بلتستان کی سیاسی تاریخ (۲)

(ڈوگرہ راج   + جنگ آزادی)

(از تاریخ بلتستان ، یوسف حسین آبادی)

تلخیص: سید عباس حسینی

 

ڈوگرہ دور 1840 تا 1948 عیسوی

  • رنجیت سنگھ کے دور میں جموں کے ڈوگرہ راجپوت خاندان کے دو بھائی گلاب سنگھ اور دھیان سنگھ نے فتح کشمیر(1819) اور پھر جموں کو فتح کرنے کے حوالے سے بے مثال خدمات انجام دیں۔ ان خدمات کو وجہ سے مہاراجہ رنجیت سنگھ ان پر مہربان ہوگیا اور ان کے باپ کشور سنگھ کو جموں کا راجہ بنا دیا۔ 1823 میں رنجیت سنگھ نے گلاب سنگھ کو جموں کا راجہ بنادیا۔ اس طرح پنجاب کی سکھ سلطنت کی سرپرستی میں جموں میں ڈوگرہ حکومت قائم ہوگئی۔
  • سکردو کے راجہ کے بیٹے محمد شاہ اور کھرمنگ کے راجہ علی شیر خان کی خیانت اور  دعوت پر زور آور سنگھ (گلاب سنگھ کی فوج کا کمانڈر) نے بلتستان پر حملے کا منصوبہ بنایا۔ اور مختلف علاقوں کو دھوکے سے فتح کرتے ہوئے سکردو پہنچا۔
  • سکردو کے راجہ احمد شاہ کھرپوچو قلعے میں محصور ہوگیا۔ ان کے پاس تین سال تک کے مقابلے کے لیے کافی خوراک اور دیگر سامان قلعہ موجود میں موجود تھا۔پندرہ روز کے محاصرے کے بعد بھی محصورین پر کچھ اثر ہوتا ہوا نظر نہیں آیا تو زور آور سنگھ مایوس سا ہوا۔ اسے دیکھ کر علی شیر خان نے فریب کاری سے قلعہ فتح کرنے کا منصوبہ بنایا۔
  • اس نے احمد شاہ سے قسم کھا کر کہا کہ زور آور سنگھ کا سکردو پر قبضے کا کوئی ارادہ نہیں۔ وہ تو صرف ولیعہد محمد شاہ کے ساتھ جو نا انصافی ہوئی ہے اس سلسلے میں جھگڑے میں تصفیہ کرنے آیا ہے۔  اس قسم پر اعتبار کر کے احمد شاہ جب زور آور سنگھ کے پاس ولیعہد کے حوالے سے معاملات طے کرنے آیا تو انہیں گرفتار کر کے بیڑیاں پہنا دی گئیں۔
  • ڈوگرہ فوج نے کھرپوچو قلعے کو خوب لوٹ لیا۔ بہت سے آدمیوں کو قتل کیا اور بہت سوں کو مختلف اذیتیں دیں۔ زور آور سنگھ نے فاتح کی حیثیت سے مظالم کی انتہا کر دی۔
  • زور آور سنگھ نے راجہ احمد شاہ کو معزول کر کے اس کے بیٹے محمد شاہ کو سات ہزار روپے سالانہ خراج دینے کی شرط پر سکردو کا برائے نام راجہ بنا دیا۔ اس کے ساتھ ہی بلتستان کی آزاد سلطنت کا خاتمہ ہوگیا۔
  • ۱۸۴۲ عیسوی میں بلتستان کے مختلف راجاوں اور روسا نے ڈوگروں کےتسلط سے جان چھڑانے کی بھرپور کوشش کی۔ مختلف جگہوں پر بغاوت کی۔ گلاب سنگھ نے اپنے معتمد خاص وزیر لکھپت کو بغاوت فرو کرنے کے لیے بلتستان بھیجا۔ کچھ مقامی لوگوں کی خیانت کی وجہ سے اس نے بغاوت پر کنٹرول کر لیا۔ تحریک آزادی کے علمبرداروں اور کارکنوں کو عبرتناک سزائیں دیں۔بہتوں کو تہہ تیغ کیا اور بعض کے سروں کو عبرت کے لیے نمایاں مقاماں پر لٹکا دیا۔
  • وزیر لکھپت نے آئندہ کے پھر بغاوت کے ڈر سے کھرپوچو قلعے کو مسجد کے سوا آگ لگا کر تباہ کر دیا۔
  • ڈوگرہ حکومت نے 1902 میں پہلی بار یہاں کی زمینوں کی اقسام اور فصلوں کی آمدن کی تشخیص کی اور اس کے مطابق نقد مالیہ اور اجناس کا لگان عائد کر دیا۔ زمینوں کی خرید وفروخت پر پابندی عائد کر دی گئی۔
  • ڈوگروں کے قبضے جمانے کے فورا بعد بیگار کا سسٹم رائج کر دیا۔ جس کے تحت بلتستان کے طول وعرض میں ہر پڑاو پر گرد ونواح سے ۵۰ قلی اور پانچ گھوڑے ہمہ وقت سرکاری مہمانوں اور ملازموں کی خدمت کے لیے حاضر رکھے جاتے تھے۔ ہر گھرانے کو سال میں چالیس روز تک پڑاو پر بیگار کی ڈیوٹی دینی پڑتی تھی۔
  • بیگار والوں کو ملازموں کو دودھ ، لکڑی اور ان کے مویشویوں کے لیے چارہ بھی فراہم کرنا پڑتا تھا۔ آفیسروں کی خواتین کو ڈولیوں میں بٹھا کر این منزل سے دوسری منزل تک پہنچانا پڑتا۔ ایک ڈولی کے ساتھ آٹھی قلی ہوتے۔ چنانچہ آخری ڈوگرہ وزیر لالہ امرناتھ جب سکردو آیا تو اس کی دونوں بیویاں اور بچے تین پالکیوں میں سوار تھے۔ اور چوتھی پالکی میں اس کے آٹھ کتے سوار تھے۔
  • 1947 میں تقسیم ہند کی خبریں ہندوستان مزدوری کے لیے گئے مزدوروں اور کچھ مقامی افراد کو ریڈیو کے ذریعے پہنچنی لگیں اور یہاں کے باشندوں نے پاکستان میں شمولیت کے لیے کوششیں تیز کر دیں۔

 

جنگ آزادی بلتستان ۱۹۴۸ عیسوی

  • یکم نومبر 1947 عیسوی کو گلگت کو مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت فتح کر لیا اور ڈوگرہ تسلط سے آزادی حاصل کر لی۔
  • انقلابیوں نے جمہوریہ گلگت کے نام سے ایک عارضی حکومت قائم کر لی۔ اور عملا یکم نومبر سے لے کر ۱۶ نومبر ۱۹۴۷ تک اس چھوٹی سی مملکت پر مقامی افراد نے حکومت کی۔ حکومت پاکستان کو تار پر تار دئیے گئے کہ گلگت کو اپنا حصہ تسلیم کرتے ہوئے یہاں اپنا نمائندہ بھیج دے۔
  • گلگت کے بعد مقامی افراد نے روندو کو فتح کر لیا۔ اس کے بعد روندو کے راجہ کی دعوت پر گلگت کے انقلابیوں نے بلتستان کی طرف پیش قدمی کی اور مقامی افراد کی مدد سے ڈوگروں کو بھگانا شروع کیا۔ لیکن ڈوگرہ فوج سکردو چھاونی میں محصور ہوگئی اور زبردست مقابلہ کیا۔
  • فروری سے اگست ۱۹۴۸ تک چھاونی میں محصور ڈوگرہ سپاہیوں اور کچھ سکھ خاندانوں نے بھرپور مزاحمت دکھائی۔ مگر انہیں سری نگر سےخاطر خواہ  کمک اور امداد نہیں پہنچ سکی اور بالآکر ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوئے۔
  • ۱۴ اگست ۱۹۴۸ کی صبح کو کرنل تھاپا نے پانچ آفیسروں اور دیگر فورسز و فیملیز کے ساتھ اپنے آپ کو آزاد فورسز کے حوالے کر دیا۔ اس طرح بلتستان پر ۱۰۸ سال حکومت کرنے کے بعد ڈوگرہ عہد کاخاتمہ ہوا۔
  • فتح کے فورا بعد سکردو چھاونی پر پاکستان کا پرچم لہرایا گیا۔
  • 21ا پریل 1948 کو اقوام متحدہ نے کشمیر کے حوالے سے ایک قرارداد منظور کی جس کے تحت جموں وکشمیر کے ہندوستان یا پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے کیا جائے گا۔ گلگت بلتستان کی آزادی کے بعد پاکستان نے رائے شماری کو اپنے حق میں کرنے کی خاطر مقامی باشندوں سے پوچھے بغری ان علاقوں کے مستقبل کو کشمیر کے ساتھ منسلک کیا۔ جو اب تک جاری ہے۔
  • اپریل ۱۹۴۹ میں بدنام زمانہ معاہدہ کراچی کے تحت حکومت پاکستان، حکومت آزاد کشمیر اور کشمیر کی سیاسی جماعت مسلم کانفرنس نے فیصلہ کیا کہ گلگت بلتستان کا انتظام حکومت پاکستان کےسپرد رکھا جائے گا۔ اس معاہدے پر حکومت پاکستان کے وفاقی وزیر بےمحکمہ مشتاق احمد گورمانی، آزاد کشمیر کے صدر سردار ابراہیم خان اور مسلم کانفرنس کے صدر چوہدری  غلام عباس نے دستخط کئے۔ اس معاہدے میں گلگت بلتستان کا کوئی نمائندہ شامل نہیں تھا ۔ اس طرح مقامی افراد کی نمائندگی کے بغیر چند پرائیوں نے مل کر اپنی مدد آپ کے تحت جنگ لڑ کر آزادی حاصل کرنے والے اور پاکستان کے لیے بے شمار قربانی دینے والے اس علاقے کے ساتھ ظلم وناانصافی پر مبنی ایک فیصلہ صادر کیا جس پر اب تک نہایت سختی کے ساتھ عمل ہو رہا ہے۔ جبکہ مقامی افراد قریب ستر سال سے اپنے آپ کو پاکستانی منوانے کی  ناکام کوشش کر رہے ہیں اور اپنے انتہائی بنیادی حقوق کے لیے اب تک چیخ رہے ہیں۔ لیکن ان کی یہ آواز اب تک صدا بہ صحرا ثابت ہو رہی ہے۔

 

+ لکھاری عباس حسینی در 30 Aug 2016 و ساعت 11:40 PM |

بلتستان کی سیاسی تاریخ (1)

قدیم تاریخ۔۔    تا ڈوگرہ راج 1840 ء

(از تاریخ بلتستان، یوسف حسین آبادی)

تلخیص: سید عباس حسینی

 

قدیم تاریخ:

سلطنت پولولو

  •  ۴۰۳ عیسوی میں فاہیان پہلا چینی زائر تھا جس کے سفرنامے میں سلطنت پولولو  کا تذکرہ ملتاہے۔
  • ۶۲۶ عیسوی میں اگلا چینی زائر ہوان تسانگ ان علاقوں میں پہنچا۔اس نے بھی اپنے سفرنامے میں ان علاقوں کا تذکرہ کیا ہے۔
  • چینی سرکاری ریکارڈ کے مطابق ۶۹۶ عیسوی میں بڑے پولولو (بلتستان) کے حکمران کا ایلچی چین کے دربار میں پہنچا۔
  • ۷۱۷ عیسوی میں بڑے پولولو کے بادشاہ کو چین کے شہنشاہ کی طرف سے وانگ کا خطاب ملا۔دستاویز اب بھی چینی زبان میں موجود ہے۔
  • ۷۲۰ مٰیں اس علاقے پر تب کا تسلط قائم ہو گیا اور چینی دربار کے ساتھ تعلقات ختم ہوگئے۔

 

تبتی دور 721 عیسوی تا 842 عیسوی

  • ۷۲۱ عیسوی میں تبت کے بادشاہ نے بڑے پولولو یعنی بلتستان کو فتح کیا۔پولولو کا بادشاہ بھاگ کر چھوٹے پولولو میں منتقل ہوگیا۔
  • تبتیوں نے بلتستان پر سوا سو سال حکومت کی اوراس عرصے میں مختلف بادشاہ تبدیل ہوتے رہے۔

 

طوائف الملوکی 842 عیسوی تا 1190 عیسوی

  • تبت کے بادشاہ لنگ درما کے قتل کے ساتھ ہی دیگر تبتی مقبوضات کی طرح بلتستان بھی آزاد ہو گیا اور جگہ جگہ چھوٹی چھوٹی ریاستیں قائم ہو گئیں۔
  • کہتے ہیں اسی زمانے میں وادی سکردو کے موضع کچورہ اور بغاردو کے درمیان سیلابی ملبے نے بند کی شکل اختیار کی اور دریائے سندھ کا پانی رک گیا اور عظیم جھیل کی شکل اختیار کر گیا۔
  • دسویں صدی عیسوی کے آغاز سے لے کر بارھویں صدی کے اواخر تک کی تین صدیوں کے دوران بلتستان کبھی آزاد، کبھی ترکستان اور کبھی کشمیر کے زیر تسلط رہا۔

 

بلتستان قرون وسطی میں 1190 عیسوی  تا 1840 (ساڑھے چھے سو سال کا عرصہ)

  • بارہویں صدی  کے اواخر میں مقامی طور پر سکردو میں شگر گیالپو کا خاندان، شگر میں اماچہ، خپلو میں یبگو، روندو میں لونچھے، پوریگ میں گاشو اور کھرمنگ میں انٹھوک چھے مختلف خاندان حکمرانی کرنے لگے۔
  • اسی دوران سکردو میں مقپون خاندان کی حکومت قائم ہوگئی۔اور ان کی حکومت کو رفتہ رفتہ عروج حاصل ہوا یہاں تک کہ سولہویں صدی عیسوی کے اواخر تک مقپون خاندان نے رفتہ رفتہ سکردو، روندو، کھرمنگ، پوریگ، استور، شگر اور خپلو پر مشتمل تبت خورد کے نام سے بلتستان کی ایک متحدہ ریاست قائم کر لی۔
  • اس کے بعد مقپون خاندان ایک طرف لداخ اور دوسری طرف کافرستان چترال تک کے علاقوں کو اپنے زیر نگیں لایا۔
  • جب مقپون خاندان پر زوال آیا اکثر مفتوحہ علاقے علحیدہ ہو گئے۔ لیکن روندو بشمول حراموش، استور، کھرمنگ،شگر اور خپلو پر مشتمل بلتستان کی سلطنت پر ڈوگرہ دور کے آغاز (۱۸۴۰ عیسوی) تک مقپون خاندان کی حکومت قائم رہی۔
  • کھرمنگ کچھ عرصے کے لیے لداخ کے قبضے میں چلا گیا۔استور، روندو، کھرمنگ، شگر اور خپلو اور طولتی پر سکردو کے مقپون خاندان کی ذیلی شاخیں حاکم تھیں۔جب بھی سکردو کی حکومت کی کمزور ہوئی شگر اور خپلونے سرکشی اختیار کر لی۔
  • علی شیر خان انچن اسی سلسلے کے طاقتور ترین حکمران ہیں۔ جنہوں نے 1588 عیسوی سے لے کر 1625 عیسوی تک (۳۷ سال) بلتستان پر حکومت کی۔
  • ۱۵۸۶ عیسوی میں مغل بادشاہ اکبر اعظم نے کشمیر کو فتح کر لیا۔ اس کے ساتھ ہی مغل سلطنت کی سرحدیں جنوب کی طرف بلتستان کی سلطنت سے آملیں۔ تخت دلی کی طرف سے بلتستان کی طرف سفارتکاری شروع ہوئی جس کے نتیجے میں علی شیر خان انچن کی بیٹی کا رشتہ شہزادہ سلیم (جہانگیر) سے طے ہوا۔یہ شہزادہ سلیم کی آٹھویں بیوی تھیں۔
  • علی شیر خان نے اپنے دور میں مشرق کی طرف لداخ تک اور مغرب کی طرف چترال کافرستان تک کے علاقوں کو فتح کر کے سلطنت بلتستان میں شامل کر لیا۔اس طرح ان کی شہرت ایران اور ہندوستان کے ایوانوں تک پہنچ گئی۔
  • علی شیر خان نے گل خاتوں نامی مغل سے شادی کر لی تھی۔جس نے شوہر کی غیر موجودگی میں میندوق کھر کا محل، ہلال باغ، اس باغ کو سیراب کرنے کےلیے گنگوپی نہر اور کھرپوچوقلعے تک جانے کا راستہ تعمیر کروایا تھا۔
  • علی شیر خان انچن نے اپنے دور میں کھرپوچو قلعے کی مزید توسیع کی اور مستحکم کیا۔ اس قلعے کو بوخا بادشاہ نے اپنے دور میں تعمیر کیا تھا۔ علی شیر نے اس میں سات منزلہ محل تعمیر کرایا۔
  • انچن کے دور میں ہی سکردو شہر کے اطراف میں فصیل تعمیر کی گئی۔ چار مقامات پر  تھورگو دروازہ، سدپارہ دروازہ، برگے دروازہ اور پشاوری دروازہ کے نام سے چار دروازے نصب کر کے پہرے بٹھا دیے اور شہر کو ناقابل تسخیر بنایا۔
  • 1658 عیسوی میں دہلی کے تخت پر اورنگزیب کا قبضہ ہوا۔ ۱۶۶۳ میں اس نے کشمیر کا سفر کیا۔ اس دوران سکردو کے حکمران شاہ مراد نے کشمیر میں جا کر اس کے دربار میں حاضری دی۔
  • شاہ مراد نے اپنے دور میں گلگت اور چترال کو دوبارہ فتح کیا۔
  • مقپون سلسلے کے آخری بادشاہ احمد شاہ نے 1800 سے 1840 تک بلتستان پر حکومت کی۔
  • اسی دوران 1799 عیسوی میں لاہور پر سکھ سلطنت کا ظہور ہوا۔ رنجیت سنگھ نے 1819 میں افغانیوں(درانی حکومت) کو شکست دے کر کشمیر پر قبضہ کر لیا۔ اس طرح پنجاب کی سکھ سلطنت کی سرحدیں بلتستان سے آملیں۔
  • احمد شاہ نے اپنی ریاست کو سکھوں سے بچانے کے لیے متعدد بار ہندوستان میں موجود انگریزوں سے رابطے کی کوشش کی ۔
  • سکھوں کے خلاف احمد شاہ کی سرگرمیوں کی رپورٹ کی وجہ سے 1833 عیسوی میں بلتستان پر سکھوں نے حملے کا آغاز کر دیا۔
  • کھرمنگ کے بادشاہ علی شیر خان احمد شاہ کا بھانجا اور داماد تھا۔ لیکن ان کی آپس میں کچھ معاملات پر چپقلش تھی۔ادھر احمد شاہ نے اپنے بیٹے محمد شاہ کونا اہلی کی وجہ سے  ولیعہدی سے محروم کیا۔ ولیعہدی سے محرومی پر محمد شاہ 1836 عیسوی میں فرار ہو کر دیوسائی کے راستے کشمیر پہنچ گیا۔ کشمیر کے سکھ صوبیدار نے اسے لاہور میں رنجیت سنگھ کے پاس بھیج دیا۔رنجیت سنگھ نے اسے اپنے ماتحت راجہ گلاب سنگھ کے پاس جموں بھیج دیا۔ گلاب سنگھ سے اسے لداخ میں زور آور سنگھ کے پاس بھیج دیا۔ زور آور سنگھ نے اسے بلتستان پر حملے کا بہترین موقع جانا۔۱۸۳۶ میں کھرمنگ کا بادشاہ راجہ علی شیر خان بھی لداخ میں پناہ لیے ہوئے تھے۔
  • 1838 عیسوی میں علی شیر خان نے خود زور آور سنگھ سے ملاقات کی اور اسے بلتستان پر حملے کی دعوت دی اوراپنی طرف سے  بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔
  • مئی 1835  میں لداخ کو زور آور سنگھ نے فتح کر لیا۔
  • 1840  عیسوی میں ڈوگروں نےلداخ کے راستے بلتستان پر فیصلہ کن حملہ کیا اور پھر اس کے بعدایک صدی سے زیادہ عرصے تک کے لیے بلتستان پر ڈوگروں کا قبضہ رہا۔

 

+ لکھاری عباس حسینی در 26 Aug 2016 و ساعت 2:35 PM |

بلتستان کی مذہبی تاریخ

 

(از تاریخ بلتستان، یوسف حسین آبادی)

تلخیص: عباس حسینی

 

  • بلتستان میں اسلام سے پہلے بدھ مت، اور اس سے پہلے بون چھوس رائج تھا۔تاہم اندازہ کیا جاتا ہے اس سے بھی پہلے یہاں زرتشتی مذہب رائج تھا۔

 

  • ایک اندازے کے مطابق اشوک کے دور میں بدھ مت مذہب لداخ کی طرف پھیلا۔ بلتستان میں بھی بدھ مت اسی دور میں پھیلا ہوگا۔ لیکن جدید تحقیق کے مطابق بلتستان میں بدھ مت تبت سے نہیں، کشمیر کی طرف سے پھیلا۔

 

 

  • بدھ مت دور کے باقیات میں سے ایک سکردو شہر کے قریب منٹھل گاوں میں واقع وہ چٹان ہے جس پر تصویریں اور عبارات کندہ ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق یہ کتبہ سن ۱۰۰۰ عیسوی سے پہلے کا ہے۔

 

  • چودہویں صدی عیسوی کے آخر ربع میں ایرانی مبلغین کے ذریعے بلتستان میں اسلا م پھیلنا شروع ہوا۔

 

  • سید علی ہمدانی اپنےسینکڑوں مریدوں اور شاگردوں کے ساتھ ۱۳۷۳ عیسوی سے ۱۳۸۳ کے درمیان تین بار کشمیر تشریف لائے۔ آپ کی تبلیغ سے لوگوں نے اسلام قبول کیا۔سکردو، شگر برالدو تک اور خپلو چھوربٹ تک آپ نے اسلام پھیلایا۔

 

 

  • ۱۴۴۶ عیسوی میں سید علی ہمدانی کے خواہر زادے اور شاگرد خاص سید محمد نور بخش بطور ان کے خلیفہ بلتستان تشریف لائے۔ آپ کی مشہور کتاب فقہ احوط ہے۔ ان کے مقلدین آج بھی کثرت سےبلتستان میں موجود ہیں   اور ان فرقے کا نام ہی نوربخشیہ پڑ گیا ہے۔

 

  • میر شمس الدین عراقی بت شکن ۱۴۹۹ تا ۱۵۰۵ عیسوی کے دوران کشمیر سے سکردو تشریف لائے اور کچھ عرصہ یہاں اشاعت اسلام میں مصروف رہے۔

 

 

  • سترہویں صدی عیسوی کے آغاز میں دو بھائی سید علی اور سید ناصر طوسی ترکستان سے سلتورو گلیشئیر کے راستے وارد بلتستان ہوئے۔ کہا جاتا ہے سید ناصر میں داسونید کے پہاڑ پر غائب ہوگئےاور سیدعلی نے کواردو میں سکونت اختیار کی۔ مقامی روایات کے مطابق ان کے دو اور بھائی سید محمود اور سید حیدر علی بھی ان کے ساتھ تھے۔ سید محمود کی قبر کشو باغ جبکہ سید حیدر علی کا مقبرہ قمراہ میں ہے۔

 

  • اٹھارہویں صدی عیسوی میں دو بھائی میر عارف اور ابو سعید خپلو میں وارد ہوئے۔ میر عارف نے تھغس اور ابو سعید نے کریس میں سکونت اختیار کی۔میر عارف کی بیٹی کی شادی ابو سعید کے بیٹے سید مختار کے ساتھ ہوئی۔

 

 

  • روندو کے سید علی اکبر، سکردو کے شیخ جواد ناصر الاسلام، چھوترون کے آغا سید عباس اور کواردو کے شیخ غلام حسین اور شیخ عبد اللہ بلتستان کے پہلے مقامی علما اور ہم عصر تھے۔

 

  • بیسویں صدی کے ابتدائی نصف کے دوران بلتستان میں انگریز عیسائی مبلغوں کے ذریعے عیسائیت کی تبلیغ شروع ہوئی لیکن اسے یہاں شرف قبولیت حاصل نہ ہوا۔ ان مبلغوں نے بلتی میں کتاب " کھوملوکسی لم "یعنی راہ نجات لکھا تھا اور ساتھ میں متی کی انجیل کا بلتی میں ترجمہ بھی کیا تھا۔
+ لکھاری عباس حسینی در 24 Aug 2016 و ساعت 11:41 PM |