بلتستان کی سیاسی تاریخ (۲)
(ڈوگرہ راج + جنگ آزادی)
(از تاریخ بلتستان ، یوسف حسین آبادی)
تلخیص: سید عباس حسینی
ڈوگرہ دور 1840 تا 1948 عیسوی
- رنجیت سنگھ کے دور میں جموں کے ڈوگرہ راجپوت خاندان کے دو بھائی گلاب سنگھ اور دھیان سنگھ نے فتح کشمیر(1819) اور پھر جموں کو فتح کرنے کے حوالے سے بے مثال خدمات انجام دیں۔ ان خدمات کو وجہ سے مہاراجہ رنجیت سنگھ ان پر مہربان ہوگیا اور ان کے باپ کشور سنگھ کو جموں کا راجہ بنا دیا۔ 1823 میں رنجیت سنگھ نے گلاب سنگھ کو جموں کا راجہ بنادیا۔ اس طرح پنجاب کی سکھ سلطنت کی سرپرستی میں جموں میں ڈوگرہ حکومت قائم ہوگئی۔
- سکردو کے راجہ کے بیٹے محمد شاہ اور کھرمنگ کے راجہ علی شیر خان کی خیانت اور دعوت پر زور آور سنگھ (گلاب سنگھ کی فوج کا کمانڈر) نے بلتستان پر حملے کا منصوبہ بنایا۔ اور مختلف علاقوں کو دھوکے سے فتح کرتے ہوئے سکردو پہنچا۔
- سکردو کے راجہ احمد شاہ کھرپوچو قلعے میں محصور ہوگیا۔ ان کے پاس تین سال تک کے مقابلے کے لیے کافی خوراک اور دیگر سامان قلعہ موجود میں موجود تھا۔پندرہ روز کے محاصرے کے بعد بھی محصورین پر کچھ اثر ہوتا ہوا نظر نہیں آیا تو زور آور سنگھ مایوس سا ہوا۔ اسے دیکھ کر علی شیر خان نے فریب کاری سے قلعہ فتح کرنے کا منصوبہ بنایا۔
- اس نے احمد شاہ سے قسم کھا کر کہا کہ زور آور سنگھ کا سکردو پر قبضے کا کوئی ارادہ نہیں۔ وہ تو صرف ولیعہد محمد شاہ کے ساتھ جو نا انصافی ہوئی ہے اس سلسلے میں جھگڑے میں تصفیہ کرنے آیا ہے۔ اس قسم پر اعتبار کر کے احمد شاہ جب زور آور سنگھ کے پاس ولیعہد کے حوالے سے معاملات طے کرنے آیا تو انہیں گرفتار کر کے بیڑیاں پہنا دی گئیں۔
- ڈوگرہ فوج نے کھرپوچو قلعے کو خوب لوٹ لیا۔ بہت سے آدمیوں کو قتل کیا اور بہت سوں کو مختلف اذیتیں دیں۔ زور آور سنگھ نے فاتح کی حیثیت سے مظالم کی انتہا کر دی۔
- زور آور سنگھ نے راجہ احمد شاہ کو معزول کر کے اس کے بیٹے محمد شاہ کو سات ہزار روپے سالانہ خراج دینے کی شرط پر سکردو کا برائے نام راجہ بنا دیا۔ اس کے ساتھ ہی بلتستان کی آزاد سلطنت کا خاتمہ ہوگیا۔
- ۱۸۴۲ عیسوی میں بلتستان کے مختلف راجاوں اور روسا نے ڈوگروں کےتسلط سے جان چھڑانے کی بھرپور کوشش کی۔ مختلف جگہوں پر بغاوت کی۔ گلاب سنگھ نے اپنے معتمد خاص وزیر لکھپت کو بغاوت فرو کرنے کے لیے بلتستان بھیجا۔ کچھ مقامی لوگوں کی خیانت کی وجہ سے اس نے بغاوت پر کنٹرول کر لیا۔ تحریک آزادی کے علمبرداروں اور کارکنوں کو عبرتناک سزائیں دیں۔بہتوں کو تہہ تیغ کیا اور بعض کے سروں کو عبرت کے لیے نمایاں مقاماں پر لٹکا دیا۔
- وزیر لکھپت نے آئندہ کے پھر بغاوت کے ڈر سے کھرپوچو قلعے کو مسجد کے سوا آگ لگا کر تباہ کر دیا۔
- ڈوگرہ حکومت نے 1902 میں پہلی بار یہاں کی زمینوں کی اقسام اور فصلوں کی آمدن کی تشخیص کی اور اس کے مطابق نقد مالیہ اور اجناس کا لگان عائد کر دیا۔ زمینوں کی خرید وفروخت پر پابندی عائد کر دی گئی۔
- ڈوگروں کے قبضے جمانے کے فورا بعد بیگار کا سسٹم رائج کر دیا۔ جس کے تحت بلتستان کے طول وعرض میں ہر پڑاو پر گرد ونواح سے ۵۰ قلی اور پانچ گھوڑے ہمہ وقت سرکاری مہمانوں اور ملازموں کی خدمت کے لیے حاضر رکھے جاتے تھے۔ ہر گھرانے کو سال میں چالیس روز تک پڑاو پر بیگار کی ڈیوٹی دینی پڑتی تھی۔
- بیگار والوں کو ملازموں کو دودھ ، لکڑی اور ان کے مویشویوں کے لیے چارہ بھی فراہم کرنا پڑتا تھا۔ آفیسروں کی خواتین کو ڈولیوں میں بٹھا کر این منزل سے دوسری منزل تک پہنچانا پڑتا۔ ایک ڈولی کے ساتھ آٹھی قلی ہوتے۔ چنانچہ آخری ڈوگرہ وزیر لالہ امرناتھ جب سکردو آیا تو اس کی دونوں بیویاں اور بچے تین پالکیوں میں سوار تھے۔ اور چوتھی پالکی میں اس کے آٹھ کتے سوار تھے۔
- 1947 میں تقسیم ہند کی خبریں ہندوستان مزدوری کے لیے گئے مزدوروں اور کچھ مقامی افراد کو ریڈیو کے ذریعے پہنچنی لگیں اور یہاں کے باشندوں نے پاکستان میں شمولیت کے لیے کوششیں تیز کر دیں۔
جنگ آزادی بلتستان ۱۹۴۸ عیسوی
- یکم نومبر 1947 عیسوی کو گلگت کو مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت فتح کر لیا اور ڈوگرہ تسلط سے آزادی حاصل کر لی۔
- انقلابیوں نے جمہوریہ گلگت کے نام سے ایک عارضی حکومت قائم کر لی۔ اور عملا یکم نومبر سے لے کر ۱۶ نومبر ۱۹۴۷ تک اس چھوٹی سی مملکت پر مقامی افراد نے حکومت کی۔ حکومت پاکستان کو تار پر تار دئیے گئے کہ گلگت کو اپنا حصہ تسلیم کرتے ہوئے یہاں اپنا نمائندہ بھیج دے۔
- گلگت کے بعد مقامی افراد نے روندو کو فتح کر لیا۔ اس کے بعد روندو کے راجہ کی دعوت پر گلگت کے انقلابیوں نے بلتستان کی طرف پیش قدمی کی اور مقامی افراد کی مدد سے ڈوگروں کو بھگانا شروع کیا۔ لیکن ڈوگرہ فوج سکردو چھاونی میں محصور ہوگئی اور زبردست مقابلہ کیا۔
- فروری سے اگست ۱۹۴۸ تک چھاونی میں محصور ڈوگرہ سپاہیوں اور کچھ سکھ خاندانوں نے بھرپور مزاحمت دکھائی۔ مگر انہیں سری نگر سےخاطر خواہ کمک اور امداد نہیں پہنچ سکی اور بالآکر ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوئے۔
- ۱۴ اگست ۱۹۴۸ کی صبح کو کرنل تھاپا نے پانچ آفیسروں اور دیگر فورسز و فیملیز کے ساتھ اپنے آپ کو آزاد فورسز کے حوالے کر دیا۔ اس طرح بلتستان پر ۱۰۸ سال حکومت کرنے کے بعد ڈوگرہ عہد کاخاتمہ ہوا۔
- فتح کے فورا بعد سکردو چھاونی پر پاکستان کا پرچم لہرایا گیا۔
- 21ا پریل 1948 کو اقوام متحدہ نے کشمیر کے حوالے سے ایک قرارداد منظور کی جس کے تحت جموں وکشمیر کے ہندوستان یا پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے کیا جائے گا۔ گلگت بلتستان کی آزادی کے بعد پاکستان نے رائے شماری کو اپنے حق میں کرنے کی خاطر مقامی باشندوں سے پوچھے بغری ان علاقوں کے مستقبل کو کشمیر کے ساتھ منسلک کیا۔ جو اب تک جاری ہے۔
- اپریل ۱۹۴۹ میں بدنام زمانہ معاہدہ کراچی کے تحت حکومت پاکستان، حکومت آزاد کشمیر اور کشمیر کی سیاسی جماعت مسلم کانفرنس نے فیصلہ کیا کہ گلگت بلتستان کا انتظام حکومت پاکستان کےسپرد رکھا جائے گا۔ اس معاہدے پر حکومت پاکستان کے وفاقی وزیر بےمحکمہ مشتاق احمد گورمانی، آزاد کشمیر کے صدر سردار ابراہیم خان اور مسلم کانفرنس کے صدر چوہدری غلام عباس نے دستخط کئے۔ اس معاہدے میں گلگت بلتستان کا کوئی نمائندہ شامل نہیں تھا ۔ اس طرح مقامی افراد کی نمائندگی کے بغیر چند پرائیوں نے مل کر اپنی مدد آپ کے تحت جنگ لڑ کر آزادی حاصل کرنے والے اور پاکستان کے لیے بے شمار قربانی دینے والے اس علاقے کے ساتھ ظلم وناانصافی پر مبنی ایک فیصلہ صادر کیا جس پر اب تک نہایت سختی کے ساتھ عمل ہو رہا ہے۔ جبکہ مقامی افراد قریب ستر سال سے اپنے آپ کو پاکستانی منوانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں اور اپنے انتہائی بنیادی حقوق کے لیے اب تک چیخ رہے ہیں۔ لیکن ان کی یہ آواز اب تک صدا بہ صحرا ثابت ہو رہی ہے۔
