ساقی خود خدا ہے

تحریر: عباس حسینی

 

توحید کے تقاضوں کے مطابق اس کائنات کا ہر فعل، فعلِ الہی ہے لیکن بعض افعال کو خاص طور پر خداوند متعال اپنی طرف نسبت دیتا ہے۔ قرآن مجید میں ایک فعل جس کی نسبت خدا نے اپنی طرف دی ہے وہ "سقائی" کا فعل ہے۔ سورہ انسان میں ارشاد ہوا: "وَسَقاهُمْ رَبُّهُمْ شَراباً طَهُوراً" اور ان کا پرورگار انہیں شراب طہور پلائے گا یعنی ساقی خود خدا ہے۔ گویا یہاں کسی فرشتے، کسی حور اور کسی غلمان کا واسطہ نہیں ہوگا بلکہ ان مقربین کے لیے ربّ کائنات خود سقّائی فرمائے گا۔ یہ بہت ہی بلند مقام ہے جس کا صرف تصور کتنا لذّت بخش ہے، خودِ فعل کتنا مسحور کن ہوگا وہ ہمارے چشم تصور سے بہت بعید ہے۔

 

تعبیر میں مزید خوبصورتی یہ ہے کہ ضمیر "ھم" کا تکرار کیا گیا ہے۔ اگر کہا جاتا "سقاھم الرب" تو بھی کافی تھا لیکن انس و محبت اور اپنائیت کی ایسی بہار ہے کہ خداوند متعال ضمیر کا تکرار کر کے فرما رہا ہے: "ربھم" ان کا پروردگار انہیں شراب طہور پلائے گا۔ پس یہاں اپنائیت ہی اپنائیت چھلک رہی ہے۔

 

خدا کی خاص صفت رب کا تذکرہ ہوا۔ ربوبیت کا تعلق بشر کے امور کی تدبیر اور انسان کی پرورش سے ہے۔ گویا انسانی تربیت کے الہی اصولوں کے مطابق چلنے والوں کے لیے اس ذات کی طرف سے ایک خاص انعام یہ ہے کہ وہ اپنے دست قدرت سے انہیں جام پیش کرے گا۔ اس سے بڑے انعام کا تصور بعید ہے۔

 

 دنیا کی آلودہ شراب عقل کو زائل کر کے انسان کو خدا سے دور کرتی ہے جبکہ اس الہی شراب کی صفت یہاں "طھور" بیان ہوئی۔ طاہر وہ چیز ہے جو خود سے پاک ہو، جبکہ طہور وہ چیز ہے جو خود بھی پاک ہو اور دوسروں کو بھی پاک کرتی ہو۔ پس یہ شراب طاہر بھی ہے اور مطہِر بھی۔

 

صادقِؑ آل محمدﷺ کی روایت کے مطابق یہ شراب انہیں خدا کے علاوہ ہر چیز سے پاک کر دے گی۔ گویا خدا کے علاوہ کسی بھی دوسری چیز کی طرف توجہ ایک لحاظ سے "شرک" اور آلودگی ہے۔ اس شراب کی خصوصیت یہ ہے کہ انسان کو ان تمام برائیوں سے پاک کر دے گی۔

 

سوچنے کا مقام ہے جہاں ساقی خدا کی ذات ہو وہاں توجہ کسی اور کی طرف جا سکتی ہے؟! دست الست سے پلائی جانی والی یہ شراب انسان کو ما سویٰ سے ہٹا کر اس ذات کی صفات جمال و جلال میں مست کر دے گی۔

+ لکھاری عباس حسینی در 17 Aug 2020 و ساعت 1:1 AM |