دعویدارِ عشق

سردیوں کی ایک سخت رات تھی۔

بہت زیادہ برف باری ہو رہی تھی۔

تمام گلیاں اور سڑکیں سفید پوش ہوگئی تھیں۔

گلی کے سرے سے دیکھا کہ دوسری طرف ایک جوان ہے

جس نے دیوار کے ساتھ ٹیک لگایا ہوا ہے

اور اس کے سر کے بال برف سے سفید ہوچکے ہیں۔

میں نے سوچا

شاید کوئی نشئی ہے

جس نے دیوار پر جا کے سر مارا ہے۔

میں نے اسے ہلایا اور پوچھا:

کیا کر رہے ہو؟!

اے جوان شاید تو متوجہ نہیں ہے؟!

برف باری ہو رہی ہے!

شاید تم کافی دیر سے یہاں بیٹھے ہو۔؟!

بیمار ہو جاؤ گے۔

تمہاری زندگی کو خطرہ ہے۔

جوان نے شاید میری باتیں غور سے نہیں سنی تھیں

اپنی آنکھوں سے سامنے کی طرف اشارہ کیا

دیکھا کہ اس کی پوری توجہ سامنے کی کھڑکی پر ہے

میں سمجھ گیا کہ یہ کوئی عاشق جوان ہے۔

میں وہیں بیٹھ گیا

اور زار زار رونے لگا۔

جوان نے کہا: اے بوڑھے! تمہیں کیا ہوگیا ہے؟

کیا تم بھی عاشق ہوئے ہو؟!

میں نے جواب دیا:

تمہیں دیکھنے سے پہلے میرا یہ گمان تھا

کہ میں بھی عاشق ہوں۔ (مھدیؑ زہراءؑ کا عاشق)

لیکن اب جب تمہیں دیکھا ہے

(کہ کیسے اپنے عشق کی تڑپ میں خود سے بے خود ہو۔)

میں سمجھ گیا کہ میں عاشق نہیں ہوں

میں عشق کا صرف دعویدار تھا۔

آیا ممکن ہے عاشق ایک لمحے کے لیے بھی اپنے معشوق سے غافل ہو؟!

شیخ رجب علی خیاطؒ

+ لکھاری عباس حسینی در 3 Feb 2021 و ساعت 8:14 PM |