فلسفۂ ختم نبوت

 

وہ کیا وجہ اور علت ہے جس کی بنا پر نبوت کا سلسلہ ہمارے آقا ومولا نبی اکرمﷺ پر آکر ختم ہوا؟

 ایسا کونسا کام انجام پایا جس کی بنا پر اب نبوت اور رسالت کی ضرورت باقی نہیں رہی؟

اس سوال کا جواب وہی فلسفہ ختم نبوت ہے جس کے بارے میں ہم مختصر بیان کریں گے۔

یہ اسلام کا مسلمہ عقیدہ ہے کہ حضور اکرمﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں۔ اب اللہ کی طرف سے مزید کسی نبی یا رسول نے نہیں آنا۔ اس بات پر قرآن و سنت سے محکم ادلہ موجود ہیں لہذا سب مسلمان اس عقیدے کو ضروریاتِ دین میں سے قرار دیتے ہیں۔

ختم نبوت کی اہم ترین دلیل یہ ہے کہ بشریت طفولت کے مرحلے سے نکل کر فکری بلوغت اور اجتماعی رشد کے اس آخری مرحلے تک پہنچ چکی ہے جہاں اللہ تعالی نے اس تک اپنا آخری پیغام پہنچا دیا ہے۔ اب قیامت تک کے لیے یہی پیغام باقی اور کافی ہے۔ اس پیغام میں اتنی گنجائش موجود ہے کہ وہ قیامت تک آنے والے انسانوں کی ہدایت کر سکتا ہے۔ یہ پیغام ہر زمان اور ہر مکان کے لیے کافی ہے۔ پس ایسے میں کسی نئی شریعت اور نئے نبی کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

اسی بات کے ضمن میں چند اہم دلائل اور وجوہات موجود ہیں جو ختم نبوت کے فلسفہ کو بہتر انداز میں بیان کرتی ہیں۔

۱۔ قرآن میں تحریف ممکن نہیں

سابقہ اقوام اپنی شریعتوں کی حفاظت نہ کر سکیں۔ ہر کچھ عرصے بعد سابقہ شریعت اور دین میں تحریف واقع ہوتی تھی جس کی وجہ سے نئی شریعت کی ضرورت پڑتی تھی۔ لیکن قرآن ایسا معجزہ ہے جس میں تحریف ممکن نہیں۔ اس کتاب کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالی نے خود لیا ہے۔ پس کسی نئی کتاب اور شریعت کی ضرورت نہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے چھوٹی کلاس کے بچے اپنی کتابیں پھاڑ دیتے ہیں لیکن جوں جوں بلوغت کے مرحلے تک پہنچتے ہیں وہی بچے اپنی کتابیں سنبھالنے لگ جاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ کتاب آخرِ عمر تک محفوظ رہتی ہے۔

۲۔ اسلام جامع اور کامل دین ہے

قرآن و روایات کے مطابق اسلام ایک جامع دین ہے جس میں بشریت کی ہدایت کے لیے لازم تمام ضروری چیزیں بیان کر دی گئی ہیں اور پھر اس دین نے قیامت تک باقی رہنا ہے لہذا مزید کسی دین اور شریعت کی ضرورت نہیں ہے۔ سابقہ اقوام کی اجتماعی اور فکری ترقی کو دیکھتے ہوئے ہر کچھ عرصے بعد ایک نئے اور کامل تر پیغام کی ضرورت تھی جبکہ اسلام آخری اور کامل ترین پیغام ہے۔

۳۔ تبلیغی پیغمبر کی ضرورت نہیں

نئے انبیاء کی آمد کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ سابقہ انبیاء کی شریعت کی وضاحت کرتے تھے۔ اسلام میں یہ ذمہ داری رسول اکرمﷺ کے بعد معصوم اماموں کے سپرد ہوئی ہے جن پر اگرچہ مصطلح معنی میں وحی نازل نہیں ہوتی لیکن یہ ہستیاں عالمِ غیب سے متصل ہیں اور قرآن وشریعت کی تفسیر اور ان کی حفاظت کی ذمہ داری پوری کرتی ہیں۔ پس اس لحاظ سے بھی کسی نئے نبی یا رسول کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ شریعت کی تبلیغ اور تشریح کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلام نے امامت کے نام سے ایک متبادل نظام کا بندوبست کیا ہے۔

البتہ ان تمام باتوں کا یہ نتیجہ ہرگز نہیں کہ اب انسانی عقل نے شریعت کی جگہ لے لی ہے پس شریعت کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی بلکہ مراد یہ ہے کہ انسانی بلوغت کو دیکھتے ہوئے اللہ تعالی نے اپنا کامل ترین پیغام بشریت تک پہنچا دیا ہے جس نے قیامت تک انسان کے ساتھ رہنا ہے اور انسانوں کی رہنمائی کرنا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ سابقہ انبیاء عقل کے مخالف باتیں کرتے تھے اور سابق شریعتیں عقل کی مخالف تھیں بلکہ سابقہ امتوں کی فکری سطح اس مرحلے پر نہیں تھیں کہ اللہ تعالی اپنا مکمل اور آخری پیغام ان تک پہنچائے۔ لہذا ہر نبی نے اپنی امت کی فکری سطح کے مطابق بات کی ہے۔ اس دوران بشریت ترقی کرتی گئی اور اس آخری مرحلے تک پہنچ گئی جہاں اسے تک آخری اور مکمل پیغام پہنچا دیا جائے۔ یہ کام اللہ کے آخری نبی حضور اکرمﷺ کے دستِ مبارک سے انجام پایا اور اب قیامت تک کے لیے اسی شریعت نے باقی رہنا ہے اور اس میں کسی قسم کی تحریف کی گنجائش نہیں۔

یہاں پر عرفاء نے اس جہت سے بھی بحث کی ہے کہ رسول گرامی اسلامﷺ معنوی کمالات کے اس عظیم مرتبے پر فائز تھے کہ آپﷺ کے علاوہ کوئی دوسرا اس آخری پیغام کو وصول نہیں کر سکتا تھا۔ پس ختم نبوت کا فلسفہ خود آپﷺ کی ذات میں مضمر ہے۔ در حقیقت یہ رسول اللہﷺ کی ذات تھی جس نے بشری تکامل کا وہ آخری مرحلہ طے کیا جہاں اللہ تعالی نے اپنا کامل ترین پیغام آپﷺ اور آپﷺ کی امت تک پہنچا دیا۔

 

مزید مطالعہ کے لیے:

خاتمیت ، شہید مرتضی مطہری

راہ و راہنما شناسی،آیت اللہ مصباح یزدی

+ لکھاری عباس حسینی در 24 Oct 2021 و ساعت 2:46 PM |