اس نظامِ ہستی میں جنگ کا کیا مقام ہے؟ کیا جنگ اچھی چیز ہے یا بری؟ کیا خدا اس کائنات کو اس طرح سے خلق نہیں کر سکتا تھا کہ اس میں جنگ وجدال نہ ہو۔؟ امن ہی امن اور سکون ہی سکون ہو؟ یا اگر جنگ ہو تو بھی اس میں قتل و غارت، نقصان اور اسارت وغیرہ کم اور محدود ہوں؟
ان سوالات کے جوابات مختلف فلسفی نظاموں میں مختلف انداز میں دیے گئے ہیں۔
اسلامی نظریہ:
قرآن کریم کی کچھ آیات کا مفاد یوں ہے کہ اگر خدا نہ چاہتا تو کوئی جنگ اس کائنات میں نہیں ہوتی۔ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا اقْتَتَلُوا وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ۔ یا قرآن کریم کا اشارہ اس بات کی طرف بھی ہے کہ اس کائنات کی ہرچیز خداوند متعال کے ارادے کے تحت حرکت کرتی ہے۔ اگر خدا چاہے تو سارے لوگوں کو ہدایت پر اکھٹا کر لے۔ وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا . ہر کام اس جہان میں اذن خدا اور مشیت الہی کے تحت انجام پا رہا ہے کہ جن میں سے ایک جنگ ہے۔ اور یہ بات بھی ثابت ہے کہ خدا کی مشیت میں سوائے حکمت کے کچھ نہیں. پھر خداوند متعال نے کیوں جنگ و قتال، بے گناہوں کی موت اور تباہی کا راستہ نہیں روکا؟
جواب اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اس مادی دنیا کو انسانوں کے امتحان کے لیے خلق کیا ہے اور انسانوں کو ارادہ اور اختیار دے کر آزاد چھوڑا ہے۔ انسان جو بھی کمال حاصل کرے گا اپنے اختیار سے حاصل کرے گا۔ یہ امتحان ہے کہ انسان کس حد تک حاضر ہے خدا کے ارادوں کو اس دنیا میں عملی (Practical)کرے۔ کس حد تک انسان حاضر ہے خدا کے ارادے کو اپنے ارادے پر مقدم کرے۔ جنگ وقتال کے حوالے سے یہی فلسفہ کارفرما ہے کہ انسان اس حوالے سے آزاد ہے۔ اگر انسان حکمِ خدا کی اطاعت کرتا ہے تو اس کے مطابق ناحق جنگ اور قتال حرام ہے۔ اسلام نے ایک انسان کے ناحق قتل کو انسانیت کے قتل سے تعبیر کیا ہے۔ ہاں دوسری طرف سے ظالم اقوام کا راستہ روکنے اور اسلام کی سربلندی کے لے بعض مواقع پر جنگ ناگزیر بھی ہوجاتی ہے۔ ایسے موقع پر اسلام نے جنگ کی اجازت دی ہے۔
پس اگر خدا چاہے تو جنگ کا راستہ روک سکتا ہے۔ لیکن کائنات کا یہ نظام جبر اور اکراہ پر قائم نہیں۔ بلکہ انسانوں کے آزاد ارادوں پر قائم ہے جو خدا نے ان کو بخشا ہے۔
مادی نظریہ:
اس حوالے سے مادی نظریہ والے دو مختلف تفسیریں پیش کرتے ہیں۔
جو عام مادی نظریہ ہے اس کے مطابق اس جہان کی پیدائش اتفاقی ا ور اچانک ہے۔ ہزاروں اربوں سال کے بعد یہ زمین وجود میں آئی۔ ہزاروں سال بعد پودے وجود میں آئے۔ پھر ہزاروں سال بعد حیوان اور انسان۔جس طرح سے حیوانات اپنے مفادات کی خاطر آپس میں لڑتے ہیں اسی طرح انسان بھی لڑتے ہیں۔ یہ ایک فطری کام ہے۔ سب کچھ اتفاقی ہے۔ ہم انسانوں کے درمیان جنگ اور لڑائی کا راستہ نہیں روک سکتے۔ ہاں جو کام کرنے کا ہے وہ یہ ہے کہ اس حوالے سے سوچا جائے کیسے جنگ کے سایے کو کم کیا جائے؟ کیسے جنگوں کے نقصانات کو کم کیا جائے۔
جبکہ ڈیالکٹیک(dialectic) والے اس بات کے قائل ہیں اس کائنات کی اساس اور بنیاد ہی تضاد پر ہے۔ اگر تضاد نہ ہو تو اس کائنات میں کچھ بھی نہ ہو۔ اس جہان کی بنیاد اور اس کا دوام ہی تضاد اور لڑائی اور ایک دوسرے سے ٹکرانے میں ہے۔ دیکھ لیں جنگ کے سایے میں دنیا نے کتنی ترقی کی ہے ۔ ٹیکنالوجی نے کتنی ترقی کی ہے۔ پس جنگ اس نظام ہستی کا لا ینفک اور لازمی جزء ہے۔ہاں ہمیں صرف اس حوالے سے سوچنا چاہیے کہ کیسے جنگ کے نقصانات کم ہوں؟ خود جنگ کو ختم نہیں کر سکتے۔ اس حوالے سے بحث کی جانی چاہے کیسے جنگ، عقلی بنیادوں پر ہو۔
(استفادہ از درس حضرت استاد مصباح، 13 فروری 2018، موسسہ امام خمینی قم)
ٹیگس: مصباح یزدی, جنگ و جہاد
