اعجازِ قرآن کے پہلو

(دوسراحصہ)

فصاحت و بلاغت کا معجزہ

جس طرح سے خود قرآنی آیات سے واضح ہوتا ہے، قرآن کے اعجاز کا ایک پہلو اس کتاب کی فصاحت اور بلاغت ہے۔

فصاحت اور بلاغت کا معنی:

فصاحت لغت کے اندر واضح اور آشکار ہونے کے معنی میں ہے۔ اہل ِ ادب کی اصطلاح میں یہ لفظ(کلمہ) کا وصف ہے جس میں وہ لفظ روان ہوتا ہے، اس کا تلفظ آسان ہوتا ہے اور سننے میں دشوار محسوس نہیں ہوتا۔

جبکہ بلاغت لغت کے اندر کسی چیز کے پہنچنے کے معنی میں ہے۔ (مثلا بلغ العلی بکمالہ، یعنی بلندی اپنے کمال تک پہنچ گئی)۔ اصطلاح میں بلاغت یہ ہے کہ وہ معنی جو متکلم کے مد نظر ہے، مقام  اور حالت و شرائط کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بہترین اور مناسب ترین الفاظ میں، خوبصورت ترین اور بہترین موسیقی والی عبارات کے ساتھ اس طرح  بیان کیا جائے کہ اس حالت میں اور اس زمان و مکان کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے اس سے بہتر انداز میں اس کا بیان ممکن نہ ہو۔

کسی بھی عبارت کی موسیقی کا اس کی روانی اور لوگوں پر اثر انداز ہونے میں بڑا کردار ہے۔  قرآن کے نزول سے لے کر اب تک اس کی مخصوص موسیقی کی طرف خاص توجہ رہی ہے۔ یہاں تک کہ قرآن کے مخالفین اور دوسرے ادیان کے لوگ بھی اس کی طرف متوجہ ہوئے ہیں۔ اسی طرح عرب کے بڑے بڑے ادیبوں نے صدرِ اسلام سے لے کر اب تک اس کی فصاحت اور بلاغت کے مافوقِ بشر ہونے کی گواہی دی ہے اور یہ بات اس کتاب کے الہی ہونے کی بہترین دلیل ہے۔ قرآن کی بعض آیات بھی اعجاز کے اس پہلو کی طرف خاص طور پر اشارہ کرتی ہیں۔

چیلنج(تحدی) والی آیات اور فصاحت و بلاغت میں قرآن کا معجزہ

اگرچہ چیلنج والی آیات میں یہ واضح طور پر بیان نہیں ہوا کہ قرآن کا معجزہ فصاحت و بلاغت میں ہے، لیکن ان آیات میں کچھ دقت سے پتہ چلتا ہے کہ اعجاز کا یہ پہلو اس بات سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے کہ ہر دور کا معجزہ اس زمانے کے علوم وفنون کے مطابق آیا ہے۔ (اور پیامبر اکرمﷺکے دور کے عرب، فصاحت و بلاغت کے میدان کے شہسوار تھے۔) اسی لیے تمام اصحاب، علماء اور محققین نے ان آیات سے یہی سمجھا ہے کہ قرآن کے اعجاز کا کم از کم ایک پہلو اس کی فصاحت و بلاغت ہے۔

الف) جو بھی نبی معجزہ لے کر آئے، وہ اپنے زمانے کےحالات کے مطابق اور اس دور میں رائج علوم و فنون کے  مشابہ معجزات لے کر آئے، تاکہ وہ اپنے دعوی کو واضح ترین اور بہترین شکل میں ثابت کر سکیں۔ بطور مثال، حضرت موسی علیہ السلام کے دور میں جادوگری اپنے اوج پر پہنچی ہوئی تھی۔ لہذا آپ کو ایسا معجزہ عطا ہوا جو سحر اور جادو سے مشابہ تھا۔ آپ اپنے عصا کو خدا کے اذن سے اژدھے میں تبدیل کرتے تھے۔ حضرت عیسی علیہ السلام کے دور میں طبابت کافی ترقی کر چکی تھی، لہذا آپ کا معجزہ یہ تھا کہ آپ  اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کرتے تھے اور مادر زاد اندھوں کو شفا عطا کرتے تھے۔ اس لحاظ سے، قرآن کے نزول کے وقت عرب معاشرے میں فصاحت و بلاغت کا دور دورہ تھا۔ شعر و نثر کے معجزاتی فن پارے اس دور میں ایجاد ہوئے اور ان میدانوں میں آپس میں مقابلے ہوا کرتے تھے۔ لہذا  اس دور کا تقاضا یہ تھا کہ آپﷺ کو فصاحت و بلاغت کا معجزہ عطا ہوتاکہ آپ ﷺ اپنے مخاطبین کو اس حوالے سے چیلنج کر سکیں۔

ب) دوسری طرف سے دیکھیں تو، پیامبر اکرمﷺ کے مخالفین نے اور  آپﷺ کے بعد  کے جھوٹے مدعیان نبوت نے قرآن کے اسی پہلو میں اس کے مقابلے کی کوشش کی ہے۔ وہ نمونے جو یہ لوگ لے  آئے  ان میں کوشش کی گئی تھی اس کی شکل و صورت اور جملہ بندی قرآن کی طرح ہوں۔ یا جہاں پر مخالفین نے قرآن کی مثل لانے سے عجز کا اظہار کیا ہے وہاں اسی پہلو یعنی قرآن کی فصاحت و بلاغت کی طرف ہی اشارہ کیا ہے۔ پیامبر اکرمﷺ کی طرف شاعری کی نسبت دینا بھی اسی بات پر دلالت کرتا ہے وہ اس کلام کے فصاحت و بلاغت ہی سے متاثر تھے۔

ج) جن لوگوں کو قرآن نےاپنے نزول کے وقت چیلنج کیا تھا اور جو لوگ قرآن کے سب سے پہلے مخاطب تھے وہ ثقافتی  و فکری اور دوسرے امور کے حوالے سے جو قرآن کے اعجاز کے حوالے سے کہے گئے ہیں، اتنے ترقی یافتہ نہیں تھے تاکہ ہم کہہ سکیں کہ جن آیات میں چیلنج کی بات کی گئ ہے وہاں قرآن کے محتوی اور مطالب کے لحاظ سے ان کو چیلنج کیا گیا ہے۔ بلکہ ان کے مد نظر فصاحت و بلاغت تھی اور اس وقت کی عرب تہذیب میں یہی پہلو سب سے نمایاں تھا۔

د) قرآن کی مختلف آیات میں جہاں تحدی اور چیلنج کی بات ہوئی ہے وہاں قرآن کی مثل یا اس جیسا کلام(حدیث) یا اس جیسی سورت لانے کی بات ہوئی ہے۔ کسی اور کلام کے قرآن کی مثل ہونے کے حوالے سے جو بات مفسرین اور علم کلام کے ماہرین کے نزدیک یقینی ہے اور جو شرائط مدنظر ہیں ان میں سے ایک یقینی طور پر بلاغت ہے۔  لہذا کہتے ہیں کہ قرآن سے بلیغ یا قرآن کی بلاغت کے برابر کسی کلام کا لانا انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔

کوشش کرنے والوں کی ناکامی

قرآن کے مخالفین، قرآن کے مقابلے میں جو کلام لے آتے رہے ہیں وہ قرآن کی فصاحت و بلاغت سے اس قدر دور ہیں کہ عربی ادب سے آشنا کوئی بھی شخص ان دو کلاموں کے فرق کو نہایت آسانی کے ساتھ درک کر سکتا ہے۔ مثلا بطور نمونہ، 1912 میں مصر میں  امریکی-بریطانی چھاپ خانہ بولاق نے قرآن کے مقابلے میں کچھ صفحات رسالہ "حسن الایجاز" کے نام سے چھاپے اور یہ دعوی کیا گیا کہ سورہ حمد میں فصاحت و بلاغت کے حوالے سے خلل ہے اور ممکن ہے اس سے بہتر سورت لائی جائے جس میں اختصارکے ساتھ وہی معانی بیان کیے گئے ہوں۔ جو نمونہ انہوں نے پیش کیا وہ یہ ہے:

الحمد للرحمن رب الأكوان الملك الديان لك العباده و بك المستعان اهدنا صراط الإيمان...

یہاں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ سب سے پہلے انہوں نے بسم اللہ کو ہی حذف کیا ہے جوکہ اس سورے کی پہلی آیت ہے اور اس آیت میں جو فصاحت و بلاغت ہے اس سے صرف نظر کیا گیا ہے۔

اکثر مقامات پر آپ دیکھتے ہیں کہ قرآنی الفاظ کو قرآن ہی کے کچھ دوسرے الفاظ کے ساتھ تبدیل کیا گیا ہے۔ مثلا لفظ "اللہ" کی جگہ لفظ "رحمن" رکھا گیا ہے۔ لفظ رحمن وہ مطلب اور معنی ادا نہیں کر سکتا جو لفظ اللہ بیان کرتا ہے۔ اور پھر قرآن مجید نے لفظ اللہ کے بعد رب العالمین، رحمن و رحیم اور مالک یوم الدین کی صفات کے ساتھ اس حمد کی علت بھی بیان کی ہے جس کا تذکرہ آیت کے شروع میں ہے۔ کسی بھی چیز کی تعریف یا اس کے ذاتی کمالات کی وجہ سے ہے، یا اس کی نعمتوں کے شکریے کے انجام کے طور پر ہے، یا آئندہ آنی والی نعمتوں کی امید میں ہے یا اس کی سزاوں  اور سختیوں کے خوف سے ہے۔ لفظ اللہ پہلی علت کی طرف، رب العالمین دوسری، رحمن و رحیم تیسری اور مالک یوم الدین چوتھی علت اور وجہ  کی طرف اشارہ ہے۔ پس انسان کی طرف سے حمد اور تعریف کی وجہ جو بھی ہو، اللہ تعالی لائق حمد و تعریف ہے، بلکہ تمام حمد و تعریف درحقیقت خدا کے ساتھ مختص ہے۔ پس اختصار کی خاطر ان میں سے کسی ایک لفظ کو بھی کم کرنے سے معنی میں خلل پڑتا ہے۔

اسی طرح ہر جملے میں غور کرنے والے کے لیے واضح ہے کہ اس انسانی نمونے میں قرآن کی نسبت فصاحت و بلاغت کے خلل کے علاوہ معانی کا خلل بھی ہے اور بہت سارے معانی جو قرآنی آیات بیان کر رہی ہیں ان سے صرف نظر کیا گیا ہے۔ یہاں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن جیسا کلام لانا کسی بشر کے بس کا کام نہیں۔ یہ نمونہ اس کی واضح مثال ہے۔

(استفادہ از استاد مصباح یزدی، کتاب"قرآن شناسی"، تلخیص وترجمہ: سید عباس حسینی)

(نوٹ: جو کچھ اس مضمون میں لکھا گیا ہے مترجم کا فہم ہے۔  کسی بھی مطلب کی نسبت استاد مصباح کی طرف دینے سے پہلے اصل کتاب دیکھ لی جائے۔)


ٹیگس: مصباح یزدی, اعجاز قرآن
+ لکھاری عباس حسینی در 13 Sep 2018 و ساعت 1:4 AM |