واقعہ کربلا : مختصر دفاعی تجزیہ

[سید عباس حسینی]

 (مجلہ سفیر روحانیت زیر اہتمام جامعہ روحانیت بلتستان شمارہ ۲، ۲۰۱۵ء، ص ۱۹ - ۲۳ چھپا مضمون)

          کسی بھی واقعہ  یا حادثہ کو دیکھنےاور پھر تجزیہ کرنے  کے مختلف زاویے  ہوسکتے ہیں جن میں سے ہر ایک اس واقعہ کے کسی نئے رخ یا نئی جہت  کو ہم تک پہنچا رہا ہوتا ہے۔ واقعہ کربلا تاریخ کا وہ عظیم واقعہ ہے جو اگرچہ مدتِ زمان کے لحاظ سے دیکھا جائے تو نصف روز یا زیادہ سے زیادہ ایک دن کی مدت پر پھیلا واقعہ ہے[1]  لیکن اپنے اثرات اور نتائج کے حوالے سے تاریخ کا منفرد اور بے نظیر واقعہ ہے جو ہمیشہ کے لیے امر ہوگیا ہے۔ اس عظیم واقعہ کو بھی مختلف جہتوں سے مطالعہ کیا جا سکتا ہے، جن میں سے ایک اہم جہت دفاعی پہلو ہے کہ اگر کوئی دفاعی تجزیہ نگار اس جنگ کو خالص جنگی اصولوں  پر پرکھنا چاہے تو کیا نتائج اخذ ہوں گے؟  طرفین میں سے ہر ایک نے اس جنگ کو جیتنے کے لیے کیسے منصوبہ سازی کی؟ افراد اور اسلحے کے لحاظ سے طرفین کی صورت حال کیا تھی؟ کیسے جنگ کے مراحل طے ہوئے؟ اور کیسے جنگ کا خاتمہ ہوا اور نتائج واثرات کیا نکلے؟

 امام حسین علیہ السلام کی فوج اور آپ کی پالیسی:

امام عالی مقام کی فوج اور جنگی پالیسیوں کا جائزہ چند نکات میں لیا جا سکتا ہے:

فوج کی تعداد: حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ لڑنے والے سپاہیوں کی تعداد مشہور کے مطابق ۷۲ ہے۔[2] جبکہ دشمن کی تعداد مشہوریہی ہے کہ ۲۵ سے ۳۰ ہزار تھی۔ دفاعی حوالے سے صرف تعداد کو مد نظر رکھ کر تجزیہ کیا جائے تو ۷۲ کا ۲۵۰۰۰ سے کوئی مقابلہ بنتا نہیں۔ لہذا اس جنگ  کا فیصلہ شایدعام تجزیہ نگار تعداد دیکھ کر ہی فورا کر لے۔ لیکن خدا کا قانون الگ ہے اور تاریخ بھی یہی  بتاتی ہے کہ بسا کم تعداد بہت بڑی تعداد پر غالب آتی ہے۔[3]   کمیت معتبر نہیں، کیفیت مہم ہے۔ جنگ بدر کا نتیجہ بھی ہمارے سامنے ہے کہ جب ۳۱۳ نے ایک ہزار کا غرور خاک میں ملایا تھا۔ کربلا میں بھی ۷۲ باوفا جان نثاروں کے خوف سے ہزاروں کی پیشانیوں پر پسینے چھوٹے تھے۔

ایک عجیب تاریخی فوج: عام طور پر فوج میں بھرتی ہونے والے سپاہی کے لیے کڑی شرائط رکھی جاتی ہیں۔ چوڑا سینہ، لمبا قد، جسمانی فٹنس سے لے کر عمر کی حد سب چیزیں دیکھی جاتی ہیں۔ لیکن امام حسین علیہ السلام کی فوج عجیب قسم کی فوج ہے جس میں ہر عمر  کے سپاہی ہیں۔ چھے ماہ کا ننا سپاہی علی اصغر سے لےکر اسی سال کے بوڑھے تک۔ جبکہ طرف مقابل میں سارے سپاہی قد وکاٹھ کے ساتھ اکثریت جوانوں پر مشتمل ہے اور دفاعی ساز وسامان سے لیس ہیں۔دفاعی حوالوں سے دیکھا جائے توان کا کوئی مقابلہ بنتا نہیں ہے۔ لیکن آسمان نے وہ عجیب منظر ملاحظہ کیا جب کربلا کے چھے ماہہ علی اصغر نے بھی دشمن کی فوج میں ہل چل مچا دی۔ اصحاب میں سے ہر ایک نے شجاعت کے وہ جوہر دکھائے کہ فلک پر فرشتے بھی عش عش کر اٹھے۔ اسی لیے امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: میرے اصحاب جیسے اصحاب نہ میرے بابا کو ملے اور نہ میرے بھائی کو۔ ان سے بہتر اصحاب میں نے نہیں دیکھا۔ اسی طرح میری اہل بیت سے بہتر اور نیک اہل بیت بھی میں نے نہیں دیکھا۔ [4]

ایک عجیب فیصلہ: جنگ جب سر پر ہو تو کوئی بھی سپہ سالار اپنے سپاہیوں کو واپس جانے کی اجازت نہیں دیتا۔ طارق بن زیاد نےاندلس کی جنگ میں  اس خوف سے کہ سپاہی واپس بھاگ نہ  جائیں کشتیاں جلا دی تھیں۔ جبکہ کربلا میں اامام عالی مقام سب ساتھیوں کو واپس جانے کی اجازت دے رہے ہیں۔ بیعت اٹھانے کی بات کر رہے ہیں۔ایک دفعہ عمومی اجازت دی ا ور کہا: "میں نے تم لوگوں کو اجازت دے دی، تم سب لوگ چلے جاؤ، میری طرف سے تمہارے اوپر کوئی ذمہ داری بھی نہیں۔ یہ رات  کا اندھیرا ہے اس کا سہارا لے کر نکل جاؤ۔" یہ بھی کہا: "تم میں سے ہر ایک میرے اہل بیت میں سے ایک فرد کا ہاتھ تھام لے کر ساتھ لے چلو، اور اپنے شہروں کو واپس چلے جاؤ۔" بعض کے نام لے کر خصوصی اجازت بھی دی۔ حضرت عقیل کی اولاد کو مخاطب کر کے کہا: "اے عقیل کے بیٹے، مسلم کی شہادت تمہارے لیے کافی ہے۔ تم لوگ چلے جاؤ ، میں نے تمہیں اجازت دی۔"[5]

           دفاعی حوالے سے یہ بات خلاف عقل ومنطق دکھائی دیتی ہے۔لیکن امام عالی مقام نے سب اصحاب کو فیصلہ کرنے کا اختیار دیا۔ بغیر کسی جبر اور لالچ کے،سوچ سمجھ کر،  امام وقت کا ساتھ دیتے ہوئے ،  موت کا راستہ اختیار کرنے کی وجہ سے اصحاب کا رتبہ اور بلند ہوا اور سب نے انتہائی خلوص سے فداکاری کے جوہر دکھائے۔ یقینا اگر مجبوری کی حالت میں امام کا ساتھ دیتے تو ایسا نتیجہ ہرگز نہیں نکلتا۔

اخلاقِ جنگی: جنگ میں عام طور پر دشمن کو زیر کرنے کے لیے ہر قسم کے اسلحے، حیلے بہانے اور مکر وفریب  سے استفادہ کیا جاتاہے۔ دشمن کا پیاسا لشکر جب حر بن یزید ریاحی کی قیادت میں امام کا راستہ روکنے پہنچا تو آپ  اس  موقعہ سے استفادہ کر سکتے تھے۔ لیکن آپ نے دشمن کے سپاہیوں کو حتی ان کے جانوروں کو بھی پانی پلایا۔ [6]جنگی تکنیک کے حوالوں سے یہ بھی خلاف منطق ہے۔ لیکن یہ تو صفین والے امام کے فرزند ہیں جنہوں نے بھی لشکرِ معاویہ کی طرف سے پانی بند کرنے کے باوجود جب نہر پر آپ کا قبضہ ہوا تو پانی بند کرنے سے انکار کیا تھا۔ ان کا تعلق اس خاندان سے ہے جو انتہائی سخت حالات میں بھی اخلاقی اصولوں کا خیال رکھتے ہیں۔ کبھی بھی اپنے ہدف کے حصول کے لیے پست طریقوں سے استفادہ نہیں کرتے۔

جنگی ٹیکنیک: امام عالی مقام جس وقت کربلا پہنچے ہیں سب سے پہلے آپ نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ  کسی ایسی جگہ کا انتخاب کیا جائے جہاں سے دشمن کا مقابلہ کرنا آسان ہو، جہاں دشمن پشت کی طرف سے حملہ نہ کر سکے۔ اصحاب نے کہا کہ "ذو حسم" کا علاقہ ایسا ہی ہے، لہذا آپ نے جلدی سے اپنے کاروان کو "ذو حسم" پہنچایا اور خیمہ زن ہوگئے۔ [7]  اسی طرح روز عاشور بھی امام عالی مقام نے  جنگ سے پہلے خیموں کے گرد خندق کھودنے اور اس میں آگ لگانے کا حکم دیا۔[8]  چونکہ علم تھا دشمن بہت پست قسم کے لوگ ہیں، اور خیموں پر پیچھے سے حملہ کرسکتے ہیں۔ دفاعی حوالے سے یہ انتہائی اہم قدم تھا۔ چونکہ اگر ایسا نہ کرتے تو آپ کی فکر ہمیشہ خیموں کی طرف اور مخدرات عصمت کی طرف ہوتی اور لڑائی متاثر ہوتی۔ خندق کھود کر اور اس میں آگ لگا کر آپ بہت حد تک مطمئن ہو کر دشمن کا مقابلہ کرنے چلے۔

جنگ کے آغاز سے انکار: امام عالی مقام نے کربلا میں دشمن پر تمام حجتیں تمام کیں تاکہ بعد میں دشمن کے پاس کوئی بہانہ نہ بچے۔ عاشور کی شب جس طرح سے آپ نے دشمن سے مانگ کر ایک رات کی مہلت لی ہے اسی طرح سے دشمن کو سوچنے سمجھنے کے لیے ایک رات کی مہلت دی بھی ہے ، کہ وہ اندازہ کریں کتنے بڑے جرم کا مرتکب ہونے جارہے ہیں۔ اسی طرح بار بار خطبہ دیتے ہوئے آپ دشمن کی ضمیر جگانے کی کوشش کرتے رہے ،جس کے کچھ اثرات بھی ہوئے۔ جیسے حر کا اپنے بیٹے اور غلام سمیت آپ کے لشکر میں آکر ملنا۔ لیکن تمام کوششوں کے باوجود دشمن جنگ کی ضد کرتے رہے تو پھر بھی آپ نے جنگ میں پہل کرنے سے انکار کیا۔ جس وقت آپ نے خیموں کی پشت پر خندق کھود کر آگ لگائی تو شمر قریب آیا اوراس نے  آواز دی: "اے حسین، قیامت کی آگ سے پہلے دنیا میں ہی آگ لگا دی؟" تو اس وقت مسلم بن عوسجہ نے کہا: "یابن رسول اللہ ، میری جا ن آپ پر قربان، اگر اجازت دیں تو اک تیر سے میں شمرکا کام تمام کرسکتا ہوں ۔" امام علیہ السلام نے جوا ب دیا: "نہیں، میں پسند نہیں کرتا کہ جنگ کا آغاز میری طرف سے ہو۔"[9]

غازی عباس کو جنگ کی اجازت نہ دینا: مشہور یہی ہے کہ امام عالی مقام نے اپنے سب سے قوی سردار غازی عباس علمدار علیہ السلام کوباقاعدہ جنگ کی اجازت نہ دی۔ بعض محققین کے نزدیک آپ  نے حر اور زہیر کو دشمنوں کے نرغے سے چھڑانے کے لیے مختصر جنگ کی۔ جب آپ نے جنگ کی اجازت چاہی توامام عالی مقام نے صرف اتنا کہا کہ ہوسکے تو بچوں کےلیے پانی کی کوئی سبیل کرو[10]۔ پس آپ کا مقصد کسی طرح خیموں تک پانی پہنچانا ٹھہر گیا۔  اس کی کیا وجوہات تھیں کہ امام نے غازی عباس کو باقاعدہ جنگ کی اجازت نہیں دی؟دفاعی حوالے سے کیا یہ درست اقدام تھا؟

محققین کے نزدیک شاید امام کے اس اقدام کی وجہ یہ تھی کہ حضرت عباس آپ کے لشکر کے علمدار تھے اور اس زمانے میں علم کا گرنا شکست کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ امام کی خواہش تھی آخری لمحات تک پرچم بلند رہے تاکہ اہل حرم کو حوصلہ ملتا رہے۔ لہذا امام عالی مقام نے ہر دفعہ حضرت عباس کو جنگ کی باقاعدہ اجازت دینے سے انکار کیا۔ [11]امام عالی مقام کے بیان میں یہی اشارہ ہے جب آپ نے ارشاد فرمایا: "آپ میرے لشکر کے علمدار ہیں۔ اگر آپ گئے تو میرا لشکر بکھر جائے گا۔"[12]

جنگی قانون سے ہٹ کر: عام طور پر جنگ کا قانون  یہ ہے کہ سپہ سالار سب سے آگے ہوتا ہے اور فوج پیچھے ہوتی ہے۔ سپہ سالار سب سے پہلے خود کومیدان میں پیش کرتا ہے۔ جبکہ کربلا میں منظر برعکس نظر آتا ہے۔ اصحاب وانصار پہلے لڑتے ہیں، اور اہل بیت کے افراد بعد میں۔ جبکہ سپہ سالار سب سے آخر میں مقابلہ کے لیے جاتا ہے۔ شاید وجہ یہ ہو کہ باقی جنگوں میں مرنا مشکل جبکہ زندہ رہنا آسان ہوتا ہے، لیکن کربلا میں مرنا آسان تھا، جبکہ اتنے مصائب اور پیاس کی شدت  میں زندہ رہنا، ساتھیوں  کا غم سہنا ، لاشیں اٹھانا اور پھر شہید ہونا زیادہ مشکل مرحلہ تھا، اس لیے امام نے اپنے آپ کو سب سے آخر میں رکھا، کہ سب سے مشکل مرحلے کو خود اپنے لیے انتخاب کیا۔

 

 دشمن کے اقدامات:

لشکرِ امام میں پھوٹ ڈالنے کی سازش: دشمن کی طرف سے  ہر ممکن کوشش کی گئی کہ امام  کے لشکر میں پھوٹ ڈالا جائے۔ اسی خاطر بعض افراد کے لیے امان نامہ دینے کی کوشش کی گئی۔ شمر کی طرف سے غازی عباس اور ان کے بھائیوں کے لیے امان دینے کی کوشش کی گئی کہ وہ بنی کلاب سے ہیں اور ننھیال کی طرف سے شمر کے  خاندان سے ہیں۔ یہ جنگی تکنیک تھی  جس کے ذریعے امام کی  فوج کے قوی ترین سردار کو لشکر سے جدا کرنا چاہتے تھے اور فوج کی معنوی حالت کو نیچے لا کر نفسیاتی شکست دینا چاہتے تھے۔

شمر، امام کے لشکر کے قریب آیا اور آواز دی: "ہمارے بہن کی اولاد کہاں ہیں؟" تو حضرت عباس، جعفر اور عثمان نکل آئے۔ شمر نے کہا: "تم لوگ امان میں ہو چونکہ ماں کی طرف سے ہمارے رشتہ دار ہو۔ ان لوگوں کی طرف سے جواب آیا: "تم پر خدا کی لعنت ہو، تمہارے امان پر خدا کی لعنت ہو، تم ہمارے ماموں بن کر ہمیں امان دیتے ہو، جبکہ رسول اللہ ﷺ کے بیٹے کے لیے کوئی امان نہیں؟"[13]  اس طرح حضرت عباس اور ان کے بھائیوں نے اپنی بصیرت سے دشمن کی سازش کو ناکام بنا دیا۔

پست ترین اقدامات،  جیسے پانی بند کرنا: اس ۷۲ کے لشکر سے دشمن کے خوف کی یہ حالت تھی کہ ۷ محرم الحرام سے امام کے لشکر پر پانی بند کیا گیا۔ شاید دشمن کی خواہش  یہ تھی کہ پیاس سے مجبور ہو کر امام عالی مقام اور آپ کا لشکر سر جھکانے پر مجبور ہوجائیں گے۔ لیکن کربلا کی اس تپتے صحراء میں العطش کی صداؤں میں لشکرِ امام نے شجاعت کے ایسے جوہر دکھائے کہ یقینا اگر پانی سے سیراب ہوتے تو جنگ کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔ سخت پیاس کی حالت میں جو ایسی جنگ لڑیں وہ اگر پانی سے سیراب ہوتے تو یقینا دشمن کے لیے مزید مشکلات پیدا کرتے۔

اہل بیت اطہار کو اسیر بنانے کی غلطی: دشمن ظاہری فتح اور جیت کی خوشی میں چور کربلا سے بچ جانے والے افراد کو بشمول امام زین العابدین علیہ السلام کو اسیر بنا کر پہلے کوفہ اور پھر وہاں سے شام لے گیا۔ جنگی حوالے سے یہ دشمن کی بہت بڑی غلطی تھی۔ دشمن کے اس غلط فیصلے سے امام زین العابدین علیہ السلام اور ثانی زہراء سلام اللہ علیہا نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور کربلا والوں کا پیغام شہر شہر پہنچانے کے علاوہ کربلا میں ڈھائے جانے والے مظالم کی داستان ساری دنیا تک پہنچائی اور یزید اور اس کے کارندوں کوہر دو جہان میں  رسوا کیا۔

نتیجہ:

          امام نے دشمن کا مقابلہ انتہائی بصیرت اور شجاعت سے کیا۔ ایسا نہیں ہے کہ اپنی کم تعداد اور دشمن کی بڑی تعداد دیکھ کر بغیر کسی مقابلے کے دشمن کے سامنے سر جھکائے ہوں۔ جنگ کے سارے تیکنیک آپ نے استعمال کیےاور منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھے۔ آپ  اورآپ کے اصحاب کی شجاعت  اور فداکاری دیکھ کر دشمن کے حوصلے پست ہوگئے۔ یہی وجہ ہے کہ آخری وقت تک کسی بزدل کی جرات نہیں تھی کہ آپ کے نزدیک آئے، حالانکہ آپ زخموں سے چور زمین پر نڈھال پڑے تھے۔ دشمن پتہ کرنا چاہتے تھے کہ آپ زندہ ہیں یا شہید ہوچکے؟ ایک لعین نے مشورہ دیا کہ آواز دو"خیموں پر حملہ ہوا" اگر حسین زندہ ہوا  تو ضرور اٹھیں گے۔ یہ سب دشمن کے خوف اور بزدلی کی نشانی ہے۔ جبکہ امام عالی مقام اور آپ کے باوفا اصحاب نے شجاعانہ لڑتے ہوئے، دشمن کو للکارتے ہوئے ، جان جان آفرین کے حوالے کی۔

          یہاں یہ بنیادی سوال اٹھتا ہے کہ اس جنگ کا نتیجہ کیا ہوا؟  کون ہارا کون جیتا؟

          بظاہر دیکھاجائے تو امام حسین کے لشکر کو شکست ہوئی چونکہ سارے مارے گئے۔ جو بچ گئے  تھے ان کو اسیر بنا لیا گیا۔ لاشوں کی بے حرمتی کی گئی۔ لیکن اس جنگ کے نتیجے کو ایک اور زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے، اور وہ زاویہ جنگ کے اہداف اور مقاصد کے حوالے سے ہے۔ یزیدی فوج کا مقصد امام عالی مقام سے بیعت لینا تھا جس میں وہ بری طرح ناکام ہوئی۔ امام نے عزت کو موت کو ذلت کی زندگی پر ترجیح دی۔ یزید کا مقصد اس واقعہ کو کربلا کی اس ریگزار میں دفن کرنا تھا لیکن ثانی زہراء اور امام چہارم کے خطبوں نے دشمن کے تمام عزائم خاک میں ملا دئیے۔  دشمن کی تمام پالیسیاں ناکام ہوگئیں اور بظاہر جیتنے کے باوجود ذلیل اور رسوا ہوگئے۔ امام عالی مقام نے نیزے پر بھی قرآن پڑھ کر، ثانی زہرا نے علی علیہ السلام کے لہجے میں خبطے ارشاد فرما کر، امام زین العابدین علیہ السلام نے یزید کے دربار میں دشمن کو ذلیل اور رسوا کر کے اپنی جیت اور فتح کا اعلان کیا۔



حوالے وحواشی:

[1] ۔ اگرچہ کربلا کے واقعہ کےحقیقی  علل و اسباب تقریبا ۵۰ سال پر محیط ہیں چونکہ کربلا کا آغاز سقیفہ ہے۔سقیفہ میں آکر اسلامِ ناب کے مقابلے میں جعلی اسلام کا تعارف کرایا گیا جس میں سیاست کو دین سے الگ کیا گیا۔ اگر سقیفہ کی پیداوار معاویہ جیسے دشمن ِاسلام کو شام پر مسلط نہ کرتے تو شاید اس سانحہ کے مقدمات ہی فراہم نہ ہوتے۔

[2] ۔ ابو مخنف کی روایت کے مطابق آپ کے لشکر میں ۳۲ گھڑ سوار اور ۴۰ پیدل تھے اس طرح مجموعی تعداد ۷۲ بنتی ہے۔ شیخ مفید نے بھی شہداء کے سروں کی تعداد ۷۲ لکھی ہے۔ اسی طرح سے زیارت ناحیہ میں، جو سید بن طاووس نے اپنی کتاب اقبال میں نقل کی ہے، ۷۲ شہداء کے نام ذکر ہوئے ہیں۔  [دیکھیے: مقتل ابی مخنف، ص 113، اور "بررسی تاریخ عاشوراء ، دکتور ابراہیم آیتی، ص 107۔]

[3] ۔ "كم من فئة قليلة غلبت فئة كثيرة بإذن الله۔" سورہ بقرہ، آیت 249۔

[4] . "إني لا أعلم أصحابا أولى ولا خيرا من أصحابي، ولا أهل بيت أبر ولا أوصل من أهل بيتي..." مقتل ابی مخنف، ص ۱۰۷, ارشاد، شیخ مفید، ج ۲، ص 91۔

[5] ۔"ألا وإني قد أذنت لكم فانطلقوا جميعا في حل ليس عليكم مني ذمام ، هذا الليل قد غشيكم فاتخذوه جملا" يا بني عقيل ، حسبكم من القتل بمسلم ، فاذهبوا أنتم فقد أذنت لكم"۔ دیکھیے: مقتل ابی مخنف، ص 107 تا 109، ارشاد، شیخ مفید، ج 2، ص 91، 92۔

[6] ۔ دیکھیے: مقتل ابی مخنف، ص 82۔

[7] ۔ دیکھیے: مقتل ابی مخنف ، ص 81۔

[8] ۔ "وجعلوا البيوت في ظهورهم ، وامر بحطب وقصب كان من وراء البيوت تحرق بالنار مخافة ان يأتوهم من ورائهم" مقتل ابی مخنف، ص 113، ارشاد، شیخ مفید، ج ۲، ص 95۔

[9] ۔ دیکھیے : مقتل ابی مخنف، ص ۱۱۶۔

[10] ۔ "فقال الحسين عليه السلام : فاطلب لهؤلاء الأطفال قليلا من الماء" دیکھیے: بحار الانوار، ج 45، ص 41۔

[11] ۔ دیکھیے۔ انٹرویو : محقق تاریخ رجبی دوانی۔  www.fardanews.com/fa/news/206825

[12] ۔ "فبكى الحسين عليه السلام بكاء شديدا ثم قال : يا أخي أنت صاحب لوائي وإذا مضيت تفرق عسكري" بحار الانوار، ج ۴۵، ص ۴۱۔

[13] ۔ "لعنك الله ولعن أمانك ، أتؤمننا وابن رسول الله لا أمان له ؟" دیکھیے: مقتل ابی مخنف، ص 104، ارشاد، شیخ مفید، ج ۲، ص ۸۹۔ بعض روایات کے مطابق دشمن کی طرف سے کئی بار کوشش کی گئی کہ کسی طرح سے حضرت عباس اور ان کے بھائی امان نامہ قبول کر لیں۔ اس مقصد کے لیے پہلے بھی کوششیں کی گئیں۔ بطور مثال عبد اللہ ابن ابی محل ،جو حضرت عباس علمدار وغیر کے ماموں زاد تھے ، کی طرف سے اپنے غلام عبد اللہ کے ہاتھوں بھی امان نامہ بھیجا گیا۔ جس کے جواب میں حضرت عباس نے کہا: "أمان الله خير من أمان ابن سمية." ملاحظہ ہو: مقتل ابی مخنف، ص 103، 104،  بررسی تاریخ عاشورء، ابرہیم آیتی، ص  124۔


ٹیگس: کربلا
+ لکھاری عباس حسینی در 15 Sep 2018 و ساعت 3:3 PM |

حسین علیہ السلام کا سچا حبیب

تحریر: سید عباس حسینی

(مجلہ سفیر روحانیت زیر اہتمام جامعہ روحانیت بلتستان شمارہ ۴، ۲۰۱۷، ص ۴۱ - ۴۳ و ص ۵۴ پر چھپا مضمون)

اس نے غلام کو حکم دیا:"فورا سے پہلے گھوڑا آمادہ کرو۔" اسے اس کے مولا وآقا نے بلایا تھا۔ابھی کچھ دیر پہلے کی بات ہے جب حبیب اپنی زوجہ کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا ۔ زوجہ کے منہ میں لقمہ اٹک گیا۔ مومنہ بول اٹھی: لگتا ہے کسی کریم ابن کریم کا خط آرہا ہے۔ اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی۔پوچھا کہ کون ہے؟ کہا: میں حسینؑ  کا قاصد ہوں۔ حسین ؑ کا نام سننا تھا حبیب کی جبینِ عقیدت احترام میں خم ہوئی۔ ادب سے خط پکڑا اور پڑھنا شروع کیا۔ زوجہ نے پوچھا: کیا لکھا ہے؟بتایا کہ مدد کے لیے بلایا ہے۔

حسین ابن علی ؑنے حبیب کے نام  جودو سطروں کا  خط لکھا تھا اس میں صرف اتنا لکھاہوا  تھا: "مـن الـحـسین بن علی بن أبی طالب الى الرجل الفقیه حبیب بن مظاهر اما بعد: یاحبیب، فانت تـعـلـم قـرابتنا من رسول اللّه صلی الله علیه و آله و انت اعرف بنا من غیرك، و انت ذوشیمة و غیرة فلا تبخل علینا بنفسك، یجازیك رسول اللّه صلی الله علیه و آله یوم القیامة"۔  حسین ابن علی ؑ کی طرف سے مردِ فقیہ حبیب بن مظاہر کے نام۔ اما بعد! اے حبیب۔ رسول خدا ﷺ سے ہماری کیا رشتہ داری ہے تم جانتے ہو۔ باقی سب سے زیادہ تم ہماری معرفت رکھتے ہو۔  اور تم ایک اچھے اخلاق کے مالک اور غیرت مند انسان ہو۔ پس ہماری خاطر اپنی جان لٹانے سے دریغ مت کرنا۔ قیامت کے دن رسول خدا ﷺتمہیں اس کا اجر دیں گے۔

اس نے غلام کو حکم دیا کہ "فورا سے پہلے گھوڑا آمادہ کرو اور شہر سے باہر نخلستان کے ساتھ منتظر رہو۔" حبیب اہل وعیال سے خدا حافظی کر کے جب وہاں پہنچے تو دیکھتے ہیں کہ غلام گھوڑے سے مخاطب ہے: "اگر میرا مولا نہ آئے تو تم فکر مت  کرنا، میں خود تجھ پر سوار امام کی مدد کے لیے جاؤں گا۔ تم مجھے ہوا کی رفتارسے  کربلا پہنچانا۔ اےتلوار تم بجلی کی مانند فرزند فاطمہ ؑکے دشمنوں پر برسنا۔" حبیب غلام کی بات سن کر رو  کر کہنے لگے: میرے ماں باپ آپ پر فداہو ں اے ابا عبد اللہ۔ غلام تجھ پر فدا ہونے کو تیار ہیں۔ ہم آزادآپ پر کیوں کر فدا  نا ہوں؟ غلام سے کہا: تم راہ خدا میں آزاد ہو۔ غلام نے قدموں میں پڑ کر کہا: میرے آقا حبیب!کیا آپ چاہتے ہیں خود جنت چلے جائیں اورہم راہی جہنم ہوں؟ میں بھی آپ  کے ساتھ حسینؑ  کی نصرت  کے لیے جانا چاہتا ہوں۔ دونوں ساتھ کربلا کی طرف گامزن ہوئے۔

اس کے سید و سردار نےاسے  آواز دی تھی، لیکن بتایا نہیں تھا مشکل کیا ہے۔  لیکن حبیب،حسین ؑکے بچپن کا ساتھی تھا۔ فورا سمجھ گیاحسینؑ کسی سخت مشکل میں ہیں۔  اور یہ حبیب اور کوفے کے دوسرے سردار ہی تھے جنہوں نے خط لکھ کر حسینؑ  کو کوفہ بلایا. اور جب حسینؑ نے اپنا قاصد بنا کر مسلم بن عقیل کو کوفہ بھیجا تھا حبیب نے مسلم کا بھرپور ساتھ دیاتھا۔ لوگوں سے مسلم کے لیے بیعت لی تھی ۔ [1]

           حبیب کی خواہش تھی وہ ہوا کے دوش پر اڑ کر جلدی سے اپنے آقا کے محضر میں حاضر ہوں۔راستے بھر میں حبیب سوچ رہا تھا میرے مولا پر کونسا ایسا کٹھن وقت آیا ہے کہ ہم غلاموں کو آواز دی ہے؟ یہ سوچ اس کو اندر سے کھائے جا رہی تھی۔ اس کی خواہش تھی کسی طرح کوفہ اور کربلا کا فاصلہ یکدم ختم ہوجائے۔  لیکن یہ کیا آگے سے دشمن نے کوفہ کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔ انسان تو کیا کوفہ سے نکلنے والے ہر ذی روح پر دشمن کی نظر تھی۔ وہ کسی قسم کی امداد کربلا میں حسین ابن علی ؑکے قافلے تک نہیں پہنچنے دے رہےتھے۔لیکن حبیب اس حصار کو توڑ کر کربلا کے لیے نکلنے میں کامیاب رہے۔

کربلا کا یہ عجیب مرحلہ ہے  جہاں ایک طرف حسین ؑاپنے ساتھیوں کو واپس جانے کی اجازت دے رہے ہیں۔ چراغ گل کر کے کہہ رہے ہیں جاؤ۔ جو جانا چاہتا ہے چلے جاؤ ، میری طرف سے کوئی شکایت نہیں۔ میرے اہل بیت کے ایک ایک فرد کا ہاتھ پکڑ کر انہیں بھی ساتھ لے جاؤ۔ یہاں تک کہ جانے والوں کو جنت کی بھی ضمانت بھی دے رہے ہیں۔ لیکن دوسری طرف کچھ لوگوں کو خصوصی طور پر خط لکھ کر حسین بلا رہے ہیں۔ یقینا یہ خاص الخاص اصحاب ہیں جن کی یاد اس مشکل اور کھٹن مرحلے میں حسینؑ کو آرہی ہے۔  حبیب پر حسینؑ  کی خاص نظر ِکرم ہے۔ آپ کے لشکر کے بارہ علم تھے جن میں سے گیارہ پرچم تقسیم کر دئیےگئے۔ ایک پرچم جو رہ گیا تھا ہر ایک کی خواہش تھی وہ علم اسے حاصل ہو۔ لیکن حسین ؑنے فرمایا: میں یہ علم اس کودوں گا جو اسے دشمن کے سینے میں جا کر گاڑھے گا۔ پوچھا گیا مولا وہ شخص کون ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ میرا فخر، طہارت کا عنصر حبیب بن مظاہر ہے، جو بہت جلد میری مدد کو پہنچےگا۔[2]

حبیب مولا امام حسینؑ کے ہی نہیں، مولائے متقیان ؑاور امام حسن مجتبی ؑکے بھی با وفا ساتھی تھے۔حبیب کو پانچ اماموں کی معیت کا شرف حاصل ہے۔ ہر جنگ میں مولا امیر کا ساتھ دیا تھا، اور نتیجےمیں مولا نے کچھ خاص علم تحفے میں حبیب کو دئیے تھے جن میں سے ایک "علم البلایا و المنایا"  بھی تھا جس کے ذریعے مستقبل کے امور دیکھ سکتے تھے۔ کہتے ہیں ایک دن میثم تمار گھوڑے پر سوار گزر رہے تھے، حبیب نے جب میثم کو دیکھا تو دونوں آپس میں باتیں کرنے لگے۔ حبیب نے کہا: جیسے میں ایک بوڑھے شخص کو دیکھ رہا ہوں جس کے سر کے آگے سے بال نہیں ہیں، پیٹ نکلاہوا ہے۔ "دار رزق" کے سامنے وہ خربوزہ بیچتا ہے۔ اسے محبت اہل بیت کے جرم میں تختہ دار پر لٹکایا جائے گا اور اس کا پیٹ پھاڑا جائے گا۔ حبیب کی مراد اس شخص سے میثم تمار تھے۔ میثم نے بھی فورا کہا: میں بھی ایک شخص کو جانتا ہوں جس کا چہرہ سرخ ہے، پیامبر اکرم کے فرزند کی مدد کے لیے وہ نکلے گااور مارا جائے گا اور پھر اس کے سر کو کوفہ کی گلیوں میں پھرایا جائے گا۔ میثم کی مراد حبیب تھے۔ [3]

یہ وہی حبیب ہیں جو کوفہ میں معلم قرآن تھے۔حافظ قرآن تھے اور  بچوں کو قرآن مجید کی تعلیم دیتے تھے۔ قرآن سے حبیب کو خاص انس اور محبت تھی۔ ہر شب قرآن خوانی میں مشغول رہتے۔ہر رات ایک قرآن ختم کرنا ان کا معمول تھا۔  شاید یہ سب کربلا کی تیاری ہی تھی۔ ایک طرف ثانی زہراء حضرت زینب علیا مقام ؑ کوفے کی خواتین کو قرآن کا درس دیتی تھیں تو دوسری طرف حبیب بچوں کو قرآن سکھاتے تھے۔ کل کو جب حبیب اور دوسرے اصحاب کے سر نیزوں پر اٹھا کر کوفہ لائے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ یہ باغیوں کے سر ہیں تو کوفہ کے بچے چیخ اٹھیں گے: "نہیں، یہ باغی نہیں ہو سکتے، یہ تو ہمیں قرآن سکھایا کرتے تھے۔" اور جب خواتین کو اسیر کر کے قافلے کی شکل میں کوفہ لایا جائے گا اور اعلان کیا جائے گا کہ باغیوں کا قافلہ ہے اس وقت کوفے کی خواتین بول اٹھیں گی:"نہیں ، یہ باغی نہیں ہو سکتیں۔ یہ تو ہمیں قرآن کا درس دیا کرتی تھیں۔"

حبیب گھوڑا دوڑاتے ہوئے کربلا کی طرف گامزن تھے۔ ادھر حسینؑ خیمے میں حبیب کے منتظر ہیں۔ ۶ محرم کا دن ہے۔ خیمے کے باہر موجود لوگ دور سے ایک سایہ دیکھتےہیں جو اس طرف بڑھتا چلا آرہا ہے۔ جوں جوں سایہ نزدیک آتا گیا سوار کے چہرے کا خدودخال واضح ہوتا گیا۔ چہ مگوئیاں شروع ہوئیں۔ یہ صدا ثانی زہرا ؑکے کانوں تک جا پہنچی۔ پوچھنے پر بتایا: دختر علؑی، حبیب ہماری مدد کو آیا ہے۔ زینب کبری ؑنے کہا: اس کے استقبال کے لیے جائیے اور میرا سلام حبیب تک پہنچائیے۔حبیب کا دل تڑپ رہا ہے کہ شاید کربلا پہنچنے میں دیر کر دی ہے۔ کسی نے زینب ؑکا سلام حبیب تک پہنچایا۔ حبیب نے اپنا چہرا پیٹا اور  ایک مشت خاک سر پر ڈال کر کہنے لگے: تف ہو مجھ پر ۔ یہ کیسا وقت آگیا ہے کہ بتول زادیاں  ہم غلاموں کو سلام بھیجیں۔[4]

حبیب کی شجاعت بھی قابل دید ہے۔ جب ہر طرف سے یزیدی فوج کے قافلے پر قافلے آتے جا رہے تھے حبیب مولا کے سامنے جا کر دست بستہ عرض کرتے ہیں مولا یہاں قریب میں ہی بنی اسد کا محلہ ہے۔ اجازت دیں میں جا کر ان کو آپ کی نصرت کے لیے بلاتا ہوں۔ مولا نے اجازت مرحمت کی۔ حبیب رات کی تاریکی اوڑ کر بنی اسد کے ہاں جا پہنچا اور لوگوں سے خوبصورت پیرائے میں کہا:"میں تمہارے پاس نہایت اچھی خبر لے کر آیا ہوں۔ تمہارے نبی ﷺکے فرزند کی نصرت کے لیے تمہیں بلاتا ہوں۔ عمر بن سعد نے ان کو گھیر لیا ہے۔ تم لوگ میرے قبیلے کے لوگ ہو۔ میں یہ نصیحت لے کر آیا ہوں۔ اگر میری بات مانو گے تو دنیا اور آخرت کا شرف پاوگے۔ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تم میں سے جو بھی اس راستے میں مارا جائے گا وہ علیین میں حضرت محمدﷺ کے جوار میں ہوگا۔ "[5] حبیب کی متاثر کن خطابت سن کر عبد اللہ بن بشر نے فورا نصرت کی حامی بھری۔ پھر ایک ایک کرکے لوگ آملے اور تعداد نوے تک جا پہنچی۔ حبیب یہ چھوٹا سا قافلہ لے کر حسینؑ کی طرف چلنے لگے۔ لیکن عمر بن سعد کو خبر ہوگئی تھی۔ چار سو کا لشکر بھیج کر عمر بن سعد نے اس قافلے کو روکا۔ آپس میں گھمسان کی جنگ ہوئی ۔ لیکن بنی اسد کے لوگ حسین ابن علی ؑکے خیموں تک نہ پہنچ سکے۔ حبیب بن مظاہر اکیلے شرمندہ حسینؑ کے پاس واپس آگئے۔ خبر سن کر مولا نے صرف اتنا کہا: لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔

اور حبیب کی معرفت ملاحظہ کیجیے۔ شب عاشور حبیب کو یزید بن حصین نے دیکھا کہ آپ ہنستے ہوئے خیمے سے نکل رہے تھے۔ کہا کہ حبیب! یہ کیا ہنسنے کا وقت ہے؟ حبیب نے جواب دیا: خوشی کا اس سے بہتر موقع اور کونسا ہوگا؟ خدا کی قسم بس کچھ ہی لمحے رہ گئے ہیں جب یہ ظالم لوگ اپنی تلواروں کے ساتھ ہم پر پل پڑیں گے اور ہم جا کے حور العین سے گلے لگائیں گے۔ [6]

حبیب کو لشکر کے  میسرہ کا امیر بنایا گیا تھا۔روز عاشور حبیب کی روح بے تاب ہے۔ سینے میں تنگی سی محسوس ہو رہی ہے۔ روح جسم پر بوجھل ہے۔  جتنا جلدی ممکن ہو فرزند زہراء ؑپر اپنی جان لٹانا چاہتے ہیں۔ صبح سے اب تک کئی بار حبیب دشمن پر حملہ آور ہو چکا ہے۔ لیکن ابھی تک اذن ِشہادت نہیں ملا۔ حسین ؑکے لیے بھی عزیز دوست کی جدائی انتہائی سخت ہے۔ اتنے میں دوپہر کی نماز کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ ابوثمامہ صائدی نماز کی یاددلاتے ہیں تو حسینؑ ، حبیب کو بھیجتے ہیں کہ نماز کی مہلت لی جائے۔ حصین بن نمیر ملعون گستاخی کرتا ہے: حسینؑ سے کہو جتنی چاہے نماز پڑھ لو، ان کی نماز درگاہ خداوندی میں قبول نہیں۔" یہ سن کر حبیب کا چہرہ غصے سے لال ہوجاتا ہے۔ شمشیر نکال کر اس کی زبان کاٹنا چاہتے ہیں۔ درگیر ہوجاتے ہیں۔حصین کی مدد کے لیے اس کے ساتھی آجاتے ہیں اوربھیڑیوں کی بھیڑ میں حسین ؑکا شیر گر جاتا ہے۔ ابھی حبیب کے بدن میں کچھ رمق باقی ہی تھی کہ دشمن پیکر مبارک سے سر کو جدا کر لیتے ہیں۔ حسینؑ تیر کی مانند حبیب کی طرف دوڑتے ہیں۔ حبیب کے بے سر لاشے پر بیٹھ کر حسؑین  نوحہ فریاد کرتے ہیں: "للهِ دَرُّکَ يا حَبِيب لَقَدْ کُنْتَ فاضِلاً تَخْتِمُ الْقُرآنَ فِي لَيلَةِ واحِدَة" . اے حبیب! تو کتنا خوش قسمت ہے۔ تم واقعی بافضیلت ہو جو ایک رات میں قرآن ختم کیا کرتا تھا۔ [7]  اور پھرشکستہ دل کے ساتھ نوحہ پڑھتے ہیں: "عِنْدَاللهِ أحْتَسِبُ نَفْسِي وَحُماةَ أَصْحابِي" میں اپنی  اور اپنے اصحاب کی شہادت کا حساب خدا پر چھوڑتا ہوں۔[8]

کربلا میں حبیب کی قبر آج بھی اس بات  پر گواہ ہے کہ وہ باب الحسین  ؑہیں۔ حسینؑ تک پہنچنا ہے تو حبیب سے ہو کر گزرنا پڑے گا۔  سب شہداء سے الگ حبیب کی قبر اس کےخاص  مقام ا ورالگ منزلت کی گواہ ہے۔ حسینؑ   کا دربان بن کر حبیب ہر آنے والے زائر کو قبیلہ بنی اسد کی طرف سے خوش آمدید کہتےہیں اور ہر جانے والے زائر کو الوداع کرتےہیں۔


حوالہ جات:

 

[1] ۔ دیکھیے: مجید مسعودی، سہ رفیق (حبیب بن مظاہر، میثم تمار، رشید ہجری)، انتشارات دلیل ما، چاپ 4، ص 30۔

[2] ۔ دیکھیے: حیاۃ حبیب بن مظاہر، نشر حرم امام حسین، چاپ اول، 1432 ہجری، ص 83.

[3] ۔دیکھیے: شیخ عباس قمی، سفینۃ البحار، ج 2، ص 26، چاپ اسوہ قم، ط ۱، 1414ہجری۔

[4] ۔ دیکھیے: مجید مسعودی، سہ رفیق، ص 43۔اور حیاۃ حبیب بن مظاہر، ص 103۔

[5] ۔ کشی، محمد بن عمر، رجال کشی، ج 1، ص 292،  موسسہ آل بیت قم، 1404 ہجری، اور علامہ مجلسی، بحار الانور، ج 44، ص 387، چاپ دار احیاء التراث العربی بیروت، 1403 ہجری۔

[6] ۔ شیخ عباس قمی، سفینۃ البحار، ص 27۔

[7] ۔ دیکھیے: مجید مسعودی، سہ رفیق، ص 62 سے 67۔

[8]. حیاۃ حبیب بن مظاہر، ص 163۔


ٹیگس: حبیب بن مظاهر, کربلا
+ لکھاری عباس حسینی در 13 Sep 2018 و ساعت 2:54 PM |

اعجازِ قرآن کے پہلو

(دوسراحصہ)

فصاحت و بلاغت کا معجزہ

جس طرح سے خود قرآنی آیات سے واضح ہوتا ہے، قرآن کے اعجاز کا ایک پہلو اس کتاب کی فصاحت اور بلاغت ہے۔

فصاحت اور بلاغت کا معنی:

فصاحت لغت کے اندر واضح اور آشکار ہونے کے معنی میں ہے۔ اہل ِ ادب کی اصطلاح میں یہ لفظ(کلمہ) کا وصف ہے جس میں وہ لفظ روان ہوتا ہے، اس کا تلفظ آسان ہوتا ہے اور سننے میں دشوار محسوس نہیں ہوتا۔

جبکہ بلاغت لغت کے اندر کسی چیز کے پہنچنے کے معنی میں ہے۔ (مثلا بلغ العلی بکمالہ، یعنی بلندی اپنے کمال تک پہنچ گئی)۔ اصطلاح میں بلاغت یہ ہے کہ وہ معنی جو متکلم کے مد نظر ہے، مقام  اور حالت و شرائط کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بہترین اور مناسب ترین الفاظ میں، خوبصورت ترین اور بہترین موسیقی والی عبارات کے ساتھ اس طرح  بیان کیا جائے کہ اس حالت میں اور اس زمان و مکان کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے اس سے بہتر انداز میں اس کا بیان ممکن نہ ہو۔

کسی بھی عبارت کی موسیقی کا اس کی روانی اور لوگوں پر اثر انداز ہونے میں بڑا کردار ہے۔  قرآن کے نزول سے لے کر اب تک اس کی مخصوص موسیقی کی طرف خاص توجہ رہی ہے۔ یہاں تک کہ قرآن کے مخالفین اور دوسرے ادیان کے لوگ بھی اس کی طرف متوجہ ہوئے ہیں۔ اسی طرح عرب کے بڑے بڑے ادیبوں نے صدرِ اسلام سے لے کر اب تک اس کی فصاحت اور بلاغت کے مافوقِ بشر ہونے کی گواہی دی ہے اور یہ بات اس کتاب کے الہی ہونے کی بہترین دلیل ہے۔ قرآن کی بعض آیات بھی اعجاز کے اس پہلو کی طرف خاص طور پر اشارہ کرتی ہیں۔

چیلنج(تحدی) والی آیات اور فصاحت و بلاغت میں قرآن کا معجزہ

اگرچہ چیلنج والی آیات میں یہ واضح طور پر بیان نہیں ہوا کہ قرآن کا معجزہ فصاحت و بلاغت میں ہے، لیکن ان آیات میں کچھ دقت سے پتہ چلتا ہے کہ اعجاز کا یہ پہلو اس بات سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے کہ ہر دور کا معجزہ اس زمانے کے علوم وفنون کے مطابق آیا ہے۔ (اور پیامبر اکرمﷺکے دور کے عرب، فصاحت و بلاغت کے میدان کے شہسوار تھے۔) اسی لیے تمام اصحاب، علماء اور محققین نے ان آیات سے یہی سمجھا ہے کہ قرآن کے اعجاز کا کم از کم ایک پہلو اس کی فصاحت و بلاغت ہے۔

الف) جو بھی نبی معجزہ لے کر آئے، وہ اپنے زمانے کےحالات کے مطابق اور اس دور میں رائج علوم و فنون کے  مشابہ معجزات لے کر آئے، تاکہ وہ اپنے دعوی کو واضح ترین اور بہترین شکل میں ثابت کر سکیں۔ بطور مثال، حضرت موسی علیہ السلام کے دور میں جادوگری اپنے اوج پر پہنچی ہوئی تھی۔ لہذا آپ کو ایسا معجزہ عطا ہوا جو سحر اور جادو سے مشابہ تھا۔ آپ اپنے عصا کو خدا کے اذن سے اژدھے میں تبدیل کرتے تھے۔ حضرت عیسی علیہ السلام کے دور میں طبابت کافی ترقی کر چکی تھی، لہذا آپ کا معجزہ یہ تھا کہ آپ  اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کرتے تھے اور مادر زاد اندھوں کو شفا عطا کرتے تھے۔ اس لحاظ سے، قرآن کے نزول کے وقت عرب معاشرے میں فصاحت و بلاغت کا دور دورہ تھا۔ شعر و نثر کے معجزاتی فن پارے اس دور میں ایجاد ہوئے اور ان میدانوں میں آپس میں مقابلے ہوا کرتے تھے۔ لہذا  اس دور کا تقاضا یہ تھا کہ آپﷺ کو فصاحت و بلاغت کا معجزہ عطا ہوتاکہ آپ ﷺ اپنے مخاطبین کو اس حوالے سے چیلنج کر سکیں۔

ب) دوسری طرف سے دیکھیں تو، پیامبر اکرمﷺ کے مخالفین نے اور  آپﷺ کے بعد  کے جھوٹے مدعیان نبوت نے قرآن کے اسی پہلو میں اس کے مقابلے کی کوشش کی ہے۔ وہ نمونے جو یہ لوگ لے  آئے  ان میں کوشش کی گئی تھی اس کی شکل و صورت اور جملہ بندی قرآن کی طرح ہوں۔ یا جہاں پر مخالفین نے قرآن کی مثل لانے سے عجز کا اظہار کیا ہے وہاں اسی پہلو یعنی قرآن کی فصاحت و بلاغت کی طرف ہی اشارہ کیا ہے۔ پیامبر اکرمﷺ کی طرف شاعری کی نسبت دینا بھی اسی بات پر دلالت کرتا ہے وہ اس کلام کے فصاحت و بلاغت ہی سے متاثر تھے۔

ج) جن لوگوں کو قرآن نےاپنے نزول کے وقت چیلنج کیا تھا اور جو لوگ قرآن کے سب سے پہلے مخاطب تھے وہ ثقافتی  و فکری اور دوسرے امور کے حوالے سے جو قرآن کے اعجاز کے حوالے سے کہے گئے ہیں، اتنے ترقی یافتہ نہیں تھے تاکہ ہم کہہ سکیں کہ جن آیات میں چیلنج کی بات کی گئ ہے وہاں قرآن کے محتوی اور مطالب کے لحاظ سے ان کو چیلنج کیا گیا ہے۔ بلکہ ان کے مد نظر فصاحت و بلاغت تھی اور اس وقت کی عرب تہذیب میں یہی پہلو سب سے نمایاں تھا۔

د) قرآن کی مختلف آیات میں جہاں تحدی اور چیلنج کی بات ہوئی ہے وہاں قرآن کی مثل یا اس جیسا کلام(حدیث) یا اس جیسی سورت لانے کی بات ہوئی ہے۔ کسی اور کلام کے قرآن کی مثل ہونے کے حوالے سے جو بات مفسرین اور علم کلام کے ماہرین کے نزدیک یقینی ہے اور جو شرائط مدنظر ہیں ان میں سے ایک یقینی طور پر بلاغت ہے۔  لہذا کہتے ہیں کہ قرآن سے بلیغ یا قرآن کی بلاغت کے برابر کسی کلام کا لانا انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔

کوشش کرنے والوں کی ناکامی

قرآن کے مخالفین، قرآن کے مقابلے میں جو کلام لے آتے رہے ہیں وہ قرآن کی فصاحت و بلاغت سے اس قدر دور ہیں کہ عربی ادب سے آشنا کوئی بھی شخص ان دو کلاموں کے فرق کو نہایت آسانی کے ساتھ درک کر سکتا ہے۔ مثلا بطور نمونہ، 1912 میں مصر میں  امریکی-بریطانی چھاپ خانہ بولاق نے قرآن کے مقابلے میں کچھ صفحات رسالہ "حسن الایجاز" کے نام سے چھاپے اور یہ دعوی کیا گیا کہ سورہ حمد میں فصاحت و بلاغت کے حوالے سے خلل ہے اور ممکن ہے اس سے بہتر سورت لائی جائے جس میں اختصارکے ساتھ وہی معانی بیان کیے گئے ہوں۔ جو نمونہ انہوں نے پیش کیا وہ یہ ہے:

الحمد للرحمن رب الأكوان الملك الديان لك العباده و بك المستعان اهدنا صراط الإيمان...

یہاں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ سب سے پہلے انہوں نے بسم اللہ کو ہی حذف کیا ہے جوکہ اس سورے کی پہلی آیت ہے اور اس آیت میں جو فصاحت و بلاغت ہے اس سے صرف نظر کیا گیا ہے۔

اکثر مقامات پر آپ دیکھتے ہیں کہ قرآنی الفاظ کو قرآن ہی کے کچھ دوسرے الفاظ کے ساتھ تبدیل کیا گیا ہے۔ مثلا لفظ "اللہ" کی جگہ لفظ "رحمن" رکھا گیا ہے۔ لفظ رحمن وہ مطلب اور معنی ادا نہیں کر سکتا جو لفظ اللہ بیان کرتا ہے۔ اور پھر قرآن مجید نے لفظ اللہ کے بعد رب العالمین، رحمن و رحیم اور مالک یوم الدین کی صفات کے ساتھ اس حمد کی علت بھی بیان کی ہے جس کا تذکرہ آیت کے شروع میں ہے۔ کسی بھی چیز کی تعریف یا اس کے ذاتی کمالات کی وجہ سے ہے، یا اس کی نعمتوں کے شکریے کے انجام کے طور پر ہے، یا آئندہ آنی والی نعمتوں کی امید میں ہے یا اس کی سزاوں  اور سختیوں کے خوف سے ہے۔ لفظ اللہ پہلی علت کی طرف، رب العالمین دوسری، رحمن و رحیم تیسری اور مالک یوم الدین چوتھی علت اور وجہ  کی طرف اشارہ ہے۔ پس انسان کی طرف سے حمد اور تعریف کی وجہ جو بھی ہو، اللہ تعالی لائق حمد و تعریف ہے، بلکہ تمام حمد و تعریف درحقیقت خدا کے ساتھ مختص ہے۔ پس اختصار کی خاطر ان میں سے کسی ایک لفظ کو بھی کم کرنے سے معنی میں خلل پڑتا ہے۔

اسی طرح ہر جملے میں غور کرنے والے کے لیے واضح ہے کہ اس انسانی نمونے میں قرآن کی نسبت فصاحت و بلاغت کے خلل کے علاوہ معانی کا خلل بھی ہے اور بہت سارے معانی جو قرآنی آیات بیان کر رہی ہیں ان سے صرف نظر کیا گیا ہے۔ یہاں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن جیسا کلام لانا کسی بشر کے بس کا کام نہیں۔ یہ نمونہ اس کی واضح مثال ہے۔

(استفادہ از استاد مصباح یزدی، کتاب"قرآن شناسی"، تلخیص وترجمہ: سید عباس حسینی)

(نوٹ: جو کچھ اس مضمون میں لکھا گیا ہے مترجم کا فہم ہے۔  کسی بھی مطلب کی نسبت استاد مصباح کی طرف دینے سے پہلے اصل کتاب دیکھ لی جائے۔)


ٹیگس: مصباح یزدی, اعجاز قرآن
+ لکھاری عباس حسینی در 13 Sep 2018 و ساعت 1:4 AM |

اعجازِ قرآن کے پہلو

(حصہ اول)

قرآن کے مطالب میں اختلاف کا نہ ہونا

 

جو لوگ قرآن کے معجزے کو خود اس کتاب کے اندر دیکھتے ہیں ان کا آپس میں اس بات پر اختلاف ہے کہ قرآن کیسے اور کس حوالے سے معجزہ ہے؟ اکثر قدیم محققین نے قرآن کے اعجاز کو اس کی بلاغت و فصاحت میں منحصر کیا ہے اور اس کے علاوہ باقی تمام وجوہات اور پہلووں کی نفی کی ہے۔ مقابلے میں بعض نے کہا ہے کہ قرآن تمام جہات میں معجزہ ہے اور قرآن کے اعجاز کی وجوہات نا متناہی ہیں۔ جبکہ بعض نے اعجازِ قرآن کے لیے متعدد اور محدود وجوہات اور پہلو بیان کیے ہیں۔

البتہ یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم خود قرآن سے پوچھیں کہ وہ اپنے آپ کو کس جہت سے معجزہ سمجھتا ہے؟ یہاں ہم صرف ان وجوہات کا تذکرہ کریں گے جن پر خود قرآن کریم کی تاکید ہے۔

قرآن کا معجزہ: اختلاف کا نہ ہونا

قرآن کا کہنا ہے کہ یہ کتاب اگر کسی غیر خدا کی طرف سے ہوتی تو آپ اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔ (أفَلا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَ لَوْ كانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلافاً كَثِيراً)۔(نساء:82)

قرآن کے مطالب کا آپس میں ہم آہنگ ہونا اور ان میں عدمِ اختلاف تین مقدماتی باتوں پر مبنی ہے۔

۱۔ قرآنی آیات محتوا اور مطالب کے حوالے سے اور اسی طرح بلاغت کی سطح کے اعتبار سے آپس میں مکمل طور پر ہم آہنگی رکھتی ہیں۔

۲۔ ان دو باتوں میں آپس میں شدید ارتباط ہے کہ اگر کوئی کتاب کسی انسان کی طرف سے ہو تو اس میں یقینا بے شمار اختلافات ہوں گے اور اس کے مطالب میں ہم آہنگی کی کمی ہوگی۔

۳۔ قرآنی آیات میں تدبر کے ذریعے اس کے اندر موجود ہم آہنگی اور عدمِ اختلاف کو ہم کشف کر سکتے ہیں۔

قرآن کی تمام آیتوں کا آپس میں ہم آہنگ ہونا:

اس موضوع پر ہم تین طریقوں سے بحث اور اسے ثابت کر سکتے ہیں۔

۱۔ عقلی راہ:

عقلی برہان اور دلیل کے ذریعے ثابت کریں کہ پورا قرآن آپس میں مربوط اور ہم آہنگ ہے۔ مثال کے طور پر اس بیان اور برہان پر غور کریں۔

قرآن کے نزول کا سبب یہ ہے کہ انسان کی ابدی سعادت اور خوشحالی کی طرف بہترین طریقے سے  رہنمائی اور ہدایت ہو۔ اب اگر قرآنی آیات کا آپس میں اختلاف  ہو  تو یہ اس غرض اور ہدف کے منافی ہے اور اس کا مطلب یہ ہوگا کہ قرآن اپنے ہدف اور غرض میں ناکام ہے۔ اور پھر دوسری طرف سے ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالی حکیم ہے اور اپنے ہدف کو توڑنا اور اس کے خلاف کام کرنا حکیم کی حکمت کے خلاف ہے۔ پس نتیجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن کو اس طرح سے نازل کیا ہے کہ اس کی آیات آپس میں مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں۔

البتہ واضح ہے یہ دلیل ان لوگوں کے لیے مفید ہے جو خداوند متعال کی حکمت اور قرآن کے نزول کے ہدف کو پہلے سے مانتے ہوں۔

2۔ قرآنی آیات میں تناسب کی جانچ پڑتال

دوسرا راستہ یہ ہے کہ تمام قرآنی آیتوں کی جانچ پڑتال کی جائے تاکہ ان میں تناسب یا عدم تناسب ثابت ہو۔ یہ راستہ اگرچہ طویل ہے اور اس میں بہت زیادہ مشقت چاہیے لیکن اس کا نتیجہ سب کے لیے قابل قبول ہوگا۔ اگرچہ مفسرین اور قرآنی علوم کے ماہرین نے اس حوالے سےبہت زیادہ کام کیا ہے اور قرآنی آیات کے تناسب کو ثابت کیا ہے، لیکن اس حوالے سے مزید کام کی ضرورت ہے۔

۳۔ قرآن کے اوصاف میں تدبر

قرآن کی بعض صفات کہ جن کی طرف قرآن نے اشارہ کیا ہے اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اس کتاب کی تمام آیتیں آپس میں مربوط اور ہم آہنگ ہیں۔ مثلا قرآن نے اپنی آیات کے حوالے سے "مثانی" اور "متشابہ" ہونے کی بات کی ہے۔ یا مثلا قرآن نے اس کتاب کے لیے "حق" اور "صدق" کی صفات کا تذکرہ کیا ہے۔ پس ان تمام صفات کا نتیجہ یہ ہے کہ قرآنی آیات آپس میں ہماہنگ اور مشابہ ہیں جو ایک دوسرے کی تائید کر رہی ہوتی ہیں۔ اسی طرح قرآن کے دعوی کے مطابق اس کی تمام باتیں حق اور صدق ہے پس اس کی آیات میں آپس میں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں۔

یہاں یہ نکتہ اہم ہے کہ قرآن اپنی حقانیت اور اعجاز کے اثبات کے لیے اس بات پر زور دیتا ہے کہ قرآن میں اختلاف نہیں۔ لہذا اس حوالے سے تمام آیات کے درمیان ہم آہنگی ثابت کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ اگر آیات کے درمیان اختلاف کا نہ ہونا ثابت ہو بس یہی کافی ہے۔ چونکہ اگر قرآن کسی بشر کی طرف سے ہوتا تو ضرور اس کے مطالب میں اختلاف ہوتا اور ہم آہنگی کی کمی ہوتی۔

اب جو لوگ قرآن کی اس خصوصیت کے منکر ہیں ان کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ قرآن سے ایسی مثالیں ڈھونڈ لائیں جن میں اس طرح سے اختلاف ہو کہ جن کو جمع کرنا اور جن کا دفاع کرنا ممکن نہ ہو۔ اگرچہ بعض منکرین نے اس طرح کی چند آیتوں کو جمع کیا ہے لیکن قرآنی علوم کے ماہرین نے ان آیات کے فہم کے حوالے سے ان کی غلطی کی نشاندہی کی ہے۔

 

قرآن اگر کسی انسان کی طرف سے ہوتا تو اس کے مطالب میں اختلاف ضرور ہوتا

اختلاف، اتفاق کی ضد ہے اور ہر اس مورد کو شامل ہے جس میں قرآنی آیات کے درمیان ہم آہنگی نہ ہو۔ مثلا قرآن مجید نے انسانوں کی زبانوں اور رنگوں میں اختلاف کی طرف اشارہ کیا ہے۔ چونکہ سب کی زبان اور رنگ ایک جیسے نہیں ہیں، پس اختلاف ہے۔  قرآن نے جب اپنے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ اس کے محتوی اور مطالب میں کسی قسم کا اختلاف نہیں تو ہر قسم کے اختلاف کی اس نے نفی کی ہے، چاہے یہ اختلاف تناقض کی صورت میں ہو یا تضاد کی صورت میں، یا آیات کے درمیان ایسی مناسبت کا نہ ہونا ہو جو تناقض پر منتہی ہو۔ یا اسی طرح اختلاف کا ایک مورد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بعض آیات فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے اعجاز کے مرتبے سے کمتر ہوں جبکہ دوسری آیات معجزہ ہوں۔ یہاں اس بات کی بھی نفی کی گئی ہے۔

آیت میں قرآن کے بشری ہونے اور اس میں اختلاف ہونے کے درمیان تلازم بیان کیا گیا ہے۔ یعنی اگر ان خصوصیات کی حامل کتاب  کسی انسان کی طرف سے ہوتی اس میں یقینا اختلافی موارد بہت زیادہ پائے جاتے۔

یہاں انسان کی خصوصیات اور اس کتاب کی خصوصیات کے حوالے سے الگ سے بحث کرنے کی ضرورت ہے۔

انسان کی خصوصیات:

انسان کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی میں آہستہ آہستہ کمال کے زینے طے کرتا ہے۔ جب اس دنیا میں آتا ہے اس وقت اس میں کسی قسم کا کمال نہیں ہوتا (سوائے فطری استعداد اور صلاحیت کے)۔ اور پھر آہستہ آہستہ کمالات کسب کرنا شروع کر دیتا ہے۔ کمال کے اس سفر میں انسان آگاہی، علوم، قدرت و توانائی، مہارت اور مختلف عادتوں اور خصلتوں کو کسب کرتا ہے۔ اس علمی اور عملی سفرکے مختلف مراحل میں  انسانی کمالات کے فرق کو ہم ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

انسان کا دوسروں سے متاثر ہونا اور غلطی کی گنجائش دو ایسی خصوصیات ہیں جن کی بنا پر اس کے آثار اور تالیفات میں اختلافات ایجاد ہو سکتے ہیں۔ انسان اپنے اندرونی اور بیرونی ماحول اور شرائط سے متاثر ہوتا رہتا ہے اور اس حوالے سے انسان پر اثر انداز ہونے والے عوامل بھی بے تحاشہ ہیں جن کے سبب انسانی آثار میں اختلاف ہونا فطری امر ہے اور وہ بعض دفعہ متناقض باتیں بھی کر جاتا ہے۔ اور ممکن ہے بعض دفعہ متاثر ہونے کا یہ عمل اس طرح سے انجام پائے کہ خود اس شخص کو احساس تک نہ ہو۔ اسی طرح انسان میں غلطی کی گنجائش وہ عامل ہے جس کے تحت انسان جب بعد میں اپنی غلطی کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو وہ اپنی پہلی بات کے خلاف دوسری بات کر جاتا ہے۔ ایک بات جو پہلے خلاف فطرت کی تھی، متوجہ ہونے پر اور حالات کی تبدیلی کی وجہ سے متوجہ ہوئے بغیر اب فطرت کے تقاضوں کے مطابق بات کرتا ہے۔ اسی طرح انسانوں کی صلاحیت اور استعداد ایک دوسرے سے فرق کر جاتی ہے۔ ہر انسان کسی خاص میدان میں دوسروں کی نسبت بہتر استعداد رکھتا ہے۔ لہذا جس میدان میں انسان کی استعداد بہتر ہو اس میں بہتر انداز میں لکھ سکتا ہے۔ کمالات کے حصول میں بھی انسان کی استعداد محدود ہے اور ہر انسان ایک خاص حد تک کمالات کسب کر سکتا ہے۔ تمام کمالات کو اس کی بہترین سطح میں حاصل کرنا انسان کے لیے ممکن نہیں۔ پس ہر فرد چند ایک مخصوص کمالات کے حامل ہوتا ہے اور صرف بعض کمالات میں وہ بلندیوں کو چھو سکتا ہے۔ یہ امر سبب بنتا ہے کہ ہر انسان اسی خاص میدان میں بہتر انداز میں لکھ سکے جس میں اس کا کمال ہے، جبکہ جس میدان میں کمال کی کمی ہے اس میں اس کا اثر بھی متفاوت ہوگا۔

خلاصہ کلام یہ کہ انسان کا تدیجی طور پر کمال کے مراحل طے کرنا، انسان میں غلطی کی گنجائش، انسان کا دوسرے انسانوں اور اپنے گرد کے ماحول سے متاثر ہونا، انسانوں کے درمیان استعداد اور صلاحیت کا فرق، انسان کے اندر کمال کے حصول کے حوالے سے موجود محدودیت وہ بعض خصوصیات ہیں جوہمیشہ انسان کے ساتھ ہیں، اور ان میں سے ہر ایک سبب بنتا ہے کہ انسان کے آثار اور تالیفات(خصوصا فکری اور علمی میدان میں) آپس میں ہم آہنگ نہ ہو اور ان میں اختلاف موجود ہو۔

قرآن کی خصوصیات:

قرآن کے نزول کی مدت اور اس دوران پیش آنے والے حالات و واقعات کچھ ا س طرح سے ہیں کہ اگر یہ کتاب کسی بشر کی طرف سے ہوتی تو ضرور اس کے مطالب میں اختلاف ہونا چاہیے تھا۔ یہ وہ کتاب ہے جو ۲۳ سال کے عرصے میں رسول خداﷺ کی طرف سے لوگوں کو سنایا گیا۔ قرآن کا نزول تدریجی تھا۔ پس اگر کسی بشر کی طرف سے ہوتا تو انسان کے تکامل تدریجی کے آثار اس میں نظر آنے چاہیے تھے۔ دوسری طرف سے ان ۲۳ سالوں میں پیامبر اکرمﷺ کو مختلف قسم کے فردی، اجتماعی، اقتصادی اور سیاسی حالات سے گزرنا پڑا ہے۔ قرآنی آیات سفر کے دوران، حضر کے اندر، جنگ کے وقت، صلح کے دوران، عام حالات میں، بحرانی کیفیات میں آپ پر نازل ہوتی رہیں اور آپ لوگوں تک یہ پیغام پہنچاتے رہے۔ یہ سب وہ عوامل ہیں جن کے سبب اگر اس کتاب کا لانے والا کوئی عام انسان ہوتا تو اسے ان شرائط اور حالات سے متاثر ہونا چاہیے تھا۔ تیسری طرف سے دیکھا جائے تو اس کتاب میں مختلف مسائل اور متعدد موضوعات سے بحث کی گئی ہے۔ اس میں فلسفی، اعتقادی، اخلاقی، اقتصادی، عرفانی، اجتماعی اور دسیوں دوسرے موضوعات بیان کیے گئے ہیں۔ انسانوں کی صلاحیتوں کے فرق اور اس کی استعدادی محدودیت کو دیکھتے ہوئے  کسی انسان کے لیے ان تمام موضوعات میں بات کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک طرف بیان و ادب اور تحریر و تقریر میں ماہر ہو اور دوسری طرف مطالب کے اعتبار سے ان تمام موضوعات اور مسائل پر دسترس رکھتا ہو۔ اور ایک عام انسان کے لیے ایسا ہونا ممکن نہیں ہے اوران تمام موضوعات میں بحث کرنے کی صورت میں  اس کے مطالب میں اختلاف اور ہم آہنگی کی کمی حتمی امر ہے۔

 

دلیل کا خلاصہ:

یہاں تک جتنے مطالب گزر گئے ان کی روشنی میں ہم اس قرآنی آیت(نساء:82)کے معنی کو واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کا ذکر اس بحث کے شروع میں ہوا ہے۔  اس دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ:

کسی عام انسان کے لیے، جس کی یہ خصوصیات ہوں اور جس کی استعداد محدود ہو، مذکورہ شرائط اور حالات میں، ان  خصوصیات کی حامل کتاب کا لانا ، جبکہ اختلاف پیدا کرنے والے عوامل فراوان ہوں۔۔۔

اس بات کا حتمی لازمہ اور نتیجہ یہ ہے کہ اس انسانی کتاب کے اندر اختلاف ہو، ہم آہنگی کی کمی ہو۔

لیکن قرآن کریم میں ہم کسی قسم کا اختلاف نہیں پاتے، اس کے مطالب بیان کے حوالے سے بھی اور محتوی کے حوالے سے بھی آپس میں مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں۔(بعض آیات کے درمیان  جو ظاہری اختلاف ہے وہ ان میں غور اور دقت کرنے سے ختم ہوجاتا ہے اور ان میں موجود ہم آہنگی واضح ہوجاتی ہے۔)

پس قرآن کریم کسی انسان کی طرف سے نہیں ہے۔ بلکہ یہ کتاب اللہ تعالی کی طرف سے ہے اور معجزہ ہے کہ جس کی مثال لانا کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔

(استفادہ از استاد مصباح یزدی، کتاب"قرآن شناسی"، تلخیص وترجمہ: سید عباس حسینی)

(نوٹ: جو کچھ اس مضمون میں لکھا گیا ہے مترجم کا فہم ہے۔  کسی بھی مطلب کی نسبت استاد مصباح کی طرف دینے سے پہلے اصل کتاب دیکھ لی جائے۔)


ٹیگس: مصباح یزدی, اعجاز قرآن
+ لکھاری عباس حسینی در 28 Aug 2018 و ساعت 12:10 PM |