لیبیا کے ساتھ مغربی طاقتوں کا گھناونا کھیل
جنرل قذافی کو آپ بے شک ڈکٹیٹر کہیں لیکن اس کے دور میں لیبیا ترقی کی راہ پر گامزن تھا. میزائل اور ایٹمی طاقت کے حوالے سے لیبیا بہت آگے نکل چکا تھا۔ آفریقہ کا یہ ملک تیل کی دولت سے مالا مال ہے۔ آپ کو یاد ہوگا قذافی کے دور میں لاکھوں غیر ملکی جن میں ایک بڑی تعداد پاکستانیوں کی تھی لیبیا میں مقیم اور وہاں بر سر روزگار تھے۔
پھر مغربی طاقتوں کی طرف سے سازشوں کا سلسلہ شروع ہوا۔۔
- لیبیا کے اوپر پابندیاں لگائیں۔ امریکہ اور یورپ کی طرف سے کہا گیا: ایٹامک انرجی کے حوالے سے ہم سے مذاکرات کریں۔ (عجیب قانون ہے۔ دنیا کے بعض چودھریوں کے پاس ایٹمی میزائل کے نہ صرف انبار لگے ہیں بلکہ وہ اس بم کو معصوم انسانوں پر چیک بھی کر "چیک" ہیں۔ یہی طاقتیں دوسرے ممالک کو آنکھیں دکھا کر کہتی ہیں تمہارے پاس یہ چیز نہیں ہونی چاہیے۔ اس پر صرف ہمارا حق ہے۔ کس بنیاد پر؟؟ کس قانون کے تحت؟ نہیں معلوم۔)
- لیبیا نے مذاکرات شروع کیے۔۔ نتیجے کے طور پر لیبیا کو اپنے ایٹمی پروگرام سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ (یہ درس ہے کہ دشمن سے جب مذاکرات کرتے ہیں تو اس کی قیمت، مقاومت اور مزاحمت سے زیادہ چکانی پڑتی ہے۔ لیبیا اگر مزاحمت کا راستہ اپناتا تو ممکن تھا آج وہ ایٹمی ملک بن چکا ہوتا اور تباہی سے بھی بچ جاتا۔)
- کچھ ہی مدت بعد امریکہ اس ایٹمی معاہدے سے نکل آیا اور معاہدے میں طے ہونی والی باتوں پر عمل درآمد سے پیچھے ہٹ گیا۔ (گویا لیبیا کی پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا گیا۔ پہلے اس سے اسلحہ (ایٹم بم) چھین لیا گیا، پھر کہا اب کرو جو کر سکتے ہو۔۔ اور یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ امریکہ کے نزدیک کسی بھی معاہدے کی کوئی اہمیت نہیں۔ امریکہ صرف اپنی چودھراہٹ چلانا جانتا ہے۔)
- امریکہ کے اس معاہدے سے نکلنے کے بعد لیبیا پر مزید پابندیاں لگنا شروع ہوئیں۔ (دشمن جب آپ سے ایک چیز مانگے، وہ اسے مل جائے اس کے توقعات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ وہ آخری حد تک جانا چاہتا ہے۔ لیکن پہلے مرحلے میں ہی اس کے سامنے بند باندھ لیا جائے تب وہ مایوس ہو جاتا ہے۔)
- قذافی نے راہ حل کے طور پر یورپی ممالک سے مدد مانگی اور ان کے دامن میں جا گرا۔ اب قذافی کی ساری امیدیں یورپی ممالک سے وابستہ تھیں۔
- یورپی ممالک آہستہ آہستہ لیبیا کی تجارت اپنے کنٹرول میں لینے لگے۔ کچھ مدت بعد لیبیا اقتصادی طور پر بالکل نابود اور مفلوج ہو گیا۔
- جب یورپ نے دیکھا کہ لیبیا میں تجارتی حوالے سے اب مزید فوائد نہیں رہے اس نے لیبیا کو تنہا چھوڑ دیا۔ اپنا تمام تر تجارتی خسارے لیبیا سے پورے کئے۔
- لوگوں کے اوپر اقتصادی دباؤ بڑھا تو وہ سڑکوں پر نکل آئے، جسے عرب بہار کا نام دیا گیا۔ قذافی کے خلاف احتجاج شدت پکڑ گئے۔
- لیبیا کے اندر موجود امریکہ پسند طاقتیں ان احتجاجات کو کنٹرول کرنے لگیں۔ انہوں نے نے احتجاج کا رخ موڑ دیا اور لوگ قذافی سے استعفی کا مطالبہ کرنے لگے۔
- جب قذافی نے کرسی چھوڑنے سے انکار کیا امریکہ اور یورپ نے مل کر لیبیا پر حملہ کر دیا۔ لیبیا کی فوج ٹوٹ گئی۔
- قذافی کی کرسی گری۔ غیر اعلانیہ طور پر لیبیا کئی حصوں میں بٹ گیا۔ لیبیا کا ایک بڑا حصہ داعش کے قبضے میں چلا گیا۔
- کئی سال گزرنے کے باوجود آج بھی لیبیا نا امن ہے۔ مرکزی حکومت نام کی کوئی چیز نہیں۔ لوگ در بدر ہے۔ مختلف جہادی طاقتیں آپس میں بر سر پیکار ہیں اور ملک میں مسلسل خانہ جنگی ہے۔
- دوسری طرف امریکی اور یورپی کمپنیاں کم ترین قیمت پر لیبیا کا تیل غارت کر رہی ہیں۔
(اس پوری کہانی میں ان لوگوں کے لیے عبرت ہے جو مزاحمت کا راستہ چھوڑ کر، شیاطین اکبر سے ساز باز کے ذریعے خوشحالی کا خواب دیکھتے ہیں۔ اور یہ شیاطین اپنا مطلب نکالنے کے بعد، ٹیشو پیپر کی طرح ان حکمرانوں کو پھینک دیتے ہیں۔ آل سعود کے پاس ابھی پیسہ بہت ہے۔ فی الحال اس کی ڈیٹ آف ایکسپائری نہیں آئی۔)
