قرآن اور وجودِ خدا پر استدلال

 

کیا قرآن نے وجودِ خدا کے اثبات پر کوئی دلیل پیش کی ہے؟

اس حوالے سے مختلف آراء موجود ہیں۔ کلی طور پر دو قسم کے آراء ہیں۔

اکثر متکلمین کا کہنا ہے کہ جن آیتوں میں کائنات کے اندر اللہ تعالی کی مختلف آیتوں اور نشانیوں کی بات ہوئی ہے وہ سب در حقیقت اثباتِ خدا کی دلیلیں ہی ہیں۔ اس حوالے سے قرآن نے کائنات کے نظم اور ہدف پر خاص زور دیا ہے۔

جبکہ اس کے مقابلے میں دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ قرآن مجید، اللہ تعالی کے وجود کو دلیل اور برہان سے بے نیاز سمجھتا ہے، چونکہ اس ذات کا وجود انتہائی واضح اور دلیل سے بے نیاز ہے۔ قرآن کا زور زیادہ تر توحید کے اثبات، شرک کی نفی یا خدا کی مختلف صفات کے اثبات پر ہے۔ جن آیات کے ذریعے پہلے گروہ والوں نے خدا کے وجود کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے در حقیقت وہ دلیل تام اور اس کے مقدمات پورے نہیں ہیں۔

اس حوالے سے دونوں اقوال کو جمع کرتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اگرچہ قرآن کریم نے براہ راست وجودِ خدا کے اثبات پر کوئی دلیل پیش نہیں کی، لیکن بہت ساری آیات سے غیر مستقیم طور پر ایسی دلیلیں اخذ کی جا سکتی ہیں۔

بظاہر چونکہ قرآن کے مطابق خدا کا وجود بہت زیادہ بدیہی اور واضح ہے لہذا اس حوالے سے دلیل لانے کی ضرورت نہیں۔ یا شاید دلیل نہ لانے کی وجہ یہ ہو کہ اس معاشرے میں خدا کے وجود کا کوئی منکر نہ تھا۔ جب ان سے پوچھا جاتا تھا کہ زمین و آسمان کو بنانے والا کون ہے؟ تو وہ لوگ جواب دیتے تھے: اللہ۔ ہاں شرک ایک اہم مسئلہ تھا جس کے رد میں قرآن نے بہت ساری دلیلیں پیش کی ہیں۔ جس معاشرے میں کوئی موضوع مسئلہ ہی نہ ہو وہاں اسے مسئلہ بنا کر پیش کرنا بذات خود شکوک وشبہات کا باعث ہے۔

بعض قرآنی آیات کا ظاہر یہی ہے کہ خدا کا وجود ظاہر اور بدیہی ہے۔ (أَفِي اللَّهِ شَكٌّ فاطِرِ السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ) کیا اس بات میں شک ہے کہ خدا آسمانون اور زمین کا خلق کرنے والا ہے؟! اس آیت میں استفہام انکاری ہے۔ پس مطلب یہ ہوگا کہ خدا کے آسمان و زمین کے خالق ہونے کے حوالے سے انکار ممکن ہی نہیں۔ پس آیت اس اتکازی مطلب کی اشارہ کر رہی ہے کہ جب کوئی چیز ہے تو اس کے بنانے والا بھی کوئی ضرور ہے۔

قرآن کی بعض دوسری آیتوں سے غیر مستقیم طور پر وجودِ خدا پر دلیلیں استنباط کر سکتے ہیں۔ ممکن ہے کسی آیت کا ظاہر توحیدِ خدا کے اثبات میں یا صفاتِ خدا کے اثبات میں ہو، لیکن غیر مستقیم طور میں اس میں اصل وجودِ خدا کا اثبات بھی ہو رہا ہو۔

بطور نمونہ یہ آیت ملاحظہ کیجیے: (أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْ‏ءٍ أَمْ هُمُ الْخالِقُونَ) اس آیت میں کفار سے استفہام انکاری کے لہجے میں بات ہو رہی ہے کہ "آیا تم لوگ بغیر کسی خالق کے پیدا ہوئے ہو یا تم خود اپنے خالق ہو؟" اس آیت میں ضمنی طور پر اثباتِ وجود خدا کی یہ دلیل موجود ہے:

انسان یا بغیر کسی خالق اور بنانے والے کے، خود بخود موجود ہوا ہے (پہلا فرض)

یا اس کا کوئی خالق اور بنانے والا ہے۔

وہ بنانے والا یا تو خود وہ لوگ ہیں۔ یعنی اپنا خالق خود ہے۔ (دوسرا فرض)

یا کوئی اور ذات ہے۔ (تیسرا فرض)

پہلے اور دوسرے فرض کو کوئی بھی عاقل نہیں مان سکتا۔ پس تیسرے فرض کو ماننا پڑے گا۔ تیسرے فرض میں وہ ذات جو تمام انسانوں کا خالق ہے اسے "اللہ" کہا جاتا ہے۔

 


ٹیگس: مصباح یزدی, خدا شناسی
+ لکھاری عباس حسینی در 29 Mar 2019 و ساعت 1:15 AM |