مال اور منصب کی محبت
مال اور منصب کی محبت انسان کو نابود کر دیتی ہے
روایات میں آیا ہے:
مال کی محبت اور منصب کی محبت اگر کسی میں نفوذ کر جائے تو یہ محبت اس کے پورے دین کو اس سے پہلے برباد کر دے گی جتنی دیر میں دو بھیڑیے بغیر چرواہے کے ریوڑ کو چیڑ پھاڑ دیتے ہیں۔
روایت کے الفاظ قابل غور ہیں۔
بھیڑیے کی عادت یہ نہیں ہے کہ جب وہ کسی ریوڑ میں گھس جائے تو ایک ہی جانور کو کھا لے، اگر سیر ہو تو وہاں سے چلا جائے بلکہ پہلے وہ تمام جانوروں کو زخمی کرتا ہے، انہیں زمین پر گراتا ہے، جب اس کی درندگی کو کچھ سکون حاصل ہو تب کھانا شروع کرتا ہے۔ شاید ایک دو سے ہی اس کا پیٹ بھر جائے لیکن زخمی سب کو کرتا ہے۔
منصب اور مال کی محبت بھی اسی طرح ہے۔ یہ محبت اس طرح نہیں ہے کہ صرف نبوت یا امامت کے عقیدے کو سست کرے اور پھر یہ محبت ختم ہوجائے بلکہ جب یہ محبت آجاتی ہے تو تمام اعتقادات کی جڑوں کو کاٹ دیتی ہے اور انسان کے دین کو مکمل نابود کر دیتی ہے۔ عقیدے کو بھی، مبدا سے لے کر معاد تک، خراب کر دیتی ہے، اور فرعات کے حوالے سے انسان کے عمل کو بھی سست کر دیتی ہے۔ اس کی نماز اور روزے کو بھی ختم کر دیتی ہے۔
آیت الله مجتبی تہرانیؒ
رسائل بندگی
