امام تقی علیہ السلام اور چھوٹی عمر کی امامت

تحریر: سید عباس حسینی

 

امامت ایک بہت بڑا منصب ہے۔ دین اور دنیا کے امور کے زمام سنبھالنے کا نام ہے۔ امام معاشرے کا پیشوا ہوتا ہے۔ امام،  ہادی اور رہبر ہوتا ہے جس کے پیچھے سارے معاشرے کو چلنا ہوتا ہے۔ اندرونی مسائل ہوں یا بیرونی مشاکل سب کو حل کرنے کی ذمہ داری امام کے کاندھے پر ہوتی ہے۔ امامت کی ان تمام تر سنگین ذمہ داریوں کو دیکھتے ہوئے یہ سوال پیش آتا ہے کہ ایک چھوٹا سا بچہ کہ جس کی عمر پانچ یا آٹھ سال ہو وہ کیسے اتنی بڑی ذمہ داری سنبھال سکتا ہے؟ اس بات کی کیا توجیہ ہےکہ شیعوں کے ہاں پانچ اور آٹھ سال کےبچے امام بنتے رہے ہیں۔

یہ بات درست ہے کہ امام محمد تقی علیہ السلام جب منصب امامت پر فائز ہوئے اس وقت آپ کی عمر ۷ سال تھی۔ اسی طرح  منصب امامت سنبھالتے وقت امام علی نقی علیہ السلام کی عمر 9 سال، امام عسکری  علیہ السلام کی عمر 22 سال اور حضرت امام زمان علیہ السلام کی عمر صرف 5 سال تھی۔

ایک تو وہی جواب ہے  جو خود امام جواد علیہ السلام نے اپنی امامت کے حوالے اشکال کرنے والوں کو دیا تھا کہ یہ منصب الہی ہے خدا جس کو چاہے جس وقت دے  دیتا ہے۔ کسی کو بچپن میں دیتا ہے تو کسی کو چالیس سال کی عمر میں۔ حضرت عیسی ابھی ماں کی گود میں تھا کہ اعلان ہوا:"إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا" . قرآن نے حضرت یحی کے بارے میں کہا: "يَا يَحْيَى خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّة وآتَيْناهُ الْحُكْمَ صَبِيَّاً" اور یہ تو فخر عیسی اور فخر یحی ہیں۔ ان کی امامت کے بارے میں شک کیوں؟ امام در حقیقت علم لدنی کا مالک ہوتا ہے۔ امام کسی کے پاس جا کر علم نہیں سیکھتا۔ امامت منصب الہی ہے۔ لیاقت دیکھ کر خدا کا عطا کردہ تحفہ ہے۔ لہذا اس حوالے سے چھوٹی عمر اوربڑی عمر کا کوئی فرق نہیں۔ خداوند متعال اپنی بے پناہ قدرت کے ساتھ چھوٹے سے بچے کی عقل کو کامل بنا سکتا ہے۔ جس طرح چاہے کسی کو رشد دے سکتا ہے۔

لہذا تاریخی حوالے سے بھی دیکھیں تو سارا زمانہ ان کے علمی کمالات اور رشدِ عقلی کے معترف نظر آتے ہیں. یحی بن اکثم کا واقعہ ملاحظہ کیجیے کہ جو ریاست کا مفتی اعظم تھا لیکن امام تقی علیہ السلام کی علمی قدرت کے سامنے ہار ماننے پر مجبور ہوگیا اور مامون عباسی  کو بھی کہنا پڑا: "وأن صغر السن فيهم لا يمنعهم من الكمال" کہ چھوٹی عمر اس خاندان میں کمالات کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے۔  اسی طرح  تاریخ کہتی ہے کہ امام تقی علیہ السلام  کے بعض اصحاب آپ سے سوالات کرتے گئے اور چند دنوں کے اندر آپ نے  تیس ہزار سوالوں کے جواب دے دئیے جبکہ اس وقت آپ کی عمر صرف 9 سال تھی۔

سید محمد باقر صدر علیہ الرحمہ نے  استقراء کے حوالے سے اپنے جدید نظریے (جو حساب احتمالات پر قائم ہے)  کے مطابق اس مسئلے کو عقلی بنیادوں پر حل کیا ہے ۔

سید صدر کے مطابق اتنی کم عمری میں امام جواد علیہ السلام کا  منصب امامت سنبھالنا شیعیت کی حقانیت کی سب سےبڑی دلیل ہے۔  حالانکہ اس وقت شیعہ طائفہ میں بڑے بزرگان اور امام رضا  علیہ السلام کے اصحاب بھی تھے لیکن سب امام جواد علیہ السلام کی امامت پر متفق تھے۔ یقینا اس بچے میں کچھ ایسا دیکھا ہوگا جو اس کی امامت کے معترف ہوگئے۔

یہاں پر چند احتمالات ہیں۔

۱۔ لوگوں کو پتہ نہیں چلا کہ امام جواد علیہ السلام ابھی چھوٹے اور کم عمر ہیں۔ یہ احتمال ممکن نہیں چونکہ شیعہ اپنے اماموں کو لوگوں سے چھپا کر نہیں رکھتے تھے، بلکہ لوگوں کا امام سے براہ راست رابطہ ہوتا تھا۔

۲۔ اس وقت کے لوگ اتنے سادہ تھے کہ چھوٹے سے بچے کی امامت قبول  کر لی۔ یہ بات بھی ممکن نہیں چونکہ ان میں بڑے بڑے اصحاب بھی تھے جو مکتب امام صادق علیہ السلام کے پروردہ تھے۔ جو علمی اور فقہی اعتبار سے بڑے مراتب پر فائز تھے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک چھوٹے بچے نے اتنے بڑے اصحاب کو اپنی "جھوٹی" امامت پر قائل کیا ہو؟جبکہ اس وقت شیعیت مدینے سے کوفہ اور قم تک پھیلی ہوئی تھی۔

۳۔ امامت کا مفہوم لوگوں کو واضح نہیں تھا۔ لوگ شاید امامت کو بادشاہت کی طرح نسل در نسل وراثت سمجھتے تھے۔ اس کی شروط اور تفصیلات سے آگاہ نہیں تھے۔تاریخی حوالے سے یہ بات بھی درست نہیں چونکہ تقریبا دو صدیوں سے شیعوں کے درمیان امامت کا سلسلہ چل رہا تھا اور اس کے مفہوم، شرائط اور صفات سے بخوبی آگاہ تھے۔

۴۔ چوتھا احتمال یہ ہے کہ سارے شیعوں نے جھوٹ اور باطل پر اتفاق کر لیا ہو۔ یہ بھی عقلی طور پر اور تاریخی بنیادوں پر ممکن نہیں. شیعوں میں بڑے متقی ، پرہیزگار اور باوفا اصحاب ائمہ بھی تھے۔ ان سب کا جھوٹ پر اتفاق کیسے ممکن ہے؟تاریخ گواہ ہے کہ شیعوں نے اذیتیں اور صعوبتیں  برداشت کی ہیں لیکن اپنے عقیدے سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے۔

پس یہ سارے احتمالات جب ختم ہوں تو صرف یہی احتمال بچتا ہے کہ آپ امام معصوم تھے جس میں معاشرے کو چلانے کی تمام تر صلاحیتیں خداداد موجود تھیں۔ لہذا اس وقت کے بڑے بڑے اصحاب بھی حکم خدا کے تحت آپ کی اتباع کرتے تھے۔ اگر خدا نخواستہ اس بچے میں کسی قسم کی کمی ہوتی تو مخالفین زمین آسمان ایک کر دیتے کہ یہ دیکھو شیعوں کے امام میں یہ کمی ہے۔ وہ زمانہ علمی ترقی اور عروج کا زمانہ تھا۔ یونانی فلسفہ تک کا ترجمہ ہو چکا تھا۔ لیکن ان سب کے باوجود اپنے تو اپنے ، مخالفین کو بھی اس امام کی تعریفوں کے پل باندھتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جتنی بار بھی امام سے سوال پوچھنے کی، امام کو  شرمندہ کرنے کی یا لا جواب کرنے کی کوشش کی گئی خود سوال کرنے والا ، لا جواب ہوگیا۔ یہ سب آپ کی حقانیت کی دلیل ہے۔

تاریخی حوالے سے یہ بات عجیب ہے کہ مختلف اماموں کے بعد اگلے امام کے حوالے سے کچھ اختلافات سامنے آتے گئے۔ کچھ نئے فرقے بھی وجود میں آگئے۔ مثلا امام زین العابدین کے بعد زیدیہ فرقہ، امام صادق علیہ السلام کے بعد اسماعیلیہ اور فطحیہ فرقہ اور واقفیہ فرقہ کہ جس نے امام کاظم علیہ السلام کی شہادت کے بعد توقف کیا۔  لیکن امام جواد کی چھوٹی عمر کے باوجود شیعہ طائفہ نے بالاجماع آپ کی امامت کو قبول کیا۔ کسی  بھی حوالے سے کسی نے کوئی شک یا توقف نہیں کیا۔ کوئی نیا فرقہ وجود میں نہیں آیا۔ یہ خود آپ کی حقانیت اور علمی وعملی کمالات کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

 

+ لکھاری عباس حسینی در 22 Aug 2017 و ساعت 5:50 PM |