وجود خدا کی دلیل

برہان حرکت

 

یہ وہ دلیل ہے جو افلاطون اور ارسطو کے دور سے چلی آئی ہے۔

اس دلیل کے مطابق

ہم اپنے حسی ادراک کے ذریعے جانتے ہیں کہ اس دنیا میں بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جو حالت ِحرکت میں ہیں۔ حرکت کا انکار اس جہان میں ممکن نہیں۔ یہاں حرکت سے مراد یہ ہے کہ کوئی بھی چیز ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل ہوتی رہتی ہے۔

ہر وہ چیز جو حرکت میں ہو اس کو حرکت دینے والے کی ضرورت ہے چونکہ جو چیز پہلے سے حرکت میں نہ ہو وہ اپنے آپ کو حرکت نہیں دے سکتی۔ پس ہر متحرک چیز کے لیے ایک محرک (حرکت دینے والے) کی ضرورت ہے۔

یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ لیکن اس کا بے نہایت طور پر چلنا محال ہے۔ حتمی طور پر اس سلسلے کو ایک ایسے محرک پر ختم ہونا ہوگا جو خود متحرک نہ ہو۔ یہ وہ وجود ہوگا جو خود متحرک نہیں ہوگا لیکن دوسری تمام چیزیں اسی کی وجہ سے حرکت کر رہی ہوں گی۔

اسی ذات کو دین کی زبان میں "خدا" یا "اللہ" کہا جاتا ہے۔


ٹیگس: برہان حرکت, وجود خدا
+ لکھاری عباس حسینی در 21 May 2018 و ساعت 3:20 AM |