جہادِ نفس اور اس کے غنائم

نفس کے ساتھ جہاد کو جہاد اکبر قرار دینے کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ جہاد ہمیشہ اور ہر وقت جاری ہے۔ جہادِ اصغر مخصوص اور محدود وقت کے لیے ہوتا ہے جبکہ جہادِ اکبر کی مدت تا دمِ مرگ ہے۔ ایک طرف اس کے نفسانی خواہشات ہیں جو اسے برائی کی طرف دعوتے دیتے ہیں اور دوسری طرف عقل ہے جو اسے ہوائے نفس کی اطاعت اور منکر سے روکتے ہوئے بلند پروازی کی دعوت دیتی ہے۔ عام جنگ تلواروں، نیزوں، تیروں وغیرہ سے لڑی جاتی ہے جبکہ جہاد نفس کا ہتھیار علم، اندیشہ، معرفت، نیت اور ارادہ ہے۔

نفس، عقل کو فریب دینے کے لیے تمام برائیوں کی تزئین کر کے، خوبصورت بنا کر پیش کرتی ہے۔ قرآن کی تعبیر میں یہ وہی نفسِ امارہ ہے۔ نفسِ مسولہ ہے۔

جس طرح عام جنگوں میں کبھی فتح ہے، کبھی شہادت ہے اور کبھی اسارت۔ جہادِ اکبر میں بھی یہی حالات پیش آتے ہیں۔ اس جہاد میں انسان یا فاتح ہے، یا شہید یا اسیر۔

اس جنگ میں اگر نفس کی جیت ہوئی اور انسان نفس کے سامنے تسلیم ہوگیا تو وہ عقل کو اپنا اسیر بنا لیتا ہے۔ امیر المومنین نے نہج البلاغہ میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے: "كم من عقل أسير تحت هويً أمير" کتنی ہی عقلیں ہیں جو ہوائے نفس کی اسارت میں ہیں۔

اگر انسان زندگی کے آخری لمحہ تک نفس کے خلاف جہاد کرتا رہے اور اس دنیا سے چلا جائے تو اس کی موت شہادت کی موت ہے۔

لیکن اگر انسان، اپنے نفس پر غالب آئے تو یہ انسان کی اصل فتح اور کامرانی ہے۔ جیسے رسول گرامی اسلام نے اپنے بارے میں فرمایا: "میں نے اپنے شیطان کو رام کیا ہے اور وہ اسلام قبول کر چکا ہے۔" یا امیر المومنین علیہ السلام اپنے بارے میں فرماتے ہیں: "هي نفسي أروضها بالتّقوي" یہ میرا نفس ہے جسے میں تقوی کی تربیت دی ہے۔ اب یہ نفس ریاضت کی وجہ سے مکمل کنٹرول میں ہے۔ اب یہ نفس ہے جو مجھ علی علیہ السلام کی اسارت میں ہے۔

اس جنگ میں کامیابی کے بعد، عام جنگوں میں جیسے ہوتا ہے، انسان کو غنائم ملتے ہیں۔ قرآن کی تعبیر کے مطابق "وَنَهَي النَّفْسَ عَنِ الهَوَي فَإِنَّ الجَنَّةَ هِيَ المَأْوَي" جو لوگ اپنے نفس کو ہوا وہوس سے پاک رکھتے ہیں تو ان کا ٹھکانہ جنت ہے۔ جہاد نفس کے غنائم میں جنت اور اس سے بڑھ کر خدا کی رضا ہے۔ اور اس سے بڑی غنیمت کیا ہو سکتی ہے؟

(استفادہ از دروس تفسیر آیت الله جوادی آملی)

+ لکھاری عباس حسینی در 25 Dec 2025 و ساعت 11:41 PM |

سب سے بڑی عبادت

ارشاد ہوا:  "ادْعُونِيٓ أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ"

مجھے پکارو! میں تمہیں جواب دوں گا۔ جو لوگ میری عبادت (دعا) سے تکبر کرتے ہیں وہ رسوا ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔

خدا سے نہ مانگنا اور اپنے آپ کو بے نیاز سمجھنا استکبار ہے، عبادت سے استکبار۔ لہذا دعایعنی خدا سے مانگنااور اس سے مدد طلب کرنا سب سے بڑی عبادت ہے۔ اپنے فقر، اپنی نیاز اور ضرورت کا اعلان سب سے بڑی عبادت ہے۔

کوئی بھی دوسری حقیقت (اور وجود) ایسا نہیں ہے جس کی طرف مخلوقات محتاج ہوں۔ کوئی دوسرا الٰہ اور معبود نہیں ہے۔ معبود یعنی وہ ذات جس کی طرف باقی تمام مخلوقات محتاج ہیں۔ اس کے اسماء حسنیٰ، کائنات اور اس میں موجود تمام فقیروں کی ضرورت پورے کرتے ہیں۔ قرآن نے کہا: "أَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ إِلَى اللَّهِ" (تم سب خدا کی طرف محتاج ہو۔) ایسی ذات معبود ہے۔ (اسی وجہ سے کہا گیا) "وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ" اللہ بے نیاز ہے جس کی حمد اور تعریف کی جانی چاہیے۔

آیت الله میرباقری

تأملات قرأنی

+ لکھاری عباس حسینی در 7 Oct 2021 و ساعت 10:17 PM |

ساقی خود خدا ہے

تحریر: عباس حسینی

 

توحید کے تقاضوں کے مطابق اس کائنات کا ہر فعل، فعلِ الہی ہے لیکن بعض افعال کو خاص طور پر خداوند متعال اپنی طرف نسبت دیتا ہے۔ قرآن مجید میں ایک فعل جس کی نسبت خدا نے اپنی طرف دی ہے وہ "سقائی" کا فعل ہے۔ سورہ انسان میں ارشاد ہوا: "وَسَقاهُمْ رَبُّهُمْ شَراباً طَهُوراً" اور ان کا پرورگار انہیں شراب طہور پلائے گا یعنی ساقی خود خدا ہے۔ گویا یہاں کسی فرشتے، کسی حور اور کسی غلمان کا واسطہ نہیں ہوگا بلکہ ان مقربین کے لیے ربّ کائنات خود سقّائی فرمائے گا۔ یہ بہت ہی بلند مقام ہے جس کا صرف تصور کتنا لذّت بخش ہے، خودِ فعل کتنا مسحور کن ہوگا وہ ہمارے چشم تصور سے بہت بعید ہے۔

 

تعبیر میں مزید خوبصورتی یہ ہے کہ ضمیر "ھم" کا تکرار کیا گیا ہے۔ اگر کہا جاتا "سقاھم الرب" تو بھی کافی تھا لیکن انس و محبت اور اپنائیت کی ایسی بہار ہے کہ خداوند متعال ضمیر کا تکرار کر کے فرما رہا ہے: "ربھم" ان کا پروردگار انہیں شراب طہور پلائے گا۔ پس یہاں اپنائیت ہی اپنائیت چھلک رہی ہے۔

 

خدا کی خاص صفت رب کا تذکرہ ہوا۔ ربوبیت کا تعلق بشر کے امور کی تدبیر اور انسان کی پرورش سے ہے۔ گویا انسانی تربیت کے الہی اصولوں کے مطابق چلنے والوں کے لیے اس ذات کی طرف سے ایک خاص انعام یہ ہے کہ وہ اپنے دست قدرت سے انہیں جام پیش کرے گا۔ اس سے بڑے انعام کا تصور بعید ہے۔

 

 دنیا کی آلودہ شراب عقل کو زائل کر کے انسان کو خدا سے دور کرتی ہے جبکہ اس الہی شراب کی صفت یہاں "طھور" بیان ہوئی۔ طاہر وہ چیز ہے جو خود سے پاک ہو، جبکہ طہور وہ چیز ہے جو خود بھی پاک ہو اور دوسروں کو بھی پاک کرتی ہو۔ پس یہ شراب طاہر بھی ہے اور مطہِر بھی۔

 

صادقِؑ آل محمدﷺ کی روایت کے مطابق یہ شراب انہیں خدا کے علاوہ ہر چیز سے پاک کر دے گی۔ گویا خدا کے علاوہ کسی بھی دوسری چیز کی طرف توجہ ایک لحاظ سے "شرک" اور آلودگی ہے۔ اس شراب کی خصوصیت یہ ہے کہ انسان کو ان تمام برائیوں سے پاک کر دے گی۔

 

سوچنے کا مقام ہے جہاں ساقی خدا کی ذات ہو وہاں توجہ کسی اور کی طرف جا سکتی ہے؟! دست الست سے پلائی جانی والی یہ شراب انسان کو ما سویٰ سے ہٹا کر اس ذات کی صفات جمال و جلال میں مست کر دے گی۔

+ لکھاری عباس حسینی در 17 Aug 2020 و ساعت 1:1 AM |

وضو میں پاؤوں  کا مسح

تحریر: عباس حسینی

 

وضو کے بارے میں قرآن مجید کی آیت کچھ یوں ہے: يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَ أَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرافِقِ وَ امْسَحُوا بِرُؤُسِكُمْ وَ أَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْن.

اے ایمان والو جب تم نماز کے لیے کھڑے ہوں تو اپنا چہرہ اور ہاتھ کہنیوں سمیت دھو لو اور اپنے سر اور پاؤں کی ابھری ہوئی جگہ تک مسح کرو۔

 

اہل سنت برادران پاؤں کے مسح کو کافی نہی سمجھتے بلکہ انہیں دھونا ضروری سمجھتے ہیں جبکہ فقہ جعفری میں اہل بیت کرام علیہم السلام کی پیروی میں پاؤں پر مسح کا حکم موجود ہے۔

 

مسح کے حوالے سے اصل مسئلہ لفظ "أَرْجُلَكُمْ" کا ہے کہ اس کاتعلق پیچھے کس لفظ سے ہے؟ (یعنی عطف کہاں پر ہو رہا ہے؟۔) اہل سنت برادران اسے "وجوہ" اور "أيدي" پر عطف کرتے ہیں۔ پس اگر ہاتھ اور چہرے کا دھونا واجب ہے تو پاؤں کا دھونا بھی واجب ہے۔ جبکہ فقہ جعفری کے مطابق "أَرْجُلَكُمْ" کا عطف "رؤوس" پر ہے۔ پس جس طرح سر کا مسح ضروری ہے اسی طرح پاؤں کا بھی مسح ضروری ہے۔

 

اگر پاؤں کا دھونا ضروری ہوتا تب آیت میں اس کا تذکرہ بھی چہرہ اور ہاتھوں کے ساتھ ہونا چاہیے تھا (مثلا کہا جاتا: فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَ أَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرافِقِ و أرجلَكم) جبکہ ایسا نہیں ہے۔ آیت نے پہلے چہرے اور ہاتھ کے دھونے کے حکم کو الگ بیان کیا، پھر مسح کے حکم کو الگ بیان کیا۔ اگر پاؤں کا دھونا ضروری ہوتا تب خداوند متعال یوں بھی کہہ سکتا تھا : وامسحوا برؤوسكم واغسلوا أرجلكم. جبکہ آیت نے دھونے والے اعضاء اور مسح والے اعضاء کو بالکل الگ الگ ذکر کیا ہے۔پس اس لحاظ سے دو اعضاء (یعنی چہرہ اور ہاتھوں کا) کو دھونا ضروری ہے جبکہ دو اعضاء (سر اور پاؤں) کا مسح لازمی ہے۔

 

اہل سنت کہتے ہیں: پاؤں کا حکم وہی ہے جو چہرے اور ہاتھ کا ہے۔ (یعنی "أرجل" عطف ہے "وجوه" اور "أيدي" پر)۔ حالانکہ یہ عربی کلام کے قواعد کے بالکل برخلاف ہے چونکہ ان کے درمیان کافی فاصلہ آچکا ہے۔ اصل ہے یہ کہ لفظ اپنے قریب پر عطف ہو۔ پس پاؤں کا حکم وہی ہے جو سر کا ہے۔ یعنی ان پر مسح کرنا واجب ہے۔

 

اب ممکن ہے بعض یہ اشکال کرے کہ پھر "أرجلکم" پر نصب (فتحہ) کیوں ہے؟ جبکہ "رؤوس" پر جر (کسرہ) ہے۔ یہ فرق کہاں سے آیا؟ پس اعراب کا فرق حکم کے فرق کو ظاہر کرتا ہے۔

 

اس کے جواب میں ہم کہیں گے:

اولا: "أرجل" کو قراء سبعہ میں سے ابن کثیر، حمزہ اور ابو عمر  نے جر (کسرہ) کے ساتھ بھی پڑھا ہے۔

ثانیا:  ہمارے پاس سر کا مسح واجب ہونے پر بہت زیادہ احادیث موجود ہیں۔اس حوالے سے بحار الانوار یا وسائل الشیعہ میں وضوء کے باب میں موجود روایات دیکھ لیں۔

ثانیا: ہم کہہ سکتے ہیں کہ "أرجلکم" پر فتحہ(نصب) اس لیے ہے چونکہ یہ "رؤوسکم" کے محل پر عطف ہو رہا ہے اور "رؤوسکم" کلام کے اندر مفعول ہے اور مفعول منصوب ہوتا ہے۔پس "أرجل" (پاؤں) کا وہی حکم ہے جو "رؤوس" یعنی سر کا ہے۔

ثالثا: ان سب کے علاوہ خود اہل سنت روایات کے مطابق رسول اللہﷺ اور آپ کے اصحاب وضو میں سر اور پاؤں کا مسح کیا کرتے تھے۔ ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی بھی سیرت یہی رہی ہے۔ یہاں ہم صرف ایک روایت نقل کرتے ہیں۔ مزید روایات کے لیے تفصیلی کتب کی طرف مراجعہ کیجے:

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ: أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّهَا لَا تَتِمُّ صَلَاةٌ لِأَحَدٍ حَتَّى يُسْبِغَ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى، يَغْسِلُ وَجْهَهُ وَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، وَ يَمْسَحُ بِرَأْسِهِ وَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ».

(ترجمہ: رفاعہ بن رافع کہتے ہیں میں رسول اللہﷺ کے پاس بیٹھا تھا۔ آپﷺ نے فرمایا: کسی کی نماز مکمل نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ ایسے وضو بجا لائے جیسے اللہ کا حکم ہے۔ اپنا چہرہ دھوئے، ہاتھ کہنیوں تک دھوئے۔ سر کا مسح کرے اور پاؤں کا ابھری ہوئی جگہ تک مسح کرے۔)

 (سنن ابن ماجه، ج1، (57) باب ما جاء في الوضوء على ما أمر الله تعالى، ح 460)

 


ٹیگس: وضو, پاؤوں کا مسح
+ لکھاری عباس حسینی در 27 Apr 2020 و ساعت 11:47 PM |

قرآن اور وجودِ خدا پر استدلال

 

کیا قرآن نے وجودِ خدا کے اثبات پر کوئی دلیل پیش کی ہے؟

اس حوالے سے مختلف آراء موجود ہیں۔ کلی طور پر دو قسم کے آراء ہیں۔

اکثر متکلمین کا کہنا ہے کہ جن آیتوں میں کائنات کے اندر اللہ تعالی کی مختلف آیتوں اور نشانیوں کی بات ہوئی ہے وہ سب در حقیقت اثباتِ خدا کی دلیلیں ہی ہیں۔ اس حوالے سے قرآن نے کائنات کے نظم اور ہدف پر خاص زور دیا ہے۔

جبکہ اس کے مقابلے میں دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ قرآن مجید، اللہ تعالی کے وجود کو دلیل اور برہان سے بے نیاز سمجھتا ہے، چونکہ اس ذات کا وجود انتہائی واضح اور دلیل سے بے نیاز ہے۔ قرآن کا زور زیادہ تر توحید کے اثبات، شرک کی نفی یا خدا کی مختلف صفات کے اثبات پر ہے۔ جن آیات کے ذریعے پہلے گروہ والوں نے خدا کے وجود کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے در حقیقت وہ دلیل تام اور اس کے مقدمات پورے نہیں ہیں۔

اس حوالے سے دونوں اقوال کو جمع کرتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اگرچہ قرآن کریم نے براہ راست وجودِ خدا کے اثبات پر کوئی دلیل پیش نہیں کی، لیکن بہت ساری آیات سے غیر مستقیم طور پر ایسی دلیلیں اخذ کی جا سکتی ہیں۔

بظاہر چونکہ قرآن کے مطابق خدا کا وجود بہت زیادہ بدیہی اور واضح ہے لہذا اس حوالے سے دلیل لانے کی ضرورت نہیں۔ یا شاید دلیل نہ لانے کی وجہ یہ ہو کہ اس معاشرے میں خدا کے وجود کا کوئی منکر نہ تھا۔ جب ان سے پوچھا جاتا تھا کہ زمین و آسمان کو بنانے والا کون ہے؟ تو وہ لوگ جواب دیتے تھے: اللہ۔ ہاں شرک ایک اہم مسئلہ تھا جس کے رد میں قرآن نے بہت ساری دلیلیں پیش کی ہیں۔ جس معاشرے میں کوئی موضوع مسئلہ ہی نہ ہو وہاں اسے مسئلہ بنا کر پیش کرنا بذات خود شکوک وشبہات کا باعث ہے۔

بعض قرآنی آیات کا ظاہر یہی ہے کہ خدا کا وجود ظاہر اور بدیہی ہے۔ (أَفِي اللَّهِ شَكٌّ فاطِرِ السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ) کیا اس بات میں شک ہے کہ خدا آسمانون اور زمین کا خلق کرنے والا ہے؟! اس آیت میں استفہام انکاری ہے۔ پس مطلب یہ ہوگا کہ خدا کے آسمان و زمین کے خالق ہونے کے حوالے سے انکار ممکن ہی نہیں۔ پس آیت اس اتکازی مطلب کی اشارہ کر رہی ہے کہ جب کوئی چیز ہے تو اس کے بنانے والا بھی کوئی ضرور ہے۔

قرآن کی بعض دوسری آیتوں سے غیر مستقیم طور پر وجودِ خدا پر دلیلیں استنباط کر سکتے ہیں۔ ممکن ہے کسی آیت کا ظاہر توحیدِ خدا کے اثبات میں یا صفاتِ خدا کے اثبات میں ہو، لیکن غیر مستقیم طور میں اس میں اصل وجودِ خدا کا اثبات بھی ہو رہا ہو۔

بطور نمونہ یہ آیت ملاحظہ کیجیے: (أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْ‏ءٍ أَمْ هُمُ الْخالِقُونَ) اس آیت میں کفار سے استفہام انکاری کے لہجے میں بات ہو رہی ہے کہ "آیا تم لوگ بغیر کسی خالق کے پیدا ہوئے ہو یا تم خود اپنے خالق ہو؟" اس آیت میں ضمنی طور پر اثباتِ وجود خدا کی یہ دلیل موجود ہے:

انسان یا بغیر کسی خالق اور بنانے والے کے، خود بخود موجود ہوا ہے (پہلا فرض)

یا اس کا کوئی خالق اور بنانے والا ہے۔

وہ بنانے والا یا تو خود وہ لوگ ہیں۔ یعنی اپنا خالق خود ہے۔ (دوسرا فرض)

یا کوئی اور ذات ہے۔ (تیسرا فرض)

پہلے اور دوسرے فرض کو کوئی بھی عاقل نہیں مان سکتا۔ پس تیسرے فرض کو ماننا پڑے گا۔ تیسرے فرض میں وہ ذات جو تمام انسانوں کا خالق ہے اسے "اللہ" کہا جاتا ہے۔

 


ٹیگس: مصباح یزدی, خدا شناسی
+ لکھاری عباس حسینی در 29 Mar 2019 و ساعت 1:15 AM |

نبی اور رسول میں فرق

 

قرآن مجید میں خدا کے خاص نمائندوں کے لیے جو بشریت کی ہدایت کے لیے اللہ کی طرف سے مبعوث ہوئے تھے، نبی اور رسول کہا گیا ہے۔ یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ رسول اور نبی کیا ایک جیسے ہوتے ہیں؟ یا ان میں کوئی فرق ہوتا ہے؟

اس حوالے سے متعدد اقوال بیان کیے گئے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ قرآنی استعمال میں نبی اور رسول ایک دوسرے کے ہم معنی استعمال ہوئے ہیں اور ان میں صرف لفظ اور اعتبار کا فرق ہے۔ لیکن دوسری طرف اکثریت قائل ہے کہ نبی اور رسول میں فرق ہے۔ جو لوگ فرق کے قائل ہوئے ہیں ان سب میں مشترک بات یہ ہے کہ نبی، رسول کی نسبت عام ہے۔ یعنی ہر رسول نبی ہے، لیکن ہر نبی رسول نہیں۔ مشہور یہی ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء میں سے صرف ۳۱۳ رسول تھے۔ پس رسالت، نبوت سے بڑھ کر ایک مقام اور مرتبہ ہے۔

نبی کا لفظ "ن ب ا" سے لیا گیا ہے، اور عربی زبان میں "نبا" خبر کو کہا جاتا ہے۔ پس نبی جو "فعیل" کے وزن پر ہے اور فاعل کے معنی میں ہے، اس شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی کی طرف سے خبر حاصل کرتا ہے اور پھر اسے آگے پہنچاتا ہے۔ یا ممکن ہے نبی کا لفظ "ن ب و" سے ہو۔ عربی زبان میں "نبوہ" زمین کی بلندی کو کہا جاتا ہے۔ پس نبی "فعیل" کے وزن پر اسم مفعول کے معنی میں ہے، یعنی وہ شخص جس کا مرتبہ اور مقام بلند کیا گیا ہے اور وہ دوسروں پر برتری رکھتا ہے۔

رسول کا لفظ "ر س ل"سے لیا گیا ہے۔ "رسل" عربی زبان میں کسی شخص کو کسی کام کے لیے بھیجنے اور ابھارنے کے معنی میں ہے۔ پس رسول "فعول" کے وزن پر اسم مفعول کے معنی میں ہے۔ یعنی وہ شخص جسے کسی کام یا کسی پیغام کی خاطر بھیجا گیا ہو۔

قرآن مجید میں نبی کا لفظ تقریبا 75 مرتبہ مختلف شکلوں میں آیا ہے اور ہمیشہ خدا کے خاص انسانی نمائندوں کے لیے استعمال ہوا ہے۔

جبکہ قرآن مجید میں رسول کا لفظ تقریبا 250 مرتبہ آیا ہے کہ سوائے ایک مورد کے ہر جگہ خدا کے خاص مامور مخلوق کے لیے یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ البتہ قرآنی استعمال کے مطابق فرشتوں اور جنوں کے لیے بھی رسول کا لفظ استعمال ہوا ہے۔

 

نبی اور رسول میں فرق کے حوالے سے مشہور اقول:

۱۔ تبلیغ وحی کا فرق

بعض نے کہا ہے کہ رسول وہ ہے جس کے اوپر نہ صرف خدا کی طرف سے وحی ہوتی ہے، بلکہ اس وحی کی تبلغ اور احکام و الہی معارف الہی لوگوں تک پہنچانا بھی اس کی ذمہ داری ہے۔ لیکن نبی پر اگرچہ خدا کی طرف سے وحی نازل ہوتی ہے، لیکن ممکن ہے تبلیغ کا حکم اس کے لیے نہ ہو۔ (مسلمانوں کے درمیان یہی قول سب سے مشہور ہے۔)

لیکن قرآنی آیات میں غور سے پتہ چلتا ہے کہ یہ فرق درست نہیں۔

الف) جیسے پہلے بیان ہوا کہ نبی کا لفظ "نبا" سے لیا گیا ہے، اور نبی وہ ہے جو خبر پہنچائے۔ پس اس کا لازمہ یہ ہے کہ نبی تک جو خبر پہنچتی ہے وہ لوگوں تک پہنچائے۔

ب) قرآن کی بعض آیات سے بھی استفادہ ہوتا ہے کہ نبی خدا کی طرف سے پیغام لانے والا ہے اور نبی لوگوں کی طرف بھیجے گئے ہیں۔

وَ ما أَرْسَلْنا فِي قَرْيَةٍ مِنْ نَبِيٍّ إِلاَّ أَخَذْنا أَهْلَها بِالْبَأْساءِ وَ الضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ

اس آیت کے مطابق نبی کے بھیجنے کے بعد اللہ تعالی نے لوگوں سے سختی اور مصیبتوں کے ذریعے امتحان لیا ہے۔ لوگوں سے امتحان لینا اس وقت حکیمانہ ہے جب خدا کا پیغام لوگوں تک پہنچ چکا ہو۔ اور آیت کے مطابق وہ نبی ہے۔ پس نبی کی بھی ذمہ داری ہے اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچائے۔

ج) قرآن مجید میں نبی کے لیے مبشر (بشارت دینے والا) اور منذر (ڈرانے والا) کی صفتیں بیان ہوئی ہیں۔

كانَ النَّاسُ أُمَّةً واحِدَةً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَ مُنْذِرِينَ

پس اس کا مطلب ہے نبی لوگوں تک خدا کا پیغام پہنچاتا تھا اور لوگوں کو اچھے کاموں پر بشارت دیتا تھا اور بروں کاموں سے انذار کرتا تھا۔

ان تمام شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ نبی بھی، رسول کی طرح پیغام الہی کو پہنچانے پر مامور ہوتا ہے۔ پس نبی اور رسول میں یہ والا فرق درست نہیں۔

 

۲۔ معجزہ ، کتاب اور شریعت کا فرق

اس قول کے مطابق رسول وہ ہے جس کے پاس معجزہ، کتاب اور شریعت ہو۔ جبکہ نبی کے پاس یہ چیزیں نہیں ہوتیں، بلکہ ہر نبی اپنے سے پہلے کے رسول کی شریعت کا تابع ہوتا ہے اور اسی کی تبلیغ کرتا ہے۔

اس مطلب پر دلیل قرآن کی یہ آیت ہو سکتی ہے: فَإِنْ كَذَّبُوكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِكَ جاؤُا بِالْبَيِّناتِ وَ الزُّبُرِ وَ الْكِتابِ الْمُنِيرِ

اس معنی میں اور بھی بہت ساری آیات ہیں۔

لیکن مذکورہ آیت سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں۔

الف) اس آیت (اور اس سے مشابہ دوسری آیات) سے یہ ہرگز استفادہ نہیں ہوتا کہ ہر رسول کے پاس کتاب تھی یا شریعت تھی۔ اگر صرف بعض رسولوں کو معجزہ اور کتاب عطا ہوئی ہو تب بھی آیت کا مطلب درست ہے۔

ب) قرآن میں واضح طور پر بیان ہوا ہے کہ بعض نبیوں پر بھی کتاب نازل ہوئی ہے۔

كانَ النَّاسُ أُمَّةً واحِدَةً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَ مُنْذِرِينَ وَ أَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتابَ

ج) قرآن کریم نے ان انبیاء کے لیے بھی رسول کا لفظ استعمال کیا ہے جن کے بارے ثابت ہے کہ وہ مستقل شریعت اور کتاب نہیں رکھتے تھے۔ مثلا حضرت اسماعیل کے بارے ہے: 

وَ اذْكُرْ فِي الْكِتابِ إِسْماعِيلَ إِنَّهُ كانَ صادِقَ الْوَعْدِ وَ كانَ رَسُولاً نَبِيًّا

اسی طرح حضرت لوط بھی صاحب شریعت نہیں تھے، بلکہ حضرت ابراہیم کی شریعت تبلیغ کرتے تھے۔ قرآن نے ان کے لیے بھی رسول کا لفظ استعمال کیا ہے۔

د) قرآنی آیات اور روایات سے پتہ چلتا ہے کہ صرف پانچ پیغمبر ایسے تھے جو اپنی خاص شریعت رکھتے تھے۔ جب امام صادق علیہ السلام سے سوال ہوا کہ اولو العزم رسول کون تھے؟ تو آپ نے جواب دیا: حضرت نوح، ابراہیم، موسی، عیسی اور پیامبر اکرم علیھم السلام۔ پھر پوچھا کہ یہ انبیاء کیوں اولو العزم بنے؟ تو جواب دیا کہ ان میں سے ہرایک کو کتاب اور شریعت دی گئی اور ان کے بعد آنے والے انبیاء اگلے اولو العزم نبی کے آنے تک پچھلی شریعت کی تبلیغ کرتے تھے۔ یہاں تک کہ رسول خداﷺ تشریف لائے۔ آپ کی شریعت قیامت تک کے لیے ہے۔

قرآن مجید نے بھی کہا ہے:  شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ ما وَصَّى بِهِ نُوحاً وَ الَّذِي أَوْحَيْنا إِلَيْكَ وَ ما وَصَّيْنا بِهِ إِبْراهِيمَ وَ مُوسى وَ عِيسى

اس آیت کا ظاہر بھی یہی ہے کہ شریعت صرف پانچ رسولوں کے ساتھ خاص ہے، کہ جن کو اولو العزم کہا جاتا ہے۔

ہ ) قرآن کریم کے مطابق بعض انبیاء کہ جو صاحب شریعت اور رسول نہیں تھے، انہیں بھی معجزات عطا ہوئی ہیں۔ مثلا حضرت صالح کہ جن کے لیے معجزے کی صورت میں پہاڑ سے اونٹنی نکل آئی۔

ان تمام دلیلوں کا نتیجہ یہ ہے کہ صرف معجزہ یا کتاب ہونا رسول ہونے کی نشانی نہیں ہے اور ہر رسول صاحب شریعت نہیں تھے۔

 

۳۔ اتمام حجت کا فرق

نبی اور رسول کے لغوی معنی اور قرآنی استعمال کو دیکھتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ نبی اور رسول دونوں خدا کی طرف سے پیغام حاصل کرتے ہیں اور پھر اسے لوگوں تک پہنچاتے ہیں، لیکن رسول کا مرتبہ، نبی سے بڑا ہے۔ نبی کی ذمہ داری  غیب سے خبر لے کر اسے لوگوں تک پہنچانا ہے۔ لیکن رسول اس عہدے کے علاوہ ایک اور خصوصی  عہدہ بھی رکھتا ہے اور وہ یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے اتمامِ حجت کرے (یعنی اس طرح سے لوگوں کے سامنے حقیقت بیان کرے کہ لوگوں کے پاس حق ماننے کے علاوہ کوئی اور راستہ اور دلیل باقی نہ رہے۔ اس کے باوجود نہ مانے تو خدا ان کو سزا دے سکتا ہے)۔

قرآنی آیات اس بات پر بہترین شاہد ہیں:

رُسُلاً مُبَشِّرِينَ وَ مُنْذِرِينَ لِئَلاَّ يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرسل

وَ لِكُلِّ أُمَّةٍ رَسُولٌ فَإِذا جاءَ رَسُولُهُمْ قُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لا يُظْلَمُونَ

رسول کے آنے کے بعد خدا کی طرف سے حجت اور دلیل تمام ہوجاتی ہے اور اس کے بعد اللہ تعالی کسی قوم کی ہلاکت یا اس کی بقاء اور نعمت کے حوالے سے فیصلہ لیتا ہے۔

 

(استفادہ از استاد مصباح یزدی، کتاب"راہ و راہنما شناسی" (درس اول)، تلخیص وترجمہ: سید عباس حسینی)

(نوٹ: جو کچھ اس مقالے میں لکھا گیا ہے مترجم کا فہم ہے۔  کسی بھی مطلب کی نسبت استاد مصباح کی طرف دینے سے پہلے اصل کتاب دیکھ لی جائے۔)


ٹیگس: مصباح یزدی
+ لکھاری عباس حسینی در 28 Nov 2018 و ساعت 9:45 PM |

مباہلہ، اہل بیت کی شان اور ناصبیوں کی بے بسی

تحریر: عباس حسینی

مباہلے کا واقعہ تاریخ اسلام کا ایسا عظیم واقعہ ہے جس سے اسلام کی سربلندی اور ان افراد کی سچائی ہمیشہ کے لیے امر ہوگئ جنہیں رسول گرامی اسلامﷺ اپنے ساتھ نجران کے عیسائیوں سے مباہلے کے لیے ساتھ لے کر گئے تھے۔ لیکن چونکہ اس واقعے سے اہل بیت کرام کی ایسی شان اور عظمت ثابت ہوتی ہے جو ان کے دشمنوں اور ناصبی افراد سے برداشت نہیں ہوتی، لہذا ہر کچھ عرصے بعد اس حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ان بے چاروں کا مسئلہ یہ ہے کہ اپنے بڑوں کے فضائل بیان کرنے سے تو رہے، لہذا  حسد میں آکر یہ طریقہ ڈھونڈ لیا کہ دوسروں کی شان گھٹا لو تاکہ اپنوں کے برابر لایا جاسکے۔ لیکن کیا کریں ان بے چاروں کی بے بسی کہہ لیں، خود ان کی معتبر ترین کتابوں میں اہل بیت کرام کی اتنے فضائل بیان ہوئے ہیں کہ جن کا شمار بھی مشکل امر ہے۔ اگرچہ اصولی طور پر ہمارے لیے ہمارے عقائد کا ہماری اپنی کتابوں سے ثابت ہونا کافی ہے، لیکن  الحمد للہ مذہب شیعہ کے تمام اصول قرآن اور عقل کے علاوہ خود اہل سنت کی معتبر ترین کتابوں سے بھی  ثابت ہیں۔

مباہلے کے حوالے سے عام طور پر جو دو اشکال کیے جاتے ہیں وہ یہ ہیں۔

۱۔ مباہلہ یہودیوں کے ساتھ تھا، عیسائیوں کے ساتھ نہیں۔ شیعوں نے امام حسن اور امام حسین علیھما السلام کی فضیلت ثابت کرنے کے لیے اسے عیسائیوں کے ساتھ جوڑ لیا۔ جبکہ جس وقت رسول اللہﷺ مدینے آئے اور مباہلہ ہوا اس وقت مدینے کے اطراف میں عیسائی تھے ہی نہیں۔

۲۔ مباہلے کا واقعہ حسنین کی پیدائش سے قبل کا واقعہ تھا۔ لہذا اس میں پنجتن کی شرکت مشکوک ہے۔ پھر یہ لوگ نتیجہ لیتے ہیں کہ اہل بیت میں صرف پنجتن پاک کا ہونا ثابت نہیں۔

 

پہلا مطلب: مباہلہ عیسائیوں کے ساتھ  تھا،  اور ہجرت کے نویں سال یہ واقعہ پیش آیا۔

ابن جریر طبری اپنی تفسیر میں: جو بھی تجھ  سے اے محمدﷺ، مسیح عیسی بن مریم کے بارے مجادلہ کرے، پس کہہ دیجیے۔۔۔ جھگڑا اس بات کا تھا کہ عیسی خدا کا عبد ہے یا خدا کا بیٹا؟  "ما جائک من العلم" سے مراد بھی یہ ہے کہ جب ثابت ہوچکا کہ عیسی خدا کا عبد اور رسول ہے اس کے باوجود کوئی نہ مانے تب مباہلہ کرنا۔ اور ساتھ ہی رسول گرامی کی یہ حدیث بھی نقل کی ہے جس میں آپ نے فرمایا: اےکاش میرے اور نجران کے نصاری کے درمیان کوئی حجاب ہوتا اور میں انہیں نہ دیکھتا اور وہ مجھے نہ دیکھتے۔ (تفسیر طبری، ج3، ص 209، 210)

آلوسی: نجران کے نصاری کا وفد اگر تم سے عیسی کے بارے میں مجادلہ کرے۔۔ (روح المعانی، ج 2، ص 179)

رشید رضا تفسیر المنار میں: آیت مباہلہ کے حوالے سے متعدد طرق سے نقل ہوا ہے کہ نبی اکرمﷺ نے نجران کے عیسائیوں کو مباہلہ کی دعوت دی۔۔ (تفسیر المنار، ج 11، ص 19)

فخر رازی: فمن حاجک فیہ میں ضمیر حضرت عیسی کی طرف لوٹ رہی ہے۔ پچھلی آیتوں میں بیان ہوچکا کہ عیسائیوں کی یہ بات غلط ہے کہ حضرت عیسی خدا کے بیٹے ہیں۔ آدم جو بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے خدا کے بیٹے نہیں ہو سکتے تو عیسی کیسے خدا کے بیٹے ہو سکتے ہیں؟ اس حقیقت کے باوجود کوئی تمہارے ساتھ ضد کرے تو اسے مباہلے کی دعوت دو۔ آیت کی تفسیر میں وجہ رابع بیان کرتے ہوئے پھر نصاری کے قول کے باطل ہونے پر فخر رازی نے دلیل پیش کی ہے۔ دوسرے مسئلے کے بیان میں نجران کے نصاری کا پورا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے۔ (تفسیر کبیر، ج 8، ص 248)

ان سب کے علاوہ آیت مباہلے سے ماقبل 6 آیات(آل عمران55 تا 60) کوئی غور سے پڑھ لیں وہ آیات کے سیاق کے تحت اس قطعی نتیجے تک پہنچ جاتا ہے کہ مباہلے والی آیت بھی مسیحیوں سے ہی متعلق ہے۔ یہودیوں کا اس پورے صفحے پر کوئی تذکرہ ہی نہیں ہے۔

 

دوسرا مطلب: مباہلہ میں رسول اللہﷺ، علی فاطمہ حسن اور حسین علیھم السلام کو لے کر گئے۔

رشید رضا: روایت آئی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ان ہستیوں کو اپنے ساتھ مباہلے کے لیے چن لیا۔ میں دعا کروں گا، آپ لوگ آمین کہیں۔ مسلم اور ترمذی اور ان دونوں کے علاوہ دوسروں  کی سعد سے روایت ہے: جب یہ آیت نازل ہوئی رسول اللہﷺ نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیھم السلام کو بلایا اور فرمایا: اے اللہ، یہ میرے اہل بیت ہیں۔ رشید رضا اپنے استاد سے نقل کرتے ہیں: روایات اس بات پر متفق ہیں کہ نبی اکرم نے مباہلے کی خاطر علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیھم السلام کو چن لیا۔"نساء" کا لفظ صرف فاطمہ کے لیے، انفسنا کا لفظ صرف امام علی کے اوپر اطلاق ہوا ہے۔(تفسیر المنار،ج 11، ص 20)

آلوسی:  رسول اللہ مباہلے کے لیے اپنے ساتھ علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیھم السلام کو لے کر گئے۔(ج 2، ص 181)

فخر رازی: مباہلےمیں پنجتن پاک کی شرکت کے حوالے سے روایات نقل کرنے کے بعد کہتا ہے: جان لو یہ روایت وہ ہے جس کی صحت پر اہل تفسیر اور حدیث کے درمیان گویا اتفاق ہے۔ (تفسیر کبیر، ج 8، ص 247) فخر رازی اسی آیت کے ذیل میں چوتھا مسئلہ بیان کرتے ہوئے یوں لکھتا ہے: یہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ حسن اور حسین علیھما السلام رسول اللہﷺ کے بیٹے تھے۔ جب بیٹوں کو بلانے کا کہا تو آپ حسن اور حسین علیھما السلام کو لے کر آئے، پس ضروری ہے کہ یہ دونوں آپ کے بیٹے ہوں۔ پھر اس مطلب پر قرآن سے شواہد لاتے ہیں۔(تفسیر کبیر، ج 8، ص 248) آخر میں آیت کے حوالے سے مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے فخر رازی دوبارہ لکھتے ہیں: رسول اللہﷺ کا اپنے ساتھ اپنے بیٹوں (حسن اور حسین علیھما السلام) اور اپنی بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیھا کو لانا اس بات کی نشانی تھی کہ آپ کو اپنی حقانیت پر مکمل یقین تھا اور دشمن کو اس کام سے روکنے میں زیادہ موثرتھا۔ (تفسیر کبیر، ج 8، ص 249)

تفسیر ابن کثیر میں بھی یہی بات لکھی گئی ہے کہ مباہلے کے لیے پیامبر اکرمﷺ پنجتن پاک کو لے کر گئے۔ (تفسیر القرآن العظیم (تفسیر ابن کثیر)، ج 2، ص 47)

 

اہل سنت کی معتبر ترین حدیث کی کتابوں سے بھی کچھ حوالے ملاحظہ فرمائیں:

صحیح مسلم : ‏‏‏‏‏‏ولما نزلت هذه الآية:‏‏‏‏ فقل تعالوا ندع ابناءنا وابناءكم سورة آل عمران آية 61، ‏‏‏‏‏‏دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم عليا، ‏‏‏‏‏‏وفاطمة، ‏‏‏‏‏‏وحسنا، ‏‏‏‏‏‏وحسينا، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ اللهم هؤلاء اهلي. (کتاب فضائل الصحابہ، باب من فضائل علی بن ابی طالب، حدیث 6220)

جب یہ آیت اتری  :(نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُم) بلائیں ہم اپنے بیٹوں کو اور تم اپنے بیٹوں کو۔ یعنی آیت مباہلہ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو، پھر فرمایا: ”یا اللہ! یہ میرے اہل ہیں۔

http://www.islamicurdubooks.com/Sahih-Muslim/ad.php?bsc_id=1104&bookid=2

سنن ترمذی کی روایت بھی ملاحظہ ہو(سنن ترمذی، کتاب تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ آل عمران،    حدیث 2999):

لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ الْآيَةَ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ، دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا، وَفَاطِمَةَ، وَحَسَنًا، وَحُسَيْنًا، فَقَالَ: اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.

سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت"تعالوا ندع أبناءنا وأبناءكم ونساءنا ونساءكم"  نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی، فاطمہ اور حسن و حسین رضی الله عنہم کو بلایا پھر فرمایا: ”یا اللہ! یہ لوگ میرے اہل ہیں“۔

http://www.islamicurdubooks.com/Sunan-at-Tirmidhi/ad.php?bsc_id=1923&bookid=6

 

مستدرک کے مولف حاکم نیشاپوری نے اپنی کتاب معرفت علوم حدیث  جلد 1، ص 50 پر لکھا ہے:

وقد تواترت الأخبار في التفاسير عن عبد الله بن عباس وغيره أن رسول الله (صلی الله عليه وآله﴾ أخذ يوم المباهلة بيد علي وحسن وحسين وجعلوا فاطمة وراءهم ثم قال هؤلاء أبناءنا وأنفسنا ونساؤنا فهلموا أنفسكم وأبناءكم ونساءكم ثم نبتهل فنجعل لعنة الله على الكاذبين.

(تفاسیر میں عبد اللہ بن عباس اور دیگر سے یہ روایات متواتر طور پر نقل ہوئی ہیں کہ رسول اللہﷺ مباہلے کے دن علی، حسین اور حسین علیھم السلام کے ہاتھ پکڑ کر تشریف لائے۔ سیدہ فاطمہ ان کے پیچھے پیچھے تھیں۔ پھر آپ نے فرمایا: یہ ہمارےبیٹے ، ہمارے نفس اور ہماری خواتین ہیں۔ تم بھی اپنے بیٹوں، نفسوں اور خواتین کو لے آو تاکہ ہم مباہلہ کریں اور جھوٹے پر خدا کی لعنت قرار دیں۔

یہ فقط چند نمونے ہیں، ورنہ اگر تفصیل میں جانا چاہیں تو ان مطالب کے اثبات پر صرف اہل سنت کی کتابوں کے حوالوں کے ساتھ چند جلد کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ قاضی نور اللہ شوشتری نے اپنی کتاب احقاق الحق میں اہل سنت کے 60 بزرگان کے نام لیے ہیں جنہوں نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ آیت مباہلہ کے مصداق اہل بیت کرام (رسول گرامی اسلام، امام علی، امام حسن، امام حسین اور سیدہ فاطمہ علیہم السلام)ہیں۔

انصاف اور عقل رکھنے والے لوگ خود فیصلہ کر لیں۔ ان تمام حقائق کے باوجود اہل بیت کرام کے فضائل سے کوئی جلتا ہے اور مسلمہ فضائل کا انکار کرتا ہے اس کا کوئی علاج نہیں۔


ٹیگس: مباہلہ
+ لکھاری عباس حسینی در 23 Nov 2018 و ساعت 12:17 AM |

اعجازِ قرآن کے پہلو

(دوسراحصہ)

فصاحت و بلاغت کا معجزہ

جس طرح سے خود قرآنی آیات سے واضح ہوتا ہے، قرآن کے اعجاز کا ایک پہلو اس کتاب کی فصاحت اور بلاغت ہے۔

فصاحت اور بلاغت کا معنی:

فصاحت لغت کے اندر واضح اور آشکار ہونے کے معنی میں ہے۔ اہل ِ ادب کی اصطلاح میں یہ لفظ(کلمہ) کا وصف ہے جس میں وہ لفظ روان ہوتا ہے، اس کا تلفظ آسان ہوتا ہے اور سننے میں دشوار محسوس نہیں ہوتا۔

جبکہ بلاغت لغت کے اندر کسی چیز کے پہنچنے کے معنی میں ہے۔ (مثلا بلغ العلی بکمالہ، یعنی بلندی اپنے کمال تک پہنچ گئی)۔ اصطلاح میں بلاغت یہ ہے کہ وہ معنی جو متکلم کے مد نظر ہے، مقام  اور حالت و شرائط کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بہترین اور مناسب ترین الفاظ میں، خوبصورت ترین اور بہترین موسیقی والی عبارات کے ساتھ اس طرح  بیان کیا جائے کہ اس حالت میں اور اس زمان و مکان کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے اس سے بہتر انداز میں اس کا بیان ممکن نہ ہو۔

کسی بھی عبارت کی موسیقی کا اس کی روانی اور لوگوں پر اثر انداز ہونے میں بڑا کردار ہے۔  قرآن کے نزول سے لے کر اب تک اس کی مخصوص موسیقی کی طرف خاص توجہ رہی ہے۔ یہاں تک کہ قرآن کے مخالفین اور دوسرے ادیان کے لوگ بھی اس کی طرف متوجہ ہوئے ہیں۔ اسی طرح عرب کے بڑے بڑے ادیبوں نے صدرِ اسلام سے لے کر اب تک اس کی فصاحت اور بلاغت کے مافوقِ بشر ہونے کی گواہی دی ہے اور یہ بات اس کتاب کے الہی ہونے کی بہترین دلیل ہے۔ قرآن کی بعض آیات بھی اعجاز کے اس پہلو کی طرف خاص طور پر اشارہ کرتی ہیں۔

چیلنج(تحدی) والی آیات اور فصاحت و بلاغت میں قرآن کا معجزہ

اگرچہ چیلنج والی آیات میں یہ واضح طور پر بیان نہیں ہوا کہ قرآن کا معجزہ فصاحت و بلاغت میں ہے، لیکن ان آیات میں کچھ دقت سے پتہ چلتا ہے کہ اعجاز کا یہ پہلو اس بات سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے کہ ہر دور کا معجزہ اس زمانے کے علوم وفنون کے مطابق آیا ہے۔ (اور پیامبر اکرمﷺکے دور کے عرب، فصاحت و بلاغت کے میدان کے شہسوار تھے۔) اسی لیے تمام اصحاب، علماء اور محققین نے ان آیات سے یہی سمجھا ہے کہ قرآن کے اعجاز کا کم از کم ایک پہلو اس کی فصاحت و بلاغت ہے۔

الف) جو بھی نبی معجزہ لے کر آئے، وہ اپنے زمانے کےحالات کے مطابق اور اس دور میں رائج علوم و فنون کے  مشابہ معجزات لے کر آئے، تاکہ وہ اپنے دعوی کو واضح ترین اور بہترین شکل میں ثابت کر سکیں۔ بطور مثال، حضرت موسی علیہ السلام کے دور میں جادوگری اپنے اوج پر پہنچی ہوئی تھی۔ لہذا آپ کو ایسا معجزہ عطا ہوا جو سحر اور جادو سے مشابہ تھا۔ آپ اپنے عصا کو خدا کے اذن سے اژدھے میں تبدیل کرتے تھے۔ حضرت عیسی علیہ السلام کے دور میں طبابت کافی ترقی کر چکی تھی، لہذا آپ کا معجزہ یہ تھا کہ آپ  اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کرتے تھے اور مادر زاد اندھوں کو شفا عطا کرتے تھے۔ اس لحاظ سے، قرآن کے نزول کے وقت عرب معاشرے میں فصاحت و بلاغت کا دور دورہ تھا۔ شعر و نثر کے معجزاتی فن پارے اس دور میں ایجاد ہوئے اور ان میدانوں میں آپس میں مقابلے ہوا کرتے تھے۔ لہذا  اس دور کا تقاضا یہ تھا کہ آپﷺ کو فصاحت و بلاغت کا معجزہ عطا ہوتاکہ آپ ﷺ اپنے مخاطبین کو اس حوالے سے چیلنج کر سکیں۔

ب) دوسری طرف سے دیکھیں تو، پیامبر اکرمﷺ کے مخالفین نے اور  آپﷺ کے بعد  کے جھوٹے مدعیان نبوت نے قرآن کے اسی پہلو میں اس کے مقابلے کی کوشش کی ہے۔ وہ نمونے جو یہ لوگ لے  آئے  ان میں کوشش کی گئی تھی اس کی شکل و صورت اور جملہ بندی قرآن کی طرح ہوں۔ یا جہاں پر مخالفین نے قرآن کی مثل لانے سے عجز کا اظہار کیا ہے وہاں اسی پہلو یعنی قرآن کی فصاحت و بلاغت کی طرف ہی اشارہ کیا ہے۔ پیامبر اکرمﷺ کی طرف شاعری کی نسبت دینا بھی اسی بات پر دلالت کرتا ہے وہ اس کلام کے فصاحت و بلاغت ہی سے متاثر تھے۔

ج) جن لوگوں کو قرآن نےاپنے نزول کے وقت چیلنج کیا تھا اور جو لوگ قرآن کے سب سے پہلے مخاطب تھے وہ ثقافتی  و فکری اور دوسرے امور کے حوالے سے جو قرآن کے اعجاز کے حوالے سے کہے گئے ہیں، اتنے ترقی یافتہ نہیں تھے تاکہ ہم کہہ سکیں کہ جن آیات میں چیلنج کی بات کی گئ ہے وہاں قرآن کے محتوی اور مطالب کے لحاظ سے ان کو چیلنج کیا گیا ہے۔ بلکہ ان کے مد نظر فصاحت و بلاغت تھی اور اس وقت کی عرب تہذیب میں یہی پہلو سب سے نمایاں تھا۔

د) قرآن کی مختلف آیات میں جہاں تحدی اور چیلنج کی بات ہوئی ہے وہاں قرآن کی مثل یا اس جیسا کلام(حدیث) یا اس جیسی سورت لانے کی بات ہوئی ہے۔ کسی اور کلام کے قرآن کی مثل ہونے کے حوالے سے جو بات مفسرین اور علم کلام کے ماہرین کے نزدیک یقینی ہے اور جو شرائط مدنظر ہیں ان میں سے ایک یقینی طور پر بلاغت ہے۔  لہذا کہتے ہیں کہ قرآن سے بلیغ یا قرآن کی بلاغت کے برابر کسی کلام کا لانا انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔

کوشش کرنے والوں کی ناکامی

قرآن کے مخالفین، قرآن کے مقابلے میں جو کلام لے آتے رہے ہیں وہ قرآن کی فصاحت و بلاغت سے اس قدر دور ہیں کہ عربی ادب سے آشنا کوئی بھی شخص ان دو کلاموں کے فرق کو نہایت آسانی کے ساتھ درک کر سکتا ہے۔ مثلا بطور نمونہ، 1912 میں مصر میں  امریکی-بریطانی چھاپ خانہ بولاق نے قرآن کے مقابلے میں کچھ صفحات رسالہ "حسن الایجاز" کے نام سے چھاپے اور یہ دعوی کیا گیا کہ سورہ حمد میں فصاحت و بلاغت کے حوالے سے خلل ہے اور ممکن ہے اس سے بہتر سورت لائی جائے جس میں اختصارکے ساتھ وہی معانی بیان کیے گئے ہوں۔ جو نمونہ انہوں نے پیش کیا وہ یہ ہے:

الحمد للرحمن رب الأكوان الملك الديان لك العباده و بك المستعان اهدنا صراط الإيمان...

یہاں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ سب سے پہلے انہوں نے بسم اللہ کو ہی حذف کیا ہے جوکہ اس سورے کی پہلی آیت ہے اور اس آیت میں جو فصاحت و بلاغت ہے اس سے صرف نظر کیا گیا ہے۔

اکثر مقامات پر آپ دیکھتے ہیں کہ قرآنی الفاظ کو قرآن ہی کے کچھ دوسرے الفاظ کے ساتھ تبدیل کیا گیا ہے۔ مثلا لفظ "اللہ" کی جگہ لفظ "رحمن" رکھا گیا ہے۔ لفظ رحمن وہ مطلب اور معنی ادا نہیں کر سکتا جو لفظ اللہ بیان کرتا ہے۔ اور پھر قرآن مجید نے لفظ اللہ کے بعد رب العالمین، رحمن و رحیم اور مالک یوم الدین کی صفات کے ساتھ اس حمد کی علت بھی بیان کی ہے جس کا تذکرہ آیت کے شروع میں ہے۔ کسی بھی چیز کی تعریف یا اس کے ذاتی کمالات کی وجہ سے ہے، یا اس کی نعمتوں کے شکریے کے انجام کے طور پر ہے، یا آئندہ آنی والی نعمتوں کی امید میں ہے یا اس کی سزاوں  اور سختیوں کے خوف سے ہے۔ لفظ اللہ پہلی علت کی طرف، رب العالمین دوسری، رحمن و رحیم تیسری اور مالک یوم الدین چوتھی علت اور وجہ  کی طرف اشارہ ہے۔ پس انسان کی طرف سے حمد اور تعریف کی وجہ جو بھی ہو، اللہ تعالی لائق حمد و تعریف ہے، بلکہ تمام حمد و تعریف درحقیقت خدا کے ساتھ مختص ہے۔ پس اختصار کی خاطر ان میں سے کسی ایک لفظ کو بھی کم کرنے سے معنی میں خلل پڑتا ہے۔

اسی طرح ہر جملے میں غور کرنے والے کے لیے واضح ہے کہ اس انسانی نمونے میں قرآن کی نسبت فصاحت و بلاغت کے خلل کے علاوہ معانی کا خلل بھی ہے اور بہت سارے معانی جو قرآنی آیات بیان کر رہی ہیں ان سے صرف نظر کیا گیا ہے۔ یہاں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن جیسا کلام لانا کسی بشر کے بس کا کام نہیں۔ یہ نمونہ اس کی واضح مثال ہے۔

(استفادہ از استاد مصباح یزدی، کتاب"قرآن شناسی"، تلخیص وترجمہ: سید عباس حسینی)

(نوٹ: جو کچھ اس مضمون میں لکھا گیا ہے مترجم کا فہم ہے۔  کسی بھی مطلب کی نسبت استاد مصباح کی طرف دینے سے پہلے اصل کتاب دیکھ لی جائے۔)


ٹیگس: مصباح یزدی, اعجاز قرآن
+ لکھاری عباس حسینی در 13 Sep 2018 و ساعت 1:4 AM |

اعجازِ قرآن کے پہلو

(حصہ اول)

قرآن کے مطالب میں اختلاف کا نہ ہونا

 

جو لوگ قرآن کے معجزے کو خود اس کتاب کے اندر دیکھتے ہیں ان کا آپس میں اس بات پر اختلاف ہے کہ قرآن کیسے اور کس حوالے سے معجزہ ہے؟ اکثر قدیم محققین نے قرآن کے اعجاز کو اس کی بلاغت و فصاحت میں منحصر کیا ہے اور اس کے علاوہ باقی تمام وجوہات اور پہلووں کی نفی کی ہے۔ مقابلے میں بعض نے کہا ہے کہ قرآن تمام جہات میں معجزہ ہے اور قرآن کے اعجاز کی وجوہات نا متناہی ہیں۔ جبکہ بعض نے اعجازِ قرآن کے لیے متعدد اور محدود وجوہات اور پہلو بیان کیے ہیں۔

البتہ یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم خود قرآن سے پوچھیں کہ وہ اپنے آپ کو کس جہت سے معجزہ سمجھتا ہے؟ یہاں ہم صرف ان وجوہات کا تذکرہ کریں گے جن پر خود قرآن کریم کی تاکید ہے۔

قرآن کا معجزہ: اختلاف کا نہ ہونا

قرآن کا کہنا ہے کہ یہ کتاب اگر کسی غیر خدا کی طرف سے ہوتی تو آپ اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔ (أفَلا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَ لَوْ كانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلافاً كَثِيراً)۔(نساء:82)

قرآن کے مطالب کا آپس میں ہم آہنگ ہونا اور ان میں عدمِ اختلاف تین مقدماتی باتوں پر مبنی ہے۔

۱۔ قرآنی آیات محتوا اور مطالب کے حوالے سے اور اسی طرح بلاغت کی سطح کے اعتبار سے آپس میں مکمل طور پر ہم آہنگی رکھتی ہیں۔

۲۔ ان دو باتوں میں آپس میں شدید ارتباط ہے کہ اگر کوئی کتاب کسی انسان کی طرف سے ہو تو اس میں یقینا بے شمار اختلافات ہوں گے اور اس کے مطالب میں ہم آہنگی کی کمی ہوگی۔

۳۔ قرآنی آیات میں تدبر کے ذریعے اس کے اندر موجود ہم آہنگی اور عدمِ اختلاف کو ہم کشف کر سکتے ہیں۔

قرآن کی تمام آیتوں کا آپس میں ہم آہنگ ہونا:

اس موضوع پر ہم تین طریقوں سے بحث اور اسے ثابت کر سکتے ہیں۔

۱۔ عقلی راہ:

عقلی برہان اور دلیل کے ذریعے ثابت کریں کہ پورا قرآن آپس میں مربوط اور ہم آہنگ ہے۔ مثال کے طور پر اس بیان اور برہان پر غور کریں۔

قرآن کے نزول کا سبب یہ ہے کہ انسان کی ابدی سعادت اور خوشحالی کی طرف بہترین طریقے سے  رہنمائی اور ہدایت ہو۔ اب اگر قرآنی آیات کا آپس میں اختلاف  ہو  تو یہ اس غرض اور ہدف کے منافی ہے اور اس کا مطلب یہ ہوگا کہ قرآن اپنے ہدف اور غرض میں ناکام ہے۔ اور پھر دوسری طرف سے ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالی حکیم ہے اور اپنے ہدف کو توڑنا اور اس کے خلاف کام کرنا حکیم کی حکمت کے خلاف ہے۔ پس نتیجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن کو اس طرح سے نازل کیا ہے کہ اس کی آیات آپس میں مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں۔

البتہ واضح ہے یہ دلیل ان لوگوں کے لیے مفید ہے جو خداوند متعال کی حکمت اور قرآن کے نزول کے ہدف کو پہلے سے مانتے ہوں۔

2۔ قرآنی آیات میں تناسب کی جانچ پڑتال

دوسرا راستہ یہ ہے کہ تمام قرآنی آیتوں کی جانچ پڑتال کی جائے تاکہ ان میں تناسب یا عدم تناسب ثابت ہو۔ یہ راستہ اگرچہ طویل ہے اور اس میں بہت زیادہ مشقت چاہیے لیکن اس کا نتیجہ سب کے لیے قابل قبول ہوگا۔ اگرچہ مفسرین اور قرآنی علوم کے ماہرین نے اس حوالے سےبہت زیادہ کام کیا ہے اور قرآنی آیات کے تناسب کو ثابت کیا ہے، لیکن اس حوالے سے مزید کام کی ضرورت ہے۔

۳۔ قرآن کے اوصاف میں تدبر

قرآن کی بعض صفات کہ جن کی طرف قرآن نے اشارہ کیا ہے اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اس کتاب کی تمام آیتیں آپس میں مربوط اور ہم آہنگ ہیں۔ مثلا قرآن نے اپنی آیات کے حوالے سے "مثانی" اور "متشابہ" ہونے کی بات کی ہے۔ یا مثلا قرآن نے اس کتاب کے لیے "حق" اور "صدق" کی صفات کا تذکرہ کیا ہے۔ پس ان تمام صفات کا نتیجہ یہ ہے کہ قرآنی آیات آپس میں ہماہنگ اور مشابہ ہیں جو ایک دوسرے کی تائید کر رہی ہوتی ہیں۔ اسی طرح قرآن کے دعوی کے مطابق اس کی تمام باتیں حق اور صدق ہے پس اس کی آیات میں آپس میں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں۔

یہاں یہ نکتہ اہم ہے کہ قرآن اپنی حقانیت اور اعجاز کے اثبات کے لیے اس بات پر زور دیتا ہے کہ قرآن میں اختلاف نہیں۔ لہذا اس حوالے سے تمام آیات کے درمیان ہم آہنگی ثابت کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ اگر آیات کے درمیان اختلاف کا نہ ہونا ثابت ہو بس یہی کافی ہے۔ چونکہ اگر قرآن کسی بشر کی طرف سے ہوتا تو ضرور اس کے مطالب میں اختلاف ہوتا اور ہم آہنگی کی کمی ہوتی۔

اب جو لوگ قرآن کی اس خصوصیت کے منکر ہیں ان کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ قرآن سے ایسی مثالیں ڈھونڈ لائیں جن میں اس طرح سے اختلاف ہو کہ جن کو جمع کرنا اور جن کا دفاع کرنا ممکن نہ ہو۔ اگرچہ بعض منکرین نے اس طرح کی چند آیتوں کو جمع کیا ہے لیکن قرآنی علوم کے ماہرین نے ان آیات کے فہم کے حوالے سے ان کی غلطی کی نشاندہی کی ہے۔

 

قرآن اگر کسی انسان کی طرف سے ہوتا تو اس کے مطالب میں اختلاف ضرور ہوتا

اختلاف، اتفاق کی ضد ہے اور ہر اس مورد کو شامل ہے جس میں قرآنی آیات کے درمیان ہم آہنگی نہ ہو۔ مثلا قرآن مجید نے انسانوں کی زبانوں اور رنگوں میں اختلاف کی طرف اشارہ کیا ہے۔ چونکہ سب کی زبان اور رنگ ایک جیسے نہیں ہیں، پس اختلاف ہے۔  قرآن نے جب اپنے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ اس کے محتوی اور مطالب میں کسی قسم کا اختلاف نہیں تو ہر قسم کے اختلاف کی اس نے نفی کی ہے، چاہے یہ اختلاف تناقض کی صورت میں ہو یا تضاد کی صورت میں، یا آیات کے درمیان ایسی مناسبت کا نہ ہونا ہو جو تناقض پر منتہی ہو۔ یا اسی طرح اختلاف کا ایک مورد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بعض آیات فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے اعجاز کے مرتبے سے کمتر ہوں جبکہ دوسری آیات معجزہ ہوں۔ یہاں اس بات کی بھی نفی کی گئی ہے۔

آیت میں قرآن کے بشری ہونے اور اس میں اختلاف ہونے کے درمیان تلازم بیان کیا گیا ہے۔ یعنی اگر ان خصوصیات کی حامل کتاب  کسی انسان کی طرف سے ہوتی اس میں یقینا اختلافی موارد بہت زیادہ پائے جاتے۔

یہاں انسان کی خصوصیات اور اس کتاب کی خصوصیات کے حوالے سے الگ سے بحث کرنے کی ضرورت ہے۔

انسان کی خصوصیات:

انسان کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی میں آہستہ آہستہ کمال کے زینے طے کرتا ہے۔ جب اس دنیا میں آتا ہے اس وقت اس میں کسی قسم کا کمال نہیں ہوتا (سوائے فطری استعداد اور صلاحیت کے)۔ اور پھر آہستہ آہستہ کمالات کسب کرنا شروع کر دیتا ہے۔ کمال کے اس سفر میں انسان آگاہی، علوم، قدرت و توانائی، مہارت اور مختلف عادتوں اور خصلتوں کو کسب کرتا ہے۔ اس علمی اور عملی سفرکے مختلف مراحل میں  انسانی کمالات کے فرق کو ہم ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

انسان کا دوسروں سے متاثر ہونا اور غلطی کی گنجائش دو ایسی خصوصیات ہیں جن کی بنا پر اس کے آثار اور تالیفات میں اختلافات ایجاد ہو سکتے ہیں۔ انسان اپنے اندرونی اور بیرونی ماحول اور شرائط سے متاثر ہوتا رہتا ہے اور اس حوالے سے انسان پر اثر انداز ہونے والے عوامل بھی بے تحاشہ ہیں جن کے سبب انسانی آثار میں اختلاف ہونا فطری امر ہے اور وہ بعض دفعہ متناقض باتیں بھی کر جاتا ہے۔ اور ممکن ہے بعض دفعہ متاثر ہونے کا یہ عمل اس طرح سے انجام پائے کہ خود اس شخص کو احساس تک نہ ہو۔ اسی طرح انسان میں غلطی کی گنجائش وہ عامل ہے جس کے تحت انسان جب بعد میں اپنی غلطی کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو وہ اپنی پہلی بات کے خلاف دوسری بات کر جاتا ہے۔ ایک بات جو پہلے خلاف فطرت کی تھی، متوجہ ہونے پر اور حالات کی تبدیلی کی وجہ سے متوجہ ہوئے بغیر اب فطرت کے تقاضوں کے مطابق بات کرتا ہے۔ اسی طرح انسانوں کی صلاحیت اور استعداد ایک دوسرے سے فرق کر جاتی ہے۔ ہر انسان کسی خاص میدان میں دوسروں کی نسبت بہتر استعداد رکھتا ہے۔ لہذا جس میدان میں انسان کی استعداد بہتر ہو اس میں بہتر انداز میں لکھ سکتا ہے۔ کمالات کے حصول میں بھی انسان کی استعداد محدود ہے اور ہر انسان ایک خاص حد تک کمالات کسب کر سکتا ہے۔ تمام کمالات کو اس کی بہترین سطح میں حاصل کرنا انسان کے لیے ممکن نہیں۔ پس ہر فرد چند ایک مخصوص کمالات کے حامل ہوتا ہے اور صرف بعض کمالات میں وہ بلندیوں کو چھو سکتا ہے۔ یہ امر سبب بنتا ہے کہ ہر انسان اسی خاص میدان میں بہتر انداز میں لکھ سکے جس میں اس کا کمال ہے، جبکہ جس میدان میں کمال کی کمی ہے اس میں اس کا اثر بھی متفاوت ہوگا۔

خلاصہ کلام یہ کہ انسان کا تدیجی طور پر کمال کے مراحل طے کرنا، انسان میں غلطی کی گنجائش، انسان کا دوسرے انسانوں اور اپنے گرد کے ماحول سے متاثر ہونا، انسانوں کے درمیان استعداد اور صلاحیت کا فرق، انسان کے اندر کمال کے حصول کے حوالے سے موجود محدودیت وہ بعض خصوصیات ہیں جوہمیشہ انسان کے ساتھ ہیں، اور ان میں سے ہر ایک سبب بنتا ہے کہ انسان کے آثار اور تالیفات(خصوصا فکری اور علمی میدان میں) آپس میں ہم آہنگ نہ ہو اور ان میں اختلاف موجود ہو۔

قرآن کی خصوصیات:

قرآن کے نزول کی مدت اور اس دوران پیش آنے والے حالات و واقعات کچھ ا س طرح سے ہیں کہ اگر یہ کتاب کسی بشر کی طرف سے ہوتی تو ضرور اس کے مطالب میں اختلاف ہونا چاہیے تھا۔ یہ وہ کتاب ہے جو ۲۳ سال کے عرصے میں رسول خداﷺ کی طرف سے لوگوں کو سنایا گیا۔ قرآن کا نزول تدریجی تھا۔ پس اگر کسی بشر کی طرف سے ہوتا تو انسان کے تکامل تدریجی کے آثار اس میں نظر آنے چاہیے تھے۔ دوسری طرف سے ان ۲۳ سالوں میں پیامبر اکرمﷺ کو مختلف قسم کے فردی، اجتماعی، اقتصادی اور سیاسی حالات سے گزرنا پڑا ہے۔ قرآنی آیات سفر کے دوران، حضر کے اندر، جنگ کے وقت، صلح کے دوران، عام حالات میں، بحرانی کیفیات میں آپ پر نازل ہوتی رہیں اور آپ لوگوں تک یہ پیغام پہنچاتے رہے۔ یہ سب وہ عوامل ہیں جن کے سبب اگر اس کتاب کا لانے والا کوئی عام انسان ہوتا تو اسے ان شرائط اور حالات سے متاثر ہونا چاہیے تھا۔ تیسری طرف سے دیکھا جائے تو اس کتاب میں مختلف مسائل اور متعدد موضوعات سے بحث کی گئی ہے۔ اس میں فلسفی، اعتقادی، اخلاقی، اقتصادی، عرفانی، اجتماعی اور دسیوں دوسرے موضوعات بیان کیے گئے ہیں۔ انسانوں کی صلاحیتوں کے فرق اور اس کی استعدادی محدودیت کو دیکھتے ہوئے  کسی انسان کے لیے ان تمام موضوعات میں بات کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک طرف بیان و ادب اور تحریر و تقریر میں ماہر ہو اور دوسری طرف مطالب کے اعتبار سے ان تمام موضوعات اور مسائل پر دسترس رکھتا ہو۔ اور ایک عام انسان کے لیے ایسا ہونا ممکن نہیں ہے اوران تمام موضوعات میں بحث کرنے کی صورت میں  اس کے مطالب میں اختلاف اور ہم آہنگی کی کمی حتمی امر ہے۔

 

دلیل کا خلاصہ:

یہاں تک جتنے مطالب گزر گئے ان کی روشنی میں ہم اس قرآنی آیت(نساء:82)کے معنی کو واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کا ذکر اس بحث کے شروع میں ہوا ہے۔  اس دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ:

کسی عام انسان کے لیے، جس کی یہ خصوصیات ہوں اور جس کی استعداد محدود ہو، مذکورہ شرائط اور حالات میں، ان  خصوصیات کی حامل کتاب کا لانا ، جبکہ اختلاف پیدا کرنے والے عوامل فراوان ہوں۔۔۔

اس بات کا حتمی لازمہ اور نتیجہ یہ ہے کہ اس انسانی کتاب کے اندر اختلاف ہو، ہم آہنگی کی کمی ہو۔

لیکن قرآن کریم میں ہم کسی قسم کا اختلاف نہیں پاتے، اس کے مطالب بیان کے حوالے سے بھی اور محتوی کے حوالے سے بھی آپس میں مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں۔(بعض آیات کے درمیان  جو ظاہری اختلاف ہے وہ ان میں غور اور دقت کرنے سے ختم ہوجاتا ہے اور ان میں موجود ہم آہنگی واضح ہوجاتی ہے۔)

پس قرآن کریم کسی انسان کی طرف سے نہیں ہے۔ بلکہ یہ کتاب اللہ تعالی کی طرف سے ہے اور معجزہ ہے کہ جس کی مثال لانا کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔

(استفادہ از استاد مصباح یزدی، کتاب"قرآن شناسی"، تلخیص وترجمہ: سید عباس حسینی)

(نوٹ: جو کچھ اس مضمون میں لکھا گیا ہے مترجم کا فہم ہے۔  کسی بھی مطلب کی نسبت استاد مصباح کی طرف دینے سے پہلے اصل کتاب دیکھ لی جائے۔)


ٹیگس: مصباح یزدی, اعجاز قرآن
+ لکھاری عباس حسینی در 28 Aug 2018 و ساعت 12:10 PM |

قرآن شناسی علامہ مصباح یزدی، خلاصہ و ترجمہ

ترجمہ و تلخیص: سید عباس حسینی

 

قرآن کا نزول

قرآن کو قرآن کیوں کہا گیا؟

قرآن عربی زبان میں کیوں نازل کیا گیا؟

قرآن کے نزول کا معنی کیا ہے؟

قرآن کے نزول کی اقسام ۔۔۔ نزول دفعی اور تدریجی میں فرق کیا ہے؟

قرآن کے نزولِ تدریجی کا راز

قرآن کے خدا کی طرف سے ہونے کی دلیل

قرآن کے اعجاز کا اثبات

قرآن کا اعجاز اور اس کا نصاب

اعجازِ قرآن کی دلالت

اعجازِ قرآن کا راز (حصہ اول) ۔۔۔ کتاب ہونا ہی معجزہ ہے

اعجازِ قرآن کا راز (حصہ دوم) ۔۔۔ صرف کا نظریہ اور اس کا جواب

اعجاز قرآن کے پہلو (حصہ اول) ۔۔۔ قرآن کے مطالب میں اختلاف کا نہ ہونا

اعجاز قرآن کے پہلو (حصہ دوم) ۔۔۔ قرآن کی فصاحت و بلاغت

+ لکھاری عباس حسینی در 10 Aug 2018 و ساعت 4:26 PM |

حفظ قرآن کریم، چند اہم نکات

تحریر: سید عباس حسینی

 

جماران قرآنی انسٹٹیوٹ فیصل ٹاون برانچ لاہور کے حافظان قرآن کے ایک گروہ نے 9 جولائی تا 29 جولائی2018 ایران کے مقدس شہر قم اور مشہد کا تعلیمی دورہ  مکمل کیا۔ اس دوران حفظ قرآن کے مختلف اساتید سے ملاقات اور متعدد قرآنی موسسوں (جیسے محمد حسین طباطبائی کا  موسسہ جامع القرآن و اھل البیت علیھم السلام اور علی امینی کا موسسہ ابا صالح علیہ السلام) کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔راقم الحروف بھی ان بچوں کے ہمراہ تھا لہذا تمام باتوں کو قریب سے سننے کا اتفاق ہوا ۔  اس دوران  حفظ ِ قرآن مجید کے حوالے سے جو  اہم نکات بتائے گئے ان میں سے  چند ایک یہاں درج کیے جاتے ہیں۔

 

  1. قرآن کریم نور ہے۔ اس کا ظرف  انسان کا سینہ (قلب) ہے۔ ظرف اور مظروف میں مناسبت ہونی چاہیے۔ لہذا حفظ قرآن کے لیے قلب کی پاکیزگی اور باطنی طہارت بنیادی شرط ہے۔
  2. ہر بچے کی استعداد اور صلاحیت دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ ممکن ہے ایک بچہ شروع میں ایک صفحہ پورا حفظ کر لیتا ہو، لیکن دوسرے کے لیے ایک آیت حفظ کرنا بھی مشکل ہو۔ لہذا حفظ کے دوران اس فطری اور بنیادی فرق کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا درست کام نہیں۔ ہاں البتہ ہر ایک انسان کے پاس حفظ قرآن کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ حفظ کی مدت اور روش ایک فرد سے دوسرے میں فرق کرتی ہے۔
  3. حفظ کے دوران بچے کی تشویق انتہائی ضروری کام ہے۔ ہر اچھے قدم پر بچے کی زیادہ سے زیادہ تشویق ہونی چاہیے۔ یہ تشویق چاہے ایک "شاباش" یا ایک دفعہ اس بچے کی سلامتی کے لیے "صلوات" پڑھوانے کی حد تک ہی کیوں نہ ہو۔
  4. تشویق اور صرف تشویق بچوں کے حفظ میں مثبت اثر چھوڑتی ہے۔ ہاں اگر کسی وقت مجبوری کی حالت میں تنبیہ ضروری بھی ہو تو اس کا طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ کچھ دیر کے لیے اس سے ناراضگی کا اظہار کیا جائے۔ یہی بات اس کو سیدھے راستےپر لانے کے لیے کافی ہے۔
  5. حفظ میں کمیت   (Quantity)مہم نہیں، کیفیت (Quality) مہم ہے۔  لہذا کوشش کی جائے بے شک کم حفظ کروائیں، لیکن درست اور صحیح حفظ کروائیں۔ کوشش کریں آپ کا بچہ ابتداء میں  بغیر کسی غلطی کے ایک صفحہ حفظ کر لے۔ پھردو صفحے اور پھر زیادہ صفحے اور اس طرح پورا قرآن کریم بغیر کسی غلطی کے اسے حفظ ہو۔
  6. حفظ کے دوران انسان کے تمام حواس سے کام لینا ضروری ہے۔ صرف رٹا لگانے کی روش درست نہیں۔ جب دیکھ کر پڑھنے سے تھک جائے تو تلاوت سنوائی جائے۔ جب سننے سے تھک جائے تو زبانی حفظ کا تکرار کروایا جائے۔اگر اس کام سے بھی تھک جائے تو قرآنی آیات لکھوائی جائے۔  تاکہ اس طرح کوئی بھی حس تھکاوٹ محسوس نا کرے۔
  7. حفظ کے دوران بچے کی صحت، غذا، ورزش اور کھیل کود کا لحاظ رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ ان میں سے ہر ایک کام کے لیے وقت مخصوص ہونا چاہیے۔ اسی طرح بچے کی نیند بھی پوری ہونی چاہیے۔ ان میں سے ہر ایک کام بچے کے حفظ اور حافظے پر اثر انداز ہوتا ہے۔
  8. حفظ اور اس کی تثبیت کے لیے مختلف روشوں سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ مثلا مباحثے کی روش جس میں پہلے ایک بچہ، دوسرے بچے سے ایک صفحہ سن لیں، پھر دوسرا پہلے سے سن لے۔ یا یہ کہ ایک آیت پہلا بچہ حفظ سے پڑھے اور دوسری آیت دوسرا حفظ سے پڑھے۔ یا یہ کہ ایک صفحہ ایک بچہ حفظ سے  پڑھے اور دوسرا صفحہ دوسرا پڑھے۔
  9. مباحثے کی ایک روش یہ ہے کہ جو بچہ جہاں سے حفظ کی غلطی کر لے تلاوت ادھر ہی چھوڑ دے، اور دوسرا بچہ وہیں سے شروع کرے۔ پھر دوسرا بچہ جہاں کوئی غلطی کر لے وہیں چھوڑ دے اور پہلا بچہ شروع کرے۔ اس روش میں ہر بچہ جتنا ممکن ہو درست پڑھنے کی اور  کم سے کم غلطی کی کوشش کرتا ہے۔
  10. مقابلے کی روش ہے جس میں پہلا بچہ ایک آیت پڑھ کر آخری لفظ دوسرے کے لیے چھوڑ دیتا ہے تاکہ وہ اپنے حفظ سے آیت مکمل کر لے۔ پھر دوسری دفعہ دو لفظ چھوڑتا ہے۔ تیسری دفعہ تین لفظ اور اس طرح پوری آیت کا کئی مرتبہ تکرار ہوتا ہے اور بہتر انداز میں آیت حفظ ہو جاتی ہے۔
  11. مغناطیس والی روش میں بچے سےمغناطیسی آیات کی ترتیب کا کام لیا جاتا ہے۔ ایک آیت کو پڑھنے کو بعد اس کو جگہےسے ہٹا دی جاتی ہے تاکہ حفظ سے پڑھ لیں۔ پھر اسی ترتیب سےآیات کی تعداد میں اضافہ کیا جاتاہے۔یا یہ کہ ایک سورت کی آیات کی ترتیب بچے نے مقررہ وقت میں  مکمل کرنی ہے۔  اس روش کے اندر کھیل کھیل میں بچہ قرآن حفظ کر لیتا ہے۔
  12. تجربے سے پتہ چلتا ہے کہ جو بچے حفظ میں سورے کا نام، سپارہ نمبر، صفحہ نمبر، آیت نمبر وغیرہ کے ساتھ قرآن حفظ کرتا ہے اس کا حفظ زیادہ  بہتر ہوتا ہے اور اس بچے کا اپنے اوپر اعتماد بھی باقیوں کی نسبت بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح اگر مفاہیم سے آشنائی ہو تو یہ بات حفظ میں انتہائی موثر اور مفید ہے۔
  13. بچوں کی حوصلہ افزائی اور ان میں اعتماد نفس ایجاد کرنے یا بحال رکھنے کا ایک اہم طریقہ یہ ہے کہ ان کو مختلف قرآنی پروگرامز اور مقابلوں (Competitions) میں شرکت کی رغبت دلائی جائے۔ لوگوں کی طرف سے حوصلہ افزائی، انعامات یا سند وغیرہ بچے کے اعتماد نفس اور قرآن کی طرف شوق و رغبت میں اہم کردار کرتے ہیں۔
  14. جو بچے حفظ کے بڑے مقابلوں اور پروگرامز میں شرکت نہیں کر سکتے ان کے لیے موسسے کے اندر ہی مقابلے کا انعقاد کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح ہر بچہ مقابلوں میں شرکت کا طریقہ سیکھ لیتاہے۔
  15. جس مقدار میں بھی بچے نے قرآن حفظ کیا ہو ہر کچھ عرصے کے اندر اپنے تمام محفوظات کا تکرار (Revision) ضروری اور الزامی ہے۔ اس حوالے سے جس بچے نے پورا قرآن حفظ کیا ہو اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر دو ہفتے کے اندر سارا قرآن تکرار کر لے۔ اگر سمجھتا ہے کہ کسی سپارے کے حفظ میں وہ کمزور ہے تو اس طرح تکرار ہوجائے کہ وہ والا سپارہ کئی دفعہ درمیان میں آجائے ، جبکہ باقے سپارے ایک مرتبہ تکرار ہوں۔
  16. جو بچے قرآن مکمل حفظ کر کے فارغ ہو چکے ہیں ان کے حوالے سے پروگرامنگ کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنا حفظ بہتر انداز میں برقرار رکھ سکیں۔ اس حوالے سے ایک بہتر آپشن یہ ہو سکتا ہے کہ ان کو چھٹی والے دنوں میں (مثلا سنڈے کلاسز کے لیے) بلا لیا جائے۔ اس طرح ان کی آپس میں ملاقات کا سلسلہ بھی چلتا رہے گا اور ذہنی ہم آہنگی بھی پیدا ہوگی۔ اور اسی دوران قرآن کے تکرار اور آپس میں مباحثے کا انعقاد کیا جائے۔
  17. جو بچے قرآن کا حفظ مکمل کر چکے ہیں اگر ان کے دل میں قرآن کی محبت ڈال دی جائے تو یہ محبت سبب بنے گی کہ وہ ہمیشہ قرآن سے متصل رہیں۔ جتنا عرصہ بچہ آپ کے پاس رہا ہے اس دوران بچے کی اس طرح تربیت کریں کہ باقی ساری عمر بچے کا رشتہ قرآن سے جڑا رہے۔
  18. جس بچے نے حفظ مکمل کر لیا ہو اسے اپنے حافظے پر مکمل اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔ یعنی ایسا نہ ہو کہ وہ مسلسل حفظ سے ہی تکرار  کرتا رہے۔ چونکہ اس صورت میں ممکن ہے کسی جگہ وہ غلط پڑھ رہا ہو اور اسی غلطی کو مسلسل تکرار کر رہا ہو۔ اس لیے ضروری ہے ہر کچھ عرصے بعد قرآن دیکھ کر تکرار کیا جائے تاکہ حفظ کی غلطیاں ختم ہوں۔ ویسے بھی قرآن کریم کو دیکھنا بھی عبادت ہے۔
  19. ایک ہی انداز مثلا مسلسل ترتیل میں قرآن پڑھنے سے بچہ تھک جاتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہو سکتا ہے کہ اسے صوت و لحن اور قرائت تحقیق کی طرف ترغیب دی جائے تاکہ اس طرح تنوع آجائے۔ ان کاموں سے بچے کی رغبت قرآن کی طرف بڑھ جاتی ہے۔
  20. بچیو ں (Girls) کے  لیے ترتیل ہی بہتر آپشن ہے۔ خاص طور پر جب جمع (Crowd) میں تلاوت کر رہی ہوں۔

 

+ لکھاری عباس حسینی در 30 Jul 2018 و ساعت 11:47 PM |

اعجازِ قرآن کا راز

(حصہ دوم)

 

دوسرا نظریہ:  ہمت، علم اور قدرت سلب کرنا

اس قول کے مطابق اعجازِ قرآن کا راز اس میں پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن کے مخالفین سے اس کے مقابلے کے لیے ضروری ہمت، علم، قدرت اور  حوصلہ ہی چھین لیا ہے لہذا ہر کوئی اس کی مثل اور نظیر لانے سے دور ہی بھاگتا ہے۔ وہ علوم جو اس کام کے لیے ضروری ہیں اللہ تعالی مخالفین کو ان کے حصول سے روکتا ہے۔ پس اس طرح سے کوئی بھی شخص پورا قرآن تو دور کی بات، اس جیسی ایک سورت بھی نہیں لا سکتا۔ اس نظریے کو "صَرف" (ہمت پھیرنے کا) نظریہ کہا جاتا ہے۔

پس اس قول کے مطابق قرآن کا اعجاز خود اس کے اندر اور اس کے متن میں نہیں ہے، بلکہ ایک دوسری چیز یعنی اس بات میں ہے کہ اللہ تعالی نے مخالفین کو قرآن کی مثل لانے سے روک رکھا ہے۔ ان سے ہمت، حوصلہ، علم و قدرت اور وہ تمام چیزیں چھین لی ہے جو اس کام کے لیے ضروری ہیں۔ لہذا اس قول کے ماننے والے قائل ہوئے ہیں کہ قرآن کے مقابلے سے عاجزی اور ناتوانی انسان کی مجبوری ہے۔ یعنی اللہ تعالی نے، کم از کم اس مورد میں، انسانوں سے اختیار چھین لیا ہے اور ان کو مجبور کیا ہے کہ وہ قرآن کا مقابلہ نہ کر سکیں۔

البتہ اس (صرف کے) قول کو ماننے والوں کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض قائل ہوئے ہیں اعجازِ قرآن کا راز اسی میں منحصر ہے، بعض نے کہا ہے کہ قرآن کے اعجاز کی شکلوں میں سے ایک شکل یہ ہے۔ بعض نے کہا ہے اس (صرف) کا تعلق پورے قرآن مجید سے ہے، جبکہ بعض نے کہا ہے اعجاز کی یہ وجہ چھوٹی سورتوں کے ساتھ مخصوص ہے۔

البتہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس قول (صرف) کو ماننے والے قرآن کی فصاحت و بلاغت اور اس کلام کے اندر موجود مطالب کی دقت اور نظم وغیرہ کے منکر نہیں ہیں۔ لیکن ان کے مطابق یہ خصوصیات اتنی نہیں ہیں کہ کوئی انسان اس کلام کی مثل نہ لا سکے۔ پس ایک اور عامل کی ضرورت ہے جو انسانوں کو اس کی مثل لانے سے روک دے اور اللہ تعالی کی طرف سے ان کی ہمتوں کو پھیرنا ہے۔

اس قول (صرف) کے ماننے والوں نے اپنے دعوی کے اثبات میں چار اہم باتیں کی ہیں:

۱۔ یہ بات بہت بعید ہے کہ قرآن کی چھوٹی سورتیں (جیسے سورہ کوثر وغیرہ) کو معجزہ کہا جا سکے۔

۲۔ قرآن کی بعض آیتوں یا سورتوں کو دکھا کر کہا ہے کہ ان میں اعجاز کا ہونا واضح نہیں، بلکہ اعجاز کا نہ ہونا زیادہ واضح اور معقول ہے۔

۳۔ اعجاز قرآن کی جو مختلف وجوہات بیان ہوئی ہیں ان پر اشکال کیا ہے۔

۴۔ قرآن مجید سے اپنے نظریے (صرف کے قول) پر دلیلیں لائے ہیں۔

یہاں ہم ان کی قرآنی دلائل کو ذکر کرتے ہیں:

 

صرف کے قول پر قرآنی دلائل:

۱۔ پہلی آیت: (وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا مِثْلَ هذا)

آیت کے مطابق کفار قرآن کی آیتوں کو سن کر کہتے ہیں: ہم نے یہ آیتیں سن لی ہیں۔ اگر ہم چاہتے تو ہم بھی اس جیسا کلام کہہ سکتے تھے۔

اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ کفار اگر چاہتے تو قرآن کا ہم پایہ کلام کہہ سکتے تھے۔ اللہ تعالی نے ان کی اس بات کو نقل کرنے کے بعد ان کے اس دعوی کی نفی بھی نہیں کی۔ اس سے پتہ چلتا ہے ان کے لیے اس جیسا کلام لانا ممکن تھا، لیکن چونکہ خدا نے ان کی ہمتیں پھیر دیں اس لیے قرآن کا مقابلہ نہیں کر سکے۔

جواب:

اس دلیل کی بنیاد ایک غیر ثابت شدہ بات پر رکھی ہوئی ہے۔ اور وہ یہ کہ کفار سے جو باتیں قرآن میں نقل ہوئی ہیں ان میں وہ لوگ سچے تھے اور حقیقت بیانی کر رہے تھے۔ لیکن تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ لوگ اسلام اور مسلمانوں سے شدید تعصب رکھتے تھے اور ہمیشہ قرآن کی مخالفت میں اپنی طرف سے باتیں گھڑتے تھے۔ ایسے میں ان کی اس بات پر کیسے یقین کیا جائے؟

بالفرض یہ بات درست بھی ہو، اس سے صرف کا قول اور ہمت پھیرنے والی بات کہاں سے ثابت ہوتی ہے؟ آیت صرف یہ کہہ رہی ہے کہ انہوں نے قرآن کا مقابلہ نہیں کیا، چونکہ نہیں چاہتے تھے۔ یہ ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ ان کی لاکھ کوششوں کے باوجود، اللہ تعالی نے اس کام کے حوالے سے ان سے علم، قدرت اور حوصلہ وغیرہ چھین لیا تھا۔

اور پھر کسی مطلب کے متعلق قرآن کا سکوت اور خاموشی بھی اس بات کی تائید ہرگز نہیں ہے۔ چونکہ اس بات کا بطلان واضح تھا اور کفار اپنے دعوی پر کوئی دلیل نہیں رکھتے تھے لہذا قرآن نے چپ رہنا ہی مناسب سمجھا۔ چونکہ کفار کے لیے اسلام سے مقابلے کا سب سے آسان راستہ قرآن کا مقابلہ اور اس کی مثل لانا تھا، دوسری طرف سے قرآن نے بارہا ان کو چیلنج بھی دیا تھا، ایسے میں اگر ممکن ہوتا تو زبانی جمع خرچ کے بجائے اس جیسا کلام ضرور لے آتے۔ پس وہ کونسی چیز تھی جو ان کے لیے قرآن کے مقابلے سے مانع بن رہی تھی؟ یقینا وہ لوگ اپنے اس دعوے میں جھوٹے تھے اور چونکہ جانتے تھے اس جیسا کلام لانا ممکن نہیں، اس لیے نا امید تھے اور اس طرح کی بے سر وپا باتیں پھیلاتے تھے۔

 

۲۔ دوسری آیت (سَأَصْرِفُ عَنْ آياتِيَ الَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَ إِنْ يَرَوْا كُلَّ آيَةٍ لا يُؤْمِنُوا بِها)

اس آیت کے مطابق اللہ تعالی نے ببانگ دہل اعلان کیا ہے کہ جو لوگ زمین پر تکبر کرتے ہیں اور خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے ان کو اللہ تعالی خود ان آیات سے منصرف کرے گا اور ان سے دور رکھے گا۔

جن آیات کی بات ہوئی ہے وہ قرآنی آیات ہیں یا اگر عام معنی مراد ہے تو بھی یقینا قرآنی آیات کو شامل ہیں۔ قرآنی آیات یا کسی بھی دوسری آیت یا معجزے سے کفار کو دور رکھنے کا راستہ یہ ہے کہ ان کو اس حوالے سے درکار علم، قدرت، ہمت اور فیصلے کی طاقت وغیرہ ان سے چھین لیا جائے۔ یہی کام اللہ تعالی نے کیا ہے اور یہی صَرف کا قول ہے۔

جواب:

اس آیت سے استدلال بھی درست نہیں ہے۔

چونکہ لفظ آیت کو قرآنی آیات یا اس جیسے معجزات کے ساتھ خاص کرنے پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ کم از کم یہ ہے کہ لفظ آیات تمام انبیاء کے معجزات کو شامل ہے۔ جبکہ اس قول کے ماننے والے سابقہ انبیاء کے معجزات کے حوالے سے صرف کے قائل نہیں ہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ صرف (سَأَصْرِفُ) کا معنی اس آیت میں وہی ہو جو اس قول کے ماننے والے لیتے ہیں قابل انکار ہے۔ بلکہ آیت کے سیاق سے واضح ہوجاتا ہے کہ مراد مخالفین کو ان آیات پر ایمان لانے سے اور ان سے متاثر ہونے سے روکنا ہے تاکہ ان کے برے اعمال کی سزا ان کو مل جائے۔ آیت میں یہ سزا متکبرین کے لیے بیان ہوئی ہے۔ اگر صرف کا وہی معنی ہوتا ہے جو اس قول والے لیتے ہیں، تو یہ بات متکبرین کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ قرآن کے تمام مخالفین کو شامل ہے۔ پس متکبرین کہنے کی کیا وجہ ہے؟

تیسری بات یہ ہے کہ بالفرض مان لیں آیات سے مراد قرآنی آیات ہیں اور صرف کا بھی وہی معنی ہے جو اس قول والے لیتے ہیں۔ لیکن پھر بھی ثابت نہیں ہوتا کہ یہ کام علم و قدرت اور ہمت وغیرہ چھیننے کے ذریعے ہو۔ بلکہ ممکن ہے اس وجہ سے ہو چونکہ قرآن کی آیات میں استحکام ہے، نظم ہے، بلاغت ہے، اعجاز ہے۔ اور مخالفین جب قرآنی آیات کی ان خصوصیات کو دیکھتے ہیں تو وہ خود ہمت ہار جاتے ہیں اور قرآن کے مقابلے سے باز رہتے ہیں۔ ان کو یقین ہوجاتا ہے کہ ان خصوصیات کے حامل کلام کا مقابلہ کرنا ایک ناکام کوشش ہوگی۔ لہذا وہ قرآن کے مقابلے سے دور بھاگتے ہیں۔

 

۳۔ تیسری آیت: (بَلْ كَذَّبُوا بِما لَمْ يُحِيطُوا بِعِلْمِهِ وَ لَمَّا يَأْتِهِمْ تَأْوِيلُهُ كَذلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ)

اس آیت کے مطابق وہ لوگ قرآن کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کی آیتوں کو جھٹلاتے ہیں جن کے پاس اس کتاب کا علم نہیں اور اس کی تاویل سے وہ لوگ عاجز ہیں۔ پس گویا اس آیت میں اللہ تعالی نے قرآن کے اعجاز کا راز بتا دیا کہ کیوں مخالفین اس جیسا کلام نہیں لا سکتے؟ چونکہ ان کے پاس ایسا علم اور اور ایسی تاویل ہے ہی نہیں جس کے ذریعے اس کا مقابلہ کریں۔ پس اللہ تعالی نے اس حوالے سے درکار تمام علوم ان سے چھین لیا ہے۔ یہی صرف کا قول ہے۔

جواب:

آیت میں دقت سے پتہ چلتا ہے اس سے صرف کے قول پر استدلال درست نہیں۔ چونکہ آیت میں کہیں بھی علوم کو سلب کرنے اور چھیننے کی بات نہیں ہوئی۔ ہاں آیت میں یہ بات ہوئی ہے کہ قرآن میں جو علوم ہیں ان پر بشر کا احاطہ نہیں ہے۔ اور اس بات کی تاکید دوسری آیات بھی کرتی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ قرآن کا منبع علم الہی ہے۔ (مثلا سورہ ہود:14) اور یقینا علم الہی، بشر کے دسترس میں ہرگز نہیں۔ پس انسانوں کے لیے یہ بھی ممکن نہیں کہ اس جیسا کلام لے آئیں۔  

در حقیقت آیت سرزنش کے مقام پر ہے کہ لوگ کیوں آیات الہی میں تدبر اور غور کیے بغیر اور ان کے معارف میں دقت کیے بغیر فیصلے لیتے ہیں؟ اگر مخالفین آیات میں دقت کرتے ان معارف کو درک کر لیتے تو قرآن کے خارق العادہ ہونے کو محسوس کر لیتے اور اس طرح اس کی تکذیب سے ہاتھ اٹھا لیتے۔ اسی طرح سے اگر وہ قرآن کی تاویل جان لیتے تو بھی ہرگز اسے نہ جھٹلاتے۔

پس آیت میں صرف اور علوم چھیننے کی بات ہرگز نہیں ہے۔

 

ان تمام باتوں کا نتیجہ یہ ہے کہ صرف کا قول باطل ہے اور قرآن کے اعجاز کا راز صرف نہیں، کچھ اور ہے۔

 

(استفادہ از استاد مصباح یزدی، کتاب"قرآن شناسی"، تلخیص وترجمہ: سید عباس حسینی)

(نوٹ: جو کچھ اس مضمون میں لکھا گیا ہے مترجم کا فہم ہے۔  کسی بھی مطلب کی نسبت استاد مصباح کی طرف دینے سے پہلے اصل کتاب دیکھ لی جائے۔)


ٹیگس: مصباح یزدی, اعجاز قرآن
+ لکھاری عباس حسینی در 7 Jun 2018 و ساعت 4:31 PM |

اعجاز قرآن کا راز

(حصہ اول)

 

عام طور پر معجزے کی تعریف یوں کی جاتی ہے:

معجزہ وہ خارق العادہ(غیر معمولی) کام ہے جو انسانوں کی توان اور طاقت سے بڑھ کر ہو اور خدا کے خاص ارادے سےاس کے پیامبروں کے ذریعےان کی نبوت کے اثبات کے لیے  وہ کام انجام پاتا ہو۔قرآن کے حوالے سے بھی آیات تحدی(چیلنج والی آیات) کا دعوی ہے کہ یہ معجزہ ہے اور انسان کی طاقت سے بڑھ کر ہے۔  یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ قرآن کا معجزہ اور بشری طاقت سے بڑھ کر ہونا کس بات میں پوشیدہ ہے؟

اعجاز قرآن کے راز کے حوالے سے مختلف نظریات پیش ہوئے ہیں۔ بعض کے نزدیک یہ راز خود قرآن کی آیات اور سورتوں (متن ِقرآن) میں پوشیدہ ہے۔ بعض کے نزدیک قرآن کا کتاب ہونا ہی سب سے بڑا راز اور معجزہ ہے۔ جبکہ بعض دوسروں نے اعجاز قرآن کو اس کتاب کے متن سے باہر کچھ دوسری چیزوں کی طرف نسبت دی ہے۔

 

پہلا نظریہ: قرآن کا کتاب ہونا ہی معجزہ ہے

اس نظریے کے تحت "آپﷺ کی کتاب معجزہ نہیں، بلکہ ایک کتاب لانا ہی آپﷺ کا معجزہ ہے۔"

بعض مستشرقین اور روشن فکر حضرات کے نزدیک خود قرآن بطور کتاب سب سے بڑا معجزہ ہے۔آپﷺ کا اس کے علاوہ کوئی اور معجزہ نہیں تھا۔ اورقرآن کا معجزہ بھی کوئی غیر معمولی کام نہیں تھا۔ ہاں اس عرب معاشرے کے حساب سے غیر معمولی سمجھا جاتا تھا۔ گزشتہ انبیاء کے ادوار میں عام معجزات اور غیر معمولی کاموں سے مدد لینا نا گزیر تھاچونکہ وہ دور خرافات، توہمات اور حیرت انگیز اسرار و رموز سے مملو  تھا۔لہذا اگر کوئی خلاف حس و عقل کام ان لوگوں کو نہ دکھایا جاتا تو ان پر اثر نہ ہوتا۔ اس دور میں استدلال ِعقلی کے ذریعے لوگوں کو سمجھنا عملا نا ممکن تھا۔ لیکن پیامبر اکرمﷺ کے زمانے میں بشریت بلوغ فکری تک پہنچ چکی تھی۔ لہذا آپﷺ کی بھی کوشش تھی کہ لوگوں کو خارق العادہ امور کی بجائے عقلی، منطقی اور علمی مسائل کی طرف متوجہ کریں ۔ لوگوں کو عجائب و غرائب میں محو کرنے کی بجائے حقائق اور واقعیات کی طرف دعوت دیں۔ لہذا آپ ﷺ کی دعوت میں ہم دیکھتے ہیں کہ عقلی اور تجربی  استدلال کے علاوہ تاریخی حقائق سے بھی استفادہ کیا جاتا ہے۔ جب لوگ آپ سے خارق العادہ کاموں یا معجزات کا مطالبہ کرتے تو آپﷺ حکم خدا کے تحت استقامت کے ساتھ کام لیتے گویا اس طرح کے کاموں کی توقع نہیں رکھی جانی چاہیے۔ آپﷺ اظہار عجز کے انداز میں فرماتے: میں تو ایک رسول اور بشر ہوں۔(سُبْحانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلاَّ بَشَراً رَسُولاً)

پس  ان حضرات کے نزدیک قرآن کا معجزہ ہونا خود اسی بات میں پوشیدہ ہے کہ  پیامبر اکرمﷺ اس قوم کے لیے ایک کتاب لے آتے ہیں جس قوم میں لکھنے پڑھنے کا کوئی رواج ہی نہ تھا اور پھر اس کتاب کے مندرجات کے ذریعے اپنی باتوں کی حقانیت کا اثبات کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک آپﷺ کا معجزہ اگرچہ غیر بشری امور میں سے نہیں ہے، لیکن یہ کام خود ایک غیر بشری اور غیر معمولی  کام ہے۔اس عرب جاہلیت کے معاشرے میں کوئی کتاب لانا، قلم کی اور لکھنے کی قسم کھانا(ن وَالْقَلَمِ وَ ما يَسْطُرُونَ) اور لوگوں کے اذہان کو عجائب و غرائب سے عقلی اور منطقی امور کی طرف مبذول کرنا خود سب سے بڑا معجزہ ہے۔ باطنی تجربہ (جیسے وحی اور دوسرے خارق العادہ امور) جس قدر بھی غیر معمولی  اور غیر متعارف ہوں، ان کی طرف ایک مکمل طبیعی تجربے کی نگاہ سے دیکھاجانا چاہیے۔اور جس طرح سے دوسرے بشری تجربی امور کے بارے میں ہم بحث کرتے ہیں ان کے بارے میں بھی بحث اور تحلیل کی جانی چاہیے۔

 

مطلب کی تحقیق:

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ پیامبر اکرمﷺ کا معجزہ قرآن میں منحصر نہیں تھا۔ خود قرآن مجید نے سورہ اسراء ، سورہ تحریم اور سورہ قمر  کے شروع میں آپﷺ کے تین اہم خارق العادہ معجزات(اسراء اور معراج، غیب کا علم اور شق قمر) کی طرف اشارہ کیا ہے۔

یہ بات کہ قرآن کا معجزہ ہونا سابقہ انبیاء کے معجزےسے فرق کرتا ہے اس لحاظ سے درست نہیں کہ خود قرآنی آیات (آیات تحدی) کے مطابق قرآن بھی سابقہ معجزات کی طرح خارق العادہ ہے اور عام بشر کی توان سے خارج ہے۔

اگر قرآن کا معجزہ صرف یہ ہو کہ اس کتاب نے دلیل او رمنطق کے ذریعے بات کی ہے اور کتاب کی شکل میں اس نے ظہور کیا ہے پھر ان آیات کا کیا مطلب ہے جن میں کہا گیا ہے کہ اگر انسان اور جن مل کر بھی اس کی مثل لانے کی کوشش کریں تب بھی اس جیسی کتاب نہیں لا سکتے اگرچہ اس کام میں وہ ایک دوسرے کی مدد کریں۔ یا جہاں کہا گیا ہے کہ اگر یہ کتاب اللہ کے علاوہ کسی عام انسان کی ہوتی تب اس کے اندر تم بہت زیادہ اختلاف پاتے۔

کیا سابقہ انبیاء  کے معجزات کا خارق العادہ ہونا اس معنی میں نہیں تھا کہ عام بشر اس کی مثل لانے سے عاجز تھے؟ پس پھر قرآن بھی اس طرح ہے۔

شایدیہ  روشن فکر حضرات  معجزہ اور اس کے ہدف کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتے تھےاور نہ ہی انہیں قرآن کے اعجاز اور اس کی خصوصیات کا علم تھا۔ لہذا سابقہ انبیاء کے معجزات کو تو خارق العادہ مانتے ہیں لیکن ساتھ میں ان کو عجائب وغرائب سے تشبیہ دیتے ہیں۔ گویا سابقہ انبیاء لوگوں کو اپنی حقانیت ثابت نہیں کرتے تھے، بلکہ ان خارق العادہ امور کے ذریعے کم فہم لوگوں کو گھیر لیتے تھے۔ انبیاء کے حوالے سے ایسا تصور بالکل غلط قسم کا تصور ہے۔

اور پھر قرآن کو اس حوالے سے معجزہ سمجھنا کہ ایک ایسے معاشرے میں کتاب  کی شکل میں آیا ہے جس میں لکھنے پڑھنے کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ یہ تصور بھی مکمل طور پر غلط ہے اور  قرآن کی آیات، روایات، تاریخی حقائق اور عقلی دلائل کے بالکل خلاف ہے۔

معجزہ جس صوت میں بھی ظاہر ہو کسی پیامبر کی نبوت کی سچائی کی دلیل کے طور پر ظاہر ہوتا ہے اور اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ اس نبی کا عالمِ غیب اور خدا سے رابطہ ہے۔ اس لحاظ سے قرآن اور دوسرے معجزوں میں کوئی فرق نہیں۔ معجزہ در حقیقت ایک برہانی اور عقلی دلیل ہے اور اس ذریعے سے نبی کی نبوت ثابت کر رہا ہوتا ہے۔ قرآن مجید بھی ایک خارق العادہ امر ہے اور آخری رسولﷺ کی نبوت کی سچائی کی دلیل ہے۔

اور جن موارد میں کفار نے رسول خداﷺ سے معجزے کا مطالبہ کیا اور آپﷺ نے انکار کیا وہاں بات کچھ اورتھی۔ وہ لوگ اگر سچے ہوتے اور ان کا مطالبہ اگر صحیح ہوتا تب ان کے سامنے قرآن کا معجزہ موجود تھا، اسے دیکھ کر ہی ایمان لے آتے۔ لیکن وہ لوگ در حقیقت ایمان لانے کی بجائے بہانہ بازی کر رہے تھےاور اس ذریعے سے رسول اکرمﷺ کو تنگ کر رہے تھے۔ مثلا کبھی کہہ دیتے اگرسچے ہو تو  خدا اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لے آئیں۔ (اسراء:92) کبھی کہہ دیتے اگر آپ سچے ہیں تو آسمان سے ہم پر عذاب نازل کروا دیں۔(شعراء:4، انعام:37)۔ کبھی کہہ دیتے آسمان ہم پر نازل کر دیں۔(اسراء:92) اور کبھی مطالبہ کرتے کہ ان کے لیے انگور اور کھجور کے باغات اور جواہرات نازل کروا دیں۔ (اسراء:91، 93) یا کبھی مطالبہ کرتے ان کی زمینوں میں چشمہ جاری کروا دیں۔(اسراء:90)

ان مطالبات میں سے بعض وہ تھےجن کا عملی طور پر تحقق نا ممکن تھا جیسے اللہ تعالی کا سامنے حاضر ہونا، بعض مطالبات وہ  تھے جن سے اختیارکا عنصر ختم ہوجاتا تھا اور اللہ تعالی کی مشیئت یہ نہیں ہے کہ کسی کو جبری مسلمان بنایا جائے۔ اور بعض مطالبات وہ تھے جن میں ایمان کے لیے ذاتی منافع اور آسائش کا مطالبہ کیا گیا تھا اور یہ چیز بھی ایمان کے ساتھ سازگار نہیں ہے۔ اور یہ بات بھی قرینِ عقل نہیں ہے کہ نبی ہر کس وناکس کے ہر قسم کے مطالبے پورا کرتا پھرے، چونکہ اگر ایسا ہوا تو ہر دوسرا بندہ کوئی فرمائش لے کر آسکتا ہے۔ لہذا بعض موارد میں معجزہ لانے سے انکار کی وجہ یہ ہے۔قرآن نے ان موارد میں اکثر یہ تذکر بھی دیا ہے کہ بالفرض ہم ان کے مطالبات منظور  کر لیتے تب بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے۔(انعام:109، حجر:14، 15)

 

(استفادہ از استاد مصباح یزدی، کتاب"قرآن شناسی"، تلخیص وترجمہ: سید عباس حسینی)

(نوٹ: جو کچھ اس مضمون میں لکھا گیا ہے مترجم کا فہم ہے۔  کسی بھی مطلب کی نسبت استاد مصباح کی طرف دینے سے پہلے اصل کتاب دیکھ لی جائے۔)


ٹیگس: مصباح یزدی, اعجاز قرآن
+ لکھاری عباس حسینی در 4 Jun 2018 و ساعت 3:26 PM |

اعجاز قرآن کی دلالت

کیا اعجازقرآن سے صرف پیامبر اکرمﷺ کی نبوت ثابت ہوتی ہے؟

یا اس سے بڑھ کر مزید حقائق بھی اس ذریعے سے ثابت کر سکتے ہیں؟

 

عام طور پر کسی بھی معجزے کے ذریعے اس نبی کی نبوت کی حقانیت ثابت ہوتی ہے جس کے ہاتھ سے یہ معجزہ صادر ہواہے۔ پس قرآن کریم کے معجزہ ہونے کی صورت میں پیامبر اکرمﷺ کی نبوت ثابت ہو جاتی ہے۔ لیکن کیا معجزے کی دلالت صرف اتنی ہے یا اس سے بڑھ کربھی کچھ ہے؟

اس حوالے سے  علم کلام کے ماہرین خصوصا مسیحی علماء یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ ہم اعجا زکے ذریعے نبی کی نبوت کے علاوہ  خدا کا وجود، انبیاء کی عصمت، وحی کے مندرجات کی حقیقت اور اس جیسے بہت سارے مسائل بھی ثابت کر سکتے ہیں۔البتہ توجہ رہے کہ اس طرح کے مسائل کے اثبات کے لیے جو دلیلیں دی جائیں گی ان میں ایک مقدمہ اعجاز والا ہوگااور ساتھ میں دوسرا مقدمہ بھی اضافہ کرنا پڑے گا۔ صرف اعجاز سے ان باتوں کو نتیجہ نکالنا ممکن نہیں۔

مثلا قرآن مجید کی اس آیت میں دقت کیجیے:

 (أَمْ يَقُولُونَ افْتَراهُ قُلْ فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِثْلِهِ مُفْتَرَياتٍ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صادِقِينَ فَإِلَّمْ يَسْتَجِيبُوا لَكُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّما أُنْزِلَ بِعِلْمِ اللَّهِ وَ أَنْ لا إِلهَ إِلاَّ هُوَ فَهَلْ أَنْتُمْ مُسْلِمُونَ)

اس آیت میں اعجاز قرآن سے دو باتیں نتیجہ نکالی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ اس کلام کا منشا علم الہی ہے۔ اور دوسری یہ کہ خدا کا کوئی شریک نہیں یعنی توحید۔

 

قرآن کا منشا علم الہی:

اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن کا معجزہ ہونے سےیہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اس کا منبع اور منشا علم ازلی  اور الہی ہے۔ چونکہ اگر اس کا منبع کوئی بشری علم ہوتا توکسی بھی بشر کے لیے  اس جیسی کتاب کا لانا ممکن ہوتا۔ لیکن مشرکین کی تمام تر کوششوں کے باوجود اور ہر ممکن طریقے سے مدد حاصل کرنے کے بعد بھی اس جیسی دس سورتیں لانے سے ان کا عاجز ہونا اس بات کی نشانی ہے کہ اس کا منبع بشری نہیں ہے۔ پس قرآن کا منبع خدا کا خاص علم ہے۔

 

اعجاز قرآن اور توحید

قرآن نے تمام انسانوں کو چیلنج دیا ہے کہ اس جیسی کتاب لانے میں تم جس کسی کی بھی چاہو مدد لے سکتے ہو۔ جنوں سے لے کر غیر مرئی مخلوقات اور تمہارے بنائے خدا تک سب کو مدد کے لیے بلا سکتے ہو تاکہ اس جیسی سورت لا سکو۔ دوسری طرف سے قرآن نے ہر قسم کے شرک اوربت  پرستی کی سختی سے مخالفت کی ہے۔ اب اگر اللہ تعالی کے علاوہ، کوئی اور خدا بھی ہوتا تو وہ قرآن کی مثل لانے میں مشرکین کی ضرور مدد کرتا، تاکہ بت پرستی کے آئین کی حفاظت ہوتی۔ اس طرح سے ان بتوں(خدا کے شریک) کی قدرت اور ربوبیت بھی ان کے ماننے والوں کے لیے ثابت ہوجاتی۔ پس اگر ان خداؤں نے ان مشکل اور بحرانی حالات میں اپنے ماننے والوں کی مدد نہیں کی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سب باطل خدائیں ہیں اور بت پرستی کا آئین باطل ہے۔ اس بات کا نتیجہ یہی ہے کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی خدا اور معبود نہیں، اور یہی توحید ہے۔

مزید یہ کہ جب مشرکین اس قرآن کی مثل لانے سے عاجز رہے،  ان کے بنائے ہوئے خدا بھی ان کی مدد نہیں کر سکے تو قرآن کا معجزہ ثابت ہو جاتا ہے۔ قرآن کے اعجاز کے اثبات کے ساتھ ہی اس کے الہی ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے تمام مندرجات کی حقانیت بھی ثابت ہوجاتی ہے۔ اور قرآن کی اہم ترین بلکہ بنیادی ترین تعلیم توحید ہی ہے۔ پس توحید بھی اس طرح سے ثابت ہوجاتی ہے۔

اس طرح سے جب قرآن کی حقانیت ثابت ہوتی ہے تو  نہ صرف توحید بلکہ اس میں مذکور تمام تعلیمات خود بخود ثابت ہوجاتی ہیں۔مثلا قرآن کی ایک اہم تعلیم معاد بھی ہے۔ قرآن کی حقانیت معاد کی حقانیت پر بھی دلیل ہے۔ شاید اسی لیے سورہ  بقرہ کی اس آیت  (وَ إِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنا عَلى عَبْدِنا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَ ادْعُوا شُهَداءَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صادِقِينَ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا وَ لَنْ تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَ الْحِجارَةُ أُعِدَّتْ لِلْكافِرِينَ) میں اعجاز قرآن اور دوزخ کے عذاب کو آپس میں مربوط کیا گیا ہے۔

اسی طرح سے قرآن کے اعجاز سے خداوند متعال کی مختلف صفات کو بھی بطور نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں۔ مثلا یہ کہ اس کلام کا خالق انتہائی عالم، قادر، حکیم اور عظیم ہے۔وغیرہ۔

 

(استفادہ از استاد مصباح یزدی، کتاب"قرآن شناسی"، تلخیص وترجمہ: سید عباس حسینی)

(نوٹ: جو کچھ اس مضمون میں لکھا گیا ہے مترجم کا فہم ہے۔  کسی بھی مطلب کی نسبت استاد مصباح کی طرف دینے سے پہلے اصل کتاب دیکھ لی جائے۔)


ٹیگس: مصباح یزدی, اعجاز قرآن
+ لکھاری عباس حسینی در 2 Jun 2018 و ساعت 4:14 PM |

قرآن کا اعجاز اور اس کا نصاب

قرآن کا اعجاز مختلف لوگوں کے لیے کیسے ثابت ہوگا؟

قرآن کی کمترین مقدار کونسی ہے جسے معجزہ کہا جا سکے؟

 

قرآن کا اعجاز (معجزہ ہونا) پیامبر اکرمﷺ، اہل فن  حضرات اور عام لوگوں کے لیے مختلف طریقوں سے ثابت ہے۔ آپﷺ چونکہ قرآن کو علم حضوری کے ذریعے دریافت کرتے تھے، لہذا اس کے اعجاز کو بھی علم حضوری کے ذریعے درک کرتے تھے۔ جو اہل فن حضرات ہیں وہ قرآن میں اور اس کی خصوصیات میں غور و فکر کے ذریعے اور اس بات سے اعجاز کو درک کر لیتے ہیں کہ اس جیسی کتاب کا لانا ممکن نہیں۔ جبکہ عام عوام ، اہل فن حضرات کی گواہی کے ذریعے اور اس بات سے کہ کوئی بھی اس کی مثال لانے میں کامیاب نہیں رہا،  قرآن کے معجزے کو درک کر لیتے ہیں۔پس ضروری نہیں کہ قرآن کا معجزہ تمام لوگوں کے لیے ایک ہی راستے سے اور بغیر واسطے کے ثابت ہو۔

 

چیلنج کے انداز:

قرآن نے تحدی(چیلنج) کے وقت مختلف طریقوں سے لوگوں کو چیلنج دیا ہے۔ ایک دفعہ کہا قرآن کی طرح ایک اور قرآن لائیں۔(‏أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ‏ هذَا الْقُرْآنِ)  دوسری دفعہ کہا اس جیسا کلام لائیں۔(فَلْيَأْتُوا بِحَديثٍ‏ مِثْلِهِ)پھر کہا گیا اس جیسی ایک سورت لائیں۔(فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِثْلِهِ) اور کہاگیا  اس جیسی دس سورتیں لائیں۔(فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِثْلِهِ)

یہاں سوال یہ ہے کہ قرآن نے اپنے معجزہ ہونے میں کیا کسی مقدار کا لحاظ رکھا ہے؟ وہ کمترین مقدار کونسی ہے جس کو معجزہ کہا جا سکے؟ اس حوالے سے علماء کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ قرآن کا ہر سورہ الگ سے معجزہ ہے۔ اسی طرح اگر ایک سورے کے برابر قرآن کہیں سے بھی اٹھا لیں وہ معجزہ ہے۔ اس حوالے سے بعض نے کہا ہے کہ اگر ایک سورہ سے کمتر بھی ہو، یہاں تک کہ قرآن کی ہر آیت معجزہ ہے۔

 

قرآن لانے کا چیلنج :

لیکن یہاں یہ بات ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ قرآن کے اندر لفظ "قرآن" یا لفظ "حدیث" ان کے لغوی معنی میں استعمال ہوئے ہیں۔ پس جب قرآن کہتا ہے اس جیسا قرآن لاو تو مراد یہ ہےکہ اس جیسی پڑھی جانے والی چیز لاو۔ ایسی چیز جو جنس قرآن(پڑھے جانے والی)   ہو۔ یا جب قرآن کہتا ہے اس جیسی حدیث(بات/کلام) لاو، تو مراد یہ ہے کہ اس جیسی کوئی بات اور کلام لاو۔اگرچہ بعد میں آہستہ آہستہ قرآن کا لفظ اس کتاب کے لیے علم(نام) بن گیا ہے لیکن جس وقت یہ کتاب نازل ہوئی ہے اس وقت اس کی علمیت ثابت نہیں ہے۔ پس وہاں قرآن سے مراد یہ والا مجموعہ نہیں ہے جس میں ۱۱۴ سورتیں ہیں۔ یہ بات مزید واضح ہو جاتی ہے جب اس طرف توجہ کریں کہ جس آیت میں قرآن کی مثل لانے کی بات ہوئی ہے اس کے نزول کے وقت پورا قرآن ابھی نازل ہی نہیں ہوا تھا۔ پس یہ نا ممکن ہے کہ مخالفین سے ان آیات کی بھی مثل لانے کا مطالبہ کیا جائے جو ابھی تک نازل ہی نہیں ہوئیں۔

قرآن کا اعجاز( چاہےلفظ اور ظاہر کے لحاظ سے ہو، چاہے محتوی اور معنی کے لحاظ سے) اس خاص نظم سے وابستہ ہے جو مختلف جملوں کے درمیان پایا جاتا ہے۔ ہر چند جملے ایک خاص ہدف کو بیان کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ آیات آپس میں مربوط ہوتی ہیں اور ان کو ایک دوسرے سے جدا کرنا اور مختلف حصوں میں تقسیم کرنا جائز نہیں ہے۔ چونکہ اگر ایسا ہوا تو وہ خاص نظم اور ان آیات پر حاکم ادبی و معنوی خصوصیات ختم ہو جاتی ہیں۔ پس ان دو آیتوں(‏أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ‏ هذَا الْقُرْآنِ)(فَلْيَأْتُوا بِحَديثٍ‏ مِثْلِهِ) سے ثابت ہوتا ہے کہ اعجاز قرآن کے لیے کم از کم چند آیات کا ہونا ضروری ہے جو ادبی حوالے سے اور معنی کے لحاظ سے آپس میں مربوط ہوں۔

 

سورہ لانے کا چیلنج:

عام طور پر گمان کیا جاتا ہے کہ جہاں قرآن نے چیلنج دیتے ہوئے ایک سورہ یا دس سورتیں لانے کی بات کی ہے وہاں مراد قرآن کی ۱۱۴ سورتوں میں سے ایک سورہ یا دس سورتیں ہیں(اصطلاحی معنی مراد ہے)۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان آیتوں میں لفظ "سورہ" لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے اور اس سے مراد "فقرہ" یا "پیراگراف" ہے۔ پس یہاں سورےسے مراد وہ چند جملے ہیں جو آپس میں لفظی اور معنوی حوالے سے مربوط ہوں اور جن پر ایک خاص نظم حاکم ہو۔ اس لحاظ سے ممکن ہے ایک آیت کو بھی سورہ کہہ دیں جیسےدین (قرض) والی آیت(سورہ بقرہ:282) کہ جس میں ایک مکمل مطلب بیان ہوا ہے۔پس اس طرح ممکن ہے ایک سورے(اصطلاحی) کے اندر کئی سورتیں (لغوی بمعنای فقرہ/پیراگراف)موجود ہوں۔

اس بات کی دلیل یہ ہے کہ قرآن کے نزول کے وقت لفظ "سورہ" اسی لغوی معنی میں استعمال ہوتا تھا اور علم (اسم) نہیں بنا تھا۔ اور پھر اگر اعجاز قرآن کی کمترین مقدار ایک سورے کو (اصطلاحی معنی میں) قرار دیں تب مطلب یہ ہوگاکہ  ایک سورے سے کمتر لانا ممکن ہے۔ ہاں ایک سورہ لانا ممکن نہیں۔ اب اگر کوئی شخص سورہ بقرہ جیسی سورت کی ایک آیت کو چھوڑ کر باقی تمام آیتوں کی مثل لے آئے تب بھے اس سے کہہ سکتے ہیں کہ تم اس سورے کی مثل نہیں لاسکےہو۔یہ بات اعجاز قرآن والی آیتوں کے مخالف ہے۔ مگر یہ کہ ہم صرفہ والے قول کو مان لیں جس کے تحت اللہ تعالی ان کی ہمتوں کو چھین لیتا ہے اس لیے ان کے لیے قرآن کی  یا ایک سورے کی مثل لانا ممکن نہیں۔ لہذا بے شک باقی آیتیں لے آئے، آخری آیت لانے سے پہلے خدا ان کی ہمت چھین لیتا ہے۔ اور یہ قول ہمارے نزدیک باطل ہے۔یا یہ کہہ دیں : آج تک نقل نہیں ہوا کہ کوئی قرآن کی مثل لایا ہو۔ لیکن قرآن کا اعجاز سماع اور نقل پر موقوف نہیں ہے، بلکہ قرآن کی چیلنج آفاقی ہے اوردعوی یہ ہے کہ  نہ ماضی میں کوئی اس کی مثل لا سکا ہے اور نہ ہی مستقبل میں کوئی اس کی مثل لا سکتا ہے۔

پس سورے سے مراد ایک پیراگراف ہے جس پر خاص نظم اور ترتیب حاکم ہے اور جس کے اندر ایک مربوط مطلب بیان ہوا ہے۔ قرآن نے جہاں ایک سورہ یا دس سورتیں لانے کا چیلنج دیا ہے وہاں اس معنی کو لحاظ رکھنا ضروری ہے۔

 

(استفادہ از استاد مصباح یزدی، کتاب"قرآن شناسی"، تلخیص وترجمہ: سید عباس حسینی)

(نوٹ: جو کچھ اس مضمون میں لکھا گیا ہے مترجم کا فہم ہے۔  کسی بھی مطلب کی نسبت استاد مصباح کی طرف دینے سے پہلے اصل کتاب دیکھ لی جائے۔)


ٹیگس: مصباح یزدی, اعجاز قرآن
+ لکھاری عباس حسینی در 31 May 2018 و ساعت 4:13 PM |

قرآن کے اعجاز کا اثبات

 

قرآن کے اعجاز(معجزہ ہونے کو) اثبات کرنے کے لیے پہلے تین باتوں کو ثابت کرنا ضروری ہے۔ یہ وہ باتیں ہیں جو تمام معجزات میں مشترک ہیں۔

۱۔ پیامبر اکرمﷺ نے اس کلام کو اپنے دعوای رسالت کی سچائی کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہو اور اسے ایک خارق العادہ امر قرار دیا ہو کہ جس کا انجام خدا کی خاص عنایت اور مدد کے بغیر ممکن نہیں۔

۲۔ یہ بات ثابت ہو کہ قرآن نے جن لوگوں سے خطاب کیا ہے انہوں نے اس کلام کو سیریس طور پر لیا ہو اوراسے پڑھنے کے بعداس سے مقابلے اور  اس کی مثل لانے کی کوشش کی ہو۔

۳۔ یہ بات ثابت ہو کہ تمام تر کوششوں کے باوجود مخالفین اس کتاب جیسی کتاب نہیں لا سکے اور ان پر یہ بات واضح ہوئی ہو کہ اس کتاب کی مثل نہیں لائی جا سکتی۔ پس یہ کتاب معجزہ ہے۔

 

پہلی بات تاریخی حوالے سے  اور روایات کے مطابق بھی مسلم ہے۔اس کے علاوہ قرآنی آیات میں بھی یہ بات مطرح ہوئی ہے۔ قرآن کی تحدی(چیلنج) والی آیات میں یہ بات واضح طور پر بیان ہوئی ہے کہ قرآن پیامبر اکرمﷺ کا معجزہ ہے جو ان کی رسالت کی سچائی پر دلیل ہے۔ اور اگر کسی کو شک ہے تو اس جیسا کلام لا کر دکھائیں۔

 

دوسری بات بھی تاریخی اور حدیثی حوالے سے یقینی ہےاور قرآنی آیات نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے۔ مخالفین نے سرتوڑ کوشش کی تھی اس جیسا کلام لے آئیں۔ وہ لوگ خود اہل فصاحت و بلاغت تھے ۔ اور دوسری طرف سے اپنے دین اور آداب و رسوم کی نسبت انتہائی تعصب رکھتے تھے۔ عرب کی رعونت اور قوم پرستی بھی شہرت رکھتی ہے۔ ایسے میں قرآن نے ان کے دین اور آداب و رسوم کی مخالفت کی تھی۔ ان کو تکبر اور تعصب سے منع کیا تھا۔ ان کو ایک غافل اور نادان قوم کہہ کر خطاب کیا تھا۔ لہذا ان کی طرف سے قرآن کا مقابلہ یقینی تھا۔ اور پھر ساتھ میں قرآن نے ان کو چیلنج دے کر ان کو اس کلام کے مقابلے کی ترغیب دی تھی۔قرآن نے پہلے سخت تر کام(پورے قرآن کی مثل لانے) کا چیلنج دیا   اور پھر کم تر (دس سورتیں اور ایک سورہ) کا بھی چیلنج دیا۔ اس حوالے سے یہ بھی چیلنج دیا کہ جس جس کو بلا سکتے ہیں اپنی مدد کے لیے بلا لیں۔ ایسے میں ان کے لیے یہ کام ضروری بن گیا تھا کہ قرآن کی یا کسی سورے کی مثل لا کر پیامبر اکرمﷺ کو (نعوذ باللہ) جھوٹا ثابت کر دیں تاکہ اسلام کا گلہ شروع میں ہی گھونٹ دیں۔

تاریخ میں ملتاہے کفار اور مخالفین نے رسول خداﷺ سے دشمنی اور مقابلے کے تمام راستے کھول لیے ہوئے تھے۔ متعدد جنگوں کے علاوہ، آپﷺ کی ذات پر پے در پے حملے، آپﷺ کو ساحر، شاعر اور اس قسم کے مختلف القاب دینا، کسی انسان پر وحی کے ممکن ہونے کا انکار، مختلف احکام شرعی کا مذاق اڑانا وغیرہ اس مخالفت کی چند شکلیں تھیں۔ پس یہ بات بھی یقینی ہے کہ انہوں نے قرآن کے چیلنج کو سیریس لے کر اس کے مقابلے کی کوشش بھی کی ہے تاکہ اس ذریعےسے اسلام کی مخالفت کا سب سے بڑا ہتھیار ان کے ہاتھ آجائے۔

 

تیسری بات میں بھی تردید ناممکن ہے۔ تاریخ  اور علوم قرآن کی کتابوں میں ملتا ہے کہ مختلف لوگوں نے قرآن کے مقابلےکی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ بہت ساروں نے اپنے عجز اور ناتوانی کا بھی اظہار کیا۔ بعض کی طرف سے جونمونے پیش کیے گئے وہ ان کی رسوائی کا سبب بن گئے۔ چونکہ لوگ جانتے تھے اس بشری کلام میں اور خالق کے کلام میں زمین سے آسمان کا فرق ہے۔ اگر کوئی بشر قرآن کی مثل لانے میں کامیاب ہوا ہوتا تب اس کا نام کفار اور مشرکین کی طرف سے تاریخ میں بڑے حروف میں لکھا ہوا ہوتا اور اس کا لکھا ہوا کلام شہرت کی بلندیوں کو چھو رہا ہوتا اور آج تک لیے تاریخ میں ثبت ہوا ہوتا۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔

 

پس یہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ ابتدا ء میں کئی گئی تین باتیں قرآن کے حوالے سے ثابت ہیں اور قرآن کا اعجاز ثابت ہےلہذا کوئی بھی عام انسان اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔

 

(استفادہ از استاد مصباح یزدی، کتاب"قرآن شناسی"، تلخیص وترجمہ: سید عباس حسینی)

(نوٹ: جو کچھ اس مقالے میں لکھا گیا ہے مترجم کا فہم ہے۔  کسی بھی مطلب کی نسبت استاد مصباح کی طرف دینے سے پہلے اصل کتاب دیکھ لی جائے۔)


ٹیگس: مصباح یزدی, اعجاز قرآن
+ لکھاری عباس حسینی در 28 May 2018 و ساعت 4:32 PM |

 قرآن کے خدا کی طرف سے ہونے کی دلیل

قرآن مجید اس بات کا دعوی کرتا ہے کہ یہ الہی کتاب ہے اور خداوند متعال کی طرف سے آخری رسول حضرت محمدمصطفیﷺ پریہ کتاب ان کی نبوت کی سچائی کے گواہ کے طور پر نازل ہوئی ہے۔سوال یہ ہے کہ اس دعوی پر کیا دلیل ہے؟ کیا کوئی بھی شخص کسی بھی کتاب کے بارے میں یہ دعوی کرے اس  کی بات مان لی جائے گی؟

اس حوالے سے خود قرآنی آیات سے جو استفادہ ہوتا ہے ان میں اپنے اس دعوی کی سچائی پر دو قسم کی دلیلیں دی گئی ہیں۔

۱ ۔ بعض آیات میں ایک قسم کی عقلی دلیل دی گئ ہے کہ یہ کتاب خدا کی طرف سے ہے۔

۲۔ بعض آیات میں سابقہ انبیاء اور آسمانی کتابوں کی بشارت نقل کی گئی ہے جن میں آخری رسول اور ان کی الہی کتاب کے حوالے سے بات کی گئی ہے۔

اگر پہلی(عقلی دلیل) تام ہو تب قرآن کا یہ دعوی تمام انسانوں پر ثابت ہوجائے گا۔ لیکن دوسری دلیل صرف ان لوگوں کے لیے مفید ہوگی جو ان سابقہ انبیاء اور کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں۔

 

عقلی دلیل:

جن آیات میں عقلی انداز میں قرآن کے الہی ہونے کی بات کی گئی ہے انہیں آیات تحدی (چیلنج) کہا جاتا ہے۔ ان آیات میں لوگوں کو اس بات کی طرف للکارا ہے کہ اگر قرآن کو الہی کتاب نہیں مانتے ہو تو اس جیسی کوئی کتاب لے آو۔ اس حوالے سےپورے قرآن کی مثل، دس سورتوں کی مثل، ایک سورے کی مثل لانے کے علاوہ کچھ دوسرے انداز میں بھی چیلنج کیا گیا ہے۔ مثلا کہا گیا ہے کہ پیامبر جیسی (امی) شخصیت سے ایک سورہ لے آو یا قرآن جیسی ہم آہنگ کتاب لے آو۔

 

قرآن کا چیلنج:

قرآن نے بعض جگہوں پر انسانوں اور جنوں کو چیلنج کیا ہے کہ اگر قرآن کے خدائی ہونے میں کوئی شک ہے تم لوگ مل کر اس جیسی کتاب لے آو۔ (قُلْ لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلى‏ أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ‏ هذَا الْقُرْآنِ لا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهيرا) (فَلْيَأْتُوا بِحَديثٍ‏ مِثْلِهِ إِنْ كانُوا صادِقينَ)

بعض جگہوں پر قرآن کے انکار کرنے والوں سے دس سورتیں اس جیسی لانے کی بات ہوئی ہے۔ (أَمْ يَقُولُونَ افْتَراهُ قُلْ فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِثْلِهِ مُفْتَرَياتٍ وَ ادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صادِقين‏)

اور پھر بعض موارد میں ایک سورہ لانے کا بھی چیلنج دیا گیا ہے۔(أَمْ يَقُولُونَ افْتَراهُ قُلْ فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِثْلِهِ وَ ادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صادِقين‏)

بعض موارد میں قرآن نے چیلنج دیا ہے کہ ایک ایسا شخص جس نے کہیں سے کوئی تعلیم حاصل کی ہو اور نہ ہی کسی مدرسے یا اسکول گیا ہو،قرآن جیسا ایک سورہ ایسے شخص سے لا کر دکھاو۔ (وَإِنْ كُنْتُمْ في‏ رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنا عَلى‏ عَبْدِنا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَ ادْعُوا شُهَداءَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صادِقينَ)

اسی طرح قرآن مجید نے اس کتاب کے اندر موجود ہم آہنگی، مربوط مطالب  اور اس کے اندر(مطالب کا) اختلاف نہ ہونے کو اس کتاب کے الہی ہونے کی دلیل قرار دی ہے۔(أَفَلا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَلَوْ كانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فيهِ اخْتِلافاً كَثيرا)  اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جو بھی بشری کتاب ہوگی اس کے مطالب کے درمیان اختلاف ضرور ہوگا۔ لہذا یہ انسانوں کے لیے چیلنج ہے کہ قرآن جیسی ہم آہنگ کتاب لے آوجس کا ہر مطلب دوسرے کی تصدیق کر رہا ہو۔

 

آیات تحدی کی ترتیب:

عام حالات کے مطابق ترتیب ایسی ہونی چاہیے کہ خداوند متعال لوگوں کو سب سے پہلے پورے قرآن کی مثل لانے کا چیلنج کرے، یہ کام نہ ہونے کی صورت میں دس سورتیں لانے کی طرف بلائیں اور یہ بھی ممکن نہ ہونے کی صورت میں ایک سورہ لانے کی بات کرے۔ اس طرح لوگوں کو سخت کام کے چیلنج  کے بعد آسان تر کام کا چیلنج دے اور یہ بھی ممکن نہ ہونے کی صورت میں اس کتاب کے الہی ہونے کا دعوی نہایت احسن انداز میں ثابت ہوگا۔اس طرح سے قرآن  لوگوں کی عاجزی اور اپنا معجزہ ثابت کر دکھائے گا۔

لیکن اس بات کو ماننے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے دو باتیں ثابت ہوں۔

پہلی یہ کہ جہاں اس کتاب نے "قرآن" یا اس "حدیث" کی مثل لانے کی بات کی ہے وہاں پورا قرآن مراد ہو۔ اور یہ بات ثابت نہیں، بلکہ وہاں وہی لغوی معنی مراد ہے۔ ایک حجم خاص جس میں قرآن کی تمام سورتیں شامل ہوں ہرگز مراد نہیں۔

دوسری یہ کہ ثابت ہو قرآن کا چیلنج واقعی طور پر اسی ترتیب سے ہے۔ لیکن قرآن مجید میں اس بات پر کوئی شاہد موجود نہیں بلکہ مفسرین اور علوم قرآن کے علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سورہ یونس جس میں ایک سورے کا چیلنج ہے سورہ ہود سے پہلے نازل ہوا ہے جس میں دس سورتوں کا چیلنج دیا گیا ہے۔ پس اس لحاظ سے  ایک سورے کا چیلنج پہلے ہے اور دس سورتوں کا بعد میں۔ اب یہاں سوال پیدا ہوا کہ لوگ ایک سورہ لانے سے عاجز ہیں تو کیوں کر اللہ تعالی ان کو دس سورتیں لانے کا چیلنج کرے گا؟ کیا اس طرح کا چیلنج عقلی طور پر درست ہے؟(یہ ایسے ہی جیسے ایک پہلوان جس کے بارے میں ثابت ہوا ہے کہ  100 کلو وزن نہیں اٹھا سکتا، اس سے کہا جائے 1000 کلو وزن اٹھا لیں۔)

اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مفسرین نے مختلف کوششیں کی ہیں۔

بعض اس بات کو تو قبول کرتے ہیں کہ سورہ یونس ، سورہ ہود سے پہلے نازل ہوا ہے، لیکن جن آیتوں میں چیلنج کا ذکر ہے ان کے حوالے سے قائل ہوئے ہیں کہ ان میں ترتیب برعکس ہے۔ یعنی سورہ یونس کی آیت بعد میں اور ہود کی پہلے نازل ہوئی ہے۔ یا یہ ہے کہ  پیامبر اکرمﷺ نےاللہ تعالی کے حکم سے تبلیغ کے وقت اسی ترتیب کو مدنظر رکھا ہے جس میں پہلے دس اور پھر ایک سورے کا چیلنج ہو۔ بعض قائل ہوئےہیں کہ جہاں ایک سورے کی بات کی ہے وہاں بات مطلق ہے اور تمام سورتوں کو شامل ہے(جیسے بقرہ وغیرہ) اور جہاں دس سورتوں کی بات ہوئی ہے وہاں دس مخصوص سورتوں کی بات کی گئی  ہے۔ وغیرہ۔

 

استاد مصباح کا نظریہ:

اگرچہ اکثر مفسرین اور علماء اس بات کو مانتے ہیں کہ پہلے مرحلے میں پورے قرآن (القرآن، حدیث) کا چیلنج دیا گیا ہے۔ لیکن ہمارے نزدیک یہ احتمال قوی ہے کہ ان آیات میں (قرآن یا حدیث سے) مراد پورا قرآن نہ ہو، بلکہ ان کا لغوی معنی مراد ہو۔ (چونکہ یہ ثابت کرنا کہ لفظ قرآن اس وقت اس کتاب کے لیے اسم علَم بن چکا تھا، انتہائی دشوار ہے۔ اور پھر اس وقت پورا قرآن نازل بھی نہیں ہوا تھا کہ اس پورے کا چیلنج دیا جا سکے۔)پس اگر یہ بات ثابت ہوتو یہ والا مورد آیات تحدی کی ترتیب سے نکل جائے گا۔ (صرف باقی دو مورد میں بات ہوگی۔)

لیکن بالفرض مشہور کی بات مان لی جائے تب کہا جا سکتا ہے کہ:

پہلے مرحلے میں قرآن کا چیلنج ہے کہ اگر اس کتاب کے الہی ہونے میں شک ہے تو اس جیسی ایک کامل کتاب لاو جس میں اس کی تمام خصوصیات موجود ہوں۔

جب اس حوالے سے لوگوں کی عاجزی ثابت ہوئی تب ان کو تخفیف اور آسانی دی گئی اور پھر کہا گیا کہ : قرآن جیسا ایک سورہ ہی لاو جس میں قرآن کے ایک سورے  کی تمام خصوصیات ہوں اور جو ہر لحاظ سے قرآنی سورتوں کی طرح ہو۔

جب اس حوالے سے بھی عاجزی اور بے بسی ثابت ہوئی تب مزید تخفیف اور آسانی دیتے ہوئے کہا گیا کہ : قرآن کی سورتوں جیسی دس سورتیں لاو، کہ ان دس سورتوں کو جب ملایا جائے تو ان میں اتنی خصوصیات ہوں جو قرآن کی ایک سورت میں ہے۔

واضح ہے کہ ایک سورت کا لانا جو تمام خصوصیات میں قرآن کی سورت جیسی ہو زیادہ مشکل اور سخت کام ہے، لیکن دس سورتوں کا لانا جن میں مجموعی طور رپر ایک قرآنی سورے کے برابر خصوصیات ہو ں نسبتا آسان کام ہے۔

آیات تحدی میں غور  اور دقت سے یہ مطلب واضح تر ہوجاتا ہے۔مثلا جہاں دس سورتیں لانے کی بات کی گئی (قُلْ فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِثْلِهِ)وہاں "مثلہ" کہا گیا،"امثالھا" نہیں کہا گیا۔ پس یہاں اسی مطلب کی طرف اشارہ ہے کہ انسانی ساختہ دس سورتیں مل کر بھی ایک سورے کی مثل اور نظیر بن سکتیں۔ یہ بات تو بہت بعید ہے کہ ان میں سے ہر ایک سورہ قرآن کی سورت کی مثل ہو اور یہ سب الگ الگ قرآنی سورتوں کے لیے  امثال بن جائیں۔

اور پھر "مفتریات" کو جمع کے ساتھ جو لایا گیا ہے اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک اپنی جگہ الگ سے خود ساختہ اور گھڑی ہوئی (مفتری) ہے، ایسا نہیں کہ کہ ان کا مجموعہ صرف خود ساختہ ہو۔ اور ان دس سورتوں کو خودساختہ(مفتری) کہنے کی وجہ شاید یہ ہو کہ بے شک جو دس سورتیں لائی جائیں ان میں سے ہر ایک میں کسی قرآنی سورت کی کوئی نہ کوئی خصوصیت ہو، لیکن چونکہ ساری خصوصیات نہیں ہیں لہذا کسی بھی قرآنی سورے کا وہ مقابلہ نہیں کرسکتی۔ پس ان سورتوں میں سے کوئی بھی خدا کا کلام نہیں ہو سکتا اس لیے خود ساختہ ہے۔ پس اس تیسرے مرحلے میں خدا نے چیلنج بہت آسان اور سادہ کیا ہے  اور کہا ہے کہ : تم جو قرآن جیسی ایک سورت نہیں لا سکتے ہو، اب قرآن سے کم تر ایک کلام لاو۔ اور وہ یہ کہ دس خود ساختہ سورتیں لاو جن میں سے کوئی بھی کسی قرآنی سورے کے برابر نہیں۔ لیکن اگر ان دس سورتوں کی خصوصیات کو ملایا جائے تو ایک قرآنی سورت کی خصوصیات کے برابر ہوجائے۔! اور یہ باقی دو مرحلوں کی نسبت آسان تر چیلنج ہے۔

 

(استفادہ از استاد مصباح یزدی، کتاب"قرآن شناسی"، تلخیص وترجمہ: سید عباس حسینی)

(نوٹ: جو کچھ اس مقالے میں لکھا گیا ہے مترجم کا فہم ہے۔  کسی بھی مطلب کی نسبت استاد مصباح کی طرف دینے سے پہلے اصل کتاب دیکھ لی جائے۔)


ٹیگس: مصباح یزدی, اعجاز قرآن
+ لکھاری عباس حسینی در 26 May 2018 و ساعت 6:41 PM |

قرآن کے نزول تدریجی کا راز

قرآن نے دو موردمیں نزول تدریجی کے راز اور حکمت کے بارے میں بات کی ہے۔ ایک دفعہ اس کا تعلق لوگوں سے ہے اور دوسری دفعہ پیامبر اکرمﷺ کے حوالے سے۔

لوگوں کی نسبت نزول تدریجی کے آثار:

(وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلى‏ مُكْثٍ‏ وَنَزَّلْناهُ تَنْزيلاً)

اس آیت میں قرآن کے نزول تدریجی کی حکمت یہ بیان ہو رہی ہے :  ہم نے قرآن کو آہستہ اور جدا جدا کر کے  نازل کیا تاکہ آپﷺ ٹھہر ٹھہر کر اسے لوگوں کو پڑھ کر سنائیں اور اسے خاص انداز میں نازل کیا۔

لیکن یہ بات واضح ہے کہ صرف ٹھہر کر سنانا اس قسم کے نزول کا اصلی ہدف نہیں ہو سکتا۔ بلکہ در حققیت وہ آثار مطلوب ہیں جو اس طرح سے پڑھ کر سنانے سے حاصل ہوتے ہیں۔

یہاں ٹھہر ٹھہر کر سنانے سے مراد یہ ہے کہ جب بھی چند آیات نازل ہوتی تھیں، آپﷺ مناسب موقع پر انہیں لوگوں تک پہنچاتے تھے۔ اس حوالے سے اجتماعی اور فردی حالات، تاریخی واقعات، مختلف شبہات اور آپ ﷺ سے کیے جانے والے سوالات  سب موثر ہوتے تھے۔ پس جب قرآنی آیات کی تلاوت زمان اور مکان کی شرائط و حالات اور فردی و اجتماعی واقعات کے تناسب سے  ہوتی تھی  تو لوگوں کے لیے اس کے سمجھنے اور متاثر ہونے کے امکانات زیادہ فراہم ہوتے تھے۔

اسی طرح یہ نکتہ بھی مد نظر رہے کہ قرآنی معارف کے درجات اور مراتب ہیں۔ اور ممکن ہے ان میں سے بعض کا سمجھنا بعض دوسری آیات کے سمجھنےاور ان پر عمل کرنے  پر موقوف ہو۔ اس وجہ سے ممکن ہے قرآنی آیات کاجدا جدا اور فاصلے کے ساتھ تلاوت ضروری ہو۔ لہذا قرآنی آیات کی وقفے وقفے سے تلاوت اس کے سمجھنے اور عمل کرنے میں معاون ہے اور اس کی فکری و روحانی اور عملی تاثیر اس سے زیادہ ہے کہ سارا قرآن ایک ہی دفعہ لوگوں کو سنایاجائے۔ اسی طرح جب انسان قرآنی تعلیمات پر عمل شروع کرتا ہے تو یہ بات بعد والی آیات کے سمجھنے اور ان پر عمل کرنے میں مددگار ہوتی ہے۔اور بعد والی آیتوں کو سمجھنے سے پہلے والی آیتوں کا فہم اور ادراک مزید بڑھ جاتا ہے۔

مطلب کی تحقیق:

مذکورہ بالا آیت میں مزید دقت سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ نزول تدریجی کے پیچھے دو حکمت پوشیدہ ہیں۔

قرآن  مجید کے ذریعے اللہ تعالی نے بشریت کی ہدایت کا ارادہ کیا ہے۔لیکن  اگر قرآن کی حققیت دیکھ لی جائے تو وہ علم الہی کا ایک مرتبہ ہے جو اِحکام اور بساطت کے مرتبے پر ہے۔ (الر كِتابٌ أُحْكِمَتْ‏ آياتُه‏) یہ ایک ایسا بلند مرتبہ ہے جس تک عام انسانوں کی رسائی ہے اور نہ ہی  اس مرتبے کا تعلق عالم مادی سے ہے۔  اور  اس تک پہنچنے کے لیے خاص قسم کی طہارت شرط ہے۔(لا يَمَسُّهُ‏ إِلاَّ الْمُطَهَّرُون‏) لہذا عام انسانوں کی ہدایت کے لیے یہ والا مرتبہ کافی نہیں چونکہ اس تک سب کی دسترسی نہیں۔

دوسری طرف سے اس مرتبے کی حقیقت اور اس کی بساطت کا تقاضہ ہے کہ جب یہ نازل ہو توا یک مرتبہ نازل ہو۔ اس میں تدریج ممکن نہیں۔ پس یہ حقیقت جب نزول دفعی کے ساتھ نازل بھی ہو تو اس سے استفادہ صرف چند لوگوں (مطھرون) کے لیے ممکن ہوگا۔ اس حقیقتِ بسیط تک نہ عام انسانوں کی رسائی ہے اور نہ ان کے لیے اس کا فہم ممکن ہے۔ اسی طرح ٹھہر ٹھہر کا پڑھنا بھی ممکن نہیں، تاکہ آہستہ آہستہ اس کو سمجھ لیں، چونکہ اس مرتبے میں کثرت بھی معنی نہیں رکھتی۔ ممکن ہے کہہ دیں کہ آیت (وَإِنَّهُ في‏ أُمِ‏ الْكِتابِ‏ لَدَيْنا لَعَلِيٌّ حَكيم‏) کا اشارہ اسی حقیقت کی طرف ہے۔

لہذا ضرورت تھی اس قرآنِ بسیط اور محکم کو مفصل اور الگ الگ حصوں میں نازل کیا جائے۔ (أُحْكِمَتْ‏ آياتُهُ ثُمَّ فُصِّلَت‏) ضرورت تھی اس کے مختلف اجزاء ہوں تاکہ لوگوں کے لیے ٹھہر ٹھہر کر اس کا پڑھنا اور سمجھنا ممکن ہو۔ اس مقصد کے لیے ضروری تھا قرآن کے اس مرتبے کو اتنا نیچے لایا جائے کہ الفاظ اور مفاہیم کا لباس پہن لے اور ایک عام انسان کے فہم کے مرتبے تک اس کو تنزل دیا جائے۔ یہ وہ مرتبہ ہے جس تک عام انسان کی بھی رسائی ہے اور ان کے لیے بھی اس کا پڑھنا، سمجھنا اور عمل کرنا بھی ممکن ہے۔

آیہ شریفہ نے نہایت لطیف انداز میں انہی دو مطالب کی طرف اشارہ کیا ہے۔(وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلى‏ مُكْثٍ‏)  پہلے فرمایا کہ ہم نے قرآن کے حصے اور اجزاء کیے، اسے سورتوں اور آیتوں کی شکل میں ڈھال دیاتاکہ آپﷺ ٹھہر ٹھہر کراسے  لوگوں کو سنائیں۔اگر ہم یہ کام نہ کرتے تب آپ کے لیے لوگوں کو سنانا ممکن نہ ہوتا۔اور پھر فرمایا کہ اس مقصد کے لیے ہم  قرآن کے مطالب کی سطح اور مرتبے کو کئی دفعہ نیچے لے آئے۔ (وَنَزَّلْناهُ تَنْزيلاً)  اور اسے ایک خاص انداز میں نازل کیا تاکہ عام لوگوں کی بھی اس تک دسترسی ہو اورا ن کے لیے بھی قابل فہم ہو۔ اسی مطلب کی طرف بعض دیگر آیات میں بھی اشارہ ہوا ہے۔(إِنَّا أَنْزَلْناهُ قُرْآناً عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُون‏)(إِنَّا جَعَلْناهُ قُرْآناً عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُون‏)

 

رسول اکرمﷺ کی نسبت نزول تدریجی کے آثار:

کفار کے سوال کے جواب میں کہ کیوں اللہ تعالی نے قرآن کو ایک مرتبہ نازل نہیں کیا اللہ تعالی کا ارشاد ہوا کہ : ہم نے اسے تدریجی طور پر نازل کیا تاکہ اس ذریعے سے آپ کے دل کو تقویت دیں اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر سنایا ہے۔ اور یہ لوگ جب بھی آپ کے پاس کوئی مثال لے کر آئیں تو ہم جواب میں آپ کو حق کی بات اور بہترین وضاحت سے نوازتے ہیں۔(وَقالَ الَّذينَ كَفَرُوا لَوْ لا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً واحِدَةً كَذلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤادَكَ وَرَتَّلْناهُ تَرْتيلاً وَلا يَأْتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلاَّ جِئْناكَ بِالْحَقِّ وَ أَحْسَنَ‏ تَفْسيرا)

یہاں پیامبر اکرمﷺ کی نسبت نزول تدریجی کی تین وجوہات بیان ہوئی ہیں:

۱۔ (لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤادَكَ)

نزول تدریجی کے ذریعے قلب پیامبر اکرمﷺ کو تقویت دی گئی ہے۔ جس طرح سے سابقہ انبیاء کے قصے آپﷺ کو اسی مقصد کے لیے سنائے گئے۔(نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنْباءِ الرُّسُلِ ما نُثَبِّتُ‏ بِهِ فُؤادَك‏) اس ذریعے سے آپ ﷺ کو مشکلات اور سختیوں کے مقابلے میں اطمئنان دلایا جاتا تھا۔قرآن کا نزول تدریجی سبب بنتا تھا کہ آپ دائمی طور پر وحی کے ذریعے عالم غیب سے متصل رہیں۔ اسی طرح سے ہر واقعے اور موقعے پر خصوصا آپ کی دعوت کی تائید اور تاکید میں آیات جب نازل ہوتی تھیں یا جب آپ کی نصرت کا وعدہ دیا جاتا تھا اور غیبی امداد یاد دلائی جاتی تھی تو یہ تمام باتیں آپﷺ کے قلب کےلیے اطمئنان اور سکون کا باعث بنتی تھیں اور مشکلات کی راہ میں آپ کے قدم مزید مضبوط ہوجاتے تھے۔

اسی طرح سے بعض نے قلب کی تقویت سے مراد یہ لیا ہے کہ نزول تدریجی کے ذریعے قرآن کے مطالب اور مفاہیم کو آپﷺ کے قلب مبارک میں  محکم اور بہتر انداز میں ثابت کیا ہے۔

۲۔( وَرَتَّلْناهُ تَرْتيلاً)

قلب پیامبر ﷺ کی تقویت کے لیے نزول تدریجی کے علاوہ تلاوت تدریجی کی بھی بات ہوئی ہے۔ یہ بات اس کام میں زیادہ ممد اور معاون ہے۔ اور دوسرا نکتہ یہ ہے کہ نزول تدریجی کی وجہ سے آیات کے درمیان جو فاصلہ آجاتاہے اس کی وجہ سے آیات کا ایک دوسرے سے رابطہ ختم نہیں ہوجاتا۔ بلکہ آیات اب بھی ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور ایک کے بعد دوسری آیت ترتیب سے پڑھی جاتی ہے۔لہذا یک کے بعد دوسری آیت (ترتیل) پڑھنے کی بات کی گئی۔

۳۔ (وَلا يَأْتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلاَّ جِئْناكَ بِالْحَقِّ وَ أَحْسَنَ‏ تَفْسيرا)

اس آیت میں نزول تدریجی کی ایک اور حکمت بیان ہوئی ہے۔ آپﷺ کی رسالت کے دوران مختلف قسم کے حادثات اور واقعات پیش آتے رہتے تھے جن کے بارے میں مخالفین بھی سو طرح کی باتیں کرتے تھے۔ اللہ تعالی ہر موقع پر قرآن کی بعض آیات نازل کر کے اس مسئلے کی حقیقت بھی بیان کرتا تھا اور بہترین انداز میں اس مسئلے کی وضاحت بھی بیان کرتا  تھا۔ اور ساتھ میں کافروں کی بات اور دلیل کو رد بھی کرتا تھا۔یہ کام نزول تدریجی کے ذریعےبہتر انداز میں انجام پاتا ہے۔

 

(استفادہ از استاد مصباح یزدی، کتاب"قرآن شناسی"، تلخیص وترجمہ: سید عباس حسینی)

(نوٹ: جو کچھ اس مقالے میں لکھا گیا ہے مترجم کا فہم ہے۔  کسی بھی مطلب کی نسبت استاد مصباح کی طرف دینے سے پہلے اصل کتاب دیکھ لی جائے۔)


ٹیگس: مصباح یزدی, نزول قرآن
+ لکھاری عباس حسینی در 23 May 2018 و ساعت 4:28 PM |

قرآن کے نزول کی اقسام

نزول دفعی اور تدریجی میں کیا فرق ہے؟

 

نزول کی اقسام

قرآن دو قسم کے نزول رکھتا ہے۔ دفعی اور تدریجی۔

بعض آیات سے استفادہ ہوتا ہے کہ قرآن ایک خاص زمان میں ایک ہی دفعہ نازل ہوا تھا۔ جبکہ بعض دوسری آیات سے استفادہ ہوتا ہے کہ قرآن زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ تدریجی طور پر نازل ہوتا رہا ہے۔

نزول دفعی:

(شَهْرُ رَمَضانَ‏ الَّذي أُنْزِلَ فيهِ الْقُرْآن‏) (إِنَّا أَنْزَلْناهُ في‏ لَيْلَةٍ مُبارَكَة) (إِنَّا أَنْزَلْناهُ في‏ لَيْلَةِ الْقَدْر)

ان آیات سے یہ استفادہ ہوتاہے کہ پورا قرآن مجید ماہ مبارک رمضان کی مبارک شب یعنی شب قدر میں ایک دفعہ نازل ہواہے۔

نزول تدریجی:

جبکہ دوسری طرف بعض دیگر آیات سے استفادہ ہوتا ہے کہ قرآن کا نزول تدریجی تھی ۔جیسے قرآن نے کفار کا یہ اعتراض نقل کیا ہے کہ کیوں قرآن مجید ایک دفعہ نازل نہیں ہوا۔ (وَ قالَ الَّذينَ كَفَرُوا لَوْ لا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً واحِدَةً) اور جواب میں فرمایا کہ تدریجی طور پر اس لیے نازل کیاگیا  تاکہ اس ذریعے سے آپ کے قلب کو تقویت دیں۔ (كَذلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤادَك‏)

قرآن کے نزول کا یہ سلسلہ آپ کی حیات طیبہ کے آخری ۲۳ سال میں جاری رہا  (اور مختلف واقعات کی مناسبت سے آیتیں نازل ہوتی تھیں کہ ان واقعات کو اسباب نزول کہا جاتاہے۔)اس حوالے سے تمام علماء کا اتفاق بھی ہے اور بہت ساری روایات بھی اس پر شاہد ہیں۔

پس کیا ان دو طرح کی آیتوں کو کیسے آپس میں جمع کریں؟ آخر کار قرآن ایک دفعہ نازل ہوا تھا یا تدریجی طور پر ۲۳ سال میں؟

 

آیات کے درمیان جمع:

مفسرین نے ان آیات کو مختلف طریقوں سے جمع کیا ہے۔ چونکہ قرآن کا نزول تدریجی قطعی اور یقینی ہے لہذا نزول دفعی کے حوالے سے مختلف آراء اور تاویلیں پیش کی گئی ہیں۔ مجموعی طور پر چار آراء یہاں پیش کیے جاتے ہیں:

۱۔ نزول دفعی پورے قرآن کا نہیں بلکہ قرآن کے ایک حصے کا ہوا ہے۔ مثلا سورہ حمد سارا ایک دفعہ نازل ہوا ہے۔ ان میں سے بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ پورے سال کے اندر جتنی سورتوں اور آیات نےنازل ہونا تھا وہ سب ایک دفعہ اسی سال کے رمضان کی شب قدر میں نازل ہوتا تھا اور پھر بعد میں سال بھر کے اندر ہر واقعے اور مناسبت کے لحاظ سے دوبارہ بھی نازل ہوتا تھا۔ پس یہاں رمضان سے مراد کوئی خاص رمضان نہیں، اور شب قدر سے مراد بھی ایک خاص شب نہیں، بلکہ قرآن کے نزول کی مدت کے دوران آنے والے تمام رمضان اور تمام شبہای قدر ہیں۔

یہ احتمال نزول دفعی والی آیات کے برخلاف ہے چونکہ ان آیات میں کل قرآن کے ایک رات کے اندر نازل ہونے کی بات کی گئی ہے، نہ کسی خاص حصے کی۔اس کے علاوہ اس بات پر بھی کوئی دلیل نہیں کہ کچھ خاص حصے ایک دفعہ نازل ہوتے تھے۔ روایات بھی اس کے خلاف ہیں۔

۲۔ بعض قائل ہوئے ہیں کہ قرآن کا صرف ایک ہی نزول ہے اور وہ ہے تدریجی۔ جن آیات میں بظاہر نزول دفعی کی بات ہوئی ہے وہاں زمان کی بات نہیں کی گئی بلکہ شان اور فضیلت بیان کی گئی ہے۔ مثلا جب کہا گیا کہ  (إِنَّا أَنْزَلْناهُ في‏ لَيْلَةِ الْقَدْر) اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ ہم نے قرآن کو شب قدرمیں نازل کیا، بلکہ مراد یہ ہے کہ ہم نے قرآن(سورہ قدر) کو شب قدر کی فضیلت میں نازل کیا۔

یہ قول بھی ظاہر قرآن کے مخالف ہے چونکہ نزول دفعی والی آیات میں کل قرآن کی بات کی گئی ہے۔پس فضیلت میں نازل ہونے کی بات تب ٹھیک ہوتی جب سارا قرآن یا قرآن کا اکثر حصہ شب قدر کی فضیلت بیان کر رہا ہوتا۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔

۳۔تیسرے قول کے مطابق قرآن دو قسم کے نزول رکھتا ہے۔ ایک نزول دفعی ہے جو شب قدر میں اللہ تعالی کی طرف سے یا لوح محفوظ سے ، جبریل کے ذریعےچوتھے آسمان میں  بیت المعمور پر موجود خدا کے سفیروں اور نیک مخلوقات پر کل قرآن نازل ہوا۔ اور پھر بیت المعمور سے آہستہ آہستہ ۲۳ سال کے عرصے میں پیامبر اکرمﷺ پر نازل ہوتا رہا۔ پس نزول دفعی کا تعلق بیت المعمور سے اور نزول تدریجی کا تعلق قلب پیامبر اکرمﷺ سے ہے۔اس مطلب کی طرف بہت ساری روایات میں اشارہ  ہوا ہے۔

۴۔ علامہ طباطبائی آیات قرآنی سے استفادہ کرتے ہوئے قرآن کے دو اور قسم کے نزول دفعی اور تدریجی کے قائل ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق قرآن کے دو وجود ہیں۔ ایک وجود بسیط ہے جس میں کثرت، حصے، اجزاء وغیرہ کا تصور نہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جو لوح محفوظ میں ہے اور دفعی صورت میں شب قدر کے اندر قلب پیامبر اکرمﷺ پر نازل ہوا ہے۔ البتہ اس کی حقیقت کو ہم درک نہیں کر سکتے ۔ اتنا جانتے ہیں کہ الفاظ اور مفاہیم کے سنخ سے نہیں تھا بلکہ نورانی حقیقت تھی جو آپﷺ کے قلب مبارک پر تجلی کرگئی۔

اور قرآن کا ایک تفصیلی وجود ہے جو اجزاء رکھتا ہے۔ یہ وجود ۲۳ سال کے عرصے میں آپﷺ پر نازل ہوتا رہا۔

 

علامہ مصباح کا نظریہ:

تیسرے اور چوتھے قول کو آپس میں جمع کر سکتے ہیں۔ مثلا تیسرے قول میں جہاں بیت المعمور پر نازل ہونے کی بات کی گئی ہے وہاں وہی وجودِ بسیط ہی مراد ہوگا جس کی بات علامہ طباطبائی نے کی ہے۔ اسی طرح جب علامہ طباطبائی بیت معمور کی بجائے قلب پیامبر اکرمﷺ کی بات کرتے ہیں تو اس حوالے سے کہہ سکتے ہیں کہ بیت المعمور وجود کا ایک ایسا مرتبہ ہے جس تک عروج کے ذریعے آپﷺ قرآن کی حقیقت ِ بسیط کو دریافت کر سکتے ہیں۔ اس بات پر موید وہ آیت ہے جس میں کہا گیا ہے کہ قرآن کے حقیقی وجود کو صرف پاکیزہ(معصوم) افراد درک کر سکتے ہیں۔(لا يَمَسُّهُ‏ إِلاَّ الْمُطَهَّرُون‏)  اسی طرح یہ بھی ممکن ہے بیت معمور سے مراد قلب پیامبر اکرمﷺ ہو۔ اور اگر ایسا ہو تو نزول تدریجی سے مراد یہ ہوگا کہ قرآن کی حقیقتِ بسیط ۲۳ سال کے عرصے کے دوران آپ کے قلب سے لسان پر جاری ہوتی رہی۔

پس دفعی اور تدریجی نزول کا تعلق پورے قرآن مجید سے ہے(بعض حصوں سے خاص نہیں)۔ ایک دفعہ قرآن دفعی طورپر اور ایک دفعہ تدریجی طور پر نازل ہوا ہے۔

 

(استفادہ از استاد مصباح یزدی، کتاب"قرآن شناسی"، تلخیص وترجمہ: سید عباس حسینی)

(نوٹ: جو کچھ اس مقالے میں لکھا گیا ہے مترجم کا فہم ہے۔  کسی بھی مطلب کی نسبت استاد مصباح کی طرف دینے سے پہلے اصل کتاب دیکھ لی جائے۔)


ٹیگس: مصباح یزدی, نزول قرآن
+ لکھاری عباس حسینی در 22 May 2018 و ساعت 4:49 PM |

قرآن کے نزول کا معنی کیا ہے؟

 

نزول کا معنی

نزول لغت میں کسی چیز کے نیچے آنے کو کہا جاتا ہے اور شروع میں اس کا اطلاق اس پر ہوتا تھا کہ ایک مادی چیز کسی بلند جگہے سے نیچے منتقل ہو۔ قرآن میں بھی بعض مقامات پر اسی مادی معنی میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔  لیکن بعد میں یہ لفظ اعتباری نزول(جیسےکوئی شخص ایک بالاتر منصب اور مقام سے اتر کر نیچے والے مقام پر آئے) اور معنوی نزول (جیسے کوئی چیز اپنے وجود کے مرتبے سے کم تر مرتبے پر آئے) کےلیے بھی استعمال ہونے لگا۔

قرآن کا نزول  تیسری قسم سے ہے یعنی معنوی ہے۔

 

 قرآن کے حوالے سے نزول مادی معنی نہیں رکھتا۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ کلام الہی ایک لکھی ہوئی عام کتاب کی شکل میں آسمان سے نازل ہوا ہو۔ چونکہ اس کتاب کا نازل کرنے والا خدا کی ذات ہے، جو چیز نازل ہو رہی ہے یعنی کلام الہی وہ علم الہی کا ایک مرتبہ ہے، اس نزول میں جو واسطہ بن رہے ہیں یعنی فرشتے سب غیر مادی اور مجرد ہیں۔ اسی طرح قرآن قلب پیامبر اکرمﷺ پر نازل ہوا ہے اور اس سے مراد بھی قلب مادی نہیں ہے۔ پس قرآن کا نزول مادی ہرگز نہیں ہو سکتا۔

نزول اعتباری بھی یہاں ممکن نہیں ہے۔ چونکہ قرآن کے نزول کے ذریعے اس کے مقام اور مرتبے میں کمی نہیں کی گئی۔ اسی طرح قرآن کے نزول کے جو اسباب ہیں وہ بھی اعتباری نہیں ہیں۔

پس قرآن کا نزول حقیقی اور معنوی ہے۔ یہ کتاب ایک اور وجود رکھتا ہے جو اس کا حقیقی وجود ہے  اور بہت بلند ہے۔ وہ وجودعلم الہی کا ایک مرتبہ ہے۔ خدا نے جب چاہا کہ اس مرتبے کو بشر کے اختیار میں قرار دے اورعام انسان کے لیے اس کا سمجھنا ممکن ہو اس وجود کے مراتب کو کئی دفعہ نیچے لایا یہاں تک کہ الفاظ اور عبارت کی شکل میں اس نے تجلی کی۔ قرآن کا یہ مرتبہ جو الفاظ کی شکل میں ہے اس حقیقی اور "عند اللہی"   مرتبے سے بہت نیچے ہے۔ قرآن خدا کی ذات اور صفات کی تجلی ہے جو الفاظ اور عبارت کی شکل میں ہے۔  یہی قرآن کے نزول کا معنی ہے۔

 

(استفادہ از استاد مصباح یزدی، کتاب"قرآن شناسی"، تلخیص وترجمہ: سید عباس حسینی)

(نوٹ: جو کچھ اس مقالے میں لکھا گیا ہے مترجم کا فہم ہے۔  کسی بھی مطلب کی نسبت استاد مصباح کی طرف دینے سے پہلے اصل کتاب دیکھ لی جائے۔)


ٹیگس: مصباح یزدی, نزول قرآن
+ لکھاری عباس حسینی در 22 May 2018 و ساعت 4:30 PM |

قرآن عربی زبان میں کیوں نازل کیا گیا؟

 

ہم سب جانتے ہیں کہ قرآن مجید کو اللہ تعالی نے عربی زبان میں نازل کیا ہے۔ خود قرآن بھی اس بات کی تاکید کرتا ہے کہ اس کی زبان عربی مبین ہے۔ (نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِينٍ)۔ قرآن کا عربی ہونے سے مراد کیا ہے؟اور  اس میں کیا راز ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے اس کلام کے لیے عربی زبان کو ہی اختیار کیا ہے؟  

 

قرآن کا عربی ہونے سے مراد:

اس حوالے سے مختلف آیتیں آئی ہیں۔ بعض میں کہا گیا ہے کہ قرآن کو عربی زبان میں لکھا گیا ہے  یا نازل کیا گیا ہے۔(إِنَّا أَنْزَلْناهُ قُرْآناً عَرَبِيًّا)۔

دوسری بعض آیات میں اس بات پر تاکید کی گئی ہے کہ اس کی زبان عجمی نہیں ہے۔(وَ لَوْ جَعَلْناهُ قُرْآناً أَعْجَمِيًّا لَقالُوا لَوْ لا فُصِّلَتْ آياتُهُ)

اب یہاں عربی اور عجمی سے کیا مراد ہے؟ دو احتمال مطرح ہیں۔ عربی سے مراد یا عربی زبان ہے یا وہ شخص ہے جس کی زبان عربی ہے اور عجمی سے مراد غیر عربی زبان یا شخص ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ عربی سے مراد فصیح کلام یا شخص ہے اور عجمی سے مراد غیر فصیح کلام یا شخص۔پس اس دوسرے احتمال کے مطابق قرآن کو عربی میں نازل کرنے سے مراد یہ ہے کہ فصاحت و بلاغت کے ساتھ نازل کیا ہے۔

بعض دیگر آیات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ اللہ تعالی نے ہر رسول کو اس کی قوم کی زبان کے ساتھ بھیجا ہے۔(وَما أَرْسَلْنا مِنْ رَسُولٍ إِلاَّ بِلِسانِ‏ قَوْمِهِ‏ لِيُبَيِّنَ لَهُم‏) یہاں اس بات کی بھی تاکید کی گئی ہے کہ قرآن کو پیامبر اکرمﷺ کی زبان کے ذریعے آسان بنا دیا گیا ہے۔

 

قرآن کی زبان عربی کیوں؟

پیامبر اکرم ﷺکی اپنی زبان عربی تھی اور جس قوم میں آپ مبعوث ہوئے اس کی زبان بھی عربی تھی۔ لہذا یہ فطری سی بات ہے کہ اس کتاب نے سب سے پہلے جن سے خطاب کرنا ہے انہی کی زبان میں نازل ہو۔ ہر خطیب اور مبلغ اپنے مخاطب کی زبان میں اپنے مطالب بیان کرتا ہے تاکہ وہ لوگ اس کی باتوں  کو سمجھ سکیں۔ اللہ تعالی نے بھی اپنے رسولوں اور کتابوں کو بھیجتے وقت اس بات کا لحاظ رکھا ہے اور ہر رسول کو اس کی قوم کی زبان کے ساتھ بھیجا ہے۔(وَما أَرْسَلْنا مِنْ رَسُولٍ إِلاَّ بِلِسانِ‏ قَوْمِهِ‏ لِيُبَيِّنَ لَهُم‏) اس آیت سے یہ بات واضح ہوتی ہے  کہ جب رسولوں کا کام لوگوں کی ہدایت ہے تو جو پیغام وہ دے رہے ہیں وہ ایسا ہونا چاہیے جو لوگوں کو سمجھ آئے۔ اس حوالے سے پہلے مرحلے میں ضروری ہے کہ وہ پیغام اس قوم کی زبان میں ہو۔ اور پھر یہ بھی ضروری ہے کہ وہ پیغام مخاطب کے ذہنی اور تہذیبی سطح کے مطابق ہو۔ اسی لیے اکثر انبیاء کو جو معجزے عطا ہوئے ان میں بھی معاشرے کی استعداد،وہاں رائج تہذیب و تمدن اور عصری علوم وغیرہ سے مناسبت مد نظر رکھی گئی ہے۔

پس اگر قرآن عربی کے علاوہ کسی اور زبان میں نازل ہوتا تب یہ سوال پیداہوتا کہ قرآن اس زبان میں کیوں نازل ہوا؟ جبکہ اس کے سب سے پہلے مخاطب  کی زبان اور جس معاشرے  میں نازل ہوا ہے اس کی زبان عربی ہے۔پس یہ طبیعی اور فطری بات ہے کہ قرآن کی زبان عربی ہی ہونی چاہیے تھی۔ جس طرح سے پہلے والی آسمانی کتابوں میں اس بات کا خیال رکھا گیا تھا کہ ان معاشروں کے مطابق ان کی زبان ہو۔

پیامبر اکرمﷺ عرب قوم کے درمیان مبعوث ہوئے اور آپ کی دعوت اور تبلیغ کی ابتدا بھی عربوں سے ہی ہوئی۔ پس ضروری تھا وہ لوگ آپ کی بات اور پیغام کو سمجھ لیتے۔ اگرچہ آپ کی دعوت اور تبلیغ عربوں کے ساتھ خاص نہیں تھی۔ (لیکن وہ اگلا مرحلہ تھا۔)

پھر قرآن کے عربی میں نازل ہونے کی ایک اور اہم وجہ اس کا معجزہ ہونا اور لوگوں کو اس کے مقابلے کی دعوت دینا ہے۔ اگر قرآن کی زبان عربی نہ ہوتی، تب کیسے اس عرب معاشرے میں بسنے والوں سے مطالبہ کیا جا سکتا تھا کہ اگر قرآن کو حق نہیں مانتے تو اس جیسی کوئی کتاب لاو۔ ایسی صورت میں وہ لوگ ضرور کہتے کہ آپ کا پیغام کسی اور زبان میں ہے اور ہم اسے سمجھتے ہی نہیں، کیسے ممکن ہے اس کی  نظیر لائیں؟ پس قرآن کا مقابلے کی دعوت دینے  کے لیے ضروری ہے کہ اس کی زبان وہی ہو جو اس معاشرے کی ہے تاکہ وہ لوگ اس پیغام کو سمجھیں اور حق اور حقیقت ان کے سامنے کھل جائیں۔ اس طرح سے رسول کی حقانیت لوگوں پر ثابت ہوجاتی ہے۔

اس بنیادی مطلب کے علاوہ قرآن مجید نے اپنے عربی ہونی کی چنددیگر  وجوہات بیان کی ہے۔

۱۔ مخالفین کو بہانہ بنانے سے روکنا

اگر قرآن کسی اور زبان میں ہوتا تب وہ لوگ بہانہ کرتے اور کہتے ہمیں اس کی سمجھ نہیں آتی۔پس ہمارے لیے اس پر ایمان لانا ممکن نہیں۔(وَ لَوْ جَعَلْناهُ قُرْآناً أَعْجَمِيًّا لَقالُوا لَوْ لا فُصِّلَتْ آياتُه‏) اللہ تعالی نے ان کی اپنی زبان میں قرآن  نازل کر کے ان سے یہ بہانہ چھین لیا۔

۲۔ عربوں کے لیے قرآن کو قبول کرنا آسان ہو

اگر قرآن کسی اور زبان میں ہوتا یا کسی عجمی شخص پر نازل ہوتا تب عرب لوگ اپنے تعصب اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے  اس پر کبھی بھی ایمان نہ لاتے۔ (وَ لَوْ نَزَّلْناهُ عَلى‏ بَعْضِ الْأَعْجَمين‏ فَقَرَأَهُ‏ عَلَيْهِمْ ما كانُوا بِهِ مُؤْمِنين‏)اللہ تعالی نے قرآن کو عربی زبان میں نازل کر کے ان کے لیے اسے قبول  آسان بنا دیا۔

۳۔ مخالفین کی تہمتوں کا رد

مخالفین یہ پروپیگنڈا کرتے تھے کہ قرآن خدا کی طرف سے نازل نہیں ہوا، بلکہ پیامبر اکرامﷺ کسی عام انسان کی باتوں کو نقل کرتے ہیں۔ اس حوالے سے اکثر  بعض عجمی لوگوں کے نام لیتے تھے جو مکہ میں رہائش پذیر تھے جیسے حضرت سلمان وغیرہ۔ اللہ تعالی ان کی اس تہمت کو رد  کرتے ہوئے فرما رہا ہے کہ ان کی زبان عربی ہے جبکہ پیامبر اور قرآن کی زبان عربی ہے۔ پس ایسا ممکن نہیں ہے کہ ایک عجمی سے اس قدر فصیح و بلیغ عربی کتاب صادر ہو۔ (وَ لَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّما يُعَلِّمُهُ بَشَرٌ لِسانُ الَّذِي يُلْحِدُونَ‏ إِلَيْهِ أَعْجَمِيٌّ وَ هذا لِسانٌ عَرَبِيٌّ مُبِين‏)

خلاصہ کلام یہ کہ قرآن کا عربی میں نازل ہونا ایک طبیعی سی بات ہے۔ ساتھ میں قرآن نے جو مقابلے کی دعوت دی ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے قرآن کا عربی زبان میں ہونے کی ضرورت مزید واضح ہوجاتی ہے۔ اور اگر قرآن کسی اور زبان میں یا کسی غیر عرب شخص پر نازل ہوتا تب اس وقت کے لوگوں کے لیے وہ کلام مبہم ہوتا اور ان کو بہانہ مل جاتا ۔اور اس طرح قرآن کو قبول کرنے سے وہ لو گ دور بھاگتے اور ان پر حجت تمام نہ ہوتی۔

 

 (استفادہ از استاد مصباح یزدی، کتاب "قرآن شناسی"، تلخیص و ترجمہ: سید عباس حسینی)


ٹیگس: مصباح یزدی
+ لکھاری عباس حسینی در 21 May 2018 و ساعت 2:49 PM |

قرآن کو قرآن کیوں کہا گیا؟

 

"القرآن "کا لفظ تقریبا پچاس مرتبہ قرآن میں آیا ہے۔ (شَهْرُ رَمَضانَ الَّذي أُنْزِلَ فيهِ الْقُرْآن‏) ان تمام موارد میں یہ لفظ اسی خاص کتاب کے معنی میں استعمال ہوا ہے جو حضرت پیامبر اکرم محمد مصطفیﷺ پر خدا کی طرف سے نازل ہوئی تھی۔ اسی طرح سے "قرآن" کا لفظ (الف لام کے بغیر) تیرہ مرتبہ اس کتاب میں آیا ہے اور ان میں سے بھی سات مرتبہ اسی خاص کتاب پر لفظ کا اطلاق ہوا ہے۔ باقی موارد میں پڑھنے یا پڑھنے کے لائق ہونے کے معنی میں آیا ہے(لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے)۔

لغت میں قرآن اس کتاب کو کہا جاتا ہے جو پڑھنے کے  قابل اور لائق ہو۔ شروع شروع میں یہ لفظ اس کتاب کے لیے بطور صفت استعمال ہونےلگا اور پھر آہستہ آہستہ اسی کتاب کے لیے عَلم(نام) بن گیا۔ پس اس کتاب کو قرآن کہنے کی ظاہری وجہ یہی ہے کہ یہ کتاب (خصوصی طور پر) پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔اسی طرح جب اسے "کتاب" کہا جاتا ہے تو مراد یہ ہے کہ  اس کی آیات لکھنے سے تعلق رکھتی ہیں یا لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہیں۔

البتہ یہاں قرآن کے لفظ کے حوالے سے کچھ اور احتمالات بھی مطرح ہوئے ہیں:

۱۔ "قرأ" کا لفظ کسی چیز کو جمع کرنے کے معنی میں ہے۔ اسی حساب سے عورت کے مخصوص ایام جن میں خون رحم میں جمع ہوتا ہے، کو "قرء" کہا جاتا ہے۔ پس اس حساب سے قرآن کا معنی جمع کرنی والی چیز ہے(جامع کے معنی میں)  اور قرآن کو قرآن اس لیے کہا جاتا ہے چونکہ یہ ایک جامع کتاب ہے اور اس میں انسانوں کی ہدایت کے لیے ضروری تمام باتیں جمع ہیں۔

۲۔ قرآن کو قرآن کہنے کی وجہ شاید یہ ہو کہ یہ کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے اور لوگوں کو چاہیے کہ ہمیشہ اس کتاب کی طرف متوجہ رہیں اور اسے پڑھتے رہیں ۔ اس کتاب کو ترک نہ کریں۔ اسی مسلسل پڑھنے کی وجہ سے قرآن مجید کی قرائت متواتر طور پر ہم تک پہنچی ہے اور قرآن کو تحریف سے بچانے کا ایک اہم طریقہ بھی یہی رہاہے۔

۳۔ یہ کتاب کلام الہی بلکہ علم الہی کا ایک خاص مرتبہ ہے۔اس کا حقیقی مرتبہ اس سے بہت بلند ہو جو الفاظ کی صورت میں ہمارے پاس ہے۔ لیکن خداوند متعال نے لوگوں پر احسان کرتے ہوئے کئی مرتبہ اس  حقیقت کو تنزل دیا تاکہ الفاظ کے قالب میں ڈھل  سکے۔ پس قرآن کا لفظ اسی مطلب کی طرف اشارہ کرنے کے لیے ہے۔ جیسےاس آیت میں یہی مطلب بیان ہوا ہے:(إِنَّا جَعَلْناهُ قُرْآناً عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُون‏)  یقینا ہم نے اسے عربی (کا لباس پہنا کر ) قرآن قرار دیا تاکہ تم اسے سمجھ سکو۔

۴۔ قرآن کو قرآن کہنے کی ایک وجہ شاید یہ ہو کہ یہ وہ کتاب ہے جسے اللہ تعالی نے اپنے حبیب کو پڑھ کر سنایا ہے۔ (سَنُقْرِئُكَ فَلا تَنْسى‏)  ہم آپ کو عنقریب (الہام کے ذریعے) یہ کتاب پڑھ کر سنائیں گے، پس تم اسے کبھی فراموش نہیں کرو گے۔  

بعض موارد میں اسی مطلب کو لفظ تلاوت کے ذریعے بیان کیاہے۔(تِلْكَ آياتُ اللَّهِ نَتْلُوها عَلَيْكَ بِالْحَق‏) یہ وہ الہی آیات ہیں جن کی ہم حق کے ساتھ تمہارے سامنے تلاوت کریں گے۔

یہاں سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن مجید کے الفاظ بھی اللہ تعالی کی طرف سے ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ صرف معنی اللہ کی طرف سے آیا ہو اور الفاظ کا جامہ رسول ﷺ نے پہنایا ہو۔

علامہ مصباح کے نزدیک کے ان احتمالات میں سے آخری دو احتمال زیادہ قوت رکھتے ہیں۔

 

(استفادہ از کتاب"قرآن شناسی"، آیت اللہ مصباح یزدی، تلخیص و ترجمہ: سید عباس حسینی)


ٹیگس: مصباح یزدی, قرآن مجید
+ لکھاری عباس حسینی در 20 May 2018 و ساعت 1:25 PM |

قرآن کا نزول

وہ کونسے الفاظ ہیں جو قرآن نے اپنےنزول کے حوالے سے استعمال کیا ہے؟ نزول قرآن کی کیا خصوصیات ہیں؟

قرآن کریم کا دعوی ہے کہ وہ الہی کتاب ہے۔ اس مطلب کو قرآن نے مختلف الفاظ کے ذریعے بیان کیا ہے۔

 

۱۔ نزول، انزال اور تنزیل (نازل ہونا)

اکثر موارد میں قرآن نے اپنے نزول کے حوالے سے یہی الفاظ استعمال کیا ہے۔ ( نَزَلَ‏ بِهِ الرُّوحُ الْأَمينُ) (تَبارَكَ الَّذي نَزَّلَ‏ الْفُرْقانَ عَلى‏ عَبْدِه‏) (هُوَ الَّذي أَنْزَلَ‏ عَلَيْكَ الْكِتاب‏) یہ الفاظ اکثر ان موارد میں استعمال ہوئے ہیں  جہاں پورے قرآن نازل ہونے کی باتی ہوئی ہے۔

 

انزال اور تنزیل میں فرق:

بعض لغت دانوں نے انزال اور تنزیل کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انزال قرآن مجید کے نزول دفعی اور تنزیل، نزول تدریجی کے مورد میں استعمال ہوا ہے۔ اگر قرآن کی آیات کا مطالعہ کریں تو اکثر موارد میں واقعی طور پر بھی ایسا ہی ہے، لیکن ہمیشہ ایسا نہیں ہے۔ مثلا بعض جگہوں پر جہاں نزول تدریجی کی بات ہوئی ہے وہاں "انزال" کا لفظ استعمال ہوا ہے۔  (وَ هُوَ الَّذي أَنْزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتابَ مُفَصَّلا) اسی طرح بعض موارد میں جہاں نزول دفعی کی بات ہوئی ہے وہاں "تنزیل" کے لفظ سے آیا ہے۔  (لَوْ لا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً واحِدَة)

پس انزال اور تنزیل میں اس طرح کا (نزول دفعی اور تدریجی کا)فرق بیان کرنا مشکل ہے۔

اس کی بجائے، ایک اور فرق ہم انزال اور تنزیل کے درمیان بیان کر سکتے ہیں۔ یہ فرق وہ ہے جو ان الفاظ کے استعمال کے تمام موارد میں جاری ہے۔

انزال کا لفظ صرف قرآن کے خدا کی طرف سے نازل ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ اس لفظ کے اندر دفعی یا تدریجی، وحدت یا کثرت جیسے معانی موجود نہیں۔

لیکن تنزیل کا لفظ اپنے اندر کثرت کا معنی بھی رکھتا ہے۔ (کثرت باب تفعیل کے معانی میں سے ایک ہے۔) قرآن مجید کے حوالے سے دو طرح کی کثرت متصور ہیں۔ ایک کثرت آیات کی تعداد کے لحاظ سے۔ (مفعول میں کثرت)۔ اور ایک کثرت خود فعل (نزول) میں متصور ہے۔ یعنی خداوند متعال نے اپنے کلام کو اس حقیقی اور عالی مقام سے تنزل دیا ہے اور اسے عام انسانوں کی زبان عربی کا لباس پہنایا ہے۔ اور تنزل کے اس فعل میں کثرت ہے۔ پس قرآن کا جو حقیقی مقام اور مرتبہ ہے اور اس کا جو مرتبہ الفاظ اور مفاہیم کی صورت میں ہے ان کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ ہے اور بہت سے مرتبوں کا فرق ہے۔ پس تنزیل کا لفظ ہمیشہ اس حقیقت کو بیان کر رہا ہے کہ قرآن کی موجودہ شکل نے  اپنے حقیقی مرتبے سے کئی دفعہ نیچے اتر کر الفاظ کا جامہ پہنا ہے۔

اگر اس فرق کو کوئی نہ مانے اس صورت میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ انزال اور تنزیل آپس میں مترادف ہیں اور ان کا آپس میں کوئی فرق نہیں۔ قرآن مجید نے بھی ایک ہی موضوع کے حوالے سے ایک دفعہ لفظ انزال اور دوسری دفعہ تنزیل استعمال کیا ہے۔

 

۲۔ مجیء (آنا، لانا)

بہت سارے موارد میں قرآن کے نزول کو بیان کرنے کے لیے مجیء کا لفظ اور اس کے مشتقات (جاء، جائک، جئناک  وغیرہ) استعمال ہوئے ہیں۔(قَدْ جاءَكُمُ الرَّسُولُ‏ بِالْحَقِ‏ مِنْ رَبِّكُم‏) (وَ لا يَأْتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلاَّ جِئْناكَ‏ بِالْحَق‏)

 اس طرح کی بعض آیتوں میں صرف قرآن کے خدا کی طرفسے آنے کی بات ہوئی ہے، بعض میں رسول پر نازل ہونے کی بات ہوئی ہے، بعض میں خدا کی طرف سے لوگوں کے لیے نازل ہونے کی بات ہوئی ہے اور کچھ آیات میں خدا کی طرفسے لوگوں کے لیے آنے کی بات ہوئی ہے۔ کچھ دیگر آیات میں رسول خدا کی طرفسے قرآن  لوگوں کے لیے لانے کی بات ہوئی ہے۔

۳۔ اتیان (دینا، لانا)

تقریبا دس جگہوں پر قرآن کے نزول کو بیان کرنے کے لیے لفظ اتیان اور اس کے مشتقات استعمال ہوئے ہیں۔  (وَ لَقَدْ آتَيْناكَ سَبْعاً مِنَ الْمَثاني‏ وَ الْقُرْآنَ الْعَظيم‏)

۴۔ وحی

تقریبا چالیس جگہوں پر قرآن کے نزول کو بیان کرنے کے لیے وحی اور اس کے مشتقات استعمال ہوئے ہیں۔ (وَ كَذلِكَ أَوْحَيْنا إِلَيْكَ‏ قُرْآناً عَرَبِيًّا)

۵۔ قرآئت اور تلاوت

بعض جگہوں پر قرآن کے نزول کو بیان کرنے کے لیے اس کی قرآئت اور تلاوت کی بات ہوئی ہے۔  (سَنُقْرِئُكَ‏ فَلا تَنْسى‏) قرائت  یہ ہے کہ خدا یا وحی کا فرشتہ پیامبر کے لیے قرآن کی آیات پڑھ لے۔ یہاں یہ نکتہ اہم ہے کہ پیامبر اکرم قرآن کے نزول تدریجی سے پہلے ہی ان حقائق سے آشنا تھے چونکہ نزول دفعی پہلے ہو چکا تھا۔ صرف انہی مطالب کی تاکید اورتائید کے لیے ایک مرتبہ پھر سارا قرآن دھرا کر پڑھا گیا۔

 

۶۔ ترتیل: یہ لفظ صرف ایک بار قرآن مجید میں آیا ہے۔ (وَ رَتَّلْناهُ تَرْتيلا) ترتیل کے معنی یہ ہے کہ قرآن کو تامل اور دقت کے ساتھ اور پے در پے پڑھا جائے، اس طرح سے کہ اس کے مطالب کو اچھی طرح سے دریافت کیا جائے۔

 

۷۔ القاء اور تلقی

القاء کوئی  چیز دوسرے کو عطا کرنے اور تلقی اس عطا کو کو قبول کرنے کے معنی میں ہے۔ قرآن کا القاء یہ ہے کہ آیات کو پیامبر اکرم کے اختیار میں قرار دینا اور تلقی سے مراد یہ ہے کہ آپ حضرت وحی کے معارف کو دریافت کرتے تھے۔ (إِنَّا سَنُلْقي‏ عَلَيْكَ قَوْلاً ثَقيلا)

 

۸۔ تعلیم

چہار جگہوں پر قرآن کے نزول کے حوالے سے تعلیم کا لفظ آیا ہے۔ (وَ يُعَلِّمُكُمُ‏ الْكِتابَ وَ الْحِكْمَة)تعلیم اس معنی میں ہے کہ خداوند متعال نے قرآن کے ذریعے معارف اور اپنے احکامات رسول کو سکھایے ہیں۔

 

۹۔ قص (قصہ بیان کرنا)

وہ آیات جن میں عمومی طور پر کوئی داستان بیان ہوا ہے ان کے لیے قص کا لفظ اور اس کے مشتقات استعمال ہوئے ہیں۔  (وَ كُلاًّ نَقُصُ‏ عَلَيْكَ مِنْ أَنْباءِ الرُّسُلِ) قص کے لغوی معنی کسی کے نقش قدم پر چلنا ہے۔ کسی مطلب کو اور خصوصا داستان کو نقل کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔

 

۱۰۔ فرض

فرض کے معنی الزامی، حتمی اور واجب قرار دینے کے معنی میں ہے۔ مراد یہ ہے کہ قرآن کی تلاوت اور تبلیغ پیامبر اکرم پر فرض کی گئی ہے۔ (إِنَّ الَّذي فَرَضَ‏ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرادُّكَ إِلى‏ مَعاد)

آپ نے دیکھا کہ نزول قرآن کے لیے قرآن مجید میں جو الفاظ استعمال ہوئے وہ اس کتاب الہی کی مختلف صفات اور خصوصیات کو بھی ساتھ بیان کر رہے ہیں اور اکثر جگہوں پر تاکید اس بات پر بھی ہے کہ اس نزول کا مصدر خداوندمتعال کی ذات ہے۔

 

(درس چہارم، کتاب قرآن شناسی، استاد مصباح یزدی، تلخیص و ترجمہ : سید عباس حسینی)


ٹیگس: مصباح یزدی, نزول قرآن
+ لکھاری عباس حسینی در 19 May 2018 و ساعت 8:23 PM |

ماہ مبارک رمضان: قرآن کی بہار

تحریر: عباس حسینی

 

جب بھی ہمارے موبائل پر کوئی نیا میسیج آتا ہے ہماری کوشش ہوتی ہے جلدی سے اسے دیکھ لیں کہ کس کی طرف سے وہ پیغام ہے اور اس میں کیا لکھا ہے؟ قرآن مجید ہمارے خالق اور مالک کی طرفسے بھیجا گیا پیغام ہے۔ کیا ہم نے کبھی کوشش کی ہے ہمارا پروردگار ہم سے کیا باتیں کرنا چاہتا ہے؟ اس ابدی پیغام کے اندر کیا لکھا ہوا ہے؟

 

شاید ہم سے ہر کوئی اپنی زندگی میں سینکڑوں کتابیں پڑھتے ہیں۔ یہ وہ کتابیں ہیں جو ہم جیسے عام انسانوں کی لکھی ہوئی ہیں۔ کورس کی کتابوں کو ہم لفظ بہ لفظ پڑھتے ہیں۔ انہیں یاد بھی کر لیتے ہیں اور امتحان میں اچھے نمبر بھی لے لیتے ہیں۔ لیکن کیا ہمارے خالق کی کتاب اور ہمارے پیارے نبی پاک (ص) کا زندہ معجزہ اس قابل نہیں کہ ہم کم از کم اسے بھی سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کریں۔

 

روایات کے مطابق ہر شیء کی ایک بہار ہے اور قرآن کی بہار ماہ مبارک رمضان ہے۔ اس مہینے کا قرآن مجید سے ایک خاص تعلق ہے۔ خداوند متعال نے اس ماہ کو اپنے کلام پاک کے لیے ظرف قرار دیا ہے۔ اسی مہیںے میں شب قدر کو قرار دیا جس رات قرآن کا نزول ہوا۔ اور اس رات کی فضیلت میں ارشاد ہوا کہ ہزار رات سے افضل اور بہتر ہے۔

 

لہذا اس مبارک مہینے میں ہماری کوشش ہونی چاہیے زیادہ سے زیادہ قرآن مجید سے مانوس ہوں۔ یقینا قرآن پاک کی تلاوت انتہائی ثواب کا کام ہے۔ روایات کے مطابق صرف قرآن کو دیکھنا بھی عبادت ہے۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ اس کلام کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ پہلا مرحلہ اس حوالے سے ترجمے کی حد تک سمجھنا ہے۔ پھر اگلے مرحلے میں مختلف تفسیروں کے ذریعے آیات کی گہرائی میں اترنا ہے۔ جس می آیات کا شان نزول، ان میں آئے مفردات کے معانی، معنی کے حوالے سے مختلف احتمالات، آیت میں آئے مختلف نکات اور آیت کے ضمن میں وارد روایات کا مطالعہ وغیرہ شامل ہیں۔

 

امام زین العابدین (ع) کے مطابق اگر دنیا کی ہر چیز لی جائے اور مجھے قرآن کے ساتھ اکیلا چھوڑ دیا جائے پھر بھی مجھے کسی وحشت اور تنہائی کا احساس نہیں ہوگا۔ علامہ اقبال کے والد نے ان کو نصحیت کی تھی "بیٹا قرآن ایسے پڑھنا جیسے یہ کلام تمہارے اوپر اتر رہا ہے۔" قرآن مجید پڑھتے ہوئے ہمیں بھی یہ احساس کرنا چاہیے کہ ہر ہر جملے میں ہمارا خالق ہم سے ہم کلام ہے۔ وہ ذات خیر، بھلائی، نیکی اور ابدی سعادت کی طرف ہماری رہنمائی کر رہا ہے۔ ماہ مبارک رمضان اس حوالے سے ایک بہترین فرصت ہے جس سے استفادہ کرنا چاہیے۔


ٹیگس: قرآن مجید, ماہ رمضان
+ لکھاری عباس حسینی در 16 May 2018 و ساعت 11:52 PM |

خواتین کا گھر سے باہر کام کرنا

قرآن کی نگاہ میں

 

آج کل اکثر معاشروں میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ گھر سے باہر کام کرتی ہیں اور پیسے کماتی ہیں۔سوال یہ ہے قرآن کا اس حوالے سے کیا نظریہ ہے؟ کیا قرآن خواتین کو گھر سے نکلنے سے منع کرتا ہے؟ یا یہ کام قرآن کی تعلیمات کے مطابق ہے؟

اس حوالے سے عرض خدمت ہے:

قرآن کا نظریہ ہے کہ اقتصادی حوالے سے گھر کی ضروریات کو پورا کرنا مرد کی ذمہ داری ہے۔ الرِّجالُ‏ قَوَّامُونَ‏ عَلَى النِّساءِ بِما فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلى‏ بَعْضٍ وَ بِما أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوالِهِم‏ (نساء:34) ترجمہ: مرد عورتوں پر نگہبان ہیں، اس بنا پر کہ اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، اور یہ کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔

لیکن اگر کسی بھی وجہ سے مرد گھر کے اخراجات پورے کرنے پر قادر نہ ہو، اس وقت کچھ اصولوں کی رعایت کرتے ہوئےخواتین گھر سے باہر نکل کر کام کر سکتی ہیں۔ وہ اصول یہ ہیں:

 

۱۔ یہ کہ عورت کے کام کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہو۔ جیسے قرآن مجید حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے  ان کے گھر سے باہر نکلنے کی وجہ کچھ یوں بیان کرتا ہے: "وَ أَبُونا شَيْخٌ‏ كَبِير" (قصص:23)چونکہ ہمارے والد بوڑھے ہیں اور وہ خود نہیں آسکتے، اس لیے ہم مجبوری کی حالت میں گھر سے باہر جانوروں کو پانی پلانے نکلے ہیں۔

 

۲۔  اگر گھر سے باہر کام کرنے کی ضرورت پڑے، اگر اس جگہہے پر مرد حضرات بھی موجود ہوں،تب کوشش کی جائے آپس میں اختلاط سے پرہیز کیا جائے۔ جیسے حضرت شعیب کی بیٹیاں انتظار کرتی رہیں تاکہ مرد حضرات اپنے جانوروں کو پانی پلا کر چلے جائیں تب وہ جا کر اپنے جانوروں کو پانی پلائیں۔ جب حضرت موسی نے ان سے الگ تھلگ رہنے کی وجہ پوچھی تو بتایا: "قالَتا لا نَسْقِي حَتَّى يُصْدِرَ الرِّعاء" (قصص:23) ترجمہ: "جب تک یہ چرواہے(اپنے جانوروں کو لے کر) واپس نہ پلٹ جائیں ہم پانی نہیں پلا سکتیں۔

 

3۔ ہر حال میں حیا اور عفت کی رعایت کی جائے۔ چاہے وہ چلتے وقت ہو، یا بات کرتے وقت یا کسی اور حالت میں۔ حضرت شعیب کی بیٹیوں ہی کےبارے میں قرآن کہتا ہے: "فَجاءَتْهُ إِحْداهُما تَمْشِي عَلَى اسْتِحْياء. (قصص:25) پس پھر ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک حیا کے ساتھ چلتی ہوئی موسی کے پاس آئی۔

 

4۔ گھر سے باہر نکلتے وقت شریعت کے احکام کی پابندی کی جائے، نا محرم لوگوں سے زیادہ گھل ملنے سے اجتناب کیا جائے، اور کوئی ایسا موقع نہ دیا جائے جس سے طرف مقابل کے دل میں اس عورت کی نسبت طمع ایجاد ہو۔ "إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ‏ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَض‏. (احزاب:32) اگر تم تقوی رکھتی ہو تو نرم لہجے میں بات مت کرنا، کہیں وہ شخص لالچ میں نہ پڑ جائے جس کے دل میں بیماری ہے۔

 

لہذا قرآن مجیداضطرار کی حالت میں  حیا کی رعایت کرتے ہوئے اور  مردوں سے اختلاط سے بچ کر  گھر سے باہر کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

(ترجمه: عباس حسینی)

+ لکھاری عباس حسینی در 14 May 2018 و ساعت 3:57 PM |

ہر حال میں خدا کا شکر

 

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک انجینئر بلڈنگ کی دسویں منزل پر کام کر رہا تھا۔ ایک مزدود بلڈنگ کے نیچے اپنے کام میں مصروف تھا۔ انجینئر کو مزدور سے کام تھا۔  بہت زیادہ اس کو آواز دی ، لیکن اس نے نہیں سنی۔

انجینئر نے جیب سے 10 ڈالر کا نوٹ نکالا اور نیچے پھینکا تاکہ مزدور اوپر کی طرف متوجہ ہو جائے۔ لیکن مزدور نے نوٹ اٹھا کر جیب میں ڈالا اور اوپر دیکھے بغیر اپنے کام میں مصروف ہوگیا۔

دوسری دفعہ انجینئر نے 50 ڈالر کا نوٹ نکالا اور نیچے پھینکا کہ شاید اب کی بار مزدور اوپر کی طرف  متوجہ ہو جائے۔ مزدور نے پھر سے اوپر دیکھے بغیر نوٹ جیب میں ڈال دیا۔

اب تیسری دفعہ انجینئر نے ایک چھوٹی سی کنکری اٹھائی اور اسے نیچے پھینک دیا۔ کنکر کا مزدور کے سر پر لگنا تھا اس نے فورا اوپر کی طرف نگاہ کی۔ انجینئر نے اسے اپنےکام کے بارے بتایا۔

یہ در حقیقت ہماری زندگی کی کہانی ہے۔ہمارا مہربان خدا ہمیشہ ہم پر نعمتوں کی بارش کرتا ہے کہ شاید ہم سر اٹھا کر اس کا شکریہ ادا کریں۔ اس کی باتیں سنیں۔ لیکن ہم اس طرح اس کی بات نہیں سنتے۔

لیکن جونہی کوئی چھوٹی سی مشکل، پریشانی یا مصیبت ہماری زندگی میں آتی ہے ہم فورا اس ذات کی طرف متوجہ ہوتےہیں۔ ہمیں صرف مشکلا ت میں خدا یاد آتا ہے۔

پس ہمیں چاہیے کہ ہر وقت ، جب بھی پروردگار کی طرفسے کوئی نعمت ہم تک پہنچے فورا اس کا شکریہ ادا کریں۔ شکریہ ادا کرنے اور خدا  کی بات سننے کے لیے سر پر پتھر لگنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔

وَإِذَا مَسَّ الْإِنسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهُ مُنِيبًا إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَا خَوَّلَهُ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِيَ مَا كَانَ يَدْعُو إِلَيْهِ مِن قَبْلُ (زمر:8)

اور جب انسان پر کوئی پریشانی آتی ہے خدا کی طرف پلٹ کر اسے پکارتا ہے، اور پھر جب اس کی طرف سے کوئی نعمت ملتی ہے  تو وہ جسے پہلے پکار رہے تھے اسے بھلا دیتے ہیں۔(القرآن)

ترجمہ: سید عباس حسینی


ٹیگس: شکر, نعمت, مصیبت
+ لکھاری عباس حسینی در 4 Feb 2018 و ساعت 10:26 PM |

اجتماعی زندگی یا انفرادی؟

اسلام کی نظر میں کس کی اہمیت زیادہ ہے؟

آیا انسان کو اجتماعی طور پر معاشرے میں رہتے ہوئے زندگی گزارنی چاہیے یا انفرادی طور پر معاشرے سے کٹ کر؟ اسلام کے نزدیک کس کی اہمیت زیادہ ہے اور کس کی طرف اسلام دعوت دیتا ہے؟ کیا ممکن ہے انفرادی زندگی بھی قدر وقیمت پیدا کر لے؟

ان سوالوں کا جواب دینےسے پہلے ضروری ہے یہ طے کرلیں کہ کیا اجتماعی زندگی گزارنا انسان کے اپنے اختیار میں ہے؟ کیا انسان کے لیے ممکن ہے کہ وہ انفرادی طور پر اپنی زندگی گزارلے؟ چونکہ اگرمان لیں کہ  انسان اجتماعی زندگی گزارنے پر مجبور ہے تو اس فعل کے اچھے یا برے ہونے کا  کوئی مطلب نہیں۔ اچھا یا برا صرف اختیاری افعال میں معنی رکھتا ہے۔

بعض مغربی محققین قائل ہیں کہ انسان اجتماعی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔  انسان کی طبیعت بھی اسے اجتماعی زندگی پر ابھارتی ہے۔ بعض نےیہاں تک کہا ہے کہ معاشرے کے اندر انسان کی مثال جسم کے اندر ایک سیل(خلیے) کی ہے۔ فرد معاشرے کے اندر اپنی کوئی شناخت نہیں رکھتا۔ فرد کی شناخت اور حقیقت اسی معاشرے سے وابستہ ہے۔ پس فرد کا وجود اور فرد کی شناخت دونوں معاشرے کے تابع ہیں۔  ہاں بعض نے صرف اس حد تک اعتراف کیا ہےکہ  معاشرے میں فرد کو ایک خاص حد تک آزادی حاصل ہے۔ وہ چاہے تو اپنے آپ کو معاشرے سے جدا کر سکتا ہے۔ لیکن اگر معاشرے سے جدا کر لے گا تو وہ مر جائے گا۔بالکل اسی طرح  جیسے ایک سیل کا اپنےآپ کو جسم سے جدا کرنا اس کی موت ہے۔یا جیسے درخت کا ایک پتہ ، کہ  پتوں کے اجتماع  اور درخت سے جدائی اس کی موت ہے۔ فرد کا رشتہ معاشرے سے اسی قسم کا ہے۔ معاشرے سے جدائی فرد کی موت ہے۔

یہ انتہائی افراطی نظریہ ہے اور اسلام اس نظریے کی ہرگز حمایت نہیں کرتا۔ یہ نظریہ اسلامی بنیادی اصولوں سے میل نہیں کھاتا۔اس نظریے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا معاشرہ میں رہنا اس کی مجبوری ہے اور اس حوالے سے انسان کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ جس کام پر انسان کو اختیار ہی نہیں اس  حوالے سے انسان کو کوئی حکم بھی نہیں دیا جا سکتا۔ پس معاشرے میں رہنا نہ اچھا قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ برا۔

 لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالی نے اختیار دے کر خلق کیا ہے۔ انسان کو سوچنے کی طاقت  اور اچھے اور برے میں فرق کرنے کی صلاحیت عطا کی ہے۔ زندگی کے ہر موڑ پر انسان کے اپنے اختیار میں ہے کہ وہ کس راستے کو اختیار کرتا ہے۔ہرگز انسان معاشرے  کے بدن میں میں ایک سیل کی مانند نہیں کہ اس سے جدائی انسان کی موت ہو۔ معاشرے سے کٹ کر زندگی گزارنا انسان کے اختیار میں ہے۔  انسان اپنے اختیار سے چاہے تو اجتماعی اور چاہے تو انفرادی زندگی  اختیار کر سکتا ہے۔ پس  اجتماعی یا انفرادی زندگی گزارنا انسان کے اپنے اختیار میں ہے اور اس حوالے سے انسان مکمل طور پر آزاد ہے۔

ہاں البتہ مختلف کاموں کا انسان کے اختیار میں ہونا مختلف اندازوں سے ہے۔ ممکن ہے ایک کام مکمل طور پر انسان کے اختیار میں ہو اور ایک کام ایک حد تک۔  جو کام جتنا اختیارمیں  ہو اسی اندازے سے اس کا حساب ہوگا۔اجتماعی زندگی بھی جس حد تک انسان کے اختیار میں ہے اسی اندازے سے اس کی قدر وقیمت اور اہمیت کا اندازہ لگا سکیں گے۔

اب سوال یہ ہے کہ اجتماعی زندگی گزارنا کس حد تک اہمیت رکھتا ہے؟ اس کی کیا قدر وقیمت ہے؟ اس کے مقابلے میں معاشرے سے کنارہ کشی اور رہبانیت کا حکم اسلامی اخلاقی نظام میں کیا ہے؟

جواب یہ ہے کہ اجتماعی زندگی گزارنا یا معاشرے سےروگردانی اور  کنارہ کشی ان دونوں میں سے کوئی بھی خود سے (فی ذاتہ) کوئی اہمیت یا قیمت  نہیں رکھتا۔ اس کام کو کچھ اور معیارات اور پیمانوں پر ناپنا ہوگا تاکہ اس کی قدر و قیمت  جانچ سکیں۔اس حوالے سے تین اہم عوامل کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے:

۱۔ فطری عوامل: مثلا انسان غریزی طور پر جنس مخالف کی طرف مائل ہوتا ہےاور اس کے ذریعے اپنی جنسی خواہشات پوری کرنا چاہتا ہے اور یہ کام معاشرے سے کٹ کر اکیلے میں رہ کر ممکن نہیں۔خاندانی زندگی، معاشرتی زندگی کی پہلی سیڑھی ہے۔ پس ممکن ہے انسان کی فطری خواہشات معاشرتی زندگی کے لیے سبب بنیں۔

۲۔ عاطفی عوامل: انسان کے اندر ایک خاص قسم کا جذبہ ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے ہم نوع افراد کی طرف کھچا چلا جاتا ہے۔ صحراء میں اگر کوئی انسان نظر آئے تو اس کی طرف دل مائل ہوتا ہے۔ انسان ایک دوسرے سے انس محسوس کرتا ہے خصوصا اگر اپنے خاندان کے افراد ہوں۔ یہ جذبہ معاشرتی زندگی کی تشکیل میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

۳۔ عقلی عوامل: انسان اپنی عقل کے ذریعے سمجھ لیتاہے کہ تنہائی میں زندگی گزارنا انتہائی سخت ہے۔ بہت ساری ضروریات، چاہے وہ مادی ضروریات ہوں یا معنوی،  ایسی ہیں جن میں وہ دوسروں کا محتاج ہے۔ بہت سارے کام ایسے ہیں جن کو وہ اکیلے انجام نہیں دے سکتا۔ لہذا عقل فیصلہ کرتی ہے کہ اجتماعی زندگی گزارنا چاہیے چونکہ اجتماعی زندگی کے فوائد زیادہ ہیں اور اس کے بغیر ضروریات پوری نہیں ہو سکتیں۔

پس یہ مختلف عوامل ہیں جن کی بنا پر انسان اجتماعی زندگی کو اپنے اختیار کرتا ہے۔ البتہ اجتماعی زندگی کے حوالے سے ان میں سے ہر ایک کا کردار برابر اور ایک جیسا نہیں ہے۔

اسلام کی نظر میں اجتماعی زندگی کی قدر و قیمت اور اہمیت  کا اندازہ لگانے کے لیے ان عوامل کو دیکھنا انتہائی اہم ہے جن کی بنا پر فرد اجتماعی زندگی اپنے لیے اختیار کرتا ہے۔ اس حوالے سے زمان و مکان کی شرائط، اجتماعی صورت حال ، مختلف محرکات،اور انسان کی نیت  وغیرہ پرکھنے کی ضرورت ہے جن کی وجہ سے اجتماعی زندگی کو چنا گیا ۔ پس ہم کلی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ اجتماعی زندگی اچھی ہے یا بری؟ یا انفرادی زندگی اچھی ہے یا بری؟

اسلام کی نظر میں تمام اخلاقی مسائل میں قدر وقیمت کا اندازہ لگانے کا بہترین معیار نیت(کام کا محرک) ہے۔  ممکن ہے ایک ہی کام اگر ایک نیت سے انجام دیں تو اچھا ہو اور اگر یہی کام دوسری نیت سے انجام دیں تو برا بن جائے۔  کام کی قیمت نیت پر منحصر ہے۔ پس نیت کو دیکھے بغیر کام کی قیمت کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ اجتماعی زندگی بھی اسی طرح ہے۔

البتہ کام کی قدر وقیمت صرف نیت پر منحصر نہیں ۔ ممکن ہے کسی کام کے حوالے سے ایک شخص کی نیت اور اس کا ہدف  بالکل نیک ہو۔ لیکن اسے انجام دینے کےصحیح طریقے کا علم نہ ہونے کی وجہ سے ایسے طریقے سے انجام دے کہ اپنے لیے اور دوسروں کے لیے مادی و معنوی ضرر کا باعث بنے۔لہذا ہدف  اور نیت تک پہنچنے کا طریقہ بھی نیک ہونا چاہیے۔

لہذا شرائط، حالات، نیت، محرکات وغیرہ کے تناظر میں ممکن ہے کبھی اجتماعی زندگی مطلوب ہو اور عین ممکن ہے کبھی انفرادی زندگی اور معاشرے سے جدائی بھی مطلوب اور مفید واقع ہوجائے۔

قرآن اور انفرادی زندگی:

باوجود اس کے کہ اسلامی تعلیمات میں اجتماعی زندگی کی بہت زیادہ اہمیت بیان ہوئی ہے اور بہت ساری نیکیاں ایسی ہیں جن کا وجوداور تحقق معاشرے کے بغیر ممکن نہیں، لیکن معاشرے کی یہ اہمیت اور قیمت ہمیشہ کے لیے اور بغیر شرط وقید کے نہیں ہے۔ بعض اوقات ممکن ہے معاشرے سے کٹنا ہی انسان کے لیے مفید ہو۔

لہذا قرآن مجید میں بعض جگہوں پر معاشرے سے ہجرت اور الگ زندگی گزارنے کی تعریف کی گئی ہے۔ بطور نمونہ:

۱۔ اصحاب کہف کا قصہ۔ کہ چند جوان ہیں جو معاشرے کی خرابی سے تنگ آکراور اصلاح کو نا ممکن سمجھ کر معاشرے سے الگ ہوتے ہیں اور ایک غار میں پناہ لیتے ہیں۔ان جوانوں نے جان لیا تھا کہ معاشرے میں فساد اس حد تک پھیل چکا ہے کہ اپنے دین اور ایمان کی حفاظت کے لیے اب اس معاشرے سے بھاگنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ قرآن مجید نے ان کی تعریف کے پیرائے میں کہا ہے: وَإِذِ اعْتَزَلْتُمُوهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ فَأْوُوا إِلَى الْكَهْفِ يَنشُرْ لَكُمْ رَبُّكُم مِّن رَّحْمَتِه. (کهف :16)

اور اس وقت کو یاد کرو جب تم لوگوں (اصحاب کہف) نے ان (معاشرے) سے جدائی اختیار کر لی اور وہ لوگ اللہ کے علاوہ کسی کی پرستش نہیں کرتے تھے۔ پس انہوں نے ایک غار میں پناہ لی۔ تمہارے لیے تمہارا پروردگار اپنی رحمتیں پھیلاتا ہے۔

۲۔ دوسرا نمونہ اس حوالے سے حضرت ابراہیم کی ذات ہے۔معاشرے نے ان کی بات نہیں سنی۔ انہیں آگ میں پھینکا  گیا اور خداوند متعال نے معجزے سے ان کی جان بچائی۔ جب اس قوم کی ہدایت سے مایوس ہوگئے تب انہوں نے نمرود کےشرک آلود معاشرے سے کنارہ کشی اختیار کر نے کا فیصلہ کیا۔ قرآن مجید نے ان کے اس فیصلے کی تعریف کی ہے اور اس کے بعد ہی ان کے لیے فرزند( حضرت اسحاق) کی بشارت دی گئی ہے۔(ملاحظہ ہو سورہ مریم آیت ۴۹)

۳۔ تیسرا نمونہ حضرت عیسی کی ذات ہےجب انہوں نے رہبانیت اختیار کی۔ اس زمانے کے حالات کچھ ایسے تھےاور معاشرہ اس قدر بگڑا ہوا تھا کہ حضرت عیسی کو اپنے دین کی حفاظت کی خاطر معاشرے سے کنارہ کشی اختیار کر نی پڑی۔ البتہ انہیں امید تھی کہ وہ انہی حالات میں بھی گوشہ وکنار سے مختلف افراد کی ہدایت اور اصلاح کے ذریعے ایک تحریک کی بنیاد رکھیں گے اور دوبارہ پلٹ کر اسی معاشرے کی اصلاح کی کوشش کریں گے۔

قرآن اور اجتماعی زندگی:

جہاں پر خدا کی خوشنودی معاشرے میں رہنے میں ہو ااس وقت اسلام رہبانیت کی اجازت نہیں دیتا۔ انسان کے اکثر کمالات معاشرے میں رہنے سےہی حاصل ہوتے ہیں۔ معاشرے سے کٹنے پر انسان کے لیے بہت ساری نیکیوں کے راستے خود بخود بند ہوجاتے ہیں۔ البتہ اجتماعی زندگی کی قیمت اور اہمیت اس لیے نہیں کہ یہ اجتماعی زندگی ہے، بلکہ اس لیے ہے کہ اس میں رہ کر انسان اپنی اور معاشرے کی مادی و معنوی ترقی کا سامان فراہم کر تا ہے۔ اور اگر یہی معاشرے فرد کی ترقی اور کمال میں رکاوٹ ہو تو اس معاشرے سے بچنے میں ہی انسان کی بھلائی ہے۔

سب سے آئیڈیل معاشرہ جس کی بنیاد حضرت صاحب الزمان (علیہ السلام) رکھیں گے اس کے حوالے سے بھی قرآن کا نظریہ یہ ہے کہ وہ معاشرہ اس لیے قائم ہوگا تاکہ اس میں آرام سے خدا کی عبادت کی جا سکے اور شرک کی رگوں کو کاٹا جا سکے۔ وعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ .... يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا.(نور :55)

خدا نے ایمان لانے والوں اور عمل صالح انجام دینے والوں سے وعدہ کیا ہے کہ ان کو زمین پر خلیفہ بنایا جائے گا۔۔۔ تاکہ وہ لوگ میری عبادت کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔

 

خلاصہ:

یقینا اسلام میں اجتماعی زندگی کی اہمیت بہت زیادہے اور بہت سارے انسانی کمالات ایسے ہیں جن کا حصول اور ان کی  ترقی معاشرے میں زندگی پر ہی موقوف ہے، لیکن معاشرتی زندگی کی قدر وقیمت مطلق اور بغیر قید وشرط کے نہیں ہے۔ ان شرائط  کے علاوہ انسان کی نیت کا اس زندگی کی قدر وقیمت کی تعیین میں اہم حصہ ہے۔

انسان اپنے اختیار سے اور عاقلانہ طور پر اجتماعی زندگی کو انتخاب کرتا ہے۔ اس زندگی کی قدر وقیمت کا اندازہ لگانے سے پہلے انسانی زندگی کے ہدف کو معین کرنا ہوگا۔ اگر ہم انسانی زندگی کے ہدف کو ابدی سعادت اور قرب پروردگار قرار دیتے ہیں تو اس ہدف تک پہنچنے میں اجتماعی زندگی جس قدر مددگار ہوگی اسی حساب سے اس کی قدر وقیمت بھی ہوگی۔

 

(استفادہ از کتاب اخلاق در قرآن، استاد مصباح یزدی دامت برکاتہ، ج ۳، ص ۲۷ تا ۴۰)


ٹیگس: اجتماعی زندگی, انفرادی زندگی, مصباح یزدی
+ لکھاری عباس حسینی در 22 Jan 2018 و ساعت 10:58 AM |

قرآن فہمی:
"اخبات "اور" مخبتین " کا مطلب


ارشاد خداوندی ہے: فإلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ (حج: 35، 36)
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَخْبَتُوا إِلَىٰ رَبِّهِمْ أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ (ھود: 23)
وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَيُؤْمِنُوا بِهِ فَتُخْبِتَ لَهُ قُلُوبُهُمْ (حج : 54)
ان تینوں آیات میں اخبات قلوب کا تذکرہ ہے اور اس فعل کی بہت زیادہ تعریف کی گئی ہے اور اس پر بہت سارا انعام رکھا گیا ہے اور بشارت دی گئی ہے۔
لغت میں "اخبت البعیر" اس حالت کو کہا جاتا ہے جب کوئی جانور شدت کے ساتھ اپنے جسم میں کھجلی یا خارش محسوس کر رہا ہو، لیکن بے چارہ جانور ہاتھ تو رکھتا نہیں جس سے اپنے سینے یا پیٹھ پہ مثلا کھجلی کر لے۔ اب اگر کوئی انسان اس حالت کو محسوس کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں سے اس کی کھجلی کر لے تو وہ جانور عجیب حالت میں اپنے سارے وجود کو اس انسان کے سامنے تسلیم کرتا ہے۔ ہلتا تک نہیں۔ وہ سکون محسوس کرتا ہے۔ اس حالت کو جس میں جانور انسان کے سامنے مکمل طور پر خاضع ہے اور اپنا سارا وجود اس کے حوالے کرتا ہے "اخبات" کہا جاتا ہے۔
پس خدا کے مقابلے میں اخبات وہی حالت ہے جب انسان اس ذات والا کی عظمت کو درک کرتے ہوئے اس کے سامنے مکمل طور پر خاضع ہو۔ اس کے احکام کے سامنے چون وچرا نہ کرے۔ اس کے سامنے سر تسلیم خم ہو۔
انسان کی یہ سرشت ہے کہ وہ اپنے سے بڑے کے سامنے ، اپنے سے زیادہ با کمال، با عظمت کے سامنے جھکتا ہے۔ عبادت در حقیقت اسی خشوع کی حالت کا نام ہے۔ اب وہ باکمال اور باعظمت ہے کون؟ مصداق کے بارے میں انسانوں میں اختلاف ہو سکتا ہے۔ لیکن سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ باعظمت کے سامنے جھکنا ہے۔ اب اگر وہ ذات ایسی ہو جو بے نہایت عظمت کا مالک ہو۔ جو بے نہایت قدرت کا حامل ہو۔ جو ہر چیز کا مالک ہو۔ جو انسان یہ درک کر لے کہ میرے پاس جو کچھ ہے، جتنی نعمتیں ہیں۔۔ یہاں تک کہ میرا وجود میرا اپنا نہیں ہے۔ کسی اور کا دیا ہوا ہے۔ پاس اس کے سامنے جھکنا اور اس کی عبادت فطری سی بات ہے۔ مختبین وہی لوگ ہیں جو عظمت خداوندی کے سامنے اپنے آپ کو تسلیم کرتے ہیں۔ خشوع اختیار کرتے ہیں۔ اس کے سامنےجھک جاتے ہیں.

+ لکھاری عباس حسینی در 24 Oct 2017 و ساعت 9:51 PM |

سوال: خداوند متعال ہماری شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ (وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ) پھر نماز ، روزہ اور دوسری عبادات کے ذریعے اس ذات کا قرب حاصل کرنے کا کیا مطلب؟ ہم نیت میں قربۃ الی اللہ کیوں کہتے ہیں؟  

تحریر: عباس حسینی

 

جواب: اس آیت میں کہا گیا ہے کہ خداوند متعال ہماری شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ یہ ایک پہلو ہے۔ لیکن یہ نہیں کہا گیا کہ ہم بھی اس ذات کے اتنے ہی قریب ہیں۔ اس پہلو کو آیت نے بیان نہیں کیا۔  ممکن ہے ایک موجود دوسرے کے قریب ہو، لیکن دوسرا  موجود، پہلے کے قریب نا ہو۔  عام فہم میں اس کو سمجھنا ہو تو محبت کی مثال سے سمجھ لیں۔ ممکن ہے ایک موجود دوسرے موجود سے دل وجان سے محبت کرتا ہو (محبت یک طرفہ)، جبکہ دوسرے کو پہلے سے بالکل بھی محبت نا ہو۔ یا اس کی مثال فلسفہ میں یک طرفہ ربط (اضافہ اشراقی) ہے کہ جس میں صرف ایک طرف ہے اور ربط ہے۔ دوسری طرف کوئی چیز نہیں جو ربط کے لیے "دوسری طرف "بن جائے۔ جیسے سورج اور اس کی شعاع۔

آیت میں جو مطلب بیان ہوا ہے وہ در حقیقت احاطہ وجودی کو بیان کر رہا ہے۔ یعنی خداوند متعال کی ذات نے انسان کا، بلکہ تمام موجودات کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ (أَلَا إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُّحِيطٌ)  اس لحاظ سے وہ تمام موجودات کا علم رکھتا ہے۔ وہ ہماری آنکھوں کی خیانتوں اور دلوں کے بھید بھی خوب جانتا ہے۔ (يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ) جو باتیں ہم آشکار کرتے ہیں اسے بھی وہ  جانتا ہے اور جو باتیں ہمارے دلوں میں ہیں  ان سے بھی وہ آگاہ ہے۔ (أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ) ۔ لیکن اس کے مقابلے میں ہم خدا تو کیا،  اپنے سے بالاتر مخلوقات کا بھی احاطہ نہیں کر سکتے۔

اللہ تعالی کا حکم ہے  کہ ہم عبادات کو اس کے قرب کی خاطر انجام دیں۔ ہر وہ کام عبادت ہے جس میں قرب ِخداوندی کی نیت ہو۔  بلکہ زندگی کا مقصد اور ہدف ہی یہی ہے کہ ہم خداوند متعال کے نزدیک سے نزدیک تر ہوتے جائیں۔ لیکن وہ ذات جو لا مکان ہے، اس کے قریب ہونے کا مطلب کیا ہے؟ ہم نماز میں جب قربۃ الی اللہ کہتے ہیں تو کیسے نماز ہمیں خداے لا مکان کے قریب کرتی ہے؟

در حقیقت قرب اور بعد (دور اور نزدیک ) ہونے کے تین معنی ہو سکتے ہیں۔

۱۔ مکانی اور زمانی قرب اور بعد۔ دو چیزوں کے درمیان کا مادی فاصلہ۔ یا دو چیزوں کے درمیان وقت کا فاصلہ۔ اللہ تعالی زمان اور مکان نہیں رکھتا۔ وہ مجرد ذات ہے۔ ابدی اور ازلی ہے۔ پس یہ والا معنی مراد نہیں ہو سکتا۔

۲۔ اعتباری قرب اور بعد : جیسے کسی کمپنی میں کوئی باس کے قریب ہوتا ہے اور کوئی اس سے دور۔ ممکن ہے اگلے دن باس  کسی اور شخص کو اپنےزیادہ قریب کرلے اور اس پہلے شخص کو اپنے سے دور۔ اللہ تعالی کے حوالے سے یہ معنی بھی ممکن نہیں۔

۳۔ حقیقی قرب وبعد:  اس سے مراد یہ ہے کہ موجودات ، حقیقی کمالات کو کسب کر لیں اور اللہ تعالی کے ساتھ کمالات میں نزدیک سے نزدیک تر ہوتے جائیں۔ یہ روح کے کمالات ہیں۔ اس میں روح پرواز کرتی جاتی ہے۔ انسان کے وجود میں وسعت آتی جاتی ہے۔ انسان کی صفات، خدائی صفات میں ڈھلتی جاتی ہیں۔وہ اپنے وجود کے مرتبے میں ترقی کرتا جاتا ہے۔  اگر اللہ تعالی کی ایک صفت علم ہے تو انسان میں جتنا علم آتا جائے گا وہ خدا کے قریب ہوتا جائے گا۔ خداوند متعال قادر ہے ۔ پس عبادات کے نتیجے میں انسان کی قدرت میں جتنا  اضافہ ہوتا جائے  وہ اللہ تعالی کے نزدیک ہوتا جائے گا۔ جس حد تک انسان اپنے افعال اور صفات کو خدائی رنگ میں ڈال دے اسی نسبت انسان ، خدا کے قریب ہوتا جائے گا۔  اس کی صفات خدا کی صفات کی شبیہ بنتی جائے گی۔  یہ حقیقی قرب ہے۔  عبادات کے ذریعے در حقیقت انسان اس با کمال اور باعظمت کے کمال اور عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے اس کےسامنے سر جھکاتا ہے۔  اپنے فقر اور کمی کا اعتراف کرتا ہے۔اس طریقے سے اس کا خدا کے ساتھ رابطہ مزید مستحکم ہوجاتا ہے۔

لیکن یہ بات مد نظر رہے  کہ انسان جس قدر چاہے کمالات حاصل کر لے وہ ہے تو محدود ذات۔ جبکہ خدا کی ذات لا محدود ہے۔ اور عقلی طور پر محدود اور لا محدود کے درمیان فاصلہ بھی لا  محدود ہے۔ پس یہا ں سے انسان اپنے فقر، کمی، بے بضاعتی کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ وہ یہ درک کر لیتا ہے کہ وہ ہر آن، ہر لحظہ اس ذات کا محتاج ہے جو اسے مسلسل وجود عطا کر رہی ہے۔ خود یہ ادراک بھی ایک نعمت اور کمال ہے جو اسے قرب عطا کرتا ہے۔ پس محدود کے لیے لا محدود کے قریب اور نزدیک ہونے کا راستہ بھی لا محدود ہے۔  

+ لکھاری عباس حسینی در 24 Oct 2017 و ساعت 9:50 PM |

ويل للمطففين

 

قرآن مجید کی دو سورتیں لفظ "ویل" سے شروع ہوئی ہیں۔ ایک یہی سورہ "مطففین" ہے، اور دوسری سورہ "ھمزہ" ہے۔ دونوں سورتوں میں بات ان لوگوں کے متعلق ہے جو مال وثروت کے فریفتہ ہیں اور مالِ دنیا کے مقابلے میں حکم خدا سے سرپیچی کرتے ہیں۔

            ویل کے معنی یا تو ہلاکت اور رحمت خدا سے دوری کے ہے، یا جہنم کی ایک خاص وادی کے ہے جس کی وعید ان کو سنائی جا رہی ہے۔

            پرانے زمانے میں جنس کے بدلے جنس کا نظام رائج تھا، جس میں ایک جنس کے بدلے دوسری جنس تول کر دی جاتی تھی۔ اس دوران کچھ لالچی لوگ دو کام کیا کرتے تھے۔ جب دوسروں کا مال تول کر لینے کی باری ہوتی تو پورا تول لیا کرتے، جبکہ اپنی جنس دیتے وقت کم تول لیا کرتے۔ ایسے لوگوں کو قرآن نے مطففین کہا ہے اور ان کے اس عمل کی شدت سے مذمت کی ہے۔ کیا ان لوگوں کو یہ گمان بھی نہیں کہ ان کودوبارہ زندہ کیا جائے گا اور ان سے اس برے عمل کے بارے میں پوچھا جائے گا؟ پس قیامت کا گمان اور حساب وکتاب کا احتمال بھی برے اعمال سے بچانے کے لیے کافی ہے اور عاقل انسان اس احتمال کی بھی پرواہ ضرور کرتا ہے۔ جس طرح سے یہ لوگ جنس اور مال کو آج ترازو میں ڈال کر تولتے ہیں، قیامت کے دن ان کے اعمال تولے جائیں گے۔ (وَ الْوَزْنُ‏ يَوْمَئِذٍ الْحَق‏)۔ البتہ خدا کے ترازو اور میزان میں کمی بیشی نہیں ہوگی۔ وہ عدل الہی کا ترازو ہوگا۔

مفسرین کا بیان ہے کہ تطفیف صرف جنس کے بدلے جنس کے ساتھ خاص نہیں۔ صرف ترازو والے مورد کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ اجتماعی زندگی کے ہر موڑ پر جہاں کوئی معاملہ درکار ہو تطفیف کا مورد پیش آسکتا ہے۔

  • اگر کوئی مزدور طے شدہ مزدوری کے مطابق کام نہ کرے تب بھی تطفیف ہے۔
  • اگر کوئی استاد، کوئی ڈاکٹر، کوئی انجینئیر اپنی تنخواہ اور ذمہ داری کے مطابق فریضہ ادا نہ کرے تب بھی تطفیف ہے۔
  • اگر کوئی خطیب اپنے مقررہ وقت سے کم پڑھ کر پیسے پورے وصول کرے تب بھی تطفیف ہے۔

یہاں اس مورد میں قرآن کا اسلوب عجیب ہے۔ مطففین کے ذکر کے فورا بعد کہا یقینا فجار (فاجر لوگوں) کی کتاب اور ان کا نامہ اعمال سجین (زندان) میں ہے۔ پس قرآن نے مطففین کو فاجر کہا ہے اور فاجر لوگوں کے لیے جہنم کے زندان کا عذاب قرار دیا ہے۔

پھر قرآن مجید دوبارہ ویل کی وعید سناتا ہے، چونکہ یہ لوگ قیامت کا انکارکرتے ہیں۔ اور یہ انکار خود ان کے اعمال کا نتیجہ ہے، کسی فکری یا اعتقادی اصول کی بنیاد پر نہیں۔ اپنے غلط اعمال کو جب دیکھتے ہیں تو اس کی توجیہ کے لیے قیامت کا انکار کرتے ہیں۔ اگر قیامت کو مانیں گے تو حساب وکتاب کو ماننا پڑے گا۔ اگر حساب وکتاب ہی مد نظر ہے تو برے اعمال سے بچنا ہوگا۔ پس برے اعمال کی توجیہ کا یہی راستہ ہے کہ قیامت کا ہی انکار کر دیں۔ یہ قانون ہے کہ جس طرح انسان اپنے اعمال کو بناتا ہے، اسی طرح اعمال، انسان کے بننے میں اور اس کی پرورش میں کردار ادا کرتے ہیں۔ جس طرح برے عقیدے کے نتیجے میں برے اعمال صادر ہوتے ہیں، اسی طرح برے اعمال کے نتیجے میں برے عقیدے بھی بنتے ہیں۔

 

(استفادہ از مجموعہ شہید مرتضی مطھری، بخش تفسیر)

+ لکھاری عباس حسینی در 14 Jul 2017 و ساعت 12:52 PM |