دل کا مکین

ایسے دلوں کے لیے جو شیطان کی منزل ہے، صحیح توحید اور معارفِ الہی کا حصول محال ہوا کرتا ہے۔ یہ صورت اس وقت تک رہے گی جب تک تمہارا ملکوت انسانی نہ ہو جائے اور تمہارا دل ان کجیوں اور خود خواہیوں سے پاک نہ ہو جائے۔
حدیث قدسی میں ارشاد ہے:

میری زمین اور آسمان میں میری سمائی نہیں ہے۔ صرف میرے مومن بندے کے دل میں میری سمائی ہے۔

لَا یَسَعُنِي أرْضِي وَلا سَمائِي وَلکِن یَسَعُنِي قَلْبُ عَبْدِيَ الْمُؤْمِنِ

اسی طرح سے (حدیث قدسی میں ہی) ارشاد ہوا:

 ‎‏قَلْبُ الْمُؤْمِنِ بَیْنَ إصْبَعَیِ الرَّحْمنِ، یُقَلِّبُهُ کَیْفَ یَشاءُ

رحمان کے دونوں انگلیوں کے درمیان مومن کا دل ہے۔ وہ جس طرح چاہتا ہے اس کو الٹتا پلٹتا ہے۔

مومن کے دل میں دستِ حق متصرف ہوتا ہے۔ لیکن اے بے چارے! تُو تو اپنے نفس کی عبادت کرتا ہے۔ تیری مملکتِ قلب پر شیطان متصرّف ہے۔ تیرے قلب سے خدا نے اپنے حقّ تصرّف کو اٹھا لیا ہے۔ اب بھلا تیرے پاس کونسا ایمان ہے؟ جس کی وجہ سے تو تجلّی بن سکے اور تو مطلق سلطنت کی جگہ واقع ہو سکے!

پس تو سمجھ لے۔۔۔ جب تک تیری یہ حالت ہے اور ریاکاری جیسی بری صفت تیرے اندر ہے تو کافر باللہ ہے اور تیرا شمار منافقین میں ہے چاہے تو اپنے آپ کو مومن و مسلمان ہی سمجھتا رہے۔

امام خمینی (رحمہ الله)

چہل حدیث، حدیث ۲


ٹیگس: امام خمینی
+ لکھاری عباس حسینی در 1 May 2021 و ساعت 3:43 AM |