قرآن کے اعجاز کا اثبات
قرآن کے اعجاز(معجزہ ہونے کو) اثبات کرنے کے لیے پہلے تین باتوں کو ثابت کرنا ضروری ہے۔ یہ وہ باتیں ہیں جو تمام معجزات میں مشترک ہیں۔
۱۔ پیامبر اکرمﷺ نے اس کلام کو اپنے دعوای رسالت کی سچائی کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہو اور اسے ایک خارق العادہ امر قرار دیا ہو کہ جس کا انجام خدا کی خاص عنایت اور مدد کے بغیر ممکن نہیں۔
۲۔ یہ بات ثابت ہو کہ قرآن نے جن لوگوں سے خطاب کیا ہے انہوں نے اس کلام کو سیریس طور پر لیا ہو اوراسے پڑھنے کے بعداس سے مقابلے اور اس کی مثل لانے کی کوشش کی ہو۔
۳۔ یہ بات ثابت ہو کہ تمام تر کوششوں کے باوجود مخالفین اس کتاب جیسی کتاب نہیں لا سکے اور ان پر یہ بات واضح ہوئی ہو کہ اس کتاب کی مثل نہیں لائی جا سکتی۔ پس یہ کتاب معجزہ ہے۔
پہلی بات تاریخی حوالے سے اور روایات کے مطابق بھی مسلم ہے۔اس کے علاوہ قرآنی آیات میں بھی یہ بات مطرح ہوئی ہے۔ قرآن کی تحدی(چیلنج) والی آیات میں یہ بات واضح طور پر بیان ہوئی ہے کہ قرآن پیامبر اکرمﷺ کا معجزہ ہے جو ان کی رسالت کی سچائی پر دلیل ہے۔ اور اگر کسی کو شک ہے تو اس جیسا کلام لا کر دکھائیں۔
دوسری بات بھی تاریخی اور حدیثی حوالے سے یقینی ہےاور قرآنی آیات نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے۔ مخالفین نے سرتوڑ کوشش کی تھی اس جیسا کلام لے آئیں۔ وہ لوگ خود اہل فصاحت و بلاغت تھے ۔ اور دوسری طرف سے اپنے دین اور آداب و رسوم کی نسبت انتہائی تعصب رکھتے تھے۔ عرب کی رعونت اور قوم پرستی بھی شہرت رکھتی ہے۔ ایسے میں قرآن نے ان کے دین اور آداب و رسوم کی مخالفت کی تھی۔ ان کو تکبر اور تعصب سے منع کیا تھا۔ ان کو ایک غافل اور نادان قوم کہہ کر خطاب کیا تھا۔ لہذا ان کی طرف سے قرآن کا مقابلہ یقینی تھا۔ اور پھر ساتھ میں قرآن نے ان کو چیلنج دے کر ان کو اس کلام کے مقابلے کی ترغیب دی تھی۔قرآن نے پہلے سخت تر کام(پورے قرآن کی مثل لانے) کا چیلنج دیا اور پھر کم تر (دس سورتیں اور ایک سورہ) کا بھی چیلنج دیا۔ اس حوالے سے یہ بھی چیلنج دیا کہ جس جس کو بلا سکتے ہیں اپنی مدد کے لیے بلا لیں۔ ایسے میں ان کے لیے یہ کام ضروری بن گیا تھا کہ قرآن کی یا کسی سورے کی مثل لا کر پیامبر اکرمﷺ کو (نعوذ باللہ) جھوٹا ثابت کر دیں تاکہ اسلام کا گلہ شروع میں ہی گھونٹ دیں۔
تاریخ میں ملتاہے کفار اور مخالفین نے رسول خداﷺ سے دشمنی اور مقابلے کے تمام راستے کھول لیے ہوئے تھے۔ متعدد جنگوں کے علاوہ، آپﷺ کی ذات پر پے در پے حملے، آپﷺ کو ساحر، شاعر اور اس قسم کے مختلف القاب دینا، کسی انسان پر وحی کے ممکن ہونے کا انکار، مختلف احکام شرعی کا مذاق اڑانا وغیرہ اس مخالفت کی چند شکلیں تھیں۔ پس یہ بات بھی یقینی ہے کہ انہوں نے قرآن کے چیلنج کو سیریس لے کر اس کے مقابلے کی کوشش بھی کی ہے تاکہ اس ذریعےسے اسلام کی مخالفت کا سب سے بڑا ہتھیار ان کے ہاتھ آجائے۔
تیسری بات میں بھی تردید ناممکن ہے۔ تاریخ اور علوم قرآن کی کتابوں میں ملتا ہے کہ مختلف لوگوں نے قرآن کے مقابلےکی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ بہت ساروں نے اپنے عجز اور ناتوانی کا بھی اظہار کیا۔ بعض کی طرف سے جونمونے پیش کیے گئے وہ ان کی رسوائی کا سبب بن گئے۔ چونکہ لوگ جانتے تھے اس بشری کلام میں اور خالق کے کلام میں زمین سے آسمان کا فرق ہے۔ اگر کوئی بشر قرآن کی مثل لانے میں کامیاب ہوا ہوتا تب اس کا نام کفار اور مشرکین کی طرف سے تاریخ میں بڑے حروف میں لکھا ہوا ہوتا اور اس کا لکھا ہوا کلام شہرت کی بلندیوں کو چھو رہا ہوتا اور آج تک لیے تاریخ میں ثبت ہوا ہوتا۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔
پس یہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ ابتدا ء میں کئی گئی تین باتیں قرآن کے حوالے سے ثابت ہیں اور قرآن کا اعجاز ثابت ہےلہذا کوئی بھی عام انسان اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
(استفادہ از استاد مصباح یزدی، کتاب"قرآن شناسی"، تلخیص وترجمہ: سید عباس حسینی)
(نوٹ: جو کچھ اس مقالے میں لکھا گیا ہے مترجم کا فہم ہے۔ کسی بھی مطلب کی نسبت استاد مصباح کی طرف دینے سے پہلے اصل کتاب دیکھ لی جائے۔)
ٹیگس: مصباح یزدی, اعجاز قرآن
