جاروب کن تو خانہ، سپس میهمان طلب
جو بھی واقعات ہماری زندگی میں پیش آتے ہیں ہمارے اپنے کاموں کا نتیجہ ہے۔ "وَ ما أَصابَکُمْ مِنْ مُصیبَةٍ فَبِما کَسَبَتْ أَیْدیکُمْ" کیا ہمیں اس بات سے متعلق نہیں سوچنا چاہیے؟ اپنے گناہوں سے توبہ نہیں کرنی چاہیے جو ان بلاؤں اور مصیبتوں کا باعث بن رہی ہیں؟! لیکن ہم توبہ نہیں کرتے چونکہ اپنے کاموں کو برا نہیں سمجھتے۔
یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ استغفار زبانی وِرد کا نام نہیں بلکہ اس دل کی آواز ہے جو گناہوں سے تائب ہو کر رحمتِ خدا کا مشتاق ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو آسائش اور رہائی کی امید بھی نہیں ہونی چاہیے۔ کلمہ "استغفر الله" کا، جہاں تک ممکن ہو، کامل یقین کے ساتھ، دل سے، اس کے تمام حقیقی لوازمات کو مدنظر رکھتے ہوئے، تکرار کرتے رہنا چاہیے۔
استغفار اور توبہ کی برکتوں میں سے ایک امام زمان عجل الله فرجہ الشریف سے رابطہ برقرار ہونا ہے۔ بزرگ علماء کے مطابق جس کا وجود برائیوں سے پاک ہو اور خدا کی عبادت و بندگی سے آراستہ ہو گویا اس نے اپنے زمانے کے امام کی مدد کی ہے۔ یہی وجہ ہے جو لوگ یار کی دیدار کے مشتاق ہیں ان کے لیے خدا کے پاکیزہ اولیاء کی نصیحت کچھ یوں ہوتی ہے:
آیینه شو جمال پریطلعتان طلب
جاروب کن تو خانه، سپس میهمان طلب...
(جو محبوب کے جمال کا طالب ہو اسے چاہیے آئینہ بن جائے۔ پہلے گھر کو جاڑو دیں پھر مہمان کو مدعو کریں۔)
آیت اللہ بہجت ؒ
