اسلامی اقتصاد کے برجستہ اصول

 

اسلامی اقتصاد کے تین بنیادی اور اساسی ارکان ہیں جن کے ذریعے یہ اقتصاد باقی سارے اقتصادی مذاہب سے جدااور ممتاز ہوتا ہے۔ وہ ارکان یہ ہیں:

۱۔ مزدوج ملکیت کا اعتراف

۲۔ محدود دائرے میں اقتصادی فعالیت کی آزادی

۳۔ اجتماعی عدالت کا تصور

 

۱۔ مزدوج ملکیت کا اعتراف:

عام طور پر کیپٹلزم میں فرد کی ملکیت کو اہمیت دی جاتی ہے اور اسے مقدم کیا جاتا ہے۔ اجتماعی ملکیت کی نوبت صرف ضرورت کے وقت اور محدود پیمانے پر آتی ہے۔ پس اجتماعی ملکیت ایک استثناء ہے جس کی بعض صورتوں میں ضرورت پڑتی ہے۔جبکہ سوشلزم اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس میں اشتراکی ملکیت اصل ہےاور شخصی یا فردی ملکیت کی نوبت بہت کم اور وہ بھی استثنائی حالت میں ضرورت کے وقت آتی ہے۔ پس کیپٹلزم میں صرف فردی ملکیت کا اعتراف اور سوشلزم میں صرف اشتراکی ملکیت کو اصل سمجھا جاتا ہے۔اس کے علاوہ کچھ ہو تو وہ مجبوری کی حالت ہے۔

جبکہ اسلام بیک وقت ہر دو قسم کی ملکیت کا اعتراف کرتا ہے اور معاشرے کے لیے دونوں کی ضرورت کا قائل ہے۔ اسلام فرد کی ملکیت، عوام کی ملکیت اور حکومت کی ملکیت ان سب کا اقرار کرتا ہے۔ البتہ ان میں سے ہر ایک کا میدان طے کرتا ہے۔ ان تینوں قسم کی مالکیت کو اسلام ضرورت اور اصل سمجھتا ہے، اور کسی بھی قسم کو استثنائی صورت یا وقتی علاج  قرار نہیں دیتا۔

 

۲۔ محدود دائرے میں اقتصادی فعالیت کی آزادی

اسلام  کچھ معنوی اور اخلاقی اقدار کی حدود میں افراد کو  اقتصادی فعالیت کی آزادی دیتاہے۔ یہ اصول بھی کیپٹلزم اور سوشلزم دونوں سے بالکل مختلف ہے۔ کیپٹلزم میں افراد کو غیر محدود آزادی میسر ہے تو سوشلزم میں افراد کی آزادی ناپید ہے۔

اسلام نے اس حوالے سے کچھ اقتصادی فعالیتوں سے منع کیا ہے۔ جیسے سود کا کاروبار، ذخیرہ اندوزی وغیرہ۔

اسلام بعض جگہوں پر ولی امر اور حکومت کو اجازت دیتا ہے کہ وہ عام اقتصادی فعالیت میں دخل اندازی کرے تاکہ افراد من مانی نہ کر سکے۔ اس حوالے سے بازار کی مراقبت کے اصول طے کئے ہیں۔ مثلا عام حالات میں بنجر زمینوں کی آبادکاری، معدنیات نکالنے کی اجازت دی گئی ہے۔ لیکن کسی مصلحت کے تحت حاکم شرع منع کر سکتا ہے۔

 

۳۔ اجتماعی عدالت کا تصور

اسلام اقتصادی فعالیتوں میں اجتماعی عدالت کا خیال رکھتا ہے۔ غنی کے مال میں فقیر کا حق قرار دیتا  ہے اور غنی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ فقیر کو بھی ساتھ لے کر چلے۔ اس مقصد کے لیے زکات، خمس اور صدقات قرار دئیے ہیں۔ اسلام اس بات کی اجازت ہرگز نہیں دیتا کہ معاشرے کا ایک حصہ امیر سے امیر تر ہو اور دوسرا غریب سے غریب تر۔ اسلام تاکید کرتا ہے کہ مال معاشرے کے افراد کے درمیان گردش کرتا رہے۔ کسی ایک جگہ جمع نا ہوں۔

 

اسلامی اقتصاد ،اخلاقی اصول طے کرنے کے ساتھ ساتھ حقیقت اور واقعیت بھی بیان کر رہا ہوتا ہے۔ انسان کی حقیقت اور اس کی صلاحتیوں کو مد نظر رکھ کر اسلام نے انسان کی خاطر اقتصادی پلاننگ دی ہے۔ اسلام نے انسان کے لیے کسی قسم کے خیالی ہدف کو فرض نہیں کیا، جیسے اشتراکی نظام میں ہے۔ اور پھر جس طرح سے حقیقی اہداف طے کیے ہیں، ان تک پہنچنے کے راستے بھی بتائے ہیں اور اس کی ضمانت بھی دی ہے۔ دوسری طرف سے اسلام نے اقتصادی فعالیت کو اخلاقی اقدار سے خالی بھی نہیں قرار دیا جیسے کیپٹلزم میں دیکھنے میں آتا ہے۔ لہذااسلام  انسان کی نیت کے اثر کے بارے زندگی کے تمام معاملات میں تاکید کرتا ہے۔ اقتصادی فعالیت میں انسانی نفسیاتی پہلو کو بھی مد نظر رکھ کر ہدایت دی ہے۔

 

(شہید باقر الصدر کی کتاب "اقتصادنا" کے ایک حصے سے مترجم کا فہم اور اس کی تلخیص۔ مترجم: عباس حسینی)


ٹیگس: اسلامی اقتصاد
+ لکھاری عباس حسینی در 26 Mar 2018 و ساعت 12:28 PM |