جہادِ نفس اور اس کے غنائم

نفس کے ساتھ جہاد کو جہاد اکبر قرار دینے کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ جہاد ہمیشہ اور ہر وقت جاری ہے۔ جہادِ اصغر مخصوص اور محدود وقت کے لیے ہوتا ہے جبکہ جہادِ اکبر کی مدت تا دمِ مرگ ہے۔ ایک طرف اس کے نفسانی خواہشات ہیں جو اسے برائی کی طرف دعوتے دیتے ہیں اور دوسری طرف عقل ہے جو اسے ہوائے نفس کی اطاعت اور منکر سے روکتے ہوئے بلند پروازی کی دعوت دیتی ہے۔ عام جنگ تلواروں، نیزوں، تیروں وغیرہ سے لڑی جاتی ہے جبکہ جہاد نفس کا ہتھیار علم، اندیشہ، معرفت، نیت اور ارادہ ہے۔

نفس، عقل کو فریب دینے کے لیے تمام برائیوں کی تزئین کر کے، خوبصورت بنا کر پیش کرتی ہے۔ قرآن کی تعبیر میں یہ وہی نفسِ امارہ ہے۔ نفسِ مسولہ ہے۔

جس طرح عام جنگوں میں کبھی فتح ہے، کبھی شہادت ہے اور کبھی اسارت۔ جہادِ اکبر میں بھی یہی حالات پیش آتے ہیں۔ اس جہاد میں انسان یا فاتح ہے، یا شہید یا اسیر۔

اس جنگ میں اگر نفس کی جیت ہوئی اور انسان نفس کے سامنے تسلیم ہوگیا تو وہ عقل کو اپنا اسیر بنا لیتا ہے۔ امیر المومنین نے نہج البلاغہ میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے: "كم من عقل أسير تحت هويً أمير" کتنی ہی عقلیں ہیں جو ہوائے نفس کی اسارت میں ہیں۔

اگر انسان زندگی کے آخری لمحہ تک نفس کے خلاف جہاد کرتا رہے اور اس دنیا سے چلا جائے تو اس کی موت شہادت کی موت ہے۔

لیکن اگر انسان، اپنے نفس پر غالب آئے تو یہ انسان کی اصل فتح اور کامرانی ہے۔ جیسے رسول گرامی اسلام نے اپنے بارے میں فرمایا: "میں نے اپنے شیطان کو رام کیا ہے اور وہ اسلام قبول کر چکا ہے۔" یا امیر المومنین علیہ السلام اپنے بارے میں فرماتے ہیں: "هي نفسي أروضها بالتّقوي" یہ میرا نفس ہے جسے میں تقوی کی تربیت دی ہے۔ اب یہ نفس ریاضت کی وجہ سے مکمل کنٹرول میں ہے۔ اب یہ نفس ہے جو مجھ علی علیہ السلام کی اسارت میں ہے۔

اس جنگ میں کامیابی کے بعد، عام جنگوں میں جیسے ہوتا ہے، انسان کو غنائم ملتے ہیں۔ قرآن کی تعبیر کے مطابق "وَنَهَي النَّفْسَ عَنِ الهَوَي فَإِنَّ الجَنَّةَ هِيَ المَأْوَي" جو لوگ اپنے نفس کو ہوا وہوس سے پاک رکھتے ہیں تو ان کا ٹھکانہ جنت ہے۔ جہاد نفس کے غنائم میں جنت اور اس سے بڑھ کر خدا کی رضا ہے۔ اور اس سے بڑی غنیمت کیا ہو سکتی ہے؟

(استفادہ از دروس تفسیر آیت الله جوادی آملی)

+ لکھاری عباس حسینی در 25 Dec 2025 و ساعت 11:41 PM |