اخلاقی نکتہ
یہ وقت بھی گزر جائے گا!
کہتے ہیں کسی بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا میری انگوٹھی پر ایسا جملہ لکھ دیں جسے میں غم اور مشکلات کے موقع پر دیکھ لوں تو خوش ہو جاوں، اور خوشی کے موقع پر دیکھوں تو غمگین ہو جاوں۔
وزیر بہت عقلمند تھا۔ اس نے لکھ دیا: "یہ وقت بھی گزر جائے گا۔"
عام طور پر انسان کو مشکلات میں دلاسا دینے والا جملہ یہی ہے کہ "یہ وقت بھی گذر جائے گا۔" جس کے بعد انسان کو ایک اچھے انجام اور بہتر نتیجے کی امید ہوتی ہے۔ انسان تعلیمی اخراجات اور مشکلات برداشت کرتا ہے کہ نتیجے میں ایک خوبصورت مستقبل کی امید ہوتی ہے۔ ایک مزدور دن بھر محنت مزدوری کر کے خون پسینہ ایک کر کے چار آنے کماتا ہے چونکہ اسے یقین ہے اس کے بعد اس کے بچوں کے چہرے پر کچھ خوشی دیکھنے کو ملے گی۔ ایک ملازم مہینہ بھر محنت کرتا ہے چونکہ اسے امید ہے کہ مہینے بعد تنخواہ کی صورت میں کچھ خوشی کا سامان فراہم ہوگا۔
"یہ وقت گزر جائے گا" کی بات اس دنیا تک تو ٹھیک ہے۔ لیکن آخرت میں جب انسانوں کے انجام کا فیصلہ ہوگا اس کے بعد جس کا جو انجام ہوگا وہ اسی میں تا ابد رہے گا۔ جس انسان کے لیے جہنم میں خلود لکھا گیا ہو وہ یہ نہیں سوچ سکتا کہ "یہ وقت بھی گزر جائے گا"، بلکہ اس کے بارے یہ حقیقت ہی درست ہے کہ "یہ مشکل وقت ہمیشہ ہی رہے گا۔"
اسی طرح جو انسان بفضل پروردگار جنت میں جائے گا اس کے لیے بھی وہاں خلود ہے۔ اس کی نعتمیں بھی ابدی ہیں۔ وہاں "یہ وقت گزر جائے گا" والی بات ٹھیک نہیں ہے۔
کسی بزرگ نے کیا خوب کہا کہ اس دنیا کے امتحان میں تجدید(supplementary) نہیں ہے۔ بس ایک دفعہ موقع دیا گیا ہے اور موت تک کی مہلت ہے۔ اسی ایک دفعہ میں انسان نے یا پاس ہونا ہے یا فیل۔ پاس ہو تو ہمیشہ کی سعادت اور خوش بختی، اگر خدا نخواستہ ناکام ہوا تو شقاوت اور بدبختیوں کا نا ختم ہونے والا سلسلہ۔ لہذا کوشش کریں پہلی کوشش (First attempt) میں ہی یہ امتحان پاس کر لیں اور ہمیشہ کی خوشی اور کامیابی سمیٹ لیں۔
