فتح مکہ کے وقت لشکر اسلام کا مکہ میں دخول
علامہ علی نقی نقن کی خوبصورت منظر کشی
حضرت (صلی ا للہ علیہ وآلہ وسلم) نے سواری طلب فرمائی۔ ایک ناقہ کوہ تن قصوی نامی حضرت کے سامنے آیا اور حضرت نے نور طور کی طرح جس پر جلوہ فرمایا۔
جلوہ میں بے شمار پیاد سوار تگ ودو میں تھے، ادھر جوانوں کا شور وغوغا، ادھر گھوڑوں کے ہنہنانے سے کان پڑی آواز نہ سنائی دیتی تھی۔
قلب لشکر میں سید مختار تھے، گرد وپیش ہالے کی طرح مہاجر وانصار تھے، راہ خدا میں سرفروشی پر سب تیار تھے اور روبرو حضرت کے حیدر کرار تھے۔ یہاں پر کوئی مثال کھپتی ہے، ہاں چاند کے سامنے تارے کی تشبیہ البتہ کچھ پھبتی ہے، وسعت خدا میں نشاں زرفشاں تھا، ڈاب ٰ میں ذوالفقار پر کہکشاں کا گماں تھا۔
اس کروفر سے لشکر خدا چلا۔۔۔۔۔۔۔۔
(تاریخ اسلام، علامہ علی نقی نقن، مجلد 4، ص 436)
