جاروب کن تو خانہ، سپس میهمان طلب

جو بھی واقعات ہماری زندگی میں پیش آتے ہیں ہمارے اپنے کاموں کا نتیجہ ہے۔ "وَ ما أَصابَکُمْ مِنْ مُصیبَةٍ فَبِما کَسَبَتْ أَیْدیکُمْ" کیا ہمیں اس بات سے متعلق نہیں سوچنا چاہیے؟ اپنے گناہوں سے توبہ نہیں کرنی چاہیے جو ان بلاؤں اور مصیبتوں کا باعث بن رہی ہیں؟! لیکن ہم توبہ نہیں کرتے چونکہ اپنے کاموں کو برا نہیں سمجھتے۔

یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ استغفار زبانی وِرد کا نام نہیں بلکہ اس دل کی آواز ہے جو گناہوں سے تائب ہو کر رحمتِ خدا کا مشتاق ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو آسائش اور رہائی کی امید بھی نہیں ہونی چاہیے۔ کلمہ "استغفر الله" کا، جہاں تک ممکن ہو، کامل یقین کے ساتھ، دل سے، اس کے تمام حقیقی لوازمات کو مدنظر رکھتے ہوئے، تکرار کرتے رہنا چاہیے۔

استغفار اور توبہ کی برکتوں میں سے ایک امام زمان عجل الله فرجہ الشریف سے رابطہ برقرار ہونا ہے۔ بزرگ علماء کے مطابق جس کا وجود برائیوں سے پاک ہو اور خدا کی عبادت و بندگی سے آراستہ ہو گویا اس نے اپنے زمانے کے امام کی مدد کی ہے۔ یہی وجہ ہے جو لوگ یار کی دیدار کے مشتاق ہیں ان کے لیے خدا کے پاکیزہ اولیاء کی نصیحت کچھ یوں ہوتی ہے:

آیینه شو جمال پری‌طلعتان طلب
جاروب کن تو خانه، سپس میهمان طلب...

(جو محبوب کے جمال کا طالب ہو اسے چاہیے آئینہ بن جائے۔ پہلے گھر کو جاڑو دیں پھر مہمان کو مدعو کریں۔)

آیت اللہ بہجت ؒ

+ لکھاری عباس حسینی در 7 Feb 2021 و ساعت 1:13 PM |

ہمارے استاد آقای قاضی طباطبائی فرمایا کرتے تھے: "اس دنیا میں نماز سے بڑھ کر کوئی لذت نہیں۔"

ان سے منقول ہے کہ چند دنوں سے یہ سوچ رہا ہوں اگر جنت میں نماز پڑھنے کی اجازت نہ ہو تب کیا کیا جائے؟!

۔۔۔۔۔۔

حوزہ علمیہ نجف کے بڑے استاد آخوند خراسانی اپنے گھر بیٹھے ہوئے تھے۔ کوئی مانگنے والا آیا اور ان سے مدد کی درخواست کی۔

مرحوم آخوند نے فرمایا: "میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ میرے بچوں کے آنے سے پہلے ، جو دری میں نیچے بچھائی ہوئی ہے اسے اٹھا کر لے جاؤ۔

اگر وہ لوگ پہنچ گئے تب ممکن ہے  وہ لوگ اعتراض کریں۔ یہ دری لے جاؤ۔ ہم چٹائی پر بیٹھ جائیں گے۔

۔۔۔۔۔۔

زہد، دنیا داری کے منافی نہیں۔

زہد کا معیار، دنیا کا ہونا یا نہ ہونا نہیں۔

بلکہ زہد کا معیار یہ ہے کہ دل دنیا سے وابستہ ہے یا نہیں۔

 (پس دنیا اور مالِ دنیا کے ہوتے ہوئے اگر دل ان سے وابستہ نہ ہو تو زاہد انسان ہے۔)

۔۔۔۔۔

+ لکھاری عباس حسینی در 7 Feb 2021 و ساعت 1:11 PM |

"بے نشان" بن جاؤ۔

بہتر ہے انسان کے پاؤں کا کوئی نشان نہ ہو۔ بہتر ہے انسان خدا میں گم ہو جائے۔ اپنے نیک کاموں کو بھول جائیں تاکہ "بے نشان" بن جائیں۔

اپنے آپ کو خالص اور فارغ کر لیں۔ جس نے بھی تمہارے ساتھ ظلم کیا ہے اسے بخش دیں۔ خدا سے بھی دعا کریں اسے بخش دے۔ جس کے ساتھ بھی تم نے نیکی کی ہے اسے فراموش کر دے۔ جس کا بھی حق تمہاری گردن پر ہے اسے ادا کریں۔ ان کے حق میں دعا کریں اور اللہ سے چاہیں ان کا حق ادا فرمائے۔ جس کا بھی تو مدیون ہے، خدا اور پیامبر اسلامیﷺ اور ائمہ علیہم السلام سے مدد طلب کریں تاکہ تم اس کا دَین ادا کر سکو۔ یہ کام کرو تاکہ تم خدا سے ملاقات اور اس کی یاد کے لیے "فراغت" حاصل کر لو۔

حاج اسماعیل دولابیؒ

+ لکھاری عباس حسینی در 7 Feb 2021 و ساعت 1:8 PM |

نجات اطاعت اور اطاعت علم میں ہے۔

نجات کا واحد راستہ اطاعت اور بندگی ہے۔ اپنے نفس کو کنٹرول بغیر اطاعت کا فائدہ نہیں۔ اگر سو سال بھی گزر جائیں لیکن اپنے نفس کو کنٹرول نہ کریں، اپنی نگاہ کنٹرول نہ کریں۔۔۔ پہلی کلاس میں ہی بٹھائے جاؤ گے۔ دوسری کلاس میں تب جاؤ گے جب اپنے نفس کو کنٹرول کرو۔ یا نفس کی عبادت ہو سکتی ہے یا خدا کی۔ "لا نجاة إلا باالطاعة" یہی ہے۔

اطاعت یہ ہے کہ جو تمہارا دل کہتا ہے اس کی مخالفت کریں۔ (اس کے مقابلے میں جو خدا کہتا ہے اس کو بجا لائیں۔)

اسی طرح وہ اطاعت جو علم اور استاد کے بغیر ہو اس سے بھی انسان کہیں نہیں پہنچ سکتا۔ "لا نجاة إلا بالطاعة والطاعة بالعلم" اطاعت کے لیے علم چاہیے۔

امام زمان علیہ السلام کی قسم اگر تمہارا کوئی اخلاق کا استاد نہ ہو کہیں نہیں پہنچو گے۔ جونہیں بولنا شروع کرو گے، کسی کی اہانت کرو گے۔۔ کسی کی غبیت کرو گے۔۔

نجات کی کوئی خبر نہیں مگر یہ کہ بندہ اطاعت اور بندگی کرے۔ بندگی کا اپنا راستہ ہے۔ اطاعت اور بندگی علم کے ساتھ ہے۔ پس جائیں اور سیکھ لیں۔

آیت اللہ حق شناس

مردِ حق

+ لکھاری عباس حسینی در 7 Feb 2021 و ساعت 1:7 PM |

قناعت

ایک شخص شیخ محمد حسین زاہد کے گھر چاولوں کی بوری لے کر گیا

شیخ نے اس میں سے ایک پیالی چاول کی اٹھا لی اور کہا:

آج رات کے لیے یہی کافی ہیں۔

باقی غریبوں میں تقسیم کرو۔

آیت اللہ مجتہدی، بدایع الحکمہ، ص155

+ لکھاری عباس حسینی در 7 Feb 2021 و ساعت 1:6 PM |

نمازِ شب کی برکت

مرحوم حجت الاسلام سید محمد باقر شفتی سے کہا گیا:

جو گھر آپ کو خمس کے بدلے دیا گیا ہے اس میں نحوست ہے

اس گھر میں جنات رہتے ہیں۔

اسی وجہ سے اس کے مالک نے یہ گھر آپ کو دیا ہےچونکہ وہ خود اس میں نہیں رہ سکتا تھا۔

سید باقر نے کہا: اس کی نحوست کو نمازِ شب کے ذریعے ختم کروں گا۔

سید کے اس گھر جانے کے بعد انجام یہاں تک پہنچا کہ لوگ برکت کی خاطر اپنا نکاح اسی گھر میں رکھتے تھے۔

(در محضر آیت اللہ بہجت، ج۱، ص216)

+ لکھاری عباس حسینی در 7 Feb 2021 و ساعت 1:4 PM |

ولایت کی خدمت

ان کی طبیعت سخت خراب تھی۔

ایک دم کوما میں چلے گئے۔

اچانک ان کو ہوش آیا

گویا معجزہوا ہو۔

مکاشفے میں حضرت زہراءؑ کودیکھتے ہیں:

فرماتی ہیں: سید مرتضی! اپنے مولا کی ولایت کے لیے کچھ کام کرو۔

انہوں نے دن رات کی محنت سے معالم المدرستین کتاب لکھی۔

 (اس کتاب کا اردو ترجمہ "دو اسلامی مکاتب کا تقابلی جائزہ" کے نام سے ہو چکا ہے۔)

جونہی کتاب مکمل ہوئی اس دنیا سے چلے گئے۔

+ لکھاری عباس حسینی در 7 Feb 2021 و ساعت 1:2 PM |

مہمانِ خدا

دنیا میں اگر اپنے آپ کو خدا کا مہمان بنائیں

اورخدا کو اپنا میزبان

آپ کی تمام پریشانیاں ختم ہوں گی۔

چونکہ ہزار قسم کی پریشانیاں ممکن ہے میزبان کے دل میں ہوں جبکہ مہمان کو کسی کی بھی خبر نہ ہو۔

شیخ محمد اسماعیل دولابیؒ

+ لکھاری عباس حسینی در 3 Feb 2021 و ساعت 9:1 PM |

ابدی زندگی کی طرف۔۔۔

میرے بھائیو! بہنو!

یہ دریا دیکھ رہ ہو

اس دریا کا پانی کتنی تیزی کے ساتھ جاری ہے؟!

ہم بھی اس پانی کی رفتار سے زیادہ تیزی کے ساتھ اپنی ابدی زندگی کی طرف سفر کی حالت میں ہیں۔

ابھی اسی وقت۔ (حالتِ سفر میں ہیں۔)

وقت کچھ نہیں بچا۔

کل پرسوں (کا بہانہ) کرنے کا وقت نہیں۔

سستی کرنے کی فرصت نہیں۔

(اس ابدی اورہمیشہ رہنے والی زندگی کی تیاری ضروری ہے۔)

آیت اللہ حسن زادہ آملی

+ لکھاری عباس حسینی در 3 Feb 2021 و ساعت 8:51 PM |

ہماری زندگی کا اہم ترین مسئلہ موت ہے

جبکہ ہماری زندگی میں موت کی طرف سب سے کم توجہ دی جاتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زمین پر ایک پتہ بھی گرے اس کا پوری دنیا پراثر ہے

پس ہم کیسے سوچتے ہیں کہ گناہ کا کوئی اثر نہیں؟!

علامہ طباطبائیؒ

+ لکھاری عباس حسینی در 3 Feb 2021 و ساعت 8:48 PM |

سکوت

آقای قاضی (مشہور عارف) کے پاس آیت اللہ بہجت کی شکایت کی گئی

کہ ہم آدھا گھنٹہ بھی ان سے بات چیت کریں وہ نہیں بولتے۔ خاموش رہتے ہیں۔

آغا قاضی نے مخصوص انداز میں اس سوال پوچھنے والے کی طرف دیکھا اورپھر فرمایا:

کیوں نہیں؟! وہ تو جواب دیتے ہیں۔

پوچھا گیا: کیسے؟

بتایا: "اپنی خاموشی کے ساتھ بتاتے ہیں: سکوت اختیارکرو۔ سکوت کے ذریعے بلند مقامات تک پہنچ سکتے ہیں۔"

(نوٹ: دینی اور عرفانِ اسلامی میں پر حرفی کی مذمت کی گئی ہے۔)

+ لکھاری عباس حسینی در 3 Feb 2021 و ساعت 8:45 PM |

جبر یا اختیار؟!

کسی عارف سے پوچھا گیا:

زندگی میں جبر ہے یا اختیار؟

انہوں نے جواب دیا:

آج کے دن(دنیا) میں اختیار ہے جو چاہیں بَو سکتے ہیں

لیکن کل (آخرت) میں جبر ہے

چونکہ جو کچھ کل بَویا ہوگا وہی کاٹنا ہوگا۔

+ لکھاری عباس حسینی در 3 Feb 2021 و ساعت 8:44 PM |

روح کی لطافت

میں قسم کھانے والوں میں سے نہیں ہوں

لیکن مجبور ہوں، میرا دل جلتا ہے

اس لیے ایک جملہ بولتا ہوں:

خواتین و حضرات سن لیں!

حضرت زہراءؑ کی قسم!

اگر انسان میں لطافت (روح کی پاکیزگی/ لچک) نہ ہو تو کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔

اپنے آپ کو (خواہ مخواہ میں) معطل نہ کریں۔

ہر روز کچھ تلخ اوقات ہم گزارتے ہیں

غصہ ہم کرتے ہیں

اور پھر چاہتے ہیں ہم "زبدة عارفین" اور "عمدة المکاشفین" بن جائیں

ایک دفعہ یہ قسم میں نے کھائی ہے تاکہ بتا سکوں:

جب تک لطافت نہ ہو کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔

علامہ طباطبائی کا وجود لطافت سے بھرپور تھا۔

اس کی حد یہ تھی کہ انہوں نے پوری زندگی کسی سے جھگڑا نہیں کیا۔

جب ہم قم میں تھے

بچے سائیکل پر سوار ہو کر گروہ کی شکل میں گھومتے تھے

ہمارے پاس سے یہ گزرے

ایک بچے نے سائیکل لا کر علامہ کو مار دی۔

علامہ اور بچہ دونوں زمین پر گر گئے

اس موقع پر ہم ہوتے تو کیا کرتے؟ کیا کہتے؟

علامہ اپنی جگہ سے بلند ہوئے

فورا اس بچے کے پاس جا کر پوچھنے لگے:

تمہیں کچھ ہوا تو نہیں؟

کہا: نہیں، کچھ نہیں ہوا۔

فرمایا: الحمد للہ، اچھا خدا حافظ۔

استاد فاطمی نیا

+ لکھاری عباس حسینی در 3 Feb 2021 و ساعت 8:43 PM |

ایمان کی حفاظت

جب گھر سے نکلتا ہوں

تو خداوند متعال کو ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کی قسم دیتا ہوں

کہ ایمان کے ساتھ گھر واپس آسکوں۔

روایات میں آیا ہے:

کتنی دفعہ لوگ ایمان کے ساتھ گھر سے نکلتے ہیں

اور بغیر ایمان کے واپس آجاتے ہیں۔

آیت اللہ مرعشی نجفیؒ

+ لکھاری عباس حسینی در 3 Feb 2021 و ساعت 8:43 PM |

انسان بن چکے ہو

جب اس مرحلے تک پہنچ جاؤ

کہ ان لوگوں کے جوتے  بھی سیدھے کرسکو جن سے تمہاری دشمنی ہے

تب سمجھ لو کہ انسان بن چکے ہو۔

میرزا حسین قلی ہمدانیؒ

+ لکھاری عباس حسینی در 3 Feb 2021 و ساعت 8:42 PM |

اَبَدی زندگی

اپنی اصلاح سے بڑھ کر کوئی کام نہیں

دنیا کی اعتباری چیزیں عام طور پر وفا نہیں کرتیں

اگر وفا کریں بھی تو زیاہ سے زیاہ قبر تک انسان کا ساتھ دیتی ہیں

اس کے بعد پھر ہم ہیں اور ہماری اَبَدی زندگی

ہمارے سامنے اَبَدی زندگی ہے۔

جب ہم ہیں تو پھر (ہمیشہ کے لیے) ہیں۔

روایات میں آیا ہے:

إنما تنقلون من دار إلى دار

[تمہیں ایک گھر (دنیا) سے دوسرے گھر (آخرت) منتقل کیا جائے گا۔]

انسان کے لیے کبھی بھی فَنا نہیں ہے۔

انسان ہمیشہ کے لیے باقی اور برقرار ہے۔

ہاں، ایک معنی میں لباس تبدیل کیا جائے گا

ایک معنی میں جگہ تبدیل کی جائے گی۔

علامہ طباطبائی (رحمہ الله)

+ لکھاری عباس حسینی در 3 Feb 2021 و ساعت 8:16 PM |

تلاوتِ قرآن

راویات میں آیا ہے

جن گھروں میں قرآن مجید کی تلاوت ہوتی ہے

وہ اہلِ آسمان کے لیے ایسے چمکتےہیں

جیسے ستارے اہلِ زمین کے لیے چمکتے ہیں۔

در محضر آیت اللہ بہجتؒ، ج2، ص296

+ لکھاری عباس حسینی در 3 Feb 2021 و ساعت 8:15 PM |

دعویدارِ عشق

سردیوں کی ایک سخت رات تھی۔

بہت زیادہ برف باری ہو رہی تھی۔

تمام گلیاں اور سڑکیں سفید پوش ہوگئی تھیں۔

گلی کے سرے سے دیکھا کہ دوسری طرف ایک جوان ہے

جس نے دیوار کے ساتھ ٹیک لگایا ہوا ہے

اور اس کے سر کے بال برف سے سفید ہوچکے ہیں۔

میں نے سوچا

شاید کوئی نشئی ہے

جس نے دیوار پر جا کے سر مارا ہے۔

میں نے اسے ہلایا اور پوچھا:

کیا کر رہے ہو؟!

اے جوان شاید تو متوجہ نہیں ہے؟!

برف باری ہو رہی ہے!

شاید تم کافی دیر سے یہاں بیٹھے ہو۔؟!

بیمار ہو جاؤ گے۔

تمہاری زندگی کو خطرہ ہے۔

جوان نے شاید میری باتیں غور سے نہیں سنی تھیں

اپنی آنکھوں سے سامنے کی طرف اشارہ کیا

دیکھا کہ اس کی پوری توجہ سامنے کی کھڑکی پر ہے

میں سمجھ گیا کہ یہ کوئی عاشق جوان ہے۔

میں وہیں بیٹھ گیا

اور زار زار رونے لگا۔

جوان نے کہا: اے بوڑھے! تمہیں کیا ہوگیا ہے؟

کیا تم بھی عاشق ہوئے ہو؟!

میں نے جواب دیا:

تمہیں دیکھنے سے پہلے میرا یہ گمان تھا

کہ میں بھی عاشق ہوں۔ (مھدیؑ زہراءؑ کا عاشق)

لیکن اب جب تمہیں دیکھا ہے

(کہ کیسے اپنے عشق کی تڑپ میں خود سے بے خود ہو۔)

میں سمجھ گیا کہ میں عاشق نہیں ہوں

میں عشق کا صرف دعویدار تھا۔

آیا ممکن ہے عاشق ایک لمحے کے لیے بھی اپنے معشوق سے غافل ہو؟!

شیخ رجب علی خیاطؒ

+ لکھاری عباس حسینی در 3 Feb 2021 و ساعت 8:14 PM |

قرآن کا ہر لمحہ نزول

قرآن کریم خدای سبحان کے اسم "حیات" کا مظہر ہے۔ یہ مظہَر اپنے مُظہِر کے ساتھ ہمیشہ متصل ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ قرآن ایک بار نازل ہوا ہو اور پھر ختم، بلکہ تمام ساعات، تمام لمحات اور تمام لحظات میں حضرت حق کی طرف سے حالت نزول (تنزّل) میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب ہمیشہ تروتازہ اور جدید ہے۔ کسی بھی لمحے اس کی طراوت اور تازگی میں کمی نہیں آتی۔

اس نگاہ کے ساتھ اگر دیکھیں، جب ہم اس وقت قرآن کی کسی بھی آیت مثلا "بسم الله الرحمن الرحيم" کی تلاوت کرتے ہیں، یہ اس کے علاوہ ہے جب ہم اسی آیت کی تلاوت کسی اور وقت میں کرتے ہیں چونکہ اپنی حقیقت کے ساتھ اس کتاب کا رابطہ دائمی ہے اور خدا کے فیض میں ہر لمحہ تجدید ہے۔ ہم جب بھی قرآن کریم سے، فیض کے اس منبع سے متصل ہوتے ہیں در حقیقت اسی لمحے خدا کی طرف سے نازل ہونے والے فیض اور برکت سے بہرہ مند ہو رہے ہوتے ہیں.

حجت الاسلام عابدینی

رفیق های بندگی

+ لکھاری عباس حسینی در 3 Feb 2021 و ساعت 8:12 PM |

امربالمعروف کا طریقہ

اگر کسی کو امربالمعروف کرنا (نیکی کی دعوت دینا) چاہیں

تو بہت آہستہ، آئینہ کی طرح یہ کام کریں۔

آئینہ شور نہیں مچاتا کہ آپ کا کالر خراب ہے (تاکہ سب کو پتہ چل جائے۔۔!)

جب آئینے کے سامنے کھڑے ہوں وہ چیختا نہیں ہے کہ آپ کے بال بکھرے ہوئے ہیں۔

وہاں ایک خاص قسم کی خاموشی ہے

ان تمام باتوں کا علم صرف آپ کو ہے اور آئینے کو ہے۔

(روایات میں آیا ہے: "المؤمن مرآة المؤمن." مومن، مومن کا آئینہ ہے۔)

آیت الله حسن زاده آملی

+ لکھاری عباس حسینی در 3 Feb 2021 و ساعت 8:11 PM |

بچے کا ہاتھ خدا کے ہاتھ میں

اگر آپ کے بیٹے کو جوتوں کی ضرورت ہو آپ جلد یا دیر اس کے لیے جوتے مہیا کریں گے۔ اس وقت اپنے بچے سے کہیں:

"پیارے! بابا کے پاس پیسے ہونے چاہیے۔ آپ تو جانتے ہیں روزی پہنچانے والا خدا کی ذات ہے۔ پس خدا سے دعا کریں جلدی سے بابا کو کچھ پیسے دیں تاکہ آپ کے لیے جوتے خرید لیں۔"

بچہ ضرور دعا کرے گا۔ والد کے پاس بھی پیسے ضرور آئیں گے۔ بچہ سمجھے گا یہ جوتے خدا کی طرف سے ہیں۔ وہ خدا کا عاشق بنے گا۔ وہ کم عمری سے ہی سمجھے گا کہ والد رزق پہنچانے کا صرف ایک وسیلہ ہے۔ (رزق اور روزی کا اصل منبع خدا کی ذات ہے۔)

اگر ایسا کیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ باپ نے اپنے بیٹے کا ہاتھ خدا کے ہاتھ میں دے دیا ہے۔

آیت الله شاه آبادیؒ
عرفان میں امام خمینیؒ کے استاد

+ لکھاری عباس حسینی در 3 Feb 2021 و ساعت 8:7 PM |

حرکتِ حبّی

اسلام حبّ و بغض کا دین ہے۔ هل الدّين إلا الحبّ والبغض. (آیا دین حبّ و بغض کے علاوہ کچھ ہے؟)

یہ محبت اور بغض، اسماء الٰہی کے مرتبے میں موجود اس ذات باری کے جمال و جلال کے مظہر اور تجلّی ہیں۔ دین میں حرکت، وہی حبّی حرکت ہے جو انسان کے (خدا کی طرف) سیر اور سفر کو سرعت بخشتی ہے۔

اہم نکتہ یہ ہے کہ انسانوں میں محبت ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ محبت پہلے سے موجود ہے۔ جو کام ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ہم اس سے مانع ہوں کہیں یہ محبت کسی غلط مصداق (جگہ) سے تعلق پیدا کرے یا کسی مصداق میں آکر رک جائے۔ ضروری ہے اس محبت کو لامتناہی مصداق اور لامتناہی وجود (خداوند متعال) کی طرف ہدایت کریں۔

حجت الاسلام عابدینی

اهل بیتی ها

+ لکھاری عباس حسینی در 3 Feb 2021 و ساعت 8:4 PM |

شوہر گھر میں بیوی کی مشکلات کو سمجھے۔

شوہر کو چاہیے اپنے آپ کو بیوی کی جگہ فرض کر لیں۔ امیر المومنین علیہ السلام کا فرمان ہے: "فَإنَّ الْمَرْأةَ رَیحَانَةٌ ، لَیْسَتْ بِقَهْرَمَانَة۔" بیوی گھر میں تمہاری خادمہ نہیں ہے۔ عورت پھول ہے۔

مرد جب گھریلو امور کو انجام دیتا ہے یہ ایسے ہی جیسے جہاد میں مصروف ہو۔ بیوی کی مدد کرتے ہوئے گھر میں برتن دھوئیں، کپڑے سئیں، بچوں کا خیال رکھیں، جھاڑو دیں۔ یہ تمام کام شرعی ذمہ داریوں کی انجام دہی ہے۔

آیت الله حائری شیرازیؒ

+ لکھاری عباس حسینی در 3 Feb 2021 و ساعت 8:2 PM |

لا إله إلا الله کا معنی

لا الہ إلا الله یعنی یہ کہ اس کائنات میں خدا کے علاوہ کوئی لائقِ محبت نہیں۔

اخلاص یہ ہے کہ اپنے اعمال صرف خدا کے لیے انجام دیں اور غیرِ خدا سے اپنی نیت کو پاک کر لیں۔ إله یعنی جو لائقِ محبت ہو۔ یعنی جو انسان کے لیے اہمیت رکھتا ہو، جس کی خاطر انسان اپنے سارے اعمال انجام دیتا ہو۔

اخلاص صرف نیت یا عمل سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے ضروری ہے انسان کی نظر میں صرف خدا کی اہمیت ہو، صرف خدا کو لائقِ محبت (اور عبادت) سمجھے۔ اپنے اعمال صرف خدا کی خاطر انجام دے۔

استاد عینی زادہ موحد

جلسہ قرآن

+ لکھاری عباس حسینی در 3 Feb 2021 و ساعت 8:0 PM |

کبھی بھی "خصوصی" دعا نہیں کی

امامت کے موضوع پر ایک کتاب لکھی۔ اپنے استاد حضرت علامہ طباطبائی کو جا کر وہ کتاب دکھائی۔ استاد نے لطف کیا اور پوری کتاب کا مطالعہ کیا۔ کتاب میں ایک جگہ اپنے لیے خصوصی دعا کی ہوئی تھی: بار الٰہا! مجھے خطابِ محمدیﷺ سمجھنے کے لیے بلندی عطا فرما۔

جب کتاب مجھے واپس کر رہے تھے تب مجھ سے فرمایا: "آغا! جب سے میں نے اپنے آپ کو پہچانا ہے، اپنے لیے خصوصی اور شخصی دعا کبھی نہیں کی بلکہ میری دعائیں عمومی (سب کے لیے) ہوتی ہیں۔"

اخلاقی طور پر اس طرح سے تربیت میرے لیے انتہائی موثر تھی۔

علامہ حسن زاده آملی

کتاب ہزار ویک نکتہ

+ لکھاری عباس حسینی در 3 Feb 2021 و ساعت 7:58 PM |

سب سے بڑی نصیحت

اس سے بڑی نصیحت کوئی نہیں کہ انسان اپنے تئیں بھرپور ارادہ کر لے: اگر خداوند متعال اسے سو سال کی عمر بھی عطا کرتا ہے، جانتے ہوئے اور جان بوجھ کر کوئی گناہ نہیں کرے گا۔

اگر واقعا ایسی حالت انسان میں پیدا ہو اللہ تعالی اس کی مدد کرتا ہے، اسے توفیق بخشتا ہے۔

آیت اللہ بہجتؒ

در مسیر بندگی

+ لکھاری عباس حسینی در 3 Feb 2021 و ساعت 7:56 PM |

جوانی سے شروع کریں

آپ جوان اس جہاد کو ابھی سے شروع کریں کہیں آپ کی جوانی کی طاقت ختم نہ ہو۔ جوانی ختم ہوتے ہوتے فاسد اخلاق کی جڑیں بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ ان کی جڑیں مضبوط ہوتی جاتی ہیں لہذا ان کو ختم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔

جوان اس جہاد میں جلدی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ بوڑھے کے لیے یہ کام مشکل ہے۔ اپنی اصلاح کا کام جوانی سے بڑھاپے پر مت ڈالیں۔

شیطان کی چالوں میں سے ایک یہ ہے جس کا مشورہ وہ انسان کو دیتا ہے "اپنی اصلاح کا کام عمر کے آخری حصے کے لیے چھوڑ دیں۔" "ابھی جوانی کے مزیں اڑائیں بڑھاپے میں جا کر توبہ کریں۔" شیطان کی تعلیم کے نتیجے میں انسان کا نفس اس طرح کے بہانے بناتے ہیں۔

جب تک انسان کے پاس جوانی کی طاقت ہے، جوانی کی لطفیف روح اس میں ہے، فساد کی جڑیں اس میں کم ہیں (اس وقت اصلاح کی گنجائش زیادہ ہے۔)

امام خمینیؒ

کتاب تھذیب النفس وسیروسلوک از دیدگاہ امام خمینیؒ

+ لکھاری عباس حسینی در 3 Feb 2021 و ساعت 7:54 PM |

مال اور منصب کی محبت

مال اور منصب کی محبت انسان کو نابود کر دیتی ہے

روایات میں آیا ہے:

مال کی محبت اور منصب کی محبت اگر کسی میں نفوذ کر جائے تو یہ محبت اس کے پورے دین کو اس سے پہلے برباد کر دے گی جتنی دیر میں دو بھیڑیے بغیر چرواہے کے ریوڑ کو چیڑ پھاڑ دیتے ہیں۔

روایت کے الفاظ قابل غور ہیں۔

بھیڑیے کی عادت یہ نہیں ہے کہ جب وہ کسی ریوڑ میں گھس جائے تو ایک ہی جانور کو کھا لے، اگر سیر ہو تو وہاں سے چلا جائے بلکہ پہلے وہ تمام جانوروں کو زخمی کرتا ہے، انہیں زمین پر گراتا ہے، جب اس کی درندگی کو کچھ سکون حاصل ہو تب کھانا شروع کرتا ہے۔ شاید ایک دو سے ہی اس کا پیٹ بھر جائے لیکن زخمی سب کو کرتا ہے۔

منصب اور مال کی محبت بھی اسی طرح ہے۔ یہ محبت اس طرح نہیں ہے کہ صرف نبوت یا امامت کے عقیدے کو سست کرے اور پھر یہ محبت ختم ہوجائے بلکہ جب یہ محبت آجاتی ہے تو تمام اعتقادات کی جڑوں کو کاٹ دیتی ہے اور انسان کے دین کو مکمل نابود کر دیتی ہے۔ عقیدے کو بھی، مبدا سے لے کر معاد تک، خراب کر دیتی ہے، اور فرعات کے حوالے سے انسان کے عمل کو بھی سست کر دیتی ہے۔ اس کی نماز اور روزے کو بھی ختم کر دیتی ہے۔

آیت الله مجتبی تہرانیؒ

رسائل بندگی

+ لکھاری عباس حسینی در 3 Feb 2021 و ساعت 7:53 PM |

نصیحتِ آوینی

جو خود نصیحت کا محتاج ہو اس کی نصحیت سے دوسروں کا کیا بھلا ہو گا؟

جس نے خود کھجور کھائی ہو وہ کسی اور کو کیا منع کرے؟

 اس کے باوجود آپ کے اصرار کو دیکھتے ہوئے نصیحت کا ایک جملہ جس کا میں خود آپ سے زیادہ محتاج ہوں لکھ رہا ہوں؛

سوائے خدا کے کسی اور کے لئے کوئی عمل انجام نہ دو

(شہید مرتضی آوینیؒ )

+ لکھاری عباس حسینی در 3 Feb 2021 و ساعت 7:51 PM |

نمازِ شب

ایک روز مدرسے میں کھڑا تھا،

مرحوم قاضی (مشھور عارف) نے اپنا ہاتھ میرے کاندھوں پر رکھا

اور فرمایا:

اے بیٹا!

دنیا چاہتے ہو نمازِ شب (تھجد) پڑھو۔

آخرت چاہتے ہو نمازِ شب پڑھو۔

(علامہ طباطبائی رحمت اللہ علیہ)

+ لکھاری عباس حسینی در 3 Feb 2021 و ساعت 7:48 PM |