برہانِ امکان ووجوب

اس بحث کی وجودی جہت (Ontological Aspect) کو معرفتی جہت (Epistemological Aspect) سے الگ کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر علمی اور معرفتی حوالے سے واجب اور ممکن کا تصور ایک دوسرے پر موقوف ہے یا بہتر الفاظ میں تصور میں دونوں ایک ساتھ ہیں (بلکہ سارے فسلفی مفاہیم اسی طرح ہوتے ہیں، جیسے وجود اور عدم، علت اور معلول، قدیم اور حادث، متحرک اور ساکن) اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وجودی طور پر بھی ایک دوسرے پر موقوف ہیں۔

برہانِ امکان ووجوب کا سادھا سا مدعا یہ ہے کہ

۱۔ آپ وجود کو مانتے ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں مانتے تو آپ سفسطہ کے قائل ہیں۔

۲۔ اگر آپ کسی بھی وجود کو مانتے ہیں تو اس وجود کو واجب الوجود مانتے ہیں یا ممکن الوجود۔ کوئی تیسری صورت عقلی طور پر فرض نہیں ہو سکتی۔

۳۔ اگر واجب الوجود مانتے ہیں تو واجب الوجود کا وجود ثابت ہوگیا۔

۴۔ اگر ممکن الوجود مانتے ہیں تو ممکن الوجود کا وجود، واجب کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ (اس دلیل کی تصدیق کے لیے صرف ممکن اور واجب کا درست تصور ہی کافی ہے۔ یعنی خود اس کا درست تصور اس کی درست تصدیق کا سبب بنے گا۔) عقلی طورپر اس کو یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ ممکن الوجود کے لیے وجود ضروری نہیں تھا۔ پھر کیوں کر وجود میں آیا؟ اس کی علت کیا ہے؟ اگر بغیر علت کے وجود میں آیا تو آپ قانونِ علیت کا انکار کر رہے ہیں۔ اگر علت کو مانتے ہیں اس علت کے بارے میں یہی سوال تکرار ہوگا کہ واجب ہے یا ممکن۔ اگر واجب ہے تو مطلوب ثابت ہے اگر ممکن ہے تو پھر علت کی ضرورت ہے۔ تسلل محال ہے۔ لہذاعقل کہتی ہے معلولات کا سلسلہ ایک واجب تک پہنچ کر ضرور رکے گا۔

بلکہ اس برہان کو یوں بھی پیش کیا جا سکتا ہے جہاں تسلسل کے استحالہ کی طرف جانے کی بھی ضرورت نہ ہو کیونکہ ممکنات کا وجود خود اس بات کی نشانی ہے کہ یہ سلسلہ واجب پر منتہی ہوا ہے۔ وضاحت اس کی یہ ہے کہ ممکنات کا وجود ہماری نظر میں یقینی ہے۔ اگر اس جہان میں موجود تمام موجودات، ممکن الوجود (Contingent) ہوں تو ان میں سے کسی کو بھی موجود نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اب جبکہ موجود ہیں تو اس کا مطلب اس سلسلے کے آغاز میں ایک واجب الوجود، موجود ہے۔ کیونکہ ہر ممکن الوجود یہی کہتا ہے کہ میرا وجود کسی اور سے ہے۔ اگر کائنات میں موجود تمام ممکنات کو ہم ایک واحد (One Unit) کے طور پر دیکھیں تو یہی بات وہاں تکرار ہوگی۔ یعنی پوری کائنات اپنی زبانِ بے زبانی سے کہے گی جب تک میری علت نہ ہو میں وجود میں نہیں آسکتی۔ اگر اس علت کو ممکن الوجود فرض کریں تب وہ اسی ون یونٹ کا حصہ ہے۔ جب تک واجب الوجود کو نہیں مانیں گے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک دوڑ کا مقابلہ ہونا ہو۔ دوڑ کا حصہ بننے والا ہر کھلاڑِی کہے: جب تک مجھ سے پہلے والا نہیں دوڑے گا میں نہیں دوڑوں گا۔ تیسرا بھی یہی کہے، چوتھا بھی۔۔۔ اب اگر آپ دیکھیں کہ دوڑ کا مقابلہ شروع ہو چکا ہے تو ہم سمجھیں گے کہ کوئی ایک ایسا ضرور تھا جس نے یہ شرط نہیں لگائی کہ مجھ سے پہلے کوئی ہونا چاہیے جو دوڑ کا آغاز کرے۔ پس تمام ممکنات گواہی دیتے ہیں کہ ہم سے پہلے ایک موجود ایسا ہے جس سے اس کائنات کی دوڑ کا آغاز ہوا ہے۔ آپ اس پہلے موجود کا نام جو بھی رکھیں، دین کی زبان میں اسے اللہ اور خدا کہا جاتا ہے۔

+ لکھاری عباس حسینی در 3 Jan 2026 و ساعت 11:29 AM |

کچھ باتیں مشہور مناظرے سے متعلق

مفتی شمائل صاحب اور جاوید اختر صاحب کے درمیان خدا کے وجود (The Existence of God) کے حوالے سے مناظرے کو مکمل دیکھنے کے بعد علم کلام اور فلسفہ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے چند ایک نکات عرض ہیں:

۱۔ مفتی صاحب نے بہت اچھی گفتگو کی۔ دلائل سے بات کی۔ میرے خیال سے وہ منطق اور فلسفہ خوب پڑھے ہوئے تھے جس کی وجہ سے وہ بہتر دفاع کر پائے۔ اور پھر انگلش اور زبانِ روز پر تسلط ان کا پلس پوائنٹ تھا۔

۲۔ جاوید اختر صاحب نے Faith اور Belief میں جو فرق بیان کیا وہ بالکل غلط ہے۔ وہ دینی عقائد کو فیتھ میں ڈال رہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ فیتھ وہ ہے جس پر کوئی دلیل نہ ہو۔ یہ ایک تہمت کے سوا کچھ نہیں۔

موجودہ عیسائیت کی حد تک شاید یہ بات درست ہو، لیکن اسلام میں ایسا نہیں ہے۔ ہمارا تو یہ کہنا ہے کہ جب تک دلیل نہ ہو کوئی بات قبول کی ہی نہیں جا سکتی۔ قرآن کریم نے بھی کہا ہے کہ اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل اور برہان لے آو۔ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ

۳۔ جاوید صاحب کا یہ کہنا کہ تاریخی طور پر بہت سارے خدا ختم ہوئے ہیں یہ خدا کے تصور کے ہی غلط ہے۔ جو ختم ہو وہ کیسے خدا ہو سکتا ہے؟ خدا کے بارے میں ہمارا نظریہ ہے کہ وہ ازلی اور ابدی (Eternal) ہے۔ خدا واجب الوجود (Necessary Being) ہے۔ واجب الوجود کے بارے میں ختم ہونے کی بات تناقض(Contradiction) ہے۔

۴۔ یہ کہنا کہ "مذہب سوال کی اجازت نہیں دیتا" یہ بھی تہمت ہی ہے۔ کم از کم اسلام نے سوال کرنے کی پوری اجازت دی ہوئی ہے۔ ہمارے ائمہ علیھم السلام کی سیرت بھی اس بات پر گواہ ہے کہ لوگ ان کے پاس آکر سخت سے سخت سوال پوچھتے تھے۔ فقہی حوالوں سے بھی ہر طرح کے سوالات بلا ججھک پوچھ لیتے تھے۔ احادیث کی کتاب اس بات پر گواہ ہیں۔

۵۔ مذہب سائنس کے خلاف ہے۔ یہ بات بھی انتہائی غلط ہے۔ اسلام نے سائنس کو اہمیت دی ہے۔ زمین اور آسمان کو تسخیر کرنے کی بات کی ہے۔ ائمہ علیہم السلام کے شاگردوں میں بہت سارے ایسے تھے جو سائنسی علوم پر کام کر رہے تھے اور امام ان کی رہنمائی کرتے تھے۔ جابر بن حیان، ہشام بن حکم، مفضل بن عمر چند مثالیں ہیں جنہوں نے دینی موضوعات کے علاوہ ہیئت، نجوم، کیمسٹری وغیرہ کے حوالے سے کام کیا ہے۔

ہاں بعض جاہل مولویوں نے اگر کچھ جدید سائنسی ایجادات کی مخالفت کی ہے تو اس سے یہ ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ اسلام سائنس کے خلاف ہے۔

۶۔ کائنات کی تخلیق سے پہلے خدا کا کام کیا تھا؟ یہ سوال ابن سینا نے بھی پوچھا تھا۔ جواب یہ ہے کہ آپ ایک ایسا مرحلہ کیوں فرض کر رہے ہیں جہاں خدا ہو اور کائنات نہ ہو۔ اسلامی فلسفہ کے مطابق یہ کائنات قدیم ہے اور جب سے خدا ہے یہ کائنات بھی ہے۔ خدا کا فیض اور فضل دائمی ہے۔ البتہ کائنات اس مادی کائنات کے مساوی ہرگز نہیں ہے۔

۷۔ یہ کہنا کہ "جب خدا تھا تو وقت بھی تھا" یہ خدا اور وقت کے غلط تصورات پر مبنی ہے۔ اس حوالے سے ان دونوں تصورات پر مفصل گفتگو کی ضرورت ہے۔ مختصر یہ کہ وقت مادی چیزوں (Matter) کا خاصہ ہے۔ ہمارے نظریہ کائنات میں خدا مجرد ہے، مادی نہیں۔

۸۔ کائنات میں موجود شرور کے فلسفہ کے حوالے سے بھی علماء نے مفصل گفتگو کی ہے اور مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ ان کی طرف رجوع کی ضرورت ہے۔ سب سے اہم مسئلہ انسان کے اختیار (Free Will) کا ہے۔ اگر سوال کریں کہ کیا خدا ایسا جہان نہیں بنا سکتا تھا جہاں کوئی برائی نہ ہو۔ جواب یہ ہے کہ بنا سکتا تھا اور خدا نے بنایا بھی ہے جسے ہم فرشتوں کی دنیا کہتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا خدا کو مادی دنیا بنانا چاہیے تھا جہاں لوگ برائی کا بھی شکار ہوں۔ جواب ہے جی ہاں۔ اس کائنات میں خیر کا پہلو شر کے پہلو سے زیادہ ہے۔

ایک مسئلہ یہ ہے کہ ہم خیر اور شر کو ہمیشہ کمی (Quantity) حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ اسے کیفی (Quality) کی حیثیت سے بھی دیکھنے کی ضروت ہے۔

بہرحال ان میں سے ہر ایک نکتے پر مفصل گفتگو ہو سکتی ہے۔ سردست اتنا ہی۔

والسلام مع الاکرام

سید عباس حسینی

قم، 22 دسمبر 2025

+ لکھاری عباس حسینی در 22 Dec 2025 و ساعت 8:47 PM |

نبوت کی ضرورت

نبی کی ضرورت کیا ہے؟ کیوں خداوند متعال نے انبیاء علیھم السلام کو مبعوث کیا؟

نبوت کی ضرورت کی بحث وحی کی ضرورت کے بحث سے مربوط ہے۔ پس ایک لحاظ سے یہ سوال یوں مطرح ہوگا کہ انسان کو وحی کی کیا ضرورت ہے؟ کیا وحی کے بغیر انسان زندگی نہیں گزار سکتا تھا؟ کیا زندگی گزارنے کے لیے انسانی عقل کافی نہیں تھی؟ خاص طور پر جب موجودہ انسان نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اپنی عقل کی بنیاد پر ترقی اور تکامل کے زینے طے کر سکتا ہے۔ مغربی تمدن اس کی واضح مثال ہے۔

اس سوال کے جواب میں سب سے پہلے ہمیں انسان کی حقیقت اور اس دنیا کی حقیقت سے بحث کرنی ہوگی۔ آپ کی نگاہ میں انسان کی ساری حقیقت اس کا یہ مادی بدن ہے؟ یا اس کے علاوہ بھی اس کے وجود کا کوئی حصہ ہے؟ جب تک یہاں آپ کا موقف واضح نہیں ہوگا وحی اور نبی کے حوالے بھی ہم بات نہیں کر سکتے۔

ہماری نگاہ میں انسان اس مادی بدن کے علاوہ ایک غیر مادی روح (نفس) بھی رکھتا ہے۔ بدن کی اپنی ضروریات ہیں اور روح کی اپنی۔ اور ہماری نگاہ میں انسان ایک ابدی موجود ہے جس نے ہمیشہ زندہ رہنا ہے۔ بدن کی ظاہری موت سے انسان مرتا نہیں بلکہ اس سے برتر ایک جہان میں منتقل ہوتا ہے جہاں اس نے ایک نا متناہی زندگی گزارنی ہے۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ انسان اس دنیا میں جو بھی فعل انجام دیتا ہے اس کا تکوینی اثر اور لازمی نتیجہ دوسری دنیا یعنی آخرت میں ظاہر ہونا ہے۔ یعنی اس دنیا کی زندگی اور اس میں انجام دئے گئے افعال کا آخرت کی زندگی سے ایک گہرا تعلق ہے۔

ایسے میں دنیا کا کونسا ایسا عالم اور کونسا ایسا علم ہے جو دنیاوی افعال اور ان کے اخروری نتائج کے تعلق کو بیان کرے جبکہ یہ تعلق ایسا ہے جس کی بنیاد پر انسان کی ابدی سعادت یا ابدی شقاوت کا فیصلہ ہونا ہے؟ یہ وہ مقام ہے جہاں وحی اور نبوت کی ضرورت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ وحی کے ذریعے خداوند متعال ہدایت کے وہ تمام امور انسانوں تک پہنچاتا ہے جو ان کی ابدی سعادت اور شقاوت میں دخیل ہیں۔ خداوند متعال اپنے نا متناہی علم کی بنا پر تمام تر افعال اور ان کے نتائج کے تعلق کو جانتا ہے۔ یہاں عقلِ بشری کے اندازے کافی نہیں ہیں۔ پس انسان کی حقیقت، معاد کی ضرورت اور دنیا وآخرت کے تعلق کو جاننے کے بعد وحی اور نبوت کی ضرورت بھی خود بخود واضح ہو جاتی ہے۔

+ لکھاری عباس حسینی در 9 Oct 2022 و ساعت 7:42 PM |

عصمت حضرت آدم علیہ السلام

علامہ طباطبائی کا نظریہ

مفسر کبیر حضرت علامہ طباطبائی فرماتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کے متعلق جنت کا پھل نہ کھانے کے حوالے سے جو منع اور نہی آئی ہے وہ شرعی نہی نہیں تھی۔ بلکہ

* ارشادی نہی تھی، لہذا معصیت سے مراد اصطلاحی معصیت اور گناہ نہیں ہے۔*

اس قصے سے متعلق نازل ہونے والی آیات اور پھل کھانے کے حوالےسے جو منع کیا گیا ہے اس میں دقت سے یہ بات یقینی طور پر معلوم ہو جاتی ہے کہ جو نہی (منع) آئی ہے وہ مولوی (گناہ والی) نہی نہیں تھی بلکہ ارشادی نہی تھی جس کے ذریعے اس بات کی طرف ہدایت کی جارہی تھی کہ اس کام (درخت سے نہ کھانے) میں بھلائی اور صلاح ہے۔ پس یہاں اس کام سے رکنے کے حوالے سے خدا کا حتمی کوئی حکم نہیں تھا۔

لكن التدبر في آيات القصة و الدقة في النهي الوارد عن أكل الشجرة يوجب القطع بأن النهي المذكور لم يكن نهيا مولويا و إنما هو نهي إرشادي يراد به الإرشاد و الهداية إلى ما في مورد التكليف من الصلاح و الخير لا البعث و الإرادة المولوية.

آیات میں اپنے نفس پر جس ظلم کی بات کی گئی ہے وہ نفس کو تھکاوٹ اور ہلاکت میں ڈالنے کے معنی میں ہے۔ وہ والا ظلم نہیں ہے جو خدا کی ربوبیت اور عبودیت کے مقابلے میں ہو۔

توبہ خدا کی طرف رجوع کے معنی میں ہے۔ اگر خدا کی طرف سے قبول ہو تو گناہ معدوم ہو جاتا ہے گویا جیسے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو۔ اگر حضرت آدم علیہ السلام کے مورد میں خدا کی طرف سے جو منع کیا گیا تھا وہ شرعی منع ہوتا تب حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ بھی اسی کام سے ہوتی ۔ جب خدا نے ان کی توبہ قبول کر لی تب اس کا لازمہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ ان کو واپس جنت بھِج دیا جاتا، حالانکہ ایسا نہیں ہوا۔ یہاں سے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ منع، شرعی منع نہیں تھا۔

اگر شرعی منع نہیں تھا تو خداوند متعال نے اسے کیوں کر "ظلم"،اور"عصیان" قرار دیا ہے؟

ظلم سے مراد اپنے نفسوں پر ظلم ہے۔ نہ خدا کی عبودیت اور اطاعت کو چھوڑنے کے حوالے سے ظلم۔

عصیان لغت میں کسی کے اثر کو قبول نہ کرنے یا مشکل سے قبول کرنے کے معنی میں ہے۔ کسی حکم یا منع سے متاثر نہ ہونے کو عصیان کہا جاتا ہے۔ عصیان کا اطلاق جس طرح سے شرعی احکام کے حوالے سے ہوتا ہے اسی طرح ارشادی اور عقلی احکام کے حوالے سے بھی ہوتا ہے۔

اگر گناہ نہیں کیا تھا تو توبہ کس بات کی تھی؟

توبہ، رجوع کے معنی میں ہے۔ جس طرح سے باغی عبد کا اپنے مولا کی طرف رجوع ہوتا ہے اسی طرح سے جس مریض کو ڈاکٹر نے کسی کام سے منع کیا ہو (ارشادی نہی)، اب مریض اس کی رعایت نہ کرے، وہ بھی رجوع کر سکتا ہے اور ڈاکٹر کی بات کی طرف پلٹ سکتا ہے۔ حالانکہ یہاں کوئی شرعی گناہ نہیں ہے۔

(تفسیر المیزان، ج1، ص136 تا 138)

امام رضا علیہ السلام کی ایک روایت میں بیان ہوا کہ آدم علیہ السلام نے جنت میں "معصیت" کی ہے، زمین پر نہیں۔ یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ درخت سے نہ کھانے کا حکم، شرعی حکم نہیں تھا چونکہ جنت میں اس طرح کے شرعی احکام تھے ہی نہیں۔ شرعی احکام زمین کے لیے ہیں اور ان کا آغاز تب ہوا جب حضرت آدم زمین پر اتر آئے۔ پس یہاں منع کا حکم کوئی شرعی حکم نہیں تھا۔ (المیزان، ج 1، ص145)

اور جس روایت میں کہا گیا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی معصیت مبعوث بہ نبوت ہونے سے پہلے تھی اس کے راوی علی بن محمد بن جہم ہیں۔

شیخ صدوق اس روایت کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: یہ غریب حدیث ہے (صرف ایک راوی نے نقل کیا ہے)۔ یہ روایت علی بن محمد بن جہم نے نقل ہوئی ہے جو اہل بیت اطہارؑ سے نفرت، بغض اور عدات میں مشہور تھا۔ (عیون اخبار الرضا علیہ السلام، ج1، ص204)

قال مصنف هذا الكتاب هذا الحديث غريب من طريق علي بن محمد بن الجهم‏ مع نصبه و بغضه و عداوته لأهل البيت۔

علامہ طباطبائی فرماتے ہیں: اس سے زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ اس روایت میں تنزیہ انبیاء کی بات تو کی گئی ہے لیکن اس سے جو اصول اور قوانین اخذ کئے جا رہے ہیں ان کی طرف توجہ نہیں ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کے حوالے سے جو بات یہاں نقل ہوئی ہے (کہ نبوت سے پہلے گناہ کیا تھا) ائمہ اہل بیت علیہم السلام کے مذہب کے موافق نہیں ہے۔ ان سے مستفیض روایات نقل ہوئی ہیں کہ انبیاء نہ چھوٹے گناہ انجام دیتے ہیں نہ بڑے، نہ قبل از نبوت گناہ انجام دیتے ہیں نہ بعد از نبوت۔

وما أعجبه منه إلا ما شاهده من اشتماله على تنزيه الأنبياء من غير أن يمعن النظر في الأصول المأخوذة فيه، فما نقله من جوابه (ع) في آدم لا يوافق مذهب أئمة أهل البيت المستفيض عنهم من عصمة الأنبياء من الصغائر و الكبائر قبل النبوة و بعدها.

(المیزان، ج1، ص 146)

+ لکھاری عباس حسینی در 27 Sep 2022 و ساعت 9:38 AM |

فلسفۂ ختم نبوت

 

وہ کیا وجہ اور علت ہے جس کی بنا پر نبوت کا سلسلہ ہمارے آقا ومولا نبی اکرمﷺ پر آکر ختم ہوا؟

 ایسا کونسا کام انجام پایا جس کی بنا پر اب نبوت اور رسالت کی ضرورت باقی نہیں رہی؟

اس سوال کا جواب وہی فلسفہ ختم نبوت ہے جس کے بارے میں ہم مختصر بیان کریں گے۔

یہ اسلام کا مسلمہ عقیدہ ہے کہ حضور اکرمﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں۔ اب اللہ کی طرف سے مزید کسی نبی یا رسول نے نہیں آنا۔ اس بات پر قرآن و سنت سے محکم ادلہ موجود ہیں لہذا سب مسلمان اس عقیدے کو ضروریاتِ دین میں سے قرار دیتے ہیں۔

ختم نبوت کی اہم ترین دلیل یہ ہے کہ بشریت طفولت کے مرحلے سے نکل کر فکری بلوغت اور اجتماعی رشد کے اس آخری مرحلے تک پہنچ چکی ہے جہاں اللہ تعالی نے اس تک اپنا آخری پیغام پہنچا دیا ہے۔ اب قیامت تک کے لیے یہی پیغام باقی اور کافی ہے۔ اس پیغام میں اتنی گنجائش موجود ہے کہ وہ قیامت تک آنے والے انسانوں کی ہدایت کر سکتا ہے۔ یہ پیغام ہر زمان اور ہر مکان کے لیے کافی ہے۔ پس ایسے میں کسی نئی شریعت اور نئے نبی کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

اسی بات کے ضمن میں چند اہم دلائل اور وجوہات موجود ہیں جو ختم نبوت کے فلسفہ کو بہتر انداز میں بیان کرتی ہیں۔

۱۔ قرآن میں تحریف ممکن نہیں

سابقہ اقوام اپنی شریعتوں کی حفاظت نہ کر سکیں۔ ہر کچھ عرصے بعد سابقہ شریعت اور دین میں تحریف واقع ہوتی تھی جس کی وجہ سے نئی شریعت کی ضرورت پڑتی تھی۔ لیکن قرآن ایسا معجزہ ہے جس میں تحریف ممکن نہیں۔ اس کتاب کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالی نے خود لیا ہے۔ پس کسی نئی کتاب اور شریعت کی ضرورت نہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے چھوٹی کلاس کے بچے اپنی کتابیں پھاڑ دیتے ہیں لیکن جوں جوں بلوغت کے مرحلے تک پہنچتے ہیں وہی بچے اپنی کتابیں سنبھالنے لگ جاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ کتاب آخرِ عمر تک محفوظ رہتی ہے۔

۲۔ اسلام جامع اور کامل دین ہے

قرآن و روایات کے مطابق اسلام ایک جامع دین ہے جس میں بشریت کی ہدایت کے لیے لازم تمام ضروری چیزیں بیان کر دی گئی ہیں اور پھر اس دین نے قیامت تک باقی رہنا ہے لہذا مزید کسی دین اور شریعت کی ضرورت نہیں ہے۔ سابقہ اقوام کی اجتماعی اور فکری ترقی کو دیکھتے ہوئے ہر کچھ عرصے بعد ایک نئے اور کامل تر پیغام کی ضرورت تھی جبکہ اسلام آخری اور کامل ترین پیغام ہے۔

۳۔ تبلیغی پیغمبر کی ضرورت نہیں

نئے انبیاء کی آمد کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ سابقہ انبیاء کی شریعت کی وضاحت کرتے تھے۔ اسلام میں یہ ذمہ داری رسول اکرمﷺ کے بعد معصوم اماموں کے سپرد ہوئی ہے جن پر اگرچہ مصطلح معنی میں وحی نازل نہیں ہوتی لیکن یہ ہستیاں عالمِ غیب سے متصل ہیں اور قرآن وشریعت کی تفسیر اور ان کی حفاظت کی ذمہ داری پوری کرتی ہیں۔ پس اس لحاظ سے بھی کسی نئے نبی یا رسول کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ شریعت کی تبلیغ اور تشریح کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلام نے امامت کے نام سے ایک متبادل نظام کا بندوبست کیا ہے۔

البتہ ان تمام باتوں کا یہ نتیجہ ہرگز نہیں کہ اب انسانی عقل نے شریعت کی جگہ لے لی ہے پس شریعت کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی بلکہ مراد یہ ہے کہ انسانی بلوغت کو دیکھتے ہوئے اللہ تعالی نے اپنا کامل ترین پیغام بشریت تک پہنچا دیا ہے جس نے قیامت تک انسان کے ساتھ رہنا ہے اور انسانوں کی رہنمائی کرنا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ سابقہ انبیاء عقل کے مخالف باتیں کرتے تھے اور سابق شریعتیں عقل کی مخالف تھیں بلکہ سابقہ امتوں کی فکری سطح اس مرحلے پر نہیں تھیں کہ اللہ تعالی اپنا مکمل اور آخری پیغام ان تک پہنچائے۔ لہذا ہر نبی نے اپنی امت کی فکری سطح کے مطابق بات کی ہے۔ اس دوران بشریت ترقی کرتی گئی اور اس آخری مرحلے تک پہنچ گئی جہاں اسے تک آخری اور مکمل پیغام پہنچا دیا جائے۔ یہ کام اللہ کے آخری نبی حضور اکرمﷺ کے دستِ مبارک سے انجام پایا اور اب قیامت تک کے لیے اسی شریعت نے باقی رہنا ہے اور اس میں کسی قسم کی تحریف کی گنجائش نہیں۔

یہاں پر عرفاء نے اس جہت سے بھی بحث کی ہے کہ رسول گرامی اسلامﷺ معنوی کمالات کے اس عظیم مرتبے پر فائز تھے کہ آپﷺ کے علاوہ کوئی دوسرا اس آخری پیغام کو وصول نہیں کر سکتا تھا۔ پس ختم نبوت کا فلسفہ خود آپﷺ کی ذات میں مضمر ہے۔ در حقیقت یہ رسول اللہﷺ کی ذات تھی جس نے بشری تکامل کا وہ آخری مرحلہ طے کیا جہاں اللہ تعالی نے اپنا کامل ترین پیغام آپﷺ اور آپﷺ کی امت تک پہنچا دیا۔

 

مزید مطالعہ کے لیے:

خاتمیت ، شہید مرتضی مطہری

راہ و راہنما شناسی،آیت اللہ مصباح یزدی

+ لکھاری عباس حسینی در 24 Oct 2021 و ساعت 2:46 PM |

امام صادق علیہ السلام اور دعوتِ امامت

 

حج کا موقع ہے۔ عرفات کے مقام پر تمام حاجی جمع ہیں۔ کوئی یمن سے، کوئی حجاز سے، کوئی کوفہ سے، کوئی بصرہ سے، کوئی مصر سے، کوئی ایران سے، غرض عالم اسلام کے کونے کونے سے لوگ حج کرنے مکہ آئے ہوئے ہیں۔ یقینا یہ مسلمانوں کا سب سے بڑا اجتماع تھا۔ اس دور میں ذرائع ابلاغ بھی محدود ہی تھے۔ خطابت کے ذریعے سے لوگوں سے مخاطب ہونا ہی سب سے بہترین ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ امام صادق علیہ السلام موقع غنیمت جانتے ہوئے ایک مرتبہ اس اجتماع میں کھڑے ہوتے ہیں۔ یقینا آپ علیہ السلام کوئی اہم پیغام پہنچانا چاہتے ہیں۔

ایک مرتبہ اس امام معصوم کی آواز عرفات کے میدان میں گونجی۔ ایک طرف رخ کیا اور اپنے پیغام کو تین مرتبہ دھرایا۔ پھر دوسری طرف رخ کیا اور تین مرتبہ دھرایا۔ اس طرح اپنے چاروں طرف رخ کر کے تین تین مرتبہ اور کل بارہ مرتبہ وہ پیغام تکرار فرمایا۔

امام عالی مقامؑ کا وہ اہم پیغام کچھ یوں تھا:

 أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم كَانَ الْإِمَامَ ثُمَّ كَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ثُمَّ الْحَسَنُ ثُمَّ الْحُسَيْنُ ثُمَّ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ ثُمَّ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ ثُمَّ هَه‏

اے لوگو! رسول اللہﷺ لوگوں کے امام تھے۔ پھر علیؑ بن ابی طالبؑ امام تھے، پھر حسنؑ، پھر حسینؑ، پھر علی بن حسینؑ، پھر محمد بن علیؑ اور پھر میں۔

(هَه‏ عرب کی خاص لغت میں "انا" کے معنی میں ہے۔ یعنی میں۔)

یقینا امام کا یہ پیغام چار سو پھیل گیا اور پھر جب حاجی اپنے اپنے علاقوں کی طرف واپس گئے تب ان کے ذریعے پورے عالم اسلام تک امام کا یہ پیغام پہنچ گیا۔ اس طرح امام نے حج کے عظیم اجتماع سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے حق اور حقیقت کا پیغام پورے عالم اسلام تک پہنچایا اور تمام لوگوں پر حجت تمام کی۔

(بحار الانور، ج 47، ص 58)


ٹیگس: امام صادق
+ لکھاری عباس حسینی در 18 Jun 2020 و ساعت 12:49 AM |

خورشیدِ عالم

زمانہ غیبت میں وجود امام مہدی علیہ السلام سے استفادے کی کیفیت

 

امام زمان علیہ السلام سے عصرِ غیبت میں استفادے کی کیفیت کے حوالے سے ایک اہم تشبیہ متعدد روایات میں ذکر ہوئی ہے۔ ان روایات کے مطابق زمانہ غیبت میں لوگ آپ کے وجودِ مبارک سے ایسے استفادہ کریں گے جیسے بادلوں کی اوٹ میں موجود سورج سے کرتے ہیں۔ تشبیہ میں سب سے اہم بحث وجہِ شبہ کی ہوتی ہے۔ پس یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ وجودِ مبارک امام زمان علیہ السلام اور سورج کے درمیان وجہِ شبہ کیا ہے؟ اس حوالے سے علماء نے متعدد نکات ذکر کئے ہیں۔

 

۱۔ سورج چاہے ظاہر ہو یا بادلوں کے پیچھے، جس نظام میں ہم جی رہے ہیں اس کا مرکز ہے۔ اسی طرح امام زمان علیہ السلام کا وجود اس کائنات کا مرکز ہے جس کے گرد باقی تمام موجودات چکرکاٹ رہی ہیں۔ "ببقائه بقيت الدنيا وبيمنه رزق الوراء وبوجوده ثبتت الأرض والسماء."

 

۲۔ سورج کے فوائد بہت زیادہ ہیں جن میں سے اکثر فائدے سب انسانوں تک ہمیشہ پہنچتے رہتے ہیں، فرق نہیں کرتا سورج کے آگے بادل ہوں یا نہ ہوں۔ مثلا سورج کی حرارت اور روشنی جو بادلوں کے باوجود زمین تک پہنچتی رہتی ہیں۔ سورج کی کشش ثقل جس پر یہ نظام کھڑا ہے۔ اگر ایک لمحے کے لیے سورج ہٹ جائے اس نظام نے تباہ ہونا ہے۔ زمین پر موجوداکثر نعمتوں کا سورج سے واسطہ ہے۔ امام کے بارے بھی کہا گیا کہ ان کے وجود کی برکت سے زمین سے سبزہ اگتا ہے، بارانِ رحمت کا نزول ہوتا ہے، چشمے جاری ہوتے ہیں، نہریں بہتی ہیں۔(بِنَا يُنَزِّلُ اَلْغَيْثَ وَ تُنْشَرُ اَلرَّحْمَةُ وَ تَخْرُجُ بَرَكَاتُ اَلْأَرْضِ) لہذا کہا گیا اگر حجتِ خدا نہ ہوتو ساری زمین انسانوں سمیت برباد ہوجائے گی۔(لو بقيت الأرض بغير إمام لساخت)

 

۳۔ بادلوں نے سورج کو نہیں گھیرا، بلکہ ہمیں گھیرا ہو اہے جس کی وجہ سے ہم سورج کو دیکھنے سے محروم ہیں۔ سورج کے فیض میں کبھی کسی وقت کوئی کمی نہیں ہوئی۔ اس کا فیض مسلسل جاری ہے۔ فرض کریں یہی بادلوں کے پیچھے موجود سورج بھی نہ ہو تب اس نظام اور ہماری دنیا کا کیا بنے گا؟ وجودِ امام زمانؑ بھی اسی طرح ہے۔ آپؑ کے فرمان کےمطابق: ہم مسلسل تمہاری یاد اور فکر میں ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو سختیاں اور دشمن تمہیں گھیر لیتے۔"إنا غير مهملين لمراعاتكم ولا ناسين لذكركم ولولا ذلك لنزل بكم اللأواء واصطملكم الأعداء."

 

۴۔ سورج اور انسانوں کے درمیان بادلوں کا  پردہ ان لوگوں کے لیے جو بادلوں سے نیچے زندگی گزار رہے ہوں۔ اگر کسی میں یہ صلاحیت ہو کہ وہ بادلوں سے آگے کا فاصلہ طے کرے تب وہ سورج کی روشنی سے براہ راست فیض یاب ہو سکتا ہے۔ امام زمانؑ ان لوگوں کی نسبت غائب ہیں جو دنیا اور مادیات کے ساتھ چسپے ہوئے ہیں۔ جو لوگ معنویت کے آسمانوں میں سیر کررہے ہوتے ہیں وہ ہمیشہ امامؑ کے حضور میں ہیں۔

 

۵۔  بادلوں کی اوٹ میں موجود سورج سے استفادے کے باوجود لوگ بادلوں کے ہٹنے کے منتظر رہتے ہیں تاکہ استفادہ اور بڑھ جائے۔ انہیں علم ہے ان بادلوں نے بالآخر ہٹ جانا ہے۔  اسی طرح حقیقی منتظرین ہر لحظہ پردۂ غیبت کے ہٹنے کے منتظر رہتے ہیں اور کبھی مایوس نہیں ہوتے۔

 

۶۔ تمام تر دلیلوں کے باوجود اگر کوئی امام مہدیؑ کے وجود کا منکر ہو تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے تمام تر آثار کے باوجود کوئی پشتِ بادل موجود سورج کا منکر ہو۔

 

۷۔  بعض اوقات سورج کا پشتِ ابر چلے جانا لوگوں کی منفعت میں ہوتا ہے۔ اسی طرح بعض مصلحتوں کی بنا پر ایک مدت تک امام کا پردۂ غیب میں رہنا لوگوں کے فائدے میں ہے۔

 

۸۔ امام کا وجود سورج کی مانند ہے جس کا نفع ہر عام و خاص تک پہنچتا ہے۔ سورج بادلوں کے پیچھے ہو یا بادلوں کے بغیر جو "اندھا" ہو اس کے لیے سورج کی روشنی کسی کام کی نہیں۔

 

استفادہ از کتاب

بحار الانور، علامہ مجلسی، جلد 52

عصارہ خلقت، علامہ جوادی آملی


ٹیگس: امام مہدی, امام زمان
+ لکھاری عباس حسینی در 9 Apr 2020 و ساعت 12:1 AM |

امامِ غائب کی برکات

تحریر: عباس حسینی

 

ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال آئے کہ اس امام کا کیا فائدہ جو غائب ہیں؟ جو ہماری دسترس میں نہیں؟ جن سے ہم میل ملاقات نہیں کر سکتے؟جن سے ہم سوال اور مسائل نہیں پوچھ سکتے؟

 

امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کے اسباب پر اگر ہم غور کریں تو اس سوال کا جواب خود بخود واضح ہوگا۔ امام کی غیبت ہماری وجہ سے ہے۔ در حقیقت امام غیب میں نہیں ہم غیب میں ہیں۔ جن میں لیاقت اور استعداد ہے وہ امام سے ملاقات بھی کرتے ہیں اور ان کی فیوضات سے شرفیاب بھی ہوتے ہیں۔امام پردے میں نہیں، ہم پردے میں ہیں۔ بقول کسی شاعر کے:

پردہ آنکھوں پر پڑا ہے، وہ کہاں پردے میں ہیں؟!

 

البتہ عام لوگوں کی نسبت بھی امام کا وجود سراسر فیض، برکت، عطا، بخشش اور فائدہ مند ہے۔

یہاں ہم اس مختصر تحریر میں  امام کے وجود کےصرف  چند فوائد کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ (تفصیلات کے لیے کتابوں کی طرف مراجعہ کیجیے۔)

 

۱۔ بہت ساری روایات کے مطابق ہر دور میں خدا کی کسی حجت کا زمین پر ہونا ضروری ہے۔ امام فیضِ الہی کے مخلوقات تک پہنچنے کے لیے واسطہ ہوتے ہیں۔ اسی حجتِ خدا کی برکت سے زمین سے سبزہ اگتا ہے، بارانِ رحمت کا نزول ہوتا ہے، چشمے جاری ہوتے ہیں، نہریں بہتی ہیں۔(بِنَا يُنَزِّلُ اَلْغَيْثَ وَ تُنْشَرُ اَلرَّحْمَةُ وَ تَخْرُجُ بَرَكَاتُ اَلْأَرْضِ) لہذا کہا گیا اگر حجتِ خدا نہ ہوتو ساری زمین اپنے باسیوںسمیت برباد ہوجائے گی۔(لو بقيت الأرض بغير إمام لساخت)

 

۲۔ معنوی ہدایت: ظاہری ہدایت کے علاوہ باطنی اعمال کے ذریعے ہدایت (تکوینی ہدایت)بھی معصوم کا کام ہے۔ امام باطنی ہدایت کے ذریعے لوگوں کو خدا کی طرف بلاتے اور اس ذات باری کے قریب کرتے ہیں۔ قرآن کی تعبیر میں "وَجَعَلْنَاهُمْ اءَئِمَّةً یَهْدُونَ بِأمْرِنَا" امام کا کام امرِ خدا کے ذریعے لوگوں کی ہدایت ہے۔باطنی ہدایت  کا تعلق عالم امر اور ملکوت سے ہے۔ امام اپنی نورانیت اور باطنی تصرف کے ذریعے شائستہ افراد کو خدا کے قریب جانے میں مدد فرماتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مشہور مستشرق ہانری کربن نے کہا: تشیع دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے خدا اور مخلوق کے درمیان ہدایت کے وسیلے کو ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھا ہوا ہے۔تشیع کے مطابق ولایت کا سلسلہ اب بھی باقی ہے جس کا تعلق لوگوں کی معنوی ہدایت سےہے۔امام صادق ؑ نے اسی مطلب کی طرف اشارہ فرمایا: (مَا زَالَتِ اَلْأَرْضُ إِلاَّ وَ لِلَّهِ فِيهَا اَلْحُجَّةُ يُعَرِّفُ اَلْحَلاَلَ وَ اَلْحَرَامَ وَ يَدْعُو اَلنَّاسَ إِلَى سَبِيلِ اَللَّهِ .) جب تک زمین ہے اس میں اللہ کی طرف سے حجت بھی ضرور ہوگی جو لوگوں کو حلال اور حرام کے بارے بتائے گی اور لوگوں کو خدا کے راستے کی طرف دعوت دے گی۔

 

۳۔ دینِ خدا کی حفاظت: امیر المؤمنین ؑ کی حدیث(لا تخلو الارض من قائم لله بحجّة، إمّا ظاهراً مشهوراً، وإمّا خائفاً مغموراً، لئلاّ تبطل حجج الله وبيّناته) کے مطابق زمین کسی بھی وقت حجت خدا سے خالی نہیں ہو سکتی چاہے وہ حجت ظاہر ہو  چاہے مخفی، تاکہ دین ضائع ہونے سے اور تحریف سے بچ جائے۔ امام زمانؑ پردہ غیب سے دین کے امور کی سرپرستی فرما رہے ہوتے ہیں۔ آپ جہاں مناسب سمجھیں اپنے لطف کےذریعے فقہاء اور علماء کو درست راستے کی نشاندہی فرماتے  ہیں۔ اس حوالے سے شیخ مفید کا واقعہ مشہور ہے جہاں آپ نے ایک مسئلے میں غلط فتوی صادر کیا اور امام زمانؑ نے ان کے فتوی کی اصلاح کی۔ اسی طرح بہت سارے عرفاء کے واقعات ملتے ہیں جہاں وہ مختلف شکلوں میں اپنی مشکلات امام کی بارگاہ سے حل کرتے تھے۔اسی لیے امام صادقؑ نے فرمایا: (إِنَّ اَلْأَرْضَ لاَ تَخْلُو إِلاَّ وَ فِيهَا إِمَامٌ كَيْمَا إِنْ زَادَ اَلْمُؤْمِنُونَ شَيْئاً رَدَّهُمْ وَ إِنْ نَقَصُوا شَيْئاً أَتَمَّهُ لَهُمْ) زمین امام سے خالی نہیں رہے گی۔ اگر مومنین (دین میں) کچھ اضافہ کریں تو امام اسے کم کرتے ہیں، اگر کم کریں تو امام اسے پورا کرتے ہیں۔

 

۴۔ امام کا وجود امید کی کرن: ایک ایسے امام کا وجود جن کے بارے میں یہ عقیدہ ہو کہ انہوں نے دنیا سے ظلم و ستم کا خاتمہ کرنا ہے اور عدل و انصاف قائم کرتے ہوئے دنیا بھر کے مظلومین اور مستضعفین کے حقوق کا دفاع کرنا ہے تمام انسانیت کے لیے امید کا باعث ہے۔ ایسی صورت حال میں دنیا بھر کے مظالم دیکھتے ہوئے بھی انسان کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا۔ بشریت کے روشن مستقبل کی امید اسے ہمیشہ طاقت بخشتی ہے۔

 

۵۔ زمانہ غیبت میں امام عصرؑ سے استفادے کی کیفیت کے حوالے سے جب امام صادقؑ سے پوچھا گیا تو آپؑ نے یوں جواب دیا: (كما ينتفعون بالشمس إذا سترها السحاب) زمانہ غیبت میں امام سے لوگ ایسے فائدہ اٹھائیں گے جیسے بادلوں کی اوٹ میں موجود سورج سے لوگ استفادہ کرتے ہیں۔ امامؑ کے پردۂ غیب میں جانے کے اسباب پر بحث ایک الگ موضوع ہے، البتہ اس کی وجہ سے آپ کے وجود کے فائدے کم ضرور ہوئے ہیں، لیکن ختم ہرگز نہیں ہوئے، جیسے بادلوں کی اوٹ میں موجود سورج۔

 


ٹیگس: امام مہدی, امام زمان
+ لکھاری عباس حسینی در 8 Apr 2020 و ساعت 3:53 AM |

امام زمان علیہ السلام

اور

چھوٹی عمر کی امامت

تحریر: عباس حسینی

 

امامت ایک بہت بڑا منصب ہے۔ دین اور دنیا کے امور کی زمام سنبھالنے کا نام ہے۔ امام معاشرے کا پیشوا ہوتا ہے۔ امام،  ہادی اور رہبر ہوتا ہے جس کے پیچھے سارے معاشرے نے چلنا ہوتا ہے۔ اندرونی مسائل ہوں یا بیرونی مشکلات سب کو حل کرنے کی ذمہ داری امام کے کاندھوں پر ہوتی ہے۔ امامت کی ان تمام تر سنگین ذمہ داریوں کو دیکھتے ہوئے یہ سوال پیش آتا ہے کہ ایک چھوٹا سا بچہ کہ جس کی عمر پانچ یا آٹھ سال ہو وہ کیسے اتنی بڑی ذمہ داری سنبھال سکتا ہے؟ اس بات کی کیا توجیہ ہےکہ شیعوں کے ہاں پانچ اور آٹھ سال کےبچے امام بنتے رہے ہیں۔

 

یہ بات درست ہے کہ امام مہدی علیہ السلام جب منصب امامت پر فائز ہوئے اس وقت آپ کی عمر 5 سال تھی۔ اسی طرح  منصب امامت سنبھالتے وقت امام تقی علیہ السلام کی عمر 7 سال جبکہ  امام علی نقی علیہ السلام کی عمر 9 سال تھی۔

 

ایک تو وہی جواب ہے  جو امام جواد علیہ السلام نے اپنی امامت کے حوالے سے اشکال کرنے والوں کو دیا تھا کہ یہ منصب الہی ہے خدا جسے چاہے جب چاہے دیتا ہے۔ کسی کو بچپن میں دیتا ہے تو کسی کو چالیس سال کی عمر میں۔ حضرت عیسیؑ ابھی ماں کی گود میں تھے کہ اعلان فرمایا:" إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا" (میں خدا کا بندہ ہوں۔ اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔)قرآن نے حضرت یحیٰؑ کے بارے میں کہا: "يَا يَحْيَى خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّة وآتَيْناهُ الْحُكْمَ صَبِيَّاً" (اے یحیٰ، کتاب کو مضبوطی سے پکڑو، اور ہم نے اسے بچپنے میں حکم(نبوت) عطا کیا۔)اور یہ تو فخر عیسیؑ اور فخر یحیؑ ہیں، ان کی امامت کے بارے میں شک کیوں؟

 

 امام در حقیقت علم لدنی کا مالک ہوتا ہے۔ امام کسی کے پاس جا کر علم نہیں سیکھتا۔ امامت منصب الہی ہے۔ لیاقت دیکھ کر خدا کا عطا کیا ہوا تحفہ ہے۔ لہذا اس حوالے سے چھوٹی عمر اوربڑی عمر کا کوئی فرق نہیں۔ خداوند متعال اپنی بے پناہ قدرت کے ساتھ چھوٹے سے بچے کی عقل کو کامل بنا سکتا ہے۔ جس طرح چاہے کسی کو رشد دے سکتا ہے۔

 

اور پھر انسان کی حقیقت اس کا جسم نہیں، اس کی روح ہے۔ ائمہ علیھم السلام کی ارواح طیبہ کے حوالے سے روایات میں آیا ہے کہ

 خدا کی سب سے پہلی مخلوقات ہیں۔البتہ اس نورانی عالم میں وہ سب ایک نور تھےجو بسیط شکل میں موجود تھا۔ وہ نور تمام تر کمالات کا مالک تھا۔ پس جب ہم اس نورانی مرتبے کو ملحوظ رکھتے ہیں تب عالم مادی میں آنے کے بعد ان کی کم عمری پر اشکال بے معنی سا لگتا ہے چونکہ سارے کمالات ان کو پہلے سے حاصل ہیں۔ وہ عام انسانوں کی طرح ہرگز نہیں ہیں۔ پس اس حوالے سے عام انسانوں کے ساتھ ان کا مقایسہ درست نہیں۔

 

 تاریخی حوالے سے بھی دیکھیں تو سارا زمانہ ان کے علمی کمالات اور رشدِ عقلی کے معترف نظر آتا ہے۔ یحی بن اکثم کا واقعہ ملاحظہ کیجیے کہ جو ریاست کا مفتی اعظم تھا لیکن امام تقی علیہ السلام کی علمی قدرت کے سامنے ہار ماننے پر مجبور ہوگیا اور مامون عباسی  کو بھی کہنا پڑا: "وأن صغر السن فيهم لا يمنعهم من الكمال" کہ چھوٹی عمر اس خاندان میں کمالات کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے۔

 

 اسی طرح  تاریخ کہتی ہے کہ امام تقی علیہ السلام  کے بعض اصحاب آپ سے سوالات کرتے گئے اور چند دنوں کے اندر آپ نے  تیس ہزار سوالوں کے جواب دے دئیے جبکہ اس وقت آپ کی عمر صرف 9 سال تھی۔

 

سید محمد باقر صدر علیہ الرحمہ نے  استقراء کے حوالے سے اپنے جدید نظریے (جو حساب احتمالات پر قائم ہے)  کے مطابق اس مسئلے کو عقلی بنیادوں پر حل کیا ہے ۔

سید صدر کے مطابق اتنی کم عمری میں ائمہ علیھم السلام کا  منصب امامت سنبھالنا شیعیت کی حقانیت کی سب سےبڑی دلیل ہے۔  حالانکہ اس وقت شیعہ طائفہ میں بڑے بزرگان اور اصحاب بھی تھے لیکن سب ائمہ علیھم السلام کی امامت پر متفق تھے۔ یقینا ان ہستیوں میں کچھ ایسا دیکھا ہوگا جو ان کی امامت کے معترف ہوگئے۔

 

یہاں پر چند احتمالات ہیں۔

۱۔ لوگوں کو پتہ نہیں چلا کہ امام ابھی چھوٹے اور کم عمر ہیں۔ یہ احتمال ممکن نہیں چونکہ شیعہ اپنے اماموں کو لوگوں سے چھپا کر نہیں رکھتے تھے، بلکہ لوگوں کا امام سے براہ راست رابطہ ہوتا تھا۔

۲۔ اس وقت کے لوگ اتنے سادہ تھے کہ چھوٹے سے بچے کی امامت قبول  کر لی۔ یہ بات بھی ممکن نہیں چونکہ ان میں بڑے بڑے اصحاب بھی تھے جو مکتب امام صادق علیہ السلام کے پروردہ تھے۔ جو علمی اور فقہی اعتبار سے بڑے مراتب پر فائز تھے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک چھوٹے بچے نے اتنے بڑے اصحاب کو (نعوذ باللہ) اپنی "جھوٹی" امامت پر قائل کیا ہو؟جبکہ اس وقت شیعیت مدینے سے  لے کرکوفہ اور قم تک پھیلی ہوئی تھی۔

۳۔ امامت کا مفہوم لوگوں کے لیے واضح نہیں تھا۔ لوگ شاید امامت کو بادشاہت کی طرح نسل در نسل وراثت سمجھتے تھے۔ اس کی شروط اور تفصیلات سے آگاہ نہیں تھے۔تاریخی حوالے سے یہ بات بھی درست نہیں چونکہ تقریبا دو صدیوں سے شیعوں کے درمیان امامت کا سلسلہ چل رہا تھا اور اس کے مفہوم، شرائط اور صفات سے بخوبی آگاہ تھے۔

۴۔ چوتھا احتمال یہ ہے کہ سارے شیعوں نے جھوٹ اور باطل پر اتفاق کر لیا ہو۔ یہ بھی عقلی طور پر اور تاریخی بنیادوں پر ممکن نہیں۔ شیعوں میں بڑے متقی ، پرہیزگار اور باوفا اصحابِ ائمہؑ موجود تھے۔ ان سب کا جھوٹ پر اتفاق کیسے ممکن ہے؟تاریخ گواہ ہے کہ شیعوں نے اذیتیں اور صعوبتیں  برداشت کی ہیں لیکن اپنے عقیدے سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے۔

 

پس یہ سارے احتمالات جب ختم ہوں تو صرف یہی احتمال بچتا ہے کہ امام معصوم ہوتے تھےجن میں معاشرے کو چلانے کی تمام تر خداداد صلاحیتیں موجود تھیں۔ لہذا اس وقت کے بڑے بڑے اصحاب بھی حکمِ خدا کے تحت ان کی اتباع کرتے تھے۔ اگر خدا نخواستہ ان میں کسی قسم کی کمی ہوتی تو مخالفین زمین آسمان ایک کر دیتے کہ یہ دیکھو شیعوں کے امام میں یہ کمی ہے۔ وہ زمانہ علمی ترقی اور عروج کا زمانہ تھا۔ یونانی فلسفہ تک کا ترجمہ ہو چکا تھا۔ لیکن ان سب کے باوجود اپنے تو اپنے ، مخالفین کو بھی ان ائمہؑ  کی تعریفوں کے پل باندھتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ یہ سب ان کی حقانیت کی دلیل ہے۔

 

فلسفی حل اور جواب:

انسان کی عمر کا اندازہ عام طور پر زمین کی سورج کے گرد حرکت سے لگایا جاتا ہے۔ فرض کریں ایک انسان کی پیدائش سے لے کر اب تک زمین نے 30 مرتبہ سورج کے گرد اپنا چکر مکمل کر لیا ہے تو کہا جاتا ہے اس انسان کی عمر 30 سال ہے۔ فلسفی حوالے سے زمان، مقدارِ حرکت کا نام ہے۔ عام حساب و کتاب میں  انسان کی عمر کا لحاظ کرتے ہوئے انسان کی اپنی حرکت کا لحاظ کیے بغیر، زمین کی حرکت کو معیار بنایا جاتا ہے۔ جبکہ زمین کی حرکت کی نسبت انسان کی طرف دینا ایک نوع مجاز گویی ہے، حقیقت نہیں۔ یعنی حقیقت میں زمین نے حرکت کی ہے، انسان نے حرکت نہیں کی۔

 

انسان کی حقیقی حرکت یہ ہے کہ اس کا وجود اختیاری طور پر متحرک ہو اور قربِ پرودرگار کی منازل طے کرے۔ اس کی روح تجرد کے مراحل طے کرے۔ اس حرکت کا اگر لحاظ کیا جائے تب انسانوں کی حقیقی عمر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اب ممکن ہے ایک انسان عمومی اعتبار سے 50 سال کا سفر طے کرے لیکن روحانی حرکت کے لحاظ سے اس نے کوئی خاص فاصلہ طے نہ کیا ہو۔ پس ممکن ہے اس کی حقیقی عمر ایک بچے کی مانند ہو۔ جبکہ اس کے برخلاف، ممکن ہے ایک شخص جس کی عمر ظاہری لحاظ سے چند سال ہو، لیکن باطنی سیر اور کمالات کی طرف سفر کے لحاظ سے اس کی حقیقی عمر بہت زیادہ ہو۔ ائمہ علیہم السلام کے حوالے سے ہم اسی بات کے قائل ہیں۔


ٹیگس: امام مہدی, امام زمان
+ لکھاری عباس حسینی در 7 Apr 2020 و ساعت 1:59 AM |

امام زمان علیہ السلام اور لمبی عمر

تحریر: سید عباس حسینی

 

شیعہ عقائد کے مطابق امام مہدی علیہ السلام کی ولادت 255 ہجری میں ہو چکی ہے۔ اس وقت 1441 ہجری کا سال چل رہا ہے۔ اس لحاظ سے امام مہدی علیہ السلام کی عمرمبارک  1186 سال ہے۔ عام طور پر سوال کیا جاتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے ایک انسان اتنی لمبی عمر جی لے؟ دنیا میں جو اس وقت رائج ہے اس لحاظ سے زیادہ سے زیادہ ایک انسان سو سال یا اس سے کچھ زیادہ زندہ رہ سکتا ہے۔ اتنی لمبی مدت تک کے لیے  کوئی کیسے زندہ رہ سکتا ہے؟

 

اس سوال کے مختلف جوابات دئیےجا سکتے ہیں جن میں سے بعض نقضی جواب ہوں گے جو مخاطب کو چپ کروانے کے لیے دئیے جاتے ہیں، جبکہ کچھ حلی جوابات ہوں گے جو مسئلے کو سرے سے حل کریں گے۔

 

۱۔ ابلیس جو بدی کا محور ہے اورشیطان کا نمائندہ ہے اگر ہزاروں سال سے زندہ ہے تو رحمان کے نمائندے کے زندہ رہنے پر اشکال کیوں؟

 

۲۔ حضرت عیسیؑ کے بارے میں تمام مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ ہے کہ وہ زندہ ہیں۔ قرآن نےسورہ نساء کی آیات 157 تا 159 میں  کہا کہ حضرت عیسیؑ کے قتل ہونے کی بات غلط ہے۔ عیسائیوں کو اس حوالے سے غلط فہمی ہوئی ہے بلکہ اللہ تعالی نے انہیں اپنی طرف اٹھایا ہے۔ وَما قَتَلُوهُ وَما صَلَبُوهُ وَلكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ... وَ ما قَتَلُوهُ يَقِيناً بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَ كانَ اللَّهُ عَزِيزاً حَكِيماً  (انہوں نے حضرت عیسیؑ کو قتل کیا نہ سولی چڑھایا بلکہ دوسرے شخص کو ان کی شبیہ بنا دیا گیا تھا۔۔۔ انہوں نے مسیح کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں اپنی طرف اٹھایا ہے۔) حضرت عیسیؑ کی ولادت کو اس وقت 2020سال گزر چکے ہیں۔ اگر کسی مصلحت کے تحت عیسیؑ زندہ رہ سکتے ہیں تو آخری نؐبی کے وصی کے زندہ رہنے پر اشکال کیوں؟

 

۳۔ اسی طرح مسلمانوں کے مطابق حضرت خضرؑ بھی زندہ ہیں۔ کچھ روایات کےمطابق حضرت الیاسؑ بھی زندہ ہیں۔ حضرت ادریسؑ کے زندہ ہونے کے حوالے سے بھی اقوال موجود ہیں۔ ایسے میں صرف امام زمانؑ کی عمر مبارک پر اشکال کیوں؟

 

۴۔ تاریخی طور پر ثابت ہے کہ بہت سارے انبیاء بہت لمبی عمر پاتے رہے ہیں۔ مختلف روایات کے مطابق حضرت آدمؑ نے 930 سال، حضرت ہودؑ نے 670 سال، حضرت ایوبؑ نے 226 سال، حضرت یعقوبؑ نے 170 جبکہ حضرت نوحؑ نے 2500 سال عمر پائی۔ بعض روایات کےمطابق آپ کو کشتی بنانے میں 200 سال لگے۔ حضرت نوح ؑکے بارے میں قرآن(سورہ) میں آیا ہے کہ آپ نے 950 سال اپنی قوم میں تبلیغ کی۔ وَلَقَدْ أَرْسَلْنا نُوحاً إِلى قَوْمِهِ فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلاَّ خَمْسِينَ عاماً فَأَخَذَهُمُ الطُّوفانُ (اور بتحقیق ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان کے درمیان پچاس سے کم ایک ہزار سال رہے۔ پھر طوفان نے انہیں گرفت میں لیا۔)آیت طوفان سے پہلے کی مدت 950 سال بتار ہی ہے۔ وہ بھی اس وقت سے جب آپ مبعوث بہ رسالت ہوئے۔ پس ان مثالوں کو دیکھتے ہوئے کسی نیک شخصیت کے لیے لمبی عمر پانا  سنن الہٰی کے عینِ مطابق ہے۔

 

۵۔ ایک اور مثال اصحاب کہف کی ہے جن کے بارے میں قرآن میں ایک پوری سورت موجود ہے۔ قرآن کے مطابق وہ 309 سال تک زندہ رہے۔ وَلَبِثُوا فِي كَهْفِهِمْ ثَلَاثَ مِائَةٍ سِنِينَ وَازْدَادُوا تِسْعًا۔ وہ خدا جو اصحابِ کہف کو ایک خاص ہدف کے تک اتنی مدت تک زندہ رکھتاہے کسی مصلحت کے تحت امام مہدی علیہ السلام کو بھی زندہ رکھ سکتا ہے۔

 

6۔ یہ خدا کا ارادہ ہے کہ امام زمان علیہ السلام اتنی لمبی مدت تک زندہ رہیں اور جب تک خدا نے چاہا زندہ رہیں گے۔ خداکے "کن" اور ارادے کے سامنے کونسی چیز ٹھہر سکتی ہے؟ پس عمر امام زمان علیہ السلام پر اشکال در حقیقت خدا کے ارادے پر اشکال ہے۔ اللہ تعالی اپنا یہ ارادہ عام اور عادی طریقے سے بھی پوار کر سکتا ہے اور غیر عادی طریقے  "خرقِ عادت" کے ذریعے بھی۔ علامہ طباطائی کے نزدیک یہ خرقِ عادت کے ذریعے ہے۔ خرقِ عادت کوئی محال کام نہیں ہوتا بلکہ عام اسباب سے ہٹ کر غیر معلوم اور غیر مرئی اسباب کے ذریعے خداوند متعال وہ کام انجام دیتا ہے۔ پس طولِ عمر کے مختلف عوامل و اسباب ہو سکتے ہیں جن سے انسان اب تک غافل اور بے خبر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس آج بھی طولِ عمر کو ناممکن اور محال نہیں قرار دیتی۔ (شیعہ در اسلام)

 

7۔ انسان کی عمر کا تعلق گردشِ لیل و نہار سے ہے۔ جب ہماری زمین سورج کے گرد ایک چکر مکمل کرتی ہے تو اسے ایک شمسی سال کہاجاتا ہے۔ یہ چکر 365 دنوں میں مکمل ہوتا ہے۔ اب اگر کوئی ہستی "صاحب الزمان" ہو، زمان اس کے قبضہ قدرت میں ہو اور وہ زمان کا مالک ہو تب اس کے بارے میں طولِ عمر کا اشکال بے معنی سا لگتا ہے۔

 

خلاصہ یہ کہ کسی انسان کا طولِ عمر پانا نہ عقلی اور منطقی طور پر محال ہے اور نہ علمی اور سائنسی طور پر۔ اس کے باوجود کوئی اس بات کا منکر ہو تب اسے اپنی  دلیل پیش کرنی چاہیے۔


ٹیگس: امام مہدی, امام زمان
+ لکھاری عباس حسینی در 7 Apr 2020 و ساعت 1:55 AM |

قرآن اور وجودِ خدا پر استدلال

 

کیا قرآن نے وجودِ خدا کے اثبات پر کوئی دلیل پیش کی ہے؟

اس حوالے سے مختلف آراء موجود ہیں۔ کلی طور پر دو قسم کے آراء ہیں۔

اکثر متکلمین کا کہنا ہے کہ جن آیتوں میں کائنات کے اندر اللہ تعالی کی مختلف آیتوں اور نشانیوں کی بات ہوئی ہے وہ سب در حقیقت اثباتِ خدا کی دلیلیں ہی ہیں۔ اس حوالے سے قرآن نے کائنات کے نظم اور ہدف پر خاص زور دیا ہے۔

جبکہ اس کے مقابلے میں دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ قرآن مجید، اللہ تعالی کے وجود کو دلیل اور برہان سے بے نیاز سمجھتا ہے، چونکہ اس ذات کا وجود انتہائی واضح اور دلیل سے بے نیاز ہے۔ قرآن کا زور زیادہ تر توحید کے اثبات، شرک کی نفی یا خدا کی مختلف صفات کے اثبات پر ہے۔ جن آیات کے ذریعے پہلے گروہ والوں نے خدا کے وجود کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے در حقیقت وہ دلیل تام اور اس کے مقدمات پورے نہیں ہیں۔

اس حوالے سے دونوں اقوال کو جمع کرتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اگرچہ قرآن کریم نے براہ راست وجودِ خدا کے اثبات پر کوئی دلیل پیش نہیں کی، لیکن بہت ساری آیات سے غیر مستقیم طور پر ایسی دلیلیں اخذ کی جا سکتی ہیں۔

بظاہر چونکہ قرآن کے مطابق خدا کا وجود بہت زیادہ بدیہی اور واضح ہے لہذا اس حوالے سے دلیل لانے کی ضرورت نہیں۔ یا شاید دلیل نہ لانے کی وجہ یہ ہو کہ اس معاشرے میں خدا کے وجود کا کوئی منکر نہ تھا۔ جب ان سے پوچھا جاتا تھا کہ زمین و آسمان کو بنانے والا کون ہے؟ تو وہ لوگ جواب دیتے تھے: اللہ۔ ہاں شرک ایک اہم مسئلہ تھا جس کے رد میں قرآن نے بہت ساری دلیلیں پیش کی ہیں۔ جس معاشرے میں کوئی موضوع مسئلہ ہی نہ ہو وہاں اسے مسئلہ بنا کر پیش کرنا بذات خود شکوک وشبہات کا باعث ہے۔

بعض قرآنی آیات کا ظاہر یہی ہے کہ خدا کا وجود ظاہر اور بدیہی ہے۔ (أَفِي اللَّهِ شَكٌّ فاطِرِ السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ) کیا اس بات میں شک ہے کہ خدا آسمانون اور زمین کا خلق کرنے والا ہے؟! اس آیت میں استفہام انکاری ہے۔ پس مطلب یہ ہوگا کہ خدا کے آسمان و زمین کے خالق ہونے کے حوالے سے انکار ممکن ہی نہیں۔ پس آیت اس اتکازی مطلب کی اشارہ کر رہی ہے کہ جب کوئی چیز ہے تو اس کے بنانے والا بھی کوئی ضرور ہے۔

قرآن کی بعض دوسری آیتوں سے غیر مستقیم طور پر وجودِ خدا پر دلیلیں استنباط کر سکتے ہیں۔ ممکن ہے کسی آیت کا ظاہر توحیدِ خدا کے اثبات میں یا صفاتِ خدا کے اثبات میں ہو، لیکن غیر مستقیم طور میں اس میں اصل وجودِ خدا کا اثبات بھی ہو رہا ہو۔

بطور نمونہ یہ آیت ملاحظہ کیجیے: (أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْ‏ءٍ أَمْ هُمُ الْخالِقُونَ) اس آیت میں کفار سے استفہام انکاری کے لہجے میں بات ہو رہی ہے کہ "آیا تم لوگ بغیر کسی خالق کے پیدا ہوئے ہو یا تم خود اپنے خالق ہو؟" اس آیت میں ضمنی طور پر اثباتِ وجود خدا کی یہ دلیل موجود ہے:

انسان یا بغیر کسی خالق اور بنانے والے کے، خود بخود موجود ہوا ہے (پہلا فرض)

یا اس کا کوئی خالق اور بنانے والا ہے۔

وہ بنانے والا یا تو خود وہ لوگ ہیں۔ یعنی اپنا خالق خود ہے۔ (دوسرا فرض)

یا کوئی اور ذات ہے۔ (تیسرا فرض)

پہلے اور دوسرے فرض کو کوئی بھی عاقل نہیں مان سکتا۔ پس تیسرے فرض کو ماننا پڑے گا۔ تیسرے فرض میں وہ ذات جو تمام انسانوں کا خالق ہے اسے "اللہ" کہا جاتا ہے۔

 


ٹیگس: مصباح یزدی, خدا شناسی
+ لکھاری عباس حسینی در 29 Mar 2019 و ساعت 1:15 AM |

امام کی تعریف

امام کی اصطلاحی تعریف کیا ہے؟ علم کلام اور عقیدے کی اصطلاح میں امام کون ہوتا ہے؟

 

شیعہ اور سنی علماء نے مختلف انداز میں امامت اور امام کی تعریف کی ہے۔  لطف کی بات یہ ہے کہ شیعہ سنی امامت کی تعریف میں فکری طور پر تقریبا متفق نظر آتے ہیں۔

یہاں نمونے کے طور پر چند تعریفوں پر اکتفا کرتے ہیں۔

 

شیعہ اسکالر شیخ مفید: امام وہ انسان ہے جسے نبی اکرمﷺ کی نیابت میں دین اور دنیا کے امور میں عمومی طور پر رئاست اور حکومت حاصل ہوتی ہے۔

شیعہ اسکالر سید مرتضی: امام تمام دین اور دنیا کے امور میں مخلوقات کا سرپرست ہوتا ہے۔ امامت، اس دار تکلیف میں، دین کے امور میں عمومی رئاست اور سرپرستی کا نام ہے۔

شیعہ اسکالر شیخ طوسی: دین اور دنیا کے امور میں کسی شخص کو عمومی رئاست اورسپرستی حاصل ہو اسے امامت کہتے ہیں۔

شیعہ اسکالرابن میثم اور علامہ حلی کی تعریف بھی تقریبا وہی ہے جو علامہ حلی نے کی ہے۔

 

اہل سنت اسکالر قاضی عبد الجبار: امام نام ہے اس شخص کا جسے امت پر سرپرستی حاصل ہو اور ان کے امور میں اس طرح سے تصرف کا حق حاصل ہو کہ اس سے اوپر کسی اور کا اختیار نہ ہو۔

اہل سنت اسکالر ماوردی: امامت دین اور دنیا کی حفاظت میں نبوت کی جانشین کا نام ہے۔

اہل سنت اسکالر تفتازانی: نبی اکرمﷺ کی نیابت میں دین اور دنیا کے امور میں عمومی سرپرستی کا نام امامت ہے۔

اہل سنت اسکالر جرجانی اور سیوطی: دین اور دنیا کے امور میں عمومی سرپرستی کا نام امامت ہے۔

 

پس ان تمام تعریفوں میں دقت سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اہل سنت اور شیعہ محققین امامت کی تعریف میں متفق ہیں۔ امام اور خلیفہ کو دونوں نبی اکرمﷺ کا جانشین سمجھتے ہیں، اور اس بات کے قائل ہیں کہ اسے دین اور دنیا کے امور میں مکمل سپرستی اور اختیارات حاصل ہیں۔

لیکن جب ہم امامت کی حقیقت بیان کریں گے تب واضح ہوگا کہ یہ اتفاق نظر صرف تعریف کی ہی حد تک ہے، باقی ہر بات میں شیعہ سنی مکتبہ فکر میں اختلاف ہی اختلاف نظر آئے گا۔ مثلا امام کی صفات اور شرائط، امام کی تعیین، امام کے مصادیق، امام کے اختیارات اور ان جیسے تمام موضوعات میں اختلاف نظر آئے گا۔


ٹیگس: امامت
+ لکھاری عباس حسینی در 15 Feb 2019 و ساعت 10:49 PM |

امام کی تعریف

 

امام کا لغوی معنی کیا ہے؟

 

لغت کے اندر امام پیشوا، مقتدا وغیرہ کے معنی میں ہے۔ امام وہ ہے جسے کسی کام میں آگے کیا جائے اور باقی لوگ اس کی پیروی کریں۔ وہ تیریا نیزہ جسے معیار اور پیمانہ بنا کر باقی تیروں اور نیزوں کو اس کے مطابق بنایا جاتا ہے، اسے امام کہا جاتا ہے۔ بچے کو خوش خطی سکھانے کے لیے تختی پر جو پہلی لائن لکھی جاتی ہے اور باقی لائنوں کو اسی کے مطابق لکھنے کی تلقین کی جاتی ہے، اس پہلی لائن کو امام کہا جاتا ہے۔ قرآن کا وہ اصلی نسخہ جس کو معیار بنا کر باقی مصاحف کی اس کے مطابق اصلاح کی گئی، اسے مصحفِ امام کہا گیا۔

 بعض نے کہا  امام وہ ہے جس کی اقتدا اور پیروی کی جائے، چاہے  وہ انسان ہو، کتاب ہو یا کوئی اور چیز۔ امام وہ ہے جس کی پیروی کی جائے۔ چاہے وہ انسان ہو جس کے قول اور فعل کی پیروی کی جائے، چاہے وہ کتاب ہو یا کچھ اور، چاہے وہ باطل ہو یا حق۔ پس امام کے لغوی معنی کے حوالے سے کوئی خاص اختلاف نہیں ہے۔

قرآن کریم میں لفظ امام اور اس کے مشتقات 12 مرتبہ استعمال ہوئے ہیں، جن میں سوائے ایک مورد کے ہر جگہ لفظِ امام پیشوا اور مقتدا کے معنی میں ہی آیا ہے۔ ایک مورد میں "لوح محفوظ" کو امام کہا گیا ہے۔ اس کی بھی وجہ شاید یہ ہو کہ لوح محفوظ میں مخلوقات کے تمام فیصلے لکھے گئے ہیں، اور مخلوقات اپنے افعال میں اس کی اتباع اور پیروی کرتی ہیں۔

طلحہ بن زید امام صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ قرآن مجید میں دو قسم کے اماموں کی بات کی گئی ہے۔ (ہدایت کے امام، گمراہی کے امام) اللہ تعالی کا ارشاد ہے: (وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا) ایک قسم کے امام وہ ہیں جو خدا کے حکم سے لوگوں کی ہدایت کرتے ہیں، نہ لوگوں کے حکم سے۔ اللہ کے امر کو اپنے امر پر اور اللہ کے حکم کو اپنے حکم پر مقدم رکھتے ہیں۔ جبکہ دوسری قسم کے بارے فرمایا: (وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ) یہ وہ لوگ ہیں جو امام بن کر لوگوں کو جہنم کی آگ کی طرف بلاتے ہیں۔ اپنے امر کو اللہ کے امر پر اور اپنے حکم کو اللہ کے حکم پر مقدم کرتے ہیں۔ جو کچھ اللہ کی کتاب میں ہے ان کے خلاف اپنی خواہشات نفسانی پر عمل کرتے ہیں۔

البتہ اس دوسری قسم میں جو کہا گیا کہ ہم نے ان کو امام بنایا، اس سے مراد یہ نہیں کہ اللہ تعالی نے ان کو اس کام کے لیے نصب کیا ہو کہ وہ لوگوں کو گمراہ کریں اور آگ کی طرف بلائیں۔ بلکہ یہاں "جعل" اذن تکوینی کے معنی میں ہے، یعنی اللہ تعالی نے تشریعی طور پر اس کام سے روکا ہے، لیکن تکوینی طور پر ان کو مجبور نہیں کیا کہ وہ ایسے کاموں سے رک جائیں۔ وہ لوگ اللہ تعالی کی طرف سے حاصل قدرت اور طاقت کو غلط کاموں میں استعمال کرتے ہیں۔

 

پہلی والی آیت (وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا) میں دو نکتے انتہائی قابلِ غور ہیں:

 

۱۔ (جَعَلْنَاهُمْ) یعنی ہم نے ان کو امام بنایا۔ یہاں سے پتہ چلتا ہے ہدایت دینے والے امام کی تعیین اور تنصیب خداوند متعال خود کرتا ہے۔ اس کام کو لوگوں کے اوپر نہیں چھوڑا کہ وہ جمہوریت کے طریقے پر اپنے لیے امام تعیین کریں۔

 

۲۔ ( بِأَمْرِنَا) اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ پہلا معنی یہ کی ہدایت والے امام لوگوں کو امرِ خدا کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ یعنی ان کا ہدف اور مِشن الہی ہوتا ہے جس کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں۔ ان کے اپنے ذاتی اہداف و مقاصد نہیں ہوتے۔ جبکہ دوسرا معنی یہ ہو سکتا ہے کہ یہاں (باء) سببیت کا معنی دے رہا ہے۔ یعنی چونکہ ہم نے اپنے خاص حکم کے ذریعے ان کو امام بنایا ہے لہذا اس وجہ سے وہ لوگوں کی ہدایت کرتے ہیں۔ پس امام کی طرف سے لوگوں کی ہدایت اپنی طرف سے خودساختہ نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالی کی طرف سے امامت کا اذن حاصل ہے اس لیے وہ لوگ اس منصب پر فائز ہیں۔ اس سے بھی یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ہدایت کے لیے امام کی تعیین اللہ تعالی کے خاص امر پر موقوف ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ لوگ اکھٹے ہو کر خود سے اپنے لیے امام معین کریں، جبکہ اللہ تعالی کی طرف سے اس بندے کے لیے ہدایت یافتہ ہونے کی کوئی سند حاصل نہ ہو۔ اور جو خود ہدایت یافتہ نہ ہو، وہ کیسے لوگوں کی ہدایت کر سکتا ہے؟

(أَفَمَن يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ أَمَّن لَّا يَهِدِّي إِلَّا أَن يُهْدَىٰ)

تو پھر (بتاو کہ) جو حق کی راہ دکھاتا ہے وہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ جو خود اپنی راہ نہیں پاتا جب تک اس کی رہنمائی نہ کی جائے؟


ٹیگس: امامت
+ لکھاری عباس حسینی در 3 Feb 2019 و ساعت 10:0 PM |

ابن تیمیہ کا اشکال اور اس کا جواب

 

ابن تیمیہ، امامت کا شمار اصول اور عقیدے میں ہونے پر اشکال کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اسلامی عقیدے کے اہم ترین ارکان تین ہی ہیں: توحید، نبوت اور قیامت (معاد)۔ لہذا امامت کا شمار بنیادی اصول اور عقیدے میں نہیں ہوتا۔ اور پھر اگر امامت اصول میں سے ہے تو قرآن مجید اور رسول گرامی اسلامﷺ کو بار بار اس اصل کے حوالے سے تاکید کرنی چاہیے تھی اور اس اصل پر اعتقاد ایمان کے ارکان میں سے ہونا چاہیے تھا۔ جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے اپنے دور میں بھی اور ان کے بعد بھی کبھی بھی امامت کا عقیدہ ایمان کے بنیادی ارکان میں سے نہیں رہا۔

یہ ابن تیمیہ کا اشکال ہے۔

 

اس کا جواب ہم چند نکات میں دیتے ہیں:

 

۱۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دین کے تین بنیادی ترین عقیدے توحید، نبوت اور معاد ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان تین عقیدوں کے مسلم اور ضروری ہونے کے بعد اگلا اہم ترین عقیدہ کونسا ہے؟ شیعہ سمجھتے ہیں کہ امامت، نبوت کے بعد کا دینی نظام ہے، جو ایک لحاظ سے ہدایت کے سلسلے میں نبوت کا ہی استمرار اور تسلسل ہے، لیکن ایک فرق کے ساتھ کہ نبی پر اپنے خاص معنی میں وحی اترتی تھی، جبکہ ختم نبوت کے بعد وحی کا سلسلہ رک گیا ہے۔ امام، در حقیقت دین کی طرف ہدایت، قرآن و حدیث کی تشریح اور دین و دنیا کے امور میں ہدایت و سرپرستی اور عملی قیادت اور لیڈر شپ میں نبی کا جانشین ہوتا ہے۔

 

۲۔ اگر امامت کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور اس کا تعلق کسی عقیدے سے ہے ہی نہیں، تو کیوں بڑے بڑے صحابہ رسول اللہﷺ کا جنازہ چھوڑ کر ایک فرعی کام (اہل سنت کے عقیدے کے مطابق) میں مشغول ہوگئے؟ کیوں اس مسئلے کے حوالے سقیفہ بنی ساعدہ میں صحابہ کی آوازیں بلند ہوئیں اور کیوں ایک دوسرے کے خلاف تلواریں نکلیں؟

 

۳۔ تمام اہل سنت محققین نے امامت کی تعریف میں "نبی کے جانشین" ہونے کو اخذ کیا ہے۔ نبی کا جانشین دینی اور دنیاوی لحاظ سے یقینا ایک اہم اور حساس عہدہ ہے۔ پس اس لحاظ سے دیکھا جائے تو امامت کا شمار انتہائی اہم عقائد میں سے ہونا چاہیے جس میں نبی کے بعد امت کی رہبری جیسا اہم مسئلہ مورد نظر ہے۔

 

۴۔ یہ بات انتہائی جاہلانہ بات ہے کہ قرآن و حدیث نے امامت کے موضوع کو اہمیت نہیں دی ہے۔ بلکہ اگر کوئی تعصب سے ہٹ کر دیکھیں تو اس موضوع کے بارے بار بار تاکید ہوئی ہے۔ انبیائے سلف کی سیرت بھی یہی تھی کہ اپنے بعد امت کو امام، پیشوا، نائب اور وصی کے بغیر نہیں چھوڑتے تھے۔ امامت کے موضوع پر ہم بلا مبالغہ کہہ سکتے ہیں کہ قرآن مجید میں دسیوں آیات موجود ہیں، اور احادیث کی کتابوں میں ہزاروں نہیں تو سینکڑوں روایات موجود ہیں۔

ہم چند آیات و روایات یہاں بطور نمونہ ذکر کرتے ہیں۔

۱۔ رسول گرامی اسلامﷺ کے بعد اولو الامر کی اطاعت کو واجب قرار دیا ہے۔ (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ) اولو الامر وہی امام ہے۔

۲۔ طاغوت کی اطاعت سے بڑی شدت کے ساتھ منع کیا ہے۔ (وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ) طاغوت وہ ہے جس کے پاس حکومت کرنے کا خدا کی طرف سے اذن نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں امام وہ ہے جس کے پاس حق حکومت، خدا کی طرف سے ہے۔ اسی طرح قرآن مجید نے امامت کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک امام وہ ہے جو لوگوں کو جہنم کی آگ کی طرف بلاتے ہیں، ان کے مقابلے میں بعض امام برحق وہ ہیں جو خدا کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں۔

۳۔ حدیث غدیر (مَنْ كُنْتُ مَوْلاهُ، فَهذا عَلِىٌّ مَوْلاهُ. أَللّهُمَّ والِ مَنْ والاهُ، وَ عادِ مَنْ عاداهُ) کے مطابق آنحضرتﷺ نے اپنے بعد مولا علی علیہ السلام کا نام لے کر ان کو خلیفہ، نائب، جانشین اور امام کے طور پر پیش کیا ہے۔ اور آپﷺ نے نہ صرف زبانی اعلان پر اکتفا کیا، بلکہ باقاعدہ تمام صحابہ سے اس بات پر بیعت بھی لی ہے۔

۴۔ حدیث ثقلین (إني تارك فيكم الثقلين : كتاب الله، وعترتي أهل بيتي، ما إن تمسكتم بهما لن تضلوا بعدي أبدا) کے مطابق رسول اللہﷺ نے اپنے بعد امت کو قرآن کے ساتھ ساتھ اہل بیت علیھم السلام کی طرف رجوع کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ ضلالت اور گمراہی سے بچا جا سکے۔ اس طرح سے آپ نے اہل بیت کرام علیھم السلام کی مرجعیت عمومی پر مہر ثبت کی ہے۔

۵۔ اہل سنت کی صحاح کی متعدد روایات کے مطابق آُپﷺ نے نا صرف اپنے بعد امامت کا اعلان کیا، بلکہ امام، خلیفہ اور امیر کی تعداد کے ساتھ ساتھ ان کا قبیلہ اور اوصاف تک بتا دئیے۔ (مزے کی بات یہ ہے کہ اہل سنت 12 کی تعداد آج تک پوری نہیں کر سکے اور عملی طور پر اس حدیث سے تغافل کرتے نظر آتے ہیں۔)

 

آیا ان تمام باتوں کے باوجود کہا جا سکتا ہے کہ قرآن اور حدیث نے امامت کے مسئلے کو کوئی اہمیت نہیں دی؟ یقینا تعصب ایسی بلا ہے جس کی بنا پر انسان واضح ترین حقائق کا بڑی آسانی کے ساتھ  اس وجہ سے انکار کر جاتا ہے چونکہ یہ بات ان کے اپنے عقیدے کے خلاف ہے۔


ٹیگس: امامت, ابن تیمیہ
+ لکھاری عباس حسینی در 29 Jan 2019 و ساعت 1:51 PM |

شیعوں کے نزدیک امامت کی اہمیت

 

جیسے کہ پہلے بیان ہوا شیعوں کے نزدیک امامت کا تعلق عقیدے اور اصول سے ہے، لہذا اس مسئلے سے علم کلام اور عقیدے کی کتابوں میں بحث کی جاتی ہے۔ اس حوالے سے چند نکات قابل غور ہیں۔

 

۱۔ اہل تشیع سمجھتے ہیں کہ امامت، نبوت کے بعد کا ایسا کامل نظام ہے جس کے ذریعے اللہ تعالی نے بشریت کی ہدایت کا اہتمام کیا ہے۔ اللہ تعالی نے آدم سے لے کر خاتم تک، اور خاتم سے لے کر تا قیام قیامت انسانون کی ہدایت کا بھرپور انتظام کر رکھا ہے۔ ایسے میں ہر دور میں حجت خدا اور کسی ہادی  کا ہونا ضروری ہے۔

 

۲۔ امام کی تعیین بھی خود اللہ تعالی کی ذمہ داری ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ہر نبی اور رسول کو اللہ تعالی نے خود معین فرمایا۔ ایسا نہیں ہو سکتا تھا کہ لوگ اکھٹے ہو کر کثرت رائے سے کسی کو نبی یا رسول بنا دیں۔ امامت بھی ایک الہی عہدہ ہے جو اللہ تعالی کی طرف سے ان خاص بندوں کو عطا ہوتا ہے جن میں اس عہدے کی صلاحیت موجود ہے۔

 

۳۔ اس مسئلے میں حق اور سچ کو جانچنے کا معیار قرآن مجید، رسول گرامی اسلامیﷺ کی صحیح احادیث اور آپ کی سیرت طیبہ ہے۔ کسی بھی واقعے کا تاریخ میں وقوع پذیر ہونا اس کی سچائی کی علامت نہیں، مگر یہ کہ وہ کام کسی معصوم کی طرف سے انجام پایا ہو۔ جو بھی غیر معصوم ہے اس سے غلطی کی گنجائش ہمیشہ موجود ہے۔

 

مسئلہ امامت کی اہمیت کے حوالے سے شیعہ سنی مصادر میں متعدد احادیث بیان ہوئی ہیں۔ حدیث "معرفت امام" ان مشترکہ احادیث میں سے ہے جسے بہت سارے محدثین نے مختلف عبارتوں کے ساتھ نقل کیاہے۔ اس حدیث کے مطابق ہر انسان پر اپنے زمانے کے امام کی معرفت واجب اور ضرری ہے تاکہ اس کی بیعت اور اطاعت ہو۔ اگر ایسا نہیں ہوا ہو تو شخص جاہلیت کی موت مرے گا۔ جاہلیت کی موت سے مراد کفر اور شرک کی موت ہے۔ پس اس حدیث کے مطابق امامت کو اہم ترین عقائد میں سے ہونا چاہیے کہ جس کا انکار کفر اور شرک کا باعث بن رہی ہے۔ اگر امامت کی کوئی اہمیت نہ ہوتی تو اس کے انکار کا اتنا سخت نتیجہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ کسی فرعی مسئلے سے جہالت کبھی بھی جاہلیت کی موت کا باعث نہیں بن سکتی۔

یہاں سے امامت کی اہمیت بالکل واضح ہو جاتی ہے۔


ٹیگس: امامت
+ لکھاری عباس حسینی در 29 Jan 2019 و ساعت 1:49 PM |

امامت کی بحث کا تعلق کس علم سے ہے؟

 

اہل سنت قائل ہیں کہ امام اور خلیفہ کی تعیین لوگوں کے ذمے ہے، لہذا یہ مکلفین (عام لوگوں) کا فعل ہے، اور مکلف کے فعل سے بحث علم فقہ میں ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے امامت کی بحث ایک فقہی اور فرعی بحث ہے۔

جبکہ اس کے مقابلے میں شیعہ قائل ہیں کہ امامت کا تعلق عقیدے سے ہے اور یہ ایک اصولی مسئلہ ہے، نہ فروعی۔ جس طرح سے نبی اور رسول کو اللہ تعالی خود معین فرماتا ہے، (اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ) اسی طرح امام کو بھی اللہ تعالی خود معین فرماتا ہے۔ نبی کی طرح امام کی بھی ذمہ داری دینی و دنیاوی امور میں لوگوں کی ہدایت اور قرآن و سنت کی تشریح ہے۔

یہاں جب ہم اہل سنت سے پوچھتے ہیں کہ اگر آپ کے نزدیک امامت کی بحث ایک فقہی مسئلہ ہے تو کیوں تمام اہل سنت متکلمین نے علم کلام اور عقیدے کی کتابوں میں امامت کی بحث شامل کی ہے؟

اس حوالے سے وہ جواب دیتے ہیں کہ یہ گزشتہ علماء کی اتباع میں ہے جو وہ کلامی کتابوں کے آخر میں امامت کے حوالے سے بحث کرتے ہیں۔ گویا یہ علم کلام سے ملحقہ بحث ہے، اصلی بحث نہیں۔ اس حوالے سے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ امامت کے باب میں اہل بدعت کی طرف سے بہت زیادہ خرافات پھیلائی گئی ہیں، جن کا دفاع کلامی کتابوں میں ضروری ہے۔

 

لیکن اہل سنت کا یہ نظریہ کئی وجوہات کی بنا پر درست نہیں:

 

۱۔ یہ بات ٹھیک نہیں کہ امام کی تعیین لوگوں کی ذمہ داری ہے۔ پہلے مرحلے میں ہمیں چاہیے امام کے مقام اور مرتبے کو معین کریں۔ (اس حوالے سے ہم بعد میں گفتگو کریں گے اور بتائیں گے کہ امام میں کونسی صفات اور خصوصیات ہونی چاہیں۔) امامت کے منصب، اس عہدے کی ذمہ داریوں اور امام کی صفات و خصوصیات کو دیکھتے ہوئے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ امام کی تعیین عام لوگوں کے بس کی بات نہیں۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ لوگ اکھٹے ہوں اور جمہوریت کے طریقے پر کسی کو تمام عالم اسلام کا امام، رسول کا جانشین اور خلیفہ بنائیں۔

 

۲۔ کلامی کتابوں میں امامت کی بحث کو شامل کرنا خود اس بات کی نشانی ہے کہ یہ بحث انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور اس کا تعلق انسان کے عقیدے سے ہے۔ اس کے مقابلے میں آنے والے شبہات کا تعلق عقیدے سے نہ ہوتا تو کلامی کتابوں میں اس کے دفاع کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔

 

۳۔ اگر امامت کا تعلق فروع سے ہے اور عقیدے سے اس کا کوئی تعلق نہیں تو کیوں بہت سارے اہل سنت علماء نے حضرت ابوبکر یا حضرت عمر کی خلافت کے منکر کے حوالے سے کفر کا فتوی دیا ہوا ہے؟ کسی فرعی حکم کے انکار سے کیا انسان کافر بن جاتا ہے؟ پس یہ دو باتیں آپس میں سازگار نہیں ہیں۔

 

۴۔ اہل سنت امام اور خلیفہ کے لیے جن صفات کے قائل ہیں، اگر ان کو مدنظر رکھیں تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان کے ہاں امامت کی بحث کا تعلق نہ اصول سے ہے اور نہ ہی فروع سے۔ اہل سنت امام اور خلیفہ کی شان اس قدر گھٹاتے ہیں کہ اس منصب کو ایک حاکم، ناظم، امیر اور بادشاہ کے برابر سمجھتے ہیں۔  ان کے ہاں ہر حاکم خلیفہ ہے بے شک وہ ظالم، فاسق اور فاجر ہی کیوں نا ہو! لہذا بہت سے اہل سنت یزید اور معاویہ جیسے ظالم، فاسق و فاجر کو بھی خلیفہ سمجھتے ہیں۔ ایسے میں اگر حقیقت دیکھ لی جائے تو اہل سنت کے ہاں امامت کا تعلق دین سے بنتا ہی نہیں ہے، بلکہ ایک دنیاوی عہدہ بن کے رہ جاتا ہے۔


ٹیگس: امامت
+ لکھاری عباس حسینی در 26 Jan 2019 و ساعت 9:44 PM |

امامت کی بحث کی اہمیت

 

عام طور پر لوگ سوال کرتے ہیں کہ امامت و خلافت کی بحث اس دور میں چھیڑنے کا فائدہ کیا ہے؟ یہ ایک جھگڑا تھا جو تاریخ کے اوراق کا حصہ بن چکا ہے۔ اس بات کو چودہ صدیاں گزر چکی ہیں۔ جو ہونا تھا وہ ہوچکا۔ اب ہم کسی چیز کو، کسی واقعے کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ کون حق پر تھا کون باطل پر؟ اس کا فیصلہ خدا کو کرنے دیں۔ ہم خدا بن کر فیصلہ کرنے والے کون ہوتے ہیں؟ اور جو لوگ گزر گئے ان کے بارے میں اللہ تعالی قرآن مجید میں اعلان فرما چکا ہے: تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ۔ یعنی وہ امت تھی جو گزر چکی۔ جو نیک کام انہوں نے کیا وہ ان کے حق میں ہے اور جو نیک کام تم لوگ کر رہے ہو وہ تمہارے حق میں ہے۔ وہ لوگ کیا کام کرتے تھے اس کا سوال تم سے نہیں پوچھا جائے گا۔

لیکن اس کے مقابلے میں دوسرا نظریہ یہ ہے کہ امامت کی بحث کی اہمیت آج بھی اپنی جگہ برقرار ہے۔ اس کی چند وجوہات ہیں:

 

۱۔ امامت کی بحث کا انسان کی دنیوی و اخروی سعادت اور شقاوت سے بہت گہرا رابطہ ہے۔ امام کی پہچان اس لیے ضروری ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے۔ امام دین اور دنیا کے معاملات میں راہنما ہوتا ہے۔ امام سے دین کے معاملات میں رہنمائی لی جاتی ہے۔ دنیاوی معاملات میں بھی امام بہترین مددگار ہے۔ اب اگر صحیح امام کی پہچان نہ ہو تو انسان ہمیشہ کے لیے گمراہ ہو سکتا ہے اور اس کا نتیجہ ابدی شقاوت اور جہنم کے عذاب کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

اگر امامت و خلافت کی بحث کا آج کے دور کے انسان کی زندگی میں کوئی عمل دخل نہ ہوتا تو ہم بھی اس بحث کو چھوڑ دیتے۔ جبکہ حقیقیت یہ ہے کہ اس بحث کا ہر دور کے انسان کی اخروی نجات اور دنیوی سعادت کے ساتھ گہرا ربط ہے۔ دین کا مرجع کن لوگوں کو ہونا چاہیے اس کی تعیین اس سے بحث سے مربوط ہے۔ کونسی احادیث لینی ہیں، کونسی نہیں؟ شریعت کے مصادر کونسے ہیں؟ دین کا دائرہ کتنا وسیع ہے؟ اس طرح کے بہت سارے کلیدی مسائل کا حل امامت کی بحث سے مربوط ہے۔

 

۲۔ امامت کی بحث کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ جو واقعات گزر چکے ہیں ان کی اصلاح کی جائے یا ان میں کوئی تبدیلی لائی جائے۔ بلکہ جو کچھ تاریخ میں واقعات رونما ہوئے ہیں، قرآن کریم اور سنت نبویہ کے ذریعے ان کو جانچنا ہے تاکہ معلوم ہوجائے جو واقعات رونما ہوئے کیا وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق تھے یا ان کے خلاف؟اس ذریعے سے حق اور باطل کی پہچان آسان ہو جائے گی تاکہ حق کی پیروی کی جائے، اور باطل سے بچا جا سکے۔

 

۳۔ شیعہ سنی متفق روایات کے مطابق جو بھی اپنے زمانے کے امام کی معرفت اور ان کی بیعت کے بغیر مرا وہ جاہلیت کی موت مرا ہے۔ ایسے میں ہر زمانے کے امام کی معرفت واجب ہے تاکہ ان کی معرفت، بیعت اور اطاعت ممکن ہو۔ یہاں سے بھی امامت کی بحث کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے کہ ہر زمانے کے لوگوں پر اس زمانے کے برحق امام کی معرفت واجب ہے تاکہ جاہلیت کی موت سے بچا جا سکے۔

 

۴۔ امامت کی بحث کا نبوت کے ساتھ بھی گہرا ربط اور تعلق ہے۔ شیعہ اور سنی، امامت اور خلافت کو نبوت کے سلسلے کے خاتمے کے بعد اسی کا نعم البدل سمجھتے ہیں۔ امام یا خلیفہ کو نبی کا جانشین، نائب اور وصی مانتے ہیں۔ امامت اور نبوت کے باہمی رابطے کے حوالے سے یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ جس وقت دعوت ذوالعشیرہ کے موقع پر رسول گرامی اسلام ﷺنے اپنی نبوت کا پہلی دفعہ اعلان کیا ہے اسی وقت ہی اپنے بعد اپنے نائب اور خلیفہ کے حوالے سے بھی بات کی ہے۔ یعنی امامت کا اعلان، نبوت کے اعلان کے ساتھ متصل ہے۔ اسی طرح اپنی حیات طیبہ کے ہر اہم موڑ پر آپ ﷺنے امامت اور اپنی جانشینی کے مسئلے کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے اور اس حوالے سے ارشادات فرمائے ہیں۔


ٹیگس: امامت
+ لکھاری عباس حسینی در 25 Jan 2019 و ساعت 7:38 PM |

اسلام مخالف ٹرائیکا

تحریر: عباس حسینی

رسول گرامی اسلام حضرت محمد مصطفی ﷺ نے مدینہ منورہ میں جس اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی اور جس کی خاطر آپﷺ اور آپ کے جانثار اصحاب نے بہت زیادہ زحمتیں اٹھائیں، جب آپ اس ظاہری دنیا سے جا رہے تھے، یہ ریاست اسلام مخالف ٹرائیکا کے گھیرے میں تھی۔ مشرق اور شمال کی طرف اس وقت کی دو بڑی طاغوتی ریاستیں تھیں جواس نوزاد اسلامی ریاست کو اپنے لیے خطرہ سمجھتی تھیں۔ روم اور ایران کی سلطنتیں اس وقت انتہائی طاقتور تھیں۔ جس وقت رسول گرامی اسلام ﷺ نے ایران کے بادشاہ کو خط لکھا ہے، اس نےطاقت کے نشے میں  آپ کا مبارک خط پھاڑ دیا تھا اور یمن میں موجود اپنے گورنر کے نام خط لکھا تھا کہ اس مدعی نبوت کو پکڑ کر میرے پاس بھیجو۔ رومی سلطنت، مدینے کی اسلامی ریاست کے لیے کس قدر خطرہ تھی، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے  کہ حضور اکرمﷺ کی حیات طیبہ میں دو دفعہ رومیوں سے لڑنے کے لیے مسلمانوں کا لشکر گیا ہے۔ ۸ ہجری میں جنگ موتہ رومیوں کے خلاف لڑی گئی جس میں بعض بڑے صحابہ جیسے جعفر بن ابی طالب، زید بن حارثہ اور عبد اللہ بن رواحہ  شہادت نوش کر گئے، جبکہ اسلامی لشکر کو رومیوں کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ اس شکست کا بدلہ لینے کے لیے اگلے سال رسول اکرمﷺ خود ایک لشکر جرار لے کر تبوک کی طرف نکلے۔ لیکن اس دفعہ رومی لڑنے نہیں آئے۔ اسلامی لشکر چند دنوں تک تبوک میں انتظار کرتا رہا اور پھر واپس آیا۔ اور پھر تیسری مرتبہ آپﷺ کی وفات سے چند ماہ پہلے اسامہ بن زید کی سربراہی میں ایک اور لشکر رومیوں سے لڑنے کے لیے آپﷺ نے آمادہ فرمایا اور خصوصی تاکید کی کہ سارے صحابہ اس لشکر میں شریک ہوں اور رومیوں سے لڑنے کے لیے مدینہ سے باہر نکلیں۔ البتہ تاریخ کہتی ہے کہ مولائے متقیان علی بن ابی طالب علیہ السلام کا نام اس لشکر میں شامل نہیں تھا۔ لیکن تمام بڑے صحابہ نے رسول اکرمﷺ کے اس فرمان کی حکم عدولی کی اور بار بار تاکید کے باوجود مدینے میں ہی بیٹھے رہے، جس پر رسول گرامی اسلامﷺ ان اصحاب سے انتہائی ناراض ہوئے، جس کا آپ ﷺ نے کئی دفعہ اظہار بھی فرمایا۔

ان دو خارجی دشمنوں کے علاوہ، اس ٹرائیکا میں تیسرا داخلی دشمن منافقین کی صورت میں موجود تھے۔ یہ لوگ اس انتظار میں تھے کہ جونہی رسالت مآبﷺ کی وفات ہوتی ہے ہم فورا اس ناپائیدار ریاست کو اچک لیں گے۔ ان کو پہچاننا اتنا آسان کام نہیں تھا، چونکہ انہوں نے ظاہری طور پر اسلام کا لباس اوڑھا ہوا تھا اور صحابی رسول کے عنوان سے پہچانے جاتےتھے، لیکن دل ہی دل میں اس ریاست کی جڑیں کاٹنے کی پلاننگ کر رہے تھے۔ قرآن مجید نے مسلمانوں کو منافقین سے خصوصی طور پر ہشیار رہنے کی تاکید کی ہے اور بہت ساری آیات کے علاوہ ایک پوری سورت میں ان کے حوالےسے بات کی ہے۔

اب یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ جس ریاست کی خاطر رسول گرامی اسلامﷺ نے اتنی زحمتیں اٹھائی ہیں، کیا آپﷺ اس کے مستقبل کے حوالے سے پریشان نہیں تھے؟ کیا آپ نے اس کے مستقبل کے حوالے سے کچھ بھی نہیں سوچا تھا؟ جبکہ پیچھے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ دشمن کے اس خبیث مثلثی اتحاد سے آپ آگاہ تھے۔ کیا عقلی طور پر ایسا تصور کیا جا سکتا ہے؟ جبکہ ہم میں سے کوئی شخص ایک چھوٹا سا ادارہ بھی بنائیں تو اس کے مستقبل کے حوالے سے ہر قسم کی پلاننگ کرتے ہیں۔ اپنے بعد کسی مطمئن شخص کو اس کی ذمہ داری سونپتے ہیں۔ اس ادارے کو چلانے والے میں کیا خصوصیات ہونی چاہیے اس حوالے سے رولز بناتے ہیں۔

رسول گرامی اسلامﷺ اسلامی ریاست مخالف ٹرائیکا کےمقابلے میں مسلمانوں کو متحد رکھنے کی خاطر اپنا جانشین معین کر جاتے یہ بہتر تھا؟ یا یہ کام امت کے سپرد کر جاتے یہ بہتر تھا؟ جبکہ آپﷺ جانتےتھے کہ قبائلی نظام میں منقسم  امت کا ایک بات پر متفق ہونا انتہائی مشکل امر ہے۔ اور ساتھ ہی آپﷺ یہ بھی جانتے تھے کہ آپ کی وفات کے فورا بعد یہ ٹرائیکا اسلامی ریاست کے درپے ہوگا۔ یقینا ہر عاقل یہاں یہ حکم لگاتا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کا مفاد اسی میں تھا کہ آپﷺ اپنا نائب اور جانشین معین کر جاتے۔ شیعہ عقیدے کے مطابق آپﷺ نے اپنا یہ فریضہ بخوبی انجام دیا اور حضرت علی ابن ابی طالب علیھما السلام کو اپنا نائب، وصی، جانشین اور خلیفہ معین فرما گئے۔

(استفادہ از: محاضرات فی الالہیات، استاد جعفر سبحانی)

+ لکھاری عباس حسینی در 11 Dec 2018 و ساعت 10:9 PM |

الحمد للہ تشیع مکمل طور پر ایک عقلی مذہب ہے۔ اس کی شریعت کے بنیادی مآخذ میں سے ایک اہم ماخذ عقل ہے۔ ہماری احادیث کے مطابق اللہ تعالی نے انسانوں کی طرف دو قسم کے رسول بھیجے ہیں۔ ایک ظاہری رسول جو انبیاء کی شکل میں آئے، اور دوسرا، انسانی عقل ہے، جسے باطنی رسول کہا گیا۔

قرآن و روایات تعقل اور تفکر پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں۔ سوال اٹھانا انسان کی فطرت ہے اور ساتھ میں تفکر کی نشانی بھی۔ ہمارے نزدیک کسی بھی مسئلے پر جو چاہے، جب چاہے سوال اٹھا سکتا ہے، اس کے حوالے سے پوچھ سکتا ہے اور تحقیق کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے دوسرے مذاہب کے برخلاف، ہمارے مذہب نے آج تک دوسرے ادیان و مذاہب کی کتابیں پڑھنے سے نہ صرف منع نہیں کیا، بلکہ الٹا ہم اس کی ترویج اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ہمیں اپنی باتوں کی حقانیت پر سو فیصد یقین ہے اور ہر بات پر قطعی اور عقلی دلیل رکھتے ہیں۔

یقین کا راستہ شک سے ہو کر گزرتا ہے۔ عقائد کے باب میں تقلید جائز نہیں۔ ہر انسان پر لازم ہے وہ تحقیق اور سوچ سمجھ کے بعد اپنا عقیدہ چن لے۔ فقط ان باتوں کو مان لے جس پر اس کا دل مطمئن ہے۔ صرف یہ کہنا کہ میرے باپ دادا کا عقیدہ ایسا تھا، ہرگز کافی نہیں۔

شک بہترین گزرگاہ ہے، البتہ منزل ہرگز نہیں۔ شک سے ہو کر گزرنا ہے، اس پر ٹھہرنا ہرگز نہیں۔ البتہ یہ بات اس کے لیے ہے جو اپنے شک میں صادق ہو۔ ایسا نہ ہو وہ حقیقت میں کوئی ایجنڈا رکھتا ہو، اور لوگوں کے سامنے تشکیک کا ڈرامہ کرے۔ مسلمانوں میں امام غزالی نے اور مغرب کی سرزمین میں ڈیکارٹ نے اپنے سفر کا آغاز شک سے کیا۔ لیکن ہر بات میں جہاں شک کیا جا سکتا ہے، وہیں خود شک میں شک کرنا ممکن نہیں۔ یہیں سے قطع اور یقین کے سفر کا آغاز ہوتا ہے، جس کی تفصیل امام غزالی نے اپنی کتاب "المنقذ من الضلال" میں بیان کی ہے۔

جو شخص خدا کے وجود کا ہی منکر ہو، اس سے بحث کے دوران آپ قرآن و حدیث سے دلیل نہیں لا سکتے، چونکہ اس کے نزدیک جب خدا ہی ثابت نہیں، تو خدا کی طرف سے بھیجی کتاب یا خدا کے رسول کی حدیث کی کوئی حیثیت نہیں۔ ایسے شخص سے بحث کا بہترین راستہ، یا کہہ لیں واحد اور منحصر راستہ، عقلی راستہ ہے۔ عقل کی زبان کو تمام ادیان و مذاہب کے مابین، یہاں تک کہ منکرِ دین سے بحث کرنے کے لیے مشترکہ زبان کے طور پر اخذ کیا جا سکتا ہے۔

ہمارا دعوی یہ ہے کہ خدا کا وجود، ایک نہیں، ہزاروں عقلی اور قطعی دلیلوں سے ثابت ہے۔ (ہاں اگر کوئی عقل کو ہی نہیں مانتا اس سے بحث کا الگ راستہ ہو سکتا ہے۔) خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے بعد نبی کی ضرورت بھی عقلی طور پر ہم ثابت کرتے ہیں اور ساتھ میں یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ وہ نبی معصوم ہونا چاہیے۔ اس کے بعد جب عملی طور پر معجزات، مختلف قرینوں اور تاریخی حقائق سے کسی شخص کی نبوت ثابت ہوتی ہے تو اس کی کتاب کے مندرجات، اس کی تمام باتوں اور لائے ہوئے تعلیمات کی درستگی اور سچائی بھی خود بخود ثابت ہو جاتی ہے، چونکہ فرض یہ ہے کہ وہ معصوم نبی ہے، اور معصوم کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔۔۔

+ لکھاری عباس حسینی در 5 Dec 2018 و ساعت 10:56 PM |

مباہلہ، اہل بیت کی شان اور ناصبیوں کی بے بسی

تحریر: عباس حسینی

مباہلے کا واقعہ تاریخ اسلام کا ایسا عظیم واقعہ ہے جس سے اسلام کی سربلندی اور ان افراد کی سچائی ہمیشہ کے لیے امر ہوگئ جنہیں رسول گرامی اسلامﷺ اپنے ساتھ نجران کے عیسائیوں سے مباہلے کے لیے ساتھ لے کر گئے تھے۔ لیکن چونکہ اس واقعے سے اہل بیت کرام کی ایسی شان اور عظمت ثابت ہوتی ہے جو ان کے دشمنوں اور ناصبی افراد سے برداشت نہیں ہوتی، لہذا ہر کچھ عرصے بعد اس حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ان بے چاروں کا مسئلہ یہ ہے کہ اپنے بڑوں کے فضائل بیان کرنے سے تو رہے، لہذا  حسد میں آکر یہ طریقہ ڈھونڈ لیا کہ دوسروں کی شان گھٹا لو تاکہ اپنوں کے برابر لایا جاسکے۔ لیکن کیا کریں ان بے چاروں کی بے بسی کہہ لیں، خود ان کی معتبر ترین کتابوں میں اہل بیت کرام کی اتنے فضائل بیان ہوئے ہیں کہ جن کا شمار بھی مشکل امر ہے۔ اگرچہ اصولی طور پر ہمارے لیے ہمارے عقائد کا ہماری اپنی کتابوں سے ثابت ہونا کافی ہے، لیکن  الحمد للہ مذہب شیعہ کے تمام اصول قرآن اور عقل کے علاوہ خود اہل سنت کی معتبر ترین کتابوں سے بھی  ثابت ہیں۔

مباہلے کے حوالے سے عام طور پر جو دو اشکال کیے جاتے ہیں وہ یہ ہیں۔

۱۔ مباہلہ یہودیوں کے ساتھ تھا، عیسائیوں کے ساتھ نہیں۔ شیعوں نے امام حسن اور امام حسین علیھما السلام کی فضیلت ثابت کرنے کے لیے اسے عیسائیوں کے ساتھ جوڑ لیا۔ جبکہ جس وقت رسول اللہﷺ مدینے آئے اور مباہلہ ہوا اس وقت مدینے کے اطراف میں عیسائی تھے ہی نہیں۔

۲۔ مباہلے کا واقعہ حسنین کی پیدائش سے قبل کا واقعہ تھا۔ لہذا اس میں پنجتن کی شرکت مشکوک ہے۔ پھر یہ لوگ نتیجہ لیتے ہیں کہ اہل بیت میں صرف پنجتن پاک کا ہونا ثابت نہیں۔

 

پہلا مطلب: مباہلہ عیسائیوں کے ساتھ  تھا،  اور ہجرت کے نویں سال یہ واقعہ پیش آیا۔

ابن جریر طبری اپنی تفسیر میں: جو بھی تجھ  سے اے محمدﷺ، مسیح عیسی بن مریم کے بارے مجادلہ کرے، پس کہہ دیجیے۔۔۔ جھگڑا اس بات کا تھا کہ عیسی خدا کا عبد ہے یا خدا کا بیٹا؟  "ما جائک من العلم" سے مراد بھی یہ ہے کہ جب ثابت ہوچکا کہ عیسی خدا کا عبد اور رسول ہے اس کے باوجود کوئی نہ مانے تب مباہلہ کرنا۔ اور ساتھ ہی رسول گرامی کی یہ حدیث بھی نقل کی ہے جس میں آپ نے فرمایا: اےکاش میرے اور نجران کے نصاری کے درمیان کوئی حجاب ہوتا اور میں انہیں نہ دیکھتا اور وہ مجھے نہ دیکھتے۔ (تفسیر طبری، ج3، ص 209، 210)

آلوسی: نجران کے نصاری کا وفد اگر تم سے عیسی کے بارے میں مجادلہ کرے۔۔ (روح المعانی، ج 2، ص 179)

رشید رضا تفسیر المنار میں: آیت مباہلہ کے حوالے سے متعدد طرق سے نقل ہوا ہے کہ نبی اکرمﷺ نے نجران کے عیسائیوں کو مباہلہ کی دعوت دی۔۔ (تفسیر المنار، ج 11، ص 19)

فخر رازی: فمن حاجک فیہ میں ضمیر حضرت عیسی کی طرف لوٹ رہی ہے۔ پچھلی آیتوں میں بیان ہوچکا کہ عیسائیوں کی یہ بات غلط ہے کہ حضرت عیسی خدا کے بیٹے ہیں۔ آدم جو بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے خدا کے بیٹے نہیں ہو سکتے تو عیسی کیسے خدا کے بیٹے ہو سکتے ہیں؟ اس حقیقت کے باوجود کوئی تمہارے ساتھ ضد کرے تو اسے مباہلے کی دعوت دو۔ آیت کی تفسیر میں وجہ رابع بیان کرتے ہوئے پھر نصاری کے قول کے باطل ہونے پر فخر رازی نے دلیل پیش کی ہے۔ دوسرے مسئلے کے بیان میں نجران کے نصاری کا پورا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے۔ (تفسیر کبیر، ج 8، ص 248)

ان سب کے علاوہ آیت مباہلے سے ماقبل 6 آیات(آل عمران55 تا 60) کوئی غور سے پڑھ لیں وہ آیات کے سیاق کے تحت اس قطعی نتیجے تک پہنچ جاتا ہے کہ مباہلے والی آیت بھی مسیحیوں سے ہی متعلق ہے۔ یہودیوں کا اس پورے صفحے پر کوئی تذکرہ ہی نہیں ہے۔

 

دوسرا مطلب: مباہلہ میں رسول اللہﷺ، علی فاطمہ حسن اور حسین علیھم السلام کو لے کر گئے۔

رشید رضا: روایت آئی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ان ہستیوں کو اپنے ساتھ مباہلے کے لیے چن لیا۔ میں دعا کروں گا، آپ لوگ آمین کہیں۔ مسلم اور ترمذی اور ان دونوں کے علاوہ دوسروں  کی سعد سے روایت ہے: جب یہ آیت نازل ہوئی رسول اللہﷺ نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیھم السلام کو بلایا اور فرمایا: اے اللہ، یہ میرے اہل بیت ہیں۔ رشید رضا اپنے استاد سے نقل کرتے ہیں: روایات اس بات پر متفق ہیں کہ نبی اکرم نے مباہلے کی خاطر علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیھم السلام کو چن لیا۔"نساء" کا لفظ صرف فاطمہ کے لیے، انفسنا کا لفظ صرف امام علی کے اوپر اطلاق ہوا ہے۔(تفسیر المنار،ج 11، ص 20)

آلوسی:  رسول اللہ مباہلے کے لیے اپنے ساتھ علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیھم السلام کو لے کر گئے۔(ج 2، ص 181)

فخر رازی: مباہلےمیں پنجتن پاک کی شرکت کے حوالے سے روایات نقل کرنے کے بعد کہتا ہے: جان لو یہ روایت وہ ہے جس کی صحت پر اہل تفسیر اور حدیث کے درمیان گویا اتفاق ہے۔ (تفسیر کبیر، ج 8، ص 247) فخر رازی اسی آیت کے ذیل میں چوتھا مسئلہ بیان کرتے ہوئے یوں لکھتا ہے: یہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ حسن اور حسین علیھما السلام رسول اللہﷺ کے بیٹے تھے۔ جب بیٹوں کو بلانے کا کہا تو آپ حسن اور حسین علیھما السلام کو لے کر آئے، پس ضروری ہے کہ یہ دونوں آپ کے بیٹے ہوں۔ پھر اس مطلب پر قرآن سے شواہد لاتے ہیں۔(تفسیر کبیر، ج 8، ص 248) آخر میں آیت کے حوالے سے مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے فخر رازی دوبارہ لکھتے ہیں: رسول اللہﷺ کا اپنے ساتھ اپنے بیٹوں (حسن اور حسین علیھما السلام) اور اپنی بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیھا کو لانا اس بات کی نشانی تھی کہ آپ کو اپنی حقانیت پر مکمل یقین تھا اور دشمن کو اس کام سے روکنے میں زیادہ موثرتھا۔ (تفسیر کبیر، ج 8، ص 249)

تفسیر ابن کثیر میں بھی یہی بات لکھی گئی ہے کہ مباہلے کے لیے پیامبر اکرمﷺ پنجتن پاک کو لے کر گئے۔ (تفسیر القرآن العظیم (تفسیر ابن کثیر)، ج 2، ص 47)

 

اہل سنت کی معتبر ترین حدیث کی کتابوں سے بھی کچھ حوالے ملاحظہ فرمائیں:

صحیح مسلم : ‏‏‏‏‏‏ولما نزلت هذه الآية:‏‏‏‏ فقل تعالوا ندع ابناءنا وابناءكم سورة آل عمران آية 61، ‏‏‏‏‏‏دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم عليا، ‏‏‏‏‏‏وفاطمة، ‏‏‏‏‏‏وحسنا، ‏‏‏‏‏‏وحسينا، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ اللهم هؤلاء اهلي. (کتاب فضائل الصحابہ، باب من فضائل علی بن ابی طالب، حدیث 6220)

جب یہ آیت اتری  :(نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُم) بلائیں ہم اپنے بیٹوں کو اور تم اپنے بیٹوں کو۔ یعنی آیت مباہلہ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو، پھر فرمایا: ”یا اللہ! یہ میرے اہل ہیں۔

http://www.islamicurdubooks.com/Sahih-Muslim/ad.php?bsc_id=1104&bookid=2

سنن ترمذی کی روایت بھی ملاحظہ ہو(سنن ترمذی، کتاب تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ آل عمران،    حدیث 2999):

لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ الْآيَةَ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ، دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا، وَفَاطِمَةَ، وَحَسَنًا، وَحُسَيْنًا، فَقَالَ: اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.

سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت"تعالوا ندع أبناءنا وأبناءكم ونساءنا ونساءكم"  نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی، فاطمہ اور حسن و حسین رضی الله عنہم کو بلایا پھر فرمایا: ”یا اللہ! یہ لوگ میرے اہل ہیں“۔

http://www.islamicurdubooks.com/Sunan-at-Tirmidhi/ad.php?bsc_id=1923&bookid=6

 

مستدرک کے مولف حاکم نیشاپوری نے اپنی کتاب معرفت علوم حدیث  جلد 1، ص 50 پر لکھا ہے:

وقد تواترت الأخبار في التفاسير عن عبد الله بن عباس وغيره أن رسول الله (صلی الله عليه وآله﴾ أخذ يوم المباهلة بيد علي وحسن وحسين وجعلوا فاطمة وراءهم ثم قال هؤلاء أبناءنا وأنفسنا ونساؤنا فهلموا أنفسكم وأبناءكم ونساءكم ثم نبتهل فنجعل لعنة الله على الكاذبين.

(تفاسیر میں عبد اللہ بن عباس اور دیگر سے یہ روایات متواتر طور پر نقل ہوئی ہیں کہ رسول اللہﷺ مباہلے کے دن علی، حسین اور حسین علیھم السلام کے ہاتھ پکڑ کر تشریف لائے۔ سیدہ فاطمہ ان کے پیچھے پیچھے تھیں۔ پھر آپ نے فرمایا: یہ ہمارےبیٹے ، ہمارے نفس اور ہماری خواتین ہیں۔ تم بھی اپنے بیٹوں، نفسوں اور خواتین کو لے آو تاکہ ہم مباہلہ کریں اور جھوٹے پر خدا کی لعنت قرار دیں۔

یہ فقط چند نمونے ہیں، ورنہ اگر تفصیل میں جانا چاہیں تو ان مطالب کے اثبات پر صرف اہل سنت کی کتابوں کے حوالوں کے ساتھ چند جلد کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ قاضی نور اللہ شوشتری نے اپنی کتاب احقاق الحق میں اہل سنت کے 60 بزرگان کے نام لیے ہیں جنہوں نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ آیت مباہلہ کے مصداق اہل بیت کرام (رسول گرامی اسلام، امام علی، امام حسن، امام حسین اور سیدہ فاطمہ علیہم السلام)ہیں۔

انصاف اور عقل رکھنے والے لوگ خود فیصلہ کر لیں۔ ان تمام حقائق کے باوجود اہل بیت کرام کے فضائل سے کوئی جلتا ہے اور مسلمہ فضائل کا انکار کرتا ہے اس کا کوئی علاج نہیں۔


ٹیگس: مباہلہ
+ لکھاری عباس حسینی در 23 Nov 2018 و ساعت 12:17 AM |

خدا کی ذات کی معرفت ممکن نہیں۔۔!

تحریر: سید عباس حسینی

 

یہ بات اپنی جگہ ثابت ہے کہ خدا کی ذات لا محدود اور نا متناہی ہے۔ جبکہ انسان کی ذات اور اس کے پاس معرفت کےجتنے  وسائل ہیں سب محدود ہیں۔ انسانی حواس، انسانی تخیل اور انسانی عقل محدود ہے۔

علم کے ذریعے عالم، معلوم کا علمی طور پر احاطہ کرتا ہے۔

یہاں سے یہ بات سمجھنا آسان ہو جاتا ہے کہ ایک محدود ذات کے لیے، لا محدود اور نا متناہی ذات کا علم اور ادراک اور اس کا احاطہ ممکن ہی نہیں۔

مثلا ہم سب جانتے ہیں کہ عدد نا متناہی(Unlimited) ہے۔ ہم اس بات کا تصور تو کر سکتے ہیں، لیکن اس کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتے۔ مثلا ہم جتنا  بڑا عدد تصور کریں، اس سےبھی بڑا عدد  فرض کیا جا سکتا ہے۔ لہذا اس لا متناہی کی آخری حد تک ہم نہیں جاسکتے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اس کی آخری حد ہے ہی نہیں۔

اسی طرح خداوند متعال کی ذات ہے جس کی کوئی حد نہیں۔ جس چیز کی کوئی حد نہیں ، انسانی محدود عقل، اس تک پہنچ ہی نہیں سکتی۔ انسان ہمیشہ ہر چیز کو اس کی حدود (ماہیات) کے اندر ہی سمجھ سکتا ہے۔

انسان کے پاس موجود علم و معرفت کے وسائل کی کمزوری کو آپ یہاں سے بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ ایک عام سی چیز کو بھی سمجھنا ہو تو انسان اس کے حصے حصے کر کے سمجھتا ہے۔ اس کو ایک ہی دفعہ پورا سمجھنا انسان کے بس کی بات نہیں۔ مثلا میرے سامنے ایک کیک پڑا ہوتو اس کے رنگ کو میں آنکھ کے ذریعے سمجھوں گا، اس کے ذائقے کو زبان کے ذریعے، اس کی نرمی کوہاتھ کے ذریعے، اس کی خوشبو کو ناک کے ذریعے۔ اگر کسی انسان کے پاس کوئی حس کم ہو، وہ اس حس سے متعلق تمام علوم سے محروم ہوگا۔ پس جب ایک عام سی چیز کا ادراک، اس کے حصے کیے بغیر انسان کے بس کی بات نہیں، تو وہ ذات جو لا محدود ہے، جو بسیط ہے اورجس کے اجزاء نہیں ہیں،  اس کی معرفت کیسے ممکن ہوگی؟

ساتھ ہی یہ بات بھی مدنظر رہے کہ محدود، اور لا محدود کے درمیان فاصلہ بھی ہمیشہ لا محدود ہوتا ہے۔ پس ہمارے اور خدا کے درمیان وجودی طورپر فاصلہ لا محدود ہے، جس کو سمجھنا نہ کسی انسان کے بس کی بات ہے، اور نہ طے کرنا۔

اسی لیے مولائے متقیان علی بن ابی طالب علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں فرمایا:

الذي لايدرکه بعد الهمم ولا يناله غوص الفطن

خدا کی ذات وہ ہے جسےنہ بلند پرواز ہمتیں پا سکتی ہیں اور نہ عقل و فہم کی گہرائیاں اس کی تہہ تک پہنچ سکتی ہیں۔

البتہ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں، خدا کے وجود (موجود ہونے) کوہم نہیں سمجھ سکتے! خدا کا وجود عقلی اور فطری محکم دلیلوں کے ذریعے ثابت ہے۔ یہاں مراد یہ ہے کہ اس ذات کی حقیقت کو سمجھنا ہرگز ممکن نہیں۔ اسی لیے روایات میں کہا گیا خدا کی ذات میں غور و فکر کرنے سے بچو، گمراہ ہو جاو گے اور ہلاک ہو جاو گے۔  اس کی نعمتوں میں غور کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔

+ لکھاری عباس حسینی در 5 Nov 2018 و ساعت 10:0 PM |

اللہ تعالی کی سب سے پہلی مخلوق

 

بعض لوگوں سے اہل بیت کرام علیہم السلام کے فضائل برداشت نہیں ہوتے اور ہر کچھ عرصے بعد ان کے فضائل کو گھٹانے کی خاطر کوئی نیا مطلب گھڑ کر لاتے ہیں۔ آج ایک صاحب نے لکھا کہ "اللہ نے سب سے پہلے میرے نور کو خلق کیا والی حدیث نبوی کا خالق محی الدین ابن عربی گمراہ اور مشرک تھا ۔ اور یہ حدیث جھوٹی ہے" لیکن ان صاحب کو اتنی توفیق نہیں ہوئی کم از کم اپنی بنیادی کتابوں کا ہی مطالعہ کرتے۔۔ یہ حدیث بہت سارے ائمہ سے منقول ہے جسے یہ صاحب جھوٹ کہہ رہا ہے۔

یہاں انتہائی اختصار کے ساتھ اصول کافی کے باب مولد النبی سے صرف ۵ روایتیں پیش کر رہے ہیں جو واضح طور پر بیان کر رہی ہیں کہ اللہ تعالی نے سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ہمارے ائمہ معصومین علیہم السلام کے نور کو خلق کیا۔۔ اس حوالے سے روایات تواتر کی حد تک ہیں۔ ان سب کو یہاں نقل کرنے کا فی الحال وقت نہیں ہے۔  اصول کافی سے چند روایات ملاحظہ ہوں۔

 

۱۔  امام صادق علیہ السلام کی روایت ہے: اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں نے تجھے اور علی علیہ السلام کو نور کی شکل میں پیدا کیا۔ یعنی ایسی روح جو بدن کے بغیر ہے۔ قبل اس کے کہ آسمان، زمین، عرش اور سمندر کی تخلیق ہو۔

أَحْمَدُ بْنُ إِدْرِيسَ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى وَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حَدِيدٍ عَنْ مُرَازِمٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى يَا مُحَمَّدُ إِنِّي خَلَقْتُكَ وَ عَلِيّاً نُوراً يَعْنِي رُوحاً بِلَا بَدَنٍ قَبْلَ أَنْ أَخْلُقَ سَمَاوَاتِي وَ أَرْضِي وَ عَرْشِي وَ بَحْرِي‏. (اصول کافی، ج 1، 440، باب مولد النبی)

 

۲۔ امام باقر علیہ السلام کی روایت ہے کہ اے جابر! اللہ تعالی نے جسے سب سے پہلے خلق کیا وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ہے اور ان کی عترت (آل محمد) ہے۔۔۔

الْحُسَيْنُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ عَنِ الْمُفَضَّلِ عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: قَالَ لِي أَبُو جَعْفَرٍ ع يَا جَابِرُ إِنَّ اللَّهَ أَوَّلَ‏ مَا خَلَقَ‏ خَلَقَ مُحَمَّداً ص وَ عِتْرَتَهُ الْهُدَاةَ الْمُهْتَدِين‏ وَ أَجْرَى فِيهِ مِنْ نُورِهِ الَّذِي نُوِّرَتْ مِنْهُ الْأَنْوَارُ وَ هُوَ النُّورُ الَّذِي خَلَقَ مِنْهُ مُحَمَّداً وَ عَلِيّاً فَلَمْ يَزَالا نُورَيْنِ أَوَّلَيْنِ إِذْ لَا شَيْ‏ءَ كُوِّنَ قَبْلَهُمَا فَلَمْ يَزَالا يَجْرِيَانِ طَاهِرَيْنِ مُطَهَّرَيْنِ فِي الْأَصْلَابِ الطَّاهِرَةِ حَتَّى افْتَرَقَا فِي أَطْهَرِ طَاهِرِينَ فِي عَبْدِ اللَّهِ وَ أَبِي طَالِبٍ ع. (اصول کافی، ج1، ص 442، باب مولد النبی)

 

3. امام باقر علیہ السلام ہی کی روایت ہے کہ اللہ تعالی نے پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کی: میں نے تجھے اس وقت خلق کیا جب کوئی بھی چیز نہیں تھی۔

أَحْمَدُ عَنِ الْحُسَيْنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْفُضَيْلِ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ ع يَقُولُ‏ أَوْحَى اللَّهُ تَعَالَى إِلَى مُحَمَّدٍ ص أَنِّي خَلَقْتُكَ‏ وَ لَمْ تَكُ شَيْئا. (اصول کافی، ج 1، 440، باب مولد النبی)

 

4. امام جواد علیہ السلام کی روایت ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو، علی علیہ السلام کو، فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کو اس وقت خلق کیا جب خدا واحد اور متفرد تھا۔ اس کے بعد ایک مدت گزر گئی، پھر باقی تمام اشیاء کو خلق کیا۔

الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَشْعَرِيُّ عَنْ مُعَلَّى بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي الْفَضْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي جَعْفَرٍ الثَّانِي ع فَأَجْرَيْتُ اخْتِلَافَ الشِّيعَةِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى لَمْ يَزَلْ مُتَفَرِّداً بِوَحْدَانِيَّتِهِ ثُمَّ خَلَقَ مُحَمَّداً وَ عَلِيّاً وَ فَاطِمَةَ فَمَكَثُوا أَلْفَ دَهْرٍ ثُمَّ خَلَقَ جَمِيعَ الْأَشْيَاء. (اصول کافی، ج 1، 441، باب مولد النبی)

5. امام صادق علیہ السلام سے مفضل کی روایت ہے کہ  آپ نے فرمایا: اے مفضل ہم اس وقت بھی اپنے پروردگار کے پاس تھے جب کوئی دوسرا نہ تھا۔ ہم اس پرودگار کی تسبیح کرتے تھے، اس کی تقدیس کرتے تھے، تہلیل کرتے تھے، اس کی تجید کرتے تھے۔ اس وقت ہمارے سوا  نہ کوئی ملک مقرب تھا اور نہ کوئی ذی روح تھا۔ یہاں تک کہ خدا نے ارادہ کیا چیزوں کو خلق کرے، جیسے چاہیے خلق کرے۔ ملائکہ اور دوسری اشیاء کو خلق کرے۔ ان تمام چیزوں کاعلم بھی ہمارے پاس رکھا۔

عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حَمَّادٍ عَنِ الْمُفَضَّلِ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع كَيْفَ كُنْتُمْ حَيْثُ كُنْتُمْ فِي الْأَظِلَّةِ فَقَالَ يَا مُفَضَّلُ كُنَّا عِنْدَ رَبِّنَا لَيْسَ عِنْدَهُ أَحَدٌ غَيْرُنَا فِي ظُلَّةٍ خَضْرَاءَ نُسَبِّحُهُ وَ نُقَدِّسُهُ وَ نُهَلِّلُهُ وَ نُمَجِّدُهُ وَ مَا مِنْ مَلَكٍ مُقَرَّبٍ وَ لَا ذِي رُوحٍ غَيْرُنَا حَتَّى بَدَا لَهُ فِي خَلْقِ الْأَشْيَاءِ فَخَلَقَ مَا شَاءَ كَيْفَ شَاءَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ وَ غَيْرِهِمْ ثُمَّ أَنْهَى عِلْمَ ذَلِكَ إِلَيْنَا. (اصول کافی، ج 1، 441، باب مولد النبی)

+ لکھاری عباس حسینی در 2 Nov 2018 و ساعت 8:29 PM |

وجود خدا کی دلیل

برہان حرکت

 

یہ وہ دلیل ہے جو افلاطون اور ارسطو کے دور سے چلی آئی ہے۔

اس دلیل کے مطابق

ہم اپنے حسی ادراک کے ذریعے جانتے ہیں کہ اس دنیا میں بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جو حالت ِحرکت میں ہیں۔ حرکت کا انکار اس جہان میں ممکن نہیں۔ یہاں حرکت سے مراد یہ ہے کہ کوئی بھی چیز ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل ہوتی رہتی ہے۔

ہر وہ چیز جو حرکت میں ہو اس کو حرکت دینے والے کی ضرورت ہے چونکہ جو چیز پہلے سے حرکت میں نہ ہو وہ اپنے آپ کو حرکت نہیں دے سکتی۔ پس ہر متحرک چیز کے لیے ایک محرک (حرکت دینے والے) کی ضرورت ہے۔

یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ لیکن اس کا بے نہایت طور پر چلنا محال ہے۔ حتمی طور پر اس سلسلے کو ایک ایسے محرک پر ختم ہونا ہوگا جو خود متحرک نہ ہو۔ یہ وہ وجود ہوگا جو خود متحرک نہیں ہوگا لیکن دوسری تمام چیزیں اسی کی وجہ سے حرکت کر رہی ہوں گی۔

اسی ذات کو دین کی زبان میں "خدا" یا "اللہ" کہا جاتا ہے۔


ٹیگس: برہان حرکت, وجود خدا
+ لکھاری عباس حسینی در 21 May 2018 و ساعت 3:20 AM |

کیا دنیا میں ایک ہی ولی فقیہ کی حکومت ہونی چاہیے؟

 یا ہر ملک میں الگ ولی فقیہ کی حکومت ہو سکتی ہے؟

 

تحریر: عباس حسینی

 

اس سوال کا جواب دینے سے پہلے کچھ باتوں کو واضح کرنا ضروری ہے۔

 

۱۔ الگ کشور اور ملک بننے کا معیار اسلام کی نظر میں کیا ہے؟ کیا جغرافیائی حالات معیار ہیں؟ یا زبان؟ یا نسل؟ یا لوگوں کی رنگت؟ یا کوئی او ر چیز۔ اسلام نے ان میں سے کسی بھی چیز کو بطور معیار اختیار نہیں کیا۔

بلکہ اسلام کی نگاہ میں "وحدتِ عقیدہ" ہے جس کی بنیاد پر زمین کی تقسیم ہوتی ہے۔ دار الاسلام اور دار الکفر وجود میں آتے ہیں۔ دار الاسلام وہ سرزمین ہے جس میں حکومتِ اسلامی کے تابع افراد زندگی گزارتے ہیں. ممکن ہے ان میں وہ افراد بھی ہوں جو عقیدے کے لحاظ سے غیر مسلم ہوں، لیکن اسلامی حکومت کی سربلندی کو قبول کر لیا ہو اور مخصوص شرائط کے ساتھ مسلمانوں کے مابین زندگی کر رہےہوں۔

اب یہ سوال مہم ہے کہ کیا "دار الاسلام" چند ملکوں میں تقسیم ہو سکتا ہے؟ کہ ہر ملک میں الگ نظا م حکومت ہو؟

 

عام طور پر مسلمانوں میں یہ فکر رائج تھی کہ سارا عالم اسلام ایک اکائی ہے، جن پر ایک شخص (امام یا خلیفہ ) کی حکومت ہونی چاہیے اور جو بھی ان سے الگ کوئی حکومت قائم کرنے کی کوشش کرے اسے باغی شمار کرتے تھے۔

شیعہ فقہ کے مطابق بھی حکومت کا اصل اختیار خدا کی طرف سے معصوم کو حاصل ہے اور ہر دور میں صرف ایک معصوم کی امامت بالفعل ہوتی ہے، لہذا عملا حکومت بھی ایک ہی ہونی چاہیے۔ البتہ دنیا کے مختلف حصوں میں معصوم کی طرف سے نائب اور گورنر معین ہوں گے جن کے ذریعے سسٹم چلایا جائے گا۔ جس دوران ائمہ معصومین علیہم السلام کی عملی حکومت نہیں بھی تھی، وہ حضرات اپنی طرف سے مختلف امور میں بعض خاص اصحاب کو اختیارات سونپتے تھے تاکہ دور دراز کے علاقوں کے لوگ ان نائبین کی طرف رجوع کر کے اپنے مسائل حل کریں۔

 

۲۔ زمانہ غیبت کبری میں خود معصوم نے مجتہدین علماء کو کچھ خاص شرائط کے ساتھ اپنی طرف سے نیابت عامہ عطا کی ہے۔ جس کی دلیل عمر بن حنظلہ کی روایت اور امام علیہ السلام کی توقیع اور دوسری روایات واحادیث ہیں۔ پس اس زمانے میں حکومت نائبین امام کی ہونی چاہیے۔ لیکن اصل سوال یہاں یہ ہے کہ کیا تمام مجتہدین کو نیابت عامہ برابر حاصل ہے؟ یا تمام بلاد اسلامیہ میں اس  ایک فقیہ کی حکومت ہونی چاہیے جس میں معصوم کی طرف سے بیان کردہ نیابت کی شرائط سب سے زیادہ پائی جاتی ہوں؟

اگر ولایت فقیہ کی دلیل حکمِ عقل ہو تو اس کے مطابق واضح ہے کہ اگر کسی فقیہ میں علم، تقوی، مدیریت، بصیرت وغیرہ کی خصوصیات سب سے زیادہ ہوں اور اس کے لیے تمام بلاد اسلامیہ میں اپنے نائبین اور نمائندوں کے ذریعے حکومت چلانا ممکن ہو تو یہی آئیڈیل صورت حال ہے اور یہی بات  امتِ اسلامی کی وحدت اور اسلامی عالمی حکومت کے نظریے کے بھی قریب ہے۔

اور اگر ولایت فقیہ کی دلیل روایات ہوں تو ان میں اگرچہ مطلق فقیہ (ہر فقیہ) کی بات کی گئی ہے جن میں مذکورہ شرائط موجود ہوں لیکن دوسری روایات  میں اس فقیہ کو باقیوں پر مقدم کیا گیا ہے جس کا علم زیادہ ہو، جس کا تقوی زیادہ ہو۔ وغیرہ۔ پس عملا اس ایک فقیہ کی حکومت ہونی چاہیے جس میں حکومت چلانے کی شرائط باقیوں سے زیادہ  ہو اور اس فقیہ کا حکم تمام بلاد اسلامیہ پر نافذ ہے۔

 

۳۔ بالفرض اگر بلاد اسلامیہ کے دو مختلف حصوں میں اسلامی حکومت کا قیام عمل میں آئے اور ایک فقیہ کے لیے خود سے یا اپنے نمائندوں کے ذریعے وہاں حکومت چلانا ممکن نا ہو تو کیا متعدد ولی فقیہ ہو سکتے ہیں؟

تعدد حکومت کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں:

الف) بلاد اسلامیہ کے ایک خاص منطقے کے لوگ جن تک موجودہ ولی فقیہ کا دائرہ حکومت شامل نہیں ہے، اپنے اجتہاد  یا تقلید  کے ساتھ ایک الگ حکومت قائم کر لیں اور ان کے لیے اجتہاد یا تقلید کے ذریعے ثابت ہو جائے کہ ہمارے لیے اپنے علاقے میں الگ حکومت ہونی چاہیے (اس حکومت کا ڈھانچہ بھی اجتہاد یا تقلید پر موقوف ہے)۔ ایسی صورت حال میں ان کو اپنی خاص حکومت کی اطاعت کرنی ہوگی۔ نہ موجودہ ولی فقیہ کی۔

ب) اگر ایک ولی فقیہ کے لیے بلاد اسلامیہ کے مختلف حصوں میں  متحد حکومت قائم کرنا عملا ممکن نا ہو۔ ایسی صورت میں ممکن ہے دوسرے حصے کے لوگوں کے لیے، تمام تر شرائط کو مد نظر رکھتے ہوئے، ایک اور ولی فقیہ کی اطاعت واجب ہو۔ پس ہر ولی فقیہ کا حکم اپنے علاقے میں معتبر اور واجب اطاعت ہے۔

 

اب اگر فرض کریں کہ ان دو حاکم فقیہوں میں سے کسی ایک نے ایسا عمومی حکم صادر کیا جو تمام مسلمانوں کو شامل ہے۔ ایسی صورت حال میں کیا اس کا حکم کا دائرہ  دوسرے فقیہ کے ماننے والوں کو بھی شامل ہوگا؟

یہاں تین صورتیں ممکن ہیں:

۱۔ دوسرا حاکم، پہلے کے حکم کی تائید کرے۔ اس صورت میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی اور وہ حکم سب پر لاگو ہوگا۔

۲۔ دوسرا حاکم، پہلے کے حکم پر خاموشی اختیار کرے۔ اس صورت میں بھی یہ حکم تمام مسلمانوں پر لاگو ہوگا۔ جس طرح سے ایک قاضی شرعی حکم صادر کرے تو اس کو ماننا تمام مسلمانوں پر واجب ہے۔

۳۔ دوسرا حاکم، پہلے کے حکم کی مخالفت کرے۔ یقینا یہ مخالفت اجتہاد  کے ساتھ ہوگی۔ (یعنی آیات و روایات سے دو مختلف مجتہد، دو مختلف حکموں کو سمجھ رہے ہیں۔) اس صورت میں اس دوسرے حاکم کے زیر حکومت زندگی کرنے والوں  کے لیے مذکورہ حکم شامل نہیں ہوگا۔

 

(استفاہ از بیانات حضرت علامہ مصباح زید عزہ)

(یہ استاد کے مقالے سے ناچیز کا فہم ہے ۔ ممکن ہے میرا فہم غلط ہو۔ لہذا کسی بھی بات کی نسبت استاد کی طرف دینے سے پہلے ان کا اصل مقالہ ضرور پڑھ لیں جس کا  لنک یہ ہے: http://mesbahyazdi.ir/node/825)

 


ٹیگس: مصباح یزدی, ولایت فقیہ
+ لکھاری عباس حسینی در 6 Mar 2018 و ساعت 11:52 AM |

افلاطون کا غار اور دنیا کی حقیقت

تحریر: عباس حسینی

 

افلاطون کے نظریات میں سے ایک اہم نظریہ مثل کا نظریہ(Theory of Forms) ہے۔ اس نظریے کو سمجھانے کے لیے افلاطون نے اپنی کتاب جمہور(The Republic) میں ایک تمثیلی کہانی سے  مدد لی ہے۔

ایک غار ہے ۔ چند لوگ ہیں جنہیں پیدائش سے لے کر اب تک غار کی اندرونی دیوار کی طرف رخ کر کے باندھا ہوا ہے، جبکہ ان کی پشت غار کے دہانے کی طرف ہے۔ ان لوگوں کے لیے غار کے دروازے کی طرف رخ کرنا ممکن نہیں. غار کے باہر آگ روشن ہے اور اس آگ کے سامنے سے مختلف قسم کے اجسام گزرتے ہیں جن کے سایے غار کی اندرونی دیوار پرچلتے ہوئے نظرآتے ہیں۔ان کے سامنے سے مختلف شکلوں اور اندازوں کے سایے گزرتے رہتے ہیں۔ ان کے مطابق سب کچھ یہی سایے ہیں۔ چونکہ سایوں کے علاوہ انہوں نے دیکھا ہی کچھ نہیں۔لہذا سب کچھ حقیقت ان کے نزدیک یہی سایے ہیں۔ان کے علاوہ  اس کائنات میں کسی چیز کا وجود نہیں۔

ایک دن اچانک غار کے اندر سے ایک بندہ اپنی زنجیر توڑنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ اس کے ذہن میں یہ سوال پہلے سے تھا کہ یہ سایے کہاں سے آتے ہیں؟زندگی میں پہلی دفعہ وہ  مڑ کر پیچھے دیکھتا ہے۔ غار کے دروازے تک جاتا ہے۔ کچھ متحرک اجسام کو دیکھتا ہے۔ ان اجسام کے پیچھے جلتی آگ کا مشاہدہ کرتا ہے۔ اس کے لیے  اس بات پر یقین کرنا انتہائی مشکل ہے۔ آگ کی روشنی دیکھ کر اس کی آنکھیں خیرہ ہوجاتی ہیں۔متحرک اجسام کی شفافیت اور ان کی روشنی دیکھ کر وہ حیرت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اب تک اس نے صرف سایے دیکھے تھے۔ اب جب کہ وہ غار کے باہر کی طرف دیکھنے میں کامیاب ہوا ہے توایسی چیزیں دیکھنے لگا ہے جن کا رنگ ہے۔ جن کی خاص شکلیں ہیں، جن کے کئی ابعاد (dimensions)ہیں۔۔ چیزیں اب اس کے لیے بہت زیادہ شفاف ہیں۔ وہ چیزیں، وہ حیوانات یا حتی انسان جن کو صرف سایے کی شکل میں دیکھا تھا اب ان کی حقیقت اور خارجی وجود کو دیکھ رہا ہے۔

وہ جلدی سے غار کے اندر آتا ہے اور بلند آواز میں ان سب چیزوں کی کہانی سناتاہے جنہیں وہ باہر دیکھ کر آیا ہے۔ لیکن غار کے اندر والے افراد اس کی بات قبول کرنے کو تیار نہیں۔ ان کا کہنا ہے جو کچھ ہے یہی سایے ہیں۔ چونکہ انہوں نے آج تک صرف یہی سایے دیکھے ہیں، لہذا ان کے علاوہ کسی بھی اور چیز کا وجود نہیں۔ جب وہ اپنی بات پر ضد کرتا ہے تو غار کے اندر موجود افراد مل کر اس کو مار دیتے ہیں۔ (جیسے یونانیوں نےافلاطون کے استاد سقراط کو مارا تھا۔ سقراط نے بھی اس بندے کی طرح لوگوں کو حقیقت سے آگاہ کرنے کی کوشش کی تھی۔)

فلسفی کے نزدیک یہ دنیااور اس میں موجود چیزیں بھی  سایے کی مانند ہیں۔ ان سایوں کو دیکھ کر فلسفی کا ذہن  ان کے حقیقی وجود کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ افلاطون کے نزیک وہ دنیا جہاں چیزوں کے حقیقی وجود پائے جاتےہیں وہ عالم مثل (Forms) ہے۔ جبکہ اس دنیا میں جس میں ہم رہ رہے ہیں ان کے صرف سایے موجود ہیں۔

افلاطون کا یہ نظریہ کس حد تک درست ہے اور اس پر کیا دلیل ہے؟ یہ الگ بحث ہے۔ سرِ دست ہم اس بات کی طرف آتےہیں کہ روایات میں میں ائمہ معصومین (علیہم السلام) نے بھی اس دنیا کو سایے سے تشبیہ دی ہے۔(یاد رہے افلاطون کی تشبیہ اور ائمہ کی تشبیہ میں بنیادی فرق ہے۔)

الإمامُ عليٌّ عليه السلام : إنّها عندَ ذَوِي العُقولِ كَفَيْءِ الظِلِّ ، بَيْنا تَراهُ سابِغاً حتّى قَلَصَ ، و زايداً حتّى نَقَصَ .

یہ دنیا عقلمند کے نزدیک سایے کی مانند ہے۔ جونہی اسے وسیع ہوتے دیکھتا ہے فورا گھٹنا شروع کرتا ہے، اور جونہی اسے بڑھتے دیکھتا ہے فورا کم ہونا شروع کرتا ہے۔

عن الامام الباقر عليه السلام : إنّ الدنيا عِندَ العُلَماءِ مِثلُ الظِلِّ .

یہ دنیا اہل علم کے نزدیک سایے کی مانند ہے۔

آخرت کی وسعت اور حقیقت کے سامنے اس دنیا کی حقیقت سایے سے بڑھ کر نہیں۔لیکن حضرت انسان انہی سایوں کے پیچھے بھاگتے ہوئے نظر آتا ہے۔بعض علماء نے  اس وسعت کو سمجھانے کے لیے اس دنیا کی تشبیہ ماں کے پیٹ سے دی ہے اور آخرت کی وسعت اتنی ہے جتنی یہ دنیا ماں کے پیٹ کی نسبت۔ در حقیقت یہ دنیا رحم مادر کی مانند ہے جہاں سے ہمیں اس حقیقی دنیا کے لیے متولد ہونا ہے۔  یہ دنیا آخرت کی نسبت اتنی ہی چھوٹی، محدود اور تنگ و تاریک ہے جتنا ماں کا پیٹ اس دنیا کی نسبت۔ رحم مادر میں بچے کی وابستگی بہت زیادہ ہے۔ اس کی غذا محدود، دیکھنا محدود، سننا محدود۔ اس دنیا میں بھی آخرت کی نسبت اتنی ہی محدودیت ہے۔ رحم مادر میں بچے کے رہنے کی ایک خاص مدت ہے جس میں وہ کمال کا ایک خاص مرحلہ طے کرتا ہے جس کے بعد اسے اس وسیع وعریض دنیا میں قدم رکھنا ہے۔اس مادی دنیا کی بھی ایک خاص مدت ہے جس کے بعد ہمیں ایک وسیع دنیا میں قدم رکھنا ہے۔

 لہذا ذہن پر پڑی محدودیت کی زنجیروں کوتوڑکر ،  سایے کو چھوڑ کر حقیقت کو تلاش کرنا چاہیے۔اس مختصر اور محدود دنیاسے استفادہ کرتے ہوئے اس وسیع اور ہمیشہ رہنے والے جہان کے لیے تیاری کرنی چاہیے۔ ہماری اصل دنیا وہ ہے، یہاں ہم چند دنوں کے لیے ہیں۔ سایےکے پلٹنے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے۔؟!


ٹیگس: افلاطون, مثل کا نظریہ, دنیا اور آخرت
+ لکھاری عباس حسینی در 24 Feb 2018 و ساعت 9:20 PM |

 

کلی طور پر اثبات خدا کے لیے پیش کی جانی والی ادلہ تین قسم کی ہیں۔

 

۱۔ برہان وجودی: جس میں مفہوم وجود کے ذریعے اللہ تعالی کے وجود کو ثابت کیا گیا ہو۔ (جیسے برہان وجودی آنسلم)

 

۲۔ برہان صدیقین: جن میں وجود کے نا معین مصداق سے خدا کے وجود کو ثابت کیا گیا ہو۔(برہان صدیقین کو سو سے زیادہ مختلف انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ جن میں مشہور ابن سینا، ملا صدار اور علامہ طباطبائی کا بیان ہے۔)

 

۳۔ وہ ادلہ جن میں وجود کے کسی معین مصداق سے وجود خدا کو ثابت کیا گیا ہے۔ (جیسے برہان حدوث، برہان حرکت، برہان نظم)۔ برہان امکان و وجوب کا تعلق بھی اسی تیسرے دستے سے ہے۔

یہاں سوال یہ ہے کہ برہان امکان ووجوب اور برہان صدیقین جو ابن سینانے بیان کیا ہے ان میں کیا فرق ہے؟

جواب یہ ہے کہ انتہائی ظریف فرق ہے۔

برہان صدیقین میں ہم کسی ممکن  کے وجود کو واسطہ قرار نہیں دیتے۔ بلکہ صرف مصداق  وجود میں غور و فکر کے ذریعےخدا تک پہنچتے ہیں۔ اس حقیقت کو ماننے کے بعد کہ خارج میں کوئی وجود ہے واجب الوجود کو ماننا ضروری ہوگا۔ چونکہ وہ وجود اگر واجب الوجود ہے تو ٹھیک، نہیں تو اس کے وجود سے واجب الوجود کاوجود لازم آئے گا۔ (اس بیان میں دور اور تسلسل کے محال ہونے کو ثابت کرنا پڑے گا، جبکہ علامہ طباطبائی کے بیان میں اس کی بھی ضرورت نہیں۔) یہاں ہم نہیں کہہ رہے کہ حتما کوئی ممکن الوجود ہے۔ صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ بالفرض اگر کوئی ممکن ہےتو اس کا لازمہ واجب الوجود ہے۔

جبکہ برہان امکان و وجوب کی دلیل میں  ممکن الوجود کو واسطہ قرار دے رہے ہیں۔ پس یہاں دلیلی انی ہے۔اس کا بیان یوں ہے کہ   خارج میں ممکن الوجود کے وجود کو تو سب مانتے ہیں۔ ہر ممکن محتاج علت ہے اور ممکن کی علت  تا نہایت ممکن نہیں ہو سکتا، چونکہ ہر ممکن اپنی ذات میں محتاجِ علت ہے،  اس لیے واجب کا ہونا ضروری ہے جو علت سے بے نیاز ہو۔

پس برہان صدیقین میں ممکن کے وجود کو مسلم اور پیش فرض قرار نہیں دیا، جبکہ برہان امکان میں ممکن کے وجود کو پیش فرض قرار دیا ہے۔


ٹیگس: برہان صدیقین, برہان امکان و وجوب
+ لکھاری عباس حسینی در 18 Feb 2018 و ساعت 11:18 PM |

 

جمعے کا دن تھا۔۔۔ ہاف ڈے کی وجہ سے آفس میں جلدی چھٹی ہوئی۔۔۔ دوست کے ساتھ آفس سے نکل کر گھر جانا چاہ رہا تھا۔۔ تاکہ کھانا کھانے کے بعد بیگم بچوں کو کہیں گھمانے لے چلیں۔۔۔ موسم بھی بڑا سہانا تھا۔۔ سوچا انجوائی کر لوں گا  اور بچوں کی ضد بھی پوری ہو جائے گی۔۔ اتنے میں اذان کی آواز سنائی دی۔۔ دوست نے کہا جمعہ کی نماز نہیں پڑھو گے؟؟  ایک نادیدہ قوت قریب میں موجود مسجد کی طرف کھینچ کر لے گئی۔۔ بڑے عرصے بعد مسجد کا منہ دیکھا تھا۔

مولانا صاحب خطبہ پڑھ رہے تھے۔۔ سب لوگ انتہائی انہماک سے ان کی باتیں سن رہے تھے۔ ۔۔ احادیث نبوی کے مطابق بھی بعد میں آنے والوں کی خاطر اپنی جگہ سے  اٹھنے یا دوران خطبہ پھلانگ کر آگے جانے سے منع کیا  گیا ہے۔۔۔  تاکہ خطبہ کی طرف توجہ کم نا ہو۔

اتنے میں اک عجیب واقعہ پیش آیا۔۔۔ خطبہ اپنے اوج پر تھا۔۔۔ باہر سے کسی نے آواز دی: آئی فون کا نیا ماڈل مارکیٹ میں  آگیا ہے۔ ۔۔ ساتھ والی دکان میں  انتہائی مناسب ریٹ پر بیچا جا رہا ہے۔۔ یہ سننا تھا کہ آدھے   لوگ  خطبہ چھوڑ کر ۔۔۔ آئی فون کی محبت میں اس دکان کی طرف دوڑ پڑے۔۔ اب صرف آدھے لوگ رہ گئے تھے۔۔۔ خطبہ جاری رہا۔

پھر کچھ دیر بعد ایک اور آواز دور سے سنائی دی۔ بھائیو! پاکستان انڈیا کا میچ شروع ہو چکا ہے۔۔۔  پی ٹی وی  لائیو میچ دکھا رہا ہے۔  آدھے لوگ نماز جمعہ چھوڑ کر میچ دیکھنے  گھروں کو چل پڑے۔ مسجد میں چند لوگ ہی بچے جو اب بھی خطبہ سن رہے تھے۔۔

نماز کے بعد میں مولانا صاحب سے ملا۔۔ اور ان سےکہا: مولانا حضور۔ ان لوگوں کو اللہ تعالی سے اور آپ سے کتنی محبت ہے؟! اپنی جان تک ہر دم آپ پر نچھاور کرنے کو تیار ہیں۔۔ مولانا صاحب نے کہا: خاک مجھ سے اور میرے اللہ سے محبت ہے۔ اگر محبت کرتے ہوتے تو یوں نماز میں اکیلے چھوڑ کر تجارت اور لہو ولعب کے پیچھے نہیں بھاگتے۔

 

(نوٹ: یہ ایک فرضی کہانی ہے۔ اسے ہرگز سورہ جمعہ کی آیت نمبر 11 کے تناظر میں  نہ لیا جائے۔)

(وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا ۚ قُلْ مَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَمِنَ التِّجَارَةِ۔ ترجمہ: اور جب انہوں (مومنین)  نے کوئی تجارت یا کھیل دیکھااس کی طرف چل دئیے اور تمہیں (خطبہ میں ) کھڑا چھوڑ گئے۔ تم کہو: جو اللہ کے پاس ہے وہ کھیل اور تجارت سے بہتر ہے۔ )

+ لکھاری عباس حسینی در 10 Oct 2017 و ساعت 12:35 PM |

امام تقی علیہ السلام اور چھوٹی عمر کی امامت

تحریر: سید عباس حسینی

 

امامت ایک بہت بڑا منصب ہے۔ دین اور دنیا کے امور کے زمام سنبھالنے کا نام ہے۔ امام معاشرے کا پیشوا ہوتا ہے۔ امام،  ہادی اور رہبر ہوتا ہے جس کے پیچھے سارے معاشرے کو چلنا ہوتا ہے۔ اندرونی مسائل ہوں یا بیرونی مشاکل سب کو حل کرنے کی ذمہ داری امام کے کاندھے پر ہوتی ہے۔ امامت کی ان تمام تر سنگین ذمہ داریوں کو دیکھتے ہوئے یہ سوال پیش آتا ہے کہ ایک چھوٹا سا بچہ کہ جس کی عمر پانچ یا آٹھ سال ہو وہ کیسے اتنی بڑی ذمہ داری سنبھال سکتا ہے؟ اس بات کی کیا توجیہ ہےکہ شیعوں کے ہاں پانچ اور آٹھ سال کےبچے امام بنتے رہے ہیں۔

یہ بات درست ہے کہ امام محمد تقی علیہ السلام جب منصب امامت پر فائز ہوئے اس وقت آپ کی عمر ۷ سال تھی۔ اسی طرح  منصب امامت سنبھالتے وقت امام علی نقی علیہ السلام کی عمر 9 سال، امام عسکری  علیہ السلام کی عمر 22 سال اور حضرت امام زمان علیہ السلام کی عمر صرف 5 سال تھی۔

ایک تو وہی جواب ہے  جو خود امام جواد علیہ السلام نے اپنی امامت کے حوالے اشکال کرنے والوں کو دیا تھا کہ یہ منصب الہی ہے خدا جس کو چاہے جس وقت دے  دیتا ہے۔ کسی کو بچپن میں دیتا ہے تو کسی کو چالیس سال کی عمر میں۔ حضرت عیسی ابھی ماں کی گود میں تھا کہ اعلان ہوا:"إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا" . قرآن نے حضرت یحی کے بارے میں کہا: "يَا يَحْيَى خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّة وآتَيْناهُ الْحُكْمَ صَبِيَّاً" اور یہ تو فخر عیسی اور فخر یحی ہیں۔ ان کی امامت کے بارے میں شک کیوں؟ امام در حقیقت علم لدنی کا مالک ہوتا ہے۔ امام کسی کے پاس جا کر علم نہیں سیکھتا۔ امامت منصب الہی ہے۔ لیاقت دیکھ کر خدا کا عطا کردہ تحفہ ہے۔ لہذا اس حوالے سے چھوٹی عمر اوربڑی عمر کا کوئی فرق نہیں۔ خداوند متعال اپنی بے پناہ قدرت کے ساتھ چھوٹے سے بچے کی عقل کو کامل بنا سکتا ہے۔ جس طرح چاہے کسی کو رشد دے سکتا ہے۔

لہذا تاریخی حوالے سے بھی دیکھیں تو سارا زمانہ ان کے علمی کمالات اور رشدِ عقلی کے معترف نظر آتے ہیں. یحی بن اکثم کا واقعہ ملاحظہ کیجیے کہ جو ریاست کا مفتی اعظم تھا لیکن امام تقی علیہ السلام کی علمی قدرت کے سامنے ہار ماننے پر مجبور ہوگیا اور مامون عباسی  کو بھی کہنا پڑا: "وأن صغر السن فيهم لا يمنعهم من الكمال" کہ چھوٹی عمر اس خاندان میں کمالات کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے۔  اسی طرح  تاریخ کہتی ہے کہ امام تقی علیہ السلام  کے بعض اصحاب آپ سے سوالات کرتے گئے اور چند دنوں کے اندر آپ نے  تیس ہزار سوالوں کے جواب دے دئیے جبکہ اس وقت آپ کی عمر صرف 9 سال تھی۔

سید محمد باقر صدر علیہ الرحمہ نے  استقراء کے حوالے سے اپنے جدید نظریے (جو حساب احتمالات پر قائم ہے)  کے مطابق اس مسئلے کو عقلی بنیادوں پر حل کیا ہے ۔

سید صدر کے مطابق اتنی کم عمری میں امام جواد علیہ السلام کا  منصب امامت سنبھالنا شیعیت کی حقانیت کی سب سےبڑی دلیل ہے۔  حالانکہ اس وقت شیعہ طائفہ میں بڑے بزرگان اور امام رضا  علیہ السلام کے اصحاب بھی تھے لیکن سب امام جواد علیہ السلام کی امامت پر متفق تھے۔ یقینا اس بچے میں کچھ ایسا دیکھا ہوگا جو اس کی امامت کے معترف ہوگئے۔

یہاں پر چند احتمالات ہیں۔

۱۔ لوگوں کو پتہ نہیں چلا کہ امام جواد علیہ السلام ابھی چھوٹے اور کم عمر ہیں۔ یہ احتمال ممکن نہیں چونکہ شیعہ اپنے اماموں کو لوگوں سے چھپا کر نہیں رکھتے تھے، بلکہ لوگوں کا امام سے براہ راست رابطہ ہوتا تھا۔

۲۔ اس وقت کے لوگ اتنے سادہ تھے کہ چھوٹے سے بچے کی امامت قبول  کر لی۔ یہ بات بھی ممکن نہیں چونکہ ان میں بڑے بڑے اصحاب بھی تھے جو مکتب امام صادق علیہ السلام کے پروردہ تھے۔ جو علمی اور فقہی اعتبار سے بڑے مراتب پر فائز تھے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک چھوٹے بچے نے اتنے بڑے اصحاب کو اپنی "جھوٹی" امامت پر قائل کیا ہو؟جبکہ اس وقت شیعیت مدینے سے کوفہ اور قم تک پھیلی ہوئی تھی۔

۳۔ امامت کا مفہوم لوگوں کو واضح نہیں تھا۔ لوگ شاید امامت کو بادشاہت کی طرح نسل در نسل وراثت سمجھتے تھے۔ اس کی شروط اور تفصیلات سے آگاہ نہیں تھے۔تاریخی حوالے سے یہ بات بھی درست نہیں چونکہ تقریبا دو صدیوں سے شیعوں کے درمیان امامت کا سلسلہ چل رہا تھا اور اس کے مفہوم، شرائط اور صفات سے بخوبی آگاہ تھے۔

۴۔ چوتھا احتمال یہ ہے کہ سارے شیعوں نے جھوٹ اور باطل پر اتفاق کر لیا ہو۔ یہ بھی عقلی طور پر اور تاریخی بنیادوں پر ممکن نہیں. شیعوں میں بڑے متقی ، پرہیزگار اور باوفا اصحاب ائمہ بھی تھے۔ ان سب کا جھوٹ پر اتفاق کیسے ممکن ہے؟تاریخ گواہ ہے کہ شیعوں نے اذیتیں اور صعوبتیں  برداشت کی ہیں لیکن اپنے عقیدے سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے۔

پس یہ سارے احتمالات جب ختم ہوں تو صرف یہی احتمال بچتا ہے کہ آپ امام معصوم تھے جس میں معاشرے کو چلانے کی تمام تر صلاحیتیں خداداد موجود تھیں۔ لہذا اس وقت کے بڑے بڑے اصحاب بھی حکم خدا کے تحت آپ کی اتباع کرتے تھے۔ اگر خدا نخواستہ اس بچے میں کسی قسم کی کمی ہوتی تو مخالفین زمین آسمان ایک کر دیتے کہ یہ دیکھو شیعوں کے امام میں یہ کمی ہے۔ وہ زمانہ علمی ترقی اور عروج کا زمانہ تھا۔ یونانی فلسفہ تک کا ترجمہ ہو چکا تھا۔ لیکن ان سب کے باوجود اپنے تو اپنے ، مخالفین کو بھی اس امام کی تعریفوں کے پل باندھتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جتنی بار بھی امام سے سوال پوچھنے کی، امام کو  شرمندہ کرنے کی یا لا جواب کرنے کی کوشش کی گئی خود سوال کرنے والا ، لا جواب ہوگیا۔ یہ سب آپ کی حقانیت کی دلیل ہے۔

تاریخی حوالے سے یہ بات عجیب ہے کہ مختلف اماموں کے بعد اگلے امام کے حوالے سے کچھ اختلافات سامنے آتے گئے۔ کچھ نئے فرقے بھی وجود میں آگئے۔ مثلا امام زین العابدین کے بعد زیدیہ فرقہ، امام صادق علیہ السلام کے بعد اسماعیلیہ اور فطحیہ فرقہ اور واقفیہ فرقہ کہ جس نے امام کاظم علیہ السلام کی شہادت کے بعد توقف کیا۔  لیکن امام جواد کی چھوٹی عمر کے باوجود شیعہ طائفہ نے بالاجماع آپ کی امامت کو قبول کیا۔ کسی  بھی حوالے سے کسی نے کوئی شک یا توقف نہیں کیا۔ کوئی نیا فرقہ وجود میں نہیں آیا۔ یہ خود آپ کی حقانیت اور علمی وعملی کمالات کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

 

+ لکھاری عباس حسینی در 22 Aug 2017 و ساعت 5:50 PM |

ائمہ علیھم السلام  کو "قطب" کیوں کہا جاتا ہے؟

 

سید عباس حسینی

 

قطب لغت میں چکی کے اس  مرکزی حصے(کیلی) کو کہا جاتا ہے جو نچلی طرف  اور ثابت ہوتاہے، اور اسی کےمحور میں   اوپر والا پاٹ گھوم رہا ہوتا ہے۔

قطب کے قاعدے کے تحت، اس کائنات کا نظام ایک مرکز کے گرد گھوم رہا ہے۔ اس کائنات کا ظہور، اسی مرکز سے ہوا ہے۔حدیث لولاک کے مطابق وہ مرکز اور قطب ، حقیقت محمدی  ﷺہے۔ اس مرکزیت اور قطب کو ائمہ اطہار نے بیان کیا ہےاور اس کی حقیقت کے بارے میں بات کی ہے۔ مثلا حضرت امیر علیہ السلام کے بیانات کے مطابق:

  • جب حضرت امیر علیہ السلام نے مدینے سے بصرہ کی طرف سفر کا آغاز کیا، اہل کوفہ کو خط لکھا جس میں اپنے آپ کو قطب کے طور پر معرفی کرتے ہوئے فرمایا: "و قامت الفتنه علی القطب فاسرعوا الی امیرکم"۔ تمہارے قطب کے خلاف سازش ہوئی ہے، اپنے امیر کی طرف جلدی چلے آو۔
  • خطبہ شقشقیہ میں حضرت نے قطب کے بارے میں فرمایا: "انه لیعلم ان محلی فیها محل القطب من الرحی"۔ اور وہ جانتا ہے خلافت کے حوالے سے میری منزلت وہی ہے جو چکی کے اندر اس کی کیلی کی ہے۔
  • قطب کی حقیقت، اہمیت اور اس کے اسرار کے حوالے سے حضرت کا بیان ہے کہ اس کائنات کے نظام کا محور قطب ہی ہے۔ اس کے بغیر نظام مختل اور مضطرب ہو جائے گا۔" و انما انا قطب الرحی تدور علی و انا بمکانی ، فاذا فارقته ، استحار مدارها و اضطرب ثقالها"۔ اور میرا مقام اس (کائنات کی چکی میں)اس کی    کیلی کی مانند ہے، چکی میرےگرد گھومتی ہے جبکہ میں اس نظام میں ایسی جگہ کھڑا ہوں کہ اگر اس جگہ کو چھوڑ دوں تو اس کی گردش کا دائرہ متزلزل ہوجائے گا ۔

یہ بیانات اسی معنی کی طرف اشارہ ہے جو بعض روایات میں یوں بیان ہوا ہے۔"و لولا الحجه لساخت الارض"۔ اگر حجت خدا نہ ہو تو زمین دھنس جائےگی۔

  • ایک اور طولانی حدیث میں حضرت امیر علیہ السلام، پیامبر اکرمﷺاور عترت پاک کے حوالےسے  مختلف صفات کے بیان میں فرماتے ہیں:" هم راس دایره الایمان و قطب الوجود و سماء الجود"۔ یہ ہستیاں ایمان کے دائرے کاآغاز، وجود کا مرکز، اور جود و سخاوت کی بلندی ہیں۔

 

  • (دیکھیے: سیمای اہل بیت علیھم السلام در عرفان اسلامی)
+ لکھاری عباس حسینی در 6 Aug 2017 و ساعت 4:43 PM |

غلو کی حقیقت : مختصر تحقیق

سید عباس حسینی

 

لغت میں غلو یہ ہے کہ کسی کے حوالے سے انسان افراط کا شکار ہوجائے ،  زیادہ روی کرے اور اس کے حوالے سے حد سے بڑھ جائے۔ جن کا وہ مستحق نہیں ان باتوں کی نسبت اس کی طرف دی جائے۔

غلو کی اصطلاحی  تعریف یہ ہے کہ کسی غیر خدا کو خدا سے ملایا جائے، خدا کی خاص صفات کو کسی انسان کے لیے قائل ہونا بھی غلو ہے۔ کسی انسان کے لیے اس کی صفات اور فضائل کو مستقل ثابت کرنا بھی غلو کے زمرے میں آتا ہے۔یہ اعتقاد بھی غلو ہے کہ خدا کی روح کسی انسان میں حلول کر گئی ہے۔

اگر شیعہ اپنے ائمہ کے بارے میں بہت ساری صفات کے قائل ہیں مثلا یہ کہ وہ واسطہ ہے فیض خدا کے حوالے سے، انہی کے صدقے میں خدا نے کائنات بنائی ہے، یہ لوگ ولایت تکوینی کے مالک ہیں، آخرت میں ائمہ شفاعت فرمائیں گے وغیرہ تو ان میں سے کوئی ایک بات بھی ہرگز غلو کے زمرے میں نہیں آتی۔

چونکہ شیعہ اس بات کے بھی قائل ہیں کہ ان تمام صفات کے باوجود سارے ائمہ حتی افضل ترین مخلوق حضرت  رسول خدا ﷺ ، اللہ کے عبد اور بندے ہیں۔ اللہ کے سامنے جھکتے ہیں، عبادت کرتے ہیں۔ توبہ واستغفار کرتے ہیں۔ ان ہستیوں کو جتنی خصوصیات حاصل ہیں سب اللہ کی طرف سے عطا شدہ ہیں۔ لہذا ہر نماز میں دوران تشہد یہ گواہی دےکر کہ : محمد ﷺ اللہ کے عبد اور رسول ہیں ، غلو سے اپنی برائت کا اظہار کرتے ہیں۔

ائمہ معصومین علیہم السلام نے غلات سے انتہائی بیزاری اور برائت کا اظہار کیا ہے اور دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے: یہ لوگ ہم میں سے نہیں ہیں۔

امام صادق علیہ السلام کی روایت کے جملے ہیں:. يا اسماعيل! لاترفع البناء فوق طاقته فينهدم اجعلونا مخلوقين و قولوا فينا ما شئتم۔ (بحارالانوار، ج 25، ص 279) اے اسماعیل۔ کسی بھی عمارت کو اس کی طاقت سے زیادہ بلند مت کرنا، ورنہ وہ گر جائے گی۔ ہمیں اللہ کی مخلوق قرار دے اور پھر ہمارے بارے میں جو چاہیں کہہ دیں۔

ایک اور روایت میں امام صادق ؑ فرماتے ہیں۔ فواللَّه ما نحن الا عبيد الذى خلقنا و اصطفانا، مانقدر على ضر و لانفع ... ويلهم ما لهم لعنهم اللَّه لقد آذوا اللَّه و آذوا رسوله فى قبره و اميرالمومنين و فاطمه و الحسن و الحسين و على بن الحسين و محمد به على صلوات اللَّه عليهم. (بحارالانوار، ج 35، ص 289) خدا کی قسم ہم اس خدا کے عبد ہیں جس نے ہمیں پیدا کیا اور ہم چن لیا۔ ہم (مستقل طور پر خدا کی اجازت کے بغیر) نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی فائدہ۔ ۔۔ اس کے بعد آپ نے ان لوگوں پر لعنت فرمائی جو ائمہ ؑ کے بارے میں غلو کرتے ہیں۔ ان کا یہ کام در حقیقت ائمہ کو اذیت کا سبب ہے۔

یہ بات عقلی طور پر ثابت ہے کہ کسی بھی انسان کی جتنی بھی فضیلت ہو، ہےتو وہ مخلوق اور محدود۔ جبکہ خدا کی ذات لا محدود اور نا متناہی ہے۔ متناہی اور لا متناہی کے درمیان فاصلہ بھی نا متناہی ہوگا۔ ہاں البتہ یہ ہستیاں وہ ہیں جو تمام مخلوقات میں اللہ تعالی کے نزدیک ترین اور کامل ترین ہستیاں ہیں۔

اس عقیدے کے مقابلے میں مسیحیت حضرت عیسی ؑ کے بارے میں غلو کا شکار ہو گئی۔ ان کے ہاں عیسی ؑکے حوالے سے عبد خدا ہونا، یا خدا کے سامنے جھکنا اور تضرع وعبادت کی باتیں مطرح نہیں ہیں، بلکہ خدا کا بیٹا ہونا مطرح ہے۔ چونکہ عیسی کا کوئی باپ نہیں، لہذا خدا ان کے باپ ہیں اور وہ خدا کے بیٹے۔ یہ بات عین غلو ہے۔

پس مقام توحید میں غالی وہ ہے جو کسی بھی انسان کو عبودیت اور بندگی کے مقام سے بڑھا چڑھا کر ان کو خدا یا خدا کے افعال کا مصدر قرار دے۔ شیعہ عقیدے کے مطابق صرف خدا ہے جو حقیقی معنی میں خالق، مدبر، شارع، رازق ، حاکم۔۔ ہے۔  ہاں خدا نے بعض موارد میں ائمہ ؑ کو بعض اختیارات ایسے عطا کیے ہیں جن کی بنا پر وہ کائنات میں مختلف قسم کے تصرفات کر سکتے ہیں ۔ البتہ یہ سب خدا کے اذن اور اجازت سے ہے۔ جیسے حضرت عیسی ؑ ، خدا کے اذن سے مردوں کو زندہ کیا کرتے تھے، بیماروں کو شفا دیتے تھے۔ یا جیسے قرآن کی آیت کے مطابق جس کے پاس کتاب کا کچھ علم تھا(آصف بن برخیا) اس نے پلک جھپکنے سے پہلے تخت بلقیس کو یمن سے فلسطین میں حاضر کر دیا۔ یہ سب کچھ خدا کے فضل وکرم اور خاص عنایات سے ممکن ہیں اور بندہ ان کاموں میں مستقل ہرگز نہیں۔

+ لکھاری عباس حسینی در 8 Mar 2017 و ساعت 11:26 PM |