امام خمینی (رہ) کی زندگی کے چند خوبصورت واقعات
حضرت امام خمینی(رہ) کی زندگی میں اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام سے عشق و محبت کا پہلو بہت زیادہ نمایاں تھا۔ آپ کو ان ذوات مقدسہ سے ایک خاص لگاو تھا۔ اس حوالے سے چند واقعات ملاحظہ ہوں:
- جس وقت آپ عراق میں تھے اکثر کربلا زیارت کے لیے مشرف ہوتے۔ اس زمانے میں ضریح کے اندر مرد اور خواتین کے حصے الگ نہیں کئے گئے تھے اور سب کے لیے ممکن تھا پوری ضریح کا چکر لگا لیں۔ امامؒ کو دیکھا گیا کہ آپ جب بھی زیارت کے لیے جاتے تو ضریح کا مکمل چکر نہیں لگاتے بلکہ ایک قوس کی شکل میں چکر لگا کر واپس آ جاتے۔ پوچھنے پر بتایا: احتمال ہے قبر کی اس جانب جناب شہزادہ علی اکبر علیہ السلام کی قبر ہو۔ ان کی قبر پر خدانخواستہ پاؤں آجائے تو توہین ہوگی۔ اس طرح سے آپ اس جگہے کی بھی تعظیم کرتے تھے جہاں احتمال تھا جناب علی اکبر علیہ السلام کی قبر ہے۔
- حکمی زادہ نامی شخص نے اہل بیت عصمت و طہارت کی گستاخی پر مشتمل کتاب "اسرار ہزار سالہ" لکھی۔ جب امامؒ تک اس کتاب کی خبر پہنچی تو امامؒ کو شدید صدمہ پہنچا اور آپ کو شدید بخار ہوا۔ آپ نے اپنا درس ایک مدت کے لیے مکمل تعطیل کیا اور گھر بیٹھ کر اس کتاب کا علمی اور مدلل جواب لکھا جو "کشف الاسرار" کی شکل میں چھپ گیا۔
- امام خمینیؒ کو حضرت زہراء سلام اللہ علیہا سے خاص عقیدت تھی۔ اس وقت ایران میں ایک جاپانی ڈرامہ سیریل ٹی وی سے دکھایا جا رہا تھا۔ اس کے ایک خاتون کردار کا اصل نام "اوشین" تھا۔ حضرت زہراء علیہا السلام کی ولادت کے موقع پر ریڈیو پر ایک خاتون سے انٹرویو لیتے ہوئے پوچھا گیا کہ آپ کی نظر میں ایرانی خواتین کے لیے زندگی میں بہترین نمونہ عمل اور آئیڈیل کون ہے؟ اس نے جواب دیا: "اوشین"۔ شاید امامؒ بھی یہ پروگرام سن رہے تھے اگلے دن ایک رسمی اعلامیہ جاری کیا اور اس وقت کے صدا و سیما (میڈیا) کے مسئول محمود ہاشمی کی توبیخ کی۔ ساتھ میں ان تمام لوگوں کو نوکری سے نکالنے کا مطالبہ کیا جو اس کام میں شریک تھے اور عدالت سے کہا کہ ان پر تعزیر جاری کی جائے۔ آپؒ نے فرمایا: جس نے توہین کی ہے اگر قصدا ایسا کیا ہے تو اس پر حد جاری ہوگی۔
- امام خمینیؒ حضرت عباس علمدار علیہ السلام کے حرم میں زیارت کے لیے جا رہے تھے۔ اندر بہت زیادہ رش تھا۔ کسی جاننے والے نے دیکھ لیا تو اپنی عبا کے ذریعے لوگوں کو ہٹا کر امامؒ کے لیے راستہ بنانے لگے۔ امامؒ نے اسے منع کیا۔ وہ پھر بھی نہیں رکے تو کہا "خدا کی قسم میں واپس چلا جاوں گا۔ یہ کام مت کریں۔ یہاں میں اور حضرت عباس علیہ السلام کا ہر زائر برابر ہے۔" لہذا کسی زائر کو تکلیف دینے پر آپ راضی نہیں تھے۔
- انقلاب کے بعد کچھ علماء نے مصائب پڑھنا چھوڑ دیا تھا۔ فضائل اور تبلیغ کے بعد منبر سے اترتے تھے اور مداح اور ذاکر کو موقع دیتے تھے کہ وہ ذکر مصائب پڑھ لیں۔ امامؒ تک خبر پہنچی تو بہت زیادہ ناراض ہو گئے۔ حکم دیا کہ علماء مصائب پڑھیں۔ زیادہ مصائب پڑھیں۔
- امام خمینیؒ کے گھر سالانہ مجلس ہوتی تھی۔ انقلاب کے بعد ابتدائی ایام میں آپ قم میں ساکن تھے۔ گھر مجلس تھی اور روضہ خوان مجلس پڑھ رہا تھا۔ امامؒ آکر مجلس کے سب سے آخر میں جوتی والی جگہ بیٹھ گئے۔ امامؒ کو دیکھ کر سب لوگوں کا رخ امامؒ کی طرف ہوا۔ امام بہت ناراض ہوئے اور بلند آواز سے کہا: طرف آقا باشید، طرف منبر باشید۔ (رخ روضہ خوان کی طرف رخ کریں۔ منبر کی طرف دیکھیں۔)
- پیرس میں عاشوراء کا دن تھا۔ گھر کے صحن میں بیٹھنے کے لیے دریاں وغیرہ بچھائی گئی تھیں اور لوگ زمین پر بیٹھ کر امامؒ کے منتظر تھے۔ میڈیا کے نمائندے بھی تھے جو امامؒ سے سیاسی موضوع پر کچھ گفتگو کرنا چاہتے تھے۔ اتنے میں امامؒ تشریف لائے۔ زمین پر بیٹھ کر پوچھا کوئی ہے جو مجلس پڑھے؟ ایک شخص نے مجلس پڑھی اور مصائب پڑہنا شروع کیا۔ امامؒ زار زار رونے لگے۔ گریہ کرنے لگے۔ میڈیا کے افراد حیران کہ شاہ کے خلاف لڑنے والے اس مجاہد کو کیا ہوگیا ہے؟ اچانک اتنا بلند گریہ؟ کیا کسی لیڈر کو رونا زیب دیتا ہے؟ ڈپلومیسی کی زبان میں رونے کا مطلب یہ انسان بہت کمزور ہے۔ پوچھنے پر بتایا کہ امامؒ در حقیقت اپنے جد امام حسین علیہ السلام کے مصائب پر رو رہے ہیں۔ اس بات پر ان کو سمجھ آگئی کہ "امام خمینیؒ اس انقلاب میں اپنے جد حسین علیہ السلام کی پیروی کر رہے ہیں۔" آپ کے اس ایک فعل سے پورے یورپ میں امام حسین علیہ السلام اور عاشوراء کا پیغام پھیل گیا اور میڈیا نے اس خبر کی بھرپور کوریج دی۔
(استفادہ از درس اخلاق حضرت آیت اللہ نجم الدین طبسی، ۸ جنوری 2018 مجتمع عالی امام خمینیؒ قم )
ٹیگس: امام خمینی, اہل بیت کی محبت
