اعمال کا ترازو
جس طرح سے مستری اپنے مخصوص اوزار کے ذریعے دیوار کے سیدھی ہونے کے حوالے سے اطمئنان حاصل کرتا ہے، جس طرح سے دکاندار اپنی چیز بیچنے کے لیے میٹر اور ترازو کا سہارا لیتا ہے (تاکہ بیچنے والی چیز کی مقدار کا علم ہو۔) حق کے راستے کے مسافر کو بھی چاہیے ہر قدم پر اپنے عقائد، افکار، اخلاق اور اعمال کو "خدائی ترازو" پر تولے تاکہ انحراف، افراط اور تفریط سے بچا جا سکے۔
امیر المومنین (علیہ السلام) کی زیارت میں ہم پڑھتے ہیں "السلام على ميزان الأعمال" (اے اعمال کے ترازو! آپ پر سلام ہو۔) ائمہ علیھم السلام انحراف کی نشاندہی کرتے ہیں۔ منحرف راستوں کے بارے میں بتاتے ہیں۔ حضرت امیرؑ نہج البلاغہ کی حکمت 109 میں فرماتے ہیں: "ہم وہ نقطہ اعتدال ہیں جن سے پیچھے رہ جانے والا آگے بڑھ کر ان سے مل جاتا ہے اور آگے بڑھ جانے والا پلٹ کر ملحق ہو جاتا ہے۔"
حضرت عبد العظیم حسنیؒ وہ معروف ترین شخصیت ہیں جنہوں نے اپنا دین امام نقی ہادی علیہ السلام کے سامنے پیش کیا۔ امام عالی مقام نے ان کے عقائد کی تائید فرمائی اور انہیں ان پر ثابت قدم رہنے کے حوالے سے تشویق فرمائی۔
اسی طرح جب اسماعیل بن جابر نے اپنا دین امام باقر علیہ السلام کے سامنے پیش کیا تو آپؑ نے اس کی تائید کرتے ہوئے فرمایا: "هذا دین الله ودین ملائکة الله" یہ وہی اللہ اور اس کے رسولﷺ کا دین ہے۔
آیت اللہ جوادی آملی
