جہادِ نفس اور اس کے غنائم

نفس کے ساتھ جہاد کو جہاد اکبر قرار دینے کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ جہاد ہمیشہ اور ہر وقت جاری ہے۔ جہادِ اصغر مخصوص اور محدود وقت کے لیے ہوتا ہے جبکہ جہادِ اکبر کی مدت تا دمِ مرگ ہے۔ ایک طرف اس کے نفسانی خواہشات ہیں جو اسے برائی کی طرف دعوتے دیتے ہیں اور دوسری طرف عقل ہے جو اسے ہوائے نفس کی اطاعت اور منکر سے روکتے ہوئے بلند پروازی کی دعوت دیتی ہے۔ عام جنگ تلواروں، نیزوں، تیروں وغیرہ سے لڑی جاتی ہے جبکہ جہاد نفس کا ہتھیار علم، اندیشہ، معرفت، نیت اور ارادہ ہے۔

نفس، عقل کو فریب دینے کے لیے تمام برائیوں کی تزئین کر کے، خوبصورت بنا کر پیش کرتی ہے۔ قرآن کی تعبیر میں یہ وہی نفسِ امارہ ہے۔ نفسِ مسولہ ہے۔

جس طرح عام جنگوں میں کبھی فتح ہے، کبھی شہادت ہے اور کبھی اسارت۔ جہادِ اکبر میں بھی یہی حالات پیش آتے ہیں۔ اس جہاد میں انسان یا فاتح ہے، یا شہید یا اسیر۔

اس جنگ میں اگر نفس کی جیت ہوئی اور انسان نفس کے سامنے تسلیم ہوگیا تو وہ عقل کو اپنا اسیر بنا لیتا ہے۔ امیر المومنین نے نہج البلاغہ میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے: "كم من عقل أسير تحت هويً أمير" کتنی ہی عقلیں ہیں جو ہوائے نفس کی اسارت میں ہیں۔

اگر انسان زندگی کے آخری لمحہ تک نفس کے خلاف جہاد کرتا رہے اور اس دنیا سے چلا جائے تو اس کی موت شہادت کی موت ہے۔

لیکن اگر انسان، اپنے نفس پر غالب آئے تو یہ انسان کی اصل فتح اور کامرانی ہے۔ جیسے رسول گرامی اسلام نے اپنے بارے میں فرمایا: "میں نے اپنے شیطان کو رام کیا ہے اور وہ اسلام قبول کر چکا ہے۔" یا امیر المومنین علیہ السلام اپنے بارے میں فرماتے ہیں: "هي نفسي أروضها بالتّقوي" یہ میرا نفس ہے جسے میں تقوی کی تربیت دی ہے۔ اب یہ نفس ریاضت کی وجہ سے مکمل کنٹرول میں ہے۔ اب یہ نفس ہے جو مجھ علی علیہ السلام کی اسارت میں ہے۔

اس جنگ میں کامیابی کے بعد، عام جنگوں میں جیسے ہوتا ہے، انسان کو غنائم ملتے ہیں۔ قرآن کی تعبیر کے مطابق "وَنَهَي النَّفْسَ عَنِ الهَوَي فَإِنَّ الجَنَّةَ هِيَ المَأْوَي" جو لوگ اپنے نفس کو ہوا وہوس سے پاک رکھتے ہیں تو ان کا ٹھکانہ جنت ہے۔ جہاد نفس کے غنائم میں جنت اور اس سے بڑھ کر خدا کی رضا ہے۔ اور اس سے بڑی غنیمت کیا ہو سکتی ہے؟

(استفادہ از دروس تفسیر آیت الله جوادی آملی)

+ لکھاری عباس حسینی در 25 Dec 2025 و ساعت 11:41 PM |

ذکرِ الہی کی نشانی

خداوند متعال سورہ بقرہ کی آیت 152 میں فرماتا ہے کہ تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا۔ انسان کیسے مقام ذکرِ الہی پر فائز ہو سکتا ہے؟ کیسے معلوم ہو کہ ہم خدا کی یاد سے سرشار ہیں یا نہیں؟

اہلِ معرفت نے اس حوالے سے ایک نشانی ذکر کی ہے جس سے معلوم ہوگا کہ انسان خدا کے ذکر اور یاد میں مشغول ہے یا نہیں؟

اگر ذکر کے اوقات میں انسان یہ محسوس کرے کہ کوئی ہے جو اس کا ہم نشین ہے۔ وہ اکیلا نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ کوئی اور بھی ہے تو یہ اس بات کی نشانی ہے کہ وہ حقیقت میں حالِ ذکر میں ہے۔

بعض روایات میں اسی مطلب کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ نقل ہوا ہے کہ جب حضرت موسیؑ نے خدا سے مناجات کرنا چاہا تو پوچھ لیا: اے میرے رب! تو نزدیک ہے کہ میں مناجات کروں؟ یا دور ہے کہ میں آواز لگاوں؟ خداوند متعال نے موسیؑ کی طرف وحی کی: اے موسیؑ، میں اس کا ہم نشین ہوں جو میرا ذکر کرے۔

پس اگر اس خدا کی ہم نشینی کی حالت کو اگر کوئی درک کرے تو وہ حقیقت میں حالِ ذکر میں ہے ورنہ نہیں۔

+ لکھاری عباس حسینی در 6 Feb 2023 و ساعت 11:27 PM |

کونسی لذت؟

سید عباس حسینی

ہر انسان لذت چاہتا ہے۔ کونسا انسان ایسا ہے جسے لذت پسند نہ ہو؟ ہمارا کھانا، پینا، ملنا جلنا، سیروتفریح، ازدواجی تعلقات یہاں تک کہ عبادت تک ہر کام اور فعل لذت کی خاطر ہے۔ انسان اس دنیا میں زیادہ سے زیادہ لذت سمیٹنا چاہتا ہے۔

مغربی مادر پدر آزاد لبرل نظام کا نعرہ ہی یہی ہے کہ جتنا ہو سکے اس دنیا میں موج مستی کرو گویا انسان کی زندگی کا مکمل ہدف ہی یہی ہے۔ مغربی معاشرے میں اکثر مرد اور عورت پورا ہفتہ کما کر چھٹی کے دن سارا پیسہ موج مستی میں اڑاتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ لذت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

قدیم یونانی فلسفی اپیکور (Epicurus) کا سارا فلسفہ بھی اسی نظریے پر قائم تھا جس کے مطابق انسانی زندگی کا ہدف لذت اور خوشی تک پہنچنا ہے۔ یہی وجہ ہے اس فلسفی نظریہ (Epicureanism) کو عیش ونوش کے معنی میں لیا جاتا ہے۔ البتہ خود اپیکور کے مطابق عارضی لذت کافی نہیں ہے بلکہ انسان کو ایسی لذت کے پیچھے ہونا چاہیے جو پوری زندگی اس کے ساتھ رہے۔

اسلام حلال اور جائز لذت کا مخالف نہیں۔ اکثر لوگوں کی عبادت بھی لذت ہی کی خاطر ہے، چاہے وہ جنت کی لذت کا حصول ہو یا جہنم کے عذاب سے نجات کی لذت۔ قرآن نے بھی کہا ہے کہ اس دنیا کی زینتوں کو کس نے حرام کیا ہے؟ (قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ) قرآن نے مومنین کے لیے آخرت اور بہشت میں حاصل ہونے والی لذتوں کی بھی پوری ایک فہرست بیان کی ہے۔

اصل مسئلہ دو چیزوں میں ہے:

۱۔ خداوند متعال حکیم ذات ہے لہذا خود انسان اور معاشرے کی ضرورتوں اور مصلحتوں کو دیکھتے ہوئے لذتوں کو منظم کرنے کے لیے اسلام ایک مکمل ضابطہ دیتا ہے اور لذتوں کو جائز و ناجائز اور حلال وحرام میں تقسیم کرتا ہے۔ وہ لذتیں جو انسان اور معاشرے کے نفع میں ہوں وہ حلال اور جائز ہیں جبکہ جو ان کے لیے نقصان دہ ہوں وہ حرام اور ناجائز ہیں۔ یقینا ان کی تعیین کا حق اسے حاصل ہے جسے ان حوالوں سے مکمل علم حاصل ہو۔ اس حوالے سے یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ انسانوں کے افعال سے خود اس ذات کا کوئی فائدہ یا نقصان نہیں پہنچ سکتا لہذا وہ جو بھی ضابطہ اور قانون دیتا ہے انسانوں کی ہی مصلحت اور فائدے کے لیے دیتا ہے۔

۲۔ عام انسانوں کی غلطی یہ ہے کہ وہ لذت کو مادی اور دنیاوں لذتوں میں منحصر سمجھتے ہیں جبکہ اسلامی فلسفہ کے مطابق انسان کے بدن کے علاوہ ایک اور حقیقت بھی ہے جسے روح کہا جاتا ہے۔ اسی طرح چار دن کی اس زندگی کے بعد ایک اور زندگی بھی ہے جسے آخرت کہا جاتا ہے اور وہ زندگی ایسی ہے جس کا کوئی خاتمہ نہیں۔ پس انسان کو بدن کے علاوہ روح کی لذتوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے، دنیا کے علاوہ آخرت کی لذتوں کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔ (بلکہ اصل لذت ہی آخرت کی لذت ہے چونکہ اس دنیا کی لذتیں عارضی ہیں جبکہ اس دنیا کی لذتیں اَبدی۔ اس دنیا کی لذتوں کا آخرت کی لذتوں سے کوئی موازنہ ہی نہیں ہے۔) اسلام نے اس پہلو کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے۔

اگر کوئی شخص یا معاشرہ اس بات کی طرف متوجہ ہو تو یہ اس کی دنیاوی لذتوں کی فراہمی کے لیے بھی انتہائی مفید ہے۔ مثلا اس دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ظلم کی فراونی اور عدالت کی کمی ہے۔ اگر کسی معاشرے پر عدالت کا نظام حاکم ہو تو اس معاشرے کے سارے لوگ بہتر انداز میں لذتوں سے بہرہ مند ہو سکیں گے۔ اب اگر وہ معاشرہ آخرت کو اور اخروی لذتوں کو بھی قبول کرتا ہو تو خود یہ بات وہاں نظام عدل کے قیام میں انتہائی موثر ہے۔ یا مثلا اس دنیا میں غریبوں مسکینوں کا خیال رکھنے کے بدلے خداوند متعال نے آخرت میں خاص لذتوں کا وعدہ دیا ہے۔ ایسے میں آخرت کی طرف توجہ اس دنیا کی لذتوں کی فراہمی میں بھی بہت زیادہ ممد و معاون ہوگی۔

ممکن ہے کوئی مادہ پرست یوں کہے کہ کل کی بات چھوڑیں۔ ہم اس کَل کو نہیں مانتے یا کل کی بات کل دیکھیں گے۔ موجودہ زندگی میں خوب لذت اٹھائیں۔

اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ بعض دفعہ ایک پائدار لذت اور خوشی کے لیے عارضی لذت کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ کوئی کسان سے یہ نہیں کہ سکتا کہ تمہارے پاس کچھ پیسے تو ہیں، جا کر عیاشی کر لو۔ یہ کھیت میں ہل چلانے، پانی دینے، دھوپ میں جھلسنے، فصل کاٹنے کی زحمت کیوں کرتے ہو؟ کل کی بات کل دیکھیں گے۔ کوئی کسی طالب علم سے نہیں کہہ سکتا کہ تم اپنی پڑھائی میں اتنی زیادہ توانائی کیوں خرچ کر رہے ہو؟ اپنی جوانی کا فائدہ اٹھاو اور خوب موج مستی کرو۔ دنیا کے سارے عقلاء اس بات کو مانتے ہیں کہ بعض اوقات ایک پائدار خوشی کو پانے کے لیے کچھ لذتوں کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ اسی طرح ممکن ہے آخرت کی اَبدی زندگی کی ابدی خوشیوں کے حصول کے لیے انسان کو اس دنیا میں کچھ حرام لذتوں سے صرفِ نظر کرنا پڑے۔

+ لکھاری عباس حسینی در 31 Oct 2022 و ساعت 7:20 PM |

علامہ طباطبائیؒ اور ماہِ مبارک رمضان

ماہ رمضان میں صبح تک بیدار رہتے تھے۔ ان کی عادت تھی دعائے سحر گھر کے افراد کے ساتھ ملک کر پڑھتے تھے۔

علامہ حسن زادہ آملی لکھتے ہیں: جب میں حضرت علامہ طباطبائی کے پاس پہنچا اور ان سے نصیحت طلب کی تو انہوں نے فرمایا: "آغا، امام باقرؑ کی دعائے سحر کو کبھی مت بھولنا۔ اس دعا میں (خدا کے) جمال، جلال، عظمت، نور، رحمت، علم اور شرف سب جمع ہیں لیکن حور وغلمان کی کوئی بات نہیں ہے۔ اگر بہشت شیرین ہے تو بہشت کا خالق اس سے زیادہ شیرین ہے۔"

علامہ طباطبائی کی عادت تھی کہ ضریحِ حضرت فاطمہ معصومہؑ پر بوسہ دے کر اپنی افطاری کیا کرتے تھے۔ اس کے بعد گھر واپس آتے اور کھانا کھاتے۔ رمضان کی راتوں میں اگر کہیں مجالس وغیرہ ہو تو ان میں شرکت کیا کرتے۔ بعض اوقات اپنے پورے وجود سے گریہ کرتے گویا کہ ان کا سارا بدن اس دوران لرز رہا ہوتا تھا۔

+ لکھاری عباس حسینی در 21 Apr 2022 و ساعت 12:47 PM |

رمضان، مشق کا مہینہ

جب ہم کسی بچے کو تیراکی سکھانا چاہتے ہیں پہلے اسے ایک چھوٹے سے تالاب میں چھوڑتے ہیں تاکہ وہ اس چھوٹی سی کم گہرائی والی جگہ پر ایک استاد کی رہنمائی میں تیراکی سیکھ لے۔ جب بچہ اس جگہ تیراکی سیکھ لیتا ہے تب ہم اسے سمندر میں بھی (مثلا) تیراکی کی اجازت دے دیتے ہیں۔ انسانی زندگی میں تمرین اور مشق ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ روزہ ، محرمات، واجبات، نفسانی خواہشات اور شہوات سے مقابلے کی ایک مشق ہے۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن فرماتا ہے: "وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ (بقره، ۴۵)"  یہاں صبر سے مراد روزہ ہے۔ یعنی اگر چاہتے ہو اجتماعی زندگی میں حرام چیزوں کے مقابلے میں کامیاب ہو جاؤ تب روزے سے مدد لو۔ لہذا گر انسان ایک چھوٹے سے تالاب میں، سمندر سے لڑنے کی مشق کرتا ہے اسی طرح وہ ماہ مبارک رمضان میں، معاشرے کے سمندر سے مقابلے کی مشق اور تمرین کرتا ہے۔

رمضان میں ہم مشق کرتے ہیں تاکہ اس کے بعد ہم معاشرے میں جائیں اور اگر حرام چیزیں دیکھیں تو ان سے اجتناب کریں۔ شہوات کو دیکھیں تو ان سے پرہیز کریں۔ روزے کا ہدف یہ ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ مسلمان معاشرے کے اندر حاضر رہے لیکن منحرف نہ ہو۔ معاشرے سے کٹ جانا اور گوشہ نشینی اختیار کرنا کوئی فضیلت نہیں رکھتا۔

امام موسی صدر

برای زندگی

+ لکھاری عباس حسینی در 21 Apr 2022 و ساعت 12:44 PM |

رمضان، امام زمانؑ کے ساتھ ہماہنگی کا موقع

روزہ اس حقیقت کا نام ہے کہ انسان حیوانی طبیعت پر غلبہ پا لے تاکہ وہ حقیقتِ قدسی تک راہ پیدا کر لے۔ ہمیشہ اپنے آپ کو نصیحت کرنی چاہیے: "تم جو طبیعت کی دنیا سے باہر نہیں نکلتے ہو، کُوی حقیقت تک تمہیں رسائی نہیں دی جائے گی۔"

شبِ قدر میں وہ شخص کُوی حقیقت کی طرف نظر اٹھا سکتا ہے جس نے کم از کم بیس روزوں کے ذریعے اپنی طبیعت پر غلبہ پایا ہو۔ حلال اور حرام الٰہی کی رعایت کے ذریعے صاحبِ شبِ قدر یعنی حضرت صاحب الزمان کے ساتھ ایک قسم کی ہم آہنگی پیدا کر لی ہو۔

استاد اصغر طاہر زادہ

+ لکھاری عباس حسینی در 11 Apr 2022 و ساعت 11:27 PM |

رمضان، ضیافتِ الٰہی کا مہینہ

رمضان، ضیافتِ الٰہی کا مہینہ ہے۔ انسان اس مہینے میں خدا کا مہمان ہے۔

ضیافتِ الٰہی کے دسترخوان پر خدا کے اسمائے حسنی مطرح ہیں۔ لہذا ہمیں کہا گیا: اخلاقِ خدا میں ڈھل جاؤ۔ ہمیں خدای سبحان کے ان اسماء کا مظہر بننا ہے۔

ہماری روح خدا کے کلمات میں سے ایک کلمہ ہے۔ قرآن بھی خدا کے کلمات میں سے ایک کلام ہے۔ جتنا ممکن ہے اس مہینے میں اس کتاب کا مہمان بننا چاہیے۔ اس کتاب سے استفادہ کرنا چاہیے۔ قرآن پڑھیے اور اپنا درجہ بلند کرتے جائیں۔ اپنے آپ کو کم قیمت پر مت بیچیں۔

بعض (اہلِ دل) نزولِ قرآن اور روزہ میں تناسب یوں بیان کرتے ہیں: قرآن کریم، خدا کی سب سے بڑی آیت اور نشانی ہے، اسی طرح روزہ سب سے بڑی عبادی آیت ہے، لہذا روزہ اسی مہینے میں واجب ہوا ہے۔

 آیت اللہ جوادی آملی

+ لکھاری عباس حسینی در 11 Apr 2022 و ساعت 11:23 PM |

اخلاقی نکتہ

یہ وقت بھی گزر جائے گا!

 

کہتے ہیں کسی بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا میری انگوٹھی پر ایسا جملہ لکھ دیں جسے میں غم اور مشکلات کے موقع پر دیکھ لوں تو خوش ہو جاوں، اور خوشی کے موقع پر دیکھوں تو غمگین ہو جاوں۔

وزیر بہت عقلمند تھا۔ اس نے لکھ دیا: "یہ وقت بھی گزر جائے گا۔"

 

عام طور پر انسان کو مشکلات میں دلاسا دینے والا جملہ یہی ہے کہ "یہ وقت بھی گذر جائے گا۔" جس کے بعد انسان کو ایک اچھے انجام اور بہتر نتیجے کی امید ہوتی ہے۔ انسان تعلیمی اخراجات اور مشکلات برداشت کرتا ہے کہ نتیجے میں ایک خوبصورت مستقبل کی امید ہوتی ہے۔ ایک مزدور دن بھر محنت مزدوری کر کے خون پسینہ ایک کر کے چار آنے کماتا ہے چونکہ اسے یقین ہے اس کے بعد اس کے بچوں کے چہرے پر کچھ خوشی دیکھنے کو ملے گی۔ ایک ملازم مہینہ بھر محنت کرتا ہے چونکہ اسے امید ہے کہ مہینے بعد تنخواہ کی صورت میں کچھ خوشی کا سامان فراہم ہوگا۔

 

"یہ وقت گزر جائے گا" کی بات اس دنیا تک تو ٹھیک ہے۔ لیکن آخرت میں جب انسانوں کے انجام کا فیصلہ ہوگا اس کے بعد جس کا جو انجام ہوگا وہ اسی میں تا ابد رہے گا۔ جس انسان کے لیے جہنم میں خلود لکھا گیا ہو وہ یہ نہیں سوچ سکتا کہ "یہ وقت بھی گزر جائے گا"، بلکہ اس کے بارے یہ حقیقت ہی درست ہے کہ "یہ مشکل وقت ہمیشہ ہی رہے گا۔"

اسی طرح جو انسان بفضل پروردگار جنت میں جائے گا اس کے لیے بھی وہاں خلود ہے۔ اس کی نعتمیں بھی ابدی ہیں۔ وہاں "یہ وقت گزر جائے گا" والی بات ٹھیک نہیں ہے۔

 

کسی بزرگ نے کیا خوب کہا کہ اس دنیا کے امتحان میں تجدید(supplementary) نہیں ہے۔ بس ایک دفعہ موقع دیا گیا ہے اور موت تک کی مہلت ہے۔ اسی ایک دفعہ میں انسان نے یا پاس ہونا ہے یا فیل۔ پاس ہو تو ہمیشہ کی سعادت اور خوش بختی، اگر خدا نخواستہ ناکام ہوا تو شقاوت اور بدبختیوں کا نا ختم ہونے والا سلسلہ۔ لہذا کوشش کریں پہلی کوشش (First attempt) میں ہی یہ امتحان پاس کر لیں اور ہمیشہ کی خوشی اور کامیابی سمیٹ لیں۔

+ لکھاری عباس حسینی در 20 Jul 2018 و ساعت 1:20 AM |

شوق ِشہادت

 

یہ ایک اہم سوال ہے کیسے دنیا کی فوجیں اپنے سپاہیوں کو جنگ کے لیے آمادہ کرتی ہیں؟ خصوصا وہ ممالک اور فوجیں جن پر سیکولر نظریات حاکم ہیں اور جن میں سے بہت سارے آخرت وغیرہ کے بھی اتنے قائل نہیں وہ کیسے  جنگ کا جذبہ اپنے سپاہیوں میں ایجاد کرتے ہیں؟ کیسے ان کی فوج لڑنے مرنے پر آمادہ ہوتی ہے؟

ممکن ہے وہ زیادہ تر وطن پرستی  ، نسل پرستی یا عزت نفس وغیرہ کےمفاہیم کے  ذریعے ان میں یہ جذبے ایجاد کرتے ہوں۔

لیکن اسلام کا طریقہ بالکل مختلف ہے۔

اسلام نے اس حوالے سے مختلف طریقے اپنائے ہیں۔ مادی منافع سے لےکر وہ مفاہیم تک جن کا سمجھنا انسانی عقل کے بس میں نہیں۔

۱۔ جنگ کے نتیجے میں حاصل ہونے والے مادی منافع کی طرف اسلام نے اشارہ کیا ہے۔  بعض سطحی لوگوں کے لیے یہ چیزیں زیاہ اہمیت رکھتی ہیں۔لہذا اسلام نے مال غنیمت کا ذکر کر کے ایسےلوگوں کو جہاد کی ترغیب دی ہے۔

۲۔ دشمن پر کامیابی اور اسے زیر کرنا خود ایک نوع لذت رکھتا ہے۔ دشمن کے سامنے تسلیم نہ ہونا ایک خاص غرور اور کیفیت انسان کو عطا کرتا ہے۔ اسلام نے اس مطلب سے بھی استفادہ کیا ہے۔

۳۔ یہ نکتہ بھی خوب سمجھایا گیا ہے کہ دشمن کے غلبے کی صورت میں کیا کیا نقصان ہو سکتا ہے؟ ناموس کی حفاظت اور شرف و عزت کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی قربانی دینی پڑے تو دینی چاہیے۔ اسلام اس بات پر تاکید کرتا ہے۔

البتہ اب تک جو طریقے بیان کئے گئے ہیں اسلام کے ساتھ خاص ہرگز نہیں۔ ان طریقوں کو دشمن بھی استعمال کر سکتا ہے۔ پس یہ طریقے ایک اسلامی نظام اور سیکولر نظام میں مشترک ہو سکتے ہیں۔ یہ منافع جو جنگ کے ذکر ہوئے در حقیقت جنگ اور جہاد کے اصلی اہداف نہیں ہیں۔ پس سوال یہ ہے کہ جہاد سے اسلام کا اصلی ہدف کیا ہے؟

یہ جو کہا گیا کہ تم جہاد کرو تاکہ بہت سارا مالِ غنیمت تم تک پہنچ جائے ۔ یہ در حقیقت اس مٹھائی کی طرح ہے جو بچے کو دوائی پلانے سے پہلے بہلانے کی خاطر دی جاتی ہے۔ اصل ہدف کڑوی دوائی پلانا ہے جس میں بچے کا مفاد ہے۔ لیکن بچہ اسے تلخ دیکھ کر نہیں پیتا تو بہلانے کی خاطر پہلے ایک مٹھائی کھلائی جاتی ہے۔

4۔ اسلام نے اس کے بعد جو اہم مرحلہ شوقِ جہاد اور شوقِ شہادت کے حوالے سے بیان کیا ہے وہ انتہائی اہم ہے اور خاص ہے۔

اس دنیا میں اگر کوئی معاملہ ایسا ہو جس میں مال بیچنے والے کو 10 فی صد منافع مل رہا ہو تو لوگ اس کو ایک اچھا معاملہ تصور کرتے ہیں۔ اور اگر منافع ۵۰ فی صد ہو تو یہ معاملہ بہت اچھا ہے۔ اگر ۱۰۰ فی صد منافع ہو تو بہت ہی اچھا معاملہ ہے۔ لیکن اس دنیا میں کوئی بھی معاملہ ایسا  نہیں ہوگا جس میں منافع بے نہایت ہو۔کیا ایسا واقعا ممکن ہے؟ اگر ممکن ہو تو کوئی عاقل ایسا ہوگا جو ایسے معاملے سے انکار کرے؟ جو ایسا منافع اپنے لیے نہ چاہے۔؟

یہاں ایک معاملہ ایساہے جس میں معاملے کا ایک طرف خدا ہے اور دوسری طرف بندہِ خدا۔ خدا اپنے عبد سے معاملہ کرنا چاہتا ہے۔

إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰ تِجَارَةٍ تُنجِيكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ

انسان  کی طبیعی عمر زیاہ سے زیادہ ۱۰۰ سال ہے۔ خدا کے ساتھ جس تجارت کی بات ہوئی ہے اس میں شاید چند مہینے، شاید چند دن، شاید چند گھنٹے اور شاید چند منٹ سے زیادہ نہ لگیں۔(حر اور وہب کلبی کی مثالیں سامنے ہیں۔) لیکن مقابل میں جس نفع کی بات ہوئی ہے وہ لا متناہی ہے۔ وہ ختم نا ہونے والا ہے۔وعدہ دینے والا سچا پروردگا ہے۔  کیا اس سے بہتر اور قوی منطق ہو سکتی ہے جو انسان میں شوقِ جہاد اور شہادت پیدا کرے؟ یہ منطق صرف ان لوگوں کے ہاں معنی رکھتی ہے جو حیات بعد از موت کے قائل ہیں۔ لیکن اگر زندگی بس یہی مادی زندگی ہے تو اس نظریے کے تحت مرنا کتنا سخت ہے؟اس کے نزدیک سب کچھ یہی مادی زندگی ہے جس کے بعد اس نے ہمیشہ کے لیے ختم ہونا ہے۔ پس اس زندگی کو  قربان کرنا اس کے لیے انتہائی دشوار ہے۔ لیکن جس کے نزدیک اصل زندگی ہی موت کے بعد شروع ہونی ہے وہ تو شہادت کے شوق میں مرا جاتا ہے۔

دفاع مقدس کی جنگ کے حوالے سے بندہ ایسے لوگوں کو قریب سے جانتا ہوں جو مختلف شہروں سے  سفر کر کے ۴۰ راتوں کے لیے (مثلا شب جمعہ یا شب چہار شنبہ) قم اور مسجد جمکران کا سفر کرتے تھے  اور پھر رات بھر جاگ کر عبادت کیا کرتے تھے۔تاکہ امام زمان کے واسطے سے خدا سے شہادت کی موت مانگ لیں۔ دنیا میں کسی بھی اور نظریے کے پاس ایسا محرک ہے؟ کیا کسی بھی اور اسکول میں ایسے افراد تربیت ہوتے ہیں؟

سوال: کیا اس سے بھی بلند کوئی مرتبہ ہے؟

جواب۔ہاں ہے۔

۵۔ ایک مرحلہ اور ہے جو اسلام نے بیان کیا ہے۔ اس مرحلے میں انسان خدا کے ساتھ تجارت نہیں کرتا۔ نہ خدا سے ثواب مانگتا ہے۔ نہ جنت کا شوق ہے نہ جہنم کا ڈر جو ان میں شوقِ جہاد اور شہادت ایجاد کرے۔ بلکہ چونکہ یہ مادی زندگی ان کے اور ان  کے محبوب حقیقی کے درمیان حائل ہے لہذا کوشش کرتے ہیں جلد از جلد یہ رکاوٹ دور ہو اور یہ اڑ کر اپنے محبوب تک پہنچ جائے۔ اس قفس عنصری میں یہ تنگی محسوس کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اس مادی دنیا کے لیے بنے ہی نہیں ہیں۔

اگر ان کو خداکا دیا ہوا عطیہ ، خدا کی جنت ، خدا کی نعمتیں پسند ہیں تو بھی اس وجہ سے  چونکہ یہ سب چیزیں محبوب کی طرف سے ہیں۔ اس کے ہاتھ سے ہیں،اس کی نشانی ہے  اس لیے پسند ہیں۔

نمونے کے طور پر کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے اشعار ملاحظہ ہوں:

تركت الخلق طرا في هواك *         * و أيتمت العيال لكي أراك

فلو قطعتني في الحب إربا *         * لما مال الفؤاد إلى سواك

 

(استفادہ از درس استاد مصباح حفظہ اللہ، 13 فروری 2018، موسسہ امام خمینی(رہ)، قم)

 


ٹیگس: مصباح یزدی, جنگ و جہاد, شہادت, تجارت
+ لکھاری عباس حسینی در 23 Feb 2018 و ساعت 12:17 AM |

امام خمینی(رح) اور نماز شب

 

  • امام خمینی(رح) نے بیماری کی حالت میں، زندان میں، جلاوطنی کے وقت اور یہاں تک کہ ہسپتال میں جب بسِتر بیماری پر تھے کسی وقت نماز شب نہیں چھوڑی۔
  • آیت اللہ سید مصطفی خوانساری نقل کرتے ہیں: اس سال قم میں بہت زیادہ برف باری ہوئی۔ سردی بھی انتہائی شدت کی تھی۔ اس سخت موسم میں امام خمینی آدھی رات دار الشفاء مدرسے سے مدرسہ فیضیہ آتے تھے۔ مدرسے کے حوض کی برف توڑ کر برف کے نیچے سے پانی نکالتے اور اسی ٹھنڈے پانی سے وضو کر کے واپس اپنے مدرسے آتے اور تاریکی میں نماز شب پڑھنے میں مشغول ہوجاتے۔
  • اس رات امام کے بیٹے حاج مصطفی کے گھر کچھ مہمان ٹھہرےہوئے تھے۔ کہتے ہیں: رات دیر تک علمی ابحاث میں ہم مشغول رہے۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہم سوئے ہی تھے کہ اچانک رونے اور گریے کہ آواز سن مہمان نیند سے پریشانی کی حالت میں جاگ گئے۔ حاج مصطفی کو بیدارکیا اور ان سے کہا: شاید آپ کے ہمسایے میں کوئی فوتگی ہوئی ہے۔آغا مصطفی نے آواز سن کر کہا: نہیں، یہ والد محترم(امام خمینی رہ) کی آواز ہے۔ جب بھی نماز شب پڑھتے ہیں ان کی یہی حالت ہوتی ہے۔
  • قم میں امام خمینی(رہ) بیمار ہوئے۔ ڈاکٹرز کے کہنے پر تہران منتقل کئے گئے۔ موسم بہت سرد تھااور برف باری ہو رہی تھی۔ راستے بھر میں برف جمی ہوئی تھی۔ کئی گھنٹوں کے لیے امام ایمبولینس میں تھے۔ جب کارڈیالوجی ہسپتال تہران پہنچے امام نے وہاں بھی نماز شب پڑھی۔
  • جس رات پیرس سےتہران  امام کی واپسی تھی، جہاز کے اندر سارے لوگ سو رہے تھے۔ صرف امام تھے جو جہاز کے اوپر والی منزل پر جا کر نماز شب پڑھ رہے تھے۔
  • وہ شخص جو جہاز میں امام کے ساتھ تھا،وہ نقل کرتے ہیں:میں نے جسارت کی۔کہا کہ جا کر دیکھ لوں امام کس حالت میں ہیں؟ سیڑھیوں سے ہوتے ہوئے جہاز کی اوپر والی منزل تک جا پہنچا۔ اوپر پہنچتاہوں تو دیکھتا ہوں کہ امام بیٹھے ہوئے ہیں اور نماز پڑھنے میں مصروف ہیں۔ جس طرح عام اوقات میں نماز پڑھتے ہیں۔ ہاں لیکن امام کی صورت آنسووں سے تر تھی۔ آپ نماز شب پڑھنے میں مصروف تھے۔
  • امام کے فرزند حاج احمد نقل کرتے ہیں: جس رات پیرس سے واپسی تھی، جہاز کے اندر امام نماز شب کے لیے اٹھے۔ امام ایسے گریہ کر رہے تھے کہ جہاز کا عملہ تعجب کرنے لگا۔ ہم نے سنا کہ ان لوگوں (جہاز کے عملے ) نے پوچھا بھی تھا: امام کو کسی چیز کا غم ہے کیا؟ میں نے کہا:یہ تو امام کی ہر رات کا معمول ہے۔
  • اسی طرح سے حاج احمد نقل کرتے ہیں: جس وقت قم سے امام کو زندان لے جایا گیاامام نے اس وقت ایسی حالت میں نماز شب پڑھی تھی کہ ان کو لے جانے والے سپاہی بھی متاثر ہوگئے تھے۔ ان میں سے ایک سپاہی تہران میں امام کی نماز دیکھ کر رو پڑا تھا۔
  • ایک اور جگہ وہ کہتے ہیں: جس دن ہم نجف سے کویت کی طرف سفر کے لیے نکلے۔سفر کی تمام تر تھکاوٹ کے بعد ہم  رات کے ۱۲ بجے کے قریب بصرہ پہنچے۔ بصرہ کے ایک ہوٹل میں کچھ دیر کے لیے آرام کیا۔ ابھی شاید ۲ گھنٹے نہیں گزرے ہوں گے کہ امام کی گھڑی نے الارم بجائی، امام اٹھ کھڑے ہوئے اور نماز شب پڑھنے میں مصروف ہوگئے۔
  • شہید محراب آیت اللہ صدوقی نقل کرتے ہیں: ہم امام کے ساتھ کئی دفعہ سفر میں ساتھ تھے۔ مشہد کے سفر میں، ہمارے ساتھ خصوصی شفقت سے پیش آتے۔ ایک دفعہ مشھد سے واپسی پررات کے وقت  روسی سپاہیوں نے راستے میں ہماری گاڑی روک لی۔ سب لوگ گاڑی سے اترے۔ امام چونکہ ہمیشہ سے نماز شب کے پابند تھے، اترتے ہی نماز شب پڑھنے کی تیاری کرنے لگے۔ اس صحراء کے بیج میں پانی کہاں سےلاتے؟ ایک دفعہ دیکھا کہ امام کو کہیں سے پانی مل گیا ہے اور آپ آستین اوپر کر کے وضو کرنے میں مصروف ہیں۔

 

  • امام کی زوجہ نقل کرتے ہیں کہ جب سے امام کی عمر ۲۸ سال تھی(جس سال شادی ہوئی) سے لے کر  اب تک ان کی کوئی نماز شب قضا نہیں ہوئی۔ آیت اللہ فاضل لنکرانی نقل کرتے ہیں کہ   امام نے ۷۰ سال مسلسل بلا ناغہ نماز شب پڑھی ہے۔امام کی یہ عادت تھی کہ صبح کی نماز  سے دو گھنٹہ پہلے بیدار ہوتے تھے۔ کچھ دیر کے لیے قرآن کی تلاوت کرتے تھے اور نماز شب میں مشغول ہوتے تھے۔
  • (ترجمہ: سید عباس حسینی)

ٹیگس: امام خمینی, نماز شب
+ لکھاری عباس حسینی در 27 Jan 2018 و ساعت 8:21 PM |