قرآن کو قرآن کیوں کہا گیا؟
"القرآن "کا لفظ تقریبا پچاس مرتبہ قرآن میں آیا ہے۔ (شَهْرُ رَمَضانَ الَّذي أُنْزِلَ فيهِ الْقُرْآن) ان تمام موارد میں یہ لفظ اسی خاص کتاب کے معنی میں استعمال ہوا ہے جو حضرت پیامبر اکرم محمد مصطفیﷺ پر خدا کی طرف سے نازل ہوئی تھی۔ اسی طرح سے "قرآن" کا لفظ (الف لام کے بغیر) تیرہ مرتبہ اس کتاب میں آیا ہے اور ان میں سے بھی سات مرتبہ اسی خاص کتاب پر لفظ کا اطلاق ہوا ہے۔ باقی موارد میں پڑھنے یا پڑھنے کے لائق ہونے کے معنی میں آیا ہے(لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے)۔
لغت میں قرآن اس کتاب کو کہا جاتا ہے جو پڑھنے کے قابل اور لائق ہو۔ شروع شروع میں یہ لفظ اس کتاب کے لیے بطور صفت استعمال ہونےلگا اور پھر آہستہ آہستہ اسی کتاب کے لیے عَلم(نام) بن گیا۔ پس اس کتاب کو قرآن کہنے کی ظاہری وجہ یہی ہے کہ یہ کتاب (خصوصی طور پر) پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔اسی طرح جب اسے "کتاب" کہا جاتا ہے تو مراد یہ ہے کہ اس کی آیات لکھنے سے تعلق رکھتی ہیں یا لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہیں۔
البتہ یہاں قرآن کے لفظ کے حوالے سے کچھ اور احتمالات بھی مطرح ہوئے ہیں:
۱۔ "قرأ" کا لفظ کسی چیز کو جمع کرنے کے معنی میں ہے۔ اسی حساب سے عورت کے مخصوص ایام جن میں خون رحم میں جمع ہوتا ہے، کو "قرء" کہا جاتا ہے۔ پس اس حساب سے قرآن کا معنی جمع کرنی والی چیز ہے(جامع کے معنی میں) اور قرآن کو قرآن اس لیے کہا جاتا ہے چونکہ یہ ایک جامع کتاب ہے اور اس میں انسانوں کی ہدایت کے لیے ضروری تمام باتیں جمع ہیں۔
۲۔ قرآن کو قرآن کہنے کی وجہ شاید یہ ہو کہ یہ کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے اور لوگوں کو چاہیے کہ ہمیشہ اس کتاب کی طرف متوجہ رہیں اور اسے پڑھتے رہیں ۔ اس کتاب کو ترک نہ کریں۔ اسی مسلسل پڑھنے کی وجہ سے قرآن مجید کی قرائت متواتر طور پر ہم تک پہنچی ہے اور قرآن کو تحریف سے بچانے کا ایک اہم طریقہ بھی یہی رہاہے۔
۳۔ یہ کتاب کلام الہی بلکہ علم الہی کا ایک خاص مرتبہ ہے۔اس کا حقیقی مرتبہ اس سے بہت بلند ہو جو الفاظ کی صورت میں ہمارے پاس ہے۔ لیکن خداوند متعال نے لوگوں پر احسان کرتے ہوئے کئی مرتبہ اس حقیقت کو تنزل دیا تاکہ الفاظ کے قالب میں ڈھل سکے۔ پس قرآن کا لفظ اسی مطلب کی طرف اشارہ کرنے کے لیے ہے۔ جیسےاس آیت میں یہی مطلب بیان ہوا ہے:(إِنَّا جَعَلْناهُ قُرْآناً عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُون) یقینا ہم نے اسے عربی (کا لباس پہنا کر ) قرآن قرار دیا تاکہ تم اسے سمجھ سکو۔
۴۔ قرآن کو قرآن کہنے کی ایک وجہ شاید یہ ہو کہ یہ وہ کتاب ہے جسے اللہ تعالی نے اپنے حبیب کو پڑھ کر سنایا ہے۔ (سَنُقْرِئُكَ فَلا تَنْسى) ہم آپ کو عنقریب (الہام کے ذریعے) یہ کتاب پڑھ کر سنائیں گے، پس تم اسے کبھی فراموش نہیں کرو گے۔
بعض موارد میں اسی مطلب کو لفظ تلاوت کے ذریعے بیان کیاہے۔(تِلْكَ آياتُ اللَّهِ نَتْلُوها عَلَيْكَ بِالْحَق) یہ وہ الہی آیات ہیں جن کی ہم حق کے ساتھ تمہارے سامنے تلاوت کریں گے۔
یہاں سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن مجید کے الفاظ بھی اللہ تعالی کی طرف سے ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ صرف معنی اللہ کی طرف سے آیا ہو اور الفاظ کا جامہ رسول ﷺ نے پہنایا ہو۔
علامہ مصباح کے نزدیک کے ان احتمالات میں سے آخری دو احتمال زیادہ قوت رکھتے ہیں۔
(استفادہ از کتاب"قرآن شناسی"، آیت اللہ مصباح یزدی، تلخیص و ترجمہ: سید عباس حسینی)
ٹیگس: مصباح یزدی, قرآن مجید
