خواتین کا گھر سے باہر کام کرنا

قرآن کی نگاہ میں

 

آج کل اکثر معاشروں میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ گھر سے باہر کام کرتی ہیں اور پیسے کماتی ہیں۔سوال یہ ہے قرآن کا اس حوالے سے کیا نظریہ ہے؟ کیا قرآن خواتین کو گھر سے نکلنے سے منع کرتا ہے؟ یا یہ کام قرآن کی تعلیمات کے مطابق ہے؟

اس حوالے سے عرض خدمت ہے:

قرآن کا نظریہ ہے کہ اقتصادی حوالے سے گھر کی ضروریات کو پورا کرنا مرد کی ذمہ داری ہے۔ الرِّجالُ‏ قَوَّامُونَ‏ عَلَى النِّساءِ بِما فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلى‏ بَعْضٍ وَ بِما أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوالِهِم‏ (نساء:34) ترجمہ: مرد عورتوں پر نگہبان ہیں، اس بنا پر کہ اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، اور یہ کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔

لیکن اگر کسی بھی وجہ سے مرد گھر کے اخراجات پورے کرنے پر قادر نہ ہو، اس وقت کچھ اصولوں کی رعایت کرتے ہوئےخواتین گھر سے باہر نکل کر کام کر سکتی ہیں۔ وہ اصول یہ ہیں:

 

۱۔ یہ کہ عورت کے کام کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہو۔ جیسے قرآن مجید حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے  ان کے گھر سے باہر نکلنے کی وجہ کچھ یوں بیان کرتا ہے: "وَ أَبُونا شَيْخٌ‏ كَبِير" (قصص:23)چونکہ ہمارے والد بوڑھے ہیں اور وہ خود نہیں آسکتے، اس لیے ہم مجبوری کی حالت میں گھر سے باہر جانوروں کو پانی پلانے نکلے ہیں۔

 

۲۔  اگر گھر سے باہر کام کرنے کی ضرورت پڑے، اگر اس جگہہے پر مرد حضرات بھی موجود ہوں،تب کوشش کی جائے آپس میں اختلاط سے پرہیز کیا جائے۔ جیسے حضرت شعیب کی بیٹیاں انتظار کرتی رہیں تاکہ مرد حضرات اپنے جانوروں کو پانی پلا کر چلے جائیں تب وہ جا کر اپنے جانوروں کو پانی پلائیں۔ جب حضرت موسی نے ان سے الگ تھلگ رہنے کی وجہ پوچھی تو بتایا: "قالَتا لا نَسْقِي حَتَّى يُصْدِرَ الرِّعاء" (قصص:23) ترجمہ: "جب تک یہ چرواہے(اپنے جانوروں کو لے کر) واپس نہ پلٹ جائیں ہم پانی نہیں پلا سکتیں۔

 

3۔ ہر حال میں حیا اور عفت کی رعایت کی جائے۔ چاہے وہ چلتے وقت ہو، یا بات کرتے وقت یا کسی اور حالت میں۔ حضرت شعیب کی بیٹیوں ہی کےبارے میں قرآن کہتا ہے: "فَجاءَتْهُ إِحْداهُما تَمْشِي عَلَى اسْتِحْياء. (قصص:25) پس پھر ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک حیا کے ساتھ چلتی ہوئی موسی کے پاس آئی۔

 

4۔ گھر سے باہر نکلتے وقت شریعت کے احکام کی پابندی کی جائے، نا محرم لوگوں سے زیادہ گھل ملنے سے اجتناب کیا جائے، اور کوئی ایسا موقع نہ دیا جائے جس سے طرف مقابل کے دل میں اس عورت کی نسبت طمع ایجاد ہو۔ "إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ‏ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَض‏. (احزاب:32) اگر تم تقوی رکھتی ہو تو نرم لہجے میں بات مت کرنا، کہیں وہ شخص لالچ میں نہ پڑ جائے جس کے دل میں بیماری ہے۔

 

لہذا قرآن مجیداضطرار کی حالت میں  حیا کی رعایت کرتے ہوئے اور  مردوں سے اختلاط سے بچ کر  گھر سے باہر کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

(ترجمه: عباس حسینی)

+ لکھاری عباس حسینی در 14 May 2018 و ساعت 3:57 PM |