ڈاکٹر شہید مصطفی چمران
تحرير: عباس حسينى
ڈاکٹر شہید مصطفی چمران کی ڈائری پڑھ رہا ہوں ۔ خد ا بود ودیگر ھیچ نبود۔ (There was God and nothing else) روح کو چھوتی تحریریں۔۔۔ ایمان سے لبریز یادیں۔۔۔ عشق خدا سے سرشار دل کی باتیں ۔۔ بندہ اپنی جگہ شرمندہ ہوجاتا ہے کہ کیسے پاکیزہ لوگ تھے۔ وہ لوگ کہاں ہم کہاں؟! اپنا سب کچھ چھوڑ کر راہ خدا میں موت کو گلے لگانا اتنا آسان کام نہیں ہے۔ یہ صرف خاص لوگوں کا طرہ امتیاز ہے۔ تربیت شدہ افراد کا خاصہ ہے۔
ایک مثال ملاحظہ ہو: لکھتے ہیں: "خدایا مجھے معاف کردے۔ میرا دل بھر گیا ہے علم و دانش سے، کام کاج سے، دنیا وما فیہا سے، تمام دوستوں سے، مدرسہ اور استاد سے، زمین اور آسمان سے۔ خدایا! میرا دل چاہتا ہے کچھ لمحات صرف تیرے ساتھ گزاروں۔ صرف آنسو بہاوں۔ فریاد کروں۔ اپنے اندر کے تمام بوجھ کو ہلکا کروں۔ اے غم، اے میرا پرانا دوست۔ تجھ پر میرا سلام۔ آجا کہ میرا دل تیرے لیے تڑپ رہا ہے۔ اے میرے خدا! زندگی کے مفہوم کو نہیں جانتا۔ جو چیزیں دوسروں کے لیے لذت بخش ہیں وہ مجھے تھکاوٹ دیتی ہیں۔ میرا دل ہر چیز سے بھر گیا ہے۔ خوشی اور لذت سے بھی متنفر ہوں۔ خدایا تیری طرف آنا چاہتا ہوں۔ میری مدد فرما۔ صرف تو میرے ضمیر سے آگاہ ہے۔ اپنے پلکوں کے آنسو صرف تیرے حوالے کرتا ہوں۔ "
ڈاکٹر مصطفی چمران تہران میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ایران میں حاصل کی۔ فیزیکس کی فیلڈ میں تخصص کیا۔ اعلی تعلیم کے حصول کے لیے امریکہ چلے گئے۔ پلازما فیزیک میں پی ایچ ڈی کر لی۔ فارسی کے علاوہ عربی، ترکی، فرینچ، انگلش اور جرمن زبانوں پر مسلط تھے۔ اعلی تعلیم کے باوجود ان کی انقلابی روح ہمیشہ مسلمانوں کے زوال پر تڑپتی رہی۔ جمال عبد الناصر کے دور میں مصر جا کر جنگی تربیت حاصل کی۔ امام موسی صدر کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے زندگی کے قیمتی ترین سات سال لبنان میں گزارے۔ لبنان کی خانہ جنگی کے دوران انہوں نے مظلومین کی مدد میں اہم کردار ادا کیا۔ ٹیکنکل کالج کو چلانے اور حرکت امل کی بنیاد رکھنے میں ان کا اہم رول تھا۔ در حقیقت آج کی حزب اللہ امام موسی صدر اور ڈاکٹر چمران جیسوں کی محنت اور تربیت کا نتیجہ ہے۔ ایران میں انقلاب کی کامیابی کے بعد واپس ایران آئے۔ امام خمینی کی خاص سفارش پر ایران رکے اور سپاہ پاسداران کی تشکیل اور تربیت میں اپنا اہم حصہ ڈالا۔ انقلاب کے فورا بعد کردستان میں بغاوت کو کنٹرول کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ امام خمینی کے خاص حکم پر وزیر دفاع بنے۔ پارلیمنٹ میں تہران کی عوام کی طرف سے نمائندگی کی۔ ایران عراق جنگ میں رہبر معظم کے ساتھ جنگی مہمات میں حصہ لیا۔ اپنے پیشہ ورانہ تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے عراقی فورسز کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔ اسی جنگ کے دوران زخمی ہوئے اور پھر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ روحش شاد۔
ٹیگس: ڈاکٹر مصطفی چمران
