عمل اور جزا

ایک پھل کو مدنظر رکھیں جو یا تو صحیح اور سالم ہے یا معیوب اور فاسد۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ پھل اگر خراب ہوا ہے تو آخری دن جا کر ایسا ہوا ہو بلکہ اس کے خراب ہونے میں متعدد عوامل کارفرما ہیں۔ مثلا باغبان کی سستی، پانی کی کمی، بیماریوں کا حملہ وغیرہ۔ پھل کی خرابی آخری دن یا آخری لمحات کا نتیجہ نہیں ہے۔ (اس کی پوری زندگی اور اس کے تمام مراحل کا اس میں ہاتھ ہے۔)

انسان کے اعمال کی جزا بھی اسی طرح سے ہے۔ وہ جزا قیامت کے دن کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ اس دنیا میں ہمارے انجام دئے گئے اعمال کا (منطقی) اثر اور نتیجہ ہے۔ پس ہم اس دنیا میں جس طرح سے عمل کریں گے آخرت میں اسی عمل اور اس کے نتیجے کے ساتھ زندگی گزاریں گے۔

انسان عام طور عمل اور جزا کے اس تعلق سے غافل ہے۔ ہاں قیامت کے دن ہر کوئی اس تعلق کو ضرور مشاہدہ کرے گا۔

امام موسی صدر

(حدیث سحرگاھان، ص ۱۱۳)

+ لکھاری عباس حسینی در 26 Apr 2021 و ساعت 12:18 AM |