرتبہ پالیا۔ زمین پر بھی اور ملا اعلی میں بھی اس نے عزت پالی۔ یہ مقام اس کو مبارک ہو۔"

+ لکھاری عباس حسینی در 11 Nov 2019 و ساعت 7:1 AM |

وصیت نامہ شہید محسن حججی

Wasiyyat Nama Shaheed Mohsin Hujaji

(شہیدِ بےسر محسن حججی کا الہی وصیت نامہ۔ آپ حرمِ حضرت زینب (سلام اللہ علیھا) کا دفاع کرتے ہوئے داعش کے ہاتھوں مظلومانہ شہید ہوئے اور اپنے مولا کی اتباع میں بغیر سر دفن ہوئے۔)

 

بسم الله النور...
صَلی الله علیک یا اُماه یا فاطمه الزهرا "سلام علیک"
وَلاتَحسَبن الذینَ قُتلوا فی سَبیل الله اَمواتا، بَل احیاء عند رَبِهم یُرَزقون

هرگز نمیرد آن که دلش زنده شد به عشق

ثبت است بر جریده عالم دوام ما

جس کا دل عشق سے زندہ ہوا وہ کبھی مرتا نہیں۔ اس کائنات کی کتاب پر ہمارا دوام نقش ہے۔

 

جانے میں صرف چند گھنٹے رہ گئے ہیں، جوں جوں جانے کا وقت  نزدیک آرہا ہے میرا دل زیاہ بے تاب ہو رہا ہے۔۔۔ مجھے نہیں معلوم کیا لکھوں اور کیسے اپنے احساسات اور اپنی حالت بیان کروں۔۔۔؟ نہیں معلوم کیسے اپنی خوشحالی بیان کروں اور کیسے اور کس زبان سے نعمت دینے والے خدا کا شکر ادا کروں۔۔۔؟ اپنی ذمہ داری سمجھ کر کچھ سطریں وصیت کےعنوان سے سپردِ قلم کر رہا ہوں۔

مجھے نہیں معلوم کیا ہوا کہ تقدیر مجھے اس عشق سے بھرپور راستے پر لے آئی۔۔۔ مجھے نہیں معلوم کونسی چیزیں اس بات کا سبب بنیں۔۔۔؟

بے شک میری ماں کے حلال دودھ، والد کے حلال لقمے، بیوی کے انتخاب اور بہت ساری دوسری چیزوں کا اثر تھا۔۔۔

 

ایک مدت ہو چلی۔۔۔ شب وروز شہادت کے عشق میں گزارے ۔۔ میرا ہمیشہ سے یہ عقیدہ تھا اور اب بھی ہے کہ شہادت کے ذریعے بندگی کے بلند ترین مرتبے پر پہنچوں گا۔ بہت کوشش کی ہے اپنے آپ کو اس مقام تک پہنچاوں، لیکن نہیں معلوم کس حد تک  کامیاب ہوا ہوں۔۔۔؟

 

میری چشم ِامید صرف خدا اور اہل بیت(علیہم السلام) کے کرم پر ہے، اور مجھے اتنی امید ہے کہ وہ مجھ جیسے سیاہکار گناہگار کو قبول کریں گے اور اپنی رحمت کی ایک نظر اس پر تقصیر بندے پر بھی فرمائیں گے۔

اگر ایسا ہو تو۔۔ الحمدالله رب العالمین...

اگر کسی دن اس حقیر سراپا تقصیر کی شہادت کی خبر سن لوتو جان لینا کہ  اس کی وجہ صرف خدا کا کرم اور اس کی رحمت ہے۔ وہ ہے کہ جو مجھ جیسے روسیاہ کو بخش دیتا ہے اور میری مدد کرتا ہے۔

 

میری پیاری بیگم! زہراء جان

اگر کسی دن میری شہادت کی خبر سنو تو جان لو کہ میں اپنی اس حقیقی آرزو تک پہنچ گیا ہوں جو تم سے شادی کا اصل مقصد تھی۔ اپنے اوپر فخر کرو کہ تمہارا شوہر حضرت زینب (علیھا السلام) پر فدا ہوا ہے۔

ہرگز بےتاب نہ ہونا۔ ہرگز واویلا مت کرنا۔ صبر سے کام لینا، اور ہر لحظہ اپنے آپ کو حضرت زینب (علیھا السلام) کے حضورمیں سمجھ لینا۔۔۔ حضرت زینب (علیھا السلام) نے تم سے زیادہ مصائب دیکھے ہیں۔

 

میرے محترم والد!

ہمیشہ اور ہرحالت میں میری زندگی اور مردانگی کا رول ماڈل آپ تھے اور آپ ہی ہیں۔ اگر کسی دن میری شہادت کی خبر پہنچے، تواس وقت کو یاد کیجیے گا جب حسین بن علی (علیھما السلام) اپنے جگر گوشہ علی اکبر (علیہ السلام) کے سرہانے حاضر ہوئے۔۔۔ آپ کا غم ابا عبد اللہ الحسین (علیہ السلام) کے غم سے بڑھ کر نہیں ہے۔ پس صبر سے کام لیں۔ میں جانتا ہوں بہت سخت ہے، لیکن ایسا (صبر) کرنا ممکن ہے۔

 

میری پیاری ماں!

حضرت ام البنین (علیھا السلام) کے چار بیٹے تھے اور چاروں کو حضرت امام حسین (علیہ السلام) اور سیدہ زینب (علیھا السلام) پر فدا کیے، اور ان کی پیشانی پر بل تک نہیں آئے۔ جس وقت انہیں بیٹوں کی شہادت کی خبر دی گئی، اس وقت بھی صرف امام حسین (علیہ السلام) کے بارے میں پوچھتی رہیں۔ لہذا اگر کسی دن میری شہادت کی خبر آئے، حضرت ام البنین (علیھا السلام) کی طرح صبر اور افتخار کے ساتھ آواز بلند کرنا کہ آپ مجھے امام حسین (علیہ السلام) اور حضرت زینب (علیھا السلام) پر فدا کر چکی ہیں، اور ہرگز بے تابی کے ذریعے دشمن کے دل خوش نہ کیجیے گا۔۔۔!

 

میرے پیارے بھائی!

اگر کسی دن مجھے شہادت کے لباس میں دیکھیں، تب اس وقت کو یاد کر لیں جب حضرت امام حسین (علیہ السلام) حضرت عباس (علیہ السلام) کے سرہانے آئے۔ بھائی کے غم میں ان کی کمر خم ہو چکی تھی۔۔ ہرگز ناشکری مت کرنا۔ ہرگز اس تحفے پر جو اسلام کے نام پیش کیا جا چکا ہو، کوئی آنسو مت بہانا۔

 

میری اچھی بہنو۔۔!

جس وقت میں امی ابو اور آپ لوگوں سے الوداع کہہ رہا تھا تب مجھے وہ لمحہ یاد آرہا تھا جب اہل حرم حضرت علی اکبر (علیہ السلام) کو میدان کے لیے روانہ کر رہے تھے۔ پس اگر میں بھی سرخرو ہوں، تب اپنے آنسو، غم اور فریاد حضرت علی اکبر (علیہ السلام) پر فدا کرنا۔ ہرگز اپنے غم کو اہل حرم کے غم سے زیادہ مت سمجھنا۔۔!

 

میرے پیارے بیٹے، علی جان!

مجھے معاف کرنا اگر تمہارا قد بلند ہوتے ہوئے میں نہ دیکھ سکوں، اگر تمہارے جوان ہونے کا نظارہ نہ کر سکوں۔۔۔ کوشش کرنا میرے راستے کو آگے بڑھانا۔۔ کوشش کرنا کوئی ایسا کام انجام دوجس کا اختتام شہادت پر ہو۔

 

میرے محترم سسر اور ساس!

ہمیشہ آپ لوگوں کو اپنے حقیقی والدین کی طرح سمجھتا تھا۔ مجھے اس بات پر خوشی ہے کہ میری قسمت آپ کے خاندان کے ساتھ جڑ گئی۔ آپ لوگوں کو بھی صرف صبر اور تحمل کی سفارش کرتا ہوں۔

 

تمام لوگوں سے گزارش ہے اس گناہگار کو معاف کریں، اگر کسی کا حق میں نے ضائع کیا ہو، کسی کی غیبت کی ہو، کسی کا دل دکھایا ہو، کوئی گناہ کیا ہو، آپ سب مجھے معاف کر دیں۔۔!

 

کچھ عمومی وصیتیں:

ولایت فقیہ سے غافل مت ہونا، اور جان لیں کہ میں اس یقین تک پہنچا ہوں کہ امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) امام زمان (عج اللہ تعالی فرجہ) کے برحق نائب ہیں۔

تمام بہنوں سے اور رسول اللہ (صل اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کی تمام خواتین سے  چاہوں گا اپنے حجاب کو مضبوط کریں۔ خدا نخواستہ آپ کے سر کا کوئی بال کسی نامحرم کو اپنی طرف جذب کرے۔ خدانخواستہ آپ کے چہرے پر کوئی زینت کسی کی توجہ کا سبب بنے۔ خدانخواستہ اپنی چادر چھوڑ دیں۔۔ ہمیشہ حضرت زہراء (علیھا السلام) اور اہل بیت کرام (علیھم السلام) کی دوسری خواتین کو اپنے لیے رول ماڈل سمجھیں۔ ہمیشہ اس شعر کو یاد رکھیں:

جب حضرت رقیہ (علیھا السلام) نے اپنے بابا کو خطاب کر کے فرمایا:

غصه ی حجاب من را نخوری بابا جان
چادرم سوخته اما به سرم هست هنوز...

(بابا جان! میرے حجاب کے بارے آپ پریشان مت ہوں۔ میری چادر جل تو گئی ہے، لیکن اب بھی سر پر ہی ہے۔)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کے تمام مردوں سے چاہوں گا کہ مغربی تہذیب اور فیشن کے فریب میں مت آنا۔ ہمیشہ علی بن ابی طالب (علیہ السلام) کو اپنے لیے نمونہ اور پیشوا سمجھنا اور شہداء سے درس لینا۔۔۔

اپنے آپ کو امام زمان (روحی لک الفداء) کے ظہور اور کافروں خصوصا اسرائیل سے جنگ کے لی آمادہ کرنا کہ وہ دن بہت قریب ہے۔۔

ہمیشہ خدا کا عبد بنے رہنا، اگر ایسا ہوا تو جان لو کہ آپ سب کی عاقبت خیر ہوگی۔

 

کچھ حق الناس میری گردن پر ہے، عاجزانہ التماس ہے وہ ادا کر دیں۔۔!

ایک ملین تومان دادی جان سے لیے ہوئے ہیں۔

برادر محسن ہمتی کے کچھ تومان ہیں جو ثقافتی و دیگر امور کے لیے ان سے لیے تھے۔

۳۲ ہزار تومان اور کچھ سر پر باندھنے والی پٹیاں مرکز شہدائے بنیاد امیرآباد سے لیے تھے۔

اگر آپ لوگوں کے لیے ممکن ہوا تو ایک مہینے کی نماز میرے لیے پڑھیں اور ایک مہینے کا روزہ میری طرف سے رکھیں، اگر خدانخوستہ کبھی کبھار غلطی سے کوئی نماز قضا ہوئی ہو یا کوئی روزہ قضا ہوا ہو تو اس کا جبران ہو جائے۔

اللهم عجل لولیک الفرج
اللَّهُمَّ اجْعَلْنِی مِنْ أَنْصَارِهِ وَ أَعْوَانِهِ وَ الذَّابِّینَ عَنْهُ وَ الْمُسَارِعِینَ إِلَیْهِ فِی قَضَاءِ حَوَائِجِهِ وَ الْمُحَامِینَ عَنْهُ وَ السَّابِقِینَ إِلَى إِرَادَتِهِ وَ الْمُسْتَشْهَدِینَ بَیْنَ یَدَیْه

آمین                     
  ١٣٩٦/٤/٢٧               
محسن حججی   

 


ٹیگس: شہید, شہادت, محسن حججی
+ لکھاری عباس حسینی در 16 Apr 2019 و ساعت 11:4 PM |

حمید اور فرزانہ

تحریر: سید عباس حسینی


 

نام اس کا حمید تھا۔ عمر صرف ۲۶ سال۔ ایسا پاکیزہ جوان جس نے دین کو نہ صرف مکمل طور پر سمجھا ہوا تھا، بلکہ تمام تر جزئیات کے ساتھ دین پر عمل پیرا بھی تھا۔ ان کی زندگی پڑھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ بعض لوگ انتہائی کم عمری کے باوجود کس قدر بڑی شخصیت کے حامل ہوتے ہیں اور نہایت تیزی کے ساتھ کمال کے مراحل طے کر لیتے ہیں۔ ان کی شادی اپنی کزن اور میڈیکل کی طالبہ فرزانہ سے طے ہوتی ہے، جو خود بھی دینی اقدار کی انتہائی پابند جوان ہیں۔ اس نیت سے دونوں میاں بیوی تین دن کے لیے روزے کی نیت کرتے ہیں کہ ان کی شادی کے مراسم میں کوئی گناہ انجام نہ پائے۔

 

منگنی کے دن بیوی سے کہتے ہیں: "اس دل کا پہلا عشق خدا ہے، دوسرا عشق امام حسین علیہ السلام ہے، اور تم میرا تیسرا عشق ہو۔"

 

شادی کے بعد حمید کہتے ہیں: "آئیے اس حوالے سے سوچیے کہ ہماری ازداوجی زندگی پہلے کی زندگی سے مختلف ہونی چاہیے۔" حمید نے مشورہ دیا کہ صبح بھی اور شام بھی ایک صفحہ قرآن مل کر پڑھیں گے۔ صبح نماز کے بعد میاں بیوی مل کر پہلے دعائے عہد پڑھتے ہیں اور پھر ایک دن میاں، اور دوسرے دن بیوی قرآن سے ایک صفحے کی تلاوت کرتے ہیں۔ اس بات پر مقید تھے کہ قرآن کو ترجمے کے ساتھ پڑھنا ہے۔ کچھ مدت بعد حمید ہی کی حوصلہ افزائی پر فرزانہ نے مکمل قرآن حفظ کر لیا۔ حمید خود بھی قرآن حفظ کر رہا تھا، اور اس نے چند پارے حفظ کر لیے تھے۔

 

رمضان کے حوالے سے میاں بیوی خصوصی پروگرام بناتے ہیں۔ شیخ عباس قمی کی کتاب "منتہی الآمال" اٹھاتے ہیں۔ ہر روز ایک معصوم کی زندگی کا مل کر مطالعہ کرتے ہیں۔ رمضان کی چودہ تاریخ کو امام زمان عج کی حیات طیبہ پڑھ کر کتاب ختم کرتے ہیں۔

 

ایک دن بیوی دیکھتی ہے کہ گھر کے فریج پر ایک صفحہ چپکا ہوا ہے۔ ایک طرف ہفتے کے دنوں کے نام ہیں، جبکہ کاغذ کے اوپر لکھا ہوا ہے: دوپہر کا کھانا، شام کا کھانا۔ پھر ہر خانے میں ایک معصوم کا نام لکھا ہوا ہے۔ بیوی نے پوچھا! حمید یہ کیا ہے؟ جواب دیتے ہیں: "اب کے بعد گھر میں جو بھی کھانا بنے گا وہ کسی امام کے نام پر بنے گا۔ ہر روز اسی امام کے ذکر اور نیت سے تم کھانا بناو۔ اس طرح ہم ہر روز اہل بیت کے نام نذر کیا ہوا کھانا کھائیں گے، اور اس کے ہماری زندگی پر نہایت مثبت اثرات ہوں گے۔"

 

شادی کے بعد جس وقت گھر کرایہ پر لینا چاہتے ہیں، ایک بڑا گھر دیکھ لیتے ہیں اور پسند کرتے ہیں۔ اتنے میں دوست کا فون آتا ہے کہ پیسوں کی ضرورت ہے۔ ڈپوزٹ کے آدھے پیسے دوست کو دے دیتے ہیں، اور اپنے لیے ایک چھوٹا سا گھر پسند کرتے ہیں۔ ازدواجی زندگی کے دو سال پھر اس چھوٹے سے گھر میں ہی گزارتے ہیں۔

 

حمید کی عادت تھی کہ جب بھی اپنی ماں سے ملتا، ان کے سامنے جھک جاتا، ان کی پیشانی چوم لیتا۔ جب بھی ان کی ماں کا فون آتا حمید کی حالت تبدیل ہو جاتی۔ اس وقت اگر لیٹا ہوتا تو مودبانہ طور پر اٹھ جاتا اور نہایت احترام سے بات کرتا۔ اس کے علاوہ تمام رشتہ داروں کے ساتھ نہایت عزت اور احترام سے ملتا۔ ان کو اپنے گھر کھانے کی دعوت پر بلاتا۔

 

کوئی بھی بات جس سے غیبت کی بو آئے، اس پر اپنا رد عمل ظاہر کرتا۔ فورا سے بات اور موضوع تبدیل کر لیتا۔ ہر صورت میں رات کو پانی بیٹھ کر ہی پیتا۔ اس بات پر امام صادق علیہ السلام کی حدیث کا حوالہ دیتا۔

 

جب بھی کچھ خریدنا ہو گلی کے کونے میں موجود قریب ترین دکان سے ہی خرید لیتا۔ بعض دفعہ دکان بند ہوتی تب اس کے کھلنے کا انتظار کرتا۔ پوچھنے پر بتاتا: "اس بندہ خدا نے یہاں جو دکان کھولی ہے، اس کی ساری امیدیں ہم ہمسایوں پر ہیں کہ ہم ان سے خریداری کریں۔ جب تک ممکن ہو، اور کوئی مجبوری پیش نہ آئے یہیں سے خریداری کرنی چاہیے۔"

 

جب بھی گھر کے لیے گوشت خریدتا، گوشت میں سے ایک بہترین بوٹی کا انتخاب کرتا، کاٹ کر چھت پر بلیوں کے لیے ڈالتا۔ کہتا "تمام مرحومین کی طرف سے"۔

 

جب بھی رات کو دیر سے موٹر سائیکل پر گھر آنا ہوتا، گلی میں داخل ہونے سے پہلے موٹر بند کرتا اور دھکا دیتے ہوئے موٹر سائیکل گھر لے آتا۔ کہتا تھا: "ممکن ہے بائیک کی آواز کی وجہ سے ہمسایے تنگ ہوں۔" گھر سے نکلنا ہو تب بھی اس بات کا خیال رکھتا۔

 

ٹیکسی پر جاتے ہوئے دیکھا کہ ڈائیور نے کسی عورت کی آواز میں ترانہ لگایا ہوا ہے۔ حمید نے ہنستے ہوئے خوش اخلاقی کے ساتھ کہا: "برائے مہربانی عورت کی یہ آواز بند کر سکتے ہیں۔؟ اگر آپ کے پاس ہے تو کوئی "مردانہ" آواز لگائیں۔" ڈرائیور یہ بات سن کر ہنسنے لگا اور ترانہ اسی وقت بند کیا۔

 

رات کو چلتے چلتے موٹر سائیکل سے "یا حسین، یا حسین" کی آواز بلند کرنا شروع کیا۔ پیچھے بیٹھی بیگم کہتی ہیں: "آرام سے، رات کے اس پہر کوئی سن لے تو؟!" جواب دیا: "مسئلہ نہیں، لوگوں کو کہنے دیں کہ حمید امام حسین علیہ السلام کا مجنون ہے۔ موٹر سائیکل چلانا مباح کام ہے، نہ واجب ہے اور نہ مکروہ۔ امام حسین علیہ السلام کا ذکر کرنے اور اسے سننے سے یہ کام مستحب ہو جاتا ہے اور ہم دونوں کے نامہ اعمال میں ثواب لکھے جائیں گے۔"

 

بک شاپ پر جا کر کتاب اٹھاتے ہیں۔ ایک کتاب اٹھا کر دکاندار سے پوچھتے ہیں: کیا آپ جانتے ہیں یہ کتاب کس موضوع پر ہے؟ دکاندار نے کہا: "بظاہر معاد کے اثبات کے حوالے سے ہے۔ آپ مقدمہ پڑھ لیجے! پتہ چل جائے گا۔" حمید جواب دیتے ہیں: "چونکہ میں نے کتاب ابھی نہیں خریدی اس لیے اس کا مقدمہ بھی پڑھنے کا حق نہیں رکھتا ہوں۔ کتاب تب پڑھ سکتا ہوں، جب میں نے اسے خریدی ہو۔ اس کے بغیر ایک صفحہ بھی پڑھنا شرعی طور پر اشکال رکھتا ہے۔ شاید کتاب کا مولف یا ناشر اس بات پر راضی نا ہو۔"

 

گلزار شہداء جاتے ہیں جہاں سارے شہید دفن ہیں۔ جیب سے رومال نکالتے ہیں اور شہیدوں کی قبروں پر لگے شیشے صاف کرنا شروع کرتے ہیں۔ کہتے ہیں: "شاید ان میں سے بعض کے والدین اس دنیا سے جا چکے ہوں۔ یا ممکن ہے ان کے والدین بوڑھے ہوں، اور ان کے لیے یہاں آنا ممکن نا ہو۔ ہم ہی ان کی قبریں صاف کرتے ہیں۔" جب گلزار شہداء جاتے ایک بوتل رنگ (collar) کی لے جاتے، اور جن قبروں پر لکھائی مٹ چکی ہوتی ان کو دوبارہ اپنے ہاتھوں سے لکھتے۔

 

اپنے محلے میں مسجد کی تعمیر کے لیے سرگرم تھا۔ تمام محلہ داروں سے دستخط لیے تاکہ متعلقہ حکام سے مسجد بنانے کی اجازت لی جائے۔ جب اجازت ملی تو اس کے تعمیراتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

 

رہبر معظم (حفظہ اللہ) کی ہر تقریر مکمل سننے کا پابند تھا۔ اگر کبھی کوئی مجبوری پیش آتی بعد میں انٹرنیٹ سے اس کی ویڈیو لے کر سنتا اور اہم نکات کو اپنی کاپی میں نوٹ کر لیتا۔

 

حمید کہتا تھا: "میری خواہش ہے کہ حضرت ابوالفضل علیہ السلام کی طرح مدافعِ حرم بنوں۔ میرے ہاتھ اور پاوں بھی حضرت زینب علیھا السلام پر فدا ہوں۔"

 

جب مدافعِ حرم بن کر حضرت زینب علیھا السلام کے مزار کے دفاع کے لیے جانا چاہا، بیوی کی بے تابی دیکھ کر کہا: "فرزانہ، میرے دل کو تم نے لرزایا، لیکن تم میرے ایمان کو نہیں لرزا سکتی۔!"

 

اللہ تعالی نے حمید کی دعا سن لی، اور حریمِ اہل بیت کے دفاع میں موت کا بلند ترین مرتبہ اسے عطا کیا۔ یقینا شہادت، خاص لیاقت چاہتی ہے۔ حمید کی زندگی پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ یہ لیاقت اس میں بدرجہ اتم موجود تھی۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ یہ ساری لیاقت اور دین فہمی صرف ۲۶ سال کی عمر میں حمید کو حاصل تھی۔

 

حمید کی زندگی پڑھ کر رھبر معظم حفظہ اللہ کے تاثرات کچھ یوں تھے:

"ایک کتاب ابھی تازہ پڑھی ہے۔ میرے لیے انتہائی دلچسپ تھی۔ ایک جوان جوڑا، بیوی اور شوہر، جن کی ولادت نوے کی دہائی کی ہے، اس نیت سے تین دن روزے کی نیت کر لیتے ہیں کہ ان کی شادی میں کوئی گناہ انجام نہ پائے۔ میرے خیال سے اس بات کو تاریخ میں ثبت ہونا چاہیے۔ جوان حرم حضرت زینب علیھا السلام کے دفاع کے لیے جاتے ہیں، بیوی کی حالت دیکھ کر اس کا دل لرز جاتا ہے۔ بیوی سے کہتا ہے: "تمہارے رونے سے میرا دل تو لرز گیا، لیکن میرے ایمان کو تم نہیں لرزا سکتی۔" بیوی بھی کہتی ہے کہ میں آپ کو جانے سے منع نہیں کروں گی۔ میں نہیں چاہتی قیامت کے دن ان عورتوں میں سے ہو جاوں جو جناب سیدہ زہراء علیھا السلام کے سامنے شرمندہ ہوں۔ یہ کوئی پرانی بات نہیں، یہی 2014، 2015 کی بات ہے۔ ہماری نوجوان نسل میں اس طرح کی درخشان مثالیں موجود ہیں۔۔۔"

 

نوٹ:

(حمید مرادی سیاھکالی (متولد 1989، شہادت 2015) کی زندگی کے چند اقتباسات کتاب "یادت باشد" (فارسی زبان) سے لیے گئے ہیں، جس میں ان کی ہمسر فرزانہ سیاھکالی مرادی نے اپنی مشترکہ زندگی کے مختلف گوشووں کے حوالے سے بات کی ہے۔ کتاب پڑھنے سے تعقل رکھتی ہے اور ہمارے لیے انتہائی سبق آموز ہے۔)


ٹیگس: شہید, شہادت
+ لکھاری عباس حسینی در 3 Apr 2019 و ساعت 4:58 PM |


مدتوں روشن رہیں گے تیری یادوں کے چراغ

تذکرہ خطیب آل محمد مولانا سید اظہر حسن زیدی

 تحریر : اعجاز مرزا  

 

70 کی دہائی کے ابتدائی سال تھے ، لاہور کی ایک مجلس عزاء میں ذاکر اور سوز خوان حضرات کے بعد ایک عالم دین منبر پر تشریف فرما ہوئے ، درود اور نعرہ حیدری کی گونج میں شرکاء مجلس منتظر ہیں کہ قبلہ خطاب شروع فرمائیں کہ اچانک مولانا صاحب نے ارشاد فرمایا آج مجھ سے پہلے میرا بیٹا پڑھے گا ۔ ابھی مجمع متجسسانہ نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھ ہی رہا تھا کہ قبلہ کےاشارے پر نو دس برس کا ایک بچہ اٹھا اور سپیکر کے سامنے کھڑے ہو کر تقریر شروع کر دی ۔ اب کیا پڑھا یہ تو یاد نہیں البتہ اتنا آج بھی یاد ہے کہ تقریر شہزادہ علی اصغر ع کے بارے میں تھی اور تقریر کا اختتام اس شعر پہ ہوا:
ننھی سی قبر کھود کے اصغر کو گاڑ کے 
شبیر ع اٹھ کھڑے ہوۓ دامن کو جھاڑ کے
اس واقعہ میں جس عالم دین کا ذکر کیا گیا ہےوہ تھے خطیب آل محمد قبلہ مولانا سید اظہر حسن زیدی رح اور وہ نو دس سالہ مقرر بندہ ناچیز ۔قبلہ زیدی صاحب کے حوالے سے یہ سب سے پہلی یاد تھی جو حافظے میں محفوظ رہ گئی۔ پھر اس کے بعد تو یادوں کا اک ہجوم ہے۔ کس کا ذکر کیا جائے اور کسے رہنے دیا جائے۔
خطیب آل محمد مولانا سید اظہر حسن زیدی کا تعلق یو پی کے ضلع بجنور کے رسول پور نامی ایک گاؤں میں آباد معزز زمیندار سادات گھرانے سے تھا۔ دریائے گنگا کے کنارے آباد اس گاؤں کو شاہان اودھ کے دور میں آپ کے اجداد نے آباد کیا تھا ۔ آپ کے والد محترم کا اسم گرامی سید ابن حسن زیدی تھا ۔ آپ 12 دسمبر 1912 کو اس عالم فانی میں تشریف لائے ۔ کچھ بڑے ہوئے تو دینی تعلیم کے حصول کے لئے ہندوستان کے نامور عالم دین علامہ سید سبط نبی علیہ الرحمتہ کے حضور زانوئے تلمذ طے کیا ۔ایک طویل عرصہ تک نوگانواں سادات میں موجود ان کے مدرسہ میں زیر تعلیم رہے اور علاوہ دیگر دینی علوم کے اصول فقہ اور علم کلام پر عبور حاصل کیا ۔ اس وقت کے رواج کے مطابق آپ الہ آباد یونیورسٹی اور پنجاب یونیورسٹی کے تمام اورینٹیل امتحانات میں شریک ہوئے اور اعلی درجہ میں کامیابی حاصل کی۔ 
آپ نے کمال کا حافظہ پایا تھا ۔ انیس و دبیر ، غالب ، میر تقی میر اور دیگر نامور شعرا کے بہت سارے اشعار آپ کو بچپن ہی میں ازبر ہو گئے تھے ۔ دوران تعلیم بھی جو سبق ایک دفعہ سن یا پڑھ لیتے زبانی یاد ہو جاتا تھا ۔ عربی اور فارسی زبان پر کامل عبور حاصل تھا ۔ دینی علوم پر مکمل دسترس حاصل ہونے کے باوجود انتہائی عاجزی و انکساری کا مظاہرہ کیا کرتے تھے ۔ کبھی علمی محافل و مجالس میں اظہار خیال فرماتے تو علماء کرام آپ کے تبحر علمی اور قادر الکلامی پر عش عش کر اٹھتے۔ 
قبلہ زیدی صاحب انتہائی نفیس شخصیت کے حامل تھے ۔ مزاج میں کمال کا تحمل اور بردباری تھی ۔ لاہور میں ہمارا گھر ان کے گھر کے بلکل سامنے ہے ۔ ہمیں بچپن سےہی ان کے پاس حاضری کا شرف حاصل رہا لیکن انہیں کبھی غصہ کے عالم میں نہیں دیکھا ۔ قبلہ زیدی صاحب لاولد تھے مگر بچوں پر بے انتہا شفقت فرمایا کرتے تھے ۔ بچپن میں برادرم گل محمد مرزا ، راقم الحروف اور ایک دو دیگر عزیز ان کے ہاں جا کر خوب کھیلا کودا کرتے تھے ، ہلا گلا بھی رہتا اور شور شرابا بھی ہوتا ۔ اکثر اوقات ان کے پاس مہمان بھی آئے ہوتے تھے اور کبھی کبھار اگر کوئی مہمان ہمیں روکنے ٹوکنے کی کوشش کرتا تو قبلہ اسے فورامنع کر دیتے کہ بچوں کو نہ روکو ، یونہی کھیلنے دو۔ شگفتہ مزاج تھے ، گفتگو میں چاشنی تھی ۔ نجی محافل ہوں یا عوامی اجتماعات آپ کا انداز بیان ایک سا ہی ہوتا تھا ۔ انتہائی کریمانہ اخلاق کے حامل تھے ۔ دسترخوان وسیع تھا ۔ تقریبا ہر روز ہی مہمان موجود ہوتے تھے اور آپ ان کی خاطرمدارت میں کسی قسم کی کمی روا نہ رکھتے تھے ۔ قبلہ زیدی صاحب نے شاہانہ مزاج پایا تھا اور حقیقتا شاہ خرچ تھے ۔ اکثر و بیشتر ضرورت مند دروازے پر موجود ہوتے تھے اور اپنے اجداد کی طرح سائل کو خالی ہاتھ لوٹانا آپ کا شیوہ نہ تھا ۔ آپ کی اہلیہ محترمہ انتہائی دانا اور سمجھدار خاتون تھیں ، وہ کچھ نہ کچھ پس انداز کر لیا کرتی تھیں ۔ ان کی یہ حکمت عملی قبلہ صاحب کی زندگی کے آخری سالوں میں ، جب کہ مجالس کا سلسلہ بھی ختم ہو چکا تھا اور عقیدت مندوں کی آمد و رفت بھی بہت کم رہ گئ تھی ، بہت کام آئی اور نظام زندگی باعزت طریقے سے رواں دواں رہا۔
ذاکر اور خطیب حضرات کے بارے میں عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ شاید یہ لوگ شریعت کے کچھ خاص پابند نہیں ہوتے اور واجبات کی بجاآوری میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے ۔ اس تاثر کے سراسر برعکس ہم نے ذاتی زندگی میں قبلہ زیدی صاحب کو ہمیشہ پابند شریعت پایا ۔ نا صرف واجبات بلکہ مستحب عبادات میں بھی مصروف رہا کرتے تھے ۔ قران مجید اور معصومین ع سے منقول دعاؤں کی تلاوت میں مشغول رہتے تھے ۔ گھر میں ایک کمرہ امام بارگاہ کے لئے مخصوص تھا اور ہر شب جمعہ محفل حدیث کسا کا اہتمام کیا کرتے تھے ۔ جس میں اردو ترجمہ کے ساتھ حدیث کساپڑھتے اور آخر میں حاضرین محفل کے ساتھ مل کر بڑی عاجزی و انکساری سے دعا مانگا کرتے تھے ۔ قبلہ زیدی صاحب اپنے گھر میں ہر سال چار مذہبی پروگرام بڑے اہتمام سے منعقد کیا کرتے تھے ۔ 3 صفر کو اپنے جد امجد جناب زید شہید رح کی یاد میں مجلس عزاء ۔ 22 رجب کو امام جعفر صادق علیہ السلام کی نیاز ، 15 رمضان المبارک کو امام حسن علیہ السلام کے یوم ولادت کی مناسبت سے دعوت افطار اور 9 ذوالحج کو جناب مسلم بن عقیل رح کے یوم شہادت کے موقعہ پر مجلس عزاء ۔ کہتے ہیں کہ لاہور میں حضرت زید شہید رح اور حضرت مسلم بن عقیل رح کے ایام شہادت پر مجالس کا سلسلہ سب سے پہلے قبلہ زیدی صاحب نے ہی شروع کیا تھا اس سے پہلے یہاں اس کا رواج نہ تھا ۔ 9 ذوالحج کی مجلس سے ایک طویل مدت تک علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم خطاب فرماتے رہے بعد ازاں مولانا سید ابوالحسن نقوی (سابق خطیب مسجد صاحب الزمان کرشن نگر لاہور ) نے ایک عرصہ تک یہ ذمہ داری نبھائی ۔ خدا کا شکر ہے کہ اس گھر میں مجالس و محافل کے اس سلسلہ کو قبلہ کے قریبی عزیز سید ضیغم علی شاہ نے نہ صرف جاری رکھا ہوا ہے بلکہ اسے مزید فروغ دیا ہے۔
خطیب آل محمد مولانا سید اظہر حسن زیدی زندگی بھر بزرگ شیعہ علماء اور عمائدین ملت کے ہمراہ ملت جعفریہ پاکستان کے لیے خدمات سرانجام دینے میں مصروف عمل رہے ۔قائد اعظم کے قریبی ساتھی راجہ صاحب محمود آباد سے قبلہ زیدی صاحب کے قریبی مراسم تھے ۔ تحریک پاکستان کے دوران راجہ صاحب کے ساتھ مل کر آپ نے قیام پاکستان کی جدوجہد میں بھر پور حصہ لیا اور اس سلسلے میں جلسے جلوسوں سے خطاب کرتے ہوئے عملی جدوجہد میں شریک رہے ۔ پاکستان بننے کے بعد قادیانیوں کے خلاف چلائی جانے والی تحریک ختم نبوت میں بھی آپ نے بڑی سرگرمی سے حصہ لیا اور شیعہ مکتب فکر کی نمائندگی کی - جب مولانا عطاءاللہ شاہ بخاری نے تحریک ختم نبوت کے امیر کا عہدہ سنبھالا تو علامہ حافظ کفایت حسین تحریک ختم نبوت کے مرکزی نائب صدر اور قبلہ زیدی صآحب و سید مظفر علی شمسی تحریک کے مرکزی رکن کے عہدوں پر فائز ہوئے۔ اس سلسلے میں آپ نے اہل سنت علماء کے شانہ بشانہ بہت سے مقامات پر بڑے عظیم الشان اجتماعات سے خطاب کیا۔ کہتے ہیں کہ اس حوالے سے چنیوٹ میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں آپ نے ایک یادگار تقریر کی تھی جسے اہل سنت علماء نے بھی بے حد سراہا۔ 
آپ قیام پاکستان سے کچھ سال قبل ہی مستقل طور پر لاہور میں سکونت اختیار کر چکے تھے ۔ اس وقت کی نامور اہل سنت شخصیات مثلا مولانا ظفر علی خان ، جماعت اسلامی کے بانی مولانا سید ابوالاعلی مودودی ، تحریک ختم نبوت کے امیر سید عطاء اللہ شاہ بخاری ، ممتاز شاعر اور صحافی آغا شورش کاشمیری سمیت بہت سے معاصر اہل سنت علماء و اکابرین سے آپ کے بہت اچھے اور دوستانہ مراسم تھے۔ 
1967 میں صدر ایوب کے دور حکومت میں رویئت ہلال کے مسئلہ پر اختلاف ہوا تو آپ نے سرکاری دباؤ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے حکومتی مؤقف کے مخالف اہل سنت علماء کرام کی حمایت کا اعلان کر دیا ۔ جنوری 1967 ء کی ایک یخ بستہ صبح تھی جب پولیس اور خفیہ ادارے کے اہلکاروں نے قبلہ زیدی صاحب کے گھر پر چھاپہ مارا اور آپ کو گرفتار کر کے لے گئے۔ اس کیس میں قبلہ زیدی صاحب کے ساتھ مولانا مودودی سمیت بہت سے دیگر ممتاز علماء کرام کو بھی گرفتار کیا گیا ۔ اس قضیہ کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے کہ صدر جنرل ایوب خان نے اس توہم کے تحت کہ جمعہ کے دن عید منائی جائے تو ایک دن میں دو خطبے (خطبہ جمعہ اور خطبہ عید) حکمرانوں کے زوال کا سبب بنتے ہیں ، طلوع ہلال کے بغیر ہی جمعرات کو عید الفطر منانے کا اعلان کر دیا تھا ۔ علما ء کرام نے یہ سرکاری اعلان مسترد کر دیا اور اسلامی اصول کے مطابق قرار دیا کہ شوال کا چاند نظر آئے بنا 29 روزوں کے بعد عید منانا جائز نہیں ۔ ردعمل میں حکومت نے ان تمام علماء کرام کو گرفتار کر کے مختلف جگہوں پر نظربند کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔ گرفتاری کے بعد نظربندی کے لیے کسی نامعلوم مقام پر منتقلی کے دوران پولیس کی جس گاڑی میں آپ سوار تھے اسکا ایکسیڈنٹ ہو گیا ۔ جس میں آپ بری طرح مجروح ہوئے  اور ایک عرصہ تک صاحب فراش رہے ۔ اس حادثے میں آپ کی ایک ٹانگ کو کافی نقصان پہنچا جس کے نتیجے میں آپ کو زندگی بھر دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
قبلہ زیدی صاحب نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ لاہور میں گذارا۔ یہاں قیام کے دوران آپ نے بہت متحرک زندگی گذاری ۔ اندرون و بیرون ملک مجالس عزاء کی مصروفیات کے باوجود شیعہ قومیات میں اہم کردار ادا کرتے رہے ۔ آپ علماء ، خطبا اور ذاکرین سمیت تمام اہل منبر اور اہل مدرسہ میں یکساں طور پر مقبول تھے ۔ آپ کو افراد قوم اور رہبران ملت کا بھر پور اعتماد حاصل تھا اور آپ اس اعتماد پر پورا اترتے ہوئے عمر بھر مذہب و ملت کے حقوق کے تحفظ کے لئے سرگرم عمل رہے۔ 
قیام پاکستان کے بعد نئی مملکت میں اہل تشیع کے مذہبی حقوق کی حفاظت کی خاطر ایک ایسے پلیٹ فارم کی ضرورت محسوس کی گئی جہاں پوری قوم مل کر اجتماعی طور پر مذہب و ملت کے لئے کام کر سکے ۔ چنانچہ اس مقصد کے حصول کی خاطر لاہور میں ادارہ تحفظ حقوق شیعہ کے نام سے ایک ادارہ تشکیل پایا جس نے ایک طویل عرصہ تک مکتب تشیع کی بھرپور خدمت کی ۔ قبلہ زیدی صاحب ابتداء سے ہی علامہ حافظ کفایت حسین ، علامہ مفتی جعفر حسین اور سید مظفر علی شمسی کے ہمراہ اس ادارے میں اہم اور فعال کردار ادا کرتے رہے ۔ بعد ازاں جب قائد ملت جعفریہ علامہ مفتی جعفر حسین مجتہد کی قیادت میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا قیام عمل میں لایا گیا تو آپ تحریک کی مرکزی سپریم کونسل کے رکن مقرر کیے گئے ۔ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں آپ اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن بھی رہے۔
قبلہ زیدی صاحب انتہائی منکسرالمزاج اور ملنسار طبیعت کے حامل تھے ۔ آپ کے دولتکدے پر خاص عوام کا ہجوم رہتا تھا ۔ جہاں بہت سے معروف عالم ، خطیب ، شعرا اور ادیب حضرات اس بحر علم و حکمت سے فیض یاب ہونے کے لئے حاضر ہوا کرتے وہاں ہم جیسے کئی مبتدی اور عامی بھی قبلہ زیدی صاحب سے کچھ نہ کچھ سیکھنے کے متمنی رہتے تھے ۔ آپ کی ایک بہت بڑی خوبی یہ بھی تھی کہ ہر خاص و عام آپ کے علم سے بلا تفریق فیض پاتا تھا ۔ آپ سےکچھ پوچھا جاتا تو انتہائی سادہ ، شگفتہ اور عام فہم اندازا میں جواب دے کر بات سمجھا دیا کرتے تھے ۔ غالبا 1971 ء کی پاک بھارت جنگ کے دور کی بات ہےکسی نے پوچھا قبلہ بتایئے تقیہ کیا ہوتا ہے ؟ آپ نے مسکراتے ہوئے فرمایا " بلیک آؤٹ " پوچھنے والے نے حیرانگی سے کہا حضور میں سمجھا نہیں ۔ فرمایا معلوم ہے کہ بلیک آؤٹ کیا ہوتا ہے ؟ عرض کیا جی ہاں ، دشمن کے خطرے کے پیش نظر گھروں کی کھڑکیوں ، روشن دانوں وغیرہ پر سیاہ کاغذ لگا دیئے جاتے ہیں تاکہ اندر کی روشنی باہر نہ جا پائے اور دشمن روشن گھروں کو نشانہ نہ بنا سکے۔ 
فرمایا یہی تو تقیہ ہے ۔ دل کے اندر شمع ایمان روشن رہتی ہے اور باہر تقیہ سے اندھیرا کر دیا جاتا ہے تاکہ دشمن شمع ایمان کو گل نہ کر سکے۔
غالبا ۱۹۸۵کے ماہ ذوالحجہ کی بات ہے ، دارالتبلیغ الاسلامی لاہور کے یوم تاسیس کے حوالے سے ایک تقریب کے سلسلے میں ہمارے گھر میں کچھ دوست اکھٹے ہوئے تھے ۔ دوستوں کی خواہش پر راقم الحروف اعجاز مرزا ، برادرم گل محمد مرزا اور برادر عزیز سید اقبال مظہر نقوی قبلہ زیدی صاحب کے پاس حاضر ہوئے اور قبلہ سے اس پروگرام سے خطاب کرنے کی درخواست کی ۔ آپ فورا تیار ہوگئے اور ہمارے ساتھ پروگرام میں شریک ہونے چلے آئے ۔ دوران خطاب فضائل محمد و آل محمد ص بیان کرتے ہوئے آخر میں ایک خوبصورت جملہ قبلہ نے ہمارے لیئے بھی ارشاد فرمایا اور اس دلکش انداز میں ہمیں دعا سے نوازا کہ تمام شرکاء تقریب عش عش کر اٹھے۔ آپ نے فرمایا : 

" یہی ایام تھے کہ آل محمد ص کے اعجاز سے اک نیا گل کھلا اور اس ادارے کی بنیاد رکھی گئی ، خدا اس کا اقبال بلند کرے ۔"
خطیب آل محمد مولانا سید اظہر حسن زیدی ایک بے مثل و بے مثال خطیب تھے ۔ فن خطابت میں آپ کا کوئی ثانی نہ تھا ۔ اب میری کیا بساط کہ اقلیم خطابت کے اس بے تاج بادشاہ کے ہنر خطابت کے بارے میں کچھ کہہ سکوں ۔ وہ شہنشاہ خطابت کہ جس کی زبان معجز بیان سے نکلی ہوئی باتیں لوگوں کے دل و دماغ پر نقش ہو کے رہ گئیں ۔ وہ لازوال خطیب کہ جس کے حضور الفاظ قطار اندر قطار محو انتظار رہا کرتے کہ قبلہ گاہی اپنی سحر آفریں زبان سے ادا کر کے انہیں ہمیشہ کے لئے زندہ و جاوید کر دیں ۔ آپ کوثر و تسنیم سے دھلی ہوئی زبان سے گویا ہوتے اور مشکل ترین مضامین انتہائی سادہ اور عام فہم الفاظ میں بیان کر دیتے ۔ انتہائی عمیق باتوں کو سادگی اور بےساختگی سے بیان کر دینا آپ پر ختم تھا۔ 
تاریخ آدم و عالم پر مکمل گرفت تھی ۔ محمد و آل محمد علیہم السلام کے فضائل و مناقب بیان کیا کرتے تو سامعین وجد میں آجاتے ۔ مختصر لیکن انتہائی پرتاثیر مصائب پڑھا کرتے تھے ۔ ایک ہی جملے میں ہزاروں کا مجمع منقلب ہو جاتا ۔ لوگ بلا تخصیص مسلک و مکتب آپ کی مجالس میں شریک ہوا کرتے تھے ۔ امیر و غریب سبھی کے ہاں پڑھا کرتے تھے ۔ نذرانہ نہ تو کبھی طے کیا اور نہ ہی اس کا تقاضہ کیا ۔ کسی نے اپنی مرضی سے کچھ خدمت کر دی تو ٹھیک ، نہ کی تو بھی اس سے کچھ گلہ نہ کیا ۔ کہیں بھی آپ کی مجلس کا اعلان ہوتا تو لوگ جوق در جوق شریک ہوتے ۔ آپ کا طرز خطابت سب سے الگ اور سب سے جدا تھا ۔ آپ اس طرز خطابت کے بانی بھی تھے اور خاتم بھی ۔ یو پی کی مردم خیز سرزمین سے طلوع ہونے والے اس خورشید نور افشاں کی روشنی چہار سو پھیلی اور ایک دنیا اس کی ضوافشانی سےفیض یاب ہوئی ۔ بہت سے لوگوں نے آپ کے انداز خطابت کو نقل کی کوشش بھی کی مگر بے سود 
این سعادت بزور بازو نیست 
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
مرزا نوشہ اور زیدی صاحب کا موازنہ کرتے ہوئے کسی اہل فن نے کیا خوب کہا ہے کہ اگر زیدی شاعر ہوتے تو غالب اور غالب خطیب ہوتےتو زیدی ہوتے ۔ آپ کے ہم عصر علماء آپ کا بے حد احترام کرتے تھے اور آپ کے علم وفضل اور مقام و مرتبہ کے معترف تھے ۔ قبلہ زیدی صاحب کو فلک خطابت کا نیئر درخشاں قرار دیتے ہوئے علامہ مفتی جعفر حسین اعلی اللہ مقامہ ایک جگہ ان کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں کہ خطیب کے لئے جن اوصاف کی ضرورت ہوتی ہے ، قدرت کی طرف سے ان اوصاف کا انہیں وافر حصہ ملا ہے ۔ متوازن لہجہ ، بیان میں ٹھہراؤ ، متوازن آواز ، ادب کی شگفتگی، زبان کی پاکیزگی ان کی خطابت کا خاص جوہر ہے۔
قبلہ زیدی صاحب کی کچھ مجالس کو تحریری شکل میں محترم خضر عباس سید نے خطیب آل محمد کے نام سے مرتب کر کے کئی حصوں میں شائع کیا ۔ یہ بلا شبہ ایک بہت عظیم خدمت تھی جس سے بعد میں آنے والی نسلوں کو بھی قبلہ زیدی صاحب سے کی حکمت آمیز باتوں سے فیض یاب ہونے کا موقعہ ملتا رہے گا ۔ بعدازاں ایک مجموعہ تقاریر محترم صفدر حسین ڈوگر نے بھی مرتب کیا جسے مجالس زیدی کے نام سے شائع کیا گیا۔
زندگی کے آخری سالوں میں آپ ایک عرصہ تک صاحب فراش رہے۔ کمزور جسمانی صحت اور بہت سارے طبی عوارض کے ساتھ ایک بڑا مسئلہ یہ ہوا کہ آپ کی قوت سماعت کم ہوتے ہوتے بلکل ختم ہو کے رہ گئی۔ آخر نوبت بہ اینجا رسید کہ لوگ لکھ کر آپ سے بات کیا کرتے تھے ۔ اس دور میں قبلہ زیدی صاحب خود کو بہت تنہا محسوس کیا کرتے تھے ۔ کہاں وہ دور کہ آپ ہر وقت لوگوں کے ہجوم میں گھرے رہتے تھے اور کجا یہ عالم کہ کسی سے بات کرنے کو بھی ترستے تھے ۔ زیادہ تر وقت یاد الہی میں گزرتا ۔ موت کو کثرت سے یاد کیا کرتے اور بعض اوقات قوم کی بے اعتنائی پر دل گرفتگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کرتے کہ اندھیرے میں سایہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے ۔ ان ایام میں گنتی کے چند مخلصین کے سوا آپ کے احباب کی اکثریت آپ سے کنارہ کش ہو چکی تھی ۔ دنیا چڑھتے سورج کو کیسے پوجتی ہے اور آفتاب سر کوہ سے کیسے کنارہ کش ہو جاتی ہے ، قبلہ زیدی صاحب کے حوالے سے انسانی رویوں کی یہ دونوں انتہایں ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھی ہیں ۔ وہ تمام احباب جو صبح شام آپ کے پاس پائے جاتے تھے ، ان کی اکثریت اس گھر کا راستہ بھول چکی تھی اور قبلہ زیدی صاحب اپنی بیٹھک میں تنہا بیٹھے زبان حال سے کہہ رہے ہوتے تھے کہ 
کہاں گئے مری مصروف ساعتوں کے رفیق
صدائیں دیتی ہیں اب ان کو فرصتیں میری
دسمبر 1986 کا ایک سرد اور اداس دن تھا کہ بالآخر وہ وقت بھی آ پہنچا کہ گنگا کے کنارے پر آباد گاؤں رسول پور سے طلوع ہونے والا یہ آفتابِ خطابت راوی کنارے سرزمین لاہور میں غروب ہو گیا ۔ آپ کی آخری آرامگاہ کربلا گامے شاہ لاہور میں ہے جہاں آپ اپنے عظیم دوستوں علامہ حافظ کفایت حسین مرحوم اور علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم کے جوار میں آسودہ خاک ہیں ۔ 
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را!

+ لکھاری عباس حسینی در 11 Dec 2018 و ساعت 7:45 PM |

ڈاکٹر مصطفی چمران

تحریر شریف ولی کھرمنگی از بیجینگ



وہ سائنسدان جس نے ناسا کی ملازمت ٹھکرا دی۔ ۔ ۔ ۔


امریکی خلائی تحقیقی ادارہ ناسا کی لیبارٹری میں ایک انتہائی ذھین سائنسدان کام کررہا ہے۔

 اپنے اسکول کی تمام کلاسوں سے لیکر گریجویشن تک ہمیشہ ٹاپ پوزیشن حاصل کی ہے ، اسی لیے اسے حکومت نے اعلیٰ تعلیم کیلئے اسکالرشپ پر امریکہ بھیج دیا تھا۔
جہاں سے  الیکٹریکل انجینئرنگ کی جدید پلازما فزکس میں ڈاکٹریٹ کیا۔ ان کی قابلیت، ذہانت اور تعلیمی ریکارڈ دیکھتے ہوئے ناسا نے بحیثیت ریسرچ سائینٹسٹ اسے اپنے ادارے میں شامل کرلیا جہاں کام کرنے کیلئے ان گنت لوگ آرزو کرتے ہیں۔ یہ شخص بہت اچھی تنخواہ کے ہوتے ہوئے بھی امریکہ میں انتہائی سادہ زندگی گزار رہا ہے۔ نمازوں اور عبادتوں سے کبھی غافل نہیں رہتا۔

مگر ایک دن اس نے امریکہ کو ہمیشہ کیلئے خیرباد کہنے کا فیصلہ کردیا۔ اس کے ساتھ کے سارے لوگ حیران رہ گئے، لوگ اس پوزیشن کو حاصل کرنے میں اپنی زندگی بتا دیتے ہیں اور یہ اس کو چھوڑ کر جارہا ہے۔امریکہ میں ہی اس کا ایک دوست ان سے پوچھتا ہے کہ

آپ کیوں امریکہ کو چھوڑکر جارہے ہیں، تو یہ سائنسدان جواب دیتا ہے۔
‘میری یہاں بڑی اور زیادہ تنخواہیں لینے اور آرام دہ  زندگی بسر کرنے کا کیا فائدہ ہے جبکہ دنیا میں بے انصافی اور ظلم پایا جاتا ہو’

اس سائنسدان کا نام ہے، ڈاکٹر مصطفیٰ چمران۔

اُس دوست کا کہنا تھا کے ‘ڈاکٹر چمران کے اس جواب نے مجھے حیران کردیا کیونکہ ڈاکٹر چمران چاہتا تو امریکہ میں بہت ٹھاٹھ باٹھ کی زندگی گزار سکتا تھا حتٰی اپنا ذاتی ایئر کرافٹ اور ذاتی کروز جہاز بھی رکھ سکتا تھا اور امریکہ کے  بہترین علاقے میں زندگی گزار سکتا تھا مگر وہ ان سب کو اپنے پاؤں تلے روند کر جارہا تھا۔

جی ہاں، دنیا کی بڑی بڑی یونیورسٹیز کے لیکچرز، مشہور ملٹی نیشنل کمپنیز کی ہوش ربا تنخواہوں، ناسا کی ملازمت،  اور امریکہ کی سرزمین کو ٹھکرا کر،  لبنان کے محروم و مستضعف، یتیم و مظلوم بے آسرا بچوں ، افلاس، پسماندگی اور خانہ جنگی کے شکار جوان لڑکوں اور لڑکیوں کی خاطر ایک پسماندہ اور جنگ زدہ علاقے میں جانے والے کو ڈاکٹر چمران کہتے ہیں۔   شاید اس قربانی اور جدو جہد کے پیچھے شہید ڈاکٹر چمران کی وہ عارفانہ نظریں تھیں جن میں انھیں ‘حزب اللہ’ جیسا مستقبل کا چمکتا دمکتا سورج نظر آرہا تھا۔

 ۱۹۶۳  میں امریکہ سے مصر چلے گئے اور وہاں گوریلا ٹریننگ حاصل کی۔ ۱۹۶۵ میں واپس امریکہ آئے۔

۱۹۶۹ میں امریکہ کو ہمیشہ کے لیئے خیرباد کہہ کر لبنان آگئے۔ اور امام موسٰی الصدرؒ کی ‘تحریکِ امل’ جوائن کی۔ وہاں اسلامی انقلابی تحریک کا آغاز کیا۔ جب انقلاب کامیاب ہوا تو شہید چمران، تنظیمِ امل اور لبنان کے دیگر شیعہ اکابرین کے ہمراہ امام خمینیؒ  کی خدمت میں مبارکبادی دینے آئے، امام خمینیؒ نے لبنان کے وفد سے فرمایا

‘آپ لوگ جو نہایت قیمتی تحفہ ہمارے لیئے اور انقلاب کے لیئے لیکر آئے ہیں وہ ڈاکٹر چمران ہے’

پھر امام خمینیؒ نے اس تحفے یعنی شہید چمران کو لبنان واپس جانے نہ دیا اور شہید چمران ایران عراق جنگ میں امام خمینیؒ کے حکم پر وزیرِ دفاع بنائے گئے۔ مگر وزیرِ دفاع بننے کے باوجود ہمیشہ اگلے مورچوں پر رہتے اور جب تک خود جاکر میدانِ جنگ کا معائنہ نہ کرلیتے اپنی سپاہ کو نہیں بھیجتے تھے۔

مصطفی چمران کے محازِ جنگ پر کہتے ہیں، "اگر میرے اعضاء بکھر جائیں، میری ہستی آگ میں جل جائے اور میری راکھ ہوا میں اڑ جائے تب بھی میں صبر کروں گا اور اپنے خدا کی عاشقانہ عبادت کروں گا۔ کاش میں شمع ہوتا تاکہ سر سے پیر تک جل جاتا اور تاریکی کو اپنے اطراف سے چھٹا دیتا۔ میں کفر و الحاد کو اجازت نہیں دوں گا کہ ہمارے اوپر مسلط ہو۔"

۱۹ جون ۱۹۸۱ کی ایک عجیب رات ہے۔ اس شب ڈاکٹر چمران کی آنکھوں میں عجیب چمک ہے۔ اپنی اہلیہ کے پاس آتے ہیں اور آھستہ سے کہتے ہیں

میں کل ظہر کے وقت شہید ہوجاؤں گا۔

صبح گاڑی چل پڑی اور شہید چمران  ایک کاغذ پر یہ الفاظ لکھتے ہوئے جارہے تھے

‘خدایا! تو نے مجے تاریخ کے عام مظلوموں اور محروموں کے دکھ درد سے آشنا کیا۔ خدایا! تو نے مجھے ہر چیز عطا کی اور میں ان سب پر تیرا شکر ادا کرتا ہوں، خدایا! تو نے مجھے عمیق فکر و علم کے بلند مرتبوں سے بہرہ مند کیا۔ خدایا! میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے مجھے بے نیاز کیا تاکہ کسی شخص اور کسی چیز سے توقع نہ رکھوں۔

اے زندگی! میں تجھے الوداع کہتا ہوں۔ اے میرے پیروں! میں جانتا ہوں تم پھرتیلے اور فداکار ہو۔ میں چاہتا ہوں کہ زندگی کی ان آخری لمحات میں میری عزت و آبرو بچاؤ۔ اے میرے پیروں! چست اور توانا  رہو، اے میرے ہاتھوں! مضبوط بنو۔ اے میری آنکھوں! تیز بین اور ہوشیار بنو۔ اے میرے دل! ان آخری لمحات کو برداشت کر۔ میں تم سب سے وعدہ  کرتا ہوں کے چند لمحوں کے بعد تم سب ہمیشہ کے لیئے آرام و سکون پا جاؤ گے۔ میں اب تمھیں نہیں تھکاؤ نگا۔ اب تمھیں رات بھر نہیں جگاؤنگا۔ اور اب تم تھکاوٹ کی وجہ سے فریاد نہیں کروگے

اور شہید چمران اسی دن فکہ کے محاز پر ٹھیک ظہر کے وقت مارٹر گولہ لگنے سے شہید ہوجاتے ہیں۔

اس عارف و مجاھد شخص نے اپنی شہادت کا دن اور وقت بھی ٹھیک ٹھیک بتا دیا تھا اور جاتے ہوئے کاغز پر لکھ دیا تھا کہ یہ میری زندگی کے آخری لمحات ہیں۔

ماخوذ از سفر عشق۔
حسن عباس و دیگر

[شہید ڈاکٹر مصطفیٰ چمران کی زندگی کے مختلف گوشوں پر مشتمل کتابچہ اردو میں بھی شائع شدہ ہیں۔ اس کے علاوہ شہید مصفطیٰ چمران کی
1) https://www.tebyan.net/index.aspx?pid=68619

2) https://journeyofdivinelove.wordpress.com/%D8%AA%DB%81%D8%B1%D8%A7%D9%86/

3) http://www.tabnak.ir/fa/news/252798/%D8%AA%D8%B5%D9%88%DB%8C%D8%B1-%D9%84%D8%AD%D8%B8%D9%87-%D8%B4%D9%87%D8%A7%D8%AF%D8%AA-%D8%AF%DA%A9%D8%AA%D8%B1-%D9%85%D8%B5%D8%B7%D9%81%DB%8C-%DA%86%D9%85%D8%B1%D8%A7%D9%86

4)http://mwmpak.org/2015-04-23-09-09-45/2018-05-11-11-38-12


ٹیگس: ڈاکٹر مصطفی چمران
+ لکھاری عباس حسینی در 22 Jun 2018 و ساعت 2:3 PM |

 

امیر مختار ائمہ (علیھم السلام) کی نگاہ میں

A Glance on Ameer Mukhtaar,s Life 

تحریر: سید عباس حسینی

حضرت امیر مختار (مختار بن ابی عبید ثقفی) کی شخصیت کے حوالے سے بعض ضعیف روایات کا سہارا لے کر کچھ لوگ شکوک وشبہات کا شکار ہوئے ہیں۔حالانکہ ان کی شخصیت کی عظمت کے لیے یہی کافی ہے کہ انہوں نے شہدائے کربلا کے قاتلین سے انتقام لے کر اہل بیت اطهار علیھم السلام کے گھروں میں خوشی کا سامان فراہم کیا تھا۔

ہم یہاں امیرمختار کی شخصیت کے حوالے سے وارد احادیث کے حوالے سے کچھ عرائض پیش کرتے ہیں۔

روایات میں امیر مختار کی تعریف:

سید خوئی فرماتےہیں : مختار کی تعریف میں وارد روایات متضافر ہیں۔ (متضافر، خبر واحد اور متواتر کے درمیان والی صورت ہے۔)

  • اصبغ بن نباتہ سے روایت ہے فرمایا: میں نے مختار کو امیر المومنین علیہ السلام  کی گود میں دیکھا کہ آپ حضرت اپنے مبارک ہاتھ اس کے سر پر پھیررہے تھے اور فرما رہے تھے:"يَا كَيِّسُ يَا كَيِّسُ." اے زیرک اے زیرک۔ (بحار، ج 45، ص 344، 351، رجال کشی، ص 127)

امیرالمومنین علیہ السلام جو علم و حکمت کے پوشیدہ اسرار سے آگاہی رکھتے تھے  یقینا آئندہ کے لحاظ سے سارا نقشہ دیکھ کر ہی آپ مختار کی  مدح فرما رہے تھے۔

  • بحار میں رجال کشی سے نقل ہوا ہے کہ مختار نے امام زین العابدین علیہ السلام کی خدمت میں بیس ہزار دینار بھیجے، جنہیں امام نے قبول فرمایا اور انہی پیسوں سے عقیل اور بنی ہاشم کے باقی افراد کے وہ گھر جو یزید کی فوج کے ہاتھوں تباہ ہوئے تھے، ان کی مرمت کی۔(بحار، ج 45، ص 344، رجال کشی، ص 128)
  • جارود بن منذر امام صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں: کسی بھی ہاشمی عورت نے بالوں میں کنگھی کی اور نہ ہی خضاب لگایا، یہاں تک کہ مختار نے امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں کے سر بھیجے-(پھر اس کے بعد ہاشمیات نے یہ کام شروع کیے۔) (بحار، ج 45، ص 344، رجال کشی، ص 127، رجال ابن داود، ص 513)(سید خوئی کے مطابق یہ روایت صحیح ہے۔)
  • سدیر نے امام باقر علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے: مختار کو گالی مت دو۔ مختار وہ ہیں جنہوں نے ہمارے قاتلوں کو قتل کیا۔ ہمارا بدلہ لیا۔  ہماری بیواوں کی شادیاں کرائیں اور مشکل حالات میں ہماری مالی مدد کی۔(بحار، ج 45، ص 343، ص 351، رجال کشی، ص 125، رجال ابن داود، ص 513، رجال علامہ حلی، ص 168)
  • عبد اللہ بن شریک روایت کرتے ہیں کہ میں عید الاضحی کے دن امام باقر علیہ السلام کے پاس بیٹھا تھا۔ امام تکیہ لگا کر بیٹھے تھے۔ اتنے میں کوفے کا ایک شخص آیا اور حضرت کے ہاتھ کا بوسہ لینا چاہا۔ حضرت نے منع کر دیا۔ پھر اس سے پوچھا: تم کون ہو؟ اس نے کہا میں مختار کا بیٹا ابو محمد حکم ہوں۔ امام نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا، (یہاں تک کہ قریب تھا) امام اسے اپنی گود میں بٹھا دیں۔ مختار کے بیٹے نے امام کے سامنے شکایت کی: لوگ میرے والد کے بارے طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ امام نے پوچھا: مثلا کیا کہتے ہیں: کہا: کہتے ہیں: مختار جھوٹا تھا۔ امام نے فرمایا: سبحان اللہ۔ میرے بابا نے مجھے بتایا۔ خدا کی قسم میری ماں کا حق مہر مختار نے بھیجا تھا۔ کیا مختار نے ہمارے گھروں کی تعمیر نہیں کی؟ ہمارے قاتلوں کو نہیں مارا؟ ہمارے خون کا بدلہ نہیں لیا؟خدا مختار پر اپنی رحمت نازل کرے۔ خدا کی قسم میرے والد نے مجھے بتایا مختار فاطمہ دختر علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے پاس آکر ان کے لیے بستر فراہم کرتے تھے، اور ان کے لیے تکیہ بچھاتے تھے اور پھر ان سے احادیث نقل کرتے تھے۔ خدا تمہارے والد پر رحم کرے۔ خدا تمہارے والد پر رحم کرے۔(بحار، ج 45، ص 343)
  • جس وقت مختار نے ابن زیاد کا سر امام زین العابدین علیہ السلام کی طرف بھیجا ہے ، امام علیہ السلام فورا سجدے میں گر پڑے اور فرمایا: خدا کا شکر، جس نے میرے دشمنوں سے میرا بدلہ لے لیا۔ خدا مختار کو جزائے خیر عطا کرے۔(بحار، ج 45، ص 386، رجال کشی، ص 127)

اس حوالے سے روایات اور بھی زیادہ ہیں لیکن فی الحال ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔

مختار کی مذمت میں وارد شدہ روایات:

  • حبیب خثعمی نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے: مختار امام زین العابدین علیہ السلام پر جھوٹ باندھتا تھا۔
  • یونس بن یعقوب نے امام باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے:مختار نے امام زین العابدین علیہ السلام کی خدمت میں کچھ تحفے بھیجے جنہیں امام نے یہ کہہ کر قبول کرنے سے انکار کیا کہ ہم جھوٹوں کے تحفے قبول نہیں کرتے۔
  • ایک اور روایت میں امام زین العابدین علیہ السلام کی طرف سے مختار کے چالیس ہزار درہم قبول نہ کرنے کی بات نقل ہوئی ہے۔ اور یہ بات بھی کی گئی ہے که مختار نے لوگوں کو امام زین العابدین علیہ السلام کی بجائے محمد بن حنفیہ کی طرف بلایا اور اس فرقے کا نام کیسانیہ رکھا۔

ان روایات کا جواب:

  • سید خوئی کے مطابق یہ ساری روایات سند کے لحاظ سے انتہائی ضعیف ہیں۔ خصوصا دوسری روایت میں کچھ باتیں ایسی ہیں جو آپس میں ٹکرا  رہی ہیں۔
  • بالفرض اگر یہ روایات درست ہوں تو ان کی حیثیت وہی ہے جو ان روایات کی هے جن میں زرارہ، محمد بن مسلم، برید اور ان جیسے اصحاب کی بھی مذمت کی گئی ہے۔ (معجم رجال الحدیث، سید خوئی، ج 19، ص 105)
  • ایک اور بات جو مختار کے حوالے سے کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ جب امام حسن جنگ میں زخمی ہو کر مدائن میں مختار کے چچا سعد بن ابی عبیدہ مسعود کے پاس آئے تو مختار نے ان سے کہا: اےچچا! کیوں نہ ہم حسن کو معاویہ کے حوالے کر دیں، تاکہ عراق ہمارے قبضے میں آئے؟ان کے چچا نے ایسا کرنے سے انکار کیا۔

سید خوئی کے مطابق یہ روایت چونکہ مرسلہ ہے لہذا اس پر اعتماد نہیں کر سکتے۔ بالفرض اگر درست بھی ہو تو اس حوالے سے کہہ سکتے ہیں کہ مختار اپنی بات میں جدی نہیں تھے، بلکہ اس ذریعے سے اپنے چچا کا امتحان لے رہے تھے تاکہ  ان کی رائے معلوم ہو سکے اور اس طرح امام حسن علیہ السلام کی جان ہر خطرے سے بچی رہے۔ پس ان کا یہ سوال امام حسن علیہ السلام کی حفاظت کی خاطر تھا۔

 

اس حوالے سے چار اہم نکات:

پہلا نکتہ:

علامہ مجلسی نے بحار میں جعفر بن نما سے نقل کیا ہے: بہت سارے علماء  روایات کے حوالے سے زیادہ علم نہیں رکھتے (اور مختار کے حوالے سے باتیں کرتے ہیں۔) جبکہ اگر اس حوالے سے ائمہ کے اقوال کا جائزہ لیا جائے تو ان کی تعریف ہوئی ہے اور مختار سابقین اور مجاہدین میں سے ہیں جن کی تعریف اللہ تعالی نے قرآن مجید میں کی ہے۔ مختار کے لیے امام زین العابدین علیہ السلام کی دعا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ چنے ہوئے خاص افراد میں سے تھے۔اگر مختار کا راستہ غلط ہوتا یا اس کا عقیدہ منحرف ہوتا تو کیسے امام اس کے حق میں دعا فرماتے؟ امام کی یہ دعا ایک لحاظ سے لغو کام شمار ہوتی جو کہ بعید ہے۔ ائمہ کے اقوال میں مختار کی مدح اور تعریف کا تکرار ہوا ہے اور ان کی مذمت سے منع کیا گیا ہے۔(بحار ، ج 45، ص 386، 387)

دوسرا نکتہ:

بعض علماء قائل ہوئے ہیں مختار کا عقیدہ ٹھیک نہیں تھا۔لہذا وہ جہنم میں جائے گا ، لیکن چونکہ اس نے امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں کو واصل جہنم کیا ہے لہذا آپ علیہ السلام کی شفاعت سے وہاں سے نکل کر جنت میں آئے گا۔ اس حوالے سے انہوں نے کتاب تہذیب اور  سرائر میں منقول دو روایتوں کا سہارا لیا ہے۔

سید خوئی فرماتے ہیں دونوں روایتیں ضعیف ہیں چونکہ تہذیب کی روایت ایک تو مرسلہ ہے، اور دوسرا یہ کہ اس کے راویوں میں سے ایک امیہ بن علی القیسی ہیں۔ جبکہ سرائر کی روایت کے راویوں میں جعفر بن ابراہیم خضرمی ہیں جن کی وثاقت نقل نہیں ہوئی۔ اور پھر ابان کا جعفر سے نقل، اور ان کا زرعہ سے نقل کرنا انتہائی نا معقول بات ہے۔

سید خوئی فرماتے ہیں:

 مختار کی مذمت میں آئی تمام روایتیں سند کے لحاظ سے اشکال رکھتی ہیں۔ اور بالفرض درست بھی ہوں تو تقیہ پر حمل کر سکتے ہیں۔ مختار کی مدح اور ان کی تعریف کے لیے یہی کافی ہے کہ انھوں نے امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں سے بدلہ لے کر اہل بیت علیھم السلام کے دلوں میں خوشی لوٹا دی۔ یقینا یہ ایک عظیم خدمت ہے جس کے لیے مختار اہل بیت علیھم السلام کی طرف سے بہترین جزا کے مستحق ٹھہرے۔ کیا احتمال دے سکتے ہیں که رسول خداﷺ اور اہل بیت کرام علیھم السلام جو جود وسخا کے معدن ہیں وہ اس طرح کی خدمت سے منہ موڑ لیں؟

محمد بن حنفیہ کے پاس جب قاتلان حسین علیہ السلام میں سے دو کے سر لائے گئےتو فورا سجدے میں گر پڑے، ہاتھوں کو پھیلایا اور فرمایا: خدایا اس روز کو مختار کے لیے مت بھولنا، اہل بیت نبی علیھم السلام کی طرفسے مختار کو جزائے خیر عطا فرما۔ خدا کی قسم اس دن کے بعد مختار پر کوئی ملامت نہیں ہے۔ (معجم رجال الحدیث، سید خوئی، ج 19، ص 108)

تیسرا نکتہ:

اس حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ مختار کا خروج اور امام حسین علیہ السلام کے خون کا بدلہ لینا یقینا خدا اور اہل بیت کرام علیھم السلام کے نزدیک پسندیدہ فعل تھا۔ جب میثم تمار اور مختار اکھٹے ابن زیاد کی قید میں تھے تب میثم نے بتا دیا تھا کہ تم قید سے نکل کر خون امام حسین کا بدلہ لو گے۔ یقینا میثم خود بھی معنویت کے اعلی درجے پر فائز تھے جو اس بات کی خبر دے رھے تھے۔اور بعض روایات میں ملتا ہے کہ مختار کا خروج امام زین العابدین علیہ السلام کی خاص اجازت سے ہوا تھا۔ مختار کے نمائندے جب  خروج  کی اجازت مانگنے محمد بن حنفیہ کے پاس آئے تو وہ ان کو لے کر امام زین العابدین علیہ السلام  کے پاس گئے۔ امام نے جواب دیا: يا عم، لو أن عبدا زنجيا تعصب لنا أهل البيت ع لوجب على الناس مؤازرته، و قد وليتك هذا الأمر فاصنع ما شئت(چچا جان! اگر کوئی زنجی غلام بھی ہم اہل بیت کے حق کے لیے اٹھ کھڑا ہو تب بھی لوگوں پر واجب ہے که اس کی مدد کریں۔ میں نے یہ کام آپ کو سونپا۔ جیسا چاہیں آپ حکم دیں۔)(بحار، ج 45، ص 365، سفینۃ البحار، ج 2، ص 391)

چوتھا نکتہ:

بعض اہل سنت نے یہ بات کی ہے که مختار کا تعلق کیسانیہ فرقے سے تھا جو محمد بن حنفیہ کی امامت کے قائل تھے۔ اس فرقے کو "مختاریہ" کا نام بھی دیا گیا ہے۔ لیکن یہ بات بالکل بھی درست نہیں۔ چونکہ محمد بن حنفیہ نے کبھی بھی امامت کا دعوی نہیں کیا۔ پس مختار کیسے لوگوں کو ایک ایسے شخص کی امامت کی طرف بلا سکتے ہیں جس نے خود  سے کوئی دعوی نہ کیا ہو؟ اور پھر مختار کی شہادت اس وقت ہوئی ہے جب محمد بن حنفیہ زندہ تھے۔ جبکہ کیسانیہ فرقے کی بنیاد محمد بن حنفیہ کی وفات کے بعد پڑی ہے۔ پس ممکن نہیں ہے که مختار کا تعلق کیسانیہ سے ہو۔

جہاں تک تعلق ہے مختار کے لقب "کیسان" کا ، اگر یہ لقب بالفرض درست بھی ہوتو اس کی وجہ وہ روایت ہو سکتی ہے جو کشی نے مولا امیر علیہ السلام سے نقل کی ہے جس میں آپ علیہ السلام دو مرتبہ مختار کو "کیس، کیس" یعنی زیرک زیرک کہہ کر خطاب فرما رہے ہیں۔ "کیس" کی تثنیہ "کیسان" ہے لہذا مختار کا لقب "کیسان" پڑ گیا۔ لهذا اس لقب کا تعلق فرقہ کیسانیہ سے ہرگز نہیں ہے۔(دیکھیے: معجم رجال الحدیث: ج 19، ص 110)

+ لکھاری عباس حسینی در 7 Apr 2018 و ساعت 8:55 PM |

علامہ سید علی نقی نقوی نقن     

A Brief introduction of the Life of Allama Ali Naqi Naqvi Naqqan (Urdu)                            

سید العلماء سید علی نقی نقوی نجفی معروف نقن صاحب برصغیر پاک و ہند کے ایک معروف عالم دین تھے جنھوں نے 26 رجب المرجب 1323 کو ایک علمی گھرانے میں آنکھ کھولی. ابتدائی تعلیم اپنے والد بزرگوار اور بڑے بھائی کے پاس حاصل کی اور پھر مزیدعلم حاصل کرنے کیلئے نجف اشرف تشریف لے گئے جہاں اپنی زندگی کا ایک نمایاں باب رقم کیا اور پانچ سال کی مدت میں اس دور کے بزرگ علماء سے کسب فیض کے بعد بھارت واپس آگئے . جہاں علوم اہل بیت اطہار(ع) کی تبلیغ و ترویج میں مشغول رہے . اس عرصے میں بہت سی کتابیں تصانیف کیں. آپ نے اپنی زندگی میں مختلف عناوین پر جو کتابیں یا رسالے تحریر کئے انکی تعداد 141 عدد کے قریب ہے. آخرکار یکم شوال 1408 ھ ق میں وفات پائی

زندگی نامہ:

پیدائش
26 رجب 1323 ھ مطابق 1905ء لکھنؤ، بہارت کو ممتاز العلماء ابو الحسن منن صاحب کے ہاں پیدا ہوئے کہ جوشمس العلماء سید ابراہیم بن جنت مآب سید تقی بن سید العلماء سید حسین علیین مکان ابن غفران مآب دلدار علی کے فرزند تھے.

تعلیم و تربیت
ابھی آپ کی عمر ۳. ۴ سال کے درمیان تھی کہ آپ کے والد ماجد ۱۳۲۷ھ میں مع متعلقین تکمیل علوم کے لئے نجف اشرف تشریف لے گئے. آپ کی عمر ۹/برس کی تھی جب ۱۳۲۳ھ میں آپ کے والد گرامی ہندوستان واپس آئے. اس وقت تک آپ کی صرف ونحو کی ابتدائی کتابیں ختم ہوچکی تھیں. لکھنؤ واپس آ کر آپ کے والد صاحب طاب ثراہ نے آپ کی تعلیم اپنے ذمے رکھی. والد کی علالت کے زمانے میں آپ کے برادر معظم مولانا سید محمد عرف میرن صاحب آپ کو پڑھاتے تھے.

وفات
آپ نے یکم شوال روزعید الفطر ۱۴۰۸ھ/۱۸مئی ۱۹۸۸ء کو لکھنؤ میں رحلت فرمائی . اور وہیں سپر د خاک کئے گئے.

علمی صلاحیت:
آپ بے پناہ علمی صلاحیتوں کے مالک تھے . آپ ایک ہی وقت میں دو مدرسوں:مدرسہ ناظمیہ اور سلطان المدارس میں پڑھتے تھے اور آپ نے مدرسہ ناظمیہ کے "فاضل" اور سلطان المدارس کے "سند الافاضل" کا ایک ہی ساتھ امتحان دیا. پھر دوسرے سال دونوں درجوں کے ضمیموں کا اور تیسرے سال "ممتاز الافاضل" اور "صدر الافاضل" کاایک ساتھ ہی امتحان دیا.

طالب علمی میں ہی سر فراز لکھنؤ،الواعظ لکھنؤ اور شیعہ لاہور میں آپ کے علمی مضامین شائع ہونے لگے تھے. ۳. ۴ کتابیں بھی عربی اور اردو میں اسی زمانے میں شائع ہوئیں. تدریس کا سلسلہ بھی جاری تھا. کچھ عرصے تک بحثیت مدرس ناظمیہ میں بھی معقولات کی تدریس کی اس دور کے شاگردوں میں مولانا محمد بشیر صاحب فاتح ٹیکسلا. علامہ سید مجتبی حسن صاحب کاموں پوری اور جناب حیات اللہ انصاری شامل تھے.

عربی ادب میں آپ کی مہارت اور فی البدیہ قصائد ومراثی لکھنے کے اسی دور میں بہت سے مظاہرے ہوئے اور عربی شعر وادب میں آپ کے اقتدار کو شام، مصر اور عراق کے علماء نے قبول کیا. اسی مہارت کو قبول کرتے ہوئے علامہ امینی نے آپ کے قصائد کے مجموعے میں سے حضرت ابو طالب کی شان میں آپ کے قصیدے کو (الغدیر) میں شامل کیا [1] اور آغائے بزرگ تہرانی طاب ثراہ نے شیخ طوسی کے حالات کو آپ ہی کے لکھے ہوئے مرثیے پر ختم کیا ہے .

اسی طرح آپ کی مزید علمی صلاحیتوں کا مشاہدہ عراق میں حصول علم کے ان ایام کی تالیفات سے کیا جا سکتا ہے جہاں آپ نے سب سے پہلے "وہابیت" کے خلاف ایک کتاب تصنیف کی جو بعد میں " کشف النقاب عن عقائد ابن عبدالوهاب "[2] کے نام سے شائع ہوئی. عراق وایران کے مشہور اہل علم نے اس کتاب کو ایک شاہکار قرار دیا. دوسری کتاب " اقالۃ العاثر فی اقامۃ الشعائر"[3] حضرت امام حسین کی عزاداری کے جواز میں اور تیسری کتاب " السیف الماضی علی عقائد الاباضی "[4] کے نام سے چار سو صفحات پر مشتمل کتاب خوارج کے رد میں لکھی.

اساتذه:
لکھنو میں جن حضرات سے آپ نے علم حاصل کیا :

ان کے والد بزرگوارممتاز العلماء ابو الحسن منن صاحب
مولانا سید محمد عرف میرن صاحب
نجم الملۃ
جناب باقر العلوم


سفر عراق اور حصول علم
سید العلماء اپنی زندگی میں دو مرتبہ عراق تشریف لے گئے . پہلی مرتبہ اپنے والد محترم کے ساتھ گئے اور دوسری مرتبہ ۱۳۴۵ھ مطابق ۱۹۲۷ء میں تکمیل علم کے لئے عراق تشریف لے گئے. آپ نے عراق میں صرف پانچ سال کا عرصہ گزارا. ان پانچ برسوں میں آپ نے فقہ واصول میں وہ ملکہ پیدا کیا کہ اس دور میں آپ کی علمی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے اس زمانے کے ۳/مجتہدین یعنی "آیۃ اللہ اصفہانی"، "آیۃ اللہ نائینی" اور "آیۃ اللہ سید ضیاء الدین عراقی" نے آپ کو واضح الفاظ میں اجتہاد کے اجازے دے کر آپ کی علمی صلاحیتوں کا اعتراف کیا. علم کلام اور دفاع مذہب میں آپ کی مہارت کا لوہا "سید محسن امین عاملی"، "شیخ جواد بلاغی"، "محمد حسین کاشف الغطاء"' اور " سید عبد الحسین شرف الدین موسوی" نے مان لیا.

اجازۂ اجتہاد
درج ذیل شخصیات نے آپ کو اجازۂ اجتہاد سے نوازا:

آیۃ اللہ اصفہانی
آیۃ اللہ نائینی
آیۃ اللہ سید ضیاء الدین عراقی
آیت اللہ شیخ عبد الکر یم یزدی حائریؒ (مؤسس حوزہ علمیہ قم)
آیت اللہ محمد حسین اصفہانیؒ
آیت اللہ ابراہیم معروف بہ میراز آقائے شیرازیؒ
آیت شیخ ہادی کاشف الغطاءؒ
آیت اللہ میرزا علی یزدانیؒ
آیت اللہ شیخ محمدحسین تہرانیؒ
آیت اللہ شیخ کاظم شیرازیؒ
آیت اللہ میرزا ابو الحسن مشکینیؒ
آیت اللہ سید سبط حسن مجتہدؒ


علمی خدمات
آپ کی علمی زندگی کو تین حصوں : خطابت، شاگرد پروری، تحریر میں تقسیم کیا جا سکتا ہے .

خطابت
سید العلماء کی خطابت کا ایک خاص رنگ تھا جو عبارت آرائی وسستی نکتہ آفرینی کے بجائے علم اور تحقیق پر مبنی تھا. اور ایک گھنٹہ کی مجلس میں حقائق کے کتنے دروازے وا ہوجاتے تھے ان کی تقریر اور تحریر میں بہت کم فرق ہوتا تھا. دوسری خاص بات ان کی تقریروں میں یہ تھی کہ کہ ہرمذہب وملت کا ماننے والا اسے اطمینان قلب کے ساتھ سن سکتا تھا. اور فیض یاب ہو سکتاتھا. کسی جملہ سے کسی کی دل آزاری کا خطر ہ نہیں تھا.

شاگرد پروری
لکھنویونیورسٹی:عراق سے واپسی کے کچھ عرصہ بعد ۱۹۳۲ء میں آپ لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبۂ عربی سے وابستہ ہوگئے اور "ستائیس برس" تک طلباء کو فیض پہنچاتے رہے.

علی گڑھ یونیورسٹی :۱۹۵۹ء میں علی گڑھ یونیورسٹی نے آپ کو شیعہ دینیات کے شعبے میں بحیثیت ریڈر مدعو کیا اور آپ علی گڑھ منتقل ہوگئے. پھرآپ شیعہ دینیات کے پروفیسر بنائے گئے. ریٹائرمنٹ کے بعد آپ نے علی گڑھ ہی میں سکونت اختیار کرلی. ۱۹۷۷ء میں لکھنؤ کے کچھ شرپسندوں نے آپ کے لکھنؤ کے مکان میں آگ لگادی. جس میں ہزاروں قیمتی کتابیں جل کر راکھ ہوگئیں. اس میں آپ کے عربی تصانیف کے غیر مطبوعہ مسودات بھی تلف ہوگئے جن کا انھیں آخر عمر تک صدمہ رہا.

تحریری خدمات
آپ نے جہاں ترویج دین کیلئے خطابت کو اختیار کیا وہاں اس کے ساتھ ساتھ اپنی علمی صلاحیتوں کو قرطاس و قلم کے حوالے بھی کیا بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ آپ اپنی زندگی میں تبلیغ دین کی نشر و اشاعت کیلئے خطابت کی نسبت شعبہ تدریس اور تحریر کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اس کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ آپ کی کتب کی طویل فہرست کو دیکھ کر لگایا سکتا ہے. آپ نے اپنی مصروفیات کے باوجود خاص طور پر اردو زبان میں نہایت اہم کتب، رسائل اور مضامین کا ذخیرہ آنے والی نسلوں کیلئے صدقۂ جاریہ کے عنوان سے چھوڑا اور اس کے علاوہ عربی زبان میں بھی عمدہ کتابیں تصنیف کیں. آپ کے قلم سے تحریر ہونے والی کتب، رسائل اور مضامین کی کل تعداد فہرست کتابچہ سید العلماء کے مطابق 141 بیان ہوئی ہے. [5]

اردو تحریریں
علامہ سید علی نقی نقن اعلی اللہ مقامہ کی "اردو" کتب کی فہرست :

(الف)
آثار قدرت
اصول دین اور قرآن
اسلام کا پیغام پس افتادہ اقوام کے نام
امامت ائمہ اثنا عشر اور قرآن
اسلام دین عمل ہے۔
اسلامی کلچر کیا ہے ؟
اسلامی نظریہ حکومت
اسلامی تمدن
اسلام اور انسانیت
اسلام کی حکیمانہ زندگی
اسلامی عقائد
اصول اور ارکان دین
الدین القیم
اسوہ حسینی ؑ
امام حسین ؑ کی شہادت اور دستور اسلامی کی حفاظت
اسیری اہل حرم
اثبات پردہ
اشک ماتم
اتحاد بین المسلمین(درمندوں کی آوازیں)
ابو الائمہ کے تعلیمات
اگر واقعہ کربلا نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟
استقامت علی الحق کا معیاری نمونہ
التوائے حج پر شرعی نقطہ نظر سے بحث
اسلام کی فکر حاضر میں موزونیت
امام رضاؑ
امام منتظرؑ
امامت
انصار حسینؑ
ایمان بالغیب
اسلام کا نظریہ حکومت
اسلامی قانون وراثت


(ب)
بنی امیہ کی عداوت اسلام کی مختصر تاریخ
بین الاقوامی شہید اعظم حسین بن علیؑ


(پ)
پانچویں امام ؑ
پیغام حسین ؑبہ عالم انسانیت(فارسی)


(ت)
توحید
تقیہ
تاریخ شیعہ کا مختصر خاکہ
تاریخ تدوین حدیث
تحقیق اذان
تحفۃ العوام مطابق فتوائے سید العلماء
تراجم قرآن پاک بزبان اردو(سولہ حصے)
ترجمہ سید علی نقی بقلمہ(ھماں ص۱۱۷و۳۹۳)
تذکرہ حفاظ شیعہ (دو جلدیں)
تاجدار کعبہ
تاریخ اسلام میں واقعہ کربلا کی اہمیت
تاریخ اسلام (چار جلدوں میں)
تعزیہ داری کی مخالفت کا اصل راز
تحریف قرآن کی حقیقت
تجارت اور اسلام
تفسیر قرآن فصل الخطاب، (سات جلدوں میں)
تقریرات بحث آیۃ اللہ نائینی فی الاصول


(ث)
ثنائے پروردگار (از کلام امیر المومنینؑ)


(ج)
جبر واختیار
جہاد
جناب رضوان مآب
جناب جنت مآب
جناب غفران مآب
جواب رسالۃ الی صاحب ھذہ المجموعۃ من صدیقہ العلامۃ الحجۃ السید علی نقی النقوی اللکھنوی(مکتبۃ بحرالعلوم ۲۸۹)
جہاد مختار


(ح)
حیات قومی
حقیقت اسلام
حقیقت صبر
حجج وبینات
حسن مجتبی ؑ
حسن عسکریؑ
حج
حجج ومعاذیر (عربی واردو)
حدیث حوض
حیات جاوداں
حسین ؑ اور قرآن
حسین ؑ اور اسلام
حضرت علی ؑ کی شخصیت علم واعتقاد کی منزل میں
حسینؑ حسین ؑ ایک تعارف
حسین ؑ اور ان کا پیغام
حسینی اقدام کا پہلا قدم
حسین کا پیغام عالم انسانیت کے نام


(خ)
خدا پرستی اور مادیت کی جنگ
ختم نبوت
خمس
خدا کا ثبوت
خدااور مذہب
خدا کی معرفت
خلافت اور امامت (چھ حصے)
خطبات کربلا
خطبات سید العلماءؒ
خلافت یزید کے متعلق آزادرائیں
حضرت خدیجۃ الکبری


(د)
دو اسلام پر ایک نظر
دسویں امام ؑ
دنیا آخر ت کی کھیتی ہے
دیں پناہ است حسینؑ
دعای سمات


(ذ)
ذات وصفات
ذاکری کی کتاب(چار حصے)
ذوالجناح


(ر)
رہنمائے ذاکری (چار حصے)
رسول خداﷺ
رسول ﷺکا مرتبہ فصاحت اور کلام رسو ل ﷺکی خاص انفرادیت
رد وہابیت
رہبر کامل
رہنمایان اسلام
روزہ


(ز)
زندگی کا حکیمانہ تصور
زکوۃ
زندہ جاوید کا ماتم
زندہ سوالات


(س)
سید سجادؑ
سفر نامہ عراق
سید عالم سلام اللہ علیہا
سر ابراہیمؑ واسماعیلؑ
سرور شہیداں
سفر نا مہ حج
سجدہ گاہ
سامان عزا


(ش)
شہادت کبری(تبصرہ)
شادی خانہ آبادی
شہید انسانیت
شیعیت کا تعارف
شہید کربلا
شجاعت کے مثالی کارنامے
شاہ است حسین ؑ بادشاہ است حسین ؑ
شہید کربلا کا سال بہ سال ماتم
شہادت زار کربلا
شب شہادت
شہدائے کربلا(تین حصے)
شہادت حسین ؑ کے اسباب
شہید کربلا کی خاندانی خصوصیات
شہید کربلا کی کی یادگار کا آزاد ہندوستان سے مطالبہ


(ص)
صنائع کردگار
صلح اور جنگ(عقل وفطرت کی روشنی میں)
صحیفہ سجادیہ کی عظمت
صادق آل محمد ؑ
صدیقہ صغری
صلح امام حسن علیہ السلام


(ض)
ضرورت مذهب


(ع)
عبادت اور طریق عبادت
عید غدیر
عظمت حسین ؑ
عالمی مشکلات کا حل
عدل
عزائے مظلوم
عزائے حسینؑ کی اہمیت
عد م تشدد اور اسلام
عزائے حسینؑ پر تاریخی تبصرہ
عورت اور اسلام
عشرہ محرم اور مسلمانان پاکستان


(ف)
فلسفہ گریہ
فریاد مسلمانان عالم
فضائل جناب امیر المومنین ؑ کی خصوصیات
فتاوائے سید العلماء(یہ ضخیم کتاب سعودی کسٹم پر ضبط ہوگئی)


(ق)
قرآن مجید کے انداز گفتگو میں معیار تہذیب ورواداری
قتیل العبرۃ
قرآن اور نظام حکومت
قرآن کے بین الاقوامی ارشادات
قانون وراثت
قاتلان حسین ؑ کا مذہب


(ک)
کتاب شہید اعظم پر تبصرہ
کتاب مسئلہ حیات النبی
کتاب نبوت
کربلا کی یاد گار پیاس
کربلا کا تاریخی واقعہ مختصر یا طولانی


(گ)
گیارہویں امامؑ


(ل)
لارڈرسل کے ملحدانہ خیالات کی رد
لاتفسدوا فی الارض


(م)
مذہب شیعہ اور تبلیغ
مسلمانوں کی حقیقی اکثریت (واقعہ کربلا کا ایک خاص پہلو)
مقتل ابو مخنف کا تحقیقی جائزہ
مباہلہ
مقدمہ مختصر بر ائے ترجمہ وحواشی قرآن
مقدمہ تفسیر قرآن
محاربہ کربلا
معرکہ کربلا
موسی کاظم ؑ
معاد
مسائل ودلائل
مجموعہ تقاریر (پانچ حصے)
مقدمہ نہج البلاغہ
مقالات سید العلماء(دو حصے)
مسلم پر سنل لا ء نا قابل تبدیل
متعہ اور اسلام
مذہب کی ضرورت
مادیت کا علمی جائزہ
مذہب اور عقل
مذہب شیعہ ایک نظر میں
مذہب باب وبہاء(دو جلدیں)
معراج انسانیت
مولود کعبہ
مقصود کعبہ
مطلوب کعبہ
مجسمہ انسانیت
مجاہدہ کربلا
مظلوم کربلا
مقصد حسینؑ
مسلمانوں کی نقلی اکثریت
معصوم شهزادی
مراکز مہم علمی شیعہ


(ن)
نہج البلاغہ کا استناد
نوروز و غدیر
نماز
نظام ازدواج
نظام زندگی(چارحصے)
نظام تمدن اوراسلام
نویں امامؑ
نفس مطمئنہ


(و)
وجیزۃ الاحکام (عملیہ)
وعدہ جنت
واقعہ وفات رسول
وجود حجت


(ہ)
ہمارے رسوم وقیود
ہلاکت اور شہادت


(ی)
یاد اور یادگار
یزید اور جنگ قسطنطنیہ[6]


عربی تحریریں
علامہ سید علی نقی نقن اعلی اللہ مقامہ کی عربی کتب کی فہرست :
آیۃ اللہ النائینی وموقفہ العلمی بین الطائفہ(عربی)
اقالۃ العاثر فی اقامۃ الشعائر(عربی)
البیت المعمور فی عمارۃ القبور(عربی)
پیغام حسین ؑبعالم انسانیت(فارسی)
تفسیر قرآن (عربی)
تلخیص عماد الاسلام (عربی)
جواب رسالۃ الی صاحب ھذہ المجموعۃ من صدیقہ العلامۃ الحجۃ السید علی نقی النقوی اللکھنوی(مکتبۃ بحرالعلوم ۲۸۹)
جہاد مختار
الحجج والبینات (عربی)
حجج ومعاذیر (عربی واردو)
حاشیۃ الکفایہ فی مباحث الفاظ للعلامۃ المیرزا ابو الحسن المشکینی (عربی)
حول کتاب اعیان الشیعہ(عربی)
حواشی علی الرسائل(عربی)
حواشی علی المکاسب(عربی)
الراحل العظیم(عربی)
الرد القرآنیہ علی الکتاب المسیحیۃ(عربی)
رسالۃ ابی عبد اللہ الحسین ؑ(عربی)
روح الادب شرح الامامیۃ العرب(عربی)
رسالۃ من ابن حسن نجفی(مکتبۃ بحر العلوم ۱۹۹)
رسالۃ الی السید محمد صادق بحرالعلوم (للسید محمد تقی بحرالعلوم) (مکتبۃ بحرالعلوم ۱۹۹)
عدۃ رسائل للسید محمد صادق بحرالعلوم وفیھا تواریخ لوفاۃ شیخھم الطھرانی (مکتبۃ بحرالعلوم ۱۹۹)
رسالۃ فی الاجتہاد والتقلید(عربی)
رسالۃ المولف سید علی نقی ۲۷ ذی القعدہ(مکتبۃ بحرالعلوم ۲۰۳)
رسالۃ السید علی نقی للشیخ الاوردبادی(مکتبۃ بحرالعلوم ۲۰۳)
رسالۃ السید علی نقی الی الشیخ الاوردبادی(اا) (مکتبۃ بحرالعلوم ۲۰۵)
رسالۃ السید علی نقی النقوی (۲۲)(مکتبۃ بحرالعلوم ۲۰۶)
رسالہ شریفہ فی تراجم مشاھیر علماء الھند (ایضاً؛ ص۱۱۵و۳۹۲)
رسالۃ فی نیت الصوم (عربی)
زبدۃ الکلام او تلخص عماد الاسلام (عربی)
السبطان فی موقفھما(عربی)
السیف الماضی عن عقائد الاباضی (عربی)(فہرست بحرالعلوم ص۶۸)
شھادۃ بحق السید النقوی من الشیخ راضی آل یاسین(۲۴)(مکتبۃ بحرالعلوم ۲۰۶)
العقود الذھبیہ فی السلسلۃ النسبیہ (عربی اشعار)(ہماں ص۱۱۷)
السید علی نقی النقوی الکھنوی نثرا(مکتبۃ بحرالعلوم ۲۴۲)
السید علی نقی النقوی الکھنوی (مکتبۃ بحرالعلوم ۲۴۸)
الکلام علی الفقہ الرضوی(عربی)
کتاب صدیقنا العلامۃ السید علی نقی النقوی اللکھنوی الذی کتبہ لنا من الھند یعزینا فیہ بوفاۃ ابن عمنا المرحوم السید علی وصدیقنا المیرزا محمد علی الاوردبادی وکانت وفاتھما متقاربۃ فی سنۃ ۱۳۸۰(۳۹)(مکتبۃ بحرالعلوم۲۸۲)
الکراس الثالث(مکتبۃ بحرالعلوم ۲۰۰)
کشف‌النقاب‌ عن‌ عقائد ابن عبدالوہاب(عربی
لمحات حول السفور والحجاب (عربی)
المتحف العربی من الادب العصری (عربی)
المتحف العربی (عربی)
مقدمہ تفسیر القرآن (عربی)
متجمع التبثیر(عربی)
مشقت النذیر فی المسئلۃ التصویر(عربی)
مسئلۃ فی الخیر والشر(عربی)
النجعۃ فی اثبات الرجعہ(عربی)
نظرات بحاثہ فی الاخبار الثلاثہ(فہرست مکتبہ العلامہ السیدمحمدصادق بحرالعلوم ص۱۰۸)
نجف ام طف
نقد الفرائد
وجیزۃ الاحکام (عملیہ)
الوضاعون للاحادیث فی مذمۃ علی علیہ السلام ومن کان منحرفا عنہ ومبغضا(مکتبۃ بحرالعلوم ۲۸۹)

+ لکھاری عباس حسینی در 5 Apr 2018 و ساعت 9:12 PM |

رہگزر کا علامہ طباطائی سے شکوہ

ایک دفعہ کسی جاننے والے نےوالد صاحب( علامہ طباطبائی) کو راستے میں دیکھ لیا اور ان کو سلام کیا۔ والد صاحب نے جواب میں صرف سلام کا جواب دیا اور ان کی احوال پرسی نہیں کی اور گزر گئے۔ وہ شخص ناراض ہوگئے اور بعد میں شکوہ کرتے رہے کہ علامہ نے مجھ سے بے رخی کے ساتھ برتاو کیا ہے۔

بعد میں والد صاحب نے غلط فہمی دور کرنے کی خاطر وضاحت دی کہ: ہر وقت جب گھر سے نکلتا ہوں اپنی منزل تک پہنچنے تک نافلہ (مستحب) نماز پڑھتا ہوں۔ لہذا نماز کے دوران صرف سلام کے واجب جواب پر اکتفا کیا تھا۔ ہمیں اس وقت تک اس موضوع کے حوالے سے کوئی خبر نہیں تھی۔

 

(نجمہ سادات طباطبائی، دختر علامہ طباطبائی)


ٹیگس: علامہ طباطبائی
+ لکھاری عباس حسینی در 26 Mar 2018 و ساعت 9:21 PM |

شہید باقر صدر کی زاہدانہ زندگی

ترجمہ: سید عباس حسینی

 

شہید محمد باقر صدر کی عمر دس سال تھی۔ ان کے قریبی رشتہ دار سید محمد صدر (عراق کے سابق وزیر اعظم ) کو اس بچے  کی اعلی ذہانت  کا اندازہ ہوچکا تھا۔انہوں نے شہید صدر کے گھر والوں کو مشورہ دیا کہ بچے کو اعلی تعلیم کے لیے ملک سے باہر بھیجا جائے۔ انہوں نے وعدہ بھی دیا کہ وہ خود سارا خرچہ اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا: باقر صدر اپنی اس ذہانت کے ساتھ بیرون ملک کورس تیزی کے ساتھ مکمل کر لے گا۔ وہ ایسا مقام حاصل کر لے گا کہ اپنے پورےخاندان کو غربت کی چکی سے نکال لے گا۔  باقر صدر کے والد کی وفات کو سات سال گزر چکے تھے۔ فیملی اقتصادی حوالے سے انتہائی مشکل میں تھی۔ لیکن ان کی والدہ نے فیصلے کا اختیار خود باقر صدر کو دیا۔

باقر صدر نے زبانی جواب نہیں دیا۔ بلکہ کئی دنوں تک کھانے میں پانی کے ساتھ خشک روٹی کھاتے رہے۔ وہ بھی دن میں صرف ایک بار۔ ماں بچے کی حالت دیکھ کر تڑپ گئی۔ پوچھنے پر باقر صدر نے بتایا:

"ماما! میں یہ بات ثابت کرنا چاہ رہا تھا کہ میں خشک روٹی اور سادہ پانی کے ساتھ گزارہ کر سکتا ہوں۔ میں غربت برداشت کر سکتا ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ رزق کی ذمہ داری اللہ تعالی نے خود لی ہوئی ہے۔ میں کھانے سے سیر تو ہو سکتا ہوں، لیکن علم سے نہیں۔ میں نے اپنا فیصلہ لیا ہے۔ میں نے حوزے (دینی مدرسے) کا انتخاب کیا ہے۔  اس کے علاوہ کہیں اور پڑھنے کا مجھے بالکل بھی شوق نہیں۔"

دنیا سے یہ زہد اور بے رغبتی روز بہ روز باقر صدر کی زندگی میں بڑھتی ہی گئی۔ شادی کے بعد جب ان کی بیگم، فاطمہ خانم (موسی صدر کی ہمشیرہ)، نے ان سے پوچھا: آپ کے لباس کہاں ہیں؟گھر  میں تو کوئی لباس نظر نہیں آتا۔ باقر صدر نے فورا جواب دیا:"میرا لباس میرے جسم پر ہے۔" ان کی ماں کو ہنسی آئی اور کہا:دیکھا تمہاری بیگم کو یقین نہیں آرہا کہ تمہارے پاس صرف یہی لباس اور قبا ہے جو پہنی ہوئی ہیں۔

جب باقر صدر بطور مفکر اسلام مشہور ہوئے اور ان کی کتابیں پوری دنیا میں بکنے لگیں پھر بھی ان کی زندگی کے معمول میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ جو کچھ ہاتھ آتا اسلام اور تبلیغِ دین کی خاطر خرچ کر دیتے۔ یہاں تک کہ جب آپ مرجع بن گئے اور کتابوں کی رائلٹی کے علاوہ خمس وغیرہ کے پیسے بھی آنے لگے اس وقت بھی آپ کے پاس ذاتی گھر نہیں تھا۔

کئی دفعہ ایسا ہوا کہ کسی جاننے والے نے ، ارادتمند نے خواہش کا اظہار کیا کہ ان کے نام کوئی گھر خرید لیں۔ ان کا جواب تھا: جب تک دینی طلاب کرایے کے گھروں میں ہیں، اس وقت تک میرا بھی گھر نہیں ہونا چاہیے۔ جب گاڑی خریدنے کی پیشکش کی تو اسے بھی قبول نہیں کیا۔ کہا کرتے تھے: اگر خرچ کرنا چاہتے ہو تو اسلام کے لیے خرچ کرو،  میری ذات کے لیےنہیں۔

عمر کے آخری حصے میں ، جب آپ کی شہرت ساری دنیا میں پھیل چکی تھی، مامقانی قبرستان کے ساتھ آپ کا گھر تھا۔ حاضر نہیں تھے عام طالب علموں کی زندگی کے لیول سے بڑھ کر آپ کے لیے سہولیات میسر ہوں۔ جتنا ہو سکے کم خرچ پر زندگی گزارتے تھے۔

لیکن یہ زہد ، بے ذوقی کی بنیادپر نہیں تھا۔ دنیا کیا ہے اور اس کی لذتیں کیا ہیں سب جانتے تھے۔ لیکن جان بوجھ کر  اپنے لیے اس دنیا سے بے رغبتی کو انتخاب کیا تھا۔ جب فاطمہ بیگم (بیوی)  کوئی سلائی کا کام یا کھانے پکانے کا کام انجام دیتیں تب دلکش عبارات کے ساتھ ان کے کاموں کی تعریف کرتے۔ پس خوبصورتی کو دیکھتے بھی تھے اور سمجھتے بھی تھے۔لیکن اپنے لیے ایک اور راستے کا انتخاب کیاہوا تھا۔ وہ راستہ جس میں دنیا کی محبت دل سے ختم ہو، کسی صدام کی دھمکی اثر انداز نہ ہو اور  زندگی کے ایک لمحے کو بھی خدا کے علاوہ کسی اور کے ہاتھ نہ بیچیں۔

یہ زہد تنگ نظری کا نتیجہ بھی نہیں تھا۔ اپنے شاگردوں کا خیال رکھتے تھے۔ مختلف مناسبتوں پر شہریے کے علاوہ، ان کو تحائف بھی دیتے۔ کہا کرتے تھے: دینی طلاب کا شہریہ اتنا ہونا چاہیے کہ ان کی اقتصادی ضرورتیں پوری ہوں اور وہ معاشی حوالے سے کسی پریشانی کے بغیر اپنی ساری توجہ پڑھائی پر مبذول کر لیں۔


ٹیگس: زہد, باقر صدر
+ لکھاری عباس حسینی در 15 Feb 2018 و ساعت 11:46 PM |

امام خمینی (رہ) کی زندگی کے چند خوبصورت واقعات

حضرت امام خمینی(رہ) کی زندگی میں اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام سے عشق و محبت کا پہلو بہت زیادہ نمایاں تھا۔ آپ کو ان ذوات مقدسہ سے ایک خاص لگاو تھا۔ اس حوالے سے چند واقعات ملاحظہ ہوں:

  1. جس وقت آپ عراق میں تھے اکثر کربلا زیارت کے لیے مشرف ہوتے۔ اس زمانے میں ضریح کے اندر مرد اور خواتین کے حصے الگ نہیں کئے گئے تھے اور سب کے لیے ممکن تھا پوری ضریح کا چکر لگا لیں۔ امامؒ کو دیکھا گیا کہ آپ جب بھی زیارت کے لیے جاتے تو ضریح کا مکمل چکر نہیں لگاتے بلکہ ایک قوس کی شکل میں چکر لگا کر واپس آ جاتے۔ پوچھنے پر بتایا: احتمال ہے قبر کی اس جانب جناب شہزادہ علی اکبر علیہ السلام کی قبر ہو۔ ان کی قبر پر خدانخواستہ پاؤں آجائے تو توہین ہوگی۔ اس طرح سے آپ اس جگہے کی بھی تعظیم کرتے تھے جہاں احتمال تھا جناب علی اکبر علیہ السلام کی قبر ہے۔
  2. حکمی زادہ نامی شخص نے اہل بیت عصمت و طہارت کی گستاخی پر مشتمل کتاب "اسرار ہزار سالہ" لکھی۔ جب امامؒ تک اس کتاب کی خبر پہنچی تو امامؒ کو شدید صدمہ پہنچا اور آپ کو شدید بخار ہوا۔ آپ نے اپنا درس ایک مدت کے لیے مکمل تعطیل کیا اور گھر بیٹھ کر اس کتاب کا علمی اور مدلل جواب لکھا جو "کشف الاسرار" کی شکل میں چھپ گیا۔
  3. امام خمینیؒ کو حضرت زہراء سلام اللہ علیہا سے خاص عقیدت تھی۔ اس وقت ایران میں ایک جاپانی ڈرامہ سیریل ٹی وی سے دکھایا جا رہا تھا۔ اس کے ایک خاتون کردار کا اصل نام "اوشین" تھا۔ حضرت زہراء علیہا السلام کی ولادت کے موقع پر ریڈیو پر ایک خاتون سے انٹرویو لیتے ہوئے پوچھا گیا کہ آپ کی نظر میں ایرانی خواتین کے لیے زندگی میں بہترین نمونہ عمل اور آئیڈیل کون ہے؟ اس نے جواب دیا: "اوشین"۔ شاید امامؒ بھی یہ پروگرام سن رہے تھے اگلے دن ایک رسمی اعلامیہ جاری کیا اور اس وقت کے صدا و سیما (میڈیا) کے مسئول محمود ہاشمی کی توبیخ کی۔ ساتھ میں ان تمام لوگوں کو نوکری سے نکالنے کا مطالبہ کیا جو اس کام میں شریک تھے اور عدالت سے کہا کہ ان پر تعزیر جاری کی جائے۔ آپؒ نے فرمایا: جس نے توہین کی ہے اگر قصدا ایسا کیا ہے تو اس پر حد جاری ہوگی۔
  4. امام خمینیؒ حضرت عباس علمدار علیہ السلام کے حرم میں زیارت کے لیے جا رہے تھے۔ اندر بہت زیادہ رش تھا۔ کسی جاننے والے نے دیکھ لیا تو اپنی عبا کے ذریعے لوگوں کو ہٹا کر امامؒ کے لیے راستہ بنانے لگے۔ امامؒ نے اسے منع کیا۔ وہ پھر بھی نہیں رکے تو کہا "خدا کی قسم میں واپس چلا جاوں گا۔ یہ کام مت کریں۔ یہاں میں اور حضرت عباس علیہ السلام کا ہر زائر برابر ہے۔" لہذا کسی زائر کو تکلیف دینے پر آپ راضی نہیں تھے۔
  5. انقلاب کے بعد کچھ علماء نے مصائب پڑھنا چھوڑ دیا تھا۔ فضائل اور تبلیغ کے بعد منبر سے اترتے تھے اور مداح اور ذاکر کو موقع دیتے تھے کہ وہ ذکر مصائب پڑھ لیں۔ امامؒ تک خبر پہنچی تو بہت زیادہ ناراض ہو گئے۔ حکم دیا کہ علماء مصائب پڑھیں۔ زیادہ مصائب پڑھیں۔
  6. امام خمینیؒ کے گھر سالانہ مجلس ہوتی تھی۔ انقلاب کے بعد ابتدائی ایام میں آپ قم میں ساکن تھے۔ گھر مجلس تھی اور روضہ خوان مجلس پڑھ رہا تھا۔ امامؒ آکر مجلس کے سب سے آخر میں جوتی والی جگہ بیٹھ گئے۔ امامؒ کو دیکھ کر سب لوگوں کا رخ امامؒ کی طرف ہوا۔ امام بہت ناراض ہوئے اور بلند آواز سے کہا: طرف آقا باشید، طرف منبر باشید۔ (رخ روضہ خوان کی طرف رخ کریں۔ منبر کی طرف دیکھیں۔)
  7. پیرس میں عاشوراء کا دن تھا۔ گھر کے صحن میں بیٹھنے کے لیے دریاں وغیرہ بچھائی گئی تھیں اور لوگ زمین پر بیٹھ کر امامؒ کے منتظر تھے۔ میڈیا کے نمائندے بھی تھے جو امامؒ سے سیاسی موضوع پر کچھ گفتگو کرنا چاہتے تھے۔ اتنے میں امامؒ تشریف لائے۔ زمین پر بیٹھ کر پوچھا کوئی ہے جو مجلس پڑھے؟  ایک شخص نے مجلس پڑھی اور مصائب پڑہنا شروع کیا۔ امامؒ زار زار رونے لگے۔ گریہ کرنے لگے۔ میڈیا کے افراد حیران کہ شاہ کے خلاف لڑنے والے اس مجاہد کو کیا ہوگیا ہے؟ اچانک اتنا بلند گریہ؟ کیا کسی لیڈر کو رونا زیب دیتا ہے؟ ڈپلومیسی کی زبان میں رونے کا مطلب یہ انسان بہت کمزور ہے۔ پوچھنے پر بتایا کہ امامؒ در حقیقت اپنے جد امام حسین علیہ السلام کے مصائب پر رو رہے ہیں۔ اس بات پر ان کو سمجھ آگئی کہ "امام خمینیؒ اس انقلاب میں اپنے جد حسین علیہ السلام کی پیروی کر رہے ہیں۔" آپ کے اس ایک فعل سے پورے یورپ میں امام حسین علیہ السلام اور عاشوراء کا پیغام پھیل گیا اور میڈیا نے اس خبر کی بھرپور کوریج دی۔

(استفادہ از درس اخلاق حضرت آیت اللہ نجم الدین طبسی، ۸ جنوری 2018 مجتمع عالی امام خمینیؒ قم )


ٹیگس: امام خمینی, اہل بیت کی محبت
+ لکھاری عباس حسینی در 9 Feb 2018 و ساعت 12:37 AM |

امام خمینی(رح) اور نماز شب

 

  • امام خمینی(رح) نے بیماری کی حالت میں، زندان میں، جلاوطنی کے وقت اور یہاں تک کہ ہسپتال میں جب بسِتر بیماری پر تھے کسی وقت نماز شب نہیں چھوڑی۔
  • آیت اللہ سید مصطفی خوانساری نقل کرتے ہیں: اس سال قم میں بہت زیادہ برف باری ہوئی۔ سردی بھی انتہائی شدت کی تھی۔ اس سخت موسم میں امام خمینی آدھی رات دار الشفاء مدرسے سے مدرسہ فیضیہ آتے تھے۔ مدرسے کے حوض کی برف توڑ کر برف کے نیچے سے پانی نکالتے اور اسی ٹھنڈے پانی سے وضو کر کے واپس اپنے مدرسے آتے اور تاریکی میں نماز شب پڑھنے میں مشغول ہوجاتے۔
  • اس رات امام کے بیٹے حاج مصطفی کے گھر کچھ مہمان ٹھہرےہوئے تھے۔ کہتے ہیں: رات دیر تک علمی ابحاث میں ہم مشغول رہے۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہم سوئے ہی تھے کہ اچانک رونے اور گریے کہ آواز سن مہمان نیند سے پریشانی کی حالت میں جاگ گئے۔ حاج مصطفی کو بیدارکیا اور ان سے کہا: شاید آپ کے ہمسایے میں کوئی فوتگی ہوئی ہے۔آغا مصطفی نے آواز سن کر کہا: نہیں، یہ والد محترم(امام خمینی رہ) کی آواز ہے۔ جب بھی نماز شب پڑھتے ہیں ان کی یہی حالت ہوتی ہے۔
  • قم میں امام خمینی(رہ) بیمار ہوئے۔ ڈاکٹرز کے کہنے پر تہران منتقل کئے گئے۔ موسم بہت سرد تھااور برف باری ہو رہی تھی۔ راستے بھر میں برف جمی ہوئی تھی۔ کئی گھنٹوں کے لیے امام ایمبولینس میں تھے۔ جب کارڈیالوجی ہسپتال تہران پہنچے امام نے وہاں بھی نماز شب پڑھی۔
  • جس رات پیرس سےتہران  امام کی واپسی تھی، جہاز کے اندر سارے لوگ سو رہے تھے۔ صرف امام تھے جو جہاز کے اوپر والی منزل پر جا کر نماز شب پڑھ رہے تھے۔
  • وہ شخص جو جہاز میں امام کے ساتھ تھا،وہ نقل کرتے ہیں:میں نے جسارت کی۔کہا کہ جا کر دیکھ لوں امام کس حالت میں ہیں؟ سیڑھیوں سے ہوتے ہوئے جہاز کی اوپر والی منزل تک جا پہنچا۔ اوپر پہنچتاہوں تو دیکھتا ہوں کہ امام بیٹھے ہوئے ہیں اور نماز پڑھنے میں مصروف ہیں۔ جس طرح عام اوقات میں نماز پڑھتے ہیں۔ ہاں لیکن امام کی صورت آنسووں سے تر تھی۔ آپ نماز شب پڑھنے میں مصروف تھے۔
  • امام کے فرزند حاج احمد نقل کرتے ہیں: جس رات پیرس سے واپسی تھی، جہاز کے اندر امام نماز شب کے لیے اٹھے۔ امام ایسے گریہ کر رہے تھے کہ جہاز کا عملہ تعجب کرنے لگا۔ ہم نے سنا کہ ان لوگوں (جہاز کے عملے ) نے پوچھا بھی تھا: امام کو کسی چیز کا غم ہے کیا؟ میں نے کہا:یہ تو امام کی ہر رات کا معمول ہے۔
  • اسی طرح سے حاج احمد نقل کرتے ہیں: جس وقت قم سے امام کو زندان لے جایا گیاامام نے اس وقت ایسی حالت میں نماز شب پڑھی تھی کہ ان کو لے جانے والے سپاہی بھی متاثر ہوگئے تھے۔ ان میں سے ایک سپاہی تہران میں امام کی نماز دیکھ کر رو پڑا تھا۔
  • ایک اور جگہ وہ کہتے ہیں: جس دن ہم نجف سے کویت کی طرف سفر کے لیے نکلے۔سفر کی تمام تر تھکاوٹ کے بعد ہم  رات کے ۱۲ بجے کے قریب بصرہ پہنچے۔ بصرہ کے ایک ہوٹل میں کچھ دیر کے لیے آرام کیا۔ ابھی شاید ۲ گھنٹے نہیں گزرے ہوں گے کہ امام کی گھڑی نے الارم بجائی، امام اٹھ کھڑے ہوئے اور نماز شب پڑھنے میں مصروف ہوگئے۔
  • شہید محراب آیت اللہ صدوقی نقل کرتے ہیں: ہم امام کے ساتھ کئی دفعہ سفر میں ساتھ تھے۔ مشہد کے سفر میں، ہمارے ساتھ خصوصی شفقت سے پیش آتے۔ ایک دفعہ مشھد سے واپسی پررات کے وقت  روسی سپاہیوں نے راستے میں ہماری گاڑی روک لی۔ سب لوگ گاڑی سے اترے۔ امام چونکہ ہمیشہ سے نماز شب کے پابند تھے، اترتے ہی نماز شب پڑھنے کی تیاری کرنے لگے۔ اس صحراء کے بیج میں پانی کہاں سےلاتے؟ ایک دفعہ دیکھا کہ امام کو کہیں سے پانی مل گیا ہے اور آپ آستین اوپر کر کے وضو کرنے میں مصروف ہیں۔

 

  • امام کی زوجہ نقل کرتے ہیں کہ جب سے امام کی عمر ۲۸ سال تھی(جس سال شادی ہوئی) سے لے کر  اب تک ان کی کوئی نماز شب قضا نہیں ہوئی۔ آیت اللہ فاضل لنکرانی نقل کرتے ہیں کہ   امام نے ۷۰ سال مسلسل بلا ناغہ نماز شب پڑھی ہے۔امام کی یہ عادت تھی کہ صبح کی نماز  سے دو گھنٹہ پہلے بیدار ہوتے تھے۔ کچھ دیر کے لیے قرآن کی تلاوت کرتے تھے اور نماز شب میں مشغول ہوتے تھے۔
  • (ترجمہ: سید عباس حسینی)

ٹیگس: امام خمینی, نماز شب
+ لکھاری عباس حسینی در 27 Jan 2018 و ساعت 8:21 PM |

رہبر معظم سید علی خامنائی مختلف عالمی سیاسی ومذہبی شخصیات کی نظر میں

 

1۔ کیوں امام خامنائی؟

آیت اللہ بہجت

کچھ لوگوں نے آیت اللہ بہجت سے کہا: آغا خامنائی ابھی رہبربننے کے لیے جوان ہیں۔ انہوں نے جواب میں فرمایا: ایک دفعہ کہا تھا علی علیہ السلام جوان ہیں اور ان کو خلافت سے منع کیا گیا ، اسی کی پشیمانی سات پشتوں کے لیے کافی ہے۔

 

2۔ کیوں امام خامنائی؟

آیت اللہ بہاء الدینی: ایک دن آیت اللہ بہاء الدینی کی آیت اللہ خامنائی سے ملاقات کے بعد ان سے پوچھا گیا:کیا رہبر معظم کل یہاں آئے تھے؟ انہوں نے جواب میں کہا: ہاں، کچھ دیر کے لیے یہاں سورج نکلا تھا، سورج کی طرح ان کی خیر وبرکات بہت زیادہ ہیں۔

 

3۔ کیوں امام  خامنائی؟

کنڈولیزا رائس سابق امریکی وزیر خارجہ

ایران کا لیڈر (خامنائی) ان تمام منصوبوں کو جو دنیا کے بہترین ذہنوں نے ، اچھا خاصہ بجٹ خرچ کر کے، بہت زیادہ ٹائم صرف کر کے بنایا ہو، اور دنیا کے ماہر ترین افراد کے پاس ان منصوبوں کو اپلائی کر نے کی ذمہ داری ہو، صرف ایک گھنٹے کی تقریر کے ذریعے نقش بر آب کر نے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

 

4۔ کیوں امام  خامنائی؟

کوفی عنان(سابق سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ):میری مختلف شخصیات سے ملاقات رہی کہ جن سے بہت زیادہ متاثر ہوا۔ لیکن آیت اللہ خامنائی سے ملاقات میں، میں نے محسوس کیا ان جیسی شخصیت  آج تک نہیں دیکھی۔ ان کی معنوی شخصیت نےمجھے ایسے متاثر کیا کہ اپنی جگہ سوچنا شروع ہوا :کیوں مجھ جیسا  اقوام متحدہ کا سیکرٹری جنرل ہوں؟(میری جگہ ان کو ہونا چاہیے۔) اس ملاقات کے بعد جن شخصیات نے مجھے متاثر کیا تھا باقی سب کو میں بھول گیا۔

 

۵۔ کیوں امام خامنائی؟

حضرت آیت اللہ حسن زادہ آملی: آپ رہبر معظم کے سامنے دوزانو ہو کر بیٹھتے ہیں اور آپ کو مولا کہہ کر پکارتے ہیں ۔ رہبر معظم ناراض ہوتے ہیں اور علامہ سے کہتے ہیں: ایسا نہ کیجیے۔ علامہ حسن زادہ فرماتے ہیں: "اگر آپ سے ایک مکروہ بھی دیکھا ہوتا تو ایسا نہ کرتا۔"

اسی طرح ان کا کہنا تھا: "اپنے کان ہمیشہ آیت اللہ خامنائی کی طرف متوجہ رکھنا، چونکہ ان کےکان ہمیشہ حضرت حجۃ بن الحسن کی طرف متوجہ ہیں۔"

 

6۔  کیوں امام خامنائی؟

مرحوم محمد تقی بہلول: میں نے اپنی زندگی میں، بہت سارے امراء اور اصحاب منصب دیکھے، لیکن کسی کو بھی دنیاوی منصب اور مقام سے بے رغبت ان جیسا نہیں دیکھا۔ جب روزمرہ زندگی میں ان کو دیکھتا ہوں تو احساس کرتا ہوں کہ دنیا طلبی کی طرف ایک ذرہ بھی میل ورغبت نہیں رکھتے۔

 

7۔ کیوں امام خامنائی؟

امام خمینی (رہ)

ایک روز آغا خامنائی سفر سے واپس آئے اور امام خمینی کی خدمت میں پہنچے۔ آغا خامنائی کو دیکھتے ہی امام خمینی نے کہا: جب پتہ چلا کہ آپ کا جہاز ائیرپورٹ پر اتر چکا ہے تب مجھے سکون ہوا۔ پھر فرمایا: جب بھی آپ سفر پر جاتے ہیں میں مضطرب رہتا ہوں ۔ بہت زیادہ سفر پر مت جا یا کریں ۔ امام خمینی نے آپ کے بارے فرمایا:" واقعا آقای خامنائی رہبری کی صلاحیت رکھتے ہیں۔"

 

8۔ کیوں امام خامنائی

مرجع عالیقدر آیت اللہ سیستانی: میں امام خمینی کے دور میں ہر رات ان کے لیے دعا کیا کرتا تھا، اور ابھی ہر روز آغا خامنائی کے لیے دعا کرتا ہوں۔

 

9۔ کیوں امام خامنائی:

ولادی میر پیوٹن (روسی صدر): حضرت مسیح کے بارے میں نے جتنا مطالعہ کیا ہے، ان کی تمام خصوصیات ایران کے رہبر میں ، میں نے پایا۔ وہ ایسا حکیم دانشمند ہے  کہ جس کے ہاتھ میں ایران کی سیاست اور فیصلے ہیں اور ان کی ذہانت اور معاملہ فہمی کی وجہ سے ایران کے لیے کسی قسم کا خطرہ باقی نہیں رہتا۔ ان سے ملاقات میں ولایت فقیہ کے مفہوم اور دینی علماء  کی ولایت کے بارے میں جو کچھ سنا ہوا تھا، سچ پایا۔

+ لکھاری عباس حسینی در 14 Sep 2017 و ساعت 4:57 PM |

ڈاکٹر شہید مصطفی چمران

 

تحرير: عباس حسينى

 

ڈاکٹر شہید مصطفی چمران کی ڈائری پڑھ رہا ہوں ۔ خد ا بود ودیگر ھیچ نبود۔ (There was God and nothing else) روح کو چھوتی تحریریں۔۔۔ ایمان سے لبریز یادیں۔۔۔ عشق خدا سے سرشار دل کی باتیں ۔۔ بندہ اپنی جگہ شرمندہ ہوجاتا ہے کہ کیسے پاکیزہ لوگ تھے۔ وہ لوگ کہاں ہم کہاں؟! اپنا سب کچھ چھوڑ کر راہ خدا میں موت کو گلے لگانا اتنا آسان کام نہیں ہے۔ یہ صرف خاص لوگوں کا طرہ امتیاز ہے۔ تربیت شدہ افراد کا خاصہ ہے۔

 

ایک مثال ملاحظہ ہو: لکھتے ہیں: "خدایا مجھے معاف کردے۔ میرا دل بھر گیا ہے علم و دانش سے، کام کاج سے، دنیا وما فیہا سے، تمام دوستوں سے، مدرسہ اور استاد سے، زمین اور آسمان سے۔ خدایا! میرا دل چاہتا ہے کچھ لمحات صرف تیرے ساتھ گزاروں۔ صرف آنسو بہاوں۔ فریاد کروں۔ اپنے اندر کے تمام بوجھ کو ہلکا کروں۔ اے غم، اے میرا پرانا دوست۔ تجھ پر میرا سلام۔ آجا کہ میرا دل تیرے لیے تڑپ رہا ہے۔ اے میرے خدا! زندگی کے مفہوم کو نہیں جانتا۔ جو چیزیں دوسروں کے لیے لذت بخش ہیں وہ مجھے تھکاوٹ دیتی ہیں۔ میرا دل ہر چیز سے بھر گیا ہے۔ خوشی اور لذت سے بھی متنفر ہوں۔ خدایا تیری طرف آنا چاہتا ہوں۔ میری مدد فرما۔ صرف تو میرے ضمیر سے آگاہ ہے۔ اپنے پلکوں کے آنسو صرف تیرے حوالے کرتا ہوں۔ "

 

ڈاکٹر مصطفی چمران تہران میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ایران میں حاصل کی۔ فیزیکس کی فیلڈ میں تخصص کیا۔ اعلی تعلیم کے حصول کے لیے امریکہ چلے گئے۔ پلازما فیزیک میں پی ایچ ڈی کر لی۔ فارسی کے علاوہ عربی، ترکی، فرینچ، انگلش اور جرمن زبانوں پر مسلط تھے۔ اعلی تعلیم کے باوجود ان کی انقلابی روح ہمیشہ مسلمانوں کے زوال پر تڑپتی رہی۔ جمال عبد الناصر کے دور میں مصر جا کر جنگی تربیت حاصل کی۔ امام موسی صدر کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے زندگی کے قیمتی ترین سات سال لبنان میں گزارے۔ لبنان کی خانہ جنگی کے دوران انہوں نے مظلومین کی مدد میں اہم کردار ادا کیا۔ ٹیکنکل کالج کو چلانے اور حرکت امل کی بنیاد رکھنے میں ان کا اہم رول تھا۔ در حقیقت آج کی حزب اللہ امام موسی صدر اور ڈاکٹر چمران جیسوں کی محنت اور تربیت کا نتیجہ ہے۔ ایران میں انقلاب کی کامیابی کے بعد واپس ایران آئے۔ امام خمینی کی خاص سفارش پر ایران رکے اور سپاہ پاسداران کی تشکیل اور تربیت میں اپنا اہم حصہ ڈالا۔ انقلاب کے فورا بعد کردستان میں بغاوت کو کنٹرول کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ امام خمینی کے خاص حکم پر وزیر دفاع بنے۔ پارلیمنٹ میں تہران کی عوام کی طرف سے نمائندگی کی۔ ایران عراق جنگ میں رہبر معظم کے ساتھ جنگی مہمات میں حصہ لیا۔ اپنے پیشہ ورانہ تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے عراقی فورسز کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔ اسی جنگ کے دوران زخمی ہوئے اور پھر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ روحش شاد۔


ٹیگس: ڈاکٹر مصطفی چمران
+ لکھاری عباس حسینی در 10 Aug 2017 و ساعت 12:51 AM |

💢 *القائد الشهيد... عارف الحسيني*💢

♻️ *بقلم: السيد عباس الحسيني*♻️

باكستان دولة تسقيها الشيعة بدمائهم الطاهرة بين الحين والآخر لتبقى على خريطة العالم منفردة من نوعها إذ أنها أرض الشهداء والتضحيات، بحيث قدّمت أكثر من عشرين ألفا من الشهيد  في سبيل الدفاع عن العقيدة، بدون ارتكاب أي ذنب إلا الولاء لآل البيت عليهم السلام والانتماء لمذهب الشيعة.

 يعد الشهيد القائد سماحة السيد عارف حسين الحسيني قدس سره على رأس هؤلاء الشهداء بحيث  أنه استشهد في 5 من آب سنة 1988 ميلادى على يد الغدر والإرهاب في الصباح الباكر بعد صلاة الصبح في مدرسة دينية له "دار المعارف الإسلامية" في مدينة بيشاور. وهكذا في طول التاريخ الشيعي في باكستان، يتجدّد لديهم الجرح الذي لم يندمل بعد مضي ثلاثين سنة. وقد أصدر الإمام الخميني رحمه الله رسالة تعزية خاصّة بهذه المناسبة حيث قال: "لقد وصلت رسالتكم للتبريك والتسلية بمناسبة استشهاد السيد عارف الحسيني، الصديق الوفيّ للإسلام، المدافع عن المحرومين والمستضعفين، الابن الحقيقي لسيد الشهداء أبي عبد الله الحسين عليه السلام. لقد أجرحت هذه الحادثة العظيمة قلوب المسلمين... (أوصي) الشعب الباكستاني النبيل... ومسلميها... أن يحافظ على أفكار الشهيد الحسيني. أنا بنفسي فقدت ابني العزيز (عارف الحسيني). أسأل الله تعالى أن يثبّت هذا الشعب الكريم على مسير الجهاد والاستشهاد."
فتح السيد عارف الحسيني عينيه في أسرة دينية في مدينة باراشنار ذات غالبية شيعية. تلمّذ على أبيه أولا، ثم تلقى العلوم الدينية لمدّة ثلاثة أعوام في منطقته، و بعد ذلك سافر إلى باب مدينة العلم في النجف الأشرف مركز العلم والاجتهاد. التقى مع الإمام الخميني قدس سره في النجف ووجد فيه ما كان يبحث عنه ومن ثمّ ذاب فيه. تعلّم منه درس المقاومة والإيثار والجهاد والسعي لإقامة الحكومة الدينية.
شارك في التظاهرات التي خرجت اعتراضا على المظالم التي حمّلت على آية الله سيد الحكيم ما أدّت إلى حبسه لمدّة شهر في السجون البعثية ومن ثم طرده من العراق.
عاد إلى وطنه، ولكن عطش العلم لم يجعله يستقرّ فيه، فسافر إلى مدينة قم في إيران. وبسبب فعالياته السياسية ضدّ نظام الحكم الشاهي اعتقله الساواك و طرد من إيران أيضا.
حاول في باكستان نشر المعارف الدينية وعلى رأسها فكرة ولاية الفقيه وسعى في تأسيس الحكومة الإسلامية فيها. ومن أهم نشاطاته في هذه المرحلة ما يأتي:

-  نشاطاته في رفض المظالم الحكومية ضد الشيعة في باكستان، والمحاولة لتأسيس الحكومة الإسلامية تأسيا للثورة الإسلامية في إيران.
-  نشاطاته في نشر المعارف الدينية وإيجاد الصحوة الإسلامية في المجمتع. وكذلك مساعيه في إيجاد الوحدة بين المذاهب الإسلامية.
-  نشاطاته في تأسيس المراكز الخيرية لإنهاء الفقر والحرمان من المجتمع الشيعي.
انتخب السيد عارف الحسيني قائدا لشيعة باكستان سنة 1984 بعد وفاة مفتي جعفر حسين رحمه الله. وقد عيّنه الإمام الخميني رحمه الله ممثلا له في باكستان. بدأت الحركة الجعفرية فعالياتها السياسية في باكستان ابتداء من أيام قيادته. بسبب إخلاصه وفنائه في الله كان محبوبا لدى الشعب الباكستاني، من السنة والشيعة على السواء.
كان من الأولين الذين رفعوا شعارات ضد أمريكا في باكستان وبذلوا مساعى عملية في إفشال سياستها في المنطقة. كان ممن يعمل بجدّ بنشر فكرة ولاية الفقيه وبيانها في المجتمع الباكستاني والدفاع عنها. كذلك كان جبلا راسخا في وجه السياسة العدوانية والعدائية ضد الشيعة للدكتاتور "ضياء الحق" عميل أمريكا والسعودية في باكستان. فلذلك أرادت أمريكا التخلص منه، وطلبت من ضياء الحق اغتياله بأي ثمن كان. وقد لبّى دعوة أسياده في 5 من آب 1988،عندما صلى الشهيد صلاة الصبح، كما صلى جدّه علي ابن طالب آخر صلاته في مسجد الكوفه، ذهب إلى الطابق الثاني من مدرسته الدينية ليجدد وضوئه، وعند رجوعه عندما وصل إلى السلّم وإذا بابن ملجم الزمان يظهر و يطلق النار عليه مستهدفا صدره، ما جعله يتلطّخ بدمه تأسيا بجدّه الحسين عليه السلام.
عاش سعيدا، ومات شهيدا.

+ لکھاری عباس حسینی در 6 Aug 2017 و ساعت 12:41 AM |

آيت الله العظمى سید شہاب الدین مرعشى نجفى

 

 موصوف کی ولادت

 موصوف سن 1315 ہجری قمری میں شہر نجف میں پیدا ہوئے، آپ کا نام شہاب الدین رکھا گیا، موصوف کے والد گرامی آیت الله سید شمس الدین محمود مرعشی (متولد 1279 و متوفی 1338 هجری قمری) نجف اشرف میں علوم اسلامی کے مدرس اور فقیہ تھے۔ آیت الله مرعشی نجفی نے پچپن کو اپنے اہل خانہ کی محبت بهری آغوش میں گزارا اور اسلامی تربیت میں پروان چڑھے، موصوف کی والده اتنی باایمان اور پاکدامن خاتون تھیں کہ انہوں نے موصوف کو کبھی بہی بغیر وضو کے دودھ نہیں پلایا۔ موصوف کا تعلیمی سفر

 موصوف نے لکھنا پڑھنا سیکھنے کے بعد نوجوانی کے عالم میں روحانیت کا لباس پہنا اور اسلامی علوم حاصل کرنے میں مشغول ہوگئے، ادبیات عرب، فقہ، اصول، حدیث، درایہ، رجال اور شرح حال وغیره کو حوزه علمیہ نجف کے جید علماء سے سیکھا، اُس کے بعد آیت الله آقا ضیاء عراقی (متوفی 1373 هجری قمری)٬ آیت الله شیخ احمد کاشف الغطاء (متوفی 1373) اور حوزه علمیہ نجف کے دیگر برجستہ اور جید مدرسین کے فقہ و اصول کے درس خارج میں شرکت کی۔ آیت الله مرعشی تعلیم سے اِس قدر عشق رکھتے تھے کہ ہر وقت غور و فکر کے ساتھ مشغول رہتے تھے، دسیوں سال تک حوزه علمیہ نجف اشرف میں مشہور و معروف اساتید کے دروس میں شرکت کی اور اُن کے خرمن علم سے فیض علم حاصل کیا۔ ایک مدت تک زیدیہ اور اہل سنت کے علماء سے علم حدیث حاصل کیا اور ان سے نقل احادیث کا اجازه لیا۔ موصوف کی شب و روز کی محنت آخرکار 27 سال کی عمرمیں نتیجہ بخش ہوئی اور موصوف درجہ اجتہاد پر فائز ہوگئے، موصوف کی علم دین کے سلسلہ میں انتهک کوشش واقعا قابل داد ہے٬ جیسا کہ موصوف خود اِس سلسلہ میں فرماتے ہیں: «ہم نے جوانی کے عالم میں کبھی بھی نفسانی خواہشوں کی پیروی نہیں کی اور ہمیشہ علم دین حاصل کرنے میں مشغول رہے،ہم شب و روز میں چند گھنٹوں کے علاوه نہیں سوتے تھے، ہمیں جہاں بھی استاد یا عالم یا مفید درس کا پتہ چلتا تھا، اُس استادعالم اور اُس کے جلسہ درس میں جانے میں دیر نہیں کیا کرتے تھے»۔ آیت الله مرعشی نجفی نے نجف، کربلا، کاظمین، سامرا، تہران اور قم میں سو سے زیاده اساتید کے سامنے زانوئے ادب تہہ کئے اور اُن کے علم و تقوی سے فیض حاصل کیا۔ موصوف تعلیم کے ابتدائی مرحلے سے ہی بلند ہمت، ذوق و شوق، تقوی، ذکاوت اور ہوشیاری نیز دیگر اخلاقی فضائل میں مشہور تھے۔ موصوف نے متعدد شیعہ مراجع تقلید سے «اجازه اجتهاد» حاصل کیا، جن میں سے بعض کے اسمائے گرامی اِس طرح ہیں: 1 .آیۃ الله العظمى آقا ضياء عراقى ( متوفى 1361 هجری قمری) 2 .آیۃ الله العظمى سيد ابوالحسن اصفهانى ( متوفى 1365 هجری قمری ) 3 .آیۃ الله العظمى شيخ عبدالكريم حايرى يزدى ( متوفى 1355 هجری قمری) آیت الله مرعشی نے سن 1388 هجری قمری میں اپنے والد گرامی کی وفات کے بعد علوم دینی حاصل کرنے کے لئے کاظمین، سامرا اور کربلا کا سفر کیا اور برسوں تک وہاں کے حوزات علمیہ میں برجستہ اور جید اساتید سے فیض حاصل کیا۔

ایران کا سفر

 اور آخرکار سن 1342 هجری قمری میں حضرت امام رضا علیہ السلام کے روضہ مقدس کی زیارت کے لئے ایران آئے۔ حضرت اما م رضا علیہ السلام کے مرقد مطہر کی زیارت کے بعد تہران گئے اور حوزه علمیہ تہران میں آیت الله شیخ عبد النبی نوری (متوفی 1344 هجری قمری)، آیت الله آقا حسین نجم آبادی (متوفی 1347 هجری قمری)، آیت الله مرزا طاہر تنکابنی (متوفی 1360هجری قمری)، آیت الله مراز مهدی آشتیانی (1372هجری قمری) وغیره سے علم فقہ و اصول اور فلسفہ و کلام کی تعلیم حاصل کی۔ دوسرے سال حضرت معصومہ قم (سلام الله علیها) کے مرقد مطہر کی زیارت کے لئے آئے۔


ادامه مطلب
+ لکھاری عباس حسینی در 20 Jul 2017 و ساعت 3:44 PM |

شہید محمد باقر صدر کی زندگی کے چند باب

Some Chapters from the Life of Shaheed Baqir al-Sadr

 

تحریر: سید عباس حسینی

 

اپنے جد بزرگوار حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے جوار ،  کاظمین شہر میں 1934 میں آپ کی ولادت ہوئی۔بچپن میں ہی یتیمی کا روگ سہنا پڑا چونکہ ابھی آپ بچپن کی بہار سے پوری طرح لطف اندوز نہیں ہوئے تھے کہ  والدمحترم سید حیدر صدر داغ مفارقت دے گئے۔ آپ کی والدہ  اور بھائی سید اسماعیل صدر کا آپ کی تربیت میں اہم کردار رہا۔

بچپن میں ہی آپ کی ذہانت کی ذہانت زبان زد عام تھی، جس کی دلیل یہ ہے کہ جب آپ کو اسکول میں داخل کرایا گیا تو سال کے وسط میں اساتذہ اس نتیجے پر پہنچے کو بچے کو اگلی کلاس میں بھیج دیا جائے۔ اور پھر اگلے ایک سال میں آپ نے تیسری اور چوتھی کلاس کا بھی کورس مکمل کر لیا۔

جب سید کی عمر دس گیارہ سال تک پہنچی تو انہوں نے اپنے آپ کو فیملی کے اندر دو راستوں کے درمیان پایا۔ کچھ کا خیال تھا سید باقر صدر کو بیرون ملک تعلیم کے لیے بھیج دیا جانا چاہیے۔ جبکہ خود سید دینی تعلیم اور حوزہ علمیہ میں داخل ہونے کے متمنی تھے۔ تین دن کی بھوک ہڑتال کے ذریعے سے آپ نے اپنا مطالبہ منوایا اور سب لوگ اس بات پر راضی ہوگئے کہ سید کو حوزہ علمیہ بھیج دیا جائے۔

1946 میں ( آپ کی عمر 12 سال بنتی ہے) آپ اپنے بھائی سید اسماعیل صدر کے ساتھ ہجرت کر کے کاظمین سے نجف اشرف تشریف لائے۔ اس دور میں آپ کے بارے میں مشہور ہے کہ حوزے کی اکثر کتابیں بغیر استاد کے خود سمجھ سکتے تھے۔ سید باقر صدر دن میں سولہ گھنٹے تحصیل ، مطالعےاور تفکر  میں مشغول رہتے۔ کورس کی کتابوں کے علاوہ اخبار اور رسالوں کا مطالعہ بھی آپ کا شوق تھا۔ اکثر آپ امیر المومینؑ لائبریری اور نجف کی شوشتری لائبریری میں مصروف مطالعہ ہوتے۔

شیخ محمد رضا آل یاسین اور سید خوئی کے درس خارج سے استفادہ کیا۔ فقہ اور اصول کے درس خارج کو دس سال کی مختصر مدت میں ختم کیا۔ علماء نے واضح طور پر بیان کی ہے کہ ۲۲ سال کی عمر میں باقر صدر مسلم مجتہد تھے۔ جب آپ کی کتاب "فدک فی التاریخ" سید عبد الحسین شرف الدین تک پہنچی اور انہوں نےکتاب کو پڑھا تو فورا بے اختیار بول پڑے: خدا کو گواہ مان کر کہتا ہوں کہ آپ مجتہد ہیں۔یاد رہے جس وقت یہ کتاب لکھی گئی ہے اس وقت شہید کی عمر صرف 20 سال تھی۔سید خوئی نے آپ کو  22 سال کی عمر میں اجتہاد کا اجازہ عطا کیا۔ ایسا ہونا تشیع کی تاریخ کا نادر موقع ہے۔

۲۶ سال کی عمر میں سید باقر صدر نے خود اصول کا درس خارج دینا شروع کیا۔اور پھر   دو سال بعد فقہ کا بھی درس خارج بھی پڑھانا شروع کیا۔ اسی دوران آپ نے بہت سارے اچھے شاگرد تربیت کیے جن کا تعلق دنیا کے مختلف ممالک سے تھا۔

1962 میں  سید موسی صدر کی ہمشیرہ کے ساتھ آپ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔

آپ کی اہم تالیفات میں  ہمارا فلسفہ، ہمارااقتصاد، استقرا کی منطقی بنیادیں، اسلام میں بغیر سود کے بینک، قرآنی مکتب، ائمہ اہل بیت ؑاور دوسری دسیوں کتابیں اور لیکچرز ہیں۔آپ نے فقہ، اصول، تفسیر، فلسفہ، عقائد، تاریخ ، اقتصاد  وغیرہ کے موضوعات پر مفید تحریریں لکھیں۔

سید محمد باقر صدر نے جس موضوع پر بھی قلم اٹھایا اس موضوع میں تقلید کی بجائے  جدید نظریات پیش کیے۔ آپ نے اسلام کے اقتصادی، معاشرتی، فکری نظام کو قرآن وحدیث اور عقلی بنیادوں پر بیان کرنے کی بھرپور کوشش کی۔  اشتراکی اور سرمایہ دارانہ نظام پر  کاری ضربیں لگائیں اور ان کے مقابلےمیں اسلام کے خالص نظام کو بیان کیا۔آپ تصنیفات آج بھی محققین کے مطمع نظر اور بہت ساری یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی ہیں۔

علمی میدان کے علاوہ آپ نے عملی طور پر سیاسی اجتماعی میدان میں بھی قدم رکھا۔ 1957 میں عراق کے اندر "الدعوہ اسلامی پارٹی" کی بنیاد رکھی اور وہاں کے مظلومین کے اجتماعی سیاسی حقوق کے حصول کے لیے میدان میں اترے۔ آہستہ آہستہ اس پارٹی کی جڑیں معاشرے میں مضبوط ہونے لگیں اور حکومت وقت اسے  اپنے لیے خطرہ محسوس کرنے لگی۔

اسی دوران آپ نے اپنے ایک مشہور فتوے میں عراق کی بعث پارٹی میں شمولیت کو حرام قرار دیا جس سے حکمرانوں کی نیندیں حرام ہوگئیں۔ ایران میں اسلامی انقلابی کی کامیابی کے بعد آپ نے فورا اس انقلاب کی تائید کی اور مبارکباد پیش کی جس سے بعثی حکومت مزید طیش میں آگئی۔ حکومت کی طرف سے  کئی بار مختلف پرکشش آپشنز آپ کے سامنے رکھے گئے لیکن آپ نے ہمیشہ انکار کیا۔ عراقی ایجنسیز کی طرف سے کہا گیا کہ آپ صرف چند جملےامام خمینی اور انقلاب اسلامی کے خلاف لکھ لیں، آپ کو قید سے چھوڑ دیا جائے گا۔ لیکن اس جری سید نے کچھ بھی لکھنے سے انکار کرتے ہوئے کہا: میں شہادت کے لیے آمادہ ہوں۔ انسانیت اور دین کے خلاف میں ایک بھی قدم نہیں اٹھا سکتا۔

کئی بار آپ کونظر بند، کئ بار قید کرنے اور مختلف قسم کے ٹارچر اور سزاوں کےباوجود جب آپ کے پائے  استقامت میں کسی قسم کی لغزش نہیں دیکھی اور آپ نے بعث پارٹی کے مطالبات ماننے سے انکار کر دیا  تو صدام لعین نے فیصلہ کیا کہ آپ کو اب راستے سے ہٹانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ اس طرح اس عظیم اسلامی مفکر کو 9 اپریل 1980 کو بغداد میں نہایت جسمانی اذیت کے بعد گولی مار کر شہید کیا گیا۔ آپ کو نجف اشرف وادی السلام میں لے جا کر دفنایا گیا۔ جہاں کچھ عرصے تک کے لیے  دادا امیر المومنین ؑ کی طرح آپ کی قبر بھی عام لوگوں کے لیے مجہول رہی ۔ پھر وہاں سے  کچھ مومنین نے (1994 میں)  آپ کی لاش کو موجودہ قبر اور ضریح میں منتقل کیا جہاں آپ  ابدی نیند سو رہے ہیں۔

آپ کے ساتھ ساتھ صدام نے آپ کی بہن سیدہ بنت الہدی کو بھی شہید کیا۔ اس وقت صدام کا یہ جملہ مشہور تھا: میں وہ غلطی نہیں کروں گا جو یزید نے کی تھی۔ حسین کو قتل کر کے زینب کو زندہ چھوڑ دیا  اور پھر زینب نے یزید کو رسوا کر دیا۔ میں بھائی کے ساتھ بہن کو بھی موت کے گھاٹ اتاروں گا۔ اور پھر ایسا ہی ہوا ۔ نہایت بے دردی کے ساتھ اس کنیز زینب کو مارا گیا، جن کی لاش کا آج تک پتہ نہیں چل سکا کہ کہاں پھینکا گیا ہےاور  اپنی دادی زہراء ؑ کی طرح آج تک مجہول القبر ہیں۔

خداوند متعال اس شہید بہن بھائی کو، حسینؑ اور زینبؑ کے ساتھ محشور فرما۔ آمین!

+ لکھاری عباس حسینی در 8 Apr 2017 و ساعت 12:43 PM |

(A Brief Introduction of Shaheed Dr. Beheshti)

"بہشتی  تنہا ايک امت تھے "

(رہبر کبیر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح)

 

شہید ڈاکٹر بہشتی کو ان کی بے پناہ صلاحیتوں اور ناقابل فراموش خدمتوں کے سبب ایران کے مجاہد علماء اور فقہا کے درمیان ایک ممتاز مقام حاصل ہے شہید آیت اللہ بہشتی بیک وقت مجتہد، فقیہ، فلسفی، مکتب شناس، سیاستدان، سخن دان و سخن راں، صاحب قلم، مصنف و محقق۔ منتظم و مدبر، دنیا کی کئی زندہ زبانوں پر مسلط عربی، فارسی، انگریزی اور جرمنی کے قادر الکلام خطیب اور مقرر ایک ایسی جامع و کامل شخصیت کے حامل مومن و مخلص انسان تھے کہ جن پر تاریخ اسلام و انقلاب جتنا بھی افتخار کرے کم ہے ۔ ایک ایسی احسن و اکمل ذات کہ جس کے لئے رہبر کبیر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) نے بجا طور پر فرمایاہے.

" شہيد بہشتي اپني جگہ تنہا ايک امت تھے "

 

پيدائش اور ابتدائي تعليم:

شہید محمد حسین بہشتی، سن 1928 ء میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم اصفہان میں حاصل کی اور اسلامی علوم میں اپنی بے پناہ دلچسپی کے سبب ہائرسیکنڈری کے بعد حوزۂ علمیہ اصفہان میں داخلہ لے لیا اور 1946ء تک اسی حوزہ میں سطوح عالیہ کے دروس تمام کئے اور پھر شہید مطہری کی مانند اپنے چند دوستوں کے ساتھ حوزۂ علمیہ قم تشریف لائے اور جیسا کہ خود کہتے ہیں : میں نے قم آکر مدرسۂ حجتیہ میں قیام کیا اور سن 1947 ء تک مکاسب اور کفایہ کی تکمیل میں مصروف رہا۔ اس کے بعد آیت اللہ داماد اور آیت اللہ العظمی بروجردی اور امام خمینی (رح) کے درس خارج میں بھی شریک ہوا البتہ اسی کے ساتھ ہی دل میں خیال آیا کہ یونیورسٹی کی تعلیم بھی حاصل کروں ۔

 

اعلی عليم:

1951 ء میں اسلامی معارف میں دانشکدۂ الہیات سے بی اے اور پھر ایم اے کے بعد سن انیس سو انسٹھ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کی ۔ شہید بہشتی نے اپنے مباحثین میں شہید مطہری، موسی شبیری زنجانی، موسی صدر، آیت اللہ مکارم شیرازی، ڈاکٹر مفتح آذری قمی، آیت اللہ مشکینی اور ربانی شیرازی کا ذکر کیا ہے۔

 

تعليمی سرگرمياں:

انہوں نے 1954 ء میں " دبیرستان دین و دانش "" کے نام سے قم ہیں ایک ہائر سیکنڈری اسکول کی بنیاد رکھی اور حوزۂ علمیۂ قم کے طلبہ کے درمیان مروجہ علوم و زبان سیکھنے کا شوق پیدا کیا اور گرانقدر ثقافتی خدمات انجام دیں ۔ 1963 ء میں آپ نے قم میں ہی چند احباب کے ساتھ مل کر ایک بڑے اور وسیع مدرسۂ حقانی کی بنیاد رکھی اور حوزۂ علمیہ کے فاضل طالبہ کا ایک گروہ، اسلامی حکومت کے موضوع پر تحقیقات کے لئے تشکیل دیا ۔

یہی وہ ‌زمانہ ہے جب شاہی حکومت کی خفیہ مشنری " ساواک " نے آپ کو قم چھوڑدینے پر مجبور کیا اور آپ کو تہران منتقل ہونا پڑا لیکن آپ نے اپنا رابطہ حوزۂ علمیہ سے قطع نہیں کیا 1964 ء میں مدارس میں دینی تعلیمات کے لئے ایک مکمل نصاب تعلیم مرتب کیا جس کے بارے میں حوزہ اور یونیورسٹی کے ایک مسلم الثبوت استاد اور پروفیسر آقائے حقانی کا کہنا ہے کہ : یہ نصاب نہایت ہی جامع اور بڑی خوبیوں کا حامل تھا جس کے مطابق ایک طالب علم پندرہ سال میں اجتہاد کی منزلیں طے کرسکتا تھا، اور اجتہاد کے مراحل میں ایک امتحان کے علاوہ ایک تحقیقی مقالہ بھی لکھنا پڑتا اور ان کی روشنی میں مسائل کے استنباط کی صلاحیت دیکھتے ہوئے اجتہاد کی سند ارکان مدرسہ کی طرف سے دی جاتی ۔

یہ نصاب پہلی مرتبہ مدرسۂ حقانی میں جاری کیا گیا اور شہید بہشتی کے مرتب کردہ اصولوں کی بنیاد پر طلبہ کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا گیا ۔ در اصل شہید بہشتی چاہتے تھے کہ حوزہ علمیہ اپنی قدیم روایتی حد بندیوں سے باہر نکلے اور عصری تقاضوں کے مطابق اپنی تبلیغی ذمہ داریوں کو انجام دے سکے اور حوزۂ علمیۂ قم نہ صرف ایران اور مخصوص اسلامی ملکوں کے لئے بلکہ پوری دنیا کے مسائل کا جواب دے سکے اور بین الاقوامی برادری کی سطح پر ایک موثر کردار ادا کرسکے ۔

 

تبليغ دين کے لئے کوششيں:

سن 1965 ء میں آیت اللہ العظمی بروجردی علیہ الرحمہ کی فرمائش پر پانچ برسوں کے لئے شہید بہشتی کو اسلامی تبلیغی مہم کے لئے جرمنی کے شہر ہمبرگ کا سفر کرنا پڑا آپ نے وہاں یونیورسٹیوں کے طلبہ کے درمیان اسلامی انجمنیں قائم کرکے فارسی زبان کی ترویج کے ضمن میں ہی صحیح اسلامی افکار و نظریات سے مغربی دنیا کو آشنا بنانے کے لئے یونیورسٹیوں اور کلیساؤں میں جا کر خود ان کی جرمن زبان میں تقریریں کیں جو بےحد موثر ثابت ہوئیں ۔

 

وطن واپسی اور سياسی سرگرمياں:

1970 ء میں تہران واپس آئے اور تفسیر قرآن کا درس دینا شروع کیا اور ڈاکٹر جواد باہنر اور ڈاکٹر عقودی کے ساتھ مل کر ایران کے مدرسوں میں رائج کتابوں کی تدوین، اصلاح میں مشغول ہوگئے ۔ اس طرح اپنی مسلسل فکری اور ثقافتی انقلابی جد و جہد کے بعد 1978 ء میں علی الاعلان سیاسی میدان میں اتر پڑے اور شہید مطہری، شہید مفتح، حجۃ الاسلام ملکی اور آیت اللہ امامی کاشانی کے ساتھ مل کر ایک ملک گیر سیاسی جماعت " روحانیت مبارز تہران " کی سنگ بنیاد رکھی جس میں دوسری اہم انقلابی شخصیتیں رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای، آیت اللہ مشکینی، آیت اللہ ربانی املشی، آیت اللہ طبسی اور شہید ہاشمی نژاد و غیرہ بھی شامل ہوگئے ۔ اور پھر امام خمینی (رح) کے حکم سے باقاعدہ طور پر ایک انقلابی کونسل تشکیل پائی جس میں آیت اللہ بہشتی سرفہرست تھے ۔

چنانچہ اسلامی انقلاب کی کامیابی اور بقاء واستحکام میں شہید بہشتی کے کارنامہ کو اگر ایک جملے میں بیان کرنا چاہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں : حضرت امام خمینی رضوان اللہ علیہ کے رفقائے کار کے درمیان شہید بہشتی نے اسلامی انقلاب کی بنیادی ترین خدمات انجام دی ہیں ۔ شہید بہشتی کی شخصیت کی جامعیت اور اسلامی علوم و فنون پر کامل تسلط کے ساتھ ہی عصر حاضر کے تمام سیاسی و نظریاتی مکاتب اور آزموں سے گہری واقفیت نیز مختلف اسلامی اور یورپی زبانوں میں تقریر و تحریر کی صلاحیت نے آپ کو دوستوں حتی بزرگوں کے درمیان بھی ممتاز کردیاتھا ۔

 

سياسی مخالفين پر آپ کا رعب:

کسی بھی سیاسی فکری محفل و مجلس میں آپ کی موجودگی لوگوں کو ہر ایک سے بے نیاز کردیتی تھی ۔جس وقت اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کی تشکیل کے لئے " مجلس خبرگان " کے جلسوں میں شہید بہشتی اپنی زبان کھولتے تھے تو اسلام و قرآن کے تمام مخالفین و معاندین کی زبانیں گنگ رہ جاتی تھیں اور ان کو اپنی کمیوں کے سبب سبکی کا احساس ہوتا تھا ۔ یہی وجہ ہے دو طرح کے لوگ آپ کے وجود سے گبھراتے اور مخالفت و کینہ توزی سے لبریز تھے، ایک تو منافقین اور مشرق و مغرب سے وابستہ عناصر کا وہ گروہ تھا جو اسلامی انقلاب کی بنیادوں کا ہی مخالف تھا ۔ اور دوسرا حکومت و اقتدار کا بھوکا تنگ نظر علماء اور مفاد پرست دانشوروں کا وہ طبقہ تھا جو اپنے سیاسی مقاصد کی راب میں شہید بہشتی کو روڑا سمجھتا تھا اور سختی سے احساس کمتری کا شکار تھا ۔ چنانچہ انقلاب کی کامیابی کے ابتدائی ایام کی تاریخ اگر گہری نظروں سے مطالعہ کی جائے تو یہ حقیقت پوری طرح واضح ہوجائے گی کہ اسلامی انقلاب کے مخالف تمام گروہ، منافقین ہوں یا مشرقی سوشلسٹ اور مغربی لبرل عناصر ہر ایک کی دشمنی اور تہمتوں کا پہلا نشانہ شہید بہشتی کی ذات تھی ۔

 

سياسی مخالفين کی سازشيں:

مخالفین کو معلوم تھا بہشتی تن تنہا ایک "معاشرہ " ایک ملت اور ایک امت ہیں لہذا پہلے انہوں نے ان کی شخصیت کو قتل اور بدنام کرنے کی کوشش کی لیکن آیت اللہ بہشتی کو ان کی درایت، محکم گفتگو، خلوص خدا پر توکل اور نفس پر اعتماد نے دشمنوں کے مقابل پر میدان میں کامیابی عطا کی اور دشمنوں کے سامنے آپ کو قتل کردینے کے سوا اور کوئی چارہ باقی نہیں رہ گیا ۔ دشمنان اسلام کی طرف سے جبکہ طرح طرح کی سازشوں کی یلغار تھی وہ دوسرا گروہ کہ جن کی نظر میں شہید بہشتی کا وجود کانٹے کی طرح چبھ رہا تھا اور انہیں سیاسی میدان میں تنہا کردینے کے درپے تھا، دشمنوں کی ہاں میں ہاں ملانے لگا اور خطرناک انداز میں ان لوگوں نے اس مرد مجاہد کے خلاف عوام کوفریب دینے والے پروپگنڈے شروع کردئے ۔ انقلاب کے بعد ابتدائی تین برسوں میں شہید بہشتی کو جن حالات سے مقابلہ کرنا پڑا ہے اس کی ترجمانی شہید کو، امام خمینی کی طرف سے دیا گیا " مظلوم " کا خطاب کرتا ہے جو آیت اللہ بہشتی کی شہادت کے بعد امام خمینی نے دیا تھا ۔

 

" آئين " کی تشکيل کا اہتمام:

شہید بہشتی نے تمام مخالفتوں کے باوجود اسلامی انقلاب کی وہ قیمتی خدمات انجام دی ہیں کہ جنہیں اسلامی انقلاب کی تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی ۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر اوائل انقلاب ہی میں شہید بہشتی نے " آئین " کی تشکیل کا اہتمام نہ کیا ہوتا تو خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ آج اسلامی جمہوریہ ایران کا " آئین " کیا اور کیسا ہوتا ۔ ایک ایسا " آئین " وجود میں لانا کہ جس کو عالمی سطح پر مروجہ اصولوں کے برخلاف، پوری طرح مغرب کی تقلید سے آزاد رکھا جا سکے اور صرف و صرف اسلامی اصول و تعلیمات پر اس طرح استوار ہو کہ ذرہ برابر بھی شرع اسلامی سے مغائرت نہ رکھتا ہو بڑا ہی مشکل اور پیچیدہ کام تھا، خصوصا" اسلامی فقہا اور مجتہدین جامع الشرائط کی کونسل " مجلس خبرگان " میں اس کی منظوری اور ہر ایک کو اپنے محکم بیان اور استدلال سے قانع کردینا شہید بہشتی کی علمی اور فقہی منزلت کو واضح کرنے کے لئے کافی ہے ۔ اگرچہ اسلامی جمہوریہ ایران کا آئین راہ اسلام و قرآن میں شہید ہونے والے دسیوں ہزار افراد کے خون کا عطیہ ہے لیکن مجلس خبرگان کی کوششوں نیز اس کے ناظم کی حیثیت سے شہید مظلوم آیت اللہ بہشتی کے تدبر اور دور اندیشیوں کا ہی نتیجہ ہے ۔ آئین کی منظوری میں آیت اللہ بہشتی کا فیصلہ کن کردار، دشمنوں کی مخالفت بڑھ جانے کا سبب بنا، بنی صدر اور بازرگان کی عبوری حکومت نے اسی لئے مجلس خبرگان کو منحل کرنے کی بھی کوشش کی مگر ناکامی سے دوچار ہونا پڑا ۔

 

عدليہ کی سربراہی:

انقلاب کے بعد، امام خمینی رضوان اللہ علیہ نے ایک اور اہم ذمہ داری شہید بہشتی کو یہ سپرد کی کہ انہیں " عدلیہ" کا سربراہ "دیوان عالی" قرار دے دیا اور شہید نے اپنی بے پناہ صلاحیتوں سے عدلیہ کو عزت و وقار عطا کردیا وہ کسی بھی عنوان سے آئین کی خلاف ورزی، چاہے وہ ملک کی کوئی بھی شخصیت کیوں نہ ہو، ہرگز قبول نہیں کرتے تھے شہید نے جس مقام اور جس حیثیت سے بھی انقلاب کی خدمت کی ہے پوری فرض شناسی کے ساتھ کام انجام دیا وہ کہا کرتے تھے کہ " ہم خدمت کے دلدادہ ہيں اقتدار کے پياسے نہيں ہيں"

+ لکھاری عباس حسینی در 25 Mar 2017 و ساعت 11:55 PM |