برہانِ امکان ووجوب
اس بحث کی وجودی جہت (Ontological Aspect) کو معرفتی جہت (Epistemological Aspect) سے الگ کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر علمی اور معرفتی حوالے سے واجب اور ممکن کا تصور ایک دوسرے پر موقوف ہے یا بہتر الفاظ میں تصور میں دونوں ایک ساتھ ہیں (بلکہ سارے فسلفی مفاہیم اسی طرح ہوتے ہیں، جیسے وجود اور عدم، علت اور معلول، قدیم اور حادث، متحرک اور ساکن) اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وجودی طور پر بھی ایک دوسرے پر موقوف ہیں۔
برہانِ امکان ووجوب کا سادھا سا مدعا یہ ہے کہ
۱۔ آپ وجود کو مانتے ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں مانتے تو آپ سفسطہ کے قائل ہیں۔
۲۔ اگر آپ کسی بھی وجود کو مانتے ہیں تو اس وجود کو واجب الوجود مانتے ہیں یا ممکن الوجود۔ کوئی تیسری صورت عقلی طور پر فرض نہیں ہو سکتی۔
۳۔ اگر واجب الوجود مانتے ہیں تو واجب الوجود کا وجود ثابت ہوگیا۔
۴۔ اگر ممکن الوجود مانتے ہیں تو ممکن الوجود کا وجود، واجب کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ (اس دلیل کی تصدیق کے لیے صرف ممکن اور واجب کا درست تصور ہی کافی ہے۔ یعنی خود اس کا درست تصور اس کی درست تصدیق کا سبب بنے گا۔) عقلی طورپر اس کو یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ ممکن الوجود کے لیے وجود ضروری نہیں تھا۔ پھر کیوں کر وجود میں آیا؟ اس کی علت کیا ہے؟ اگر بغیر علت کے وجود میں آیا تو آپ قانونِ علیت کا انکار کر رہے ہیں۔ اگر علت کو مانتے ہیں اس علت کے بارے میں یہی سوال تکرار ہوگا کہ واجب ہے یا ممکن۔ اگر واجب ہے تو مطلوب ثابت ہے اگر ممکن ہے تو پھر علت کی ضرورت ہے۔ تسلل محال ہے۔ لہذاعقل کہتی ہے معلولات کا سلسلہ ایک واجب تک پہنچ کر ضرور رکے گا۔
بلکہ اس برہان کو یوں بھی پیش کیا جا سکتا ہے جہاں تسلسل کے استحالہ کی طرف جانے کی بھی ضرورت نہ ہو کیونکہ ممکنات کا وجود خود اس بات کی نشانی ہے کہ یہ سلسلہ واجب پر منتہی ہوا ہے۔ وضاحت اس کی یہ ہے کہ ممکنات کا وجود ہماری نظر میں یقینی ہے۔ اگر اس جہان میں موجود تمام موجودات، ممکن الوجود (Contingent) ہوں تو ان میں سے کسی کو بھی موجود نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اب جبکہ موجود ہیں تو اس کا مطلب اس سلسلے کے آغاز میں ایک واجب الوجود، موجود ہے۔ کیونکہ ہر ممکن الوجود یہی کہتا ہے کہ میرا وجود کسی اور سے ہے۔ اگر کائنات میں موجود تمام ممکنات کو ہم ایک واحد (One Unit) کے طور پر دیکھیں تو یہی بات وہاں تکرار ہوگی۔ یعنی پوری کائنات اپنی زبانِ بے زبانی سے کہے گی جب تک میری علت نہ ہو میں وجود میں نہیں آسکتی۔ اگر اس علت کو ممکن الوجود فرض کریں تب وہ اسی ون یونٹ کا حصہ ہے۔ جب تک واجب الوجود کو نہیں مانیں گے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک دوڑ کا مقابلہ ہونا ہو۔ دوڑ کا حصہ بننے والا ہر کھلاڑِی کہے: جب تک مجھ سے پہلے والا نہیں دوڑے گا میں نہیں دوڑوں گا۔ تیسرا بھی یہی کہے، چوتھا بھی۔۔۔ اب اگر آپ دیکھیں کہ دوڑ کا مقابلہ شروع ہو چکا ہے تو ہم سمجھیں گے کہ کوئی ایک ایسا ضرور تھا جس نے یہ شرط نہیں لگائی کہ مجھ سے پہلے کوئی ہونا چاہیے جو دوڑ کا آغاز کرے۔ پس تمام ممکنات گواہی دیتے ہیں کہ ہم سے پہلے ایک موجود ایسا ہے جس سے اس کائنات کی دوڑ کا آغاز ہوا ہے۔ آپ اس پہلے موجود کا نام جو بھی رکھیں، دین کی زبان میں اسے اللہ اور خدا کہا جاتا ہے۔
