برہانِ امکان ووجوب

اس بحث کی وجودی جہت (Ontological Aspect) کو معرفتی جہت (Epistemological Aspect) سے الگ کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر علمی اور معرفتی حوالے سے واجب اور ممکن کا تصور ایک دوسرے پر موقوف ہے یا بہتر الفاظ میں تصور میں دونوں ایک ساتھ ہیں (بلکہ سارے فسلفی مفاہیم اسی طرح ہوتے ہیں، جیسے وجود اور عدم، علت اور معلول، قدیم اور حادث، متحرک اور ساکن) اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وجودی طور پر بھی ایک دوسرے پر موقوف ہیں۔

برہانِ امکان ووجوب کا سادھا سا مدعا یہ ہے کہ

۱۔ آپ وجود کو مانتے ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں مانتے تو آپ سفسطہ کے قائل ہیں۔

۲۔ اگر آپ کسی بھی وجود کو مانتے ہیں تو اس وجود کو واجب الوجود مانتے ہیں یا ممکن الوجود۔ کوئی تیسری صورت عقلی طور پر فرض نہیں ہو سکتی۔

۳۔ اگر واجب الوجود مانتے ہیں تو واجب الوجود کا وجود ثابت ہوگیا۔

۴۔ اگر ممکن الوجود مانتے ہیں تو ممکن الوجود کا وجود، واجب کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ (اس دلیل کی تصدیق کے لیے صرف ممکن اور واجب کا درست تصور ہی کافی ہے۔ یعنی خود اس کا درست تصور اس کی درست تصدیق کا سبب بنے گا۔) عقلی طورپر اس کو یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ ممکن الوجود کے لیے وجود ضروری نہیں تھا۔ پھر کیوں کر وجود میں آیا؟ اس کی علت کیا ہے؟ اگر بغیر علت کے وجود میں آیا تو آپ قانونِ علیت کا انکار کر رہے ہیں۔ اگر علت کو مانتے ہیں اس علت کے بارے میں یہی سوال تکرار ہوگا کہ واجب ہے یا ممکن۔ اگر واجب ہے تو مطلوب ثابت ہے اگر ممکن ہے تو پھر علت کی ضرورت ہے۔ تسلل محال ہے۔ لہذاعقل کہتی ہے معلولات کا سلسلہ ایک واجب تک پہنچ کر ضرور رکے گا۔

بلکہ اس برہان کو یوں بھی پیش کیا جا سکتا ہے جہاں تسلسل کے استحالہ کی طرف جانے کی بھی ضرورت نہ ہو کیونکہ ممکنات کا وجود خود اس بات کی نشانی ہے کہ یہ سلسلہ واجب پر منتہی ہوا ہے۔ وضاحت اس کی یہ ہے کہ ممکنات کا وجود ہماری نظر میں یقینی ہے۔ اگر اس جہان میں موجود تمام موجودات، ممکن الوجود (Contingent) ہوں تو ان میں سے کسی کو بھی موجود نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اب جبکہ موجود ہیں تو اس کا مطلب اس سلسلے کے آغاز میں ایک واجب الوجود، موجود ہے۔ کیونکہ ہر ممکن الوجود یہی کہتا ہے کہ میرا وجود کسی اور سے ہے۔ اگر کائنات میں موجود تمام ممکنات کو ہم ایک واحد (One Unit) کے طور پر دیکھیں تو یہی بات وہاں تکرار ہوگی۔ یعنی پوری کائنات اپنی زبانِ بے زبانی سے کہے گی جب تک میری علت نہ ہو میں وجود میں نہیں آسکتی۔ اگر اس علت کو ممکن الوجود فرض کریں تب وہ اسی ون یونٹ کا حصہ ہے۔ جب تک واجب الوجود کو نہیں مانیں گے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک دوڑ کا مقابلہ ہونا ہو۔ دوڑ کا حصہ بننے والا ہر کھلاڑِی کہے: جب تک مجھ سے پہلے والا نہیں دوڑے گا میں نہیں دوڑوں گا۔ تیسرا بھی یہی کہے، چوتھا بھی۔۔۔ اب اگر آپ دیکھیں کہ دوڑ کا مقابلہ شروع ہو چکا ہے تو ہم سمجھیں گے کہ کوئی ایک ایسا ضرور تھا جس نے یہ شرط نہیں لگائی کہ مجھ سے پہلے کوئی ہونا چاہیے جو دوڑ کا آغاز کرے۔ پس تمام ممکنات گواہی دیتے ہیں کہ ہم سے پہلے ایک موجود ایسا ہے جس سے اس کائنات کی دوڑ کا آغاز ہوا ہے۔ آپ اس پہلے موجود کا نام جو بھی رکھیں، دین کی زبان میں اسے اللہ اور خدا کہا جاتا ہے۔

+ لکھاری عباس حسینی در 3 Jan 2026 و ساعت 11:29 AM |

کچھ باتیں مشہور مناظرے سے متعلق

مفتی شمائل صاحب اور جاوید اختر صاحب کے درمیان خدا کے وجود (The Existence of God) کے حوالے سے مناظرے کو مکمل دیکھنے کے بعد علم کلام اور فلسفہ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے چند ایک نکات عرض ہیں:

۱۔ مفتی صاحب نے بہت اچھی گفتگو کی۔ دلائل سے بات کی۔ میرے خیال سے وہ منطق اور فلسفہ خوب پڑھے ہوئے تھے جس کی وجہ سے وہ بہتر دفاع کر پائے۔ اور پھر انگلش اور زبانِ روز پر تسلط ان کا پلس پوائنٹ تھا۔

۲۔ جاوید اختر صاحب نے Faith اور Belief میں جو فرق بیان کیا وہ بالکل غلط ہے۔ وہ دینی عقائد کو فیتھ میں ڈال رہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ فیتھ وہ ہے جس پر کوئی دلیل نہ ہو۔ یہ ایک تہمت کے سوا کچھ نہیں۔

موجودہ عیسائیت کی حد تک شاید یہ بات درست ہو، لیکن اسلام میں ایسا نہیں ہے۔ ہمارا تو یہ کہنا ہے کہ جب تک دلیل نہ ہو کوئی بات قبول کی ہی نہیں جا سکتی۔ قرآن کریم نے بھی کہا ہے کہ اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل اور برہان لے آو۔ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ

۳۔ جاوید صاحب کا یہ کہنا کہ تاریخی طور پر بہت سارے خدا ختم ہوئے ہیں یہ خدا کے تصور کے ہی غلط ہے۔ جو ختم ہو وہ کیسے خدا ہو سکتا ہے؟ خدا کے بارے میں ہمارا نظریہ ہے کہ وہ ازلی اور ابدی (Eternal) ہے۔ خدا واجب الوجود (Necessary Being) ہے۔ واجب الوجود کے بارے میں ختم ہونے کی بات تناقض(Contradiction) ہے۔

۴۔ یہ کہنا کہ "مذہب سوال کی اجازت نہیں دیتا" یہ بھی تہمت ہی ہے۔ کم از کم اسلام نے سوال کرنے کی پوری اجازت دی ہوئی ہے۔ ہمارے ائمہ علیھم السلام کی سیرت بھی اس بات پر گواہ ہے کہ لوگ ان کے پاس آکر سخت سے سخت سوال پوچھتے تھے۔ فقہی حوالوں سے بھی ہر طرح کے سوالات بلا ججھک پوچھ لیتے تھے۔ احادیث کی کتاب اس بات پر گواہ ہیں۔

۵۔ مذہب سائنس کے خلاف ہے۔ یہ بات بھی انتہائی غلط ہے۔ اسلام نے سائنس کو اہمیت دی ہے۔ زمین اور آسمان کو تسخیر کرنے کی بات کی ہے۔ ائمہ علیہم السلام کے شاگردوں میں بہت سارے ایسے تھے جو سائنسی علوم پر کام کر رہے تھے اور امام ان کی رہنمائی کرتے تھے۔ جابر بن حیان، ہشام بن حکم، مفضل بن عمر چند مثالیں ہیں جنہوں نے دینی موضوعات کے علاوہ ہیئت، نجوم، کیمسٹری وغیرہ کے حوالے سے کام کیا ہے۔

ہاں بعض جاہل مولویوں نے اگر کچھ جدید سائنسی ایجادات کی مخالفت کی ہے تو اس سے یہ ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ اسلام سائنس کے خلاف ہے۔

۶۔ کائنات کی تخلیق سے پہلے خدا کا کام کیا تھا؟ یہ سوال ابن سینا نے بھی پوچھا تھا۔ جواب یہ ہے کہ آپ ایک ایسا مرحلہ کیوں فرض کر رہے ہیں جہاں خدا ہو اور کائنات نہ ہو۔ اسلامی فلسفہ کے مطابق یہ کائنات قدیم ہے اور جب سے خدا ہے یہ کائنات بھی ہے۔ خدا کا فیض اور فضل دائمی ہے۔ البتہ کائنات اس مادی کائنات کے مساوی ہرگز نہیں ہے۔

۷۔ یہ کہنا کہ "جب خدا تھا تو وقت بھی تھا" یہ خدا اور وقت کے غلط تصورات پر مبنی ہے۔ اس حوالے سے ان دونوں تصورات پر مفصل گفتگو کی ضرورت ہے۔ مختصر یہ کہ وقت مادی چیزوں (Matter) کا خاصہ ہے۔ ہمارے نظریہ کائنات میں خدا مجرد ہے، مادی نہیں۔

۸۔ کائنات میں موجود شرور کے فلسفہ کے حوالے سے بھی علماء نے مفصل گفتگو کی ہے اور مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ ان کی طرف رجوع کی ضرورت ہے۔ سب سے اہم مسئلہ انسان کے اختیار (Free Will) کا ہے۔ اگر سوال کریں کہ کیا خدا ایسا جہان نہیں بنا سکتا تھا جہاں کوئی برائی نہ ہو۔ جواب یہ ہے کہ بنا سکتا تھا اور خدا نے بنایا بھی ہے جسے ہم فرشتوں کی دنیا کہتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا خدا کو مادی دنیا بنانا چاہیے تھا جہاں لوگ برائی کا بھی شکار ہوں۔ جواب ہے جی ہاں۔ اس کائنات میں خیر کا پہلو شر کے پہلو سے زیادہ ہے۔

ایک مسئلہ یہ ہے کہ ہم خیر اور شر کو ہمیشہ کمی (Quantity) حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ اسے کیفی (Quality) کی حیثیت سے بھی دیکھنے کی ضروت ہے۔

بہرحال ان میں سے ہر ایک نکتے پر مفصل گفتگو ہو سکتی ہے۔ سردست اتنا ہی۔

والسلام مع الاکرام

سید عباس حسینی

قم، 22 دسمبر 2025

+ لکھاری عباس حسینی در 22 Dec 2025 و ساعت 8:47 PM |

نبوت کی ضرورت

نبی کی ضرورت کیا ہے؟ کیوں خداوند متعال نے انبیاء علیھم السلام کو مبعوث کیا؟

نبوت کی ضرورت کی بحث وحی کی ضرورت کے بحث سے مربوط ہے۔ پس ایک لحاظ سے یہ سوال یوں مطرح ہوگا کہ انسان کو وحی کی کیا ضرورت ہے؟ کیا وحی کے بغیر انسان زندگی نہیں گزار سکتا تھا؟ کیا زندگی گزارنے کے لیے انسانی عقل کافی نہیں تھی؟ خاص طور پر جب موجودہ انسان نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اپنی عقل کی بنیاد پر ترقی اور تکامل کے زینے طے کر سکتا ہے۔ مغربی تمدن اس کی واضح مثال ہے۔

اس سوال کے جواب میں سب سے پہلے ہمیں انسان کی حقیقت اور اس دنیا کی حقیقت سے بحث کرنی ہوگی۔ آپ کی نگاہ میں انسان کی ساری حقیقت اس کا یہ مادی بدن ہے؟ یا اس کے علاوہ بھی اس کے وجود کا کوئی حصہ ہے؟ جب تک یہاں آپ کا موقف واضح نہیں ہوگا وحی اور نبی کے حوالے بھی ہم بات نہیں کر سکتے۔

ہماری نگاہ میں انسان اس مادی بدن کے علاوہ ایک غیر مادی روح (نفس) بھی رکھتا ہے۔ بدن کی اپنی ضروریات ہیں اور روح کی اپنی۔ اور ہماری نگاہ میں انسان ایک ابدی موجود ہے جس نے ہمیشہ زندہ رہنا ہے۔ بدن کی ظاہری موت سے انسان مرتا نہیں بلکہ اس سے برتر ایک جہان میں منتقل ہوتا ہے جہاں اس نے ایک نا متناہی زندگی گزارنی ہے۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ انسان اس دنیا میں جو بھی فعل انجام دیتا ہے اس کا تکوینی اثر اور لازمی نتیجہ دوسری دنیا یعنی آخرت میں ظاہر ہونا ہے۔ یعنی اس دنیا کی زندگی اور اس میں انجام دئے گئے افعال کا آخرت کی زندگی سے ایک گہرا تعلق ہے۔

ایسے میں دنیا کا کونسا ایسا عالم اور کونسا ایسا علم ہے جو دنیاوی افعال اور ان کے اخروری نتائج کے تعلق کو بیان کرے جبکہ یہ تعلق ایسا ہے جس کی بنیاد پر انسان کی ابدی سعادت یا ابدی شقاوت کا فیصلہ ہونا ہے؟ یہ وہ مقام ہے جہاں وحی اور نبوت کی ضرورت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ وحی کے ذریعے خداوند متعال ہدایت کے وہ تمام امور انسانوں تک پہنچاتا ہے جو ان کی ابدی سعادت اور شقاوت میں دخیل ہیں۔ خداوند متعال اپنے نا متناہی علم کی بنا پر تمام تر افعال اور ان کے نتائج کے تعلق کو جانتا ہے۔ یہاں عقلِ بشری کے اندازے کافی نہیں ہیں۔ پس انسان کی حقیقت، معاد کی ضرورت اور دنیا وآخرت کے تعلق کو جاننے کے بعد وحی اور نبوت کی ضرورت بھی خود بخود واضح ہو جاتی ہے۔

+ لکھاری عباس حسینی در 9 Oct 2022 و ساعت 7:42 PM |

عصمت حضرت آدم علیہ السلام

علامہ طباطبائی کا نظریہ

مفسر کبیر حضرت علامہ طباطبائی فرماتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کے متعلق جنت کا پھل نہ کھانے کے حوالے سے جو منع اور نہی آئی ہے وہ شرعی نہی نہیں تھی۔ بلکہ

* ارشادی نہی تھی، لہذا معصیت سے مراد اصطلاحی معصیت اور گناہ نہیں ہے۔*

اس قصے سے متعلق نازل ہونے والی آیات اور پھل کھانے کے حوالےسے جو منع کیا گیا ہے اس میں دقت سے یہ بات یقینی طور پر معلوم ہو جاتی ہے کہ جو نہی (منع) آئی ہے وہ مولوی (گناہ والی) نہی نہیں تھی بلکہ ارشادی نہی تھی جس کے ذریعے اس بات کی طرف ہدایت کی جارہی تھی کہ اس کام (درخت سے نہ کھانے) میں بھلائی اور صلاح ہے۔ پس یہاں اس کام سے رکنے کے حوالے سے خدا کا حتمی کوئی حکم نہیں تھا۔

لكن التدبر في آيات القصة و الدقة في النهي الوارد عن أكل الشجرة يوجب القطع بأن النهي المذكور لم يكن نهيا مولويا و إنما هو نهي إرشادي يراد به الإرشاد و الهداية إلى ما في مورد التكليف من الصلاح و الخير لا البعث و الإرادة المولوية.

آیات میں اپنے نفس پر جس ظلم کی بات کی گئی ہے وہ نفس کو تھکاوٹ اور ہلاکت میں ڈالنے کے معنی میں ہے۔ وہ والا ظلم نہیں ہے جو خدا کی ربوبیت اور عبودیت کے مقابلے میں ہو۔

توبہ خدا کی طرف رجوع کے معنی میں ہے۔ اگر خدا کی طرف سے قبول ہو تو گناہ معدوم ہو جاتا ہے گویا جیسے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو۔ اگر حضرت آدم علیہ السلام کے مورد میں خدا کی طرف سے جو منع کیا گیا تھا وہ شرعی منع ہوتا تب حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ بھی اسی کام سے ہوتی ۔ جب خدا نے ان کی توبہ قبول کر لی تب اس کا لازمہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ ان کو واپس جنت بھِج دیا جاتا، حالانکہ ایسا نہیں ہوا۔ یہاں سے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ منع، شرعی منع نہیں تھا۔

اگر شرعی منع نہیں تھا تو خداوند متعال نے اسے کیوں کر "ظلم"،اور"عصیان" قرار دیا ہے؟

ظلم سے مراد اپنے نفسوں پر ظلم ہے۔ نہ خدا کی عبودیت اور اطاعت کو چھوڑنے کے حوالے سے ظلم۔

عصیان لغت میں کسی کے اثر کو قبول نہ کرنے یا مشکل سے قبول کرنے کے معنی میں ہے۔ کسی حکم یا منع سے متاثر نہ ہونے کو عصیان کہا جاتا ہے۔ عصیان کا اطلاق جس طرح سے شرعی احکام کے حوالے سے ہوتا ہے اسی طرح ارشادی اور عقلی احکام کے حوالے سے بھی ہوتا ہے۔

اگر گناہ نہیں کیا تھا تو توبہ کس بات کی تھی؟

توبہ، رجوع کے معنی میں ہے۔ جس طرح سے باغی عبد کا اپنے مولا کی طرف رجوع ہوتا ہے اسی طرح سے جس مریض کو ڈاکٹر نے کسی کام سے منع کیا ہو (ارشادی نہی)، اب مریض اس کی رعایت نہ کرے، وہ بھی رجوع کر سکتا ہے اور ڈاکٹر کی بات کی طرف پلٹ سکتا ہے۔ حالانکہ یہاں کوئی شرعی گناہ نہیں ہے۔

(تفسیر المیزان، ج1، ص136 تا 138)

امام رضا علیہ السلام کی ایک روایت میں بیان ہوا کہ آدم علیہ السلام نے جنت میں "معصیت" کی ہے، زمین پر نہیں۔ یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ درخت سے نہ کھانے کا حکم، شرعی حکم نہیں تھا چونکہ جنت میں اس طرح کے شرعی احکام تھے ہی نہیں۔ شرعی احکام زمین کے لیے ہیں اور ان کا آغاز تب ہوا جب حضرت آدم زمین پر اتر آئے۔ پس یہاں منع کا حکم کوئی شرعی حکم نہیں تھا۔ (المیزان، ج 1، ص145)

اور جس روایت میں کہا گیا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی معصیت مبعوث بہ نبوت ہونے سے پہلے تھی اس کے راوی علی بن محمد بن جہم ہیں۔

شیخ صدوق اس روایت کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: یہ غریب حدیث ہے (صرف ایک راوی نے نقل کیا ہے)۔ یہ روایت علی بن محمد بن جہم نے نقل ہوئی ہے جو اہل بیت اطہارؑ سے نفرت، بغض اور عدات میں مشہور تھا۔ (عیون اخبار الرضا علیہ السلام، ج1، ص204)

قال مصنف هذا الكتاب هذا الحديث غريب من طريق علي بن محمد بن الجهم‏ مع نصبه و بغضه و عداوته لأهل البيت۔

علامہ طباطبائی فرماتے ہیں: اس سے زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ اس روایت میں تنزیہ انبیاء کی بات تو کی گئی ہے لیکن اس سے جو اصول اور قوانین اخذ کئے جا رہے ہیں ان کی طرف توجہ نہیں ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کے حوالے سے جو بات یہاں نقل ہوئی ہے (کہ نبوت سے پہلے گناہ کیا تھا) ائمہ اہل بیت علیہم السلام کے مذہب کے موافق نہیں ہے۔ ان سے مستفیض روایات نقل ہوئی ہیں کہ انبیاء نہ چھوٹے گناہ انجام دیتے ہیں نہ بڑے، نہ قبل از نبوت گناہ انجام دیتے ہیں نہ بعد از نبوت۔

وما أعجبه منه إلا ما شاهده من اشتماله على تنزيه الأنبياء من غير أن يمعن النظر في الأصول المأخوذة فيه، فما نقله من جوابه (ع) في آدم لا يوافق مذهب أئمة أهل البيت المستفيض عنهم من عصمة الأنبياء من الصغائر و الكبائر قبل النبوة و بعدها.

(المیزان، ج1، ص 146)

+ لکھاری عباس حسینی در 27 Sep 2022 و ساعت 9:38 AM |

چھوٹے عمل کے بدلے عظیم اجر اور ثواب کیسے ممکن ہے؟

 

ایک سوال جو ہمیشہ ذہن میں اٹھتا ہے اور یقینا آپ کے ذہن میں بھی یہ اشکال آیا ہوگا وہ شریعت میں بیان ہوئی وہ عظیم اجر اور ثواب کی باتیں ہیں جو بظاہر ایک چھوٹے سے عمل کے حوالے سے معصومین علیہم السلام سے نقل ہوئی ہیں۔ مثلا کہا جاتا ہے قرآن کی یہ سورت پڑھ لیں تو اتنے حج کا ثواب ہے۔ فلاں عمل کر لیں تو اتنی زیارتوں کا ثواب ہے۔ فلاں زیارت کا ثواب اتنے حج کے برابر ہے۔ فلاں عمل ایسا ہے جیسے اس نے ہزار غلام آزاد کئے ہوں۔ وغیرہ

اس اشکال کے جواب میں:

۱۔ اگر ایک عمل ہماری نظیر میں حقیر ہو تو یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ خداوند متعال کی نظر میں بھی ایسا ہی ہو۔ ہم اعمال کی باطنی اور ملکوتی شکلوں اور حقائق سے جاہل ہیں۔ عین ممکن ہے ایک عمل جسے ہم حقیر سمجھ رہے ہوں وہ باطن اور ملکوت میں بہت عظیم عمل ہو۔ ان حقائق سے صرف وہی خبر دے سکتے ہیں جو ان عوالم پر دسترسی رکھتے ہوں اور ان سے آگاہ ہوں۔

۲۔ خداوند متعال کے ہاں ثواب اور جزا کا نظام استحقاق کی بنیاد پر نہیں بلکہ رحمت اور فضل کی بنیاد پر ہے۔ جس طرح خدا کی ذات نامتناہی ہے اسی طرح اس کے فضل وکرم کی بھی کوئی انتہا نہیں۔ کتنی ہی نعمتیں ایسی ہیں جو خدواند متعال نے انسانوں کو استحقاق کے بغیر بن مانگے عطا کی ہیں۔ اعمال کے ثواب اور جزا کے حوالے سے بھی خداوند متعال اپنے فضل اور کرم سے جسے جتنا چاہیے عطا کر سکتا ہے۔ مثلا جنت کے بارے میں معتبر روایات میں آیا ہے وہاں انسان جس چیز کی خواہش کرے گا وہ اسے مل جائے گی۔

۳۔ وہ روایات جو مختلف اعمال سے متعلق عظیم ثوابوں کو بیان کرتی ہیں ایک دو یا دس بیس نہیں بلکہ تواتر کی حد سے بھی زیادہ ہیں۔ گویا ایسے ہی جیسے ہم ان روایات کو اپنے کانوں سے معصومین علیہم السلام کی مبارک زبانوں سے سن رہے ہوں۔ ایسے میں ان روایات کا انکار آسان نہیں اور ان کی تاویل بھی ممکن نہیں۔

4۔ ان ثوابوں کا بیان دلیل اور برہان کے خلاف بھی نہیں بلکہ ان کی تائید میں دلیل لائی جا سکتی ہے۔ پس معصومین علیہم السلام کے اقوال کے سامنے انسان کا سر تسلیمِ خم ہونا چاہیے۔ ایسے بہت سارے حقائق ہیں جن تک انسانی عقل کی رسائی نہیں اور صرف وحی کے راستے ہم وہاں تک پہنچ سکتے ہیں۔

5۔ فرض کریں کوئی انسان ان روایات کی اسناد میں شک کرتا ہے، حالانکہ شک کی کوئی گنجائش نہیں، تب وہ قرآن کی ان آیات کا کیا کریں گے جن میں بعض اعمال کے بدلے بہت زیادہ ثواب اور اجر کی بات کی گئی ہے۔ مثلا شب قدر کی ایک رات کو ہزار مہینوں کے برابر نہیں بلکہ ان سے افضل قرار دیا گیا ہے۔ یا مثلا کہا گیا جو راہ خدا میں خرچ کرتا ہے اس کی مثال گندم کے اس دانے کی طرح ہے جس سے سات سو دانے نکلتے ہیں۔ اور پھر کہا گیا خدا جسے چاہتا ہے اس سے بھی زیادہ عطا کرتا ہے۔

ایک انسان جو پچاس ساٹھ سال کی عمر پاتا ہے، فرض کریں اس نے تمام واجبات اور محرمات کا خیال رکھا اور اس کے بعد صالح اعمال، نیک ایمان اور توبہ کے ساتھ وہ اس دنیا سے جاتا ہے، دنیاوی حساب و کتاب کے مطابق اس کی جزا کتنی ہونی چاہیے؟ جبکہ کتاب وسنت اور ادیان کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ شخص بہشتِ موعود میں جائے گا اور نامتناہی نعمتوں سے ہمیشہ کے لیے بہرہ مند ہوگا۔ ایک ایسا مقام جس کی کوئی انتہا اور خاتمہ نہیں ہے۔ کیا اس بات کا کوئی انکار کر سکتا ہے؟ اگر یہاں عمل اور اس کی جزا انسانی عقل کے مطابق طے ہونا ہو تو جتنا زیادہ فرض کر لیں محدود ہی فرض ہوگا۔

پس معلوم ہوا ثواب وجزا کا پیمانہ اور معیار کچھ اور ہے۔ ایسے میں اس طرح کی روایات کا انکار نہیں کرنا چاہیے جہاں لسانِ وحی سے ان حقائق کا بیان ہم تک پہنچا ہو۔

 

استفادہ از بیانات حضرت امام خمینی (قدس سره)

شرح چھل حدیث، حدیث 29

سید عباس حسینی

+ لکھاری عباس حسینی در 28 Apr 2022 و ساعت 3:26 PM |

وضو میں پاؤوں  کا مسح

تحریر: عباس حسینی

 

وضو کے بارے میں قرآن مجید کی آیت کچھ یوں ہے: يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَ أَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرافِقِ وَ امْسَحُوا بِرُؤُسِكُمْ وَ أَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْن.

اے ایمان والو جب تم نماز کے لیے کھڑے ہوں تو اپنا چہرہ اور ہاتھ کہنیوں سمیت دھو لو اور اپنے سر اور پاؤں کی ابھری ہوئی جگہ تک مسح کرو۔

 

اہل سنت برادران پاؤں کے مسح کو کافی نہی سمجھتے بلکہ انہیں دھونا ضروری سمجھتے ہیں جبکہ فقہ جعفری میں اہل بیت کرام علیہم السلام کی پیروی میں پاؤں پر مسح کا حکم موجود ہے۔

 

مسح کے حوالے سے اصل مسئلہ لفظ "أَرْجُلَكُمْ" کا ہے کہ اس کاتعلق پیچھے کس لفظ سے ہے؟ (یعنی عطف کہاں پر ہو رہا ہے؟۔) اہل سنت برادران اسے "وجوہ" اور "أيدي" پر عطف کرتے ہیں۔ پس اگر ہاتھ اور چہرے کا دھونا واجب ہے تو پاؤں کا دھونا بھی واجب ہے۔ جبکہ فقہ جعفری کے مطابق "أَرْجُلَكُمْ" کا عطف "رؤوس" پر ہے۔ پس جس طرح سر کا مسح ضروری ہے اسی طرح پاؤں کا بھی مسح ضروری ہے۔

 

اگر پاؤں کا دھونا ضروری ہوتا تب آیت میں اس کا تذکرہ بھی چہرہ اور ہاتھوں کے ساتھ ہونا چاہیے تھا (مثلا کہا جاتا: فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَ أَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرافِقِ و أرجلَكم) جبکہ ایسا نہیں ہے۔ آیت نے پہلے چہرے اور ہاتھ کے دھونے کے حکم کو الگ بیان کیا، پھر مسح کے حکم کو الگ بیان کیا۔ اگر پاؤں کا دھونا ضروری ہوتا تب خداوند متعال یوں بھی کہہ سکتا تھا : وامسحوا برؤوسكم واغسلوا أرجلكم. جبکہ آیت نے دھونے والے اعضاء اور مسح والے اعضاء کو بالکل الگ الگ ذکر کیا ہے۔پس اس لحاظ سے دو اعضاء (یعنی چہرہ اور ہاتھوں کا) کو دھونا ضروری ہے جبکہ دو اعضاء (سر اور پاؤں) کا مسح لازمی ہے۔

 

اہل سنت کہتے ہیں: پاؤں کا حکم وہی ہے جو چہرے اور ہاتھ کا ہے۔ (یعنی "أرجل" عطف ہے "وجوه" اور "أيدي" پر)۔ حالانکہ یہ عربی کلام کے قواعد کے بالکل برخلاف ہے چونکہ ان کے درمیان کافی فاصلہ آچکا ہے۔ اصل ہے یہ کہ لفظ اپنے قریب پر عطف ہو۔ پس پاؤں کا حکم وہی ہے جو سر کا ہے۔ یعنی ان پر مسح کرنا واجب ہے۔

 

اب ممکن ہے بعض یہ اشکال کرے کہ پھر "أرجلکم" پر نصب (فتحہ) کیوں ہے؟ جبکہ "رؤوس" پر جر (کسرہ) ہے۔ یہ فرق کہاں سے آیا؟ پس اعراب کا فرق حکم کے فرق کو ظاہر کرتا ہے۔

 

اس کے جواب میں ہم کہیں گے:

اولا: "أرجل" کو قراء سبعہ میں سے ابن کثیر، حمزہ اور ابو عمر  نے جر (کسرہ) کے ساتھ بھی پڑھا ہے۔

ثانیا:  ہمارے پاس سر کا مسح واجب ہونے پر بہت زیادہ احادیث موجود ہیں۔اس حوالے سے بحار الانوار یا وسائل الشیعہ میں وضوء کے باب میں موجود روایات دیکھ لیں۔

ثانیا: ہم کہہ سکتے ہیں کہ "أرجلکم" پر فتحہ(نصب) اس لیے ہے چونکہ یہ "رؤوسکم" کے محل پر عطف ہو رہا ہے اور "رؤوسکم" کلام کے اندر مفعول ہے اور مفعول منصوب ہوتا ہے۔پس "أرجل" (پاؤں) کا وہی حکم ہے جو "رؤوس" یعنی سر کا ہے۔

ثالثا: ان سب کے علاوہ خود اہل سنت روایات کے مطابق رسول اللہﷺ اور آپ کے اصحاب وضو میں سر اور پاؤں کا مسح کیا کرتے تھے۔ ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی بھی سیرت یہی رہی ہے۔ یہاں ہم صرف ایک روایت نقل کرتے ہیں۔ مزید روایات کے لیے تفصیلی کتب کی طرف مراجعہ کیجے:

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ: أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّهَا لَا تَتِمُّ صَلَاةٌ لِأَحَدٍ حَتَّى يُسْبِغَ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى، يَغْسِلُ وَجْهَهُ وَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، وَ يَمْسَحُ بِرَأْسِهِ وَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ».

(ترجمہ: رفاعہ بن رافع کہتے ہیں میں رسول اللہﷺ کے پاس بیٹھا تھا۔ آپﷺ نے فرمایا: کسی کی نماز مکمل نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ ایسے وضو بجا لائے جیسے اللہ کا حکم ہے۔ اپنا چہرہ دھوئے، ہاتھ کہنیوں تک دھوئے۔ سر کا مسح کرے اور پاؤں کا ابھری ہوئی جگہ تک مسح کرے۔)

 (سنن ابن ماجه، ج1، (57) باب ما جاء في الوضوء على ما أمر الله تعالى، ح 460)

 


ٹیگس: وضو, پاؤوں کا مسح
+ لکھاری عباس حسینی در 27 Apr 2020 و ساعت 11:47 PM |

خورشیدِ عالم

زمانہ غیبت میں وجود امام مہدی علیہ السلام سے استفادے کی کیفیت

 

امام زمان علیہ السلام سے عصرِ غیبت میں استفادے کی کیفیت کے حوالے سے ایک اہم تشبیہ متعدد روایات میں ذکر ہوئی ہے۔ ان روایات کے مطابق زمانہ غیبت میں لوگ آپ کے وجودِ مبارک سے ایسے استفادہ کریں گے جیسے بادلوں کی اوٹ میں موجود سورج سے کرتے ہیں۔ تشبیہ میں سب سے اہم بحث وجہِ شبہ کی ہوتی ہے۔ پس یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ وجودِ مبارک امام زمان علیہ السلام اور سورج کے درمیان وجہِ شبہ کیا ہے؟ اس حوالے سے علماء نے متعدد نکات ذکر کئے ہیں۔

 

۱۔ سورج چاہے ظاہر ہو یا بادلوں کے پیچھے، جس نظام میں ہم جی رہے ہیں اس کا مرکز ہے۔ اسی طرح امام زمان علیہ السلام کا وجود اس کائنات کا مرکز ہے جس کے گرد باقی تمام موجودات چکرکاٹ رہی ہیں۔ "ببقائه بقيت الدنيا وبيمنه رزق الوراء وبوجوده ثبتت الأرض والسماء."

 

۲۔ سورج کے فوائد بہت زیادہ ہیں جن میں سے اکثر فائدے سب انسانوں تک ہمیشہ پہنچتے رہتے ہیں، فرق نہیں کرتا سورج کے آگے بادل ہوں یا نہ ہوں۔ مثلا سورج کی حرارت اور روشنی جو بادلوں کے باوجود زمین تک پہنچتی رہتی ہیں۔ سورج کی کشش ثقل جس پر یہ نظام کھڑا ہے۔ اگر ایک لمحے کے لیے سورج ہٹ جائے اس نظام نے تباہ ہونا ہے۔ زمین پر موجوداکثر نعمتوں کا سورج سے واسطہ ہے۔ امام کے بارے بھی کہا گیا کہ ان کے وجود کی برکت سے زمین سے سبزہ اگتا ہے، بارانِ رحمت کا نزول ہوتا ہے، چشمے جاری ہوتے ہیں، نہریں بہتی ہیں۔(بِنَا يُنَزِّلُ اَلْغَيْثَ وَ تُنْشَرُ اَلرَّحْمَةُ وَ تَخْرُجُ بَرَكَاتُ اَلْأَرْضِ) لہذا کہا گیا اگر حجتِ خدا نہ ہوتو ساری زمین انسانوں سمیت برباد ہوجائے گی۔(لو بقيت الأرض بغير إمام لساخت)

 

۳۔ بادلوں نے سورج کو نہیں گھیرا، بلکہ ہمیں گھیرا ہو اہے جس کی وجہ سے ہم سورج کو دیکھنے سے محروم ہیں۔ سورج کے فیض میں کبھی کسی وقت کوئی کمی نہیں ہوئی۔ اس کا فیض مسلسل جاری ہے۔ فرض کریں یہی بادلوں کے پیچھے موجود سورج بھی نہ ہو تب اس نظام اور ہماری دنیا کا کیا بنے گا؟ وجودِ امام زمانؑ بھی اسی طرح ہے۔ آپؑ کے فرمان کےمطابق: ہم مسلسل تمہاری یاد اور فکر میں ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو سختیاں اور دشمن تمہیں گھیر لیتے۔"إنا غير مهملين لمراعاتكم ولا ناسين لذكركم ولولا ذلك لنزل بكم اللأواء واصطملكم الأعداء."

 

۴۔ سورج اور انسانوں کے درمیان بادلوں کا  پردہ ان لوگوں کے لیے جو بادلوں سے نیچے زندگی گزار رہے ہوں۔ اگر کسی میں یہ صلاحیت ہو کہ وہ بادلوں سے آگے کا فاصلہ طے کرے تب وہ سورج کی روشنی سے براہ راست فیض یاب ہو سکتا ہے۔ امام زمانؑ ان لوگوں کی نسبت غائب ہیں جو دنیا اور مادیات کے ساتھ چسپے ہوئے ہیں۔ جو لوگ معنویت کے آسمانوں میں سیر کررہے ہوتے ہیں وہ ہمیشہ امامؑ کے حضور میں ہیں۔

 

۵۔  بادلوں کی اوٹ میں موجود سورج سے استفادے کے باوجود لوگ بادلوں کے ہٹنے کے منتظر رہتے ہیں تاکہ استفادہ اور بڑھ جائے۔ انہیں علم ہے ان بادلوں نے بالآخر ہٹ جانا ہے۔  اسی طرح حقیقی منتظرین ہر لحظہ پردۂ غیبت کے ہٹنے کے منتظر رہتے ہیں اور کبھی مایوس نہیں ہوتے۔

 

۶۔ تمام تر دلیلوں کے باوجود اگر کوئی امام مہدیؑ کے وجود کا منکر ہو تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے تمام تر آثار کے باوجود کوئی پشتِ بادل موجود سورج کا منکر ہو۔

 

۷۔  بعض اوقات سورج کا پشتِ ابر چلے جانا لوگوں کی منفعت میں ہوتا ہے۔ اسی طرح بعض مصلحتوں کی بنا پر ایک مدت تک امام کا پردۂ غیب میں رہنا لوگوں کے فائدے میں ہے۔

 

۸۔ امام کا وجود سورج کی مانند ہے جس کا نفع ہر عام و خاص تک پہنچتا ہے۔ سورج بادلوں کے پیچھے ہو یا بادلوں کے بغیر جو "اندھا" ہو اس کے لیے سورج کی روشنی کسی کام کی نہیں۔

 

استفادہ از کتاب

بحار الانور، علامہ مجلسی، جلد 52

عصارہ خلقت، علامہ جوادی آملی


ٹیگس: امام مہدی, امام زمان
+ لکھاری عباس حسینی در 9 Apr 2020 و ساعت 12:1 AM |

امامِ غائب کی برکات

تحریر: عباس حسینی

 

ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال آئے کہ اس امام کا کیا فائدہ جو غائب ہیں؟ جو ہماری دسترس میں نہیں؟ جن سے ہم میل ملاقات نہیں کر سکتے؟جن سے ہم سوال اور مسائل نہیں پوچھ سکتے؟

 

امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کے اسباب پر اگر ہم غور کریں تو اس سوال کا جواب خود بخود واضح ہوگا۔ امام کی غیبت ہماری وجہ سے ہے۔ در حقیقت امام غیب میں نہیں ہم غیب میں ہیں۔ جن میں لیاقت اور استعداد ہے وہ امام سے ملاقات بھی کرتے ہیں اور ان کی فیوضات سے شرفیاب بھی ہوتے ہیں۔امام پردے میں نہیں، ہم پردے میں ہیں۔ بقول کسی شاعر کے:

پردہ آنکھوں پر پڑا ہے، وہ کہاں پردے میں ہیں؟!

 

البتہ عام لوگوں کی نسبت بھی امام کا وجود سراسر فیض، برکت، عطا، بخشش اور فائدہ مند ہے۔

یہاں ہم اس مختصر تحریر میں  امام کے وجود کےصرف  چند فوائد کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ (تفصیلات کے لیے کتابوں کی طرف مراجعہ کیجیے۔)

 

۱۔ بہت ساری روایات کے مطابق ہر دور میں خدا کی کسی حجت کا زمین پر ہونا ضروری ہے۔ امام فیضِ الہی کے مخلوقات تک پہنچنے کے لیے واسطہ ہوتے ہیں۔ اسی حجتِ خدا کی برکت سے زمین سے سبزہ اگتا ہے، بارانِ رحمت کا نزول ہوتا ہے، چشمے جاری ہوتے ہیں، نہریں بہتی ہیں۔(بِنَا يُنَزِّلُ اَلْغَيْثَ وَ تُنْشَرُ اَلرَّحْمَةُ وَ تَخْرُجُ بَرَكَاتُ اَلْأَرْضِ) لہذا کہا گیا اگر حجتِ خدا نہ ہوتو ساری زمین اپنے باسیوںسمیت برباد ہوجائے گی۔(لو بقيت الأرض بغير إمام لساخت)

 

۲۔ معنوی ہدایت: ظاہری ہدایت کے علاوہ باطنی اعمال کے ذریعے ہدایت (تکوینی ہدایت)بھی معصوم کا کام ہے۔ امام باطنی ہدایت کے ذریعے لوگوں کو خدا کی طرف بلاتے اور اس ذات باری کے قریب کرتے ہیں۔ قرآن کی تعبیر میں "وَجَعَلْنَاهُمْ اءَئِمَّةً یَهْدُونَ بِأمْرِنَا" امام کا کام امرِ خدا کے ذریعے لوگوں کی ہدایت ہے۔باطنی ہدایت  کا تعلق عالم امر اور ملکوت سے ہے۔ امام اپنی نورانیت اور باطنی تصرف کے ذریعے شائستہ افراد کو خدا کے قریب جانے میں مدد فرماتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مشہور مستشرق ہانری کربن نے کہا: تشیع دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے خدا اور مخلوق کے درمیان ہدایت کے وسیلے کو ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھا ہوا ہے۔تشیع کے مطابق ولایت کا سلسلہ اب بھی باقی ہے جس کا تعلق لوگوں کی معنوی ہدایت سےہے۔امام صادق ؑ نے اسی مطلب کی طرف اشارہ فرمایا: (مَا زَالَتِ اَلْأَرْضُ إِلاَّ وَ لِلَّهِ فِيهَا اَلْحُجَّةُ يُعَرِّفُ اَلْحَلاَلَ وَ اَلْحَرَامَ وَ يَدْعُو اَلنَّاسَ إِلَى سَبِيلِ اَللَّهِ .) جب تک زمین ہے اس میں اللہ کی طرف سے حجت بھی ضرور ہوگی جو لوگوں کو حلال اور حرام کے بارے بتائے گی اور لوگوں کو خدا کے راستے کی طرف دعوت دے گی۔

 

۳۔ دینِ خدا کی حفاظت: امیر المؤمنین ؑ کی حدیث(لا تخلو الارض من قائم لله بحجّة، إمّا ظاهراً مشهوراً، وإمّا خائفاً مغموراً، لئلاّ تبطل حجج الله وبيّناته) کے مطابق زمین کسی بھی وقت حجت خدا سے خالی نہیں ہو سکتی چاہے وہ حجت ظاہر ہو  چاہے مخفی، تاکہ دین ضائع ہونے سے اور تحریف سے بچ جائے۔ امام زمانؑ پردہ غیب سے دین کے امور کی سرپرستی فرما رہے ہوتے ہیں۔ آپ جہاں مناسب سمجھیں اپنے لطف کےذریعے فقہاء اور علماء کو درست راستے کی نشاندہی فرماتے  ہیں۔ اس حوالے سے شیخ مفید کا واقعہ مشہور ہے جہاں آپ نے ایک مسئلے میں غلط فتوی صادر کیا اور امام زمانؑ نے ان کے فتوی کی اصلاح کی۔ اسی طرح بہت سارے عرفاء کے واقعات ملتے ہیں جہاں وہ مختلف شکلوں میں اپنی مشکلات امام کی بارگاہ سے حل کرتے تھے۔اسی لیے امام صادقؑ نے فرمایا: (إِنَّ اَلْأَرْضَ لاَ تَخْلُو إِلاَّ وَ فِيهَا إِمَامٌ كَيْمَا إِنْ زَادَ اَلْمُؤْمِنُونَ شَيْئاً رَدَّهُمْ وَ إِنْ نَقَصُوا شَيْئاً أَتَمَّهُ لَهُمْ) زمین امام سے خالی نہیں رہے گی۔ اگر مومنین (دین میں) کچھ اضافہ کریں تو امام اسے کم کرتے ہیں، اگر کم کریں تو امام اسے پورا کرتے ہیں۔

 

۴۔ امام کا وجود امید کی کرن: ایک ایسے امام کا وجود جن کے بارے میں یہ عقیدہ ہو کہ انہوں نے دنیا سے ظلم و ستم کا خاتمہ کرنا ہے اور عدل و انصاف قائم کرتے ہوئے دنیا بھر کے مظلومین اور مستضعفین کے حقوق کا دفاع کرنا ہے تمام انسانیت کے لیے امید کا باعث ہے۔ ایسی صورت حال میں دنیا بھر کے مظالم دیکھتے ہوئے بھی انسان کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا۔ بشریت کے روشن مستقبل کی امید اسے ہمیشہ طاقت بخشتی ہے۔

 

۵۔ زمانہ غیبت میں امام عصرؑ سے استفادے کی کیفیت کے حوالے سے جب امام صادقؑ سے پوچھا گیا تو آپؑ نے یوں جواب دیا: (كما ينتفعون بالشمس إذا سترها السحاب) زمانہ غیبت میں امام سے لوگ ایسے فائدہ اٹھائیں گے جیسے بادلوں کی اوٹ میں موجود سورج سے لوگ استفادہ کرتے ہیں۔ امامؑ کے پردۂ غیب میں جانے کے اسباب پر بحث ایک الگ موضوع ہے، البتہ اس کی وجہ سے آپ کے وجود کے فائدے کم ضرور ہوئے ہیں، لیکن ختم ہرگز نہیں ہوئے، جیسے بادلوں کی اوٹ میں موجود سورج۔

 


ٹیگس: امام مہدی, امام زمان
+ لکھاری عباس حسینی در 8 Apr 2020 و ساعت 3:53 AM |

امام زمان علیہ السلام

اور

چھوٹی عمر کی امامت

تحریر: عباس حسینی

 

امامت ایک بہت بڑا منصب ہے۔ دین اور دنیا کے امور کی زمام سنبھالنے کا نام ہے۔ امام معاشرے کا پیشوا ہوتا ہے۔ امام،  ہادی اور رہبر ہوتا ہے جس کے پیچھے سارے معاشرے نے چلنا ہوتا ہے۔ اندرونی مسائل ہوں یا بیرونی مشکلات سب کو حل کرنے کی ذمہ داری امام کے کاندھوں پر ہوتی ہے۔ امامت کی ان تمام تر سنگین ذمہ داریوں کو دیکھتے ہوئے یہ سوال پیش آتا ہے کہ ایک چھوٹا سا بچہ کہ جس کی عمر پانچ یا آٹھ سال ہو وہ کیسے اتنی بڑی ذمہ داری سنبھال سکتا ہے؟ اس بات کی کیا توجیہ ہےکہ شیعوں کے ہاں پانچ اور آٹھ سال کےبچے امام بنتے رہے ہیں۔

 

یہ بات درست ہے کہ امام مہدی علیہ السلام جب منصب امامت پر فائز ہوئے اس وقت آپ کی عمر 5 سال تھی۔ اسی طرح  منصب امامت سنبھالتے وقت امام تقی علیہ السلام کی عمر 7 سال جبکہ  امام علی نقی علیہ السلام کی عمر 9 سال تھی۔

 

ایک تو وہی جواب ہے  جو امام جواد علیہ السلام نے اپنی امامت کے حوالے سے اشکال کرنے والوں کو دیا تھا کہ یہ منصب الہی ہے خدا جسے چاہے جب چاہے دیتا ہے۔ کسی کو بچپن میں دیتا ہے تو کسی کو چالیس سال کی عمر میں۔ حضرت عیسیؑ ابھی ماں کی گود میں تھے کہ اعلان فرمایا:" إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا" (میں خدا کا بندہ ہوں۔ اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔)قرآن نے حضرت یحیٰؑ کے بارے میں کہا: "يَا يَحْيَى خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّة وآتَيْناهُ الْحُكْمَ صَبِيَّاً" (اے یحیٰ، کتاب کو مضبوطی سے پکڑو، اور ہم نے اسے بچپنے میں حکم(نبوت) عطا کیا۔)اور یہ تو فخر عیسیؑ اور فخر یحیؑ ہیں، ان کی امامت کے بارے میں شک کیوں؟

 

 امام در حقیقت علم لدنی کا مالک ہوتا ہے۔ امام کسی کے پاس جا کر علم نہیں سیکھتا۔ امامت منصب الہی ہے۔ لیاقت دیکھ کر خدا کا عطا کیا ہوا تحفہ ہے۔ لہذا اس حوالے سے چھوٹی عمر اوربڑی عمر کا کوئی فرق نہیں۔ خداوند متعال اپنی بے پناہ قدرت کے ساتھ چھوٹے سے بچے کی عقل کو کامل بنا سکتا ہے۔ جس طرح چاہے کسی کو رشد دے سکتا ہے۔

 

اور پھر انسان کی حقیقت اس کا جسم نہیں، اس کی روح ہے۔ ائمہ علیھم السلام کی ارواح طیبہ کے حوالے سے روایات میں آیا ہے کہ

 خدا کی سب سے پہلی مخلوقات ہیں۔البتہ اس نورانی عالم میں وہ سب ایک نور تھےجو بسیط شکل میں موجود تھا۔ وہ نور تمام تر کمالات کا مالک تھا۔ پس جب ہم اس نورانی مرتبے کو ملحوظ رکھتے ہیں تب عالم مادی میں آنے کے بعد ان کی کم عمری پر اشکال بے معنی سا لگتا ہے چونکہ سارے کمالات ان کو پہلے سے حاصل ہیں۔ وہ عام انسانوں کی طرح ہرگز نہیں ہیں۔ پس اس حوالے سے عام انسانوں کے ساتھ ان کا مقایسہ درست نہیں۔

 

 تاریخی حوالے سے بھی دیکھیں تو سارا زمانہ ان کے علمی کمالات اور رشدِ عقلی کے معترف نظر آتا ہے۔ یحی بن اکثم کا واقعہ ملاحظہ کیجیے کہ جو ریاست کا مفتی اعظم تھا لیکن امام تقی علیہ السلام کی علمی قدرت کے سامنے ہار ماننے پر مجبور ہوگیا اور مامون عباسی  کو بھی کہنا پڑا: "وأن صغر السن فيهم لا يمنعهم من الكمال" کہ چھوٹی عمر اس خاندان میں کمالات کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے۔

 

 اسی طرح  تاریخ کہتی ہے کہ امام تقی علیہ السلام  کے بعض اصحاب آپ سے سوالات کرتے گئے اور چند دنوں کے اندر آپ نے  تیس ہزار سوالوں کے جواب دے دئیے جبکہ اس وقت آپ کی عمر صرف 9 سال تھی۔

 

سید محمد باقر صدر علیہ الرحمہ نے  استقراء کے حوالے سے اپنے جدید نظریے (جو حساب احتمالات پر قائم ہے)  کے مطابق اس مسئلے کو عقلی بنیادوں پر حل کیا ہے ۔

سید صدر کے مطابق اتنی کم عمری میں ائمہ علیھم السلام کا  منصب امامت سنبھالنا شیعیت کی حقانیت کی سب سےبڑی دلیل ہے۔  حالانکہ اس وقت شیعہ طائفہ میں بڑے بزرگان اور اصحاب بھی تھے لیکن سب ائمہ علیھم السلام کی امامت پر متفق تھے۔ یقینا ان ہستیوں میں کچھ ایسا دیکھا ہوگا جو ان کی امامت کے معترف ہوگئے۔

 

یہاں پر چند احتمالات ہیں۔

۱۔ لوگوں کو پتہ نہیں چلا کہ امام ابھی چھوٹے اور کم عمر ہیں۔ یہ احتمال ممکن نہیں چونکہ شیعہ اپنے اماموں کو لوگوں سے چھپا کر نہیں رکھتے تھے، بلکہ لوگوں کا امام سے براہ راست رابطہ ہوتا تھا۔

۲۔ اس وقت کے لوگ اتنے سادہ تھے کہ چھوٹے سے بچے کی امامت قبول  کر لی۔ یہ بات بھی ممکن نہیں چونکہ ان میں بڑے بڑے اصحاب بھی تھے جو مکتب امام صادق علیہ السلام کے پروردہ تھے۔ جو علمی اور فقہی اعتبار سے بڑے مراتب پر فائز تھے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک چھوٹے بچے نے اتنے بڑے اصحاب کو (نعوذ باللہ) اپنی "جھوٹی" امامت پر قائل کیا ہو؟جبکہ اس وقت شیعیت مدینے سے  لے کرکوفہ اور قم تک پھیلی ہوئی تھی۔

۳۔ امامت کا مفہوم لوگوں کے لیے واضح نہیں تھا۔ لوگ شاید امامت کو بادشاہت کی طرح نسل در نسل وراثت سمجھتے تھے۔ اس کی شروط اور تفصیلات سے آگاہ نہیں تھے۔تاریخی حوالے سے یہ بات بھی درست نہیں چونکہ تقریبا دو صدیوں سے شیعوں کے درمیان امامت کا سلسلہ چل رہا تھا اور اس کے مفہوم، شرائط اور صفات سے بخوبی آگاہ تھے۔

۴۔ چوتھا احتمال یہ ہے کہ سارے شیعوں نے جھوٹ اور باطل پر اتفاق کر لیا ہو۔ یہ بھی عقلی طور پر اور تاریخی بنیادوں پر ممکن نہیں۔ شیعوں میں بڑے متقی ، پرہیزگار اور باوفا اصحابِ ائمہؑ موجود تھے۔ ان سب کا جھوٹ پر اتفاق کیسے ممکن ہے؟تاریخ گواہ ہے کہ شیعوں نے اذیتیں اور صعوبتیں  برداشت کی ہیں لیکن اپنے عقیدے سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے۔

 

پس یہ سارے احتمالات جب ختم ہوں تو صرف یہی احتمال بچتا ہے کہ امام معصوم ہوتے تھےجن میں معاشرے کو چلانے کی تمام تر خداداد صلاحیتیں موجود تھیں۔ لہذا اس وقت کے بڑے بڑے اصحاب بھی حکمِ خدا کے تحت ان کی اتباع کرتے تھے۔ اگر خدا نخواستہ ان میں کسی قسم کی کمی ہوتی تو مخالفین زمین آسمان ایک کر دیتے کہ یہ دیکھو شیعوں کے امام میں یہ کمی ہے۔ وہ زمانہ علمی ترقی اور عروج کا زمانہ تھا۔ یونانی فلسفہ تک کا ترجمہ ہو چکا تھا۔ لیکن ان سب کے باوجود اپنے تو اپنے ، مخالفین کو بھی ان ائمہؑ  کی تعریفوں کے پل باندھتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ یہ سب ان کی حقانیت کی دلیل ہے۔

 

فلسفی حل اور جواب:

انسان کی عمر کا اندازہ عام طور پر زمین کی سورج کے گرد حرکت سے لگایا جاتا ہے۔ فرض کریں ایک انسان کی پیدائش سے لے کر اب تک زمین نے 30 مرتبہ سورج کے گرد اپنا چکر مکمل کر لیا ہے تو کہا جاتا ہے اس انسان کی عمر 30 سال ہے۔ فلسفی حوالے سے زمان، مقدارِ حرکت کا نام ہے۔ عام حساب و کتاب میں  انسان کی عمر کا لحاظ کرتے ہوئے انسان کی اپنی حرکت کا لحاظ کیے بغیر، زمین کی حرکت کو معیار بنایا جاتا ہے۔ جبکہ زمین کی حرکت کی نسبت انسان کی طرف دینا ایک نوع مجاز گویی ہے، حقیقت نہیں۔ یعنی حقیقت میں زمین نے حرکت کی ہے، انسان نے حرکت نہیں کی۔

 

انسان کی حقیقی حرکت یہ ہے کہ اس کا وجود اختیاری طور پر متحرک ہو اور قربِ پرودرگار کی منازل طے کرے۔ اس کی روح تجرد کے مراحل طے کرے۔ اس حرکت کا اگر لحاظ کیا جائے تب انسانوں کی حقیقی عمر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اب ممکن ہے ایک انسان عمومی اعتبار سے 50 سال کا سفر طے کرے لیکن روحانی حرکت کے لحاظ سے اس نے کوئی خاص فاصلہ طے نہ کیا ہو۔ پس ممکن ہے اس کی حقیقی عمر ایک بچے کی مانند ہو۔ جبکہ اس کے برخلاف، ممکن ہے ایک شخص جس کی عمر ظاہری لحاظ سے چند سال ہو، لیکن باطنی سیر اور کمالات کی طرف سفر کے لحاظ سے اس کی حقیقی عمر بہت زیادہ ہو۔ ائمہ علیہم السلام کے حوالے سے ہم اسی بات کے قائل ہیں۔


ٹیگس: امام مہدی, امام زمان
+ لکھاری عباس حسینی در 7 Apr 2020 و ساعت 1:59 AM |

امام زمان علیہ السلام اور لمبی عمر

تحریر: سید عباس حسینی

 

شیعہ عقائد کے مطابق امام مہدی علیہ السلام کی ولادت 255 ہجری میں ہو چکی ہے۔ اس وقت 1441 ہجری کا سال چل رہا ہے۔ اس لحاظ سے امام مہدی علیہ السلام کی عمرمبارک  1186 سال ہے۔ عام طور پر سوال کیا جاتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے ایک انسان اتنی لمبی عمر جی لے؟ دنیا میں جو اس وقت رائج ہے اس لحاظ سے زیادہ سے زیادہ ایک انسان سو سال یا اس سے کچھ زیادہ زندہ رہ سکتا ہے۔ اتنی لمبی مدت تک کے لیے  کوئی کیسے زندہ رہ سکتا ہے؟

 

اس سوال کے مختلف جوابات دئیےجا سکتے ہیں جن میں سے بعض نقضی جواب ہوں گے جو مخاطب کو چپ کروانے کے لیے دئیے جاتے ہیں، جبکہ کچھ حلی جوابات ہوں گے جو مسئلے کو سرے سے حل کریں گے۔

 

۱۔ ابلیس جو بدی کا محور ہے اورشیطان کا نمائندہ ہے اگر ہزاروں سال سے زندہ ہے تو رحمان کے نمائندے کے زندہ رہنے پر اشکال کیوں؟

 

۲۔ حضرت عیسیؑ کے بارے میں تمام مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ ہے کہ وہ زندہ ہیں۔ قرآن نےسورہ نساء کی آیات 157 تا 159 میں  کہا کہ حضرت عیسیؑ کے قتل ہونے کی بات غلط ہے۔ عیسائیوں کو اس حوالے سے غلط فہمی ہوئی ہے بلکہ اللہ تعالی نے انہیں اپنی طرف اٹھایا ہے۔ وَما قَتَلُوهُ وَما صَلَبُوهُ وَلكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ... وَ ما قَتَلُوهُ يَقِيناً بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَ كانَ اللَّهُ عَزِيزاً حَكِيماً  (انہوں نے حضرت عیسیؑ کو قتل کیا نہ سولی چڑھایا بلکہ دوسرے شخص کو ان کی شبیہ بنا دیا گیا تھا۔۔۔ انہوں نے مسیح کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں اپنی طرف اٹھایا ہے۔) حضرت عیسیؑ کی ولادت کو اس وقت 2020سال گزر چکے ہیں۔ اگر کسی مصلحت کے تحت عیسیؑ زندہ رہ سکتے ہیں تو آخری نؐبی کے وصی کے زندہ رہنے پر اشکال کیوں؟

 

۳۔ اسی طرح مسلمانوں کے مطابق حضرت خضرؑ بھی زندہ ہیں۔ کچھ روایات کےمطابق حضرت الیاسؑ بھی زندہ ہیں۔ حضرت ادریسؑ کے زندہ ہونے کے حوالے سے بھی اقوال موجود ہیں۔ ایسے میں صرف امام زمانؑ کی عمر مبارک پر اشکال کیوں؟

 

۴۔ تاریخی طور پر ثابت ہے کہ بہت سارے انبیاء بہت لمبی عمر پاتے رہے ہیں۔ مختلف روایات کے مطابق حضرت آدمؑ نے 930 سال، حضرت ہودؑ نے 670 سال، حضرت ایوبؑ نے 226 سال، حضرت یعقوبؑ نے 170 جبکہ حضرت نوحؑ نے 2500 سال عمر پائی۔ بعض روایات کےمطابق آپ کو کشتی بنانے میں 200 سال لگے۔ حضرت نوح ؑکے بارے میں قرآن(سورہ) میں آیا ہے کہ آپ نے 950 سال اپنی قوم میں تبلیغ کی۔ وَلَقَدْ أَرْسَلْنا نُوحاً إِلى قَوْمِهِ فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلاَّ خَمْسِينَ عاماً فَأَخَذَهُمُ الطُّوفانُ (اور بتحقیق ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان کے درمیان پچاس سے کم ایک ہزار سال رہے۔ پھر طوفان نے انہیں گرفت میں لیا۔)آیت طوفان سے پہلے کی مدت 950 سال بتار ہی ہے۔ وہ بھی اس وقت سے جب آپ مبعوث بہ رسالت ہوئے۔ پس ان مثالوں کو دیکھتے ہوئے کسی نیک شخصیت کے لیے لمبی عمر پانا  سنن الہٰی کے عینِ مطابق ہے۔

 

۵۔ ایک اور مثال اصحاب کہف کی ہے جن کے بارے میں قرآن میں ایک پوری سورت موجود ہے۔ قرآن کے مطابق وہ 309 سال تک زندہ رہے۔ وَلَبِثُوا فِي كَهْفِهِمْ ثَلَاثَ مِائَةٍ سِنِينَ وَازْدَادُوا تِسْعًا۔ وہ خدا جو اصحابِ کہف کو ایک خاص ہدف کے تک اتنی مدت تک زندہ رکھتاہے کسی مصلحت کے تحت امام مہدی علیہ السلام کو بھی زندہ رکھ سکتا ہے۔

 

6۔ یہ خدا کا ارادہ ہے کہ امام زمان علیہ السلام اتنی لمبی مدت تک زندہ رہیں اور جب تک خدا نے چاہا زندہ رہیں گے۔ خداکے "کن" اور ارادے کے سامنے کونسی چیز ٹھہر سکتی ہے؟ پس عمر امام زمان علیہ السلام پر اشکال در حقیقت خدا کے ارادے پر اشکال ہے۔ اللہ تعالی اپنا یہ ارادہ عام اور عادی طریقے سے بھی پوار کر سکتا ہے اور غیر عادی طریقے  "خرقِ عادت" کے ذریعے بھی۔ علامہ طباطائی کے نزدیک یہ خرقِ عادت کے ذریعے ہے۔ خرقِ عادت کوئی محال کام نہیں ہوتا بلکہ عام اسباب سے ہٹ کر غیر معلوم اور غیر مرئی اسباب کے ذریعے خداوند متعال وہ کام انجام دیتا ہے۔ پس طولِ عمر کے مختلف عوامل و اسباب ہو سکتے ہیں جن سے انسان اب تک غافل اور بے خبر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس آج بھی طولِ عمر کو ناممکن اور محال نہیں قرار دیتی۔ (شیعہ در اسلام)

 

7۔ انسان کی عمر کا تعلق گردشِ لیل و نہار سے ہے۔ جب ہماری زمین سورج کے گرد ایک چکر مکمل کرتی ہے تو اسے ایک شمسی سال کہاجاتا ہے۔ یہ چکر 365 دنوں میں مکمل ہوتا ہے۔ اب اگر کوئی ہستی "صاحب الزمان" ہو، زمان اس کے قبضہ قدرت میں ہو اور وہ زمان کا مالک ہو تب اس کے بارے میں طولِ عمر کا اشکال بے معنی سا لگتا ہے۔

 

خلاصہ یہ کہ کسی انسان کا طولِ عمر پانا نہ عقلی اور منطقی طور پر محال ہے اور نہ علمی اور سائنسی طور پر۔ اس کے باوجود کوئی اس بات کا منکر ہو تب اسے اپنی  دلیل پیش کرنی چاہیے۔


ٹیگس: امام مہدی, امام زمان
+ لکھاری عباس حسینی در 7 Apr 2020 و ساعت 1:55 AM |

اسلام میں میراث کے اندر عورت کا حصہ نصف کیوں؟

 

سب سے پہلے ہمیں یقین ہونا چاہیے کہ اسلام میں جو وراثت کا نظام ہے وہ کسی عام انسان کی طرف سے نہیں، بلکہ خالق کائنات کی طرف سے وضع شدہ ہے۔ ایسے میں اگر خدا کی عدالت اور اس کی حکمت پر کسی کو یقین کامل ہے پھر اعتراض کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

 

ہاں اگر کوئی یہ دعوی کرتا ہے کہ علماء نے اب تک قرآن سے یا احادیث سے غلط سمجھا ہے، اور قرآن و روایات میں کچھ اور کہا گیا ہے، تب وہ اپنی دلیل لے آئیں۔ اگر قابل توجہ ہوئی تو سب قبول کریں گے۔

علماء اس بات پر متفق ہیں کہ تمام شرعی احکام کے فلسفے، ان کی وجوہات اور ان کے پیچھے چھپی حکمتوں کا ہمیں علم نہیں۔ ایسے میں اس حکیم اور علیم ذات پر اعتماد کرتے ہوئے اس کے ہر حکم کے سامنے سر تسلیم خم ہونا چاہیے۔

ان تمام باتوں کے باوجود اسلام میں عورت کی وراثت کے حوالے سے چند نکتے عرض ہیں:

 

اسلام میں (عام حالات کے اندر) عورت پر کسی قسم کا خرچہ اور نفقہ واجب نہیں۔ اگر بیٹی ہے تو باپ پر، بیوی ہے تو شوہر پر اور اگر ماں ہے تو اولاد پر اس کا نفقہ اور خرچہ واجب ہے۔ ایسے میں جب گھر کا سارا خرچہ (لباس، گھر، کھانا پینا اور دوسرے لوازمات) مرد نے چلانا ہے تو واضح سی بات ہے مرد کا حصہ بھی زیادہ ہونا چاہیے۔ مرد نے اپنے علاوہ اپنی بیگم بچوں کا بھی خرچہ پورا کرنا ہوتا ہے۔ پس حقیقت اگر دیکھ لی جائے تو عورت کے پاس جتنا کچھ آتا ہے وہ اس کی بچت ہے، جبکہ مرد کے پاس جو کچھ آتا ہے اس نے فیملی پر خرچ کرنا ہے۔ دوسرے الفاظ میں میراث میں عورت کا جو حصہ ہے وہ سارا اس کا اپنا ہے، جبکہ مرد کا جتنا حصہ ہے اس میں اس کی بیگم اور فیملی بھی شریک ہے چونکہ ان کا خرچہ مرد پر واجب ہے۔

 

اسلام نے عورت کے حقوق کے حوالے سے اتنی تاکید کی ہے کہ اگر مرد استطاعت رکھتا ہو اور اس کی بیگم کی شان بھی یہ ہو کہ اس کے لیے خادمہ وغیرہ رکھ لی جائے تو اس کا بھی خرچہ مرد کے اوپر ہے۔

 

حق مہر کے حوالے سے بھی یہ نکتہ اہم ہے کہ مرد نے مہر ادا کرنا ہے جبکہ عورت نے صرف وصول کرنا ہے۔ (یہ الگ بات کہ پاکستان کے بعض علاقوں میں حق مہر کم رکھا جاتا ہے، جبکہ دنیا کے بہت سارے علاقوں میں لاکھوں کروڑوں میں حق مہر رکھا جاتا ہے، جو عورت نے لینا ہے اور مرد نے دینا ہے۔)
 

امام صادق علیہ السلام سے جب یہی سوال پوچھا گیا کہ وراثت میں مرد کا حصہ زیادہ کیون ہے؟ تو آُپ نے جواب دیا: مرد کا حصہ اس لیے زیادہ ہے چونکہ اس کی ذمہ داریاں بھی زیادہ ہیں۔ مرد کے اوپر جہاد واجب ہے، مرد کے اوپر گھر کا خرچہ واجب ہے۔ مرد "عاقلہ" ہے یعنی جنایت خطائی میں اس کے رشتہ داروں کی دیت اسے دینی پڑتی ہے۔ جبکہ مرد پر یہ ذمہ داریاں نہیں ہیں۔

 

یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ اسلام میں ہر جگہ عورت کا حصہ مرد کے حصے کا نصف نہیں ہے۔ بعض موارد میں میراث برابر بھی تقسیم ہوتی ہے۔ جیسے اگر کوئی مر جائے اور اس کے ورثاء میں صرف والدین ہوں تو والد اور والدہ میں میراث نصف نصف تقسیم ہوگی۔

 

خلاصہ کلام یہ کہ وہ خالق جس نے انسان کو بنایا وہ اس کے لیے اصلح نظام کے بارے میں سب سے زیادہ علم رکھتا ہے۔ اس کا ہر فعل حکمت سے خالی نہیں۔ جو کچھ کہا ہے انسان ہی کی مصلحت کی خاطر کہا گیا ہے۔


ٹیگس: میراث, عورت
+ لکھاری عباس حسینی در 15 Apr 2019 و ساعت 9:39 PM |

ابن تیمیہ کا اشکال اور اس کا جواب

 

ابن تیمیہ، امامت کا شمار اصول اور عقیدے میں ہونے پر اشکال کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اسلامی عقیدے کے اہم ترین ارکان تین ہی ہیں: توحید، نبوت اور قیامت (معاد)۔ لہذا امامت کا شمار بنیادی اصول اور عقیدے میں نہیں ہوتا۔ اور پھر اگر امامت اصول میں سے ہے تو قرآن مجید اور رسول گرامی اسلامﷺ کو بار بار اس اصل کے حوالے سے تاکید کرنی چاہیے تھی اور اس اصل پر اعتقاد ایمان کے ارکان میں سے ہونا چاہیے تھا۔ جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے اپنے دور میں بھی اور ان کے بعد بھی کبھی بھی امامت کا عقیدہ ایمان کے بنیادی ارکان میں سے نہیں رہا۔

یہ ابن تیمیہ کا اشکال ہے۔

 

اس کا جواب ہم چند نکات میں دیتے ہیں:

 

۱۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دین کے تین بنیادی ترین عقیدے توحید، نبوت اور معاد ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان تین عقیدوں کے مسلم اور ضروری ہونے کے بعد اگلا اہم ترین عقیدہ کونسا ہے؟ شیعہ سمجھتے ہیں کہ امامت، نبوت کے بعد کا دینی نظام ہے، جو ایک لحاظ سے ہدایت کے سلسلے میں نبوت کا ہی استمرار اور تسلسل ہے، لیکن ایک فرق کے ساتھ کہ نبی پر اپنے خاص معنی میں وحی اترتی تھی، جبکہ ختم نبوت کے بعد وحی کا سلسلہ رک گیا ہے۔ امام، در حقیقت دین کی طرف ہدایت، قرآن و حدیث کی تشریح اور دین و دنیا کے امور میں ہدایت و سرپرستی اور عملی قیادت اور لیڈر شپ میں نبی کا جانشین ہوتا ہے۔

 

۲۔ اگر امامت کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور اس کا تعلق کسی عقیدے سے ہے ہی نہیں، تو کیوں بڑے بڑے صحابہ رسول اللہﷺ کا جنازہ چھوڑ کر ایک فرعی کام (اہل سنت کے عقیدے کے مطابق) میں مشغول ہوگئے؟ کیوں اس مسئلے کے حوالے سقیفہ بنی ساعدہ میں صحابہ کی آوازیں بلند ہوئیں اور کیوں ایک دوسرے کے خلاف تلواریں نکلیں؟

 

۳۔ تمام اہل سنت محققین نے امامت کی تعریف میں "نبی کے جانشین" ہونے کو اخذ کیا ہے۔ نبی کا جانشین دینی اور دنیاوی لحاظ سے یقینا ایک اہم اور حساس عہدہ ہے۔ پس اس لحاظ سے دیکھا جائے تو امامت کا شمار انتہائی اہم عقائد میں سے ہونا چاہیے جس میں نبی کے بعد امت کی رہبری جیسا اہم مسئلہ مورد نظر ہے۔

 

۴۔ یہ بات انتہائی جاہلانہ بات ہے کہ قرآن و حدیث نے امامت کے موضوع کو اہمیت نہیں دی ہے۔ بلکہ اگر کوئی تعصب سے ہٹ کر دیکھیں تو اس موضوع کے بارے بار بار تاکید ہوئی ہے۔ انبیائے سلف کی سیرت بھی یہی تھی کہ اپنے بعد امت کو امام، پیشوا، نائب اور وصی کے بغیر نہیں چھوڑتے تھے۔ امامت کے موضوع پر ہم بلا مبالغہ کہہ سکتے ہیں کہ قرآن مجید میں دسیوں آیات موجود ہیں، اور احادیث کی کتابوں میں ہزاروں نہیں تو سینکڑوں روایات موجود ہیں۔

ہم چند آیات و روایات یہاں بطور نمونہ ذکر کرتے ہیں۔

۱۔ رسول گرامی اسلامﷺ کے بعد اولو الامر کی اطاعت کو واجب قرار دیا ہے۔ (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ) اولو الامر وہی امام ہے۔

۲۔ طاغوت کی اطاعت سے بڑی شدت کے ساتھ منع کیا ہے۔ (وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ) طاغوت وہ ہے جس کے پاس حکومت کرنے کا خدا کی طرف سے اذن نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں امام وہ ہے جس کے پاس حق حکومت، خدا کی طرف سے ہے۔ اسی طرح قرآن مجید نے امامت کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک امام وہ ہے جو لوگوں کو جہنم کی آگ کی طرف بلاتے ہیں، ان کے مقابلے میں بعض امام برحق وہ ہیں جو خدا کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں۔

۳۔ حدیث غدیر (مَنْ كُنْتُ مَوْلاهُ، فَهذا عَلِىٌّ مَوْلاهُ. أَللّهُمَّ والِ مَنْ والاهُ، وَ عادِ مَنْ عاداهُ) کے مطابق آنحضرتﷺ نے اپنے بعد مولا علی علیہ السلام کا نام لے کر ان کو خلیفہ، نائب، جانشین اور امام کے طور پر پیش کیا ہے۔ اور آپﷺ نے نہ صرف زبانی اعلان پر اکتفا کیا، بلکہ باقاعدہ تمام صحابہ سے اس بات پر بیعت بھی لی ہے۔

۴۔ حدیث ثقلین (إني تارك فيكم الثقلين : كتاب الله، وعترتي أهل بيتي، ما إن تمسكتم بهما لن تضلوا بعدي أبدا) کے مطابق رسول اللہﷺ نے اپنے بعد امت کو قرآن کے ساتھ ساتھ اہل بیت علیھم السلام کی طرف رجوع کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ ضلالت اور گمراہی سے بچا جا سکے۔ اس طرح سے آپ نے اہل بیت کرام علیھم السلام کی مرجعیت عمومی پر مہر ثبت کی ہے۔

۵۔ اہل سنت کی صحاح کی متعدد روایات کے مطابق آُپﷺ نے نا صرف اپنے بعد امامت کا اعلان کیا، بلکہ امام، خلیفہ اور امیر کی تعداد کے ساتھ ساتھ ان کا قبیلہ اور اوصاف تک بتا دئیے۔ (مزے کی بات یہ ہے کہ اہل سنت 12 کی تعداد آج تک پوری نہیں کر سکے اور عملی طور پر اس حدیث سے تغافل کرتے نظر آتے ہیں۔)

 

آیا ان تمام باتوں کے باوجود کہا جا سکتا ہے کہ قرآن اور حدیث نے امامت کے مسئلے کو کوئی اہمیت نہیں دی؟ یقینا تعصب ایسی بلا ہے جس کی بنا پر انسان واضح ترین حقائق کا بڑی آسانی کے ساتھ  اس وجہ سے انکار کر جاتا ہے چونکہ یہ بات ان کے اپنے عقیدے کے خلاف ہے۔


ٹیگس: امامت, ابن تیمیہ
+ لکھاری عباس حسینی در 29 Jan 2019 و ساعت 1:51 PM |

شیعوں کے نزدیک امامت کی اہمیت

 

جیسے کہ پہلے بیان ہوا شیعوں کے نزدیک امامت کا تعلق عقیدے اور اصول سے ہے، لہذا اس مسئلے سے علم کلام اور عقیدے کی کتابوں میں بحث کی جاتی ہے۔ اس حوالے سے چند نکات قابل غور ہیں۔

 

۱۔ اہل تشیع سمجھتے ہیں کہ امامت، نبوت کے بعد کا ایسا کامل نظام ہے جس کے ذریعے اللہ تعالی نے بشریت کی ہدایت کا اہتمام کیا ہے۔ اللہ تعالی نے آدم سے لے کر خاتم تک، اور خاتم سے لے کر تا قیام قیامت انسانون کی ہدایت کا بھرپور انتظام کر رکھا ہے۔ ایسے میں ہر دور میں حجت خدا اور کسی ہادی  کا ہونا ضروری ہے۔

 

۲۔ امام کی تعیین بھی خود اللہ تعالی کی ذمہ داری ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ہر نبی اور رسول کو اللہ تعالی نے خود معین فرمایا۔ ایسا نہیں ہو سکتا تھا کہ لوگ اکھٹے ہو کر کثرت رائے سے کسی کو نبی یا رسول بنا دیں۔ امامت بھی ایک الہی عہدہ ہے جو اللہ تعالی کی طرف سے ان خاص بندوں کو عطا ہوتا ہے جن میں اس عہدے کی صلاحیت موجود ہے۔

 

۳۔ اس مسئلے میں حق اور سچ کو جانچنے کا معیار قرآن مجید، رسول گرامی اسلامیﷺ کی صحیح احادیث اور آپ کی سیرت طیبہ ہے۔ کسی بھی واقعے کا تاریخ میں وقوع پذیر ہونا اس کی سچائی کی علامت نہیں، مگر یہ کہ وہ کام کسی معصوم کی طرف سے انجام پایا ہو۔ جو بھی غیر معصوم ہے اس سے غلطی کی گنجائش ہمیشہ موجود ہے۔

 

مسئلہ امامت کی اہمیت کے حوالے سے شیعہ سنی مصادر میں متعدد احادیث بیان ہوئی ہیں۔ حدیث "معرفت امام" ان مشترکہ احادیث میں سے ہے جسے بہت سارے محدثین نے مختلف عبارتوں کے ساتھ نقل کیاہے۔ اس حدیث کے مطابق ہر انسان پر اپنے زمانے کے امام کی معرفت واجب اور ضرری ہے تاکہ اس کی بیعت اور اطاعت ہو۔ اگر ایسا نہیں ہوا ہو تو شخص جاہلیت کی موت مرے گا۔ جاہلیت کی موت سے مراد کفر اور شرک کی موت ہے۔ پس اس حدیث کے مطابق امامت کو اہم ترین عقائد میں سے ہونا چاہیے کہ جس کا انکار کفر اور شرک کا باعث بن رہی ہے۔ اگر امامت کی کوئی اہمیت نہ ہوتی تو اس کے انکار کا اتنا سخت نتیجہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ کسی فرعی مسئلے سے جہالت کبھی بھی جاہلیت کی موت کا باعث نہیں بن سکتی۔

یہاں سے امامت کی اہمیت بالکل واضح ہو جاتی ہے۔


ٹیگس: امامت
+ لکھاری عباس حسینی در 29 Jan 2019 و ساعت 1:49 PM |

امامت کی بحث کا تعلق کس علم سے ہے؟

 

اہل سنت قائل ہیں کہ امام اور خلیفہ کی تعیین لوگوں کے ذمے ہے، لہذا یہ مکلفین (عام لوگوں) کا فعل ہے، اور مکلف کے فعل سے بحث علم فقہ میں ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے امامت کی بحث ایک فقہی اور فرعی بحث ہے۔

جبکہ اس کے مقابلے میں شیعہ قائل ہیں کہ امامت کا تعلق عقیدے سے ہے اور یہ ایک اصولی مسئلہ ہے، نہ فروعی۔ جس طرح سے نبی اور رسول کو اللہ تعالی خود معین فرماتا ہے، (اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ) اسی طرح امام کو بھی اللہ تعالی خود معین فرماتا ہے۔ نبی کی طرح امام کی بھی ذمہ داری دینی و دنیاوی امور میں لوگوں کی ہدایت اور قرآن و سنت کی تشریح ہے۔

یہاں جب ہم اہل سنت سے پوچھتے ہیں کہ اگر آپ کے نزدیک امامت کی بحث ایک فقہی مسئلہ ہے تو کیوں تمام اہل سنت متکلمین نے علم کلام اور عقیدے کی کتابوں میں امامت کی بحث شامل کی ہے؟

اس حوالے سے وہ جواب دیتے ہیں کہ یہ گزشتہ علماء کی اتباع میں ہے جو وہ کلامی کتابوں کے آخر میں امامت کے حوالے سے بحث کرتے ہیں۔ گویا یہ علم کلام سے ملحقہ بحث ہے، اصلی بحث نہیں۔ اس حوالے سے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ امامت کے باب میں اہل بدعت کی طرف سے بہت زیادہ خرافات پھیلائی گئی ہیں، جن کا دفاع کلامی کتابوں میں ضروری ہے۔

 

لیکن اہل سنت کا یہ نظریہ کئی وجوہات کی بنا پر درست نہیں:

 

۱۔ یہ بات ٹھیک نہیں کہ امام کی تعیین لوگوں کی ذمہ داری ہے۔ پہلے مرحلے میں ہمیں چاہیے امام کے مقام اور مرتبے کو معین کریں۔ (اس حوالے سے ہم بعد میں گفتگو کریں گے اور بتائیں گے کہ امام میں کونسی صفات اور خصوصیات ہونی چاہیں۔) امامت کے منصب، اس عہدے کی ذمہ داریوں اور امام کی صفات و خصوصیات کو دیکھتے ہوئے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ امام کی تعیین عام لوگوں کے بس کی بات نہیں۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ لوگ اکھٹے ہوں اور جمہوریت کے طریقے پر کسی کو تمام عالم اسلام کا امام، رسول کا جانشین اور خلیفہ بنائیں۔

 

۲۔ کلامی کتابوں میں امامت کی بحث کو شامل کرنا خود اس بات کی نشانی ہے کہ یہ بحث انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور اس کا تعلق انسان کے عقیدے سے ہے۔ اس کے مقابلے میں آنے والے شبہات کا تعلق عقیدے سے نہ ہوتا تو کلامی کتابوں میں اس کے دفاع کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔

 

۳۔ اگر امامت کا تعلق فروع سے ہے اور عقیدے سے اس کا کوئی تعلق نہیں تو کیوں بہت سارے اہل سنت علماء نے حضرت ابوبکر یا حضرت عمر کی خلافت کے منکر کے حوالے سے کفر کا فتوی دیا ہوا ہے؟ کسی فرعی حکم کے انکار سے کیا انسان کافر بن جاتا ہے؟ پس یہ دو باتیں آپس میں سازگار نہیں ہیں۔

 

۴۔ اہل سنت امام اور خلیفہ کے لیے جن صفات کے قائل ہیں، اگر ان کو مدنظر رکھیں تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان کے ہاں امامت کی بحث کا تعلق نہ اصول سے ہے اور نہ ہی فروع سے۔ اہل سنت امام اور خلیفہ کی شان اس قدر گھٹاتے ہیں کہ اس منصب کو ایک حاکم، ناظم، امیر اور بادشاہ کے برابر سمجھتے ہیں۔  ان کے ہاں ہر حاکم خلیفہ ہے بے شک وہ ظالم، فاسق اور فاجر ہی کیوں نا ہو! لہذا بہت سے اہل سنت یزید اور معاویہ جیسے ظالم، فاسق و فاجر کو بھی خلیفہ سمجھتے ہیں۔ ایسے میں اگر حقیقت دیکھ لی جائے تو اہل سنت کے ہاں امامت کا تعلق دین سے بنتا ہی نہیں ہے، بلکہ ایک دنیاوی عہدہ بن کے رہ جاتا ہے۔


ٹیگس: امامت
+ لکھاری عباس حسینی در 26 Jan 2019 و ساعت 9:44 PM |

امامت کی بحث کی اہمیت

 

عام طور پر لوگ سوال کرتے ہیں کہ امامت و خلافت کی بحث اس دور میں چھیڑنے کا فائدہ کیا ہے؟ یہ ایک جھگڑا تھا جو تاریخ کے اوراق کا حصہ بن چکا ہے۔ اس بات کو چودہ صدیاں گزر چکی ہیں۔ جو ہونا تھا وہ ہوچکا۔ اب ہم کسی چیز کو، کسی واقعے کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ کون حق پر تھا کون باطل پر؟ اس کا فیصلہ خدا کو کرنے دیں۔ ہم خدا بن کر فیصلہ کرنے والے کون ہوتے ہیں؟ اور جو لوگ گزر گئے ان کے بارے میں اللہ تعالی قرآن مجید میں اعلان فرما چکا ہے: تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ۔ یعنی وہ امت تھی جو گزر چکی۔ جو نیک کام انہوں نے کیا وہ ان کے حق میں ہے اور جو نیک کام تم لوگ کر رہے ہو وہ تمہارے حق میں ہے۔ وہ لوگ کیا کام کرتے تھے اس کا سوال تم سے نہیں پوچھا جائے گا۔

لیکن اس کے مقابلے میں دوسرا نظریہ یہ ہے کہ امامت کی بحث کی اہمیت آج بھی اپنی جگہ برقرار ہے۔ اس کی چند وجوہات ہیں:

 

۱۔ امامت کی بحث کا انسان کی دنیوی و اخروی سعادت اور شقاوت سے بہت گہرا رابطہ ہے۔ امام کی پہچان اس لیے ضروری ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے۔ امام دین اور دنیا کے معاملات میں راہنما ہوتا ہے۔ امام سے دین کے معاملات میں رہنمائی لی جاتی ہے۔ دنیاوی معاملات میں بھی امام بہترین مددگار ہے۔ اب اگر صحیح امام کی پہچان نہ ہو تو انسان ہمیشہ کے لیے گمراہ ہو سکتا ہے اور اس کا نتیجہ ابدی شقاوت اور جہنم کے عذاب کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

اگر امامت و خلافت کی بحث کا آج کے دور کے انسان کی زندگی میں کوئی عمل دخل نہ ہوتا تو ہم بھی اس بحث کو چھوڑ دیتے۔ جبکہ حقیقیت یہ ہے کہ اس بحث کا ہر دور کے انسان کی اخروی نجات اور دنیوی سعادت کے ساتھ گہرا ربط ہے۔ دین کا مرجع کن لوگوں کو ہونا چاہیے اس کی تعیین اس سے بحث سے مربوط ہے۔ کونسی احادیث لینی ہیں، کونسی نہیں؟ شریعت کے مصادر کونسے ہیں؟ دین کا دائرہ کتنا وسیع ہے؟ اس طرح کے بہت سارے کلیدی مسائل کا حل امامت کی بحث سے مربوط ہے۔

 

۲۔ امامت کی بحث کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ جو واقعات گزر چکے ہیں ان کی اصلاح کی جائے یا ان میں کوئی تبدیلی لائی جائے۔ بلکہ جو کچھ تاریخ میں واقعات رونما ہوئے ہیں، قرآن کریم اور سنت نبویہ کے ذریعے ان کو جانچنا ہے تاکہ معلوم ہوجائے جو واقعات رونما ہوئے کیا وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق تھے یا ان کے خلاف؟اس ذریعے سے حق اور باطل کی پہچان آسان ہو جائے گی تاکہ حق کی پیروی کی جائے، اور باطل سے بچا جا سکے۔

 

۳۔ شیعہ سنی متفق روایات کے مطابق جو بھی اپنے زمانے کے امام کی معرفت اور ان کی بیعت کے بغیر مرا وہ جاہلیت کی موت مرا ہے۔ ایسے میں ہر زمانے کے امام کی معرفت واجب ہے تاکہ ان کی معرفت، بیعت اور اطاعت ممکن ہو۔ یہاں سے بھی امامت کی بحث کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے کہ ہر زمانے کے لوگوں پر اس زمانے کے برحق امام کی معرفت واجب ہے تاکہ جاہلیت کی موت سے بچا جا سکے۔

 

۴۔ امامت کی بحث کا نبوت کے ساتھ بھی گہرا ربط اور تعلق ہے۔ شیعہ اور سنی، امامت اور خلافت کو نبوت کے سلسلے کے خاتمے کے بعد اسی کا نعم البدل سمجھتے ہیں۔ امام یا خلیفہ کو نبی کا جانشین، نائب اور وصی مانتے ہیں۔ امامت اور نبوت کے باہمی رابطے کے حوالے سے یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ جس وقت دعوت ذوالعشیرہ کے موقع پر رسول گرامی اسلام ﷺنے اپنی نبوت کا پہلی دفعہ اعلان کیا ہے اسی وقت ہی اپنے بعد اپنے نائب اور خلیفہ کے حوالے سے بھی بات کی ہے۔ یعنی امامت کا اعلان، نبوت کے اعلان کے ساتھ متصل ہے۔ اسی طرح اپنی حیات طیبہ کے ہر اہم موڑ پر آپ ﷺنے امامت اور اپنی جانشینی کے مسئلے کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے اور اس حوالے سے ارشادات فرمائے ہیں۔


ٹیگس: امامت
+ لکھاری عباس حسینی در 25 Jan 2019 و ساعت 7:38 PM |

اسلام مخالف ٹرائیکا

تحریر: عباس حسینی

رسول گرامی اسلام حضرت محمد مصطفی ﷺ نے مدینہ منورہ میں جس اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی اور جس کی خاطر آپﷺ اور آپ کے جانثار اصحاب نے بہت زیادہ زحمتیں اٹھائیں، جب آپ اس ظاہری دنیا سے جا رہے تھے، یہ ریاست اسلام مخالف ٹرائیکا کے گھیرے میں تھی۔ مشرق اور شمال کی طرف اس وقت کی دو بڑی طاغوتی ریاستیں تھیں جواس نوزاد اسلامی ریاست کو اپنے لیے خطرہ سمجھتی تھیں۔ روم اور ایران کی سلطنتیں اس وقت انتہائی طاقتور تھیں۔ جس وقت رسول گرامی اسلام ﷺ نے ایران کے بادشاہ کو خط لکھا ہے، اس نےطاقت کے نشے میں  آپ کا مبارک خط پھاڑ دیا تھا اور یمن میں موجود اپنے گورنر کے نام خط لکھا تھا کہ اس مدعی نبوت کو پکڑ کر میرے پاس بھیجو۔ رومی سلطنت، مدینے کی اسلامی ریاست کے لیے کس قدر خطرہ تھی، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے  کہ حضور اکرمﷺ کی حیات طیبہ میں دو دفعہ رومیوں سے لڑنے کے لیے مسلمانوں کا لشکر گیا ہے۔ ۸ ہجری میں جنگ موتہ رومیوں کے خلاف لڑی گئی جس میں بعض بڑے صحابہ جیسے جعفر بن ابی طالب، زید بن حارثہ اور عبد اللہ بن رواحہ  شہادت نوش کر گئے، جبکہ اسلامی لشکر کو رومیوں کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ اس شکست کا بدلہ لینے کے لیے اگلے سال رسول اکرمﷺ خود ایک لشکر جرار لے کر تبوک کی طرف نکلے۔ لیکن اس دفعہ رومی لڑنے نہیں آئے۔ اسلامی لشکر چند دنوں تک تبوک میں انتظار کرتا رہا اور پھر واپس آیا۔ اور پھر تیسری مرتبہ آپﷺ کی وفات سے چند ماہ پہلے اسامہ بن زید کی سربراہی میں ایک اور لشکر رومیوں سے لڑنے کے لیے آپﷺ نے آمادہ فرمایا اور خصوصی تاکید کی کہ سارے صحابہ اس لشکر میں شریک ہوں اور رومیوں سے لڑنے کے لیے مدینہ سے باہر نکلیں۔ البتہ تاریخ کہتی ہے کہ مولائے متقیان علی بن ابی طالب علیہ السلام کا نام اس لشکر میں شامل نہیں تھا۔ لیکن تمام بڑے صحابہ نے رسول اکرمﷺ کے اس فرمان کی حکم عدولی کی اور بار بار تاکید کے باوجود مدینے میں ہی بیٹھے رہے، جس پر رسول گرامی اسلامﷺ ان اصحاب سے انتہائی ناراض ہوئے، جس کا آپ ﷺ نے کئی دفعہ اظہار بھی فرمایا۔

ان دو خارجی دشمنوں کے علاوہ، اس ٹرائیکا میں تیسرا داخلی دشمن منافقین کی صورت میں موجود تھے۔ یہ لوگ اس انتظار میں تھے کہ جونہی رسالت مآبﷺ کی وفات ہوتی ہے ہم فورا اس ناپائیدار ریاست کو اچک لیں گے۔ ان کو پہچاننا اتنا آسان کام نہیں تھا، چونکہ انہوں نے ظاہری طور پر اسلام کا لباس اوڑھا ہوا تھا اور صحابی رسول کے عنوان سے پہچانے جاتےتھے، لیکن دل ہی دل میں اس ریاست کی جڑیں کاٹنے کی پلاننگ کر رہے تھے۔ قرآن مجید نے مسلمانوں کو منافقین سے خصوصی طور پر ہشیار رہنے کی تاکید کی ہے اور بہت ساری آیات کے علاوہ ایک پوری سورت میں ان کے حوالےسے بات کی ہے۔

اب یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ جس ریاست کی خاطر رسول گرامی اسلامﷺ نے اتنی زحمتیں اٹھائی ہیں، کیا آپﷺ اس کے مستقبل کے حوالے سے پریشان نہیں تھے؟ کیا آپ نے اس کے مستقبل کے حوالے سے کچھ بھی نہیں سوچا تھا؟ جبکہ پیچھے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ دشمن کے اس خبیث مثلثی اتحاد سے آپ آگاہ تھے۔ کیا عقلی طور پر ایسا تصور کیا جا سکتا ہے؟ جبکہ ہم میں سے کوئی شخص ایک چھوٹا سا ادارہ بھی بنائیں تو اس کے مستقبل کے حوالے سے ہر قسم کی پلاننگ کرتے ہیں۔ اپنے بعد کسی مطمئن شخص کو اس کی ذمہ داری سونپتے ہیں۔ اس ادارے کو چلانے والے میں کیا خصوصیات ہونی چاہیے اس حوالے سے رولز بناتے ہیں۔

رسول گرامی اسلامﷺ اسلامی ریاست مخالف ٹرائیکا کےمقابلے میں مسلمانوں کو متحد رکھنے کی خاطر اپنا جانشین معین کر جاتے یہ بہتر تھا؟ یا یہ کام امت کے سپرد کر جاتے یہ بہتر تھا؟ جبکہ آپﷺ جانتےتھے کہ قبائلی نظام میں منقسم  امت کا ایک بات پر متفق ہونا انتہائی مشکل امر ہے۔ اور ساتھ ہی آپﷺ یہ بھی جانتے تھے کہ آپ کی وفات کے فورا بعد یہ ٹرائیکا اسلامی ریاست کے درپے ہوگا۔ یقینا ہر عاقل یہاں یہ حکم لگاتا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کا مفاد اسی میں تھا کہ آپﷺ اپنا نائب اور جانشین معین کر جاتے۔ شیعہ عقیدے کے مطابق آپﷺ نے اپنا یہ فریضہ بخوبی انجام دیا اور حضرت علی ابن ابی طالب علیھما السلام کو اپنا نائب، وصی، جانشین اور خلیفہ معین فرما گئے۔

(استفادہ از: محاضرات فی الالہیات، استاد جعفر سبحانی)

+ لکھاری عباس حسینی در 11 Dec 2018 و ساعت 10:9 PM |

الحمد للہ تشیع مکمل طور پر ایک عقلی مذہب ہے۔ اس کی شریعت کے بنیادی مآخذ میں سے ایک اہم ماخذ عقل ہے۔ ہماری احادیث کے مطابق اللہ تعالی نے انسانوں کی طرف دو قسم کے رسول بھیجے ہیں۔ ایک ظاہری رسول جو انبیاء کی شکل میں آئے، اور دوسرا، انسانی عقل ہے، جسے باطنی رسول کہا گیا۔

قرآن و روایات تعقل اور تفکر پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں۔ سوال اٹھانا انسان کی فطرت ہے اور ساتھ میں تفکر کی نشانی بھی۔ ہمارے نزدیک کسی بھی مسئلے پر جو چاہے، جب چاہے سوال اٹھا سکتا ہے، اس کے حوالے سے پوچھ سکتا ہے اور تحقیق کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے دوسرے مذاہب کے برخلاف، ہمارے مذہب نے آج تک دوسرے ادیان و مذاہب کی کتابیں پڑھنے سے نہ صرف منع نہیں کیا، بلکہ الٹا ہم اس کی ترویج اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ہمیں اپنی باتوں کی حقانیت پر سو فیصد یقین ہے اور ہر بات پر قطعی اور عقلی دلیل رکھتے ہیں۔

یقین کا راستہ شک سے ہو کر گزرتا ہے۔ عقائد کے باب میں تقلید جائز نہیں۔ ہر انسان پر لازم ہے وہ تحقیق اور سوچ سمجھ کے بعد اپنا عقیدہ چن لے۔ فقط ان باتوں کو مان لے جس پر اس کا دل مطمئن ہے۔ صرف یہ کہنا کہ میرے باپ دادا کا عقیدہ ایسا تھا، ہرگز کافی نہیں۔

شک بہترین گزرگاہ ہے، البتہ منزل ہرگز نہیں۔ شک سے ہو کر گزرنا ہے، اس پر ٹھہرنا ہرگز نہیں۔ البتہ یہ بات اس کے لیے ہے جو اپنے شک میں صادق ہو۔ ایسا نہ ہو وہ حقیقت میں کوئی ایجنڈا رکھتا ہو، اور لوگوں کے سامنے تشکیک کا ڈرامہ کرے۔ مسلمانوں میں امام غزالی نے اور مغرب کی سرزمین میں ڈیکارٹ نے اپنے سفر کا آغاز شک سے کیا۔ لیکن ہر بات میں جہاں شک کیا جا سکتا ہے، وہیں خود شک میں شک کرنا ممکن نہیں۔ یہیں سے قطع اور یقین کے سفر کا آغاز ہوتا ہے، جس کی تفصیل امام غزالی نے اپنی کتاب "المنقذ من الضلال" میں بیان کی ہے۔

جو شخص خدا کے وجود کا ہی منکر ہو، اس سے بحث کے دوران آپ قرآن و حدیث سے دلیل نہیں لا سکتے، چونکہ اس کے نزدیک جب خدا ہی ثابت نہیں، تو خدا کی طرف سے بھیجی کتاب یا خدا کے رسول کی حدیث کی کوئی حیثیت نہیں۔ ایسے شخص سے بحث کا بہترین راستہ، یا کہہ لیں واحد اور منحصر راستہ، عقلی راستہ ہے۔ عقل کی زبان کو تمام ادیان و مذاہب کے مابین، یہاں تک کہ منکرِ دین سے بحث کرنے کے لیے مشترکہ زبان کے طور پر اخذ کیا جا سکتا ہے۔

ہمارا دعوی یہ ہے کہ خدا کا وجود، ایک نہیں، ہزاروں عقلی اور قطعی دلیلوں سے ثابت ہے۔ (ہاں اگر کوئی عقل کو ہی نہیں مانتا اس سے بحث کا الگ راستہ ہو سکتا ہے۔) خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے بعد نبی کی ضرورت بھی عقلی طور پر ہم ثابت کرتے ہیں اور ساتھ میں یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ وہ نبی معصوم ہونا چاہیے۔ اس کے بعد جب عملی طور پر معجزات، مختلف قرینوں اور تاریخی حقائق سے کسی شخص کی نبوت ثابت ہوتی ہے تو اس کی کتاب کے مندرجات، اس کی تمام باتوں اور لائے ہوئے تعلیمات کی درستگی اور سچائی بھی خود بخود ثابت ہو جاتی ہے، چونکہ فرض یہ ہے کہ وہ معصوم نبی ہے، اور معصوم کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔۔۔

+ لکھاری عباس حسینی در 5 Dec 2018 و ساعت 10:56 PM |

مباہلہ، اہل بیت کی شان اور ناصبیوں کی بے بسی

تحریر: عباس حسینی

مباہلے کا واقعہ تاریخ اسلام کا ایسا عظیم واقعہ ہے جس سے اسلام کی سربلندی اور ان افراد کی سچائی ہمیشہ کے لیے امر ہوگئ جنہیں رسول گرامی اسلامﷺ اپنے ساتھ نجران کے عیسائیوں سے مباہلے کے لیے ساتھ لے کر گئے تھے۔ لیکن چونکہ اس واقعے سے اہل بیت کرام کی ایسی شان اور عظمت ثابت ہوتی ہے جو ان کے دشمنوں اور ناصبی افراد سے برداشت نہیں ہوتی، لہذا ہر کچھ عرصے بعد اس حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ان بے چاروں کا مسئلہ یہ ہے کہ اپنے بڑوں کے فضائل بیان کرنے سے تو رہے، لہذا  حسد میں آکر یہ طریقہ ڈھونڈ لیا کہ دوسروں کی شان گھٹا لو تاکہ اپنوں کے برابر لایا جاسکے۔ لیکن کیا کریں ان بے چاروں کی بے بسی کہہ لیں، خود ان کی معتبر ترین کتابوں میں اہل بیت کرام کی اتنے فضائل بیان ہوئے ہیں کہ جن کا شمار بھی مشکل امر ہے۔ اگرچہ اصولی طور پر ہمارے لیے ہمارے عقائد کا ہماری اپنی کتابوں سے ثابت ہونا کافی ہے، لیکن  الحمد للہ مذہب شیعہ کے تمام اصول قرآن اور عقل کے علاوہ خود اہل سنت کی معتبر ترین کتابوں سے بھی  ثابت ہیں۔

مباہلے کے حوالے سے عام طور پر جو دو اشکال کیے جاتے ہیں وہ یہ ہیں۔

۱۔ مباہلہ یہودیوں کے ساتھ تھا، عیسائیوں کے ساتھ نہیں۔ شیعوں نے امام حسن اور امام حسین علیھما السلام کی فضیلت ثابت کرنے کے لیے اسے عیسائیوں کے ساتھ جوڑ لیا۔ جبکہ جس وقت رسول اللہﷺ مدینے آئے اور مباہلہ ہوا اس وقت مدینے کے اطراف میں عیسائی تھے ہی نہیں۔

۲۔ مباہلے کا واقعہ حسنین کی پیدائش سے قبل کا واقعہ تھا۔ لہذا اس میں پنجتن کی شرکت مشکوک ہے۔ پھر یہ لوگ نتیجہ لیتے ہیں کہ اہل بیت میں صرف پنجتن پاک کا ہونا ثابت نہیں۔

 

پہلا مطلب: مباہلہ عیسائیوں کے ساتھ  تھا،  اور ہجرت کے نویں سال یہ واقعہ پیش آیا۔

ابن جریر طبری اپنی تفسیر میں: جو بھی تجھ  سے اے محمدﷺ، مسیح عیسی بن مریم کے بارے مجادلہ کرے، پس کہہ دیجیے۔۔۔ جھگڑا اس بات کا تھا کہ عیسی خدا کا عبد ہے یا خدا کا بیٹا؟  "ما جائک من العلم" سے مراد بھی یہ ہے کہ جب ثابت ہوچکا کہ عیسی خدا کا عبد اور رسول ہے اس کے باوجود کوئی نہ مانے تب مباہلہ کرنا۔ اور ساتھ ہی رسول گرامی کی یہ حدیث بھی نقل کی ہے جس میں آپ نے فرمایا: اےکاش میرے اور نجران کے نصاری کے درمیان کوئی حجاب ہوتا اور میں انہیں نہ دیکھتا اور وہ مجھے نہ دیکھتے۔ (تفسیر طبری، ج3، ص 209، 210)

آلوسی: نجران کے نصاری کا وفد اگر تم سے عیسی کے بارے میں مجادلہ کرے۔۔ (روح المعانی، ج 2، ص 179)

رشید رضا تفسیر المنار میں: آیت مباہلہ کے حوالے سے متعدد طرق سے نقل ہوا ہے کہ نبی اکرمﷺ نے نجران کے عیسائیوں کو مباہلہ کی دعوت دی۔۔ (تفسیر المنار، ج 11، ص 19)

فخر رازی: فمن حاجک فیہ میں ضمیر حضرت عیسی کی طرف لوٹ رہی ہے۔ پچھلی آیتوں میں بیان ہوچکا کہ عیسائیوں کی یہ بات غلط ہے کہ حضرت عیسی خدا کے بیٹے ہیں۔ آدم جو بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے خدا کے بیٹے نہیں ہو سکتے تو عیسی کیسے خدا کے بیٹے ہو سکتے ہیں؟ اس حقیقت کے باوجود کوئی تمہارے ساتھ ضد کرے تو اسے مباہلے کی دعوت دو۔ آیت کی تفسیر میں وجہ رابع بیان کرتے ہوئے پھر نصاری کے قول کے باطل ہونے پر فخر رازی نے دلیل پیش کی ہے۔ دوسرے مسئلے کے بیان میں نجران کے نصاری کا پورا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے۔ (تفسیر کبیر، ج 8، ص 248)

ان سب کے علاوہ آیت مباہلے سے ماقبل 6 آیات(آل عمران55 تا 60) کوئی غور سے پڑھ لیں وہ آیات کے سیاق کے تحت اس قطعی نتیجے تک پہنچ جاتا ہے کہ مباہلے والی آیت بھی مسیحیوں سے ہی متعلق ہے۔ یہودیوں کا اس پورے صفحے پر کوئی تذکرہ ہی نہیں ہے۔

 

دوسرا مطلب: مباہلہ میں رسول اللہﷺ، علی فاطمہ حسن اور حسین علیھم السلام کو لے کر گئے۔

رشید رضا: روایت آئی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ان ہستیوں کو اپنے ساتھ مباہلے کے لیے چن لیا۔ میں دعا کروں گا، آپ لوگ آمین کہیں۔ مسلم اور ترمذی اور ان دونوں کے علاوہ دوسروں  کی سعد سے روایت ہے: جب یہ آیت نازل ہوئی رسول اللہﷺ نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیھم السلام کو بلایا اور فرمایا: اے اللہ، یہ میرے اہل بیت ہیں۔ رشید رضا اپنے استاد سے نقل کرتے ہیں: روایات اس بات پر متفق ہیں کہ نبی اکرم نے مباہلے کی خاطر علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیھم السلام کو چن لیا۔"نساء" کا لفظ صرف فاطمہ کے لیے، انفسنا کا لفظ صرف امام علی کے اوپر اطلاق ہوا ہے۔(تفسیر المنار،ج 11، ص 20)

آلوسی:  رسول اللہ مباہلے کے لیے اپنے ساتھ علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیھم السلام کو لے کر گئے۔(ج 2، ص 181)

فخر رازی: مباہلےمیں پنجتن پاک کی شرکت کے حوالے سے روایات نقل کرنے کے بعد کہتا ہے: جان لو یہ روایت وہ ہے جس کی صحت پر اہل تفسیر اور حدیث کے درمیان گویا اتفاق ہے۔ (تفسیر کبیر، ج 8، ص 247) فخر رازی اسی آیت کے ذیل میں چوتھا مسئلہ بیان کرتے ہوئے یوں لکھتا ہے: یہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ حسن اور حسین علیھما السلام رسول اللہﷺ کے بیٹے تھے۔ جب بیٹوں کو بلانے کا کہا تو آپ حسن اور حسین علیھما السلام کو لے کر آئے، پس ضروری ہے کہ یہ دونوں آپ کے بیٹے ہوں۔ پھر اس مطلب پر قرآن سے شواہد لاتے ہیں۔(تفسیر کبیر، ج 8، ص 248) آخر میں آیت کے حوالے سے مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے فخر رازی دوبارہ لکھتے ہیں: رسول اللہﷺ کا اپنے ساتھ اپنے بیٹوں (حسن اور حسین علیھما السلام) اور اپنی بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیھا کو لانا اس بات کی نشانی تھی کہ آپ کو اپنی حقانیت پر مکمل یقین تھا اور دشمن کو اس کام سے روکنے میں زیادہ موثرتھا۔ (تفسیر کبیر، ج 8، ص 249)

تفسیر ابن کثیر میں بھی یہی بات لکھی گئی ہے کہ مباہلے کے لیے پیامبر اکرمﷺ پنجتن پاک کو لے کر گئے۔ (تفسیر القرآن العظیم (تفسیر ابن کثیر)، ج 2، ص 47)

 

اہل سنت کی معتبر ترین حدیث کی کتابوں سے بھی کچھ حوالے ملاحظہ فرمائیں:

صحیح مسلم : ‏‏‏‏‏‏ولما نزلت هذه الآية:‏‏‏‏ فقل تعالوا ندع ابناءنا وابناءكم سورة آل عمران آية 61، ‏‏‏‏‏‏دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم عليا، ‏‏‏‏‏‏وفاطمة، ‏‏‏‏‏‏وحسنا، ‏‏‏‏‏‏وحسينا، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ اللهم هؤلاء اهلي. (کتاب فضائل الصحابہ، باب من فضائل علی بن ابی طالب، حدیث 6220)

جب یہ آیت اتری  :(نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُم) بلائیں ہم اپنے بیٹوں کو اور تم اپنے بیٹوں کو۔ یعنی آیت مباہلہ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو، پھر فرمایا: ”یا اللہ! یہ میرے اہل ہیں۔

http://www.islamicurdubooks.com/Sahih-Muslim/ad.php?bsc_id=1104&bookid=2

سنن ترمذی کی روایت بھی ملاحظہ ہو(سنن ترمذی، کتاب تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ آل عمران،    حدیث 2999):

لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ الْآيَةَ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ، دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا، وَفَاطِمَةَ، وَحَسَنًا، وَحُسَيْنًا، فَقَالَ: اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.

سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت"تعالوا ندع أبناءنا وأبناءكم ونساءنا ونساءكم"  نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی، فاطمہ اور حسن و حسین رضی الله عنہم کو بلایا پھر فرمایا: ”یا اللہ! یہ لوگ میرے اہل ہیں“۔

http://www.islamicurdubooks.com/Sunan-at-Tirmidhi/ad.php?bsc_id=1923&bookid=6

 

مستدرک کے مولف حاکم نیشاپوری نے اپنی کتاب معرفت علوم حدیث  جلد 1، ص 50 پر لکھا ہے:

وقد تواترت الأخبار في التفاسير عن عبد الله بن عباس وغيره أن رسول الله (صلی الله عليه وآله﴾ أخذ يوم المباهلة بيد علي وحسن وحسين وجعلوا فاطمة وراءهم ثم قال هؤلاء أبناءنا وأنفسنا ونساؤنا فهلموا أنفسكم وأبناءكم ونساءكم ثم نبتهل فنجعل لعنة الله على الكاذبين.

(تفاسیر میں عبد اللہ بن عباس اور دیگر سے یہ روایات متواتر طور پر نقل ہوئی ہیں کہ رسول اللہﷺ مباہلے کے دن علی، حسین اور حسین علیھم السلام کے ہاتھ پکڑ کر تشریف لائے۔ سیدہ فاطمہ ان کے پیچھے پیچھے تھیں۔ پھر آپ نے فرمایا: یہ ہمارےبیٹے ، ہمارے نفس اور ہماری خواتین ہیں۔ تم بھی اپنے بیٹوں، نفسوں اور خواتین کو لے آو تاکہ ہم مباہلہ کریں اور جھوٹے پر خدا کی لعنت قرار دیں۔

یہ فقط چند نمونے ہیں، ورنہ اگر تفصیل میں جانا چاہیں تو ان مطالب کے اثبات پر صرف اہل سنت کی کتابوں کے حوالوں کے ساتھ چند جلد کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ قاضی نور اللہ شوشتری نے اپنی کتاب احقاق الحق میں اہل سنت کے 60 بزرگان کے نام لیے ہیں جنہوں نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ آیت مباہلہ کے مصداق اہل بیت کرام (رسول گرامی اسلام، امام علی، امام حسن، امام حسین اور سیدہ فاطمہ علیہم السلام)ہیں۔

انصاف اور عقل رکھنے والے لوگ خود فیصلہ کر لیں۔ ان تمام حقائق کے باوجود اہل بیت کرام کے فضائل سے کوئی جلتا ہے اور مسلمہ فضائل کا انکار کرتا ہے اس کا کوئی علاج نہیں۔


ٹیگس: مباہلہ
+ لکھاری عباس حسینی در 23 Nov 2018 و ساعت 12:17 AM |

اللہ تعالی کی سب سے پہلی مخلوق

 

بعض لوگوں سے اہل بیت کرام علیہم السلام کے فضائل برداشت نہیں ہوتے اور ہر کچھ عرصے بعد ان کے فضائل کو گھٹانے کی خاطر کوئی نیا مطلب گھڑ کر لاتے ہیں۔ آج ایک صاحب نے لکھا کہ "اللہ نے سب سے پہلے میرے نور کو خلق کیا والی حدیث نبوی کا خالق محی الدین ابن عربی گمراہ اور مشرک تھا ۔ اور یہ حدیث جھوٹی ہے" لیکن ان صاحب کو اتنی توفیق نہیں ہوئی کم از کم اپنی بنیادی کتابوں کا ہی مطالعہ کرتے۔۔ یہ حدیث بہت سارے ائمہ سے منقول ہے جسے یہ صاحب جھوٹ کہہ رہا ہے۔

یہاں انتہائی اختصار کے ساتھ اصول کافی کے باب مولد النبی سے صرف ۵ روایتیں پیش کر رہے ہیں جو واضح طور پر بیان کر رہی ہیں کہ اللہ تعالی نے سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ہمارے ائمہ معصومین علیہم السلام کے نور کو خلق کیا۔۔ اس حوالے سے روایات تواتر کی حد تک ہیں۔ ان سب کو یہاں نقل کرنے کا فی الحال وقت نہیں ہے۔  اصول کافی سے چند روایات ملاحظہ ہوں۔

 

۱۔  امام صادق علیہ السلام کی روایت ہے: اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں نے تجھے اور علی علیہ السلام کو نور کی شکل میں پیدا کیا۔ یعنی ایسی روح جو بدن کے بغیر ہے۔ قبل اس کے کہ آسمان، زمین، عرش اور سمندر کی تخلیق ہو۔

أَحْمَدُ بْنُ إِدْرِيسَ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى وَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حَدِيدٍ عَنْ مُرَازِمٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى يَا مُحَمَّدُ إِنِّي خَلَقْتُكَ وَ عَلِيّاً نُوراً يَعْنِي رُوحاً بِلَا بَدَنٍ قَبْلَ أَنْ أَخْلُقَ سَمَاوَاتِي وَ أَرْضِي وَ عَرْشِي وَ بَحْرِي‏. (اصول کافی، ج 1، 440، باب مولد النبی)

 

۲۔ امام باقر علیہ السلام کی روایت ہے کہ اے جابر! اللہ تعالی نے جسے سب سے پہلے خلق کیا وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ہے اور ان کی عترت (آل محمد) ہے۔۔۔

الْحُسَيْنُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ عَنِ الْمُفَضَّلِ عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: قَالَ لِي أَبُو جَعْفَرٍ ع يَا جَابِرُ إِنَّ اللَّهَ أَوَّلَ‏ مَا خَلَقَ‏ خَلَقَ مُحَمَّداً ص وَ عِتْرَتَهُ الْهُدَاةَ الْمُهْتَدِين‏ وَ أَجْرَى فِيهِ مِنْ نُورِهِ الَّذِي نُوِّرَتْ مِنْهُ الْأَنْوَارُ وَ هُوَ النُّورُ الَّذِي خَلَقَ مِنْهُ مُحَمَّداً وَ عَلِيّاً فَلَمْ يَزَالا نُورَيْنِ أَوَّلَيْنِ إِذْ لَا شَيْ‏ءَ كُوِّنَ قَبْلَهُمَا فَلَمْ يَزَالا يَجْرِيَانِ طَاهِرَيْنِ مُطَهَّرَيْنِ فِي الْأَصْلَابِ الطَّاهِرَةِ حَتَّى افْتَرَقَا فِي أَطْهَرِ طَاهِرِينَ فِي عَبْدِ اللَّهِ وَ أَبِي طَالِبٍ ع. (اصول کافی، ج1، ص 442، باب مولد النبی)

 

3. امام باقر علیہ السلام ہی کی روایت ہے کہ اللہ تعالی نے پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کی: میں نے تجھے اس وقت خلق کیا جب کوئی بھی چیز نہیں تھی۔

أَحْمَدُ عَنِ الْحُسَيْنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْفُضَيْلِ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ ع يَقُولُ‏ أَوْحَى اللَّهُ تَعَالَى إِلَى مُحَمَّدٍ ص أَنِّي خَلَقْتُكَ‏ وَ لَمْ تَكُ شَيْئا. (اصول کافی، ج 1، 440، باب مولد النبی)

 

4. امام جواد علیہ السلام کی روایت ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو، علی علیہ السلام کو، فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کو اس وقت خلق کیا جب خدا واحد اور متفرد تھا۔ اس کے بعد ایک مدت گزر گئی، پھر باقی تمام اشیاء کو خلق کیا۔

الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَشْعَرِيُّ عَنْ مُعَلَّى بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي الْفَضْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي جَعْفَرٍ الثَّانِي ع فَأَجْرَيْتُ اخْتِلَافَ الشِّيعَةِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى لَمْ يَزَلْ مُتَفَرِّداً بِوَحْدَانِيَّتِهِ ثُمَّ خَلَقَ مُحَمَّداً وَ عَلِيّاً وَ فَاطِمَةَ فَمَكَثُوا أَلْفَ دَهْرٍ ثُمَّ خَلَقَ جَمِيعَ الْأَشْيَاء. (اصول کافی، ج 1، 441، باب مولد النبی)

5. امام صادق علیہ السلام سے مفضل کی روایت ہے کہ  آپ نے فرمایا: اے مفضل ہم اس وقت بھی اپنے پروردگار کے پاس تھے جب کوئی دوسرا نہ تھا۔ ہم اس پرودگار کی تسبیح کرتے تھے، اس کی تقدیس کرتے تھے، تہلیل کرتے تھے، اس کی تجید کرتے تھے۔ اس وقت ہمارے سوا  نہ کوئی ملک مقرب تھا اور نہ کوئی ذی روح تھا۔ یہاں تک کہ خدا نے ارادہ کیا چیزوں کو خلق کرے، جیسے چاہیے خلق کرے۔ ملائکہ اور دوسری اشیاء کو خلق کرے۔ ان تمام چیزوں کاعلم بھی ہمارے پاس رکھا۔

عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حَمَّادٍ عَنِ الْمُفَضَّلِ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع كَيْفَ كُنْتُمْ حَيْثُ كُنْتُمْ فِي الْأَظِلَّةِ فَقَالَ يَا مُفَضَّلُ كُنَّا عِنْدَ رَبِّنَا لَيْسَ عِنْدَهُ أَحَدٌ غَيْرُنَا فِي ظُلَّةٍ خَضْرَاءَ نُسَبِّحُهُ وَ نُقَدِّسُهُ وَ نُهَلِّلُهُ وَ نُمَجِّدُهُ وَ مَا مِنْ مَلَكٍ مُقَرَّبٍ وَ لَا ذِي رُوحٍ غَيْرُنَا حَتَّى بَدَا لَهُ فِي خَلْقِ الْأَشْيَاءِ فَخَلَقَ مَا شَاءَ كَيْفَ شَاءَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ وَ غَيْرِهِمْ ثُمَّ أَنْهَى عِلْمَ ذَلِكَ إِلَيْنَا. (اصول کافی، ج 1، 441، باب مولد النبی)

+ لکھاری عباس حسینی در 2 Nov 2018 و ساعت 8:29 PM |

کیا امام حسین علیہ السلام کے قاتلین شیعہ تھے؟

کیا امام عالی مقام کو شیعوں نے بلا کر قتل کیا؟

 تحریر: سید عباس حسینی

 

جواب: یہاں ہم ابتدائی طور پر امام عالی مقام کے قتل میں ملوث چار اہم کرداروں  کا تذکرہ کرتے ہیں:

۱۔ یزید جوحاکم وقت تھا، اس  نے امام سے بیعت کا مطالبہ کیا تھا۔ امام نے یزید جیسے فاسق و فاجر کی بیعت سے انکار کیا۔ یزید اور اس کے کارندے امام سے بیعت لینے پر مصر رہے۔ نتیجے میں کربلا کی جنگ ہوئی اور امام عالی مقام شہید ہوئے۔ یزید جو کربلا کی جنگ کا اصلی محرک ہے اس کا مذہب کیا ہے یہ بات سب جانتے ہیں۔

۲۔عبید اللہ  ابن زیاد: جو پہلے بصرے کا گورنر تھا، بعد میں نعمان بن بشیر کی جگہ کوفے کا گورنر بنا۔ اس نے کوفے کے شیعوں کو ڈرا، دھمکا کر اور بعض کو قید میں ڈال کر یزید کی حکومت کوفے میں مستحکم کی۔ اسی کے حکم پر امام حسین علیہ السلام پر ساری سختاں ڈھائی گئیں اور لڑنے کے لیے کربلا فوج بھیجی گئی۔ ابن زیاد بھی بنی امیہ کا کارندہ ہے اور اس کے مذہب کے حوالےسے بھی زیادہ بات کرنے کی ضرورت نہیں۔

ابن زیاد کو یزید کی ہی طرف سے حکم آیا تھا کہ امام حسین علیہ السلام کوفے کی طرف نکلے ہیں لہذا ان کا کام تمام کرو اور انہیں مہلت مت دو۔  یہ بات ذہبی، سیوطی، یعقوبی، ابن عساکر وغیرہ سب نے لکھا ہے کہ حسین بن علی علیہما السلام سے جنگ کرنے، انہیں قتل کرنے اور ان کا سر شام بھیجنے کا حکم یزید کی طرفسے ہی تھا، اور یزید کے والی عبید اللہ نے یزید کے اس حکم کی تعمیل کی ہے ۔

3، 4۔ عمر بن سعد اور شمر بن ذی الجوشن: عمر بن سعد کو  ابن زیاد نے فوج کا سپہ سالار بنا کر کربلا روانہ کیا۔ بعد میں شمر کو بھیجا گیا کہ عمر بن سعد اگر کمزوری دکھائے تو تم سپہ سالار ہو۔ عمر بن سعد، سعد بن ابی وقاص کا بیٹا ہے۔ اس کا مذہب بھی واضح ہے کہ کوفے کے شیعوں اور اہل بیت کے چاہنے والوں میں اس کا شمار ہرگز نہ ہوتا تھا۔ شمر بن ذی الجوشن کا شمار بھی اہل بیت کے دشمنوں میں ہوتا تھا۔

 

کوفہ کے لوگوں نے امام کو خط لکھ کر بلایا تھا۔ یہ بات درست ہے۔ لیکن یہاں چند باتیں قابل توجہ ہیں۔

۱۔ حقیقی شیعہ وہ ہے جو اپنے امام کا تابعدار ہو۔ حقیقی محب وہ ہے جو اپنےامام سے محبت کرے۔ جو اپنے امام سے جنگ کرے اور مقابلے میں آئے وہ کیسے شیعہ ہو سکتے ہیں؟ شیعہ تو نام ہی پیروی اور اتباع  کرنے والے کا ہے۔ پس جو لوگ امام عالی مقام کے مقابلے میں آئے وہ در حقیقت شیعہ نہیں تھے۔

یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ کہیں حضرت رسول خداﷺ کو مدینے میں اذیت دینے  والے بعض صحابہ تھے۔ نہیں وہ منافقین تھے، جو صحابہ کے لباس میں تھے۔ کوئی جسے رسول مانتا ہو، خدا کا نمائندہ مانتا ہو، واجب الاطاعہ مانتا ہو اس کو کیسے اذیت دے سکتا ہے؟ کربلا میں امام عالی مقام کے مقابلے میں بھی ایسے ہی منافقین تھے۔

۲۔ ابتدا میں  کوفہ کے بہت  سارے لوگوں نے امام حسین علیہ السلام کی بیعت کی۔ لیکن کیا بیعت کرنے کا مطلب شیعہ ہونا ہے؟ اگر یہ بات ٹھیک ہو تو ان تمام لوگوں کو شیعہ مان لینا چاہیے جنہوں نے امام علی علیہ السلام کی بیعت کی تھی۔ پس اس لحاظ سے طلحہ، و زبیر و دیگر تمام لوگ شیعہ ہوئے۔ حالانکہ اس بات کو کوئی نہیں مانتا۔

۳۔ معاویہ بن ابی سفیان جب تخت حکومت پر آیا ہے اس نے شیعیان علی علییہ السلام کی ہر جگہ نسل کشی کی ہے۔ کوفہ چونکہ اس وقت شیعوں کا مرکز تھا، لہذا زیاد بن ابیہ کی خصوصی ڈیوٹی لگائی گئی۔ بہت ساروں کو قتل کیا گیا، اور بہت سارے ہجرت پر مجبور ہو گئے۔ معاویہ کے 20 سالہ دورِ حکومت کے بعد کوفہ میں ویسے بھی شیعوں کی تعداد انتہائی کم رہ گئی تھی اور بنی امیہ کے حامیوں کو یہاں بسایا گیا تھا۔ اس بات پر بہترین شاہد امام حسین علیہ السلام کا  روز عاشورہ دیا گیا وہ خطبہ ہے جس میں آپ اپنے دشمنوں کو ابو سفیان کے شیعہ کہہ کر خطاب کرتے ہیں اور فرماتے ہیں:ويحكم يا شيعةآ ل أبي سفيان! إن لم يكن لكم دين، وكنتم لا تخافون المعاد، فكونوا أحراراً في دنياكم هذه۔

اسی طرح سے کربلا میں لڑنے والے بعض سپاہیوں سے جب امام حسین علیہ السلام نے پوچھا کہ تم اتنے سارے مظالم کیوں کر رہے ہو تو ان کا جواب یہی تھا کہ تم سے اور تمہارے بابا سے ہماری دشمنی ہے۔ نقاتلك بغضاً لأبيك۔

جو شخص امام حسین علیہ السلام اور امام علی علیہ السلام سے بغض رکھتا ہو کیا وہ شیعہ ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔

ان تمام حقائق کے باوجود جو لوگ قاتلین امام حسین علیہ السلام کے شیعہ ہونے پر اصرار کرتے ہیں ہم ان سے کہیں گے وہ یزید سے بھی زیادہ یزیدی بننے کی کوشش مت کریں۔ کیونکہ یزید نے بھی کبھی یہ نہیں کہا تھا کہ امام حسین علیہ السلام کو ان کے شیعوں نے قتل کیا ہے اور میرا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ بلکہ یزید نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے یہ کہا تھا کہ اسے عبید اللہ بن زیاد نے قتل کیا ہے ۔ پھر بھی اگر کوئی اصرار کرتا ہے تو ہم ان سے کہتے ہیں کہ آئیے۔۔ کسی کا نام لینے کی ضرورت نہیں۔۔ سب مل کر قاتلین امام حسین علیہ السلام سے اظہار برائت کرتے ہیں، ان پر لعنت بھیجتے ہیں۔ جس جس کا بھی امام عالی مقام کے قتل میں جو بھی حصہ ہے، چاہے اس نے بیعت لینے کا حکم دیا ہو، چاہے اس نے کربلا کی طرف فوج  کو روانہ کیا ہو، چاہے اس نے سپہ سالاری کی ہو، چاہے اس نے نیزوں، تیروں اور تلواروں سے جنگ کی ہو۔۔ سب پر اللہ کی، اس کے رسول کی اورتمام لوگوں کی تا قیامت لعنت ہو۔ آمین۔

 


ٹیگس: امام حسین, شیعہ
+ لکھاری عباس حسینی در 27 Oct 2018 و ساعت 10:42 PM |

معاویہ کا علی علیہ السلام پر سب و شتم: صحاح کی روایات

 ترجمہ و تحقیق: عباس حسینی

 

معاویہ بن ابی سفیان، مولا علی علیہ السلام سے بغض رکھتا تھا۔معاویہ کا باپ ابو سفیان رسول خداﷺ سے جنگیں لڑتا رہا، معاویہ خود مولا علی سے جنگ لڑتا رہا ، جبکہ اس کے بیٹے یزید نے رسول خداﷺ کے نواسے اور آپ کے بیٹے امام حسین علیہ السلام سے جنگ لڑی۔

 معاویہ وہ شخص ہے جس نے آپ کی بیعت سے انکار کیا اور شام میں اپنی الگ سے حکومت بنا لی، جبکہ تمام بڑے صحابہ ، مکہ و مدینہ، کوفہ وبصرہ کے لوگ مولا علی علیہ السلام کی بیعت کر چکے تھے۔ جب مولا علی علیہ السلام نے معاویہ کو شام کی گورنری سے معزول کیا تو اس نے آپ کا حکم ماننے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ الٹا آپ کے خلاف لڑنے کے لیے لشکر تیار کیا، جس کے نتیجے میں جنگ صفین واقع ہوئی جو کہ تاریخ اسلام کا ایک دردناک باب ہے۔

معاویہ کے حکم پر شام کی مسجدوں میں نمازوں کے بعد، اور منبروں سے جمعے کے خطبوں میں مولا علی علیہ السلام پر لعن طعن اور سب و شتم  کا خصوصی آرڈر جاری ہوا تھا جس کے تحت درباری خطیب حضرات تقریبا 60 سالوں تک شام کے منبروں سے آپ پر لعن کرتے رہے۔ یہاں تک کہ سن 99 ہجری میں عمر بن عبد العزیز کی حکومت آئی اور ان کے حکم پر یہ سلسلہ ختم ہوا۔

یہاں ہم  اہل سنت کی معتبر ترین کتابوں سےچند روایات پیش کرتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان اور اس کے کارندے نہ صرف خود امام علی علیہ السلام پر سب و شتم اور لعن کرتے رہے بلکہ دوسروں کو بھی وقتا فوقتا آپ پر لعن کرنے اور سب و شتم کرنے پر اکساتے رہے۔ تاریخ  اور تراجم کی کتابیں ان کے علاوہ ہیں جن سے بھی یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوتی ہے۔

 

پہلی روایت: معاویہ کا سعدبن ابی وقاص کو مولا علی علیہ السلام پر لعن کے لیے ابھارنا۔

صحیح مسلم کی روایت ہے کہ : معاویہ بن ابی سفیان نے سعد بن ابی وقاص کو حکم دیا  اور کہا: تمہیں کس چیز نے روکا ہے کہ تم ابوتراب(علی علیہ السلام) کو سب کرو۔ (گالی دو۔) سعد نے کہا:علی کے متعلق رسول خدا ﷺ نے تین ایسی باتیں (خصوصیات) کہی ہیں کہ جن کی بنا پر میں ان کو گالی نہیں دیتا۔ ان باتوں میں سے کوئی ایک مجھ میں ہو  مجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔۔۔

(صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، باب فضائل علی بن ابی طالب۔ سنن ترمذی، کتاب المناقب)

عربی عبارت : (أمر معاوية بن أبي سفيان سعدا فقال ما منعك أن تسب أبا التراب فقال أما ما ذكرت ثلاثا قالهن له رسول الله صلى الله عليه وسلم فلن أسبه لأن تكون لي واحدة منهن أحب إلي من حمر النعم)

 

دوسری روایت: معاویہ کو علی علیہ السلام کو سب کرنا

معاویہ ایک دفعہ حج پر آیا۔ سعد بن ابی وقاص اس کے پاس آیا۔ علی علیہ السلام کا تذکرہ آیا۔ معاویہ نے علی کو گالی دی۔سعد کو غصہ آیا اور کہا: تم ایک ایسے شخص کے بارے میں ایسا کہہ رہے ہو جس کے بارے میں، میں نے رسول خداﷺ سے کہتے ہوئے سنا ہے جس جس کا میں مولا ہوں اس اس کے علی مولا ہیں، اور میں نے رسول خدا کو کہتے ہوئے سنا ہے (یا علی) تمہیں مجھ سے  وہی منزلت ہے جو ہارون کو موسی سے تھی۔ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اور میں نے رسول خدا کو کہتےسنا ہے: میں کل پرچم اس مرد کو دوں گا جو خدا اور رسول سے محبت کرتا ہے۔

(سنن ابن ماجہ، کتاب المقدمہ، ابواب فضائل اصحاب الرسول، باب فضل علی بن ابی طالب)

عربی عبارت: (قدم معاوية في بعض حجاته فدخل عليه سعد فذكروا عليا فنال منه فغضب سعد وقال تقول هذا لرجل سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من كنت مولاه فعلي مولاه وسمعته يقول أنت مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي وسمعته يقول لأعطين الراية اليوم رجلا يحب الله ورسوله )

حاشیہ میں لکھا ہے: (قوله : ( فنال منه ) أي نال معاوية من علي ووقع فيه وسبه بل أمر سعدا بالسب كما : قيل في مسلم والترمذي)

 

تیسری روایت:  بنی امیہ کے گورنر کا علی علیہ السلام کو گالی دینے اور لعن کرنے کا حکم

آل مروان میں سے ایک شخص مدینے کا گورنر تھا۔اس نے سہل بن سعد کو بلایا اوراسے حکم دیا کہ علی علیہ السلام کو گالی دیں۔ سہل نے انکار کیا۔ اس نے کہا: اگر یہ نہیں کر سکتے تو یہ کہو: خدا ابو تراب(علی) پر لعنت کرے۔ سہل نے کہا: علی کے نزدیک ابوتراب سے زیادہ محبوب کوئی اور نام نہیں تھا۔۔۔

(صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، باب فضائل علی بن ابی طالب)

عربی عبارت: (استعمل على المدينة رجل من آل مروان قال فدعا سهل بن سعد فأمره أن يشتم عليا قال فأبى سهل فقال له أما إذ أبيت فقل لعن الله أبا التراب فقال سهل ما كان لعلي اسم أحب إليه من أبي التراب)

 

چوتھی روایت: معاویہ کے والی مغیرہ  بن شعبہ کا امام علی علیہ السلام پر منبروں سے لعن کا حکم

جب معاویہ کوفہ سے نکلا، مغیرہ بن شعبہ کو وہاں کا والی بنایا۔ اس نے مختلف خطیبوں کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ علی علیہ السلام  پر لعن کریں۔ (راوی کہتا ہے) اس وقت میں سعیدبن زید بن عمرو کے پاس تھا۔ وہ اس بات پر غضبناک ہوئے اور کھڑے ہوئے۔ میرا ہاتھ پکڑا اور میں ان کے پیچھے چلا۔ انہوں نے پھر کہا: تم اس ظالم شخص کو نہیں دیکھ رہے جو ایک ایسے شخص پر لعن کا حکم دے رہا ہے جو جنتی ہیں۔

(مسند احمد بن حنبل، حدیث نمبر 1629، 1631، 1637، 1638)

عربی عبارت: (لمّا خرج معاوية من الكوفة استعمل المغيرة بن شعبة، قال: فاقام خطباء يقعون في علي. قال: وأنا إلي جنب سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل. قال: فغضب فقام فأخذ بيدي فتبعته فقال: ألا تري إلي هذا الرجل الظالم لنفسه الذي يأمر بلعن رجل من ا هل الجنّة؟..)

 

پانچویں روایت: مسجد کوفہ سے علی علیہ السلام پر سب و شتم

ریاح بن حارث روایت کرتے ہیں: میں فلان کے پاس مسجد کوفہ میں بیٹھا ہوا تھا۔ کوفہ کے لوگ بھی وہاں بیٹھے  تھے۔ ۔۔ پھر اہل کوفہ میں سے ایک شخص جس کا نام قیس بن علقمہ تھا،  اس (فلان) کے پاس آیا۔اس(فلان) نے قیس کا استقبال کیا اور پھر گالیاں دینا شروع کیا۔ گالی دی پھر اور گالی دی۔ سعید نے پوچھا: یہ کس شخص کو گالی دے رہا ہے؟  تو اس نے کہا: علی علیہ السلام کو گالی دے رہا ہے۔سعید نے کہا: میں دیکھ رہا ہوں کہ رسول خدا ﷺکے اصحاب کو تمہارے سامنے گالی دی جارہی ہے اور تم نہ انکار کر رہے ہو اور نہ ہی کچھ کہہ رہے ہو۔۔؟!

(سنن ابی داود، کتاب السنہ، باب فی الخلفاء، حدیث 4650)

عربی عبارت: (رياح بن الحارث قال: كنت قاعدا عند فلان في مسجد كوفه وعنده اهل الكوفه فجاء سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل فر حبّ به وحيّاه واقعده عند رجله علي السرير، فجاء رجل من اهل الكوفة يقال له قيس بن علقمة فاستقبله فسبّ وسبّ. فقال سعيد: من يسبّ هذا الرجل ؟ قال: يسبّ عليّا. قال: الا اري أصحاب رسول اللّه صلی الله‏ عليه‏ و‏سلم يسبّون عندك ثمّ لا تنكر ولا تغير؟)

 

ان تمام روایات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان کے حکم پر شام کے علاوہ دوسرے مختلف شہروں میں بھی  بنی امیہ کے گورنرز اور نمائندوں کی زیر نگرانی علی بن ابی طالب علیہما السلام پر سب و شتم اور لعن  کا سلسلہ اوج پر تھا۔ جیسے اوپر والی ایک روایت کے مطابق کوفہ شہر میں جبکہ دوسری کے مطابق مکہ شہر تک  یہ سلسلہ پہنچا تھا۔ اور یہ سب ایک مخصوص پلاننگ کے تحت ہو رہا تھا۔

ان تمام روایات کی موجودگی میں اہل علم حضرات سے صرف اتنی گزارش ہے کہ بغیر کسی تعصب کے،  اپنی عقل اور ضمیر کے مطابق خود فیصلہ کریں۔ جو لوگ صحابہ کی عزت وحرمت کی قسمیں کھاتے ہیں، کیا ان کے نزدیک علی بن ابی طالب علیہما السلام صحابہ میں سے نہیں؟ کیا آپ کا شمار خلفاء میں نہیں ہوتا؟ کیا خلیفہ رسول کوسب و شتم اور لعن کرنے والا کسی صورت قابلِ احترام ہو سکتا ہے؟

جبکہ صحیح مسلم ہی کی روایت کے مطابق " مومن کو سب و شتم کرنا فسق( فجور) ہے اور مومن سے جنگ کرنا کفر ہے۔" (سِبَابُ الْمُؤْمِنِ فُسُوقٌ وَ قِتَالُهُ كُفْرٌ)

معاویہ بن ابی سفیان نے امام علی السلام سے جنگ بھی کی اور آپ علیہ السلام پر سب و شتم کا سلسلہ بھی شروع کیا۔

فیصلہ آپ کے ضمیر پر۔۔۔!


ٹیگس: معاویہ بن ابی سفیان, صحابہ
+ لکھاری عباس حسینی در 26 Sep 2018 و ساعت 9:5 PM |

قرآن عربی زبان میں کیوں نازل کیا گیا؟

 

ہم سب جانتے ہیں کہ قرآن مجید کو اللہ تعالی نے عربی زبان میں نازل کیا ہے۔ خود قرآن بھی اس بات کی تاکید کرتا ہے کہ اس کی زبان عربی مبین ہے۔ (نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِينٍ)۔ قرآن کا عربی ہونے سے مراد کیا ہے؟اور  اس میں کیا راز ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے اس کلام کے لیے عربی زبان کو ہی اختیار کیا ہے؟  

 

قرآن کا عربی ہونے سے مراد:

اس حوالے سے مختلف آیتیں آئی ہیں۔ بعض میں کہا گیا ہے کہ قرآن کو عربی زبان میں لکھا گیا ہے  یا نازل کیا گیا ہے۔(إِنَّا أَنْزَلْناهُ قُرْآناً عَرَبِيًّا)۔

دوسری بعض آیات میں اس بات پر تاکید کی گئی ہے کہ اس کی زبان عجمی نہیں ہے۔(وَ لَوْ جَعَلْناهُ قُرْآناً أَعْجَمِيًّا لَقالُوا لَوْ لا فُصِّلَتْ آياتُهُ)

اب یہاں عربی اور عجمی سے کیا مراد ہے؟ دو احتمال مطرح ہیں۔ عربی سے مراد یا عربی زبان ہے یا وہ شخص ہے جس کی زبان عربی ہے اور عجمی سے مراد غیر عربی زبان یا شخص ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ عربی سے مراد فصیح کلام یا شخص ہے اور عجمی سے مراد غیر فصیح کلام یا شخص۔پس اس دوسرے احتمال کے مطابق قرآن کو عربی میں نازل کرنے سے مراد یہ ہے کہ فصاحت و بلاغت کے ساتھ نازل کیا ہے۔

بعض دیگر آیات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ اللہ تعالی نے ہر رسول کو اس کی قوم کی زبان کے ساتھ بھیجا ہے۔(وَما أَرْسَلْنا مِنْ رَسُولٍ إِلاَّ بِلِسانِ‏ قَوْمِهِ‏ لِيُبَيِّنَ لَهُم‏) یہاں اس بات کی بھی تاکید کی گئی ہے کہ قرآن کو پیامبر اکرمﷺ کی زبان کے ذریعے آسان بنا دیا گیا ہے۔

 

قرآن کی زبان عربی کیوں؟

پیامبر اکرم ﷺکی اپنی زبان عربی تھی اور جس قوم میں آپ مبعوث ہوئے اس کی زبان بھی عربی تھی۔ لہذا یہ فطری سی بات ہے کہ اس کتاب نے سب سے پہلے جن سے خطاب کرنا ہے انہی کی زبان میں نازل ہو۔ ہر خطیب اور مبلغ اپنے مخاطب کی زبان میں اپنے مطالب بیان کرتا ہے تاکہ وہ لوگ اس کی باتوں  کو سمجھ سکیں۔ اللہ تعالی نے بھی اپنے رسولوں اور کتابوں کو بھیجتے وقت اس بات کا لحاظ رکھا ہے اور ہر رسول کو اس کی قوم کی زبان کے ساتھ بھیجا ہے۔(وَما أَرْسَلْنا مِنْ رَسُولٍ إِلاَّ بِلِسانِ‏ قَوْمِهِ‏ لِيُبَيِّنَ لَهُم‏) اس آیت سے یہ بات واضح ہوتی ہے  کہ جب رسولوں کا کام لوگوں کی ہدایت ہے تو جو پیغام وہ دے رہے ہیں وہ ایسا ہونا چاہیے جو لوگوں کو سمجھ آئے۔ اس حوالے سے پہلے مرحلے میں ضروری ہے کہ وہ پیغام اس قوم کی زبان میں ہو۔ اور پھر یہ بھی ضروری ہے کہ وہ پیغام مخاطب کے ذہنی اور تہذیبی سطح کے مطابق ہو۔ اسی لیے اکثر انبیاء کو جو معجزے عطا ہوئے ان میں بھی معاشرے کی استعداد،وہاں رائج تہذیب و تمدن اور عصری علوم وغیرہ سے مناسبت مد نظر رکھی گئی ہے۔

پس اگر قرآن عربی کے علاوہ کسی اور زبان میں نازل ہوتا تب یہ سوال پیداہوتا کہ قرآن اس زبان میں کیوں نازل ہوا؟ جبکہ اس کے سب سے پہلے مخاطب  کی زبان اور جس معاشرے  میں نازل ہوا ہے اس کی زبان عربی ہے۔پس یہ طبیعی اور فطری بات ہے کہ قرآن کی زبان عربی ہی ہونی چاہیے تھی۔ جس طرح سے پہلے والی آسمانی کتابوں میں اس بات کا خیال رکھا گیا تھا کہ ان معاشروں کے مطابق ان کی زبان ہو۔

پیامبر اکرمﷺ عرب قوم کے درمیان مبعوث ہوئے اور آپ کی دعوت اور تبلیغ کی ابتدا بھی عربوں سے ہی ہوئی۔ پس ضروری تھا وہ لوگ آپ کی بات اور پیغام کو سمجھ لیتے۔ اگرچہ آپ کی دعوت اور تبلیغ عربوں کے ساتھ خاص نہیں تھی۔ (لیکن وہ اگلا مرحلہ تھا۔)

پھر قرآن کے عربی میں نازل ہونے کی ایک اور اہم وجہ اس کا معجزہ ہونا اور لوگوں کو اس کے مقابلے کی دعوت دینا ہے۔ اگر قرآن کی زبان عربی نہ ہوتی، تب کیسے اس عرب معاشرے میں بسنے والوں سے مطالبہ کیا جا سکتا تھا کہ اگر قرآن کو حق نہیں مانتے تو اس جیسی کوئی کتاب لاو۔ ایسی صورت میں وہ لوگ ضرور کہتے کہ آپ کا پیغام کسی اور زبان میں ہے اور ہم اسے سمجھتے ہی نہیں، کیسے ممکن ہے اس کی  نظیر لائیں؟ پس قرآن کا مقابلے کی دعوت دینے  کے لیے ضروری ہے کہ اس کی زبان وہی ہو جو اس معاشرے کی ہے تاکہ وہ لوگ اس پیغام کو سمجھیں اور حق اور حقیقت ان کے سامنے کھل جائیں۔ اس طرح سے رسول کی حقانیت لوگوں پر ثابت ہوجاتی ہے۔

اس بنیادی مطلب کے علاوہ قرآن مجید نے اپنے عربی ہونی کی چنددیگر  وجوہات بیان کی ہے۔

۱۔ مخالفین کو بہانہ بنانے سے روکنا

اگر قرآن کسی اور زبان میں ہوتا تب وہ لوگ بہانہ کرتے اور کہتے ہمیں اس کی سمجھ نہیں آتی۔پس ہمارے لیے اس پر ایمان لانا ممکن نہیں۔(وَ لَوْ جَعَلْناهُ قُرْآناً أَعْجَمِيًّا لَقالُوا لَوْ لا فُصِّلَتْ آياتُه‏) اللہ تعالی نے ان کی اپنی زبان میں قرآن  نازل کر کے ان سے یہ بہانہ چھین لیا۔

۲۔ عربوں کے لیے قرآن کو قبول کرنا آسان ہو

اگر قرآن کسی اور زبان میں ہوتا یا کسی عجمی شخص پر نازل ہوتا تب عرب لوگ اپنے تعصب اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے  اس پر کبھی بھی ایمان نہ لاتے۔ (وَ لَوْ نَزَّلْناهُ عَلى‏ بَعْضِ الْأَعْجَمين‏ فَقَرَأَهُ‏ عَلَيْهِمْ ما كانُوا بِهِ مُؤْمِنين‏)اللہ تعالی نے قرآن کو عربی زبان میں نازل کر کے ان کے لیے اسے قبول  آسان بنا دیا۔

۳۔ مخالفین کی تہمتوں کا رد

مخالفین یہ پروپیگنڈا کرتے تھے کہ قرآن خدا کی طرف سے نازل نہیں ہوا، بلکہ پیامبر اکرامﷺ کسی عام انسان کی باتوں کو نقل کرتے ہیں۔ اس حوالے سے اکثر  بعض عجمی لوگوں کے نام لیتے تھے جو مکہ میں رہائش پذیر تھے جیسے حضرت سلمان وغیرہ۔ اللہ تعالی ان کی اس تہمت کو رد  کرتے ہوئے فرما رہا ہے کہ ان کی زبان عربی ہے جبکہ پیامبر اور قرآن کی زبان عربی ہے۔ پس ایسا ممکن نہیں ہے کہ ایک عجمی سے اس قدر فصیح و بلیغ عربی کتاب صادر ہو۔ (وَ لَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّما يُعَلِّمُهُ بَشَرٌ لِسانُ الَّذِي يُلْحِدُونَ‏ إِلَيْهِ أَعْجَمِيٌّ وَ هذا لِسانٌ عَرَبِيٌّ مُبِين‏)

خلاصہ کلام یہ کہ قرآن کا عربی میں نازل ہونا ایک طبیعی سی بات ہے۔ ساتھ میں قرآن نے جو مقابلے کی دعوت دی ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے قرآن کا عربی زبان میں ہونے کی ضرورت مزید واضح ہوجاتی ہے۔ اور اگر قرآن کسی اور زبان میں یا کسی غیر عرب شخص پر نازل ہوتا تب اس وقت کے لوگوں کے لیے وہ کلام مبہم ہوتا اور ان کو بہانہ مل جاتا ۔اور اس طرح قرآن کو قبول کرنے سے وہ لو گ دور بھاگتے اور ان پر حجت تمام نہ ہوتی۔

 

 (استفادہ از استاد مصباح یزدی، کتاب "قرآن شناسی"، تلخیص و ترجمہ: سید عباس حسینی)


ٹیگس: مصباح یزدی
+ لکھاری عباس حسینی در 21 May 2018 و ساعت 2:49 PM |

 

امیر مختار ائمہ (علیھم السلام) کی نگاہ میں

A Glance on Ameer Mukhtaar,s Life 

تحریر: سید عباس حسینی

حضرت امیر مختار (مختار بن ابی عبید ثقفی) کی شخصیت کے حوالے سے بعض ضعیف روایات کا سہارا لے کر کچھ لوگ شکوک وشبہات کا شکار ہوئے ہیں۔حالانکہ ان کی شخصیت کی عظمت کے لیے یہی کافی ہے کہ انہوں نے شہدائے کربلا کے قاتلین سے انتقام لے کر اہل بیت اطهار علیھم السلام کے گھروں میں خوشی کا سامان فراہم کیا تھا۔

ہم یہاں امیرمختار کی شخصیت کے حوالے سے وارد احادیث کے حوالے سے کچھ عرائض پیش کرتے ہیں۔

روایات میں امیر مختار کی تعریف:

سید خوئی فرماتےہیں : مختار کی تعریف میں وارد روایات متضافر ہیں۔ (متضافر، خبر واحد اور متواتر کے درمیان والی صورت ہے۔)

  • اصبغ بن نباتہ سے روایت ہے فرمایا: میں نے مختار کو امیر المومنین علیہ السلام  کی گود میں دیکھا کہ آپ حضرت اپنے مبارک ہاتھ اس کے سر پر پھیررہے تھے اور فرما رہے تھے:"يَا كَيِّسُ يَا كَيِّسُ." اے زیرک اے زیرک۔ (بحار، ج 45، ص 344، 351، رجال کشی، ص 127)

امیرالمومنین علیہ السلام جو علم و حکمت کے پوشیدہ اسرار سے آگاہی رکھتے تھے  یقینا آئندہ کے لحاظ سے سارا نقشہ دیکھ کر ہی آپ مختار کی  مدح فرما رہے تھے۔

  • بحار میں رجال کشی سے نقل ہوا ہے کہ مختار نے امام زین العابدین علیہ السلام کی خدمت میں بیس ہزار دینار بھیجے، جنہیں امام نے قبول فرمایا اور انہی پیسوں سے عقیل اور بنی ہاشم کے باقی افراد کے وہ گھر جو یزید کی فوج کے ہاتھوں تباہ ہوئے تھے، ان کی مرمت کی۔(بحار، ج 45، ص 344، رجال کشی، ص 128)
  • جارود بن منذر امام صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں: کسی بھی ہاشمی عورت نے بالوں میں کنگھی کی اور نہ ہی خضاب لگایا، یہاں تک کہ مختار نے امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں کے سر بھیجے-(پھر اس کے بعد ہاشمیات نے یہ کام شروع کیے۔) (بحار، ج 45، ص 344، رجال کشی، ص 127، رجال ابن داود، ص 513)(سید خوئی کے مطابق یہ روایت صحیح ہے۔)
  • سدیر نے امام باقر علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے: مختار کو گالی مت دو۔ مختار وہ ہیں جنہوں نے ہمارے قاتلوں کو قتل کیا۔ ہمارا بدلہ لیا۔  ہماری بیواوں کی شادیاں کرائیں اور مشکل حالات میں ہماری مالی مدد کی۔(بحار، ج 45، ص 343، ص 351، رجال کشی، ص 125، رجال ابن داود، ص 513، رجال علامہ حلی، ص 168)
  • عبد اللہ بن شریک روایت کرتے ہیں کہ میں عید الاضحی کے دن امام باقر علیہ السلام کے پاس بیٹھا تھا۔ امام تکیہ لگا کر بیٹھے تھے۔ اتنے میں کوفے کا ایک شخص آیا اور حضرت کے ہاتھ کا بوسہ لینا چاہا۔ حضرت نے منع کر دیا۔ پھر اس سے پوچھا: تم کون ہو؟ اس نے کہا میں مختار کا بیٹا ابو محمد حکم ہوں۔ امام نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا، (یہاں تک کہ قریب تھا) امام اسے اپنی گود میں بٹھا دیں۔ مختار کے بیٹے نے امام کے سامنے شکایت کی: لوگ میرے والد کے بارے طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ امام نے پوچھا: مثلا کیا کہتے ہیں: کہا: کہتے ہیں: مختار جھوٹا تھا۔ امام نے فرمایا: سبحان اللہ۔ میرے بابا نے مجھے بتایا۔ خدا کی قسم میری ماں کا حق مہر مختار نے بھیجا تھا۔ کیا مختار نے ہمارے گھروں کی تعمیر نہیں کی؟ ہمارے قاتلوں کو نہیں مارا؟ ہمارے خون کا بدلہ نہیں لیا؟خدا مختار پر اپنی رحمت نازل کرے۔ خدا کی قسم میرے والد نے مجھے بتایا مختار فاطمہ دختر علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے پاس آکر ان کے لیے بستر فراہم کرتے تھے، اور ان کے لیے تکیہ بچھاتے تھے اور پھر ان سے احادیث نقل کرتے تھے۔ خدا تمہارے والد پر رحم کرے۔ خدا تمہارے والد پر رحم کرے۔(بحار، ج 45، ص 343)
  • جس وقت مختار نے ابن زیاد کا سر امام زین العابدین علیہ السلام کی طرف بھیجا ہے ، امام علیہ السلام فورا سجدے میں گر پڑے اور فرمایا: خدا کا شکر، جس نے میرے دشمنوں سے میرا بدلہ لے لیا۔ خدا مختار کو جزائے خیر عطا کرے۔(بحار، ج 45، ص 386، رجال کشی، ص 127)

اس حوالے سے روایات اور بھی زیادہ ہیں لیکن فی الحال ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔

مختار کی مذمت میں وارد شدہ روایات:

  • حبیب خثعمی نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے: مختار امام زین العابدین علیہ السلام پر جھوٹ باندھتا تھا۔
  • یونس بن یعقوب نے امام باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے:مختار نے امام زین العابدین علیہ السلام کی خدمت میں کچھ تحفے بھیجے جنہیں امام نے یہ کہہ کر قبول کرنے سے انکار کیا کہ ہم جھوٹوں کے تحفے قبول نہیں کرتے۔
  • ایک اور روایت میں امام زین العابدین علیہ السلام کی طرف سے مختار کے چالیس ہزار درہم قبول نہ کرنے کی بات نقل ہوئی ہے۔ اور یہ بات بھی کی گئی ہے که مختار نے لوگوں کو امام زین العابدین علیہ السلام کی بجائے محمد بن حنفیہ کی طرف بلایا اور اس فرقے کا نام کیسانیہ رکھا۔

ان روایات کا جواب:

  • سید خوئی کے مطابق یہ ساری روایات سند کے لحاظ سے انتہائی ضعیف ہیں۔ خصوصا دوسری روایت میں کچھ باتیں ایسی ہیں جو آپس میں ٹکرا  رہی ہیں۔
  • بالفرض اگر یہ روایات درست ہوں تو ان کی حیثیت وہی ہے جو ان روایات کی هے جن میں زرارہ، محمد بن مسلم، برید اور ان جیسے اصحاب کی بھی مذمت کی گئی ہے۔ (معجم رجال الحدیث، سید خوئی، ج 19، ص 105)
  • ایک اور بات جو مختار کے حوالے سے کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ جب امام حسن جنگ میں زخمی ہو کر مدائن میں مختار کے چچا سعد بن ابی عبیدہ مسعود کے پاس آئے تو مختار نے ان سے کہا: اےچچا! کیوں نہ ہم حسن کو معاویہ کے حوالے کر دیں، تاکہ عراق ہمارے قبضے میں آئے؟ان کے چچا نے ایسا کرنے سے انکار کیا۔

سید خوئی کے مطابق یہ روایت چونکہ مرسلہ ہے لہذا اس پر اعتماد نہیں کر سکتے۔ بالفرض اگر درست بھی ہو تو اس حوالے سے کہہ سکتے ہیں کہ مختار اپنی بات میں جدی نہیں تھے، بلکہ اس ذریعے سے اپنے چچا کا امتحان لے رہے تھے تاکہ  ان کی رائے معلوم ہو سکے اور اس طرح امام حسن علیہ السلام کی جان ہر خطرے سے بچی رہے۔ پس ان کا یہ سوال امام حسن علیہ السلام کی حفاظت کی خاطر تھا۔

 

اس حوالے سے چار اہم نکات:

پہلا نکتہ:

علامہ مجلسی نے بحار میں جعفر بن نما سے نقل کیا ہے: بہت سارے علماء  روایات کے حوالے سے زیادہ علم نہیں رکھتے (اور مختار کے حوالے سے باتیں کرتے ہیں۔) جبکہ اگر اس حوالے سے ائمہ کے اقوال کا جائزہ لیا جائے تو ان کی تعریف ہوئی ہے اور مختار سابقین اور مجاہدین میں سے ہیں جن کی تعریف اللہ تعالی نے قرآن مجید میں کی ہے۔ مختار کے لیے امام زین العابدین علیہ السلام کی دعا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ چنے ہوئے خاص افراد میں سے تھے۔اگر مختار کا راستہ غلط ہوتا یا اس کا عقیدہ منحرف ہوتا تو کیسے امام اس کے حق میں دعا فرماتے؟ امام کی یہ دعا ایک لحاظ سے لغو کام شمار ہوتی جو کہ بعید ہے۔ ائمہ کے اقوال میں مختار کی مدح اور تعریف کا تکرار ہوا ہے اور ان کی مذمت سے منع کیا گیا ہے۔(بحار ، ج 45، ص 386، 387)

دوسرا نکتہ:

بعض علماء قائل ہوئے ہیں مختار کا عقیدہ ٹھیک نہیں تھا۔لہذا وہ جہنم میں جائے گا ، لیکن چونکہ اس نے امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں کو واصل جہنم کیا ہے لہذا آپ علیہ السلام کی شفاعت سے وہاں سے نکل کر جنت میں آئے گا۔ اس حوالے سے انہوں نے کتاب تہذیب اور  سرائر میں منقول دو روایتوں کا سہارا لیا ہے۔

سید خوئی فرماتے ہیں دونوں روایتیں ضعیف ہیں چونکہ تہذیب کی روایت ایک تو مرسلہ ہے، اور دوسرا یہ کہ اس کے راویوں میں سے ایک امیہ بن علی القیسی ہیں۔ جبکہ سرائر کی روایت کے راویوں میں جعفر بن ابراہیم خضرمی ہیں جن کی وثاقت نقل نہیں ہوئی۔ اور پھر ابان کا جعفر سے نقل، اور ان کا زرعہ سے نقل کرنا انتہائی نا معقول بات ہے۔

سید خوئی فرماتے ہیں:

 مختار کی مذمت میں آئی تمام روایتیں سند کے لحاظ سے اشکال رکھتی ہیں۔ اور بالفرض درست بھی ہوں تو تقیہ پر حمل کر سکتے ہیں۔ مختار کی مدح اور ان کی تعریف کے لیے یہی کافی ہے کہ انھوں نے امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں سے بدلہ لے کر اہل بیت علیھم السلام کے دلوں میں خوشی لوٹا دی۔ یقینا یہ ایک عظیم خدمت ہے جس کے لیے مختار اہل بیت علیھم السلام کی طرف سے بہترین جزا کے مستحق ٹھہرے۔ کیا احتمال دے سکتے ہیں که رسول خداﷺ اور اہل بیت کرام علیھم السلام جو جود وسخا کے معدن ہیں وہ اس طرح کی خدمت سے منہ موڑ لیں؟

محمد بن حنفیہ کے پاس جب قاتلان حسین علیہ السلام میں سے دو کے سر لائے گئےتو فورا سجدے میں گر پڑے، ہاتھوں کو پھیلایا اور فرمایا: خدایا اس روز کو مختار کے لیے مت بھولنا، اہل بیت نبی علیھم السلام کی طرفسے مختار کو جزائے خیر عطا فرما۔ خدا کی قسم اس دن کے بعد مختار پر کوئی ملامت نہیں ہے۔ (معجم رجال الحدیث، سید خوئی، ج 19، ص 108)

تیسرا نکتہ:

اس حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ مختار کا خروج اور امام حسین علیہ السلام کے خون کا بدلہ لینا یقینا خدا اور اہل بیت کرام علیھم السلام کے نزدیک پسندیدہ فعل تھا۔ جب میثم تمار اور مختار اکھٹے ابن زیاد کی قید میں تھے تب میثم نے بتا دیا تھا کہ تم قید سے نکل کر خون امام حسین کا بدلہ لو گے۔ یقینا میثم خود بھی معنویت کے اعلی درجے پر فائز تھے جو اس بات کی خبر دے رھے تھے۔اور بعض روایات میں ملتا ہے کہ مختار کا خروج امام زین العابدین علیہ السلام کی خاص اجازت سے ہوا تھا۔ مختار کے نمائندے جب  خروج  کی اجازت مانگنے محمد بن حنفیہ کے پاس آئے تو وہ ان کو لے کر امام زین العابدین علیہ السلام  کے پاس گئے۔ امام نے جواب دیا: يا عم، لو أن عبدا زنجيا تعصب لنا أهل البيت ع لوجب على الناس مؤازرته، و قد وليتك هذا الأمر فاصنع ما شئت(چچا جان! اگر کوئی زنجی غلام بھی ہم اہل بیت کے حق کے لیے اٹھ کھڑا ہو تب بھی لوگوں پر واجب ہے که اس کی مدد کریں۔ میں نے یہ کام آپ کو سونپا۔ جیسا چاہیں آپ حکم دیں۔)(بحار، ج 45، ص 365، سفینۃ البحار، ج 2، ص 391)

چوتھا نکتہ:

بعض اہل سنت نے یہ بات کی ہے که مختار کا تعلق کیسانیہ فرقے سے تھا جو محمد بن حنفیہ کی امامت کے قائل تھے۔ اس فرقے کو "مختاریہ" کا نام بھی دیا گیا ہے۔ لیکن یہ بات بالکل بھی درست نہیں۔ چونکہ محمد بن حنفیہ نے کبھی بھی امامت کا دعوی نہیں کیا۔ پس مختار کیسے لوگوں کو ایک ایسے شخص کی امامت کی طرف بلا سکتے ہیں جس نے خود  سے کوئی دعوی نہ کیا ہو؟ اور پھر مختار کی شہادت اس وقت ہوئی ہے جب محمد بن حنفیہ زندہ تھے۔ جبکہ کیسانیہ فرقے کی بنیاد محمد بن حنفیہ کی وفات کے بعد پڑی ہے۔ پس ممکن نہیں ہے که مختار کا تعلق کیسانیہ سے ہو۔

جہاں تک تعلق ہے مختار کے لقب "کیسان" کا ، اگر یہ لقب بالفرض درست بھی ہوتو اس کی وجہ وہ روایت ہو سکتی ہے جو کشی نے مولا امیر علیہ السلام سے نقل کی ہے جس میں آپ علیہ السلام دو مرتبہ مختار کو "کیس، کیس" یعنی زیرک زیرک کہہ کر خطاب فرما رہے ہیں۔ "کیس" کی تثنیہ "کیسان" ہے لہذا مختار کا لقب "کیسان" پڑ گیا۔ لهذا اس لقب کا تعلق فرقہ کیسانیہ سے ہرگز نہیں ہے۔(دیکھیے: معجم رجال الحدیث: ج 19، ص 110)

+ لکھاری عباس حسینی در 7 Apr 2018 و ساعت 8:55 PM |

اسلامی اقتصاد کے برجستہ اصول

 

اسلامی اقتصاد کے تین بنیادی اور اساسی ارکان ہیں جن کے ذریعے یہ اقتصاد باقی سارے اقتصادی مذاہب سے جدااور ممتاز ہوتا ہے۔ وہ ارکان یہ ہیں:

۱۔ مزدوج ملکیت کا اعتراف

۲۔ محدود دائرے میں اقتصادی فعالیت کی آزادی

۳۔ اجتماعی عدالت کا تصور

 

۱۔ مزدوج ملکیت کا اعتراف:

عام طور پر کیپٹلزم میں فرد کی ملکیت کو اہمیت دی جاتی ہے اور اسے مقدم کیا جاتا ہے۔ اجتماعی ملکیت کی نوبت صرف ضرورت کے وقت اور محدود پیمانے پر آتی ہے۔ پس اجتماعی ملکیت ایک استثناء ہے جس کی بعض صورتوں میں ضرورت پڑتی ہے۔جبکہ سوشلزم اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس میں اشتراکی ملکیت اصل ہےاور شخصی یا فردی ملکیت کی نوبت بہت کم اور وہ بھی استثنائی حالت میں ضرورت کے وقت آتی ہے۔ پس کیپٹلزم میں صرف فردی ملکیت کا اعتراف اور سوشلزم میں صرف اشتراکی ملکیت کو اصل سمجھا جاتا ہے۔اس کے علاوہ کچھ ہو تو وہ مجبوری کی حالت ہے۔

جبکہ اسلام بیک وقت ہر دو قسم کی ملکیت کا اعتراف کرتا ہے اور معاشرے کے لیے دونوں کی ضرورت کا قائل ہے۔ اسلام فرد کی ملکیت، عوام کی ملکیت اور حکومت کی ملکیت ان سب کا اقرار کرتا ہے۔ البتہ ان میں سے ہر ایک کا میدان طے کرتا ہے۔ ان تینوں قسم کی مالکیت کو اسلام ضرورت اور اصل سمجھتا ہے، اور کسی بھی قسم کو استثنائی صورت یا وقتی علاج  قرار نہیں دیتا۔

 

۲۔ محدود دائرے میں اقتصادی فعالیت کی آزادی

اسلام  کچھ معنوی اور اخلاقی اقدار کی حدود میں افراد کو  اقتصادی فعالیت کی آزادی دیتاہے۔ یہ اصول بھی کیپٹلزم اور سوشلزم دونوں سے بالکل مختلف ہے۔ کیپٹلزم میں افراد کو غیر محدود آزادی میسر ہے تو سوشلزم میں افراد کی آزادی ناپید ہے۔

اسلام نے اس حوالے سے کچھ اقتصادی فعالیتوں سے منع کیا ہے۔ جیسے سود کا کاروبار، ذخیرہ اندوزی وغیرہ۔

اسلام بعض جگہوں پر ولی امر اور حکومت کو اجازت دیتا ہے کہ وہ عام اقتصادی فعالیت میں دخل اندازی کرے تاکہ افراد من مانی نہ کر سکے۔ اس حوالے سے بازار کی مراقبت کے اصول طے کئے ہیں۔ مثلا عام حالات میں بنجر زمینوں کی آبادکاری، معدنیات نکالنے کی اجازت دی گئی ہے۔ لیکن کسی مصلحت کے تحت حاکم شرع منع کر سکتا ہے۔

 

۳۔ اجتماعی عدالت کا تصور

اسلام اقتصادی فعالیتوں میں اجتماعی عدالت کا خیال رکھتا ہے۔ غنی کے مال میں فقیر کا حق قرار دیتا  ہے اور غنی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ فقیر کو بھی ساتھ لے کر چلے۔ اس مقصد کے لیے زکات، خمس اور صدقات قرار دئیے ہیں۔ اسلام اس بات کی اجازت ہرگز نہیں دیتا کہ معاشرے کا ایک حصہ امیر سے امیر تر ہو اور دوسرا غریب سے غریب تر۔ اسلام تاکید کرتا ہے کہ مال معاشرے کے افراد کے درمیان گردش کرتا رہے۔ کسی ایک جگہ جمع نا ہوں۔

 

اسلامی اقتصاد ،اخلاقی اصول طے کرنے کے ساتھ ساتھ حقیقت اور واقعیت بھی بیان کر رہا ہوتا ہے۔ انسان کی حقیقت اور اس کی صلاحتیوں کو مد نظر رکھ کر اسلام نے انسان کی خاطر اقتصادی پلاننگ دی ہے۔ اسلام نے انسان کے لیے کسی قسم کے خیالی ہدف کو فرض نہیں کیا، جیسے اشتراکی نظام میں ہے۔ اور پھر جس طرح سے حقیقی اہداف طے کیے ہیں، ان تک پہنچنے کے راستے بھی بتائے ہیں اور اس کی ضمانت بھی دی ہے۔ دوسری طرف سے اسلام نے اقتصادی فعالیت کو اخلاقی اقدار سے خالی بھی نہیں قرار دیا جیسے کیپٹلزم میں دیکھنے میں آتا ہے۔ لہذااسلام  انسان کی نیت کے اثر کے بارے زندگی کے تمام معاملات میں تاکید کرتا ہے۔ اقتصادی فعالیت میں انسانی نفسیاتی پہلو کو بھی مد نظر رکھ کر ہدایت دی ہے۔

 

(شہید باقر الصدر کی کتاب "اقتصادنا" کے ایک حصے سے مترجم کا فہم اور اس کی تلخیص۔ مترجم: عباس حسینی)


ٹیگس: اسلامی اقتصاد
+ لکھاری عباس حسینی در 26 Mar 2018 و ساعت 12:28 PM |

کہتے ہیں:

مغرب والوں نے عورت کو آزادی دی ہوئی ہے۔ وہ جیسے چاہیں گھوم پھر سکتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے وہاں خواتین کی نسبت مردوں کی رغبت ہی ختم ہوگئی ہے۔ عورت جس حال میں بھی نکلے مرد گھور کر نہیں دیکھتے۔ بے پردہ خواتین کو دیکھ کر مردوں کی شہوت ابھر نہیں آتی۔ یہ سب اس آزادی کا نتیجہ ہے۔
جبکہ مشرق والوں نے پابندی لگائی ہوئی ہے۔ الانسان حریص علی ما منع۔ انسان کو جس چیز سے منع کیا جائے اسی کی نسبت اس کی رغبت اور شہوت زیادہ ہوجاتی ہے۔ لہذا یہ طریقہ غلط ہے، مغرب والوں کا طریقہ درست۔

جواب:

انسان جب پتھر کو دیکھے اس کی شہوت نہیں ابھرتی۔
انسان جب جانور کو دیکھے اس کی شہوت نہیں ابھرتی۔
کیا عورت کو دیکھ کر بھی شہوت نہیں ابھرنی چاہیے؟ اگر ایسا ہے تو انسان اور جماد وحیوان میں کیا فرق ہوا؟ مرد اور عورت کو خدا نے بنایا ہی اس طرح سے ہے کہ ایک دوسرے کی طرف جذب ہوتے ہیں، کھینچے چلے جاتے ہیں۔ اسلام نے اس بنیادی ضرورت کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے لیے کچھ قوانین بنائے ہیں تاکہ ہرج مرج اور افراتفری سے بچا جا سکے۔ پاکیزہ نسلوں کو قائم رکھا جا سکے۔ پس مغرب میں عورت کو (خصوصا بے پردہ عورت کو) دیکھ کر مرد کے جذبات اگر نہیں ابھرتے تو یہ فخر کا مقام نہیں، بیماری ہے جس کا علاج ہونا چاہیے۔


"انسان کو جس چیز سے منع کیا جائے اسی کی طرف اس کی رغبت زیادہ ہوجاتی ہے" پس بے پردگی سے منع نہیں کرنا چاہیے، یہ بات بھی درست نہیں۔ اگر کسی کام سے منع کرنا ہی غلط ہی تو ڈاکٹر کو بھی مریض کو کسی کام سے، کسی غذا سے منع نہیں کرنا چاہیے ورنہ اسی غذا کی طرف وہ زیادہ جائے گا۔ پھر معاشرے کے ہر غلط کام سے منع نہیں کیا جانا چاہیے ورنہ انسان اسی غلط کام کی طرف زیادہ جائے گا۔ پھر تو سارے قوانین کو ختم کرنے چاہیے جن میں کہا ہی یہی جاتا ہے فلاں کام کرو، فلاں کام مت کرو۔ قانون میں سے "مت کرو" کا کانسپٹ ہی ختم کر دینا چاہیے۔


ٹیگس: آزادی
+ لکھاری عباس حسینی در 14 Mar 2018 و ساعت 8:6 AM |

کیا دنیا میں ایک ہی ولی فقیہ کی حکومت ہونی چاہیے؟

 یا ہر ملک میں الگ ولی فقیہ کی حکومت ہو سکتی ہے؟

 

تحریر: عباس حسینی

 

اس سوال کا جواب دینے سے پہلے کچھ باتوں کو واضح کرنا ضروری ہے۔

 

۱۔ الگ کشور اور ملک بننے کا معیار اسلام کی نظر میں کیا ہے؟ کیا جغرافیائی حالات معیار ہیں؟ یا زبان؟ یا نسل؟ یا لوگوں کی رنگت؟ یا کوئی او ر چیز۔ اسلام نے ان میں سے کسی بھی چیز کو بطور معیار اختیار نہیں کیا۔

بلکہ اسلام کی نگاہ میں "وحدتِ عقیدہ" ہے جس کی بنیاد پر زمین کی تقسیم ہوتی ہے۔ دار الاسلام اور دار الکفر وجود میں آتے ہیں۔ دار الاسلام وہ سرزمین ہے جس میں حکومتِ اسلامی کے تابع افراد زندگی گزارتے ہیں. ممکن ہے ان میں وہ افراد بھی ہوں جو عقیدے کے لحاظ سے غیر مسلم ہوں، لیکن اسلامی حکومت کی سربلندی کو قبول کر لیا ہو اور مخصوص شرائط کے ساتھ مسلمانوں کے مابین زندگی کر رہےہوں۔

اب یہ سوال مہم ہے کہ کیا "دار الاسلام" چند ملکوں میں تقسیم ہو سکتا ہے؟ کہ ہر ملک میں الگ نظا م حکومت ہو؟

 

عام طور پر مسلمانوں میں یہ فکر رائج تھی کہ سارا عالم اسلام ایک اکائی ہے، جن پر ایک شخص (امام یا خلیفہ ) کی حکومت ہونی چاہیے اور جو بھی ان سے الگ کوئی حکومت قائم کرنے کی کوشش کرے اسے باغی شمار کرتے تھے۔

شیعہ فقہ کے مطابق بھی حکومت کا اصل اختیار خدا کی طرف سے معصوم کو حاصل ہے اور ہر دور میں صرف ایک معصوم کی امامت بالفعل ہوتی ہے، لہذا عملا حکومت بھی ایک ہی ہونی چاہیے۔ البتہ دنیا کے مختلف حصوں میں معصوم کی طرف سے نائب اور گورنر معین ہوں گے جن کے ذریعے سسٹم چلایا جائے گا۔ جس دوران ائمہ معصومین علیہم السلام کی عملی حکومت نہیں بھی تھی، وہ حضرات اپنی طرف سے مختلف امور میں بعض خاص اصحاب کو اختیارات سونپتے تھے تاکہ دور دراز کے علاقوں کے لوگ ان نائبین کی طرف رجوع کر کے اپنے مسائل حل کریں۔

 

۲۔ زمانہ غیبت کبری میں خود معصوم نے مجتہدین علماء کو کچھ خاص شرائط کے ساتھ اپنی طرف سے نیابت عامہ عطا کی ہے۔ جس کی دلیل عمر بن حنظلہ کی روایت اور امام علیہ السلام کی توقیع اور دوسری روایات واحادیث ہیں۔ پس اس زمانے میں حکومت نائبین امام کی ہونی چاہیے۔ لیکن اصل سوال یہاں یہ ہے کہ کیا تمام مجتہدین کو نیابت عامہ برابر حاصل ہے؟ یا تمام بلاد اسلامیہ میں اس  ایک فقیہ کی حکومت ہونی چاہیے جس میں معصوم کی طرف سے بیان کردہ نیابت کی شرائط سب سے زیادہ پائی جاتی ہوں؟

اگر ولایت فقیہ کی دلیل حکمِ عقل ہو تو اس کے مطابق واضح ہے کہ اگر کسی فقیہ میں علم، تقوی، مدیریت، بصیرت وغیرہ کی خصوصیات سب سے زیادہ ہوں اور اس کے لیے تمام بلاد اسلامیہ میں اپنے نائبین اور نمائندوں کے ذریعے حکومت چلانا ممکن ہو تو یہی آئیڈیل صورت حال ہے اور یہی بات  امتِ اسلامی کی وحدت اور اسلامی عالمی حکومت کے نظریے کے بھی قریب ہے۔

اور اگر ولایت فقیہ کی دلیل روایات ہوں تو ان میں اگرچہ مطلق فقیہ (ہر فقیہ) کی بات کی گئی ہے جن میں مذکورہ شرائط موجود ہوں لیکن دوسری روایات  میں اس فقیہ کو باقیوں پر مقدم کیا گیا ہے جس کا علم زیادہ ہو، جس کا تقوی زیادہ ہو۔ وغیرہ۔ پس عملا اس ایک فقیہ کی حکومت ہونی چاہیے جس میں حکومت چلانے کی شرائط باقیوں سے زیادہ  ہو اور اس فقیہ کا حکم تمام بلاد اسلامیہ پر نافذ ہے۔

 

۳۔ بالفرض اگر بلاد اسلامیہ کے دو مختلف حصوں میں اسلامی حکومت کا قیام عمل میں آئے اور ایک فقیہ کے لیے خود سے یا اپنے نمائندوں کے ذریعے وہاں حکومت چلانا ممکن نا ہو تو کیا متعدد ولی فقیہ ہو سکتے ہیں؟

تعدد حکومت کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں:

الف) بلاد اسلامیہ کے ایک خاص منطقے کے لوگ جن تک موجودہ ولی فقیہ کا دائرہ حکومت شامل نہیں ہے، اپنے اجتہاد  یا تقلید  کے ساتھ ایک الگ حکومت قائم کر لیں اور ان کے لیے اجتہاد یا تقلید کے ذریعے ثابت ہو جائے کہ ہمارے لیے اپنے علاقے میں الگ حکومت ہونی چاہیے (اس حکومت کا ڈھانچہ بھی اجتہاد یا تقلید پر موقوف ہے)۔ ایسی صورت حال میں ان کو اپنی خاص حکومت کی اطاعت کرنی ہوگی۔ نہ موجودہ ولی فقیہ کی۔

ب) اگر ایک ولی فقیہ کے لیے بلاد اسلامیہ کے مختلف حصوں میں  متحد حکومت قائم کرنا عملا ممکن نا ہو۔ ایسی صورت میں ممکن ہے دوسرے حصے کے لوگوں کے لیے، تمام تر شرائط کو مد نظر رکھتے ہوئے، ایک اور ولی فقیہ کی اطاعت واجب ہو۔ پس ہر ولی فقیہ کا حکم اپنے علاقے میں معتبر اور واجب اطاعت ہے۔

 

اب اگر فرض کریں کہ ان دو حاکم فقیہوں میں سے کسی ایک نے ایسا عمومی حکم صادر کیا جو تمام مسلمانوں کو شامل ہے۔ ایسی صورت حال میں کیا اس کا حکم کا دائرہ  دوسرے فقیہ کے ماننے والوں کو بھی شامل ہوگا؟

یہاں تین صورتیں ممکن ہیں:

۱۔ دوسرا حاکم، پہلے کے حکم کی تائید کرے۔ اس صورت میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی اور وہ حکم سب پر لاگو ہوگا۔

۲۔ دوسرا حاکم، پہلے کے حکم پر خاموشی اختیار کرے۔ اس صورت میں بھی یہ حکم تمام مسلمانوں پر لاگو ہوگا۔ جس طرح سے ایک قاضی شرعی حکم صادر کرے تو اس کو ماننا تمام مسلمانوں پر واجب ہے۔

۳۔ دوسرا حاکم، پہلے کے حکم کی مخالفت کرے۔ یقینا یہ مخالفت اجتہاد  کے ساتھ ہوگی۔ (یعنی آیات و روایات سے دو مختلف مجتہد، دو مختلف حکموں کو سمجھ رہے ہیں۔) اس صورت میں اس دوسرے حاکم کے زیر حکومت زندگی کرنے والوں  کے لیے مذکورہ حکم شامل نہیں ہوگا۔

 

(استفاہ از بیانات حضرت علامہ مصباح زید عزہ)

(یہ استاد کے مقالے سے ناچیز کا فہم ہے ۔ ممکن ہے میرا فہم غلط ہو۔ لہذا کسی بھی بات کی نسبت استاد کی طرف دینے سے پہلے ان کا اصل مقالہ ضرور پڑھ لیں جس کا  لنک یہ ہے: http://mesbahyazdi.ir/node/825)

 


ٹیگس: مصباح یزدی, ولایت فقیہ
+ لکھاری عباس حسینی در 6 Mar 2018 و ساعت 11:52 AM |

 

اس نظامِ ہستی میں جنگ کا کیا مقام ہے؟  کیا جنگ  اچھی چیز ہے یا بری؟ کیا خدا اس کائنات کو اس طرح سے خلق نہیں کر سکتا تھا کہ اس میں جنگ وجدال نہ ہو۔؟ امن ہی امن اور سکون ہی سکون ہو؟ یا اگر جنگ ہو تو بھی اس میں قتل و غارت، نقصان اور اسارت وغیرہ کم اور محدود ہوں؟

ان سوالات کے جوابات مختلف فلسفی نظاموں میں مختلف انداز میں دیے گئے ہیں۔

 

اسلامی نظریہ:

قرآن کریم کی کچھ آیات کا مفاد یوں ہے کہ اگر خدا نہ چاہتا تو کوئی جنگ اس کائنات میں نہیں ہوتی۔ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا اقْتَتَلُوا وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ۔ یا قرآن کریم کا اشارہ اس بات کی طرف بھی ہے کہ اس کائنات کی ہرچیز خداوند متعال کے ارادے کے تحت حرکت کرتی ہے۔ اگر خدا چاہے تو سارے لوگوں کو ہدایت پر اکھٹا کر لے۔ وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا . ہر کام اس جہان میں اذن خدا اور مشیت الہی کے تحت انجام پا رہا ہے کہ جن میں سے ایک جنگ ہے۔ اور یہ بات بھی ثابت ہے کہ خدا کی مشیت میں سوائے حکمت کے کچھ نہیں.  پھر خداوند متعال نے کیوں جنگ و قتال، بے گناہوں کی موت اور تباہی کا راستہ نہیں روکا؟

جواب اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اس مادی دنیا کو انسانوں کے امتحان کے لیے خلق کیا ہے اور انسانوں کو ارادہ اور اختیار دے کر آزاد چھوڑا ہے۔ انسان جو بھی کمال حاصل کرے گا اپنے اختیار سے حاصل کرے گا۔ یہ امتحان ہے کہ انسان کس حد تک حاضر ہے خدا کے ارادوں کو اس دنیا میں عملی (Practical)کرے۔ کس حد تک انسان حاضر ہے خدا کے ارادے کو اپنے ارادے پر مقدم کرے۔ جنگ وقتال کے حوالے سے یہی فلسفہ کارفرما ہے کہ انسان اس حوالے سے آزاد ہے۔ اگر انسان حکمِ خدا کی  اطاعت کرتا ہے تو اس کے مطابق ناحق جنگ اور قتال حرام ہے۔ اسلام نے ایک انسان کے ناحق قتل کو انسانیت کے قتل سے تعبیر کیا ہے۔ ہاں دوسری طرف سے  ظالم اقوام کا راستہ روکنے اور اسلام کی سربلندی کے لے بعض مواقع پر جنگ ناگزیر بھی ہوجاتی ہے۔ ایسے موقع پر اسلام نے جنگ کی اجازت دی ہے۔

پس اگر خدا چاہے تو جنگ کا راستہ روک سکتا ہے۔ لیکن کائنات کا یہ نظام جبر اور اکراہ پر قائم نہیں۔ بلکہ انسانوں کے آزاد ارادوں پر قائم ہے جو خدا نے ان کو بخشا ہے۔

 

مادی نظریہ:

اس حوالے سے مادی نظریہ والے دو مختلف تفسیریں پیش کرتے ہیں۔

جو عام مادی نظریہ ہے اس کے مطابق اس جہان کی پیدائش اتفاقی ا ور اچانک ہے۔ ہزاروں اربوں سال کے بعد یہ زمین وجود میں آئی۔ ہزاروں سال بعد پودے وجود میں آئے۔ پھر ہزاروں سال بعد حیوان اور انسان۔جس طرح سے حیوانات اپنے مفادات کی خاطر آپس میں لڑتے ہیں اسی طرح انسان بھی لڑتے ہیں۔ یہ ایک فطری کام ہے۔ سب کچھ اتفاقی ہے۔ ہم انسانوں کے درمیان جنگ اور لڑائی کا راستہ نہیں روک سکتے۔ ہاں جو کام کرنے کا ہے وہ یہ ہے کہ اس حوالے سے سوچا جائے کیسے جنگ کے سایے کو کم کیا جائے؟ کیسے جنگوں کے نقصانات کو کم کیا جائے۔

جبکہ ڈیالکٹیک(dialectic) والے اس بات کے قائل ہیں اس کائنات کی اساس اور بنیاد ہی تضاد  پر ہے۔ اگر تضاد نہ ہو تو اس کائنات میں کچھ بھی نہ ہو۔ اس جہان کی بنیاد  اور اس کا دوام ہی تضاد اور لڑائی اور ایک دوسرے سے ٹکرانے میں ہے۔ دیکھ لیں جنگ کے سایے میں دنیا نے کتنی ترقی کی ہے ۔ ٹیکنالوجی نے کتنی ترقی کی ہے۔ پس جنگ اس نظام ہستی کا لا ینفک اور لازمی جزء ہے۔ہاں ہمیں صرف اس حوالے سے سوچنا چاہیے کہ کیسے جنگ کے نقصانات کم ہوں؟ خود جنگ کو ختم نہیں کر سکتے۔ اس حوالے سے بحث کی جانی چاہے کیسے جنگ، عقلی بنیادوں پر ہو۔

 

(استفادہ از درس حضرت استاد مصباح، 13 فروری 2018، موسسہ امام خمینی قم)


ٹیگس: مصباح یزدی, جنگ و جہاد
+ لکھاری عباس حسینی در 18 Feb 2018 و ساعت 11:24 PM |

سوال: خداوند متعال ہماری شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ (وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ) پھر نماز ، روزہ اور دوسری عبادات کے ذریعے اس ذات کا قرب حاصل کرنے کا کیا مطلب؟ ہم نیت میں قربۃ الی اللہ کیوں کہتے ہیں؟  

تحریر: عباس حسینی

 

جواب: اس آیت میں کہا گیا ہے کہ خداوند متعال ہماری شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ یہ ایک پہلو ہے۔ لیکن یہ نہیں کہا گیا کہ ہم بھی اس ذات کے اتنے ہی قریب ہیں۔ اس پہلو کو آیت نے بیان نہیں کیا۔  ممکن ہے ایک موجود دوسرے کے قریب ہو، لیکن دوسرا  موجود، پہلے کے قریب نا ہو۔  عام فہم میں اس کو سمجھنا ہو تو محبت کی مثال سے سمجھ لیں۔ ممکن ہے ایک موجود دوسرے موجود سے دل وجان سے محبت کرتا ہو (محبت یک طرفہ)، جبکہ دوسرے کو پہلے سے بالکل بھی محبت نا ہو۔ یا اس کی مثال فلسفہ میں یک طرفہ ربط (اضافہ اشراقی) ہے کہ جس میں صرف ایک طرف ہے اور ربط ہے۔ دوسری طرف کوئی چیز نہیں جو ربط کے لیے "دوسری طرف "بن جائے۔ جیسے سورج اور اس کی شعاع۔

آیت میں جو مطلب بیان ہوا ہے وہ در حقیقت احاطہ وجودی کو بیان کر رہا ہے۔ یعنی خداوند متعال کی ذات نے انسان کا، بلکہ تمام موجودات کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ (أَلَا إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُّحِيطٌ)  اس لحاظ سے وہ تمام موجودات کا علم رکھتا ہے۔ وہ ہماری آنکھوں کی خیانتوں اور دلوں کے بھید بھی خوب جانتا ہے۔ (يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ) جو باتیں ہم آشکار کرتے ہیں اسے بھی وہ  جانتا ہے اور جو باتیں ہمارے دلوں میں ہیں  ان سے بھی وہ آگاہ ہے۔ (أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ) ۔ لیکن اس کے مقابلے میں ہم خدا تو کیا،  اپنے سے بالاتر مخلوقات کا بھی احاطہ نہیں کر سکتے۔

اللہ تعالی کا حکم ہے  کہ ہم عبادات کو اس کے قرب کی خاطر انجام دیں۔ ہر وہ کام عبادت ہے جس میں قرب ِخداوندی کی نیت ہو۔  بلکہ زندگی کا مقصد اور ہدف ہی یہی ہے کہ ہم خداوند متعال کے نزدیک سے نزدیک تر ہوتے جائیں۔ لیکن وہ ذات جو لا مکان ہے، اس کے قریب ہونے کا مطلب کیا ہے؟ ہم نماز میں جب قربۃ الی اللہ کہتے ہیں تو کیسے نماز ہمیں خداے لا مکان کے قریب کرتی ہے؟

در حقیقت قرب اور بعد (دور اور نزدیک ) ہونے کے تین معنی ہو سکتے ہیں۔

۱۔ مکانی اور زمانی قرب اور بعد۔ دو چیزوں کے درمیان کا مادی فاصلہ۔ یا دو چیزوں کے درمیان وقت کا فاصلہ۔ اللہ تعالی زمان اور مکان نہیں رکھتا۔ وہ مجرد ذات ہے۔ ابدی اور ازلی ہے۔ پس یہ والا معنی مراد نہیں ہو سکتا۔

۲۔ اعتباری قرب اور بعد : جیسے کسی کمپنی میں کوئی باس کے قریب ہوتا ہے اور کوئی اس سے دور۔ ممکن ہے اگلے دن باس  کسی اور شخص کو اپنےزیادہ قریب کرلے اور اس پہلے شخص کو اپنے سے دور۔ اللہ تعالی کے حوالے سے یہ معنی بھی ممکن نہیں۔

۳۔ حقیقی قرب وبعد:  اس سے مراد یہ ہے کہ موجودات ، حقیقی کمالات کو کسب کر لیں اور اللہ تعالی کے ساتھ کمالات میں نزدیک سے نزدیک تر ہوتے جائیں۔ یہ روح کے کمالات ہیں۔ اس میں روح پرواز کرتی جاتی ہے۔ انسان کے وجود میں وسعت آتی جاتی ہے۔ انسان کی صفات، خدائی صفات میں ڈھلتی جاتی ہیں۔وہ اپنے وجود کے مرتبے میں ترقی کرتا جاتا ہے۔  اگر اللہ تعالی کی ایک صفت علم ہے تو انسان میں جتنا علم آتا جائے گا وہ خدا کے قریب ہوتا جائے گا۔ خداوند متعال قادر ہے ۔ پس عبادات کے نتیجے میں انسان کی قدرت میں جتنا  اضافہ ہوتا جائے  وہ اللہ تعالی کے نزدیک ہوتا جائے گا۔ جس حد تک انسان اپنے افعال اور صفات کو خدائی رنگ میں ڈال دے اسی نسبت انسان ، خدا کے قریب ہوتا جائے گا۔  اس کی صفات خدا کی صفات کی شبیہ بنتی جائے گی۔  یہ حقیقی قرب ہے۔  عبادات کے ذریعے در حقیقت انسان اس با کمال اور باعظمت کے کمال اور عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے اس کےسامنے سر جھکاتا ہے۔  اپنے فقر اور کمی کا اعتراف کرتا ہے۔اس طریقے سے اس کا خدا کے ساتھ رابطہ مزید مستحکم ہوجاتا ہے۔

لیکن یہ بات مد نظر رہے  کہ انسان جس قدر چاہے کمالات حاصل کر لے وہ ہے تو محدود ذات۔ جبکہ خدا کی ذات لا محدود ہے۔ اور عقلی طور پر محدود اور لا محدود کے درمیان فاصلہ بھی لا  محدود ہے۔ پس یہا ں سے انسان اپنے فقر، کمی، بے بضاعتی کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ وہ یہ درک کر لیتا ہے کہ وہ ہر آن، ہر لحظہ اس ذات کا محتاج ہے جو اسے مسلسل وجود عطا کر رہی ہے۔ خود یہ ادراک بھی ایک نعمت اور کمال ہے جو اسے قرب عطا کرتا ہے۔ پس محدود کے لیے لا محدود کے قریب اور نزدیک ہونے کا راستہ بھی لا محدود ہے۔  

+ لکھاری عباس حسینی در 24 Oct 2017 و ساعت 9:50 PM |

 

جمعے کا دن تھا۔۔۔ ہاف ڈے کی وجہ سے آفس میں جلدی چھٹی ہوئی۔۔۔ دوست کے ساتھ آفس سے نکل کر گھر جانا چاہ رہا تھا۔۔ تاکہ کھانا کھانے کے بعد بیگم بچوں کو کہیں گھمانے لے چلیں۔۔۔ موسم بھی بڑا سہانا تھا۔۔ سوچا انجوائی کر لوں گا  اور بچوں کی ضد بھی پوری ہو جائے گی۔۔ اتنے میں اذان کی آواز سنائی دی۔۔ دوست نے کہا جمعہ کی نماز نہیں پڑھو گے؟؟  ایک نادیدہ قوت قریب میں موجود مسجد کی طرف کھینچ کر لے گئی۔۔ بڑے عرصے بعد مسجد کا منہ دیکھا تھا۔

مولانا صاحب خطبہ پڑھ رہے تھے۔۔ سب لوگ انتہائی انہماک سے ان کی باتیں سن رہے تھے۔ ۔۔ احادیث نبوی کے مطابق بھی بعد میں آنے والوں کی خاطر اپنی جگہ سے  اٹھنے یا دوران خطبہ پھلانگ کر آگے جانے سے منع کیا  گیا ہے۔۔۔  تاکہ خطبہ کی طرف توجہ کم نا ہو۔

اتنے میں اک عجیب واقعہ پیش آیا۔۔۔ خطبہ اپنے اوج پر تھا۔۔۔ باہر سے کسی نے آواز دی: آئی فون کا نیا ماڈل مارکیٹ میں  آگیا ہے۔ ۔۔ ساتھ والی دکان میں  انتہائی مناسب ریٹ پر بیچا جا رہا ہے۔۔ یہ سننا تھا کہ آدھے   لوگ  خطبہ چھوڑ کر ۔۔۔ آئی فون کی محبت میں اس دکان کی طرف دوڑ پڑے۔۔ اب صرف آدھے لوگ رہ گئے تھے۔۔۔ خطبہ جاری رہا۔

پھر کچھ دیر بعد ایک اور آواز دور سے سنائی دی۔ بھائیو! پاکستان انڈیا کا میچ شروع ہو چکا ہے۔۔۔  پی ٹی وی  لائیو میچ دکھا رہا ہے۔  آدھے لوگ نماز جمعہ چھوڑ کر میچ دیکھنے  گھروں کو چل پڑے۔ مسجد میں چند لوگ ہی بچے جو اب بھی خطبہ سن رہے تھے۔۔

نماز کے بعد میں مولانا صاحب سے ملا۔۔ اور ان سےکہا: مولانا حضور۔ ان لوگوں کو اللہ تعالی سے اور آپ سے کتنی محبت ہے؟! اپنی جان تک ہر دم آپ پر نچھاور کرنے کو تیار ہیں۔۔ مولانا صاحب نے کہا: خاک مجھ سے اور میرے اللہ سے محبت ہے۔ اگر محبت کرتے ہوتے تو یوں نماز میں اکیلے چھوڑ کر تجارت اور لہو ولعب کے پیچھے نہیں بھاگتے۔

 

(نوٹ: یہ ایک فرضی کہانی ہے۔ اسے ہرگز سورہ جمعہ کی آیت نمبر 11 کے تناظر میں  نہ لیا جائے۔)

(وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا ۚ قُلْ مَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَمِنَ التِّجَارَةِ۔ ترجمہ: اور جب انہوں (مومنین)  نے کوئی تجارت یا کھیل دیکھااس کی طرف چل دئیے اور تمہیں (خطبہ میں ) کھڑا چھوڑ گئے۔ تم کہو: جو اللہ کے پاس ہے وہ کھیل اور تجارت سے بہتر ہے۔ )

+ لکھاری عباس حسینی در 10 Oct 2017 و ساعت 12:35 PM |

امام تقی علیہ السلام اور چھوٹی عمر کی امامت

تحریر: سید عباس حسینی

 

امامت ایک بہت بڑا منصب ہے۔ دین اور دنیا کے امور کے زمام سنبھالنے کا نام ہے۔ امام معاشرے کا پیشوا ہوتا ہے۔ امام،  ہادی اور رہبر ہوتا ہے جس کے پیچھے سارے معاشرے کو چلنا ہوتا ہے۔ اندرونی مسائل ہوں یا بیرونی مشاکل سب کو حل کرنے کی ذمہ داری امام کے کاندھے پر ہوتی ہے۔ امامت کی ان تمام تر سنگین ذمہ داریوں کو دیکھتے ہوئے یہ سوال پیش آتا ہے کہ ایک چھوٹا سا بچہ کہ جس کی عمر پانچ یا آٹھ سال ہو وہ کیسے اتنی بڑی ذمہ داری سنبھال سکتا ہے؟ اس بات کی کیا توجیہ ہےکہ شیعوں کے ہاں پانچ اور آٹھ سال کےبچے امام بنتے رہے ہیں۔

یہ بات درست ہے کہ امام محمد تقی علیہ السلام جب منصب امامت پر فائز ہوئے اس وقت آپ کی عمر ۷ سال تھی۔ اسی طرح  منصب امامت سنبھالتے وقت امام علی نقی علیہ السلام کی عمر 9 سال، امام عسکری  علیہ السلام کی عمر 22 سال اور حضرت امام زمان علیہ السلام کی عمر صرف 5 سال تھی۔

ایک تو وہی جواب ہے  جو خود امام جواد علیہ السلام نے اپنی امامت کے حوالے اشکال کرنے والوں کو دیا تھا کہ یہ منصب الہی ہے خدا جس کو چاہے جس وقت دے  دیتا ہے۔ کسی کو بچپن میں دیتا ہے تو کسی کو چالیس سال کی عمر میں۔ حضرت عیسی ابھی ماں کی گود میں تھا کہ اعلان ہوا:"إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا" . قرآن نے حضرت یحی کے بارے میں کہا: "يَا يَحْيَى خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّة وآتَيْناهُ الْحُكْمَ صَبِيَّاً" اور یہ تو فخر عیسی اور فخر یحی ہیں۔ ان کی امامت کے بارے میں شک کیوں؟ امام در حقیقت علم لدنی کا مالک ہوتا ہے۔ امام کسی کے پاس جا کر علم نہیں سیکھتا۔ امامت منصب الہی ہے۔ لیاقت دیکھ کر خدا کا عطا کردہ تحفہ ہے۔ لہذا اس حوالے سے چھوٹی عمر اوربڑی عمر کا کوئی فرق نہیں۔ خداوند متعال اپنی بے پناہ قدرت کے ساتھ چھوٹے سے بچے کی عقل کو کامل بنا سکتا ہے۔ جس طرح چاہے کسی کو رشد دے سکتا ہے۔

لہذا تاریخی حوالے سے بھی دیکھیں تو سارا زمانہ ان کے علمی کمالات اور رشدِ عقلی کے معترف نظر آتے ہیں. یحی بن اکثم کا واقعہ ملاحظہ کیجیے کہ جو ریاست کا مفتی اعظم تھا لیکن امام تقی علیہ السلام کی علمی قدرت کے سامنے ہار ماننے پر مجبور ہوگیا اور مامون عباسی  کو بھی کہنا پڑا: "وأن صغر السن فيهم لا يمنعهم من الكمال" کہ چھوٹی عمر اس خاندان میں کمالات کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے۔  اسی طرح  تاریخ کہتی ہے کہ امام تقی علیہ السلام  کے بعض اصحاب آپ سے سوالات کرتے گئے اور چند دنوں کے اندر آپ نے  تیس ہزار سوالوں کے جواب دے دئیے جبکہ اس وقت آپ کی عمر صرف 9 سال تھی۔

سید محمد باقر صدر علیہ الرحمہ نے  استقراء کے حوالے سے اپنے جدید نظریے (جو حساب احتمالات پر قائم ہے)  کے مطابق اس مسئلے کو عقلی بنیادوں پر حل کیا ہے ۔

سید صدر کے مطابق اتنی کم عمری میں امام جواد علیہ السلام کا  منصب امامت سنبھالنا شیعیت کی حقانیت کی سب سےبڑی دلیل ہے۔  حالانکہ اس وقت شیعہ طائفہ میں بڑے بزرگان اور امام رضا  علیہ السلام کے اصحاب بھی تھے لیکن سب امام جواد علیہ السلام کی امامت پر متفق تھے۔ یقینا اس بچے میں کچھ ایسا دیکھا ہوگا جو اس کی امامت کے معترف ہوگئے۔

یہاں پر چند احتمالات ہیں۔

۱۔ لوگوں کو پتہ نہیں چلا کہ امام جواد علیہ السلام ابھی چھوٹے اور کم عمر ہیں۔ یہ احتمال ممکن نہیں چونکہ شیعہ اپنے اماموں کو لوگوں سے چھپا کر نہیں رکھتے تھے، بلکہ لوگوں کا امام سے براہ راست رابطہ ہوتا تھا۔

۲۔ اس وقت کے لوگ اتنے سادہ تھے کہ چھوٹے سے بچے کی امامت قبول  کر لی۔ یہ بات بھی ممکن نہیں چونکہ ان میں بڑے بڑے اصحاب بھی تھے جو مکتب امام صادق علیہ السلام کے پروردہ تھے۔ جو علمی اور فقہی اعتبار سے بڑے مراتب پر فائز تھے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک چھوٹے بچے نے اتنے بڑے اصحاب کو اپنی "جھوٹی" امامت پر قائل کیا ہو؟جبکہ اس وقت شیعیت مدینے سے کوفہ اور قم تک پھیلی ہوئی تھی۔

۳۔ امامت کا مفہوم لوگوں کو واضح نہیں تھا۔ لوگ شاید امامت کو بادشاہت کی طرح نسل در نسل وراثت سمجھتے تھے۔ اس کی شروط اور تفصیلات سے آگاہ نہیں تھے۔تاریخی حوالے سے یہ بات بھی درست نہیں چونکہ تقریبا دو صدیوں سے شیعوں کے درمیان امامت کا سلسلہ چل رہا تھا اور اس کے مفہوم، شرائط اور صفات سے بخوبی آگاہ تھے۔

۴۔ چوتھا احتمال یہ ہے کہ سارے شیعوں نے جھوٹ اور باطل پر اتفاق کر لیا ہو۔ یہ بھی عقلی طور پر اور تاریخی بنیادوں پر ممکن نہیں. شیعوں میں بڑے متقی ، پرہیزگار اور باوفا اصحاب ائمہ بھی تھے۔ ان سب کا جھوٹ پر اتفاق کیسے ممکن ہے؟تاریخ گواہ ہے کہ شیعوں نے اذیتیں اور صعوبتیں  برداشت کی ہیں لیکن اپنے عقیدے سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے۔

پس یہ سارے احتمالات جب ختم ہوں تو صرف یہی احتمال بچتا ہے کہ آپ امام معصوم تھے جس میں معاشرے کو چلانے کی تمام تر صلاحیتیں خداداد موجود تھیں۔ لہذا اس وقت کے بڑے بڑے اصحاب بھی حکم خدا کے تحت آپ کی اتباع کرتے تھے۔ اگر خدا نخواستہ اس بچے میں کسی قسم کی کمی ہوتی تو مخالفین زمین آسمان ایک کر دیتے کہ یہ دیکھو شیعوں کے امام میں یہ کمی ہے۔ وہ زمانہ علمی ترقی اور عروج کا زمانہ تھا۔ یونانی فلسفہ تک کا ترجمہ ہو چکا تھا۔ لیکن ان سب کے باوجود اپنے تو اپنے ، مخالفین کو بھی اس امام کی تعریفوں کے پل باندھتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جتنی بار بھی امام سے سوال پوچھنے کی، امام کو  شرمندہ کرنے کی یا لا جواب کرنے کی کوشش کی گئی خود سوال کرنے والا ، لا جواب ہوگیا۔ یہ سب آپ کی حقانیت کی دلیل ہے۔

تاریخی حوالے سے یہ بات عجیب ہے کہ مختلف اماموں کے بعد اگلے امام کے حوالے سے کچھ اختلافات سامنے آتے گئے۔ کچھ نئے فرقے بھی وجود میں آگئے۔ مثلا امام زین العابدین کے بعد زیدیہ فرقہ، امام صادق علیہ السلام کے بعد اسماعیلیہ اور فطحیہ فرقہ اور واقفیہ فرقہ کہ جس نے امام کاظم علیہ السلام کی شہادت کے بعد توقف کیا۔  لیکن امام جواد کی چھوٹی عمر کے باوجود شیعہ طائفہ نے بالاجماع آپ کی امامت کو قبول کیا۔ کسی  بھی حوالے سے کسی نے کوئی شک یا توقف نہیں کیا۔ کوئی نیا فرقہ وجود میں نہیں آیا۔ یہ خود آپ کی حقانیت اور علمی وعملی کمالات کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

 

+ لکھاری عباس حسینی در 22 Aug 2017 و ساعت 5:50 PM |