معاویہ کا علی علیہ السلام پر سب و شتم: صحاح کی روایات
ترجمہ و تحقیق: عباس حسینی
معاویہ بن ابی سفیان، مولا علی علیہ السلام سے بغض رکھتا تھا۔معاویہ کا باپ ابو سفیان رسول خداﷺ سے جنگیں لڑتا رہا، معاویہ خود مولا علی سے جنگ لڑتا رہا ، جبکہ اس کے بیٹے یزید نے رسول خداﷺ کے نواسے اور آپ کے بیٹے امام حسین علیہ السلام سے جنگ لڑی۔
معاویہ وہ شخص ہے جس نے آپ کی بیعت سے انکار کیا اور شام میں اپنی الگ سے حکومت بنا لی، جبکہ تمام بڑے صحابہ ، مکہ و مدینہ، کوفہ وبصرہ کے لوگ مولا علی علیہ السلام کی بیعت کر چکے تھے۔ جب مولا علی علیہ السلام نے معاویہ کو شام کی گورنری سے معزول کیا تو اس نے آپ کا حکم ماننے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ الٹا آپ کے خلاف لڑنے کے لیے لشکر تیار کیا، جس کے نتیجے میں جنگ صفین واقع ہوئی جو کہ تاریخ اسلام کا ایک دردناک باب ہے۔
معاویہ کے حکم پر شام کی مسجدوں میں نمازوں کے بعد، اور منبروں سے جمعے کے خطبوں میں مولا علی علیہ السلام پر لعن طعن اور سب و شتم کا خصوصی آرڈر جاری ہوا تھا جس کے تحت درباری خطیب حضرات تقریبا 60 سالوں تک شام کے منبروں سے آپ پر لعن کرتے رہے۔ یہاں تک کہ سن 99 ہجری میں عمر بن عبد العزیز کی حکومت آئی اور ان کے حکم پر یہ سلسلہ ختم ہوا۔
یہاں ہم اہل سنت کی معتبر ترین کتابوں سےچند روایات پیش کرتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان اور اس کے کارندے نہ صرف خود امام علی علیہ السلام پر سب و شتم اور لعن کرتے رہے بلکہ دوسروں کو بھی وقتا فوقتا آپ پر لعن کرنے اور سب و شتم کرنے پر اکساتے رہے۔ تاریخ اور تراجم کی کتابیں ان کے علاوہ ہیں جن سے بھی یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوتی ہے۔
پہلی روایت: معاویہ کا سعدبن ابی وقاص کو مولا علی علیہ السلام پر لعن کے لیے ابھارنا۔
صحیح مسلم کی روایت ہے کہ : معاویہ بن ابی سفیان نے سعد بن ابی وقاص کو حکم دیا اور کہا: تمہیں کس چیز نے روکا ہے کہ تم ابوتراب(علی علیہ السلام) کو سب کرو۔ (گالی دو۔) سعد نے کہا:علی کے متعلق رسول خدا ﷺ نے تین ایسی باتیں (خصوصیات) کہی ہیں کہ جن کی بنا پر میں ان کو گالی نہیں دیتا۔ ان باتوں میں سے کوئی ایک مجھ میں ہو مجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔۔۔
(صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، باب فضائل علی بن ابی طالب۔ سنن ترمذی، کتاب المناقب)
عربی عبارت : (أمر معاوية بن أبي سفيان سعدا فقال ما منعك أن تسب أبا التراب فقال أما ما ذكرت ثلاثا قالهن له رسول الله صلى الله عليه وسلم فلن أسبه لأن تكون لي واحدة منهن أحب إلي من حمر النعم)
دوسری روایت: معاویہ کو علی علیہ السلام کو سب کرنا
معاویہ ایک دفعہ حج پر آیا۔ سعد بن ابی وقاص اس کے پاس آیا۔ علی علیہ السلام کا تذکرہ آیا۔ معاویہ نے علی کو گالی دی۔سعد کو غصہ آیا اور کہا: تم ایک ایسے شخص کے بارے میں ایسا کہہ رہے ہو جس کے بارے میں، میں نے رسول خداﷺ سے کہتے ہوئے سنا ہے جس جس کا میں مولا ہوں اس اس کے علی مولا ہیں، اور میں نے رسول خدا کو کہتے ہوئے سنا ہے (یا علی) تمہیں مجھ سے وہی منزلت ہے جو ہارون کو موسی سے تھی۔ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اور میں نے رسول خدا کو کہتےسنا ہے: میں کل پرچم اس مرد کو دوں گا جو خدا اور رسول سے محبت کرتا ہے۔
(سنن ابن ماجہ، کتاب المقدمہ، ابواب فضائل اصحاب الرسول، باب فضل علی بن ابی طالب)
عربی عبارت: (قدم معاوية في بعض حجاته فدخل عليه سعد فذكروا عليا فنال منه فغضب سعد وقال تقول هذا لرجل سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من كنت مولاه فعلي مولاه وسمعته يقول أنت مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي وسمعته يقول لأعطين الراية اليوم رجلا يحب الله ورسوله )
حاشیہ میں لکھا ہے: (قوله : ( فنال منه ) أي نال معاوية من علي ووقع فيه وسبه بل أمر سعدا بالسب كما : قيل في مسلم والترمذي)
تیسری روایت: بنی امیہ کے گورنر کا علی علیہ السلام کو گالی دینے اور لعن کرنے کا حکم
آل مروان میں سے ایک شخص مدینے کا گورنر تھا۔اس نے سہل بن سعد کو بلایا اوراسے حکم دیا کہ علی علیہ السلام کو گالی دیں۔ سہل نے انکار کیا۔ اس نے کہا: اگر یہ نہیں کر سکتے تو یہ کہو: خدا ابو تراب(علی) پر لعنت کرے۔ سہل نے کہا: علی کے نزدیک ابوتراب سے زیادہ محبوب کوئی اور نام نہیں تھا۔۔۔
(صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، باب فضائل علی بن ابی طالب)
عربی عبارت: (استعمل على المدينة رجل من آل مروان قال فدعا سهل بن سعد فأمره أن يشتم عليا قال فأبى سهل فقال له أما إذ أبيت فقل لعن الله أبا التراب فقال سهل ما كان لعلي اسم أحب إليه من أبي التراب)
چوتھی روایت: معاویہ کے والی مغیرہ بن شعبہ کا امام علی علیہ السلام پر منبروں سے لعن کا حکم
جب معاویہ کوفہ سے نکلا، مغیرہ بن شعبہ کو وہاں کا والی بنایا۔ اس نے مختلف خطیبوں کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ علی علیہ السلام پر لعن کریں۔ (راوی کہتا ہے) اس وقت میں سعیدبن زید بن عمرو کے پاس تھا۔ وہ اس بات پر غضبناک ہوئے اور کھڑے ہوئے۔ میرا ہاتھ پکڑا اور میں ان کے پیچھے چلا۔ انہوں نے پھر کہا: تم اس ظالم شخص کو نہیں دیکھ رہے جو ایک ایسے شخص پر لعن کا حکم دے رہا ہے جو جنتی ہیں۔
(مسند احمد بن حنبل، حدیث نمبر 1629، 1631، 1637، 1638)
عربی عبارت: (لمّا خرج معاوية من الكوفة استعمل المغيرة بن شعبة، قال: فاقام خطباء يقعون في علي. قال: وأنا إلي جنب سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل. قال: فغضب فقام فأخذ بيدي فتبعته فقال: ألا تري إلي هذا الرجل الظالم لنفسه الذي يأمر بلعن رجل من ا هل الجنّة؟..)
پانچویں روایت: مسجد کوفہ سے علی علیہ السلام پر سب و شتم
ریاح بن حارث روایت کرتے ہیں: میں فلان کے پاس مسجد کوفہ میں بیٹھا ہوا تھا۔ کوفہ کے لوگ بھی وہاں بیٹھے تھے۔ ۔۔ پھر اہل کوفہ میں سے ایک شخص جس کا نام قیس بن علقمہ تھا، اس (فلان) کے پاس آیا۔اس(فلان) نے قیس کا استقبال کیا اور پھر گالیاں دینا شروع کیا۔ گالی دی پھر اور گالی دی۔ سعید نے پوچھا: یہ کس شخص کو گالی دے رہا ہے؟ تو اس نے کہا: علی علیہ السلام کو گالی دے رہا ہے۔سعید نے کہا: میں دیکھ رہا ہوں کہ رسول خدا ﷺکے اصحاب کو تمہارے سامنے گالی دی جارہی ہے اور تم نہ انکار کر رہے ہو اور نہ ہی کچھ کہہ رہے ہو۔۔؟!
(سنن ابی داود، کتاب السنہ، باب فی الخلفاء، حدیث 4650)
عربی عبارت: (رياح بن الحارث قال: كنت قاعدا عند فلان في مسجد كوفه وعنده اهل الكوفه فجاء سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل فر حبّ به وحيّاه واقعده عند رجله علي السرير، فجاء رجل من اهل الكوفة يقال له قيس بن علقمة فاستقبله فسبّ وسبّ. فقال سعيد: من يسبّ هذا الرجل ؟ قال: يسبّ عليّا. قال: الا اري أصحاب رسول اللّه صلی الله عليه وسلم يسبّون عندك ثمّ لا تنكر ولا تغير؟)
ان تمام روایات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان کے حکم پر شام کے علاوہ دوسرے مختلف شہروں میں بھی بنی امیہ کے گورنرز اور نمائندوں کی زیر نگرانی علی بن ابی طالب علیہما السلام پر سب و شتم اور لعن کا سلسلہ اوج پر تھا۔ جیسے اوپر والی ایک روایت کے مطابق کوفہ شہر میں جبکہ دوسری کے مطابق مکہ شہر تک یہ سلسلہ پہنچا تھا۔ اور یہ سب ایک مخصوص پلاننگ کے تحت ہو رہا تھا۔
ان تمام روایات کی موجودگی میں اہل علم حضرات سے صرف اتنی گزارش ہے کہ بغیر کسی تعصب کے، اپنی عقل اور ضمیر کے مطابق خود فیصلہ کریں۔ جو لوگ صحابہ کی عزت وحرمت کی قسمیں کھاتے ہیں، کیا ان کے نزدیک علی بن ابی طالب علیہما السلام صحابہ میں سے نہیں؟ کیا آپ کا شمار خلفاء میں نہیں ہوتا؟ کیا خلیفہ رسول کوسب و شتم اور لعن کرنے والا کسی صورت قابلِ احترام ہو سکتا ہے؟
جبکہ صحیح مسلم ہی کی روایت کے مطابق " مومن کو سب و شتم کرنا فسق( فجور) ہے اور مومن سے جنگ کرنا کفر ہے۔" (سِبَابُ الْمُؤْمِنِ فُسُوقٌ وَ قِتَالُهُ كُفْرٌ)
معاویہ بن ابی سفیان نے امام علی السلام سے جنگ بھی کی اور آپ علیہ السلام پر سب و شتم کا سلسلہ بھی شروع کیا۔
فیصلہ آپ کے ضمیر پر۔۔۔!
ٹیگس:
معاویہ بن ابی سفیان,
صحابہ