شوق ِشہادت

 

یہ ایک اہم سوال ہے کیسے دنیا کی فوجیں اپنے سپاہیوں کو جنگ کے لیے آمادہ کرتی ہیں؟ خصوصا وہ ممالک اور فوجیں جن پر سیکولر نظریات حاکم ہیں اور جن میں سے بہت سارے آخرت وغیرہ کے بھی اتنے قائل نہیں وہ کیسے  جنگ کا جذبہ اپنے سپاہیوں میں ایجاد کرتے ہیں؟ کیسے ان کی فوج لڑنے مرنے پر آمادہ ہوتی ہے؟

ممکن ہے وہ زیادہ تر وطن پرستی  ، نسل پرستی یا عزت نفس وغیرہ کےمفاہیم کے  ذریعے ان میں یہ جذبے ایجاد کرتے ہوں۔

لیکن اسلام کا طریقہ بالکل مختلف ہے۔

اسلام نے اس حوالے سے مختلف طریقے اپنائے ہیں۔ مادی منافع سے لےکر وہ مفاہیم تک جن کا سمجھنا انسانی عقل کے بس میں نہیں۔

۱۔ جنگ کے نتیجے میں حاصل ہونے والے مادی منافع کی طرف اسلام نے اشارہ کیا ہے۔  بعض سطحی لوگوں کے لیے یہ چیزیں زیاہ اہمیت رکھتی ہیں۔لہذا اسلام نے مال غنیمت کا ذکر کر کے ایسےلوگوں کو جہاد کی ترغیب دی ہے۔

۲۔ دشمن پر کامیابی اور اسے زیر کرنا خود ایک نوع لذت رکھتا ہے۔ دشمن کے سامنے تسلیم نہ ہونا ایک خاص غرور اور کیفیت انسان کو عطا کرتا ہے۔ اسلام نے اس مطلب سے بھی استفادہ کیا ہے۔

۳۔ یہ نکتہ بھی خوب سمجھایا گیا ہے کہ دشمن کے غلبے کی صورت میں کیا کیا نقصان ہو سکتا ہے؟ ناموس کی حفاظت اور شرف و عزت کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی قربانی دینی پڑے تو دینی چاہیے۔ اسلام اس بات پر تاکید کرتا ہے۔

البتہ اب تک جو طریقے بیان کئے گئے ہیں اسلام کے ساتھ خاص ہرگز نہیں۔ ان طریقوں کو دشمن بھی استعمال کر سکتا ہے۔ پس یہ طریقے ایک اسلامی نظام اور سیکولر نظام میں مشترک ہو سکتے ہیں۔ یہ منافع جو جنگ کے ذکر ہوئے در حقیقت جنگ اور جہاد کے اصلی اہداف نہیں ہیں۔ پس سوال یہ ہے کہ جہاد سے اسلام کا اصلی ہدف کیا ہے؟

یہ جو کہا گیا کہ تم جہاد کرو تاکہ بہت سارا مالِ غنیمت تم تک پہنچ جائے ۔ یہ در حقیقت اس مٹھائی کی طرح ہے جو بچے کو دوائی پلانے سے پہلے بہلانے کی خاطر دی جاتی ہے۔ اصل ہدف کڑوی دوائی پلانا ہے جس میں بچے کا مفاد ہے۔ لیکن بچہ اسے تلخ دیکھ کر نہیں پیتا تو بہلانے کی خاطر پہلے ایک مٹھائی کھلائی جاتی ہے۔

4۔ اسلام نے اس کے بعد جو اہم مرحلہ شوقِ جہاد اور شوقِ شہادت کے حوالے سے بیان کیا ہے وہ انتہائی اہم ہے اور خاص ہے۔

اس دنیا میں اگر کوئی معاملہ ایسا ہو جس میں مال بیچنے والے کو 10 فی صد منافع مل رہا ہو تو لوگ اس کو ایک اچھا معاملہ تصور کرتے ہیں۔ اور اگر منافع ۵۰ فی صد ہو تو یہ معاملہ بہت اچھا ہے۔ اگر ۱۰۰ فی صد منافع ہو تو بہت ہی اچھا معاملہ ہے۔ لیکن اس دنیا میں کوئی بھی معاملہ ایسا  نہیں ہوگا جس میں منافع بے نہایت ہو۔کیا ایسا واقعا ممکن ہے؟ اگر ممکن ہو تو کوئی عاقل ایسا ہوگا جو ایسے معاملے سے انکار کرے؟ جو ایسا منافع اپنے لیے نہ چاہے۔؟

یہاں ایک معاملہ ایساہے جس میں معاملے کا ایک طرف خدا ہے اور دوسری طرف بندہِ خدا۔ خدا اپنے عبد سے معاملہ کرنا چاہتا ہے۔

إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰ تِجَارَةٍ تُنجِيكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ

انسان  کی طبیعی عمر زیاہ سے زیادہ ۱۰۰ سال ہے۔ خدا کے ساتھ جس تجارت کی بات ہوئی ہے اس میں شاید چند مہینے، شاید چند دن، شاید چند گھنٹے اور شاید چند منٹ سے زیادہ نہ لگیں۔(حر اور وہب کلبی کی مثالیں سامنے ہیں۔) لیکن مقابل میں جس نفع کی بات ہوئی ہے وہ لا متناہی ہے۔ وہ ختم نا ہونے والا ہے۔وعدہ دینے والا سچا پروردگا ہے۔  کیا اس سے بہتر اور قوی منطق ہو سکتی ہے جو انسان میں شوقِ جہاد اور شہادت پیدا کرے؟ یہ منطق صرف ان لوگوں کے ہاں معنی رکھتی ہے جو حیات بعد از موت کے قائل ہیں۔ لیکن اگر زندگی بس یہی مادی زندگی ہے تو اس نظریے کے تحت مرنا کتنا سخت ہے؟اس کے نزدیک سب کچھ یہی مادی زندگی ہے جس کے بعد اس نے ہمیشہ کے لیے ختم ہونا ہے۔ پس اس زندگی کو  قربان کرنا اس کے لیے انتہائی دشوار ہے۔ لیکن جس کے نزدیک اصل زندگی ہی موت کے بعد شروع ہونی ہے وہ تو شہادت کے شوق میں مرا جاتا ہے۔

دفاع مقدس کی جنگ کے حوالے سے بندہ ایسے لوگوں کو قریب سے جانتا ہوں جو مختلف شہروں سے  سفر کر کے ۴۰ راتوں کے لیے (مثلا شب جمعہ یا شب چہار شنبہ) قم اور مسجد جمکران کا سفر کرتے تھے  اور پھر رات بھر جاگ کر عبادت کیا کرتے تھے۔تاکہ امام زمان کے واسطے سے خدا سے شہادت کی موت مانگ لیں۔ دنیا میں کسی بھی اور نظریے کے پاس ایسا محرک ہے؟ کیا کسی بھی اور اسکول میں ایسے افراد تربیت ہوتے ہیں؟

سوال: کیا اس سے بھی بلند کوئی مرتبہ ہے؟

جواب۔ہاں ہے۔

۵۔ ایک مرحلہ اور ہے جو اسلام نے بیان کیا ہے۔ اس مرحلے میں انسان خدا کے ساتھ تجارت نہیں کرتا۔ نہ خدا سے ثواب مانگتا ہے۔ نہ جنت کا شوق ہے نہ جہنم کا ڈر جو ان میں شوقِ جہاد اور شہادت ایجاد کرے۔ بلکہ چونکہ یہ مادی زندگی ان کے اور ان  کے محبوب حقیقی کے درمیان حائل ہے لہذا کوشش کرتے ہیں جلد از جلد یہ رکاوٹ دور ہو اور یہ اڑ کر اپنے محبوب تک پہنچ جائے۔ اس قفس عنصری میں یہ تنگی محسوس کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اس مادی دنیا کے لیے بنے ہی نہیں ہیں۔

اگر ان کو خداکا دیا ہوا عطیہ ، خدا کی جنت ، خدا کی نعمتیں پسند ہیں تو بھی اس وجہ سے  چونکہ یہ سب چیزیں محبوب کی طرف سے ہیں۔ اس کے ہاتھ سے ہیں،اس کی نشانی ہے  اس لیے پسند ہیں۔

نمونے کے طور پر کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے اشعار ملاحظہ ہوں:

تركت الخلق طرا في هواك *         * و أيتمت العيال لكي أراك

فلو قطعتني في الحب إربا *         * لما مال الفؤاد إلى سواك

 

(استفادہ از درس استاد مصباح حفظہ اللہ، 13 فروری 2018، موسسہ امام خمینی(رہ)، قم)

 


ٹیگس: مصباح یزدی, جنگ و جہاد, شہادت, تجارت
+ لکھاری عباس حسینی در 23 Feb 2018 و ساعت 12:17 AM |