اربعین حسینی کی مختصر تاریخ

تحریر: سید عباس حسینی

(مجلہ سفیر روحانیت، زیر اہتمام جامعہ روحانیت بلتستان، شمارہ ۵، ۲۰۱۸ء میں چھپا مضمون)

اربعین عربی زبان میں چالیس کے عدد کو کہا جاتا ہے۔ فارسی میں اسے چہلم کہتے ہیں۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں کے درمیان آج بھی یہ رسم ہے کہ کوئی شخص اس دنیا سے چلا جائے تو اس کے چالیس روز بعد اس کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی، فاتحہ خوانی اور مجالس وغیرہ کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔

امام حسین علیہ السلام کی جہاں اور بہت ساری خصوصیات ہیں، وہیں ان کا یہ خاص امتیاز بھی ہے کہ ہمارے تمام اماموں میں سے صرف آپ علیہ السلام کے لیے اربعین کی زیارت کتابوں میں وارد ہوئی ہے اور اس زیارت کی خاص فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اربعین کے موقع پر آپ کی زیارت پر جانے کی بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے۔ اسی طرح سے آپ کی زیارت کے لیے پیدل جانے کے حوالے سے مختلف روایات آئی ہیں جو اس کام کے اجر وثواب کو مختلف انداز میں بیان کرتی ہیں۔

 آپ علیہ السلام کی شہادت چونکہ 10 محرم الحرام 61 ہجری میں ہوئی تھی، اس لحاظ سے 20 صفر 61 ہجری کو آپ کا اربعین بنتا ہے۔ آپ کے چاہنے والے اس وقت سے لے کر اب تک ہر سال اس مخصوص تاریخ کو آپ کا اربعین مناتے ہیں اور اس عظیم قربانی پر آپ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔دنیا بھر سے لاکھوں زائرین  20 صفر کی  تاریخ کو کربلا کا رخ کرتے ہیں اور آپ کی زیارت سے شرفیاب ہوتے ہیں۔ پچھلے چند سالوں میں جو ایک نیا سلسلہ دیکھنے کو آیا ہے وہ یہ ہے کہ اربعین حسینی کے موقع پر دنیا کا سالانہ سب سے بڑا مذہبی اجتماع کربلا میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس اجتماع کے دوران لاکھوں زائرین بصرہ، بغداد اور دوسرے عراقی شہروں خصوصا نجف سے کربلا کا فاصلہ پیدل طے کرتے ہیں اور پیادہ کربلا پہنچ کر امام عالی مقام کی خدمت میں حاضری دیتے ہیں اور اظہارِ عقیدت کرتے ہیں۔ اس دوران عراقی شہریوں کی طرف سے زائرین کی پذیرائی اور دل کھول کر خدمت قابلِ دید ہے جس کی مثال ملنا محال ہے۔

عددِ چالیس(اربعین) کا راز

علم الاعداد کے ماہرین نے چالیس کے عدد کی کچھ خصوصیات بیان کی ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کی تائید بہت سارے دینی معاملات اور احکام سے بھی ہوتی ہے۔ مثلا قرآن کریم کے مطابق اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام کو پہلےتیس دن کے لیے کوہ طور پر بلایا۔ پھر مزید دس دن کے اضافے کے ساتھ چالیس دن مکمل کیے۔ (اعراف:142) قرآن کریم کے مطابق انسان چالیس سال کی عمر میں رشدِ عقلی تک پہنچتا ہے۔(احقاف:15) یا جب اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کو صحرائے سینا میں بھٹکنے (تیہ) کی سزا دی اس کے لیے چالیس سال کی مدت مقرر کی۔ (مائدہ:26) اسی طرح روایات میں آیا ہے کہ جو شخص چالیس دنوں تک اپنے آپ کو اللہ کے لیے خالص کر لے اس کے دل سے حکمت کے چشمے اس کی زبان پر جاری ہوں گے۔[1] جو شخص بھی چالیس احادیث حفظ کرلے قیامت کے دن فقیہ اور عالم محشور ہوگا۔[2]  بہت سارے انبیاء جن میں سے ہمارے رسول حضرت محمد مصطفیﷺ بھی ہیں چالیس سال کی عمر میں مبعوث برسالت ہوئے۔ بعض گناہوں کے بارے میں روایات میں آیا ہے کہ ان کی وجہ سے چالیس روز تک عبادت قبول نہیں ہوتی۔ اسی طرح نماز شب  میں چالیس مومنوں کے  لیے دعا کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ بعض روایات کے مطابق جس شخص کے جنازے میں چالیس مومن اس کی مغفرت کے لیے دعا کریں اللہ تعالی اس کو بخش دیتا ہے۔ روایات کے مطابق مسجد کے اردگرد چالیس گھر تک مسجد کے ہمسائے شمار ہوتے ہیں۔ بہت ساری دعاوں کے بارے میں چالیس روز تک مسلسل پڑھنے کی تاکید ہوئی ہے۔ بعض پھلوں کے بارے میں روایات میں آیا ہے کہ ان کے چالیس روز تک کھانے کے مختلف اثرات ہیں۔ اس طرح کے اور بھی بہت سارے موارد روایات میں بیان ہوئے ہیں۔ ان کے علاوہ علم الاعداد کے ماہرین بھی اس عدد کی مختلف خصوصیات بیان کرتے ہیں۔

روایات کے مطابق جب بھی کوئی مومن بندہ اس دنیا سے جاتا ہے تو زمین اس کی موت پر چالیس دنوں تک گریہ کرتی ہے۔[3]  امام حسین علیہ السلام کے حوالے سے خصوصی طور پر روایات میں آیا ہے کہ آپ کی شہادت کے بعد چالیس دنوں تک آسمان آپ پر گریہ کناں رہا۔ راوی نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا: آسمان کا گریہ کیا تھا؟ آپ نے جواب میں فرمایا: چالیس روز تک سورج سرخی کے ساتھ نکلتا رہا اور اور سرخی کے ساتھ ڈوبتا رہا۔[4] اسی طرح روایات کے مطابق آپ کی شہادت کے بعد آسمان، زمین،سورج اور فرشتے چالیس دنوں تک آپ کے غم میں اشک بہاتے رہے۔ [5]

اربعینِ حسینی کی اہمیت:

امام عسکری علیہ السلام کی مشہور حدیث  جس میں آپ نے مومن کی پانچ علامات بیان کی ہیں اس حدیث میں اربعین کے موقع پر امام حسین علیہ السلام کی زیارت کو مومن کی علامت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: (عَلَامَاتُ‏ الْمُؤْمِنِ‏ خَمْسٌ صَلَاةُ الْخَمْسِينَ وَ زِيَارَةُ الْأَرْبَعِينَ وَ التَّخَتُّمُ فِي الْيَمِينِ وَ تَعْفِيرُ الْجَبِينِ وَ الْجَهْرُ بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيم)[6] اس روایت کے مطابق روزانہ 51 رکعت نماز(واجب اور مستحب نمازیں ملا کر)، دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا، سجدے میں سر خاک پر رکھنا، نماز میں بسم اللہ کو بلند آواز سے پڑھنا اور اربعین کی زیارت ایک مومن کی علامات ہیں۔

شیعوں کے نزدیک اربعینِ حسینی کی اہمیت اس وجہ سے بھی زیادہ ہے چونکہ تاریخ اور روایات کے مطابق امام زین العابدین علیہ السلام اور اہل بیت کرام کی مخدرات عصمت جنہیں واقعہ کربلا کے بعد اسیر بنا کر کوفہ و شام لے جایا گیا تھا وہ رہائی کے بعد اسی تاریخ کو واپس کربلا پہنچے تھے اور انہوں نے امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا کی پہلی بار زیارت کی تھی۔ تواریخ کے مطابق یہ قافلہ اپنے ساتھ امام حسین علیہ السلام کا کٹا ہوا سر بھی واپس لایا تھا، جسے کربلا ہی میں اسی تاریخ کو آپ کے جسد اطہر کے ساتھ دفن کیا گیا۔

اربعین حسینی کا پہلا زائر

تاریخ کے مطابق اربعینِ حسینی کا پہلا زائر صحابی رسول حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری ہیں آپ اپنے غلام عطیہ کے ساتھ 20 صفر 61 ہجری کو کربلا میں وارد ہوتے ہیں۔ اس وقت جابر کی بینائی ختم ہو چکی تھی۔ غلام کے مطابق جس وقت جابر کربلا پہنچے تو پہلے فرات میں غسل کیا، پھرقبر امام حسین علیہ السلام پر آئے اور عطیہ سے کہا: میرا ہاتھ قبر پر رکھ دیں۔ کچھ دیر بعد جابر بے ہوش ہو کر قبر پر گر پڑے۔ عطیہ نے چہرے پرپانی ڈالا اور جابر ہوش میں آئے۔ جابر نے تین مرتبہ بلند آوازسے کہا: یاحسین علیہ السلام۔ اور پھر کہا: "حَبیبٌ لا یُجیبُ حَبیبَه."[7] دوست، دوست کو جواب نہیں دے رہے۔ امام عالی مقام اور دوسرے شہداء کی زیارت کرتے ہیں۔ آپ کی موجودگی میں ہی امام زین العابدین علیہ السلام اور دوسرے اسیران اہل بیت شام سے کربلا پہنچتے ہیں جہاں سب مل کرشہداء کی زیارت بھی کرتے ہیں اور ماتم اور گریہ وزاری بھی کرتے ہیں۔[8]

پیادہ روی کی تاریخ:

امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیے ایک خصوصیت جو روایات میں ذکر ہوئی ہے وہ پیدل چل کر زیارت کرنے کی ہے۔ اس حوالے سے متعدد روایات ہیں جو اس کام کے بے شمار اجروثواب کو بیان کرتی ہیں۔ امام صادق علیہ السلام کی روایت کی مطابق "جو بھی امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیے پا پیاده آتا ہے اس کے ہر قدم پر اللہ تعالی ہزار نیکیاں لکھتا ہے، ہزار گناہ مٹا دیتا ہے اور ہزار مرتبہ اس کے درجات میں اضافہ کرتا ہے۔"[9] سب سے پہلی شخصیت جو پیدل چل کر امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیے آئی، وہ صحابی رسول جابر بن عبد اللہ انصاری ہیں۔ ان کے بعد بھی دنیا بھر سے عاشقان ِامامت و ولایت آپ کے زیارت کے لیے مختلف زمانوں میں آتے رہے۔ بعض محققین کے نزدیک ائمہ معصومین کے دور میں بھی لوگ دور دراز سے اربعین کے موقع پر آپ کی زیارت کے لیے پیدل آتے تھے۔ لہذا اس لحاظ سے ائمہ کے دور سے ہی یہ سنت چلی آئی ہے۔ بنی امیہ اور بنی عباس کی حکومتوں نے اگرچہ اس راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی بڑی کوششیں کیں، لیکن کسی نہ کسی شکل میں کربلا کی طرف پیادہ روی کا سلسلہ چلتا ہی رہا۔[10] معتصم عباسی کے دور میں اگرچہ زیارت ابا عبد اللہ سے روکنے کی بڑی کوششیں کی گئیں اور زائرین کے ہاتھ پاوں تک کاٹے گئے، لیکن زیارت کا سلسلہ نہ رک سکا۔ 

موجودہ دور میں جس شخصیت نے نجف سے کربلا تک پیدل زیارت پر جانے کی اس حسینی تحریک کا آغاز کیا وہ شیخ انصاری(وفات 1864ء) کی شخصیت ہیں۔ آپ کی مرجعیت کے زمانے میں کربلا کی طرف پیادہ روی کا زور و شور سے انتظام ہوتا تھا۔  ان کے بعد کچھ عرصے کے لیے یہ تحریک کم رنگ ہو کر رہ گئی لیکن شیخ میرزا حسین نوری(وفات 1902ء)، کتاب مستدرک الوسائل کے مصنف نے دوبارہ اس تحریک کو زندہ کیا۔ ان کے ساتھ ان کے چاہنے والوں کی بھی ایک کثیر تعداد ہوتی تھی جو ایک قافلے کی شکل میں کربلا کی طرف پیدل چلتے تھے۔  مجتہد وعارف بزرگوار میرزا جواد آقا ملکی تبریزی (وفات 1925ء) کے بارے میں بھی نقل کرتے ہیں کہ وہ بھی اپنی زندگی میں کئی بار نجف سے کربلا پیدل زیارت کے لیے جاتے رہے۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے شہید بزرگوار علامہ سید عارف حسین الحسینی(وفات 1988ء) کے بارے میں بھی علماء بیان کرتے ہیں کہ اکثر شبِ جمعہ پیدل نجف سے  کربلا امام عالی مقام کی زیارت کے لیے جاتے تھے۔

ان کے علاوہ بہت سارے علماء و مجتہدین کے بارے میں نقل ہوا ہے کہ کربلا کی طرف پیادہ روی کو انتہائی اہمیت دیتے تھے۔ "اعیان الشیعہ" کے مولف سید محسن امین عاملی(وفات 1952ء) اپنے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ میں دس سال تک نجف میں رہا ہوں۔ اس دوران سال بھر کی خاص مناسبتوں پر امام حسین علیہ السلام کی زیارت پر کربلا کی زیارت سے ضرور مشرف ہوتا تھا۔ اکثر پیدل کربلا کی طرف ہم چل پڑتے۔ اس سفر میں ان کے ساتھ جبل عامل اور نجف کے دوسرے طلاب بھی ملحق ہوتے اور ایک قافلہ سا بن جاتا۔ مشہور کتاب "الغدیر" کے مصنف علامہ امینی(وفات 1970ء) کے بارے میں بھی نقل ہوا ہے کہ اکثر پیدل کربلا جاتے تھے۔ کربلا کے نزدیک پہنچتے ہی ان کی حالت تبدیل ہو جاتی اور آنکھوں سے آنسووں کا نہ رکنے والے سلسلہ شروع ہو جاتا۔ سید محمود حسینی شاہرودی(وفات 1974ء) جو عراق کے مشہور مرجع تھے کے بارے میں نقل ہوا ہے کہ پیدل کربلا جاتے تھے۔ ان کے شاگرد اور عقیدت مند بھی انکے ساتھ ساتھ چلتے تھے۔ ان کے بارے مشہور ہے کہ چالیس بار پیدل امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیے گئے ہیں۔ امام خمینی کے فرزند حاج مصطفی خمینی(وفات1977ء) کے بارے نقل ہوا ہے کہ تمام اہم مناسبات جیسے نیمہ رجب، نیمہ شعبان، روز عرفہ اور مخصوصا اربعین کے موقع پر پیدل نجف سے کربلا جاتے تھے۔ لبنان کے مشہور عالم دین سید موسی صدر(گمشدگی 1979ء) کے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ آپ پیدل امام حسین علیہ السلام کی زیارت پر جانے کا عشق رکھتے تھے۔  ان تمام مجتہدین اور علماء کے علاوہ آیت اللہ   میرزا نائینی، شیخ محمد حسین غروی، آیت اللہ ملکوتی، شہید آیت اللہ مدنی اور بہت سارے علماء کے بارے نقل ہوا ہے کہ وہ سال بھر کی مختلف مناسبتوں خصوصا اربعین کے موقع پر کربلا کی طرف پیادہ روی کرتے تھے۔[11]

عراق کے سابق صدر صدام حسین کے دور میں کربلا کی طرف پیادہ روی پر پابندی لگائی گئی۔ اس کے باوجود عاشقین ابا عبد اللہ خفیہ راستوں سے چلتے ہوئے، راتوں کو سفر کرتے ہوئے اپنے آپ کو اربعین کے موقع پر کربلا پہنچاتے تھے۔ 2003ء  میں صدام کی حکومت کے خاتمے کے بعد اس تحریک نے مزید زور اور رونق پکڑ لی اور آج یہ اجتماع سالانہ منعقد ہونے والا دنیا کا سب سے بڑا دینی اجتماع ہے۔ پچھلے چند سالوں میں اس عظیم اجتماع میں شرکت کرنے والوں کی تعداد اڑھائی کروڑ تک بھی بتائی گئی ہے۔

آج اربعین کی تحریک ایک عالمگیر تحریک بن چکی ہے جو ظہور حضرت ولی عصر علیہ السلام کے لیے بہترین زمینہ فراہم کر سکتی ہے۔ بقول رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای: اربعین میں مقناطیسِ حسینی کا جاذبہ تمام لوگوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اربعین حسینی، شعائر اسلامی میں سے ہے۔ اربعین کے اس عظیم اجتماع کے پیچھے خدا کا ہاتھ ہے۔ یہ عشق اور بصیرت کا راستہ ہے۔ اس عظیم اجتماع میں صرف اجسام ایک دوسرے کے قریب نہیں آتے، بلکہ ارواح بھی ایک دوسرے سے مانوس ہوتی ہیں۔ یہ اجتماع اسلام کی عزت اور مسلمانوں کی وحدت کا سبب ہے۔[12]


حوالہ جات:

 

[1] ۔ "مَا أَخْلَصَ عَبْدٌ لِلَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ أَرْبَعِينَ صَبَاحاً إِلَّا جَرَتْ‏ يَنَابِيعُ‏ الْحِكْمَةِ مِنْ قَلْبِهِ عَلَى لِسَانِهِ." (عیون اخبار الرضا، محمد بن علی بن بابویہ، ج 2، ص 69، نشر جھان تہران، چاپ اول، 1378 ہجری۔)

[2] ۔ مَنْ حَفِظَ مِنْ أُمَّتِي أَرْبَعِينَ‏ حَدِيثاً يَنْتَفِعُونَ بِهَا بَعَثَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقِيهاً عَالِماً. (عیون اخبار الرضا، ج ۲، ص 35۔)

[3] ۔إِنَّ الْأَرْضِ‏ لَتَبْكِي‏ عَلَى الْمُؤْمِنِ إِذَا مَاتَ أَرْبَعِينَ صَبَاحاً. (امالی، شیخ طوسی، ص 535، دار الثقافہ قم، چاپ اول، 1414 ہجری۔)

[4] ۔  إِنَّ السَّمَاءَ بَكَتْ‏ عَلَى‏ الْحُسَيْنِ‏ بْنِ عَلِيٍّ وَ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا وَ لَمْ تَبْكِ عَلَى أَحَدٍ غَيْرِهِمَا قُلْتُ وَ مَا بُكَاؤُهَا قَالَ مَكَثَتْ أَرْبَعِينَ يَوْماً تَطْلُعُ كَشَمْسٍ بِحُمْرَةٍ وَ تَغْرُبُ بِحُمْرَةٍ قُلْتُ فَذَاكَ بُكَاؤُهَا قَالَ نَعَمْ. (کامل الزیارات، جعفر بن محمد قولویہ، ص 89، دار المرتضویہ نجف اشرف، چاپ اول، 1356 ہجری۔ )

[5] ۔  کامل الزیارات، ص 81۔

[6] ۔تهذیب الاحکام، طوسی، محمد بن حسن، ج 6، ص 52، دار الکتب الاسلامیہ، تهران، 1407ہجری۔

[7] ۔ بحار الانوار، محمد باقر مجلسی، ج 65، ص 130، دار احیاء التراث العربی بیروت، چاپ دوم، 1403 ہجری۔

[8] ۔ لہوف کی روایت کے مطابق: "وَ لَمَّا رَجَعَ نِسَاءُ الْحُسَيْنِ ع وَ عِيَالُهُ مِنَ الشَّامِ وَ بَلَغُوا الْعِرَاقَ قَالُوا لِلدَّلِيلِ مُرَّ بِنَا عَلَى طَرِيقِ كَرْبَلَاءَ فَوَصَلُوا إِلَى مَوْضِعِ الْمَصْرَعِ فَوَجَدُوا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ رَحِمَهُ اللَّهُ وَ جَمَاعَةً مِنْ بَنِي هَاشِمٍ وَ رِجَالًا مِنْ آلِ رَسُولِ اللَّهِ ص قَدْ وَرَدُوا لِزِيَارَةِ قَبْرِ الْحُسَيْنِ ع فَوَافَوْا فِي وَقْتٍ وَاحِدٍ وَ تَلَاقَوْا بِالْبُكَاءِ وَ الْحُزْنِ وَ اللَّطْمِ وَ أَقَامُوا الْمَآتِمَ الْمُقْرِحَةَ لِلْأَكْبَادِ وَ اجْتَمَعَ إِلَيْهِمْ نِسَاءُ ذَلِكَ السَّوَادِ فَأَقَامُوا عَلَى ذَلِكَ أَيَّاما." (اللھوف فی قتلی الطفوف، سید علی بن موسی ابن طاووس، ص 196، نشر جھان تہران، چاپ اول، 1348 شمسی۔ )

[9] ۔ "مَنْ أَتَى قَبْرَ الْحُسَيْنِ‏ مَاشِياً كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ وَ مَحَا عَنْهُ أَلْفَ سَيِّئَةٍ وَ رَفَعَ لَهُ أَلْفَ دَرَجَة" (وسائل الشیعہ، شیخ حر عاملی، ج 14، ص 440، موسسہ آل البیت قم، چاپ اول، 1409 ہجری۔)

[10] ۔ دیکھیے: دیکی شیعہ: http://fa.wikishia.net/

[11] ۔ اس حوالے سے دیکھیے: ویب سائٹ شیخ احمد شرفخانی: https://www.sharafkhani.com/

اور ولایت نیٹ: https://www.welayatnet.com/fa/news/100338

[12] ۔ ویب سائٹ آیت اللہ خامنہ ای: http://farsi.khamenei.ir/speech-content?id=34856

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ٹیگس: امام حسین, اربعین
+ لکھاری عباس حسینی در 30 Oct 2018 و ساعت 12:48 PM |

واقعہ کربلا : مختصر دفاعی تجزیہ

[سید عباس حسینی]

 (مجلہ سفیر روحانیت زیر اہتمام جامعہ روحانیت بلتستان شمارہ ۲، ۲۰۱۵ء، ص ۱۹ - ۲۳ چھپا مضمون)

          کسی بھی واقعہ  یا حادثہ کو دیکھنےاور پھر تجزیہ کرنے  کے مختلف زاویے  ہوسکتے ہیں جن میں سے ہر ایک اس واقعہ کے کسی نئے رخ یا نئی جہت  کو ہم تک پہنچا رہا ہوتا ہے۔ واقعہ کربلا تاریخ کا وہ عظیم واقعہ ہے جو اگرچہ مدتِ زمان کے لحاظ سے دیکھا جائے تو نصف روز یا زیادہ سے زیادہ ایک دن کی مدت پر پھیلا واقعہ ہے[1]  لیکن اپنے اثرات اور نتائج کے حوالے سے تاریخ کا منفرد اور بے نظیر واقعہ ہے جو ہمیشہ کے لیے امر ہوگیا ہے۔ اس عظیم واقعہ کو بھی مختلف جہتوں سے مطالعہ کیا جا سکتا ہے، جن میں سے ایک اہم جہت دفاعی پہلو ہے کہ اگر کوئی دفاعی تجزیہ نگار اس جنگ کو خالص جنگی اصولوں  پر پرکھنا چاہے تو کیا نتائج اخذ ہوں گے؟  طرفین میں سے ہر ایک نے اس جنگ کو جیتنے کے لیے کیسے منصوبہ سازی کی؟ افراد اور اسلحے کے لحاظ سے طرفین کی صورت حال کیا تھی؟ کیسے جنگ کے مراحل طے ہوئے؟ اور کیسے جنگ کا خاتمہ ہوا اور نتائج واثرات کیا نکلے؟

 امام حسین علیہ السلام کی فوج اور آپ کی پالیسی:

امام عالی مقام کی فوج اور جنگی پالیسیوں کا جائزہ چند نکات میں لیا جا سکتا ہے:

فوج کی تعداد: حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ لڑنے والے سپاہیوں کی تعداد مشہور کے مطابق ۷۲ ہے۔[2] جبکہ دشمن کی تعداد مشہوریہی ہے کہ ۲۵ سے ۳۰ ہزار تھی۔ دفاعی حوالے سے صرف تعداد کو مد نظر رکھ کر تجزیہ کیا جائے تو ۷۲ کا ۲۵۰۰۰ سے کوئی مقابلہ بنتا نہیں۔ لہذا اس جنگ  کا فیصلہ شایدعام تجزیہ نگار تعداد دیکھ کر ہی فورا کر لے۔ لیکن خدا کا قانون الگ ہے اور تاریخ بھی یہی  بتاتی ہے کہ بسا کم تعداد بہت بڑی تعداد پر غالب آتی ہے۔[3]   کمیت معتبر نہیں، کیفیت مہم ہے۔ جنگ بدر کا نتیجہ بھی ہمارے سامنے ہے کہ جب ۳۱۳ نے ایک ہزار کا غرور خاک میں ملایا تھا۔ کربلا میں بھی ۷۲ باوفا جان نثاروں کے خوف سے ہزاروں کی پیشانیوں پر پسینے چھوٹے تھے۔

ایک عجیب تاریخی فوج: عام طور پر فوج میں بھرتی ہونے والے سپاہی کے لیے کڑی شرائط رکھی جاتی ہیں۔ چوڑا سینہ، لمبا قد، جسمانی فٹنس سے لے کر عمر کی حد سب چیزیں دیکھی جاتی ہیں۔ لیکن امام حسین علیہ السلام کی فوج عجیب قسم کی فوج ہے جس میں ہر عمر  کے سپاہی ہیں۔ چھے ماہ کا ننا سپاہی علی اصغر سے لےکر اسی سال کے بوڑھے تک۔ جبکہ طرف مقابل میں سارے سپاہی قد وکاٹھ کے ساتھ اکثریت جوانوں پر مشتمل ہے اور دفاعی ساز وسامان سے لیس ہیں۔دفاعی حوالوں سے دیکھا جائے توان کا کوئی مقابلہ بنتا نہیں ہے۔ لیکن آسمان نے وہ عجیب منظر ملاحظہ کیا جب کربلا کے چھے ماہہ علی اصغر نے بھی دشمن کی فوج میں ہل چل مچا دی۔ اصحاب میں سے ہر ایک نے شجاعت کے وہ جوہر دکھائے کہ فلک پر فرشتے بھی عش عش کر اٹھے۔ اسی لیے امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: میرے اصحاب جیسے اصحاب نہ میرے بابا کو ملے اور نہ میرے بھائی کو۔ ان سے بہتر اصحاب میں نے نہیں دیکھا۔ اسی طرح میری اہل بیت سے بہتر اور نیک اہل بیت بھی میں نے نہیں دیکھا۔ [4]

ایک عجیب فیصلہ: جنگ جب سر پر ہو تو کوئی بھی سپہ سالار اپنے سپاہیوں کو واپس جانے کی اجازت نہیں دیتا۔ طارق بن زیاد نےاندلس کی جنگ میں  اس خوف سے کہ سپاہی واپس بھاگ نہ  جائیں کشتیاں جلا دی تھیں۔ جبکہ کربلا میں اامام عالی مقام سب ساتھیوں کو واپس جانے کی اجازت دے رہے ہیں۔ بیعت اٹھانے کی بات کر رہے ہیں۔ایک دفعہ عمومی اجازت دی ا ور کہا: "میں نے تم لوگوں کو اجازت دے دی، تم سب لوگ چلے جاؤ، میری طرف سے تمہارے اوپر کوئی ذمہ داری بھی نہیں۔ یہ رات  کا اندھیرا ہے اس کا سہارا لے کر نکل جاؤ۔" یہ بھی کہا: "تم میں سے ہر ایک میرے اہل بیت میں سے ایک فرد کا ہاتھ تھام لے کر ساتھ لے چلو، اور اپنے شہروں کو واپس چلے جاؤ۔" بعض کے نام لے کر خصوصی اجازت بھی دی۔ حضرت عقیل کی اولاد کو مخاطب کر کے کہا: "اے عقیل کے بیٹے، مسلم کی شہادت تمہارے لیے کافی ہے۔ تم لوگ چلے جاؤ ، میں نے تمہیں اجازت دی۔"[5]

           دفاعی حوالے سے یہ بات خلاف عقل ومنطق دکھائی دیتی ہے۔لیکن امام عالی مقام نے سب اصحاب کو فیصلہ کرنے کا اختیار دیا۔ بغیر کسی جبر اور لالچ کے،سوچ سمجھ کر،  امام وقت کا ساتھ دیتے ہوئے ،  موت کا راستہ اختیار کرنے کی وجہ سے اصحاب کا رتبہ اور بلند ہوا اور سب نے انتہائی خلوص سے فداکاری کے جوہر دکھائے۔ یقینا اگر مجبوری کی حالت میں امام کا ساتھ دیتے تو ایسا نتیجہ ہرگز نہیں نکلتا۔

اخلاقِ جنگی: جنگ میں عام طور پر دشمن کو زیر کرنے کے لیے ہر قسم کے اسلحے، حیلے بہانے اور مکر وفریب  سے استفادہ کیا جاتاہے۔ دشمن کا پیاسا لشکر جب حر بن یزید ریاحی کی قیادت میں امام کا راستہ روکنے پہنچا تو آپ  اس  موقعہ سے استفادہ کر سکتے تھے۔ لیکن آپ نے دشمن کے سپاہیوں کو حتی ان کے جانوروں کو بھی پانی پلایا۔ [6]جنگی تکنیک کے حوالوں سے یہ بھی خلاف منطق ہے۔ لیکن یہ تو صفین والے امام کے فرزند ہیں جنہوں نے بھی لشکرِ معاویہ کی طرف سے پانی بند کرنے کے باوجود جب نہر پر آپ کا قبضہ ہوا تو پانی بند کرنے سے انکار کیا تھا۔ ان کا تعلق اس خاندان سے ہے جو انتہائی سخت حالات میں بھی اخلاقی اصولوں کا خیال رکھتے ہیں۔ کبھی بھی اپنے ہدف کے حصول کے لیے پست طریقوں سے استفادہ نہیں کرتے۔

جنگی ٹیکنیک: امام عالی مقام جس وقت کربلا پہنچے ہیں سب سے پہلے آپ نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ  کسی ایسی جگہ کا انتخاب کیا جائے جہاں سے دشمن کا مقابلہ کرنا آسان ہو، جہاں دشمن پشت کی طرف سے حملہ نہ کر سکے۔ اصحاب نے کہا کہ "ذو حسم" کا علاقہ ایسا ہی ہے، لہذا آپ نے جلدی سے اپنے کاروان کو "ذو حسم" پہنچایا اور خیمہ زن ہوگئے۔ [7]  اسی طرح روز عاشور بھی امام عالی مقام نے  جنگ سے پہلے خیموں کے گرد خندق کھودنے اور اس میں آگ لگانے کا حکم دیا۔[8]  چونکہ علم تھا دشمن بہت پست قسم کے لوگ ہیں، اور خیموں پر پیچھے سے حملہ کرسکتے ہیں۔ دفاعی حوالے سے یہ انتہائی اہم قدم تھا۔ چونکہ اگر ایسا نہ کرتے تو آپ کی فکر ہمیشہ خیموں کی طرف اور مخدرات عصمت کی طرف ہوتی اور لڑائی متاثر ہوتی۔ خندق کھود کر اور اس میں آگ لگا کر آپ بہت حد تک مطمئن ہو کر دشمن کا مقابلہ کرنے چلے۔

جنگ کے آغاز سے انکار: امام عالی مقام نے کربلا میں دشمن پر تمام حجتیں تمام کیں تاکہ بعد میں دشمن کے پاس کوئی بہانہ نہ بچے۔ عاشور کی شب جس طرح سے آپ نے دشمن سے مانگ کر ایک رات کی مہلت لی ہے اسی طرح سے دشمن کو سوچنے سمجھنے کے لیے ایک رات کی مہلت دی بھی ہے ، کہ وہ اندازہ کریں کتنے بڑے جرم کا مرتکب ہونے جارہے ہیں۔ اسی طرح بار بار خطبہ دیتے ہوئے آپ دشمن کی ضمیر جگانے کی کوشش کرتے رہے ،جس کے کچھ اثرات بھی ہوئے۔ جیسے حر کا اپنے بیٹے اور غلام سمیت آپ کے لشکر میں آکر ملنا۔ لیکن تمام کوششوں کے باوجود دشمن جنگ کی ضد کرتے رہے تو پھر بھی آپ نے جنگ میں پہل کرنے سے انکار کیا۔ جس وقت آپ نے خیموں کی پشت پر خندق کھود کر آگ لگائی تو شمر قریب آیا اوراس نے  آواز دی: "اے حسین، قیامت کی آگ سے پہلے دنیا میں ہی آگ لگا دی؟" تو اس وقت مسلم بن عوسجہ نے کہا: "یابن رسول اللہ ، میری جا ن آپ پر قربان، اگر اجازت دیں تو اک تیر سے میں شمرکا کام تمام کرسکتا ہوں ۔" امام علیہ السلام نے جوا ب دیا: "نہیں، میں پسند نہیں کرتا کہ جنگ کا آغاز میری طرف سے ہو۔"[9]

غازی عباس کو جنگ کی اجازت نہ دینا: مشہور یہی ہے کہ امام عالی مقام نے اپنے سب سے قوی سردار غازی عباس علمدار علیہ السلام کوباقاعدہ جنگ کی اجازت نہ دی۔ بعض محققین کے نزدیک آپ  نے حر اور زہیر کو دشمنوں کے نرغے سے چھڑانے کے لیے مختصر جنگ کی۔ جب آپ نے جنگ کی اجازت چاہی توامام عالی مقام نے صرف اتنا کہا کہ ہوسکے تو بچوں کےلیے پانی کی کوئی سبیل کرو[10]۔ پس آپ کا مقصد کسی طرح خیموں تک پانی پہنچانا ٹھہر گیا۔  اس کی کیا وجوہات تھیں کہ امام نے غازی عباس کو باقاعدہ جنگ کی اجازت نہیں دی؟دفاعی حوالے سے کیا یہ درست اقدام تھا؟

محققین کے نزدیک شاید امام کے اس اقدام کی وجہ یہ تھی کہ حضرت عباس آپ کے لشکر کے علمدار تھے اور اس زمانے میں علم کا گرنا شکست کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ امام کی خواہش تھی آخری لمحات تک پرچم بلند رہے تاکہ اہل حرم کو حوصلہ ملتا رہے۔ لہذا امام عالی مقام نے ہر دفعہ حضرت عباس کو جنگ کی باقاعدہ اجازت دینے سے انکار کیا۔ [11]امام عالی مقام کے بیان میں یہی اشارہ ہے جب آپ نے ارشاد فرمایا: "آپ میرے لشکر کے علمدار ہیں۔ اگر آپ گئے تو میرا لشکر بکھر جائے گا۔"[12]

جنگی قانون سے ہٹ کر: عام طور پر جنگ کا قانون  یہ ہے کہ سپہ سالار سب سے آگے ہوتا ہے اور فوج پیچھے ہوتی ہے۔ سپہ سالار سب سے پہلے خود کومیدان میں پیش کرتا ہے۔ جبکہ کربلا میں منظر برعکس نظر آتا ہے۔ اصحاب وانصار پہلے لڑتے ہیں، اور اہل بیت کے افراد بعد میں۔ جبکہ سپہ سالار سب سے آخر میں مقابلہ کے لیے جاتا ہے۔ شاید وجہ یہ ہو کہ باقی جنگوں میں مرنا مشکل جبکہ زندہ رہنا آسان ہوتا ہے، لیکن کربلا میں مرنا آسان تھا، جبکہ اتنے مصائب اور پیاس کی شدت  میں زندہ رہنا، ساتھیوں  کا غم سہنا ، لاشیں اٹھانا اور پھر شہید ہونا زیادہ مشکل مرحلہ تھا، اس لیے امام نے اپنے آپ کو سب سے آخر میں رکھا، کہ سب سے مشکل مرحلے کو خود اپنے لیے انتخاب کیا۔

 

 دشمن کے اقدامات:

لشکرِ امام میں پھوٹ ڈالنے کی سازش: دشمن کی طرف سے  ہر ممکن کوشش کی گئی کہ امام  کے لشکر میں پھوٹ ڈالا جائے۔ اسی خاطر بعض افراد کے لیے امان نامہ دینے کی کوشش کی گئی۔ شمر کی طرف سے غازی عباس اور ان کے بھائیوں کے لیے امان دینے کی کوشش کی گئی کہ وہ بنی کلاب سے ہیں اور ننھیال کی طرف سے شمر کے  خاندان سے ہیں۔ یہ جنگی تکنیک تھی  جس کے ذریعے امام کی  فوج کے قوی ترین سردار کو لشکر سے جدا کرنا چاہتے تھے اور فوج کی معنوی حالت کو نیچے لا کر نفسیاتی شکست دینا چاہتے تھے۔

شمر، امام کے لشکر کے قریب آیا اور آواز دی: "ہمارے بہن کی اولاد کہاں ہیں؟" تو حضرت عباس، جعفر اور عثمان نکل آئے۔ شمر نے کہا: "تم لوگ امان میں ہو چونکہ ماں کی طرف سے ہمارے رشتہ دار ہو۔ ان لوگوں کی طرف سے جواب آیا: "تم پر خدا کی لعنت ہو، تمہارے امان پر خدا کی لعنت ہو، تم ہمارے ماموں بن کر ہمیں امان دیتے ہو، جبکہ رسول اللہ ﷺ کے بیٹے کے لیے کوئی امان نہیں؟"[13]  اس طرح حضرت عباس اور ان کے بھائیوں نے اپنی بصیرت سے دشمن کی سازش کو ناکام بنا دیا۔

پست ترین اقدامات،  جیسے پانی بند کرنا: اس ۷۲ کے لشکر سے دشمن کے خوف کی یہ حالت تھی کہ ۷ محرم الحرام سے امام کے لشکر پر پانی بند کیا گیا۔ شاید دشمن کی خواہش  یہ تھی کہ پیاس سے مجبور ہو کر امام عالی مقام اور آپ کا لشکر سر جھکانے پر مجبور ہوجائیں گے۔ لیکن کربلا کی اس تپتے صحراء میں العطش کی صداؤں میں لشکرِ امام نے شجاعت کے ایسے جوہر دکھائے کہ یقینا اگر پانی سے سیراب ہوتے تو جنگ کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔ سخت پیاس کی حالت میں جو ایسی جنگ لڑیں وہ اگر پانی سے سیراب ہوتے تو یقینا دشمن کے لیے مزید مشکلات پیدا کرتے۔

اہل بیت اطہار کو اسیر بنانے کی غلطی: دشمن ظاہری فتح اور جیت کی خوشی میں چور کربلا سے بچ جانے والے افراد کو بشمول امام زین العابدین علیہ السلام کو اسیر بنا کر پہلے کوفہ اور پھر وہاں سے شام لے گیا۔ جنگی حوالے سے یہ دشمن کی بہت بڑی غلطی تھی۔ دشمن کے اس غلط فیصلے سے امام زین العابدین علیہ السلام اور ثانی زہراء سلام اللہ علیہا نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور کربلا والوں کا پیغام شہر شہر پہنچانے کے علاوہ کربلا میں ڈھائے جانے والے مظالم کی داستان ساری دنیا تک پہنچائی اور یزید اور اس کے کارندوں کوہر دو جہان میں  رسوا کیا۔

نتیجہ:

          امام نے دشمن کا مقابلہ انتہائی بصیرت اور شجاعت سے کیا۔ ایسا نہیں ہے کہ اپنی کم تعداد اور دشمن کی بڑی تعداد دیکھ کر بغیر کسی مقابلے کے دشمن کے سامنے سر جھکائے ہوں۔ جنگ کے سارے تیکنیک آپ نے استعمال کیےاور منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھے۔ آپ  اورآپ کے اصحاب کی شجاعت  اور فداکاری دیکھ کر دشمن کے حوصلے پست ہوگئے۔ یہی وجہ ہے کہ آخری وقت تک کسی بزدل کی جرات نہیں تھی کہ آپ کے نزدیک آئے، حالانکہ آپ زخموں سے چور زمین پر نڈھال پڑے تھے۔ دشمن پتہ کرنا چاہتے تھے کہ آپ زندہ ہیں یا شہید ہوچکے؟ ایک لعین نے مشورہ دیا کہ آواز دو"خیموں پر حملہ ہوا" اگر حسین زندہ ہوا  تو ضرور اٹھیں گے۔ یہ سب دشمن کے خوف اور بزدلی کی نشانی ہے۔ جبکہ امام عالی مقام اور آپ کے باوفا اصحاب نے شجاعانہ لڑتے ہوئے، دشمن کو للکارتے ہوئے ، جان جان آفرین کے حوالے کی۔

          یہاں یہ بنیادی سوال اٹھتا ہے کہ اس جنگ کا نتیجہ کیا ہوا؟  کون ہارا کون جیتا؟

          بظاہر دیکھاجائے تو امام حسین کے لشکر کو شکست ہوئی چونکہ سارے مارے گئے۔ جو بچ گئے  تھے ان کو اسیر بنا لیا گیا۔ لاشوں کی بے حرمتی کی گئی۔ لیکن اس جنگ کے نتیجے کو ایک اور زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے، اور وہ زاویہ جنگ کے اہداف اور مقاصد کے حوالے سے ہے۔ یزیدی فوج کا مقصد امام عالی مقام سے بیعت لینا تھا جس میں وہ بری طرح ناکام ہوئی۔ امام نے عزت کو موت کو ذلت کی زندگی پر ترجیح دی۔ یزید کا مقصد اس واقعہ کو کربلا کی اس ریگزار میں دفن کرنا تھا لیکن ثانی زہراء اور امام چہارم کے خطبوں نے دشمن کے تمام عزائم خاک میں ملا دئیے۔  دشمن کی تمام پالیسیاں ناکام ہوگئیں اور بظاہر جیتنے کے باوجود ذلیل اور رسوا ہوگئے۔ امام عالی مقام نے نیزے پر بھی قرآن پڑھ کر، ثانی زہرا نے علی علیہ السلام کے لہجے میں خبطے ارشاد فرما کر، امام زین العابدین علیہ السلام نے یزید کے دربار میں دشمن کو ذلیل اور رسوا کر کے اپنی جیت اور فتح کا اعلان کیا۔



حوالے وحواشی:

[1] ۔ اگرچہ کربلا کے واقعہ کےحقیقی  علل و اسباب تقریبا ۵۰ سال پر محیط ہیں چونکہ کربلا کا آغاز سقیفہ ہے۔سقیفہ میں آکر اسلامِ ناب کے مقابلے میں جعلی اسلام کا تعارف کرایا گیا جس میں سیاست کو دین سے الگ کیا گیا۔ اگر سقیفہ کی پیداوار معاویہ جیسے دشمن ِاسلام کو شام پر مسلط نہ کرتے تو شاید اس سانحہ کے مقدمات ہی فراہم نہ ہوتے۔

[2] ۔ ابو مخنف کی روایت کے مطابق آپ کے لشکر میں ۳۲ گھڑ سوار اور ۴۰ پیدل تھے اس طرح مجموعی تعداد ۷۲ بنتی ہے۔ شیخ مفید نے بھی شہداء کے سروں کی تعداد ۷۲ لکھی ہے۔ اسی طرح سے زیارت ناحیہ میں، جو سید بن طاووس نے اپنی کتاب اقبال میں نقل کی ہے، ۷۲ شہداء کے نام ذکر ہوئے ہیں۔  [دیکھیے: مقتل ابی مخنف، ص 113، اور "بررسی تاریخ عاشوراء ، دکتور ابراہیم آیتی، ص 107۔]

[3] ۔ "كم من فئة قليلة غلبت فئة كثيرة بإذن الله۔" سورہ بقرہ، آیت 249۔

[4] . "إني لا أعلم أصحابا أولى ولا خيرا من أصحابي، ولا أهل بيت أبر ولا أوصل من أهل بيتي..." مقتل ابی مخنف، ص ۱۰۷, ارشاد، شیخ مفید، ج ۲، ص 91۔

[5] ۔"ألا وإني قد أذنت لكم فانطلقوا جميعا في حل ليس عليكم مني ذمام ، هذا الليل قد غشيكم فاتخذوه جملا" يا بني عقيل ، حسبكم من القتل بمسلم ، فاذهبوا أنتم فقد أذنت لكم"۔ دیکھیے: مقتل ابی مخنف، ص 107 تا 109، ارشاد، شیخ مفید، ج 2، ص 91، 92۔

[6] ۔ دیکھیے: مقتل ابی مخنف، ص 82۔

[7] ۔ دیکھیے: مقتل ابی مخنف ، ص 81۔

[8] ۔ "وجعلوا البيوت في ظهورهم ، وامر بحطب وقصب كان من وراء البيوت تحرق بالنار مخافة ان يأتوهم من ورائهم" مقتل ابی مخنف، ص 113، ارشاد، شیخ مفید، ج ۲، ص 95۔

[9] ۔ دیکھیے : مقتل ابی مخنف، ص ۱۱۶۔

[10] ۔ "فقال الحسين عليه السلام : فاطلب لهؤلاء الأطفال قليلا من الماء" دیکھیے: بحار الانوار، ج 45، ص 41۔

[11] ۔ دیکھیے۔ انٹرویو : محقق تاریخ رجبی دوانی۔  www.fardanews.com/fa/news/206825

[12] ۔ "فبكى الحسين عليه السلام بكاء شديدا ثم قال : يا أخي أنت صاحب لوائي وإذا مضيت تفرق عسكري" بحار الانوار، ج ۴۵، ص ۴۱۔

[13] ۔ "لعنك الله ولعن أمانك ، أتؤمننا وابن رسول الله لا أمان له ؟" دیکھیے: مقتل ابی مخنف، ص 104، ارشاد، شیخ مفید، ج ۲، ص ۸۹۔ بعض روایات کے مطابق دشمن کی طرف سے کئی بار کوشش کی گئی کہ کسی طرح سے حضرت عباس اور ان کے بھائی امان نامہ قبول کر لیں۔ اس مقصد کے لیے پہلے بھی کوششیں کی گئیں۔ بطور مثال عبد اللہ ابن ابی محل ،جو حضرت عباس علمدار وغیر کے ماموں زاد تھے ، کی طرف سے اپنے غلام عبد اللہ کے ہاتھوں بھی امان نامہ بھیجا گیا۔ جس کے جواب میں حضرت عباس نے کہا: "أمان الله خير من أمان ابن سمية." ملاحظہ ہو: مقتل ابی مخنف، ص 103، 104،  بررسی تاریخ عاشورء، ابرہیم آیتی، ص  124۔


ٹیگس: کربلا
+ لکھاری عباس حسینی در 15 Sep 2018 و ساعت 3:3 PM |

حسین علیہ السلام کا سچا حبیب

تحریر: سید عباس حسینی

(مجلہ سفیر روحانیت زیر اہتمام جامعہ روحانیت بلتستان شمارہ ۴، ۲۰۱۷، ص ۴۱ - ۴۳ و ص ۵۴ پر چھپا مضمون)

اس نے غلام کو حکم دیا:"فورا سے پہلے گھوڑا آمادہ کرو۔" اسے اس کے مولا وآقا نے بلایا تھا۔ابھی کچھ دیر پہلے کی بات ہے جب حبیب اپنی زوجہ کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا ۔ زوجہ کے منہ میں لقمہ اٹک گیا۔ مومنہ بول اٹھی: لگتا ہے کسی کریم ابن کریم کا خط آرہا ہے۔ اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی۔پوچھا کہ کون ہے؟ کہا: میں حسینؑ  کا قاصد ہوں۔ حسین ؑ کا نام سننا تھا حبیب کی جبینِ عقیدت احترام میں خم ہوئی۔ ادب سے خط پکڑا اور پڑھنا شروع کیا۔ زوجہ نے پوچھا: کیا لکھا ہے؟بتایا کہ مدد کے لیے بلایا ہے۔

حسین ابن علی ؑنے حبیب کے نام  جودو سطروں کا  خط لکھا تھا اس میں صرف اتنا لکھاہوا  تھا: "مـن الـحـسین بن علی بن أبی طالب الى الرجل الفقیه حبیب بن مظاهر اما بعد: یاحبیب، فانت تـعـلـم قـرابتنا من رسول اللّه صلی الله علیه و آله و انت اعرف بنا من غیرك، و انت ذوشیمة و غیرة فلا تبخل علینا بنفسك، یجازیك رسول اللّه صلی الله علیه و آله یوم القیامة"۔  حسین ابن علی ؑ کی طرف سے مردِ فقیہ حبیب بن مظاہر کے نام۔ اما بعد! اے حبیب۔ رسول خدا ﷺ سے ہماری کیا رشتہ داری ہے تم جانتے ہو۔ باقی سب سے زیادہ تم ہماری معرفت رکھتے ہو۔  اور تم ایک اچھے اخلاق کے مالک اور غیرت مند انسان ہو۔ پس ہماری خاطر اپنی جان لٹانے سے دریغ مت کرنا۔ قیامت کے دن رسول خدا ﷺتمہیں اس کا اجر دیں گے۔

اس نے غلام کو حکم دیا کہ "فورا سے پہلے گھوڑا آمادہ کرو اور شہر سے باہر نخلستان کے ساتھ منتظر رہو۔" حبیب اہل وعیال سے خدا حافظی کر کے جب وہاں پہنچے تو دیکھتے ہیں کہ غلام گھوڑے سے مخاطب ہے: "اگر میرا مولا نہ آئے تو تم فکر مت  کرنا، میں خود تجھ پر سوار امام کی مدد کے لیے جاؤں گا۔ تم مجھے ہوا کی رفتارسے  کربلا پہنچانا۔ اےتلوار تم بجلی کی مانند فرزند فاطمہ ؑکے دشمنوں پر برسنا۔" حبیب غلام کی بات سن کر رو  کر کہنے لگے: میرے ماں باپ آپ پر فداہو ں اے ابا عبد اللہ۔ غلام تجھ پر فدا ہونے کو تیار ہیں۔ ہم آزادآپ پر کیوں کر فدا  نا ہوں؟ غلام سے کہا: تم راہ خدا میں آزاد ہو۔ غلام نے قدموں میں پڑ کر کہا: میرے آقا حبیب!کیا آپ چاہتے ہیں خود جنت چلے جائیں اورہم راہی جہنم ہوں؟ میں بھی آپ  کے ساتھ حسینؑ  کی نصرت  کے لیے جانا چاہتا ہوں۔ دونوں ساتھ کربلا کی طرف گامزن ہوئے۔

اس کے سید و سردار نےاسے  آواز دی تھی، لیکن بتایا نہیں تھا مشکل کیا ہے۔  لیکن حبیب،حسین ؑکے بچپن کا ساتھی تھا۔ فورا سمجھ گیاحسینؑ کسی سخت مشکل میں ہیں۔  اور یہ حبیب اور کوفے کے دوسرے سردار ہی تھے جنہوں نے خط لکھ کر حسینؑ  کو کوفہ بلایا. اور جب حسینؑ نے اپنا قاصد بنا کر مسلم بن عقیل کو کوفہ بھیجا تھا حبیب نے مسلم کا بھرپور ساتھ دیاتھا۔ لوگوں سے مسلم کے لیے بیعت لی تھی ۔ [1]

           حبیب کی خواہش تھی وہ ہوا کے دوش پر اڑ کر جلدی سے اپنے آقا کے محضر میں حاضر ہوں۔راستے بھر میں حبیب سوچ رہا تھا میرے مولا پر کونسا ایسا کٹھن وقت آیا ہے کہ ہم غلاموں کو آواز دی ہے؟ یہ سوچ اس کو اندر سے کھائے جا رہی تھی۔ اس کی خواہش تھی کسی طرح کوفہ اور کربلا کا فاصلہ یکدم ختم ہوجائے۔  لیکن یہ کیا آگے سے دشمن نے کوفہ کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔ انسان تو کیا کوفہ سے نکلنے والے ہر ذی روح پر دشمن کی نظر تھی۔ وہ کسی قسم کی امداد کربلا میں حسین ابن علی ؑکے قافلے تک نہیں پہنچنے دے رہےتھے۔لیکن حبیب اس حصار کو توڑ کر کربلا کے لیے نکلنے میں کامیاب رہے۔

کربلا کا یہ عجیب مرحلہ ہے  جہاں ایک طرف حسین ؑاپنے ساتھیوں کو واپس جانے کی اجازت دے رہے ہیں۔ چراغ گل کر کے کہہ رہے ہیں جاؤ۔ جو جانا چاہتا ہے چلے جاؤ ، میری طرف سے کوئی شکایت نہیں۔ میرے اہل بیت کے ایک ایک فرد کا ہاتھ پکڑ کر انہیں بھی ساتھ لے جاؤ۔ یہاں تک کہ جانے والوں کو جنت کی بھی ضمانت بھی دے رہے ہیں۔ لیکن دوسری طرف کچھ لوگوں کو خصوصی طور پر خط لکھ کر حسین بلا رہے ہیں۔ یقینا یہ خاص الخاص اصحاب ہیں جن کی یاد اس مشکل اور کھٹن مرحلے میں حسینؑ کو آرہی ہے۔  حبیب پر حسینؑ  کی خاص نظر ِکرم ہے۔ آپ کے لشکر کے بارہ علم تھے جن میں سے گیارہ پرچم تقسیم کر دئیےگئے۔ ایک پرچم جو رہ گیا تھا ہر ایک کی خواہش تھی وہ علم اسے حاصل ہو۔ لیکن حسین ؑنے فرمایا: میں یہ علم اس کودوں گا جو اسے دشمن کے سینے میں جا کر گاڑھے گا۔ پوچھا گیا مولا وہ شخص کون ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ میرا فخر، طہارت کا عنصر حبیب بن مظاہر ہے، جو بہت جلد میری مدد کو پہنچےگا۔[2]

حبیب مولا امام حسینؑ کے ہی نہیں، مولائے متقیان ؑاور امام حسن مجتبی ؑکے بھی با وفا ساتھی تھے۔حبیب کو پانچ اماموں کی معیت کا شرف حاصل ہے۔ ہر جنگ میں مولا امیر کا ساتھ دیا تھا، اور نتیجےمیں مولا نے کچھ خاص علم تحفے میں حبیب کو دئیے تھے جن میں سے ایک "علم البلایا و المنایا"  بھی تھا جس کے ذریعے مستقبل کے امور دیکھ سکتے تھے۔ کہتے ہیں ایک دن میثم تمار گھوڑے پر سوار گزر رہے تھے، حبیب نے جب میثم کو دیکھا تو دونوں آپس میں باتیں کرنے لگے۔ حبیب نے کہا: جیسے میں ایک بوڑھے شخص کو دیکھ رہا ہوں جس کے سر کے آگے سے بال نہیں ہیں، پیٹ نکلاہوا ہے۔ "دار رزق" کے سامنے وہ خربوزہ بیچتا ہے۔ اسے محبت اہل بیت کے جرم میں تختہ دار پر لٹکایا جائے گا اور اس کا پیٹ پھاڑا جائے گا۔ حبیب کی مراد اس شخص سے میثم تمار تھے۔ میثم نے بھی فورا کہا: میں بھی ایک شخص کو جانتا ہوں جس کا چہرہ سرخ ہے، پیامبر اکرم کے فرزند کی مدد کے لیے وہ نکلے گااور مارا جائے گا اور پھر اس کے سر کو کوفہ کی گلیوں میں پھرایا جائے گا۔ میثم کی مراد حبیب تھے۔ [3]

یہ وہی حبیب ہیں جو کوفہ میں معلم قرآن تھے۔حافظ قرآن تھے اور  بچوں کو قرآن مجید کی تعلیم دیتے تھے۔ قرآن سے حبیب کو خاص انس اور محبت تھی۔ ہر شب قرآن خوانی میں مشغول رہتے۔ہر رات ایک قرآن ختم کرنا ان کا معمول تھا۔  شاید یہ سب کربلا کی تیاری ہی تھی۔ ایک طرف ثانی زہراء حضرت زینب علیا مقام ؑ کوفے کی خواتین کو قرآن کا درس دیتی تھیں تو دوسری طرف حبیب بچوں کو قرآن سکھاتے تھے۔ کل کو جب حبیب اور دوسرے اصحاب کے سر نیزوں پر اٹھا کر کوفہ لائے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ یہ باغیوں کے سر ہیں تو کوفہ کے بچے چیخ اٹھیں گے: "نہیں، یہ باغی نہیں ہو سکتے، یہ تو ہمیں قرآن سکھایا کرتے تھے۔" اور جب خواتین کو اسیر کر کے قافلے کی شکل میں کوفہ لایا جائے گا اور اعلان کیا جائے گا کہ باغیوں کا قافلہ ہے اس وقت کوفے کی خواتین بول اٹھیں گی:"نہیں ، یہ باغی نہیں ہو سکتیں۔ یہ تو ہمیں قرآن کا درس دیا کرتی تھیں۔"

حبیب گھوڑا دوڑاتے ہوئے کربلا کی طرف گامزن تھے۔ ادھر حسینؑ خیمے میں حبیب کے منتظر ہیں۔ ۶ محرم کا دن ہے۔ خیمے کے باہر موجود لوگ دور سے ایک سایہ دیکھتےہیں جو اس طرف بڑھتا چلا آرہا ہے۔ جوں جوں سایہ نزدیک آتا گیا سوار کے چہرے کا خدودخال واضح ہوتا گیا۔ چہ مگوئیاں شروع ہوئیں۔ یہ صدا ثانی زہرا ؑکے کانوں تک جا پہنچی۔ پوچھنے پر بتایا: دختر علؑی، حبیب ہماری مدد کو آیا ہے۔ زینب کبری ؑنے کہا: اس کے استقبال کے لیے جائیے اور میرا سلام حبیب تک پہنچائیے۔حبیب کا دل تڑپ رہا ہے کہ شاید کربلا پہنچنے میں دیر کر دی ہے۔ کسی نے زینب ؑکا سلام حبیب تک پہنچایا۔ حبیب نے اپنا چہرا پیٹا اور  ایک مشت خاک سر پر ڈال کر کہنے لگے: تف ہو مجھ پر ۔ یہ کیسا وقت آگیا ہے کہ بتول زادیاں  ہم غلاموں کو سلام بھیجیں۔[4]

حبیب کی شجاعت بھی قابل دید ہے۔ جب ہر طرف سے یزیدی فوج کے قافلے پر قافلے آتے جا رہے تھے حبیب مولا کے سامنے جا کر دست بستہ عرض کرتے ہیں مولا یہاں قریب میں ہی بنی اسد کا محلہ ہے۔ اجازت دیں میں جا کر ان کو آپ کی نصرت کے لیے بلاتا ہوں۔ مولا نے اجازت مرحمت کی۔ حبیب رات کی تاریکی اوڑ کر بنی اسد کے ہاں جا پہنچا اور لوگوں سے خوبصورت پیرائے میں کہا:"میں تمہارے پاس نہایت اچھی خبر لے کر آیا ہوں۔ تمہارے نبی ﷺکے فرزند کی نصرت کے لیے تمہیں بلاتا ہوں۔ عمر بن سعد نے ان کو گھیر لیا ہے۔ تم لوگ میرے قبیلے کے لوگ ہو۔ میں یہ نصیحت لے کر آیا ہوں۔ اگر میری بات مانو گے تو دنیا اور آخرت کا شرف پاوگے۔ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تم میں سے جو بھی اس راستے میں مارا جائے گا وہ علیین میں حضرت محمدﷺ کے جوار میں ہوگا۔ "[5] حبیب کی متاثر کن خطابت سن کر عبد اللہ بن بشر نے فورا نصرت کی حامی بھری۔ پھر ایک ایک کرکے لوگ آملے اور تعداد نوے تک جا پہنچی۔ حبیب یہ چھوٹا سا قافلہ لے کر حسینؑ کی طرف چلنے لگے۔ لیکن عمر بن سعد کو خبر ہوگئی تھی۔ چار سو کا لشکر بھیج کر عمر بن سعد نے اس قافلے کو روکا۔ آپس میں گھمسان کی جنگ ہوئی ۔ لیکن بنی اسد کے لوگ حسین ابن علی ؑکے خیموں تک نہ پہنچ سکے۔ حبیب بن مظاہر اکیلے شرمندہ حسینؑ کے پاس واپس آگئے۔ خبر سن کر مولا نے صرف اتنا کہا: لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔

اور حبیب کی معرفت ملاحظہ کیجیے۔ شب عاشور حبیب کو یزید بن حصین نے دیکھا کہ آپ ہنستے ہوئے خیمے سے نکل رہے تھے۔ کہا کہ حبیب! یہ کیا ہنسنے کا وقت ہے؟ حبیب نے جواب دیا: خوشی کا اس سے بہتر موقع اور کونسا ہوگا؟ خدا کی قسم بس کچھ ہی لمحے رہ گئے ہیں جب یہ ظالم لوگ اپنی تلواروں کے ساتھ ہم پر پل پڑیں گے اور ہم جا کے حور العین سے گلے لگائیں گے۔ [6]

حبیب کو لشکر کے  میسرہ کا امیر بنایا گیا تھا۔روز عاشور حبیب کی روح بے تاب ہے۔ سینے میں تنگی سی محسوس ہو رہی ہے۔ روح جسم پر بوجھل ہے۔  جتنا جلدی ممکن ہو فرزند زہراء ؑپر اپنی جان لٹانا چاہتے ہیں۔ صبح سے اب تک کئی بار حبیب دشمن پر حملہ آور ہو چکا ہے۔ لیکن ابھی تک اذن ِشہادت نہیں ملا۔ حسین ؑکے لیے بھی عزیز دوست کی جدائی انتہائی سخت ہے۔ اتنے میں دوپہر کی نماز کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ ابوثمامہ صائدی نماز کی یاددلاتے ہیں تو حسینؑ ، حبیب کو بھیجتے ہیں کہ نماز کی مہلت لی جائے۔ حصین بن نمیر ملعون گستاخی کرتا ہے: حسینؑ سے کہو جتنی چاہے نماز پڑھ لو، ان کی نماز درگاہ خداوندی میں قبول نہیں۔" یہ سن کر حبیب کا چہرہ غصے سے لال ہوجاتا ہے۔ شمشیر نکال کر اس کی زبان کاٹنا چاہتے ہیں۔ درگیر ہوجاتے ہیں۔حصین کی مدد کے لیے اس کے ساتھی آجاتے ہیں اوربھیڑیوں کی بھیڑ میں حسین ؑکا شیر گر جاتا ہے۔ ابھی حبیب کے بدن میں کچھ رمق باقی ہی تھی کہ دشمن پیکر مبارک سے سر کو جدا کر لیتے ہیں۔ حسینؑ تیر کی مانند حبیب کی طرف دوڑتے ہیں۔ حبیب کے بے سر لاشے پر بیٹھ کر حسؑین  نوحہ فریاد کرتے ہیں: "للهِ دَرُّکَ يا حَبِيب لَقَدْ کُنْتَ فاضِلاً تَخْتِمُ الْقُرآنَ فِي لَيلَةِ واحِدَة" . اے حبیب! تو کتنا خوش قسمت ہے۔ تم واقعی بافضیلت ہو جو ایک رات میں قرآن ختم کیا کرتا تھا۔ [7]  اور پھرشکستہ دل کے ساتھ نوحہ پڑھتے ہیں: "عِنْدَاللهِ أحْتَسِبُ نَفْسِي وَحُماةَ أَصْحابِي" میں اپنی  اور اپنے اصحاب کی شہادت کا حساب خدا پر چھوڑتا ہوں۔[8]

کربلا میں حبیب کی قبر آج بھی اس بات  پر گواہ ہے کہ وہ باب الحسین  ؑہیں۔ حسینؑ تک پہنچنا ہے تو حبیب سے ہو کر گزرنا پڑے گا۔  سب شہداء سے الگ حبیب کی قبر اس کےخاص  مقام ا ورالگ منزلت کی گواہ ہے۔ حسینؑ   کا دربان بن کر حبیب ہر آنے والے زائر کو قبیلہ بنی اسد کی طرف سے خوش آمدید کہتےہیں اور ہر جانے والے زائر کو الوداع کرتےہیں۔


حوالہ جات:

 

[1] ۔ دیکھیے: مجید مسعودی، سہ رفیق (حبیب بن مظاہر، میثم تمار، رشید ہجری)، انتشارات دلیل ما، چاپ 4، ص 30۔

[2] ۔ دیکھیے: حیاۃ حبیب بن مظاہر، نشر حرم امام حسین، چاپ اول، 1432 ہجری، ص 83.

[3] ۔دیکھیے: شیخ عباس قمی، سفینۃ البحار، ج 2، ص 26، چاپ اسوہ قم، ط ۱، 1414ہجری۔

[4] ۔ دیکھیے: مجید مسعودی، سہ رفیق، ص 43۔اور حیاۃ حبیب بن مظاہر، ص 103۔

[5] ۔ کشی، محمد بن عمر، رجال کشی، ج 1، ص 292،  موسسہ آل بیت قم، 1404 ہجری، اور علامہ مجلسی، بحار الانور، ج 44، ص 387، چاپ دار احیاء التراث العربی بیروت، 1403 ہجری۔

[6] ۔ شیخ عباس قمی، سفینۃ البحار، ص 27۔

[7] ۔ دیکھیے: مجید مسعودی، سہ رفیق، ص 62 سے 67۔

[8]. حیاۃ حبیب بن مظاہر، ص 163۔


ٹیگس: حبیب بن مظاهر, کربلا
+ لکھاری عباس حسینی در 13 Sep 2018 و ساعت 2:54 PM |