امام خمینی(رح) اور نماز شب
- امام خمینی(رح) نے بیماری کی حالت میں، زندان میں، جلاوطنی کے وقت اور یہاں تک کہ ہسپتال میں جب بسِتر بیماری پر تھے کسی وقت نماز شب نہیں چھوڑی۔
- آیت اللہ سید مصطفی خوانساری نقل کرتے ہیں: اس سال قم میں بہت زیادہ برف باری ہوئی۔ سردی بھی انتہائی شدت کی تھی۔ اس سخت موسم میں امام خمینی آدھی رات دار الشفاء مدرسے سے مدرسہ فیضیہ آتے تھے۔ مدرسے کے حوض کی برف توڑ کر برف کے نیچے سے پانی نکالتے اور اسی ٹھنڈے پانی سے وضو کر کے واپس اپنے مدرسے آتے اور تاریکی میں نماز شب پڑھنے میں مشغول ہوجاتے۔
- اس رات امام کے بیٹے حاج مصطفی کے گھر کچھ مہمان ٹھہرےہوئے تھے۔ کہتے ہیں: رات دیر تک علمی ابحاث میں ہم مشغول رہے۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہم سوئے ہی تھے کہ اچانک رونے اور گریے کہ آواز سن مہمان نیند سے پریشانی کی حالت میں جاگ گئے۔ حاج مصطفی کو بیدارکیا اور ان سے کہا: شاید آپ کے ہمسایے میں کوئی فوتگی ہوئی ہے۔آغا مصطفی نے آواز سن کر کہا: نہیں، یہ والد محترم(امام خمینی رہ) کی آواز ہے۔ جب بھی نماز شب پڑھتے ہیں ان کی یہی حالت ہوتی ہے۔
- قم میں امام خمینی(رہ) بیمار ہوئے۔ ڈاکٹرز کے کہنے پر تہران منتقل کئے گئے۔ موسم بہت سرد تھااور برف باری ہو رہی تھی۔ راستے بھر میں برف جمی ہوئی تھی۔ کئی گھنٹوں کے لیے امام ایمبولینس میں تھے۔ جب کارڈیالوجی ہسپتال تہران پہنچے امام نے وہاں بھی نماز شب پڑھی۔
- جس رات پیرس سےتہران امام کی واپسی تھی، جہاز کے اندر سارے لوگ سو رہے تھے۔ صرف امام تھے جو جہاز کے اوپر والی منزل پر جا کر نماز شب پڑھ رہے تھے۔
- وہ شخص جو جہاز میں امام کے ساتھ تھا،وہ نقل کرتے ہیں:میں نے جسارت کی۔کہا کہ جا کر دیکھ لوں امام کس حالت میں ہیں؟ سیڑھیوں سے ہوتے ہوئے جہاز کی اوپر والی منزل تک جا پہنچا۔ اوپر پہنچتاہوں تو دیکھتا ہوں کہ امام بیٹھے ہوئے ہیں اور نماز پڑھنے میں مصروف ہیں۔ جس طرح عام اوقات میں نماز پڑھتے ہیں۔ ہاں لیکن امام کی صورت آنسووں سے تر تھی۔ آپ نماز شب پڑھنے میں مصروف تھے۔
- امام کے فرزند حاج احمد نقل کرتے ہیں: جس رات پیرس سے واپسی تھی، جہاز کے اندر امام نماز شب کے لیے اٹھے۔ امام ایسے گریہ کر رہے تھے کہ جہاز کا عملہ تعجب کرنے لگا۔ ہم نے سنا کہ ان لوگوں (جہاز کے عملے ) نے پوچھا بھی تھا: امام کو کسی چیز کا غم ہے کیا؟ میں نے کہا:یہ تو امام کی ہر رات کا معمول ہے۔
- اسی طرح سے حاج احمد نقل کرتے ہیں: جس وقت قم سے امام کو زندان لے جایا گیاامام نے اس وقت ایسی حالت میں نماز شب پڑھی تھی کہ ان کو لے جانے والے سپاہی بھی متاثر ہوگئے تھے۔ ان میں سے ایک سپاہی تہران میں امام کی نماز دیکھ کر رو پڑا تھا۔
- ایک اور جگہ وہ کہتے ہیں: جس دن ہم نجف سے کویت کی طرف سفر کے لیے نکلے۔سفر کی تمام تر تھکاوٹ کے بعد ہم رات کے ۱۲ بجے کے قریب بصرہ پہنچے۔ بصرہ کے ایک ہوٹل میں کچھ دیر کے لیے آرام کیا۔ ابھی شاید ۲ گھنٹے نہیں گزرے ہوں گے کہ امام کی گھڑی نے الارم بجائی، امام اٹھ کھڑے ہوئے اور نماز شب پڑھنے میں مصروف ہوگئے۔
- شہید محراب آیت اللہ صدوقی نقل کرتے ہیں: ہم امام کے ساتھ کئی دفعہ سفر میں ساتھ تھے۔ مشہد کے سفر میں، ہمارے ساتھ خصوصی شفقت سے پیش آتے۔ ایک دفعہ مشھد سے واپسی پررات کے وقت روسی سپاہیوں نے راستے میں ہماری گاڑی روک لی۔ سب لوگ گاڑی سے اترے۔ امام چونکہ ہمیشہ سے نماز شب کے پابند تھے، اترتے ہی نماز شب پڑھنے کی تیاری کرنے لگے۔ اس صحراء کے بیج میں پانی کہاں سےلاتے؟ ایک دفعہ دیکھا کہ امام کو کہیں سے پانی مل گیا ہے اور آپ آستین اوپر کر کے وضو کرنے میں مصروف ہیں۔
- امام کی زوجہ نقل کرتے ہیں کہ جب سے امام کی عمر ۲۸ سال تھی(جس سال شادی ہوئی) سے لے کر اب تک ان کی کوئی نماز شب قضا نہیں ہوئی۔ آیت اللہ فاضل لنکرانی نقل کرتے ہیں کہ امام نے ۷۰ سال مسلسل بلا ناغہ نماز شب پڑھی ہے۔امام کی یہ عادت تھی کہ صبح کی نماز سے دو گھنٹہ پہلے بیدار ہوتے تھے۔ کچھ دیر کے لیے قرآن کی تلاوت کرتے تھے اور نماز شب میں مشغول ہوتے تھے۔
- (ترجمہ: سید عباس حسینی)
ٹیگس: امام خمینی, نماز شب
