اللہ تعالی کی سب سے پہلی مخلوق

 

بعض لوگوں سے اہل بیت کرام علیہم السلام کے فضائل برداشت نہیں ہوتے اور ہر کچھ عرصے بعد ان کے فضائل کو گھٹانے کی خاطر کوئی نیا مطلب گھڑ کر لاتے ہیں۔ آج ایک صاحب نے لکھا کہ "اللہ نے سب سے پہلے میرے نور کو خلق کیا والی حدیث نبوی کا خالق محی الدین ابن عربی گمراہ اور مشرک تھا ۔ اور یہ حدیث جھوٹی ہے" لیکن ان صاحب کو اتنی توفیق نہیں ہوئی کم از کم اپنی بنیادی کتابوں کا ہی مطالعہ کرتے۔۔ یہ حدیث بہت سارے ائمہ سے منقول ہے جسے یہ صاحب جھوٹ کہہ رہا ہے۔

یہاں انتہائی اختصار کے ساتھ اصول کافی کے باب مولد النبی سے صرف ۵ روایتیں پیش کر رہے ہیں جو واضح طور پر بیان کر رہی ہیں کہ اللہ تعالی نے سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ہمارے ائمہ معصومین علیہم السلام کے نور کو خلق کیا۔۔ اس حوالے سے روایات تواتر کی حد تک ہیں۔ ان سب کو یہاں نقل کرنے کا فی الحال وقت نہیں ہے۔  اصول کافی سے چند روایات ملاحظہ ہوں۔

 

۱۔  امام صادق علیہ السلام کی روایت ہے: اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں نے تجھے اور علی علیہ السلام کو نور کی شکل میں پیدا کیا۔ یعنی ایسی روح جو بدن کے بغیر ہے۔ قبل اس کے کہ آسمان، زمین، عرش اور سمندر کی تخلیق ہو۔

أَحْمَدُ بْنُ إِدْرِيسَ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى وَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حَدِيدٍ عَنْ مُرَازِمٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى يَا مُحَمَّدُ إِنِّي خَلَقْتُكَ وَ عَلِيّاً نُوراً يَعْنِي رُوحاً بِلَا بَدَنٍ قَبْلَ أَنْ أَخْلُقَ سَمَاوَاتِي وَ أَرْضِي وَ عَرْشِي وَ بَحْرِي‏. (اصول کافی، ج 1، 440، باب مولد النبی)

 

۲۔ امام باقر علیہ السلام کی روایت ہے کہ اے جابر! اللہ تعالی نے جسے سب سے پہلے خلق کیا وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ہے اور ان کی عترت (آل محمد) ہے۔۔۔

الْحُسَيْنُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ عَنِ الْمُفَضَّلِ عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: قَالَ لِي أَبُو جَعْفَرٍ ع يَا جَابِرُ إِنَّ اللَّهَ أَوَّلَ‏ مَا خَلَقَ‏ خَلَقَ مُحَمَّداً ص وَ عِتْرَتَهُ الْهُدَاةَ الْمُهْتَدِين‏ وَ أَجْرَى فِيهِ مِنْ نُورِهِ الَّذِي نُوِّرَتْ مِنْهُ الْأَنْوَارُ وَ هُوَ النُّورُ الَّذِي خَلَقَ مِنْهُ مُحَمَّداً وَ عَلِيّاً فَلَمْ يَزَالا نُورَيْنِ أَوَّلَيْنِ إِذْ لَا شَيْ‏ءَ كُوِّنَ قَبْلَهُمَا فَلَمْ يَزَالا يَجْرِيَانِ طَاهِرَيْنِ مُطَهَّرَيْنِ فِي الْأَصْلَابِ الطَّاهِرَةِ حَتَّى افْتَرَقَا فِي أَطْهَرِ طَاهِرِينَ فِي عَبْدِ اللَّهِ وَ أَبِي طَالِبٍ ع. (اصول کافی، ج1، ص 442، باب مولد النبی)

 

3. امام باقر علیہ السلام ہی کی روایت ہے کہ اللہ تعالی نے پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کی: میں نے تجھے اس وقت خلق کیا جب کوئی بھی چیز نہیں تھی۔

أَحْمَدُ عَنِ الْحُسَيْنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْفُضَيْلِ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ ع يَقُولُ‏ أَوْحَى اللَّهُ تَعَالَى إِلَى مُحَمَّدٍ ص أَنِّي خَلَقْتُكَ‏ وَ لَمْ تَكُ شَيْئا. (اصول کافی، ج 1، 440، باب مولد النبی)

 

4. امام جواد علیہ السلام کی روایت ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو، علی علیہ السلام کو، فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کو اس وقت خلق کیا جب خدا واحد اور متفرد تھا۔ اس کے بعد ایک مدت گزر گئی، پھر باقی تمام اشیاء کو خلق کیا۔

الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَشْعَرِيُّ عَنْ مُعَلَّى بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي الْفَضْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي جَعْفَرٍ الثَّانِي ع فَأَجْرَيْتُ اخْتِلَافَ الشِّيعَةِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى لَمْ يَزَلْ مُتَفَرِّداً بِوَحْدَانِيَّتِهِ ثُمَّ خَلَقَ مُحَمَّداً وَ عَلِيّاً وَ فَاطِمَةَ فَمَكَثُوا أَلْفَ دَهْرٍ ثُمَّ خَلَقَ جَمِيعَ الْأَشْيَاء. (اصول کافی، ج 1، 441، باب مولد النبی)

5. امام صادق علیہ السلام سے مفضل کی روایت ہے کہ  آپ نے فرمایا: اے مفضل ہم اس وقت بھی اپنے پروردگار کے پاس تھے جب کوئی دوسرا نہ تھا۔ ہم اس پرودگار کی تسبیح کرتے تھے، اس کی تقدیس کرتے تھے، تہلیل کرتے تھے، اس کی تجید کرتے تھے۔ اس وقت ہمارے سوا  نہ کوئی ملک مقرب تھا اور نہ کوئی ذی روح تھا۔ یہاں تک کہ خدا نے ارادہ کیا چیزوں کو خلق کرے، جیسے چاہیے خلق کرے۔ ملائکہ اور دوسری اشیاء کو خلق کرے۔ ان تمام چیزوں کاعلم بھی ہمارے پاس رکھا۔

عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حَمَّادٍ عَنِ الْمُفَضَّلِ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع كَيْفَ كُنْتُمْ حَيْثُ كُنْتُمْ فِي الْأَظِلَّةِ فَقَالَ يَا مُفَضَّلُ كُنَّا عِنْدَ رَبِّنَا لَيْسَ عِنْدَهُ أَحَدٌ غَيْرُنَا فِي ظُلَّةٍ خَضْرَاءَ نُسَبِّحُهُ وَ نُقَدِّسُهُ وَ نُهَلِّلُهُ وَ نُمَجِّدُهُ وَ مَا مِنْ مَلَكٍ مُقَرَّبٍ وَ لَا ذِي رُوحٍ غَيْرُنَا حَتَّى بَدَا لَهُ فِي خَلْقِ الْأَشْيَاءِ فَخَلَقَ مَا شَاءَ كَيْفَ شَاءَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ وَ غَيْرِهِمْ ثُمَّ أَنْهَى عِلْمَ ذَلِكَ إِلَيْنَا. (اصول کافی، ج 1، 441، باب مولد النبی)

+ لکھاری عباس حسینی در 2 Nov 2018 و ساعت 8:29 PM |