لیبیا کے ساتھ مغربی طاقتوں کا گھناونا کھیل

جنرل قذافی کو آپ بے شک ڈکٹیٹر کہیں لیکن اس کے دور میں لیبیا ترقی کی راہ پر گامزن تھا. میزائل اور ایٹمی طاقت کے حوالے سے لیبیا بہت آگے نکل چکا تھا۔ آفریقہ کا یہ ملک تیل کی دولت سے مالا مال ہے۔ آپ کو یاد ہوگا قذافی کے دور میں لاکھوں غیر ملکی جن میں ایک بڑی تعداد پاکستانیوں کی تھی لیبیا میں مقیم اور وہاں بر سر روزگار تھے۔

پھر مغربی طاقتوں کی طرف سے سازشوں کا سلسلہ شروع ہوا۔۔

 

  • لیبیا کے اوپر پابندیاں لگائیں۔ امریکہ اور یورپ کی طرف سے کہا گیا: ایٹامک انرجی کے حوالے سے ہم سے مذاکرات کریں۔ (عجیب قانون ہے۔ دنیا کے بعض چودھریوں کے پاس ایٹمی میزائل کے نہ صرف انبار لگے ہیں بلکہ وہ اس بم کو معصوم انسانوں پر چیک بھی کر "چیک" ہیں۔ یہی طاقتیں دوسرے ممالک کو آنکھیں دکھا کر کہتی ہیں تمہارے پاس یہ چیز نہیں ہونی چاہیے۔ اس پر صرف ہمارا حق ہے۔ کس بنیاد پر؟؟ کس قانون کے تحت؟ نہیں معلوم۔)
  • لیبیا نے مذاکرات شروع کیے۔۔ نتیجے کے طور پر لیبیا کو اپنے ایٹمی پروگرام سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ (یہ درس ہے کہ دشمن سے جب مذاکرات کرتے ہیں تو اس کی قیمت، مقاومت اور مزاحمت سے زیادہ چکانی پڑتی ہے۔ لیبیا اگر مزاحمت کا راستہ اپناتا تو ممکن تھا آج وہ ایٹمی ملک بن چکا ہوتا اور تباہی سے بھی بچ جاتا۔)
  • کچھ ہی مدت بعد امریکہ اس ایٹمی معاہدے سے نکل آیا اور معاہدے میں طے ہونی والی باتوں پر عمل درآمد سے پیچھے ہٹ گیا۔ (گویا لیبیا کی پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا گیا۔ پہلے اس سے اسلحہ (ایٹم بم) چھین لیا گیا، پھر کہا اب کرو جو کر سکتے ہو۔۔ اور یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ امریکہ کے نزدیک کسی بھی معاہدے کی کوئی اہمیت نہیں۔ امریکہ صرف اپنی چودھراہٹ چلانا جانتا ہے۔)
  • امریکہ کے اس معاہدے سے نکلنے کے بعد لیبیا پر مزید پابندیاں لگنا شروع ہوئیں۔ (دشمن جب آپ سے ایک چیز مانگے، وہ اسے مل جائے اس کے توقعات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ وہ آخری حد تک جانا چاہتا ہے۔ لیکن پہلے مرحلے میں ہی اس کے سامنے بند باندھ لیا جائے تب وہ مایوس ہو جاتا ہے۔)
  • قذافی نے راہ حل کے طور پر یورپی ممالک سے مدد مانگی اور ان کے دامن میں جا گرا۔ اب قذافی کی ساری امیدیں یورپی ممالک سے وابستہ تھیں۔
  • یورپی ممالک آہستہ آہستہ لیبیا کی تجارت اپنے کنٹرول میں لینے لگے۔ کچھ مدت بعد لیبیا اقتصادی طور پر بالکل نابود اور مفلوج ہو گیا۔
  • جب یورپ نے دیکھا کہ لیبیا میں تجارتی حوالے سے اب مزید فوائد نہیں رہے اس نے لیبیا کو تنہا چھوڑ دیا۔ اپنا تمام تر تجارتی خسارے لیبیا سے پورے کئے۔
  • لوگوں کے اوپر اقتصادی دباؤ بڑھا تو وہ سڑکوں پر نکل آئے، جسے عرب بہار کا نام دیا گیا۔ قذافی کے خلاف احتجاج شدت پکڑ گئے۔
  • لیبیا کے اندر موجود امریکہ پسند طاقتیں ان احتجاجات کو کنٹرول کرنے لگیں۔ انہوں نے نے احتجاج کا رخ موڑ دیا اور لوگ قذافی سے استعفی کا مطالبہ کرنے لگے۔
  • جب قذافی نے کرسی چھوڑنے سے انکار کیا امریکہ اور یورپ نے مل کر لیبیا پر حملہ کر دیا۔ لیبیا کی فوج ٹوٹ گئی۔
  • قذافی کی کرسی گری۔ غیر اعلانیہ طور پر لیبیا کئی حصوں میں بٹ گیا۔ لیبیا کا ایک بڑا حصہ داعش کے قبضے میں چلا گیا۔
  • کئی سال گزرنے کے باوجود آج بھی لیبیا نا امن ہے۔ مرکزی حکومت نام کی کوئی چیز نہیں۔ لوگ در بدر ہے۔ مختلف جہادی طاقتیں آپس میں بر سر پیکار ہیں اور ملک میں مسلسل خانہ جنگی ہے۔
  • دوسری طرف امریکی اور یورپی کمپنیاں کم ترین قیمت پر لیبیا کا تیل غارت کر رہی ہیں۔

(اس پوری کہانی میں ان لوگوں کے لیے عبرت ہے جو مزاحمت کا راستہ چھوڑ کر، شیاطین اکبر سے ساز باز کے ذریعے خوشحالی کا خواب دیکھتے ہیں۔ اور یہ شیاطین اپنا مطلب نکالنے کے بعد، ٹیشو پیپر کی طرح ان حکمرانوں کو پھینک دیتے ہیں۔ آل سعود کے پاس ابھی پیسہ بہت ہے۔ فی الحال اس کی ڈیٹ آف ایکسپائری نہیں آئی۔)

+ لکھاری عباس حسینی در 12 Jul 2019 و ساعت 2:24 PM |

یمن کے سابق ڈکٹیٹر علی عبد اللہ صالح کا قتل۔۔۔

کیوں، کیسے اور کس نے کیا؟

 

تحریر: محمد صادق الحسینی

ترجمہ: عباس حسینی

 

اس بھیانک ناکام  انقلاب کی تفصیل جس کے تحت علی عبد اللہ صالح نے انصار اللہ(حوثیوں) کے خلاف بغاوت کی تاکہ وہ دوبارہ  سے یمن کا بلا شرکت غیرے حاکم بن جائیں، اور اپنے  بیٹے کو جو اس وقت عرب امارات میں مقیم ہیں یمن کا صدر بنایا جائے۔ تفصیل کچھ یوں ہے:

۱۔ انصار اللہ کے خلاف بغاوت کی پلاننگ اب سے تقریبا ۸ مہینے پہلے ہوئی۔ اس پلاننگ میں محمد بن زاید(ابوظبی کا ولی عہد)، جنرل شاول موفاز(سابق اسرائیلی وزیر دفاع)، محمد دحلان کے علاوہ علی عبد اللہ صالح شریک تھے۔ ان سب کے علاوہ مقتول یمنی صدر صالح کے بیٹے احمد علی عبد اللہ صالح نے اس میٹنگ میں خصوصی شرکت کی۔

۲۔ ساری  پلاننگ ابوظبی میں ہوئی، جس میں انقلاب کی ساری تفصیلات محمد بن زاید کی طرف سے طے کی گئیں۔ اس کے بعد مزید میٹنگس کے لیے سقطری کےخوبصورت جزیرے کا انتخاب کیا گیا جسے سابق یمنی صدر عبد ربہ منصور نے اماراتیوں کو بیچا تھا۔ اس جزیرے میں لگ بھگ ۹ دفعہ ان کی میٹنگز ہوئیں، جن میں جنوبی یمن میں تعینات اماراتی آفیسرز کے علاوہ اسرائیلی آفیشلز نے بھی شرکت کی جن کے نام شاوول موفاز نے دئیے تھے۔

۳۔ پلاننگ کے تحت علی عبد اللہ صالح کے قریبی ۱۲۰۰ ساتھیوں کو عدن کے شہر میں موجود اماراتی فوجیوں کے اڈے میں خصوصی ٹریننگ دی گئی۔ یہ وہ لوگ تھے جن کاصنعاء کے  انقلاب میں اہم کردار ہونا تھا اور ان کا تعلق علی عبد اللہ صالح کی پارٹی سے نہیں تھا۔ ان لوگوں کو سابق اسرائیلی فوجی آفیسرز نے بھی ٹریننگ دی۔

۴۔ صنعاء اور اس کے اطراف میں ۶ ہزار لوگوں کو الگ سے ٹریننگ دینےکے لیے بجٹ منظور کیا گیا۔  محمد بن زاید کے  کنٹرول روم نےفروری سے لے کر جون ۲۰۱۷ تک، علی عبد اللہ صالح کے قریبی ساتھیوں کے ذریعے،  تقریبا ۲۹۰ ملین ڈالرز عدن سے صنعاء منتقل کئے۔یہ اس ۱۰۰ ملین ڈالرز کے علاوہ ہے جو اگست اور اکتوبر کے مہینے میں علی عبد اللہ صالح کو دئیے گئے۔

۵۔ طے پایا کہ ۲۴ اگست ۲۰۱۷ کو انقلاب کرنا ہے۔ لیکن اماراتی اور اسرائیلی آفیسرز نے بعد میں انقلاب کو آگے کی کسی تاریخ تک موخر کر دیا۔ اس کی  پہلی وجہ یہ تھی کہ عبد اللہ صالح کےلوگ ابھی مکمل تیار نہیں ہوئے تھے۔ اور دوسری وجہ یہ تھی کہ انصار اللہ کے حوثیوں تک اس پلاننگ کی خبر پہنچ چکی تھی، لہذا انہوں نے دار الحکومت اور اس کے اطراف میں اپنا قبضہ مضبوط کر لیا تھا۔

۶۔ جو آفیسرز  اس پلاننگ میں شامل تھے اب انہوں نے فیصلہ کیا کہ دار الحکومت صنعاء اور اطراف میں ۸ ہزار لوگوں کو مسلح تربیت دی جائے ۔ اس مقصد کے لیے مقامی ٹرینرز کے علاوہ، داعش سے بھاگے ان سولہ افراد سے بھی مدد لینے کا فیصلہ ہوا جو اس وقت عدن میں موجود تھے  جو جنگی امور اور امداد میں ماہر تھے۔ان سب کے علاوہ چار سابق اسرائیلی آفیسرز بھی تھے جو اماراتیوں کی مدد سے علاقے میں پہنچے تھے۔

۷۔ دار الحکومت صنعاء کے  ۴۹ خفیہ مقامات پر اسلحہ چھپایا گیا تاکہ انقلاب کے وقت افراد کے درمیان ضرورت کے تحت تقسیم کیا جا سکے۔ کس وقت انقلاب کا آغاز ہو نا ہے وہ سب سے چھپا کررکھا گیا تاکہ انصار اللہ کو سرپرائز دیا جا سکے اور مقابلے میں وہ لوگ فوری طور پر کوئی دفاعی قدم نا  اٹھا سکیں۔ یہ پلاننگ انتہائی احتیاط کے ساتھ ، بہت زیادہ سوچ وبچار  سےکی گئی ۔ فنی اور  دفاعی حوالے سےیہ  ایک مکمل منصوبہ تھا۔

۸۔ یہی وجہ تھی کہ علی عبد اللہ صالح  ۳ دسمبر ۲۰۱۷ تک انصار اللہ کے سامنے لچک دکھانے کو تیار نہ تھے، چونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کے پاس اسلحے کی اور لڑنے والوں کی کمی نہیں۔ اسے گمان تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ ۶ گھنٹے میں دار الحکومت پر قبضہ کرلیں گے۔ جب انصار اللہ کی قیادت کو یقین ہو گیا کہ اب بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں رہا، تو انہوں نے مذاکرات کرنے والوں سے کہا کہ وہ علی عبد اللہ صالح کو ملک سے نکلنے کے لیے محفوظ راستہ دینے کو تیار ہیں۔ شرط یہ ہے کہ وہ ہمارے خلاف  انقلاب سے باز آئیں۔ اگر اس بات کو نہیں مانتے تو ہم صنعاء اور اس کے اطراف کو صرف ۳ گھنٹوں  میں اپنے قبضے میں لے سکتے ہیں۔ اور پھر ۲ اور ۳ دسمبر کو یہی کچھ ہوا۔

۹۔ جب صنعاء میں حالات علی عبد اللہ صالح کے بالکل خلاف ہوگئے ، وہ بھاگنے پر مجبور ہوا۔ اس حوالے سےاپنے بیٹے کے ذریعے متحدہ عرب امارات  کے ساتھ پہلے سے ہماہنگی کی گئی۔ جب علی عبد اللہ صالح  کا قافلہ صنعاء سے نکلا تو  امارات کے جنگی جہاز ان کی فضائی نگرانی اور حفاظت پر مامور تھے۔اس قافلے میں صالح کی بکتر بند گاڑی کے علاوہ تین بکتر بند گاڑیاں آگے اور تین پیچھے حفاظت پر مامور تھیں۔ ان کے علاوہ جدید اسلحےسے لیس مختلف ٹیوٹا  پک اپس بھی ساتھ ساتھ حفاظت کی خاطر چل رہی تھیں۔

۱۰۔ سعودی اتحاد نے صنعاء سے لے کر سنحان تک صالح کے راستے میں آنے والے انصار اللہ کے  ۱۲ مختلف  چیک پوسٹس پر فضائی حملے کئے۔صالح سنحان جا رہا تھا۔ سنحان پہنچنے سے پہلے ، مآرب کے راستے  میں انصار اللہ اور قبائل کے مجاہدین کمین لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے قافلے پر ٹینک شکن میزائلوں کی بارش کر دی۔ اس کے علاوہ بھاری ہتھیاروں سے انتہائی قریب سے حملہ کیا گیا۔  ان کی کوشش تھی کہ علی عبد اللہ صالح کو زندہ گرفتار کر لیا جائے ۔

۱۱۔ سعودی اتحاد کے طیاروں نے بھی اسی جگہے پر بمباری شروع کر دی تاکہ انصار اللہ کے مجاہدین کو عبد اللہ صالح کو گرفتار کرنے سے روکا جا سکے۔ چونکہ انہیں ڈر تھا اگر صالح گرفتار ہوا تو امارات، سعودی عرب اور اسرائیل کی اس سازش سے پردہ اٹھ جائے گا۔ پس در حقیقت عبد اللہ صالح کو مارنے کا فیصلہ سعودی اتحاد کی طرف سے ہوا تاکہ اسرائیل کے ساتھ اپنے براہ راست عسکری تعاون پر پردہ پڑا رہے۔

یمن جنگ کے حوالے سے مزید حیرت انگیز خبروں کے منتظر رہیں جہاں انصار اللہ کے چند ہزار مجاہدین نےاپنی حکمت، ذہانت اور جنگی ٹیکنیک کے ذریعے تمام عالمی طاقتوں کی ناک میں نکیل ڈالا ہوا ہے۔

+ لکھاری عباس حسینی در 5 Dec 2017 و ساعت 11:56 PM |

انقلاب مخملی کیا ہوتا ہے؟

تحقیق: سید عباس حسینی

 

انقلاب مخملی (انقلاب رنگی) (Velvet Revolution) اک خاموش انقلاب ہے جس میں بغیر کسی سختی کے ، خون بہائے بغیر ایک سیاسی نظام کو تبدیل کیا جاتا ہے۔ یا کم از کم اہم حکومتی عہدوں میں تبدیلی لائی جاتی ہے۔ پہلی دفعہ یہ اصطلاح 1989 میں استعمال ہوئی جب یوگو سلاویہ میں اک پر امن انقلاب کے ذریعے روس کی کمیونسٹ حکومت کا خاتمہ ہوا ۔اس انقلاب کو انقلاب رنگی بھی کہا جاتا ہے کیونکہ عام طور پر اس طرح کے انقلاب میں انقلابی ایک خاص رنگ یا نماد /علامت (Symbol) کو اپنی پہچان کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جیسے انقلاب سرخ، یا انقلاب سبز وغیرہ۔

سوویت یونین (Soviet Union) سابقہ روس کی شکست اور ٹوٹنے کے بعد مختلف ممالک نے آزادی حاصل کر لی، لیکن ان ممالک میں روس کے ہی حامى اور کمیونسٹ نظریات کے حامل افراد نے حکومت پر قبضہ کر لیا تھا۔ ایسے میں امریکہ نے اپنے مہروں کے ذریعے ان ممالک میں(مخملی) انقلاب برپا کرنے کی کوشش کی اور اس میں بہت حد تک کامیاب بھی رہے۔ لوگوں کو میدان میں لےآئے اور حکومت کے خلاف اکسایا۔ اس طرح یوکرائن، گرجستان، قازقستان اور سربیا میں مخملی انقلابات برپا ہوئے اور امریکہ کے طرفدار حکومت تک پہنچے۔

 

انقلاب مخملی کی خصوصیات

انقلاب مخملی یا رنگی کی چند اہم خصوصیات یہ ہیں:

 

۱۔ اس طرح کے انقلاب میں سختی اور توڑ پھوڑ کا عنصر نہیں پایا جاتا، بلکہ پر امن مظاہروں اور ریلیوں کے ذریعے سے اپنے مطالبے منظور کیے جاتے ہیں۔

۲۔ نعرہ ہمیشہ جمہوریت اور لیبرالیسم وغیرہ کا بلند کرتے ہیں۔

۳۔ اسٹوڈنٹس اور پرائیوٹ سیکشن اداروں کا زیادہ عمل دخل ہوتا ہے۔

۴۔ انقلاب کی وجوہات میں مرکزی حکومت کی طرف سے مسائل کا حل نہ کرنا، حکومت کی عدم مقبولیت، حکومت کی عدم تبدیلی وغیرہ ہیں۔ اور عام طور پر الیکشن کے فورا بعد دھاندلی کے الزام کے ساتھ اس انقلاب کا آغاز ہوتا ہے۔

۵۔ اس طرح کے انقلاب میں آج تک ڈائرکٹ یا ان ڈائرکٹ امریکہ اور یورپی ممالک کا ہاتھ رہا ہے۔

 

اس طرح مغربی ممالک غیر محسوس طریقے سے خواص (Elites) کی تبدیلی کے ذریعے کسی بھی ملک میں اپنی مرضی کی حکومت حاصل کر لیتے ہیں۔اور لوگوں کو محسوس ہوئے بغیر ملک میں اک خاموش انقلاب آگیا ہوتا ہے۔

+ لکھاری عباس حسینی در 3 Feb 2017 و ساعت 12:14 PM |

شہید نواب صفوی کی بھوک ہڑتال

 (تحقیق : عباس الحسینی)

 

فدائیان اسلام کے لیڈر سید مجتبی نواب صفوی کو اپنی ایک تقریر اور شراب نوشی کے خلاف کیے گئے ان کے اقدامات کی وجہ سے زندان میں ڈال دیا جاتا ہے۔اس وقت مصدق ایران کا صدر تھا۔در حقیقت نواب صفوی ایران میں اسلامی حکومت کے قیام کے لیے کوشاں تھے جس کی پاداش میں انہیں جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ ان کے جیل میں جانے کے بعد فدائیان اسلام کے کارکنوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاری اور شہر بدری شروع ہوجاتی ہے۔ جب یہ خبر زندان میں نواب صفوی تک پہنچتی ہے تو وہ *بھوک ھڑتال* شروع کر دیتے ہیں۔  کچھ دنوں بعد ان کی حالت بگڑ جاتی ہے۔ بار بار بے ہوش ہوجاتے ہیں۔  آقای کاشانی کی طرف سے نمائندہ آتا ہے اور نواب صفوی سے گزارش کرتے ہیں کہ *بھوک ہڑتال* ختم کر دیں۔ لیکن نواب کہتے ہیں کہ جب تک ہمارے ساتھیوں کو رہا نہ کیا جائے *بھوک ہڑتال* جاری رہے گی۔

اس وقت آیت اللہ محمد تقی خوانساری اور آیت اللہ صدر ، آیت اللہ کاشانی اور عدالت عظمی کو خط لکھتے ہیں اور نواب صفوی  کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کچھ دنوں بعد ان کے ساتھیوں کو جو شہر بدر کئے گئے تھے واپس بلا لیا جاتا ہے اور نواب صفوی ۳ مہینے کی قید کاٹ کر مصدق کے دور میں ہی آزاد ہوجاتے ہیں۔ اس طرح تقریبا ایک ہفتے کی مکمل *بھوک ہڑتال* کے بعد نواب صفوی کے مطالبات منظور ہوجاتے ہیں اور وہ اپنی *بھوک ہڑتال* ختم کر دیتے ہیں۔

 

*رہبر معظم اور نواب صفوی* :

رہبر معظم نواب صفوی کو اپنے لیے آئیڈیل سمجھتے ہیں۔

شہید نواب صفوی کی تصویر پر آپ اپنے دست مبارک سے لکھتے ہیں:  «سلام بر آن پیشاهنگ جهاد و شهادت در زمان ما». سلام ہو آ پ پر جو ہمارے اس زمانے میں جہاد اور شہادت کا پیشرو اور مقتدی ہے۔

اسی طرح رہبر معظم فرماتے ہیں :  "اولین جرقه‌های انگیزش انقلابی به وسیله نواب در من به وجود آمد" يعنى مجھ میں انقلاب کی ابتدائی چنگاری نواب صفوی کے ذریعے سے ہی وجود میں آئی۔

اسی طرح سے رہبر معظم نواب صفوی کی کتاب "راہنمائی حقایق" کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں اس کتاب کی بنیاد پر ایران کا قانون اساسی لکھا گیا ہے۔

 

مزید تفصیلات کے لیے:

رہبر معظم کی آفیشل ویب سائٹ:

 

  http://farsi.khamenei.ir/speech-content?id=1231

 

اور

 

https://fa.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D8%AF_%D9%85%D8%AC%D8%AA%D8%A8%DB%8C_%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D8%B5%D9%81%D9%88%DB%8C

 

 

+ لکھاری عباس حسینی در 22 May 2016 و ساعت 12:10 PM |

ایران کا سیاسی نظام

تحریر: عباس حسینی

جمہوری اسلامی ایران کا سیاسی نظام دو بنیادی اصولوں پر قائم ہے۔ اسلامیت اور جمہوریت۔ (Islamic Republic) 1979 میں انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد 50 دنوں کے اندر ایک ریفرنڈم منعقد کیا گیا جس میں عوام کی اکثریت (98 فی صد سے زیادہ) نے ملک کو جمہوری اسلامی بنانے کے حق میں اپنا فیصلہ سنایا۔ ملک کے اسلامی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تمام قوانین ایسے ہوں گے جو اسلام کے بتائے ہوئے اصولوں کے منافی نہ ہوں۔ جبکہ جمہوری ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عوام کو حکومت کے چناو میں براہ راست حق حاصل ہے۔ ولی فقیہ کو بھی مقبولیت عوام بخشتی ہے۔

اس نظام میں ایک رہبر (ولی فقیہ ) ہے جبکہ تین قسم کی الگ قوتیں ہیں۔

۱۔ قوہ مقننہ (Legislative Powers): پارلیمنٹ اور شورای نگہبان (Guardian Council)

۲۔ قوہ مجریہ (Executive Powers): صدر (President) اور اس کی کابینہ (Cabinet)

۲۔ قوہ قضائیہ (Judiciary): عدالتیں

ان کے علاوہ مجلس خبرگان اور مجمع تشخیص مصلحت نظام کے نام سے بھی دو الگ ادارے قائم ہیں جن میں سے ہر ایک کی ذمہ داری اور فعالیت کو ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔

۱۔ ولی فقیہ (Supreme Leader):

ولی فقیہ جمہوری اسلامی ایران میں سب سے بلند مرتبہ ہوتا ہے۔ ولی فقیہ کو مجلس خبرگان کشف کرتی ہے۔ شیعہ عقائد کے مطابق زمانہ غیبت میں حکومت کچھ شرائط کے ساتھ فقیہ ِعادل کا حق ہے ۔

ملک کی سیاست کو جہت دینا اور کلیات طے کرنا ولی فقیہ کا کام ہے۔

ایران کے آئین کے مطابق ولی فقیہ فوج کا بھی سربراہ ہوتا ہے اور قوہ مقننہ، مجریہ اور قضائیہ کے اوپر نگرانی کرتا ہے ۔

۲۔ قوہ مقننہ:

قوہ مقننہ میں پارلمینٹ (Parliament) اور شورای نگہبان (Guardian Council) ہیں۔ پارلیمنٹ کے اعضا کی تعداد 290 ہے جو براہ راست عوامی رائے سے ۴ سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔ پارلیمنٹ کا اسپیکر اراکین اسمبلی کی رائے سے ہر ایک سال کے لیے منتخب ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ کی طرف سے پاس کیا گیا ہر قانون شورای نگہبان میں چلا جاتا ہے جہاں اس بات کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے کہ کہیں یہ قانون اسلامی اصولوں یا ایران کے بنیادی آئین کے مخالف تو نہیں۔ شورای نگہبان کے ۱۲ ارکان ہوتے ہیں جن میں سے ۶ مجتہدین کو ولی فقیہ جبکہ ۶ قانون دانوں کو پارلیمنٹ منتخب کرتی ہے۔ شورای نگہبان کی تائید کے بغیر کوئی بھی قانون آئین کا حصہ نہیں بن سکتا۔

اسی طرح سے صدارتی، پارلمانی اور مجلس خبرگان کے الیکشن کے امیدواروں کی جانچ پڑتال بھی شورای نگہبان کی ذمہ داری ہے۔

۳۔ قوہ مجریہ:

قوہ مجریہ کا سربراہ صدر ہوتا ہے جو کہ براہ راست عوامی رائے سے ہر چار سال کے لیے منتخب ہوتا ہے۔ ایک ہی شخص مسلسل دو مرتبہ ہی صدر بن سکتا ہے۔ کابینہ کے انتخاب میں صدر کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے اندر یا باہر سے کسی بھی شخص کو وزیر بنا سکتا ہے لیکن ہر وزیر کے منصب کے لیے وزیر کے نام کی منظوری اور اعتماد کا ووٹ پارلیمنٹ سے لینا ہوتا ہے۔ مرکزی بینک کا سربراہ بھی صدر منتخب کرتا ہے۔ صدر کا کام آئین اور پارلیمنٹ کے منظور کیے گئے قوانین کے مطابق ملک کا نظام چلانا ہے۔

۴۔قوہ قضائیہ (Judiciary):

قوہ قضائیہ کا سربراہ (چیف جسٹس) ولی فقیہ کے حکم سے پانچ سال کے منتخب ہوتا ہے جو قابل تمدید اور عزل ہے۔ قوہ قضائیہ کی ساری ذمہ داری چیف جسٹس کے اوپر ہے۔

ان کے علاوہ جو ادارے ہیں :

۱۔ مجلس خبرگان (Assembly of Experts):

اس ادارے کے تمام اراکین کے لیے مجتہد اور فقیہ ہونے کی شرط ہے لہذا جو بھی اس کا رکن بننا چاہے شورای نگہبان اس سے اجتہاد کا امتحان لیتی ہے۔ مجلس خبرگان کے اعضا کی تعداد 88 ہے جو سارے کے سارے براہ راست عوامی رائے سے منتخب ہوتے ہیں اور ان کی ذمہ داری موجودہ ولی فقیہ کے اوپر نظارت اور آئندہ ولی فقیہ کو کشف کرنا ہے۔ مجلس خبرگان میں شیعوں کے علاوہ سنی بھائیوں کی بھی سیٹیں مختص ہیں۔

۲۔ مجمع تشخیص مصلحت نظام (Expediency Council):

اس ادارے کا کام ملک کی داخلی اور خارجی سیاست کے حوالے سے کلی پالیسی بنانا ہے (لانگ ٹرم پالیسی بنانا)۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹ اور شورای نگہبان کے درمیان اختلاف کی صورت میں اسے حل کرنا بھی اس کی ذمہ داری ہے۔ اس مجمع کے اعضا کو ولی فقیہ منتخب کرتا ہے۔

خلاصہ:

۱۔ پارلیمینٹ کے اراکین، صدر اور مجلس خبرگان کے اعضا کو عوام براہ راست منتخب کرتی ہے۔

۲۔ کابینہ کے اراکین کو صدر پارلیمنٹ کے مشورے سے منتخب کرتا ہے۔

۳۔ شورای نگہبان کے ۶ اراکین کو پارلیمنٹ اور ۶ اراکین کو ولی فقیہ منتخب کرتا ہے۔

۴۔ صدارتی، پارلمانی اور مجلس خبرگان کے امیداوروں کی صلاحیت کی جانچ پڑتال شورای نگہبان کرتی ہے۔

۵۔ مجلس خبرگان (جو براہ راست عوامی رائے سے منتخب ہوا ہے) موجودہ ولی فقیہ کے اوپر نظارت رکھتی ہے اور آئندہ ولی فقیہ کو کشف کرتی ہے۔

+ لکھاری عباس حسینی در 26 Feb 2016 و ساعت 9:9 PM |

شام میں جاری دوسری جنگ احزاب

تحریر : سید عباس حسینی

 

پیغمبر اکرم (ص) نے اہل بیت اطہار علیہم السلام کو شہر علم کا در قرار دیا۔ تاریخ اس بات کی صاق گواہ ہے یہ در شروع سے ہی علم بانٹتا رہاہے۔ نجف، کربلا، کاظمین، قم، مشہد، سیدہ زینب غرض جس علاقے میں اہل بیت کرام ؑ کا کوئی فرد آرام فرما رہا ہے وہ علاقہ علوم محمد وآل محمد اور ترویج دین کا مرکز بن جاتا ہے۔


پیغمبر اکرم (ص) نے اہل بیت اطہار علیہم السلام کو شہر علم کا در قرار دیا۔ تاریخ اس بات کی صاق گواہ ہے یہ در شروع سے ہی علم بانٹتا رہاہے۔ نجف، کربلا، کاظمین، قم، مشہد، سیدہ زینب غرض جس علاقے میں اہل بیت کرام ؑ کا کوئی فرد آرام فرما رہا ہے وہ علاقہ علوم محمد وآل محمد اور ترویج دین کا مرکز بن جاتا ہے۔سعودی عرب اس لحاظ سے استثناء رکھتا ہے چونکہ وہاں تاریخی حوالے سے اب تک اکثر وبیشتر طاغوت کا ہی راج رہا ہے۔ شام کے دارالحکومت دمشق کے مضافات میں واقع سیدہ زینب کے علاقے کو بی بی ؑ کی نگری ہونے کا شرف کا حاصل ہے۔ بی بی ؑ کی ضریح کے برکات کے طفیل یہ علاقہ علوم محمد وآل محمد اور ترویج دین کا بہترین مرکز رہا ہے۔ لیکن گزشتہ ڈیڑھ سال سے زائد عرصے سے شام میں جاری دوسری جنگ احزاب(بقول حضرت آیۃ اللہ ناصر مکارم شیرازی) کی وجہ سے وہاں کی علمی اور دینی سرگرمیاں بری طرح سے متاثر ہیں اور عوام شدید ذہنی وفکری کرب میں مبتلا ہیں۔

چھٹیاں ختم ہونے کے باوجود وہاں کے حوزات میں اب تک تعلیم کا سلسلہ جاری نہ ہو سکا۔ حرم کے ارد گرد ایک مربع امنی قائم کیا گیا ہے جس کے اندر ایک حد تک ا من اور اطمئنان کا احساس ہوتا ہے اس کے علاوہ ارد گرد کے تمام علاقوں میں باغیوں کے خلاف حکومتی فوج کا ٹارگٹڈ آپریشن جاری ہے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق کئی میزائیل حرم سیدہ کے آس پاس گر چکے ہیں لیکن بی بی ؑ کا یہ معجزہ ہے کہ اکثر میزائیل حرم کی طرف آتے ہی ناکارہ ہو جاتے ہیں اور پھٹتے نہیں۔ پچھلے دنوں مسلح لشکر کشی کے ذریعے حرم مطہر کو مسمار کرنے کی بھی ناکام کوشش کی گئی۔ لیکن اس تازہ ابرہہ کے لشکر کے عزائم کو خداوند متعال نے خود ناکام بنا دیا۔

اس جنگ میں تمام طاغوتی طاقتیں بشار کے خلاف اکھٹی ہو چکی ہیں جن میں بعض اسلامی ممالک بھی پیش پیش ہیں۔ اور ان سب کا واحد ایجنڈا بشار الاسد کی حکومت کو ختم کرنا اور ایک سلفی امریکائی حکومت کا قیام ہے۔بشار کی حکومت پر شیعہ نواز اور ایران وحزب اللہ کی حمایت ومدد کرنے کے الزامات ہیں۔ یہ طاغوتی طاقتیں اب تک کروڑ ہا ڈالرز اس جنگ میں خرچ کر چکے ہیں لہذا اب پیچھے ہٹنا ان کے لیے انتہائی مشکل اور ذلت آمیز ہے۔

اس جنگ میں سعودی عرب، قطر اور ترکی اب تک منحوس کردار ادا کررہے ہیں اور امریکہ نوازی میں اس حد تک آگے نکل چکے ہیں کہ ان کے نزدیک امریکہ کا حکم احکام خداوندی پر مقدم ہے۔ امریکہ اب تک ان ممالک کو اپنے منحوس مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور کل استعمال کے بعد ان کو ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیں گے ۔ سعودی عرب نے شام کے حجاج کرام کو امسال حج کا مقدس فریضہ ادا کرنے سے بھی منع کر دیا ہے۔ ان تمام حالات میں اب تک کی تصویر دھندلی ہے اور پتہ نہیں چل رہا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ خدا نخواستہ بشار الاسد کی حکومت ختم ہوگئی تو عالم اسلام عموما اور ایران، حزب اللہ اور حوزہ علمیہ شام خصوصا شدید مشکلات کا شکار ہوں گے۔

 

+ لکھاری عباس حسینی در 21 Feb 2016 و ساعت 7:6 PM |