آیت الله محمدتقی مصباح یزدیؒ

ایک عہد ساز شخصیت

 

1934ء میں یزد میں پیدا ہوئے مجتہد، فلسفی، مفسر قرآن، معلم اخلاق اور حوزہ علمیہ قم کے اساتید میں سے تھے۔ آپ حوزہ کے رسمی دروس کے ساتھ ساتھ دیگر علوم جیسے فزکس (طبیعیات)، کیمسٹری (کیمیا)، فیزیالوجی (جسمانیات) اور فرنچ زبان کی بھی تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں۔ آپ نے یزد سے قم ہجرت کی اور مکاسب‌، کفایہ اور شرح منظومہ کے دروس میں شرکت کی، پھر آیت اللہ بروجردؒی اور امام خمینیؒ کے خارج فقہ کے دروس میں شرکت کی۔ اسی زمانے میں آپ علامہ طباطبائیؒ سے آشنا ہوئے اور ان کے دروس اور اخلاق میں شریک ہوئے۔ آپ نے پندرہ سال تک آیت اللہ بہجتؒ کے دروس میں شرکت کی۔

 

 امام خمینیؒ تعلیمی تحقیقی ادارہ (موسسه آموزشی پژوهشی امام خمینیؒ) کے بانی اور سربراہ تھے۔ مجلس خبرگان رہبری (ایران کی سپریم کونسل جو سپریم مذہبی و سیاسی لیڈر کو چنتی ہے) کی رکنیت، شورائے عالی انقلاب فرہنگی (تہذیبی انقلاب کی اعلی مشاورتی کمیٹی) کی رکنیت، جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم (حوزہ علمیہ قم کے اساتید کی مجلس) کی رکنیت اور مجمع جہانی اہل بیت ؑ(اہلبیتؑ عالمی اسمبلی) کی اعلی مشاورتی کمیٹی کی صدارت آپ کی خدمات میں سے رہی ہیں۔

 

آیت اللہ مصباح یزدیؒ گذشتہ دہائیوں میں ایران کے اندر ولایت مطلقہ فقیہ کے اہم ترین حامیوں اور نظریہ کاروں میں شمار ہوتے رہے ہیں۔ مختلف ادوار میں ولایت فقیہ کے دفاع میں آپ کا اہم کردار رہا ہے۔

 

انقلاب اسلامی سے پہلے پہلوی حکومت کے خلاف لکھے جانے والے سیاسی بیانیوں اور خطوط کے دستخطوں میں علامہ مصباح یزدیؒ کا نام دکھائی دیتا ہے۔ آپ رہبر معظم کے ساتھ فعال گیارہ رکنی خفیہ گروہ کے کاتب تھے جس کے لیے آپ نے مخصوص "رسم الخط" بھی ایجاد کیا تھا جسے صرف آپ سمجھ سکتے ہیں۔

 

سنہ 1995ء میں موسسہ آموزشی پژوہشی امام خمینیؒ (انسٹیٹیوٹ) کی بنیاد رکھی گئی۔ مختلف علوم انسانی کے شعبوں میں تعلیمات اسلامی کے وضاحت اور ان سے استفادہ اور معارف اسلامی و علوم انسانی میں محققین کی تربیت اس ادارے کے اغراض و مقاصد میں تھے۔ اس انسٹیٹیوت کے تحت اب تک انسانی علوم کے نایاب موضوعات پر سینکڑوں کتابیں چھپ چکی ہیں اور ہزاروں شاگرد فارغ التحصیل ہو چکے ہیں۔

 

علامہ مصباح یزدیؒ نے علوم اسلامی جیسے تفسیر، فلسفہ، منطق، فلسفہ دین، سیرتِ معصومینؑ، اخلاق، عرفان اور معارف اسلامی جیسے موضوعات میں متعدد آثار تدوین کئے ہیں جن میں سے بعض کتابوں کا اردو میں ترجمہ ہو چکا ہے۔

 

ستاد انقلاب فرہنگی تشکیل ہونے کے ساتھ ہی علامہ مصباحؒ اس کے رکن بن گئے اور یونیورسٹیوں کے نصاب کو اسلامی بنانے کے لئے حوزہ و یونیورسٹی تعاون مرکز تشکیل پایا تو آپ اس کے بنیادی سرگرم رکن تھے۔

 

آیت‌اللہ مصباح یزدیؒ، مجلس خبرگان رہبری کے دوسرے دور میں خوزستان کے نمائندے اور تیسرے اور چوٹھے دور میں تہران کے نمائندے تھے۔

 

آپ مئی سنہ 1997ء سے اکتوبر سنہ ۲۰۱۲ء تک اہلبیت عالمی اسمبلی کی اعلی مشاورتی کونسل کے صدر رہے۔

 

آیت‌اللہ مصباحؒ سنہ 1997ء میں تہران کی نماز جمعہ میں خطبہ سے پہلے تقریر کرتے تھے۔ آپ کی یہ تقریریں بعد میں " نظریہ سیاسی اسلام" کے عنوان سے دو جلدوں میں شائع ہوئیں۔

 

آیت‌اللہ مصباح یزدیؒ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے رکن رہے ہیں۔

 

سنہ 2011ء سے علامہ مصباح یزدیؒ کے کچھ چاہنے والوں اور حامیوں نے جبہہ پائداری کے نام سے ایک سیاسی پارٹی تشکیل دی تھی۔ انھوں نے علامہ مصباح یزدیؒ کو اس پارٹی کے بزرگ رہنما کے عنوان سے پیش کیا تھا۔ آپ نے اس پارٹی کے آئین کی تصدیق کی تھی۔

 

آیت اللہ مصباح یزدیؒ کو رہبر معظم سے اور رہبر معظم کو ان سے خاص عقیدت تھی۔ رہبر معظم نے ان کی شخصیت سے متعلق فرمایا:

(بنده نزدیک به چهل سال است که جناب آقای مصباح را می‌شناسم و به ایشان به عنوان، یک فقیه، فیلسوف، متفکر و صاحب نظر در مسائل اساسی اسلام ارادت دارم. اگر خدای متعال به نسل کنونی ما، این توفیق را نداد که از شخصیت‌هایی مانند علامه طباطبایی و شهید مطهری استفاده کند، اما به لطف خدا این شخصیت عزیز و عظیم القدر خلع آن عزیزان را در زمان ما پر می‌کند.)

یعنی میں چالیس سال سے آغا مصباحؒ کو جانتا ہوں۔ ایک فقیہ، فلسفی، مفکر اور سیاسی مسائل کے تجزیہ نگار کے عنوان سے ان سے عیقدت رکھتا ہوں۔ اگر اللہ تعالی نے موجودہ نسل کو علامہ طباطبائیؒ اور شہید مرتضی مطہریؒ جیسی شخصیات سے استفادے کی توفیق سے محروم رکھا ہے، تو خدا کے لطف سے یہ عزیز اور عظیم القدر شخصیت (علامہ مصباحؒ) ان کی کمی کو اس زمانے میں پورا کر رہی ہے۔


رہبر معظم کا یہ عظیم ساتھی، انقلاب کا اہم رکن، یہ عالم با عمل (یکم جنوری 2012ء) شہید قاسم سلیمانیؒ کی شہادت کے ایام میں ہم سب کو سوگوار کرتے ہوئے راہی دارِ بقا ہوئے۔

خدا رحمت کند این عاشقان پاک طینت را

حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

+ لکھاری عباس حسینی در 2 Jan 2021 و ساعت 12:11 AM |