کیا دنیا میں ایک ہی ولی فقیہ کی حکومت ہونی چاہیے؟
یا ہر ملک میں الگ ولی فقیہ کی حکومت ہو سکتی ہے؟
تحریر: عباس حسینی
اس سوال کا جواب دینے سے پہلے کچھ باتوں کو واضح کرنا ضروری ہے۔
۱۔ الگ کشور اور ملک بننے کا معیار اسلام کی نظر میں کیا ہے؟ کیا جغرافیائی حالات معیار ہیں؟ یا زبان؟ یا نسل؟ یا لوگوں کی رنگت؟ یا کوئی او ر چیز۔ اسلام نے ان میں سے کسی بھی چیز کو بطور معیار اختیار نہیں کیا۔
بلکہ اسلام کی نگاہ میں "وحدتِ عقیدہ" ہے جس کی بنیاد پر زمین کی تقسیم ہوتی ہے۔ دار الاسلام اور دار الکفر وجود میں آتے ہیں۔ دار الاسلام وہ سرزمین ہے جس میں حکومتِ اسلامی کے تابع افراد زندگی گزارتے ہیں. ممکن ہے ان میں وہ افراد بھی ہوں جو عقیدے کے لحاظ سے غیر مسلم ہوں، لیکن اسلامی حکومت کی سربلندی کو قبول کر لیا ہو اور مخصوص شرائط کے ساتھ مسلمانوں کے مابین زندگی کر رہےہوں۔
اب یہ سوال مہم ہے کہ کیا "دار الاسلام" چند ملکوں میں تقسیم ہو سکتا ہے؟ کہ ہر ملک میں الگ نظا م حکومت ہو؟
عام طور پر مسلمانوں میں یہ فکر رائج تھی کہ سارا عالم اسلام ایک اکائی ہے، جن پر ایک شخص (امام یا خلیفہ ) کی حکومت ہونی چاہیے اور جو بھی ان سے الگ کوئی حکومت قائم کرنے کی کوشش کرے اسے باغی شمار کرتے تھے۔
شیعہ فقہ کے مطابق بھی حکومت کا اصل اختیار خدا کی طرف سے معصوم کو حاصل ہے اور ہر دور میں صرف ایک معصوم کی امامت بالفعل ہوتی ہے، لہذا عملا حکومت بھی ایک ہی ہونی چاہیے۔ البتہ دنیا کے مختلف حصوں میں معصوم کی طرف سے نائب اور گورنر معین ہوں گے جن کے ذریعے سسٹم چلایا جائے گا۔ جس دوران ائمہ معصومین علیہم السلام کی عملی حکومت نہیں بھی تھی، وہ حضرات اپنی طرف سے مختلف امور میں بعض خاص اصحاب کو اختیارات سونپتے تھے تاکہ دور دراز کے علاقوں کے لوگ ان نائبین کی طرف رجوع کر کے اپنے مسائل حل کریں۔
۲۔ زمانہ غیبت کبری میں خود معصوم نے مجتہدین علماء کو کچھ خاص شرائط کے ساتھ اپنی طرف سے نیابت عامہ عطا کی ہے۔ جس کی دلیل عمر بن حنظلہ کی روایت اور امام علیہ السلام کی توقیع اور دوسری روایات واحادیث ہیں۔ پس اس زمانے میں حکومت نائبین امام کی ہونی چاہیے۔ لیکن اصل سوال یہاں یہ ہے کہ کیا تمام مجتہدین کو نیابت عامہ برابر حاصل ہے؟ یا تمام بلاد اسلامیہ میں اس ایک فقیہ کی حکومت ہونی چاہیے جس میں معصوم کی طرف سے بیان کردہ نیابت کی شرائط سب سے زیادہ پائی جاتی ہوں؟
اگر ولایت فقیہ کی دلیل حکمِ عقل ہو تو اس کے مطابق واضح ہے کہ اگر کسی فقیہ میں علم، تقوی، مدیریت، بصیرت وغیرہ کی خصوصیات سب سے زیادہ ہوں اور اس کے لیے تمام بلاد اسلامیہ میں اپنے نائبین اور نمائندوں کے ذریعے حکومت چلانا ممکن ہو تو یہی آئیڈیل صورت حال ہے اور یہی بات امتِ اسلامی کی وحدت اور اسلامی عالمی حکومت کے نظریے کے بھی قریب ہے۔
اور اگر ولایت فقیہ کی دلیل روایات ہوں تو ان میں اگرچہ مطلق فقیہ (ہر فقیہ) کی بات کی گئی ہے جن میں مذکورہ شرائط موجود ہوں لیکن دوسری روایات میں اس فقیہ کو باقیوں پر مقدم کیا گیا ہے جس کا علم زیادہ ہو، جس کا تقوی زیادہ ہو۔ وغیرہ۔ پس عملا اس ایک فقیہ کی حکومت ہونی چاہیے جس میں حکومت چلانے کی شرائط باقیوں سے زیادہ ہو اور اس فقیہ کا حکم تمام بلاد اسلامیہ پر نافذ ہے۔
۳۔ بالفرض اگر بلاد اسلامیہ کے دو مختلف حصوں میں اسلامی حکومت کا قیام عمل میں آئے اور ایک فقیہ کے لیے خود سے یا اپنے نمائندوں کے ذریعے وہاں حکومت چلانا ممکن نا ہو تو کیا متعدد ولی فقیہ ہو سکتے ہیں؟
تعدد حکومت کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں:
الف) بلاد اسلامیہ کے ایک خاص منطقے کے لوگ جن تک موجودہ ولی فقیہ کا دائرہ حکومت شامل نہیں ہے، اپنے اجتہاد یا تقلید کے ساتھ ایک الگ حکومت قائم کر لیں اور ان کے لیے اجتہاد یا تقلید کے ذریعے ثابت ہو جائے کہ ہمارے لیے اپنے علاقے میں الگ حکومت ہونی چاہیے (اس حکومت کا ڈھانچہ بھی اجتہاد یا تقلید پر موقوف ہے)۔ ایسی صورت حال میں ان کو اپنی خاص حکومت کی اطاعت کرنی ہوگی۔ نہ موجودہ ولی فقیہ کی۔
ب) اگر ایک ولی فقیہ کے لیے بلاد اسلامیہ کے مختلف حصوں میں متحد حکومت قائم کرنا عملا ممکن نا ہو۔ ایسی صورت میں ممکن ہے دوسرے حصے کے لوگوں کے لیے، تمام تر شرائط کو مد نظر رکھتے ہوئے، ایک اور ولی فقیہ کی اطاعت واجب ہو۔ پس ہر ولی فقیہ کا حکم اپنے علاقے میں معتبر اور واجب اطاعت ہے۔
اب اگر فرض کریں کہ ان دو حاکم فقیہوں میں سے کسی ایک نے ایسا عمومی حکم صادر کیا جو تمام مسلمانوں کو شامل ہے۔ ایسی صورت حال میں کیا اس کا حکم کا دائرہ دوسرے فقیہ کے ماننے والوں کو بھی شامل ہوگا؟
یہاں تین صورتیں ممکن ہیں:
۱۔ دوسرا حاکم، پہلے کے حکم کی تائید کرے۔ اس صورت میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی اور وہ حکم سب پر لاگو ہوگا۔
۲۔ دوسرا حاکم، پہلے کے حکم پر خاموشی اختیار کرے۔ اس صورت میں بھی یہ حکم تمام مسلمانوں پر لاگو ہوگا۔ جس طرح سے ایک قاضی شرعی حکم صادر کرے تو اس کو ماننا تمام مسلمانوں پر واجب ہے۔
۳۔ دوسرا حاکم، پہلے کے حکم کی مخالفت کرے۔ یقینا یہ مخالفت اجتہاد کے ساتھ ہوگی۔ (یعنی آیات و روایات سے دو مختلف مجتہد، دو مختلف حکموں کو سمجھ رہے ہیں۔) اس صورت میں اس دوسرے حاکم کے زیر حکومت زندگی کرنے والوں کے لیے مذکورہ حکم شامل نہیں ہوگا۔
(استفاہ از بیانات حضرت علامہ مصباح زید عزہ)
(یہ استاد کے مقالے سے ناچیز کا فہم ہے ۔ ممکن ہے میرا فہم غلط ہو۔ لہذا کسی بھی بات کی نسبت استاد کی طرف دینے سے پہلے ان کا اصل مقالہ ضرور پڑھ لیں جس کا لنک یہ ہے: http://mesbahyazdi.ir/node/825)
ٹیگس: مصباح یزدی, ولایت فقیہ
