توکل و توسل ہمیشہ ضروری ہے

بعض لوگ گمان کرتے ہیں کہ توکل کا راستہ تسبب(اسباب اور وسائل سے استفادے) سے الگ ہے۔

گویا جہاں کسی کام کے لیے درکار اسباب اور عوامل فراہم ہوں وہاں توکل کی ضرورت نہیں

لیکن جہاں یہ عوامل و اسباب میسر نہ ہوں وہاں خدا پر توکل اور اعتماد کرنا چاہیے۔

دعا اور توسل کے بارےمیں یہی گمان کرتے ہیں

دعا اور توسل کی جگہ وہاں ہے جہاں عادی وسائل اور مادی اسباب فراہم نہ ہوں۔

یہ دونوں گمان باطل ہیں۔

ایسا نہیں ہے کہ انسان کچھ امور کو عادی اسباب کے ساتھ انجام دے

اور کچھ کاموں کو توکل، توسل اور دعا کے ذریعے انجام دے۔

انسان کے تمام امور میں ان دونوں چیزوں کا ساتھ ساتھ ہونا ضروری ہے۔

جہاں انسان وسائل اور اسباب کے ساتھ کام کر رہا ہو وہاں بھی خدا پر توکل ضروری ہے

ہمارے تمام کاموں میں توکل، توسل اور دعا ہمیشہ اور ہر جگہ موجود ہونا چاہیے۔

آیت اللہ جوادی آملی

عمل عرفانی در پرتو علم وحیانی

+ لکھاری عباس حسینی در 11 Apr 2023 و ساعت 1:29 PM |

سب سے بڑی عبادت

ارشاد ہوا: "ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ"

مجھے پکارو! میں تمہیں جواب دوں گا۔ جو لوگ میری عبادت (دعا) سے تکبر کرتے ہیں وہ رسوا ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔

خدا سے نہ مانگنا اور اپنے آپ کو بے نیاز سمجھنا استکبار ہے، عبادت سے استکبار۔ لہذا دعایعنی خدا سے مانگنااور اس سے مدد طلب کرنا سب سے بڑی عبادت ہے۔ اپنے فقر، اپنی نیاز اور ضرورت کا اعلان سب سے بڑی عبادت ہے۔

کوئی بھی دوسری حقیقت (اور وجود) ایسا نہیں ہے جس کی طرف مخلوقات محتاج ہوں۔ کوئی دوسرا الٰہ اور معبود نہیں ہے۔ معبود یعنی وہ ذات جس کی طرف باقی تمام مخلوقات محتاج ہیں۔ اس کے اسماء حسنیٰ، کائنات اور اس میں موجود تمام فقیروں کی ضرورت پورے کرتے ہیں۔ قرآن نے کہا: "أَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ إِلَى اللَّهِ" (تم سب خدا کی طرف محتاج ہو۔) ایسی ذات معبود ہے۔ (اسی وجہ سے کہا گیا) "وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ" اللہ بے نیاز ہے جس کی حمد اور تعریف کی جانی چاہیے۔

آیت الله میرباقری

تأملات قرأنی

+ لکھاری عباس حسینی در 11 Apr 2023 و ساعت 1:27 PM |

مغرب پرستی

مغربی تفکر اور تمدّن وہاں کی ٹیکنالوجی اورعلم سے جدا نہیں ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے ساتھ وہ خاص نظریہ کائنات (Worldview) بھی ہے جس کی جگہ اس ٹیکنالوجی نے اس معاشرے بنائی ہے۔ اسی وجہ سے کہا جاتا ہے: "مغرب مجموعی طور پر ایک (نظام) ہے۔"

ابھی تک انسانوں کی توجہ مغربی ٹیکنالوجی کی طرف ہے لیکن وہ اس اہم نکتے سے غافل ہیں۔ مغربی علوم کی طرف جاتے ہیں اور مغرب پرست بن کر لوٹ آتے ہیں۔ مغرب نے اپنی ذات اور اپنی ماہیت کو علم اور ٹیکنالوجی کی اوٹ میں چھپا لیا ہے تاکہ اس ٹیکنالوجی کی بنیاد پر پوری دنیا پر مغربی تمدن کا راج ہو۔ (پس ٹیکنالوجی اور تمدن میں فرق برقرار رہے۔)

استاد طاهر زاده

علل تزلزل تمدن غرب

+ لکھاری عباس حسینی در 11 Apr 2023 و ساعت 1:25 PM |

رسول اللہﷺ کا تواضع

حضور پرنورﷺ سلطان دنیا وآخرت ہونے کے ساتھ ساتھ جمیع عوالم پر تصرّف فرما بھی تھے۔ اس کے باوجود بندگانِ الہی کے ساتھ آپ کا تواضع سب سے زیادہ تھا۔ آپ کو یہ بات سخت ناگوار تھی کہ آپ کے اصحاب آپ کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوں۔ جہاں بھی تشریف لے جاتے تھے سب سے آخر میں بیٹھتے تھے۔ زمین پر بیٹھ کر کھانا تناول فرماتے تھے اور زمین ہی پر نشست وبرخاست رکھتے تھے۔ فرمایا کرتے تھے: میں خدا کا بندہ ہوں لہذا غلاموں کی طرح کھاتا ہوں اور غلاموں ہی کی طرح بیٹھتا ہوں۔

حضرت امام جعفر صادقؑ فرماتے تھے: آنحضرتﷺ بے پالان گدھے پر بیٹھنے کو پسند کرتے تھے اور بندگانِ الہی کے ساتھ معمولی جگہوں پر کھانا تناول فرمانے کے دوست رکھتے تھے۔ فقراء کو اپنے دونوں ہاتھوں سے دینے میں خوشی محسوس کرتے تھے۔ آپ جب بھی گدھے پر سوار ہوتے تھے اپنے پیچھے اپنے غلام یا کسی اور بٹھا لیتے تھے۔

آنحضرتﷺ کی سیرت میں یہ بھی ہے کہ اپنی بیویوں کے ساتھ گھریلو کاموں میں ہاتھ بٹاتے تھے۔ گوسفندوں کو اپنے ہاتھ سے دوہتے تھے۔ اپنے کپڑوں اور جوتیوں کو خود ہی ٹانک لیتے تھے۔ فقراء اور مساکین کے ساتھ اٹھتے اور بیٹھتے تھے اور ان کے ساتھ کھانا کھاتے تھے۔

اپنے خادم کے ساتھ چکی کا آٹا پیستے تھے۔ آٹا خمیر کرتے تھے۔ اپنا سامان خود اٹھاتے تھے۔ ان جیسی اور ان سے بالاتر چیزوں کے بارے میں آنحضرتﷺ کی سیرت یہی تھی۔ تواضع آپ کی مخصوص صفت تھی حالانکہ آنحضرتﷺ مقامات معنوی کے دارا ہونے کے ساتھ ساتھ سلطنتِ ظاہری پر بھی فائز تھے۔ اسی طرح حضرت علیؑ بھی رسول خداﷺ کی پیروی میں ان تمام امور کو انجام دیا کرتے تھے۔ آپؑ کی سیرت بالکل رسول خداﷺ کی سیرت تھی۔

امام خمینیؒ
چہل حدیث، شرح حدیث 4

+ لکھاری عباس حسینی در 11 Apr 2023 و ساعت 1:23 PM |

دعای کمیل اور ابوحمزہ

اسلام کے اندر جو عظیم خزانے موجود ہیں ان میں سے ایک یہی دعائیں ہیں۔ خدا کی قسم! معرفت کے خزانے ہیں۔ بالفرض، ان دعاؤں کے علاوہ ہمارے پاس کوئی دوسری دلیل نہ ہوتی (تب بھی یہی کافی تھیں۔)

امیر المومنینؑ سے صحیفہ علویہ، امام زین العابدینؑ سے صحیفہ سجادیہ یا ان کے علاوہ دعائیں (منقول ہیں۔) اگر ہمارے پاس امیر المومنینؑ کی دعائے کمیل اور امام زین العابدینؑ کی دعائے ابی حمزہ ثمالی کے علاوہ (بالفرض) کچھ بھی نہ ہوتا، چودہ صدیوں میں اسلام کے دامن میں بس یہی دو چیزیں ہوتیں، تب بھی یہی بہت تھا کہ اسلام کے دو عظیم شاگردوں سے اس بدویت اور جاہلیت کے دور میں اتنی عظیم دعائیں صادر ہوئی ہیں۔ یہ دعائیں اس قدر بلند ہیں، اتنی زیادہ رفعت رکھتی ہیں کہ (اسلام کی حقانیت پر یہی دلیل کافی ہے۔) کیا معجزہ اس کے علاوہ کچھ اور ہوتا ہے؟

شہید مرتضی مطہری

آزادی معنوی

+ لکھاری عباس حسینی در 7 Oct 2021 و ساعت 10:7 PM |

نماز قائم کرنے کا معنی

 

کسی معاشرے میں نماز قائم کرنے (اقامہ صلات)کا معنی یہ ہے کہ

نماز کی روح اس معاشرے میں زندہ ہو۔

وہ معاشرہ نماز پڑھنے والا معاشرہ بن جائے۔

نماز پڑھنے والا معاشرہ یعنی وہ معاشرہ جس کے تمام گوشہ وکنار میں خدا کا ذکر اور خدا کی یاد موجیں مار رہی ہو

جس معاشرے میں خدا کی یاد زندہ اور تازہ ہو وہاں برے سانحات (Tragedies) رونما نہیں ہوتے

اس معاشرے میں کوئی جنایت اور کوئی خیانت انجام نہیں پاتی

اس معاشرے میں انسانی قدریں پامال نہیں ہوتیں۔

وہ معاشرہ جس پر خدا کی یاد حاکم ہو

وہاں لوگ خدا کو یاد رکھتے ہیں

اس معاشرے کا رخ خدا کی طرف ہے۔

اس معاشرے میں تمام لوگ خدا کی خاطر کام کرتے ہیں۔

رهبر معظم انقلاب

طرح کلی اندیشه اسلامی

+ لکھاری عباس حسینی در 7 Oct 2021 و ساعت 10:6 PM |

علیؑ کی تکبیر

اے محبّین کی حالت سے بے خبر!

اے محبّین کی آتشِ دل سے بے بخبر بدبخت شخص!

اے مخلصین کے سوز وگداز اور ان کے نور اعمال سے غافل شخص!

کیا تجھے گمان تھا کہ ان کے اعمال، میرے اور تیرے جیسے ہیں؟

تم کو تو یہی خیال ہوگا کہ حضرت علیؑ اور ہماری نماز میں بس اتنا فرق ہے کہ

وہ ولاالضالّین کی مدّ کو ذرا لمبا کر دیتے ہوں گے؟

یا ان کا رکوع و سجدہ و ذکر اور وِرد زیادہ طولانی ہوتا تھا؟

یا ان کو یہ امتیاز تھا کہ ایک رات میں کئی سو رکعت پڑھتے تھے؟

کیا سید الساجدین بھی حور العین، ناشپاتی اور انار کی خاطر گریہ وزاری کرتے تھے؟

انہیں بزرگ ہستیوں کی قسم اگر ہم سب مل کر بھی حضرت علیؑ کی طرح لا الہ الا اللہ کہنا چاہیں تو ناممکن ہے

میرے سر پر خاک اگر میں خیال کروں کہ میں نے ولایتِ علی کے مقام کی معرفت کا حق ادا کیا ہے۔

مقامِ علیؑ کی قسم! رسول خداﷺ کے علاوہ دوسرے انبیائے مرسلین اور ملائکہ مقربین بھی علیؑ کی طرح ایک تکبیر کہنا چاہیں تو نہیں کہہ سکتے۔

ان کے دل کا حال ان کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

امام خمینی (رحمه الله)

چهل حدیث، حدیث 3

+ لکھاری عباس حسینی در 7 Oct 2021 و ساعت 10:4 PM |

عورت کا مقام

عورت اگر پرندے کی صورت میں خلق ہوتی تو ضرور “مور” ہوتی،

 اگر چوپائے کی صورت میں خلق کی جاتی تو ضرور “ہرن” ہوتی،

 اگر کیڑے مکوڑے کی صورت میں خلق کی جاتی تو ضرور “تتلی” ہوتی،

لیکن وہ انسان خلق ہوئی تاکہ ماں، بہن  بیٹی اور عشق بنے۔

عورت ایک بڑی اشرف المخلوقاتِ خدا میں سے ہے

جو اس حد تک نازک مزاج کہ اک پھول اسے راضی اور خوش کردیتا ہے

 اور اِک لفظ اسے ماردیتا ہے۔

تو بس اے مردوں! خیال رکھو۔ عورت تمھارے دل کے نزدیک بنائی گئی ہے تاکہ تم اپنے دل میں اسکو جگہ دو!

تعجب آور ہے!  کہ عورت اپنے بچپنے میں اپنے باپ کے لیئے برکت کے دروازے کھولتی ہے،

اپنی جوانی میں اپنے شوہر کا ایمان کامل کرتی ہے

اور جب ماں بنتی ہے تو جنت اس کے قدموں تلے ہوتی ہے۔

عورت کی قدر کرو!

ڈاکٹر علی شریعتی

+ لکھاری عباس حسینی در 7 Oct 2021 و ساعت 10:1 PM |

 بیت المال کا خیال

ایک فوجی کا بیان ہے: ایک رات ہمیں دشمن پر حملہ کرنا تھا۔ ہمیں ایک ایسی جگہ سے گزرنا تھا جہاں بارودی سرنگیں بچھائی گئی تھیں۔ طے پایا کہ کچھ نوجوان فوجی رضاکارانہ طور پر آگے بڑھیں گے اور بارودوی سرنگوں سے گزریں گے تاکہ راستہ کھل جائے اور بٹالین وھاں سے گزر کر دشمن پر حملہ کر سکے۔

 یہ بات سب جانتے تھے کہ بارودی میدان میں قدم رکھنےکا مطلب یہ ہے کہ کسی کا ہاتھ، کسی کی ٹانگ، کسی کا جسم یا کسی کی گردن سلامت نہیں رہے گی۔

یہاں دست و پاکٹیں گے، یہ کوئی دل لگی نہیں ھے!

کچھ نوجوان آگے بڑھے اور رات کے اندھیرے میں بارودی میدان کی جانب چلنا شروع ہو گئے۔

تھوڑی دیر بعد بارودی میدان کی زمین میں چھپے ہوئے بموں کے دھماکوں کی آوازیں آنی شروع ہو گئیں۔

اچانک۔۔۔ میں نے دیکھا کہ بارودی میدان سے ایک نوجوان لوٹ کر آرہا ہے۔ میں نے سوچا کہ شاید زندگی کی محبت غالب آگئی ہے اور موت کو قریب دیکھ کر اور ہوا میں اچھلتے ہوئے انسانی اعضاٰء دیکھ کر اس نے اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا ہوگا۔

میں اندھیرے میں ہی رک گیا تاکہ اسے شرمندگی نہ ہو! پھر دیکھا کہ وہ دوبار بارودی میدان کی جانب جا رہا ہے۔

جب وہ قریب آیا تو میں نے اس سے پوچھا: کیا تم انہی لوگوں میں سے نہیں ہو جو رضاکارانہ طور پر بارودی میدان گئے تھے۔

اس نے جواب دیا: ہاں میں انہی میں سے ہوں۔

میں نے پوچھا: تم واپس کیوں آگئے؟

اس نے کہا: میرے فوجی بوٹ بالکل نئے ہیں! میں نے سوچا کہ انہیں اتار دوں۔ یہ بیت المال سے خریدے گئے ہیں۔ میں نے تو اپنی جان دینی ہے۔ سوچا کہ یہ بوٹ ضایع کیوں کروں۔ کسی اور کے کام آجائیں گے !!!


ٹیگس: شہید
+ لکھاری عباس حسینی در 1 May 2021 و ساعت 3:45 AM |

دل کا مکین

ایسے دلوں کے لیے جو شیطان کی منزل ہے، صحیح توحید اور معارفِ الہی کا حصول محال ہوا کرتا ہے۔ یہ صورت اس وقت تک رہے گی جب تک تمہارا ملکوت انسانی نہ ہو جائے اور تمہارا دل ان کجیوں اور خود خواہیوں سے پاک نہ ہو جائے۔
حدیث قدسی میں ارشاد ہے:

میری زمین اور آسمان میں میری سمائی نہیں ہے۔ صرف میرے مومن بندے کے دل میں میری سمائی ہے۔

لَا یَسَعُنِي أرْضِي وَلا سَمائِي وَلکِن یَسَعُنِي قَلْبُ عَبْدِيَ الْمُؤْمِنِ

اسی طرح سے (حدیث قدسی میں ہی) ارشاد ہوا:

 ‎‏قَلْبُ الْمُؤْمِنِ بَیْنَ إصْبَعَیِ الرَّحْمنِ، یُقَلِّبُهُ کَیْفَ یَشاءُ

رحمان کے دونوں انگلیوں کے درمیان مومن کا دل ہے۔ وہ جس طرح چاہتا ہے اس کو الٹتا پلٹتا ہے۔

مومن کے دل میں دستِ حق متصرف ہوتا ہے۔ لیکن اے بے چارے! تُو تو اپنے نفس کی عبادت کرتا ہے۔ تیری مملکتِ قلب پر شیطان متصرّف ہے۔ تیرے قلب سے خدا نے اپنے حقّ تصرّف کو اٹھا لیا ہے۔ اب بھلا تیرے پاس کونسا ایمان ہے؟ جس کی وجہ سے تو تجلّی بن سکے اور تو مطلق سلطنت کی جگہ واقع ہو سکے!

پس تو سمجھ لے۔۔۔ جب تک تیری یہ حالت ہے اور ریاکاری جیسی بری صفت تیرے اندر ہے تو کافر باللہ ہے اور تیرا شمار منافقین میں ہے چاہے تو اپنے آپ کو مومن و مسلمان ہی سمجھتا رہے۔

امام خمینی (رحمہ الله)

چہل حدیث، حدیث ۲


ٹیگس: امام خمینی
+ لکھاری عباس حسینی در 1 May 2021 و ساعت 3:43 AM |

اعمال کا ترازو

 

جس طرح سے مستری اپنے مخصوص اوزار کے ذریعے دیوار کے سیدھی ہونے کے حوالے سے اطمئنان حاصل کرتا ہے، جس طرح سے دکاندار اپنی چیز بیچنے کے لیے میٹر اور ترازو کا سہارا لیتا ہے (تاکہ بیچنے والی چیز کی مقدار کا علم ہو۔) حق کے راستے کے مسافر کو بھی چاہیے ہر قدم پر اپنے عقائد، افکار، اخلاق اور اعمال کو "خدائی ترازو" پر تولے تاکہ انحراف، افراط اور تفریط سے بچا جا سکے۔

امیر المومنین (علیہ السلام) کی زیارت میں ہم پڑھتے ہیں "السلام على ميزان الأعمال" (اے اعمال کے ترازو! آپ پر سلام ہو۔) ائمہ علیھم السلام انحراف کی نشاندہی کرتے ہیں۔ منحرف راستوں کے بارے میں بتاتے ہیں۔ حضرت امیرؑ نہج البلاغہ کی حکمت 109 میں فرماتے ہیں: "ہم وہ نقطہ اعتدال ہیں جن سے پیچھے رہ جانے والا آگے بڑھ کر ان سے مل جاتا ہے اور آگے بڑھ جانے والا پلٹ کر ملحق ہو جاتا ہے۔"

حضرت عبد العظیم حسنیؒ وہ معروف ترین شخصیت ہیں جنہوں نے اپنا دین امام نقی ہادی علیہ السلام کے سامنے پیش کیا۔ امام عالی مقام نے ان کے عقائد کی تائید فرمائی اور انہیں ان پر ثابت قدم رہنے کے حوالے سے تشویق فرمائی۔

اسی طرح جب اسماعیل بن جابر نے اپنا دین امام باقر علیہ السلام کے سامنے پیش کیا تو آپؑ نے اس کی تائید کرتے ہوئے فرمایا: "هذا دین الله ودین ملائکة الله" یہ وہی اللہ اور اس کے رسولﷺ کا دین ہے۔

آیت اللہ جوادی آملی

+ لکھاری عباس حسینی در 1 May 2021 و ساعت 3:40 AM |

حیوان اور انسان میں فرق

حیوان سے انسان کا فرق یہ ہے کہ حیوان کے تمام جسمانی اور روحانی کمالات ایک ساتھ اسے عطا ہوتے ہیں۔ مثلا شہد کی مکھی جس دن دنیا میں آتی ہے اسی دن اس کے بدن کے ساتھ تمام ممکنہ باطنی، روحی اور حیاتیاتی کمالات اسے عطا ہوتے ہیں۔

جبکہ انسان جب اس دنیا میں آتا ہے جسمانی لحاظ سے ایک مخصوص شکل و صورت رکھتا ہے لیکن روح کے لحاظ سے اس کی کوئی معین شکل نہیں۔ روح کی شکل وہی ہے جو وہ اس دنیا میں (اپنے ہاتھوں سے) بناتا ہے۔

انسان کے اپنے اختیار میں ہے چاہے تو اپنی روح کو اتنی عظمت دے کہ دنیا اور جو کچھ اس دنیا میں ہے ان سے بڑھ کر اس کی روح کی عظمت ہو۔ ممکن ہے انسان اپنی روح کو اتنے پست اور حقیر مرتبے تک لے جائے کہ چیونٹی سے بھی چھوٹی بن جائے۔

انسان کے اختیار میں ہے چاہے تو روح کو اتنی خوبصورت بنائے کہ کوئی فرشتہ بھی اس کی خوبصورتی کا مقابلہ نہ کر سکے۔ اسی طرح ممکن ہے اتنی "زشت" بنائے کہ اس کے سامنے بندر اور خنزیر بھی خوبصورت لگنے لگے۔

انسان جس طرح اپنے آپ کو یہاں بنائیں گے اسی طرح (قیامت کے دن) محشور ہوں گے۔

شھید مرتضی مطہریؒ

+ لکھاری عباس حسینی در 1 May 2021 و ساعت 3:38 AM |

رہبر اور کتاب

 

ہمارے گھر کے اندر میں اور باقی سارے افراد مطالعہ کرتے کرتے سو جاتے ہیں۔ ایران کی تمام فیملیز کو ایسی ہونی چاہیے۔

میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے گھر میں سارے لوگ، بلا استثناء، ہر رات مطالعہ کرتے کرتے سو جاتے ہیں۔ میں خود بھی اسی طرح ہوں۔ ایسا نہیں ہے کہ مطالعے کے دوران ہی سو جاؤں۔ کتاب پڑھنا شروع کرتا ہوں تاکہ نیند آجائے۔ جب نیند آتی ہے تو کتاب کو ایک طرف رکھ کر سو جاتا ہوں۔

گھر کے باقی افراد بھی جب سونا چاہتے ہیں تب ان کے ہاتھ میں ایک کتاب ہوتی ہے۔ میں سوچتا ہوں ایران کی ساری فیملیز کو ایسی ہونی چاہیے۔ میری خواہش یہی ہے۔

والدین کو چاہیے بچوں کو شروع سے ہی کتاب سے مانوس کریں۔ یہاں تک کہ چھوٹے بچوں کو بھی (عمر کے حساب سے) کتاب سے مانوس کرنا چاہیے۔

کتاب کی خرید ماہانہ خرچے کا ایک حصہ ہونا چاہیے۔ بعض آرائشی چیزیں (جیسے مختلف قسم کے فرنیچر، فانوس وغیرہ) خریدنے سے بہتر ہے کتاب کو اہمیت دیں۔ پہلے کتاب خریدیں جیسے ہم کھانے پینے کی چیزیں لازمی خریدتے ہیں پھر اگر یہ چیزیں پوری ہوں تب اضافی چیزوں کی طرف جائیں۔

رہبر معظم انقلاب سید علی خامنہ ای (حفظہ الله)

(من و کتاب)

+ لکھاری عباس حسینی در 26 Apr 2021 و ساعت 12:29 AM |

ایک دن بھی زوجہ کے بغیر کھانا نہیں کھایا

کچھ ہی عرصہ پہلے سنا کہ امام خمینیؒ اپنی زوجہ کے بغیر کبھی کھانا نہیں کھاتے تھے۔ یہ کام زوجہ کے دل میں کتنا اثر گذار ہوگا۔ اگر شوہر جوان ہے تو ممکن ہے دسترخوان پر ایک ساتھ بیٹھنا ان کے لیے لذت کا باعث ہو۔ لیکن بڑھاپے کی عمر میں یہ چیزیں بھی مدّنظر نہیں ہیں۔ یہ کام یقینا انسانی احساسات اور حقوق کا خیال ہے۔

وہ شخصیت جس کا مقام یہ تھا کہ دنیا کی بڑی طاقتیں اسے اس کی عظمت، لیاقت، شوکت اور بلند ہمتی سے پہچانتی تھی، اس کے سامنے تعظیم کے طور پر کھڑی ہوتی تھی وہی شخصیت گھریلو مسائل کا اتنا زیادہ خیال رکھتے تھے۔

ہمیں بھی عمر کے آخری لمحے تک اپنے ہمسر کے حقوق کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہیے۔ اسلامی تربیت اور آداب کی رعایت کرنی چاہیے۔

آیت الله فاضل لنکرانی

(اخلاق فاضل، ص ۲۷۱)

+ لکھاری عباس حسینی در 26 Apr 2021 و ساعت 12:24 AM |

عمل اور جزا

ایک پھل کو مدنظر رکھیں جو یا تو صحیح اور سالم ہے یا معیوب اور فاسد۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ پھل اگر خراب ہوا ہے تو آخری دن جا کر ایسا ہوا ہو بلکہ اس کے خراب ہونے میں متعدد عوامل کارفرما ہیں۔ مثلا باغبان کی سستی، پانی کی کمی، بیماریوں کا حملہ وغیرہ۔ پھل کی خرابی آخری دن یا آخری لمحات کا نتیجہ نہیں ہے۔ (اس کی پوری زندگی اور اس کے تمام مراحل کا اس میں ہاتھ ہے۔)

انسان کے اعمال کی جزا بھی اسی طرح سے ہے۔ وہ جزا قیامت کے دن کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ اس دنیا میں ہمارے انجام دئے گئے اعمال کا (منطقی) اثر اور نتیجہ ہے۔ پس ہم اس دنیا میں جس طرح سے عمل کریں گے آخرت میں اسی عمل اور اس کے نتیجے کے ساتھ زندگی گزاریں گے۔

انسان عام طور عمل اور جزا کے اس تعلق سے غافل ہے۔ ہاں قیامت کے دن ہر کوئی اس تعلق کو ضرور مشاہدہ کرے گا۔

امام موسی صدر

(حدیث سحرگاھان، ص ۱۱۳)

+ لکھاری عباس حسینی در 26 Apr 2021 و ساعت 12:18 AM |

ہم تم سے دور نہیں۔۔۔

ایک شخص نے دور اپنے وطن سے امام نقی ہادی (علیہ السلام) کو خط لکھا:

میرے مولا!

میں آپ سے دور ہوں۔

بعض اوقات کوئی ضرورت یا مشکل پیش آتی ہے۔

اس وقت میں کیا کروں؟

امام عالی مقام نے جواب میں لکھ بھیجا:

تمہاری کوئی حاجت ہو بس اپنے ہونٹوں کو ہلانا۔۔۔ ہم تم سے دور نہیں ہیں۔

إِنْ‌ كَانَتْ لَكَ حَاجَةٌ فَحَـرِّكْ شَفَتَيْك...

(بحار الانوار ج91، ص22)

آیت اللہ بھجت سے پوچھا گیا:

کیا امام زمان (علیہ السلام) ہماری آواز سنتے ہیں؟

انہوں نے فرمایا:

اہل بیت عصمت طھارت (علیہم السلام) مقام عصمت پر فائز ہیں

نہ غلطی کرتے ہیں اور نہ گناہ۔

امام زمان (علیہ السلام) خدا کی دیکھنے والی آنکھ، اس کے سننے والے کان، بولنے والی زبان اور پکڑے والے ہاتھ ہیں۔

یعنی یہ ہستی خدا کی چشمِ بینا، گوشِ شنوا، زبانِ گویا اور دستِ گشادہ ہیں۔

ہمارے اقوال، افعال، افکار اور نیتوں کا علم رکھتے ہیں۔

اس کے باوجود گویا ہم ان ہستیوں کو حاضر وناظر نہیں جانتے؟!

اور ان سے غافل ہیں۔۔۔

(در محضر آیت الله بہجتؒ، ص22)

+ لکھاری عباس حسینی در 20 Feb 2021 و ساعت 9:47 PM |

ادعونی۔۔۔ (مجھے پکارو۔۔۔)

 

میرے پروردگار نے کہا ہے: "ادعونی (مجھے پکارو۔۔۔)"

کتنی بڑی سعادت ہے!

یعنی میں ٹھیک سن رہا ہوں؟

آسمانوں کا خدا۔۔۔ زمین کا خدا۔۔۔ پاکیزہ انسانوں کا خدا۔۔۔ پیغمبروں کا خدا۔۔۔ محمد مصطفیﷺ کا خدا۔۔۔ علی مرتضیؑ کا خدا۔۔۔ ہر کسی اور ہر چیز کا خدا۔۔۔

اور میں؟ میں تو کچھ بھی نہیں ہوں۔ من کجا؟ خدا کجا؟ یقین کرنا مشکل ہے۔ یعنی ایسا خدا مجھے اجازت دے رہا ہے میں اسے پکاروں؟ اس کے ساتھ باتیں کروں؟ یعنی میں اس کے سامنے اپنا دردِ دل بیان کر سکتا ہوں۔۔۔ اور بڑی آسانی کے ساتھ اس سے دعا مانگ سکتا ہوں؟

ایک بار پھر پڑھنا چاہتا ہوں۔۔۔ "أدعوني... استجب لكم..."

جب میرے مولا علی علیہ السلام کی بات سنتا ہوں میرے دل کو ایک حد تک سکون ملتا ہے۔ آپؑ اپنے فرزند اطہر امام حسن مجتبیؑ سے (نھج البلاغہ مکتوب31 میں) فرماتے ہیں:

جان لو کہ جس کے قبضہ قدرت میں آسمان اور زمین کے خزانے ہیں

اس نے تمہیں سوال کرنے کی اجازت دے رکھی ہے

اور قبول کرنے کا ذمہ لے لیا ہے

اور حکم دیا ہے کہ تم خود مانگو تاکہ وہ دے

رحم کی درخواست کرو تاکہ وہ رحم کرے

اس نے اپنے اور تمہارے درمیان دربان کھڑے نہیں کئے جو تمہیں روکتے ہوں

اور نہ تمہیں اس پر مجبور کیا ہے کہ تم کسی کو اس کے ہاں سفارش کے لیے لاؤ

تم نے گناہ کیے ہوں تو اس نے تمہارے لیے توبہ کی گنجائش ختم نہیں کی

نہ سزا دینے میں جلدی کی ہے

نہ ہی توبہ و انابت کے بعد وہ کبھی طعنہ دیتا ہے

نہ ہی توبہ کے قبول کرنے میں تمہارے ساتھ سخت گیری کی ہے

نہ ایسے موقعوں پر تمہیں رسوا کیا ہے جہاں تمہیں رسوا ہی ہونا چاہیے تھا

نہ اس نے توبہ کے قبول کرنے میں تمہارے ساتھ سخت گیری کی ہے

نہ گناہ کے بارے میں تم سے سختی کے ساتھ جرح کرتا ہے

نہ اپنی رحمت سے مایوس کرتا ہے۔۔۔

اس نے توبہ کا دروازہ کھول رکھا ہے۔

جب بھی تم اسے پکارو وہ تمہاری سنتا ہے

جب بھی راز ونیاز کرتے ہوئے اس سے کچھ کہو وہ جان لیتا ہے

تم اسی سے مرادیں مانگتے ہو

اسی کے سامنے دلوں کے بھید کھولتے ہو

اسی سے اپنے دکھ درد کا رونا روتے ہو

مصیبتوں سے نکالنے کی التجا کرتے ہو

اپنے کاموں میں مدد مانگتے ہو

اس نے تمہارے ہاتھ میں اپنے خزانوں کے کھولنے والی کنجیاں دے دی ہیں

اس طرح کہ تمہیں اپنی بارگاہ میں سوال کرنے کا طریقہ بتایا

اس طرح جب تم چاہو دعا کے ذریعے اس کی نعمت کے دروازوں کو کھول لو

اس کی رحمت کی جھالوں کو برسا لو۔

(امیر کائناتؑ کے یہ گہر بار کلمات سن کر) ایک دم سے سکون مل گیا۔۔۔

اب جب مجھے اجازت ہے۔۔۔ کیسے اسے پکاروں؟

اس سے کیا مانگوں؟

مجھے تو حاضری کے آداب کا نہیں پتہ۔

ہاں! بہترین راستہ یہ ہے کہ سیکھ لوں۔

سیکھنے کے لیے امام العارفین، زین العابدین، سید الساجدین علیہ السلام سے بہتر استاد کون؟

زبور آل محمد علیھم السلام، صحیفہ سجادیہ سے بہتر نمونہ اور کون سا ہو سکتا ہے؟

(درسنامه صحیفه سجادیه ص21)

+ لکھاری عباس حسینی در 20 Feb 2021 و ساعت 9:45 PM |

صلوات کی فضیلت

امام صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا:

یوم الحسرت کونسا دن ہے؟

جس کے بارے میں خداوند متعال فرماتا ہے:

[وَأَنذِرهُم يَومَ الحَسرَةِ]

انہیں حسرت والے دن سے ڈراؤ۔

حضرت نے جواب میں ارشاد فرمایا:

یہ قیامت کا دن ہے

جس دن نیک لوگ بھی حسرت کا شکار ہوں گے

کہ کیوں اپنی نیکی میں اضافہ نہیں کیا؟!

پوچھا گیا:

کیا کوئی ایسا ہے جو اس دن حسرت کا شکار نہ ہو۔

آپؑ نے فرمایا:

ہاں۔ جو اس دنیا میں مسلسل رسول خداﷺ پر صلوات پڑھتا رہے۔

+ لکھاری عباس حسینی در 19 Feb 2021 و ساعت 9:57 PM |

قلبِ پیامبر اکرمﷺ کی وسعت

پیامبر اکرمﷺ کی روح کی وسعت اس کائنات کے برابر ہے۔

آپﷺ سے محبت اور آپ کے قرب کا مطلب یہ ہے کہ آپ ایک ایسے قلب کے نزدیک ہو رہے ہیں جس کی وسعت اس کائنات کے برابر ہے۔

جو دل پیامبر اکرمﷺ سے نزدیک ہوتا ہے اسی حساب سے کائنات کی تمام موجودات کی رحمت کلیہ سے بہرہ مند اور ان کے نور سے فیض یاب ہوتا ہے۔

وہ دل کتنا خوش قسمت ہے جس نے پیامبر اکرمﷺ کی طرف درست اور عارفانہ نگاہ کے ذریعے اس قلبِ قدسی کے کچھ حالات کو اپنے حصے میں لکھ لیا ہے۔


استاد طاہرزادہ

+ لکھاری عباس حسینی در 19 Feb 2021 و ساعت 9:53 PM |

وحی کی ضرورت

انسان وحی کا محتاج کیوں ہے؟

انسان کے لیے وحی اور دین کی ضرورت اس وجہ سے نہیں چونکہ انسانی عقل ناقص(طفولت کے مرحلے میں) ہے بلکہ انسانی عقل کسی بھی صورت (ہدایت اور رشد کے لیے) کافی نہیں ہے۔ اس لیے انسان کے لیےعقل سے برتر منبع کا ہونا ضروری ہے۔ انسان کی ہدایت، کمال اور اسے مقصد تک پہنچانے کے لیے صرف اس کی عقل ہرگز کافی نہیں۔

پس ایک ایسے منبع کی ضرورت ہے جو اسے اس کی راہ اور اس کے مقصد کی نشاندہی کرے۔ (یہ وہی وحی اور غیب سے اتصال کا راستہ ہے۔) مگر یہ کہ کوئی انسان کے کمال کی آخری حد اسے قرار دے جسے وہ عقل کے ذریعے درک کرتا ہے۔ مگر یہ کہ کوئی کہے انسان کی سرشت، اس کے احساسات اور اس کی عقل اسے مقصد تک پہنچانے کے لیے کافی ہیں۔ اس صورت میں نبوت (اور وحی) کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔

(ہمارے مطابق وحی کی ضرورت ہمیشہ اپنی جگہ باقی اور برقرار ہے چونکہ وحی غیب سے متصل ہو کر ایسے مطالب اور حقائق انسانوں تک پہنچاتی جو انسانی عقل سے بہت فراترہیں۔ اسی لیے قرآن مجید نے کہا: "وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمْ تَكُونُواْ تَعْلَمُونَ" یعنی تمہیں وحی کے ذریعے ایسی باتیں سکھائی جاتی ہیں جنہیں تم خود (اپنی عقل کے ذریعے) نہیں سیکھ سکتے تھے۔)


استاد عینی زادہ موحد

مبانی فھم کلام خدا، ص 12

+ لکھاری عباس حسینی در 19 Feb 2021 و ساعت 9:42 PM |

اپنی زندگی کو امام زمان(عج) کے ساتھ گرہ لگائیں۔

اپنی زندگیوں کو امام زمان(عج) کے ساتھ گرہ لگائیں۔ ایسا نہ ہو کہ صرف دعائے ندبہ پڑھتے وقت ہم امام زمان(عج) کو یاد کر رہے ہوں۔ اپنی زندگی کے تمام امور میں امام زمان(عج) کے ساتھ ہونا چاہیے۔ صحیح عمل کے ذریعے امام زمان(عج) کے ساتھ محشور ہوں۔ اگر ایسا ہوا، تب امام زمان(عج) کی یاد مفید ہے۔

کسی نے امام صادق(ع) کی خدمت میں عرض کیا: میں آپ کی خدمت میں آرہا تھا، بعض لوگوں نے کہا: ہمارا سلام امام تک پہنچا دیں اور امام سے کہیں: ہمارے لیے دعا کریں۔

امام صادق(ع) نے فرمایا: کیا سوچتے ہو ہم تمہارے لیے دعا نہیں کرتے؟ ہر روز تمہارے اعمال ہمارے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ تم سے غلطیاں ہوئی ہیں تب ہمیں برا لگتا ہے، تمہارے لیے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی اس کے جبران کی توفیق تمہیں عطا کرے اور تم نیکی کی طرف پلٹ آؤ۔

یعنی میرا ہر روز کا عمل ائمہ علیھم السلام کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ میں دعائے ندبہ پڑھتے وقت بلند آواز سے گریہ کروں لیکن دن کے باقی اوقات میں میرا عمل کچھ اور طرح کا ہو؟

[حجت الاسلام عابدینی]

(سمت خدا)

+ لکھاری عباس حسینی در 19 Feb 2021 و ساعت 9:40 PM |

رسول اللہﷺ کی حیات طیبہ کے آخری لمحات

بلال نے اذان دی۔۔۔

حضرت عائشہ نے صہیب کو اپنے والد کی طرف بھیجا اور کہا: پیغمبر(صلى الله علیہ وآلہ وسلم) کی بیماری بڑھ گئی ہے۔

علی (علیہ السلام) ان کی تیمارداری میں مصروف ہے۔ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں تاکہ آئندہ کے لیے دلیل بن جائے۔

اصحاب میں سے ایک نے کہا: آپ تو اسامہ کے لشکر میں تھے، میرا نہیں خیال کسی نے آپ کو نماز کے لیے کہا ہو۔

لوگوں نے بلال سے کہا کہ جا کر رسول اللہ (صلى الله علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھ لیں۔

جب بلال نے سارا واقعہ پیامبر اکرم (صلى الله علیہ وآلہ وسلم) کو سنایا تو آپ (صلى الله علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "مجھے مسجد لے چلو۔ خدا کی قسم اسلام کے اندر ایک فتنے کی بنیاد پڑ رہی ہے۔"

پھر آپ اسی حالت میں علی (علیہ السلام) اور حضرت فضل کا سہارا لے کر مسجد کی طرف چل پڑے جبکہ آپ کے پاؤں زمین پر خط کھینچ رہے تھے۔

آپ (صلى الله علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر کی چادر پیچھے سے پکڑی اور انہیں وہاں سے ہٹایا اور پھر بیٹھ کر لوگوں کو نماز پڑھائی۔۔۔

دورانِ نماز حضرت بلال تکبیر کہہ رہے تھے۔

(ارشاد القلوب دیلمی، ج۲، ص339)

+ لکھاری عباس حسینی در 19 Feb 2021 و ساعت 9:37 PM |

ائمہ علیھم السلام واسطہ فیض ہیں۔

بے شک ائمہ معصومین علیھم السلام فیضِ الٰہی کے لیے واسطہ ہیں۔ یہ ہستیاں اپنے ایک ارادے کے ساتھ اس کائنات میں تصرف اور دشمن کو نابود کرنے کی طاقت رکھتی ہیں چونکہ دشمنوں کی سانسیں، ہاتھ پاؤں کی حرکت، آنکھوں کی بینائی۔۔۔ یہاں تک کہ ان کے اسلحوں کی تیزی اور کاٹ سب فیضِ الہی ہیں اور ائمہ علیھم السلام کے اذنِ تکوینی اور ان کی وساطت سے یہ فیوض جاری ہیں۔

ہاں البتہ یہ طاقت ذمہ داری نہیں لاتی یعنی پیامبر اکرمﷺ اور ائمہ معصومین علیھم السلام دین کی تبلیغ، دینی اہداف کی تکمیل، اپنے دفاع وغیرہ کے لیے اس طاقت سے استفادہ نہیں کرتے۔ یہ علم اور غیر عادی طاقت امامت کے لوازم میں سے ہیں اور ان سے ذاتی استفادہ ممنوع ہے۔ ان سے استفادہ خدا کے ارادے سے مشروط ہے، جب خدا چاہے یہ ہستیاں اس سے استفادہ کرتی ہیں۔

اس کا راز یہ ہے کہ یہ دنیا تکلیف (ذمہ داری) کی جگہ ہے جہاں عام علم اور معمول کے مطابق کاموں کو چلانا ہے۔ اگر اللہ تعالی چاہتا تو اپنے دشمنوں سے خود انتقام لے سکتا تھا، لیکن ارادہ کیا کہ کچھ لوگوں کو کچھ دوسرے لوگوں کے ذریعے آزمایا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آیت اللہ جوادی آملی

اربعینِ کوثر

+ لکھاری عباس حسینی در 24 Dec 2020 و ساعت 10:21 PM |

تم خود ایام ہو

ہر گزرتے دن کے ساتھ آپ کے وجود کا ایک حصہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔

امام حسین علیہ السلام سے ایک خوبصورت روایت منقول ہے:

"يا ابن آدم إنما أنت أيام"

بہت خوبصورت تعبیر استعمال کی ہے۔ امام عالی مقام ہم سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں: اے فرزندانِ آدم! تم خود ایام (زمانہ) ہو۔ ہر روز تیرے وجود کا ایک حصہ ہے۔ گویا تم ہر روز اینٹ سے اینٹ ملا کر اپنے وجود کی عمارت تعمیر کر رہے ہو۔

روایت میں آگے جا کر فرماتے ہیں:

"كلما مضى يوم ذهب بعضك."

ہر گزرتے دن کے ساتھ تمہارے وجود کا ایک حصہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ تمہارا کچھ حصہ گزر چکا ہے جس کا تکرار دوبارہ ممکن نہیں۔ اسی طرح تمہاری عمر کا ہر گزرتا لمحہ ایسا ہے جس کا واپس آنا ہرگز ممکن نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ادب عاشقی

حجت الاسلام عابدینی

+ لکھاری عباس حسینی در 24 Dec 2020 و ساعت 10:16 PM |

ایک لڑکی نے پوسٹ کی:

اگر ماں باپ کو رکھنے کا حق بیٹیوں کو مل جاتا تو پورے ملک میں ایک بھی اولڈ ہاوس نہیں ہوتا۔

 

اس پر ایک لڑکے نے بہت سمجھداری کا جواب دیا:

اگر وہی بیٹیاں شادی کے بعد اپنے ساس، سسر کو ہی اپنے ماں باپ مان لیں، تو ملک تو کیا، پوری دنیا میں ایک بھی اولڈ ہاوس نہیں رہے گا۔

+ لکھاری عباس حسینی در 3 Aug 2018 و ساعت 1:3 PM |

ایک شخص بل گیٹس کو فون کر کے کہتا ہے : میں چاہتا ہوں آپکی بیٹی کی شادی میرے بیٹے سے ہو۔

بل گیٹس پوچھتا ہے: آپ کا بیٹا کیا کام کرتا ہے؟

وہ جواب دیتا ہے: میرا بیٹا عالمی بینک کا منیجر ہے۔

بل گیٹس کہتا ہے: اچھا پھرٹھیک ہے۔

وہ شخص فورا عالمی بینک فون کرتاہے اور کہتا ہے: میرے بیٹے کو بینک کا منیجر لگائیں۔

پوچھتے ہیں: آپ کے بیٹے کا تعارف؟

وہ جواب دیتا ہے: میرا بیٹا بل گیٹس کا داماد ہے۔

بینک والے اس کی بات کو قبول کرتے ہیں اور بیٹے کو عالمی بینک کا منیجر لگا دیتے ہیں۔

 

+ لکھاری عباس حسینی در 16 Apr 2018 و ساعت 11:54 PM |

ایک بادشاہ کے پاس دو شاہین تھے جن کو شکار کی تربیت کے لیے مربی کے پاس لے جایا گیا۔ ان میں سے ایک شاہین نے فورا پرواز کی تربیت لی، جبکہ دوسرا ہر دفعہ جا کر درخت کی ایک خاص ٹہنی پر بیٹھ جایا کرتا تھا۔

بادشاہ نے اعلان کیا: جو بھی اس شاہین کی سستی کا علاج کرے اس کو انعام دیا جائے گا۔ ایک کسان اس سستی کے علاج میں کامیاب ہوا۔

بادشاہ نے اس سے پوچھا: تم نے کیسے اس کا علاج کیا؟ کسان نے جواب دیا: وہ شاخ جس سے اس کی دوستی تھی اور جس کی اسے عادت ہوگئی تھی میں نے درخت کی اس شاخ کو ہی کاٹ دیا۔

 

نتیجہ: بعض اوقات پرواز کے لیے اپنی غلط عادت اور غلط نظریات کی شاخوں کو جڑ سے کاٹنا پڑے گا۔۔۔ ورنہ انہی سے وابستہ رہ جائیں گے اور پروز نہیں کر سکیں گے۔

+ لکھاری عباس حسینی در 2 Apr 2018 و ساعت 2:43 PM |

جنگل دن بدن سکڑ رہا تھا۔۔۔

پھر بھی سارے درخت کلہاڑے کو ہی ووٹ دے رہے تھے۔۔۔

ان کا خیال تھا

کہ کلہاڑے کے دستے کا تعلق ان کی برادری سے ہے۔۔۔

+ لکھاری عباس حسینی در 20 Mar 2018 و ساعت 11:45 AM |

ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﺍﻧﺖ ﭨﻮﭦ ﮐﺮ ﮔﺮ ﭘﮍﮮ ﮨﯿﮟ. ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ نے ﺍﯾﮏ ﻣﻔﺴﺮ ﮐﻮ ﺑﻠﻮﺍ ﮐﺮ ﺍُﺳﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﺳُﻨﺎﯾﺎ –

ﻣﻔﺴﺮ ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ؛ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ, ﺍﺳﮑﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﯾﮧ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭘﮑﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻣﺮﯾﮟ ﮔﮯ. ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﻏﺼﮧ ﺁﯾﺎ – ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﻔﺴﺮ ﮐﻮﻗﺘﻞ ﮐﺮﺩﯾﺎ.

ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻣﻔﺴﺮ ﮐﻮ ﺑﻠﻮﺍﯾﺎ ﮔﯿﺎ, ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﻨﺎﯾﺎ،ﻣﻔﺴﺮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ؛ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ ﺁﭘﮑﻮ ﻣُﺒﺎﺭ ﮎ ﮨﻮ. ﺧﻮﺍﺏﮐﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﯾﮧ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻣﺎﺷﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻟﻤﺒﯽ ﻋﻤﺮ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ. ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﻔﺴﺮ ﮐﻮ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﻭ ﺍﮐﺮﺍﻡ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺭﺧﺼﺖ ﮐﯿﺎ—

ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﯾﮩﯽ ﻣﻄﻠﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻟﻤﺒﯽ ﻋﻤﺮ ﭘﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺍُﺳﮑﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎﺋﯿﮟﮔﮯ؟ ﺟﯽ ﻣﻄﻠﺐ ﺗﻮ ﯾﮩﯽ ﮨﯽ ﺑﻨﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺑﺎﺕ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻕ ﮨﮯ.

ﺁﭖ ﮐﺎ ﺑﻮﻻ ﮔﯿﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﻟﻔﻆ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﺮﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺑﻦ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﺯﺧﻢ ﺑﮭﯽ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ –

ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ.

+ لکھاری عباس حسینی در 2 Mar 2018 و ساعت 10:51 AM |

لومڑی نے اونٹ سے پوچھا جو نہر کے دوسرے کنارے کھڑا تھا: نہر کے پانی کی گہرائی کتنی ہے؟

اونٹ نے جواب دیا: گھٹنے تک ہے۔

لومڑی نے پانی میں چھلانگ لگائی۔ لیکن پانی بہت گہرا تھا۔ وہ ڈوبنے لگا۔

بہت جدوجہد کے ساتھ وہ اپنا سر پانی سے باہر نکالنے میں کامیاب ہوا۔

پانی کے درمیان ایک پتھر پر اس نے پناہ لی اور نہایت غصے میں چیخ کر اونٹ سے کہنے لگا: تم نے نہیں کہا تھا کہ پانی گھٹنوں تک ہے؟

اونٹ نے جواب دیا: ہاں، میرے گھٹنوں تک ہی ہے پانی۔

 

حاصل ہونے والا سبق:

جب بھی زندگی میں کسی شخص سے مشورہ لیں گے تو وہ اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں تمہیں مشورہ دے گا۔ وہ تجربات جو اس کے لیے مفید تھے۔ ممکن ہے وہ حل اور مشورہ اس کے لیے مفید ہو لیکن آپ کے لیے مفید نا ہو۔

لہذا دوسروں کے تجربات سے اس طرح استفادہ کریں جو آپ کے حالات کے مطابق ہوں۔ تمام انسانوں کے حالات ایک جیسے نہیں ہوتے۔

 (ترجمہ از عربی: عباس حسینی)

+ لکھاری عباس حسینی در 27 Feb 2018 و ساعت 9:8 PM |