ادعونی۔۔۔ (مجھے پکارو۔۔۔)
میرے پروردگار نے کہا ہے: "ادعونی (مجھے پکارو۔۔۔)"
کتنی بڑی سعادت ہے!
یعنی میں ٹھیک سن رہا ہوں؟
آسمانوں کا خدا۔۔۔ زمین کا خدا۔۔۔ پاکیزہ انسانوں کا خدا۔۔۔ پیغمبروں کا خدا۔۔۔ محمد مصطفیﷺ کا خدا۔۔۔ علی مرتضیؑ کا خدا۔۔۔ ہر کسی اور ہر چیز کا خدا۔۔۔
اور میں؟ میں تو کچھ بھی نہیں ہوں۔ من کجا؟ خدا کجا؟ یقین کرنا مشکل ہے۔ یعنی ایسا خدا مجھے اجازت دے رہا ہے میں اسے پکاروں؟ اس کے ساتھ باتیں کروں؟ یعنی میں اس کے سامنے اپنا دردِ دل بیان کر سکتا ہوں۔۔۔ اور بڑی آسانی کے ساتھ اس سے دعا مانگ سکتا ہوں؟
ایک بار پھر پڑھنا چاہتا ہوں۔۔۔ "أدعوني... استجب لكم..."
جب میرے مولا علی علیہ السلام کی بات سنتا ہوں میرے دل کو ایک حد تک سکون ملتا ہے۔ آپؑ اپنے فرزند اطہر امام حسن مجتبیؑ سے (نھج البلاغہ مکتوب31 میں) فرماتے ہیں:
جان لو کہ جس کے قبضہ قدرت میں آسمان اور زمین کے خزانے ہیں
اس نے تمہیں سوال کرنے کی اجازت دے رکھی ہے
اور قبول کرنے کا ذمہ لے لیا ہے
اور حکم دیا ہے کہ تم خود مانگو تاکہ وہ دے
رحم کی درخواست کرو تاکہ وہ رحم کرے
اس نے اپنے اور تمہارے درمیان دربان کھڑے نہیں کئے جو تمہیں روکتے ہوں
اور نہ تمہیں اس پر مجبور کیا ہے کہ تم کسی کو اس کے ہاں سفارش کے لیے لاؤ
تم نے گناہ کیے ہوں تو اس نے تمہارے لیے توبہ کی گنجائش ختم نہیں کی
نہ سزا دینے میں جلدی کی ہے
نہ ہی توبہ و انابت کے بعد وہ کبھی طعنہ دیتا ہے
نہ ہی توبہ کے قبول کرنے میں تمہارے ساتھ سخت گیری کی ہے
نہ ایسے موقعوں پر تمہیں رسوا کیا ہے جہاں تمہیں رسوا ہی ہونا چاہیے تھا
نہ اس نے توبہ کے قبول کرنے میں تمہارے ساتھ سخت گیری کی ہے
نہ گناہ کے بارے میں تم سے سختی کے ساتھ جرح کرتا ہے
نہ اپنی رحمت سے مایوس کرتا ہے۔۔۔
اس نے توبہ کا دروازہ کھول رکھا ہے۔
جب بھی تم اسے پکارو وہ تمہاری سنتا ہے
جب بھی راز ونیاز کرتے ہوئے اس سے کچھ کہو وہ جان لیتا ہے
تم اسی سے مرادیں مانگتے ہو
اسی کے سامنے دلوں کے بھید کھولتے ہو
اسی سے اپنے دکھ درد کا رونا روتے ہو
مصیبتوں سے نکالنے کی التجا کرتے ہو
اپنے کاموں میں مدد مانگتے ہو
اس نے تمہارے ہاتھ میں اپنے خزانوں کے کھولنے والی کنجیاں دے دی ہیں
اس طرح کہ تمہیں اپنی بارگاہ میں سوال کرنے کا طریقہ بتایا
اس طرح جب تم چاہو دعا کے ذریعے اس کی نعمت کے دروازوں کو کھول لو
اس کی رحمت کی جھالوں کو برسا لو۔
(امیر کائناتؑ کے یہ گہر بار کلمات سن کر) ایک دم سے سکون مل گیا۔۔۔
اب جب مجھے اجازت ہے۔۔۔ کیسے اسے پکاروں؟
اس سے کیا مانگوں؟
مجھے تو حاضری کے آداب کا نہیں پتہ۔
ہاں! بہترین راستہ یہ ہے کہ سیکھ لوں۔
سیکھنے کے لیے امام العارفین، زین العابدین، سید الساجدین علیہ السلام سے بہتر استاد کون؟
زبور آل محمد علیھم السلام، صحیفہ سجادیہ سے بہتر نمونہ اور کون سا ہو سکتا ہے؟
(درسنامه صحیفه سجادیه ص21)