ایک بادشاہ کے پاس دو شاہین تھے جن کو شکار کی تربیت کے لیے مربی کے پاس لے جایا گیا۔ ان میں سے ایک شاہین نے فورا پرواز کی تربیت لی، جبکہ دوسرا ہر دفعہ جا کر درخت کی ایک خاص ٹہنی پر بیٹھ جایا کرتا تھا۔
بادشاہ نے اعلان کیا: جو بھی اس شاہین کی سستی کا علاج کرے اس کو انعام دیا جائے گا۔ ایک کسان اس سستی کے علاج میں کامیاب ہوا۔
بادشاہ نے اس سے پوچھا: تم نے کیسے اس کا علاج کیا؟ کسان نے جواب دیا: وہ شاخ جس سے اس کی دوستی تھی اور جس کی اسے عادت ہوگئی تھی میں نے درخت کی اس شاخ کو ہی کاٹ دیا۔
نتیجہ: بعض اوقات پرواز کے لیے اپنی غلط عادت اور غلط نظریات کی شاخوں کو جڑ سے کاٹنا پڑے گا۔۔۔ ورنہ انہی سے وابستہ رہ جائیں گے اور پروز نہیں کر سکیں گے۔
