واقعہ کربلا : مختصر دفاعی تجزیہ
[سید عباس حسینی]
(مجلہ سفیر روحانیت زیر اہتمام جامعہ روحانیت بلتستان شمارہ ۲، ۲۰۱۵ء، ص ۱۹ - ۲۳ چھپا مضمون)
کسی بھی واقعہ یا حادثہ کو دیکھنےاور پھر تجزیہ کرنے کے مختلف زاویے ہوسکتے ہیں جن میں سے ہر ایک اس واقعہ کے کسی نئے رخ یا نئی جہت کو ہم تک پہنچا رہا ہوتا ہے۔ واقعہ کربلا تاریخ کا وہ عظیم واقعہ ہے جو اگرچہ مدتِ زمان کے لحاظ سے دیکھا جائے تو نصف روز یا زیادہ سے زیادہ ایک دن کی مدت پر پھیلا واقعہ ہے[1] لیکن اپنے اثرات اور نتائج کے حوالے سے تاریخ کا منفرد اور بے نظیر واقعہ ہے جو ہمیشہ کے لیے امر ہوگیا ہے۔ اس عظیم واقعہ کو بھی مختلف جہتوں سے مطالعہ کیا جا سکتا ہے، جن میں سے ایک اہم جہت دفاعی پہلو ہے کہ اگر کوئی دفاعی تجزیہ نگار اس جنگ کو خالص جنگی اصولوں پر پرکھنا چاہے تو کیا نتائج اخذ ہوں گے؟ طرفین میں سے ہر ایک نے اس جنگ کو جیتنے کے لیے کیسے منصوبہ سازی کی؟ افراد اور اسلحے کے لحاظ سے طرفین کی صورت حال کیا تھی؟ کیسے جنگ کے مراحل طے ہوئے؟ اور کیسے جنگ کا خاتمہ ہوا اور نتائج واثرات کیا نکلے؟
امام حسین علیہ السلام کی فوج اور آپ کی پالیسی:
امام عالی مقام کی فوج اور جنگی پالیسیوں کا جائزہ چند نکات میں لیا جا سکتا ہے:
فوج کی تعداد: حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ لڑنے والے سپاہیوں کی تعداد مشہور کے مطابق ۷۲ ہے۔[2] جبکہ دشمن کی تعداد مشہوریہی ہے کہ ۲۵ سے ۳۰ ہزار تھی۔ دفاعی حوالے سے صرف تعداد کو مد نظر رکھ کر تجزیہ کیا جائے تو ۷۲ کا ۲۵۰۰۰ سے کوئی مقابلہ بنتا نہیں۔ لہذا اس جنگ کا فیصلہ شایدعام تجزیہ نگار تعداد دیکھ کر ہی فورا کر لے۔ لیکن خدا کا قانون الگ ہے اور تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ بسا کم تعداد بہت بڑی تعداد پر غالب آتی ہے۔[3] کمیت معتبر نہیں، کیفیت مہم ہے۔ جنگ بدر کا نتیجہ بھی ہمارے سامنے ہے کہ جب ۳۱۳ نے ایک ہزار کا غرور خاک میں ملایا تھا۔ کربلا میں بھی ۷۲ باوفا جان نثاروں کے خوف سے ہزاروں کی پیشانیوں پر پسینے چھوٹے تھے۔
ایک عجیب تاریخی فوج: عام طور پر فوج میں بھرتی ہونے والے سپاہی کے لیے کڑی شرائط رکھی جاتی ہیں۔ چوڑا سینہ، لمبا قد، جسمانی فٹنس سے لے کر عمر کی حد سب چیزیں دیکھی جاتی ہیں۔ لیکن امام حسین علیہ السلام کی فوج عجیب قسم کی فوج ہے جس میں ہر عمر کے سپاہی ہیں۔ چھے ماہ کا ننا سپاہی علی اصغر سے لےکر اسی سال کے بوڑھے تک۔ جبکہ طرف مقابل میں سارے سپاہی قد وکاٹھ کے ساتھ اکثریت جوانوں پر مشتمل ہے اور دفاعی ساز وسامان سے لیس ہیں۔دفاعی حوالوں سے دیکھا جائے توان کا کوئی مقابلہ بنتا نہیں ہے۔ لیکن آسمان نے وہ عجیب منظر ملاحظہ کیا جب کربلا کے چھے ماہہ علی اصغر نے بھی دشمن کی فوج میں ہل چل مچا دی۔ اصحاب میں سے ہر ایک نے شجاعت کے وہ جوہر دکھائے کہ فلک پر فرشتے بھی عش عش کر اٹھے۔ اسی لیے امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: میرے اصحاب جیسے اصحاب نہ میرے بابا کو ملے اور نہ میرے بھائی کو۔ ان سے بہتر اصحاب میں نے نہیں دیکھا۔ اسی طرح میری اہل بیت سے بہتر اور نیک اہل بیت بھی میں نے نہیں دیکھا۔ [4]
ایک عجیب فیصلہ: جنگ جب سر پر ہو تو کوئی بھی سپہ سالار اپنے سپاہیوں کو واپس جانے کی اجازت نہیں دیتا۔ طارق بن زیاد نےاندلس کی جنگ میں اس خوف سے کہ سپاہی واپس بھاگ نہ جائیں کشتیاں جلا دی تھیں۔ جبکہ کربلا میں اامام عالی مقام سب ساتھیوں کو واپس جانے کی اجازت دے رہے ہیں۔ بیعت اٹھانے کی بات کر رہے ہیں۔ایک دفعہ عمومی اجازت دی ا ور کہا: "میں نے تم لوگوں کو اجازت دے دی، تم سب لوگ چلے جاؤ، میری طرف سے تمہارے اوپر کوئی ذمہ داری بھی نہیں۔ یہ رات کا اندھیرا ہے اس کا سہارا لے کر نکل جاؤ۔" یہ بھی کہا: "تم میں سے ہر ایک میرے اہل بیت میں سے ایک فرد کا ہاتھ تھام لے کر ساتھ لے چلو، اور اپنے شہروں کو واپس چلے جاؤ۔" بعض کے نام لے کر خصوصی اجازت بھی دی۔ حضرت عقیل کی اولاد کو مخاطب کر کے کہا: "اے عقیل کے بیٹے، مسلم کی شہادت تمہارے لیے کافی ہے۔ تم لوگ چلے جاؤ ، میں نے تمہیں اجازت دی۔"[5]
دفاعی حوالے سے یہ بات خلاف عقل ومنطق دکھائی دیتی ہے۔لیکن امام عالی مقام نے سب اصحاب کو فیصلہ کرنے کا اختیار دیا۔ بغیر کسی جبر اور لالچ کے،سوچ سمجھ کر، امام وقت کا ساتھ دیتے ہوئے ، موت کا راستہ اختیار کرنے کی وجہ سے اصحاب کا رتبہ اور بلند ہوا اور سب نے انتہائی خلوص سے فداکاری کے جوہر دکھائے۔ یقینا اگر مجبوری کی حالت میں امام کا ساتھ دیتے تو ایسا نتیجہ ہرگز نہیں نکلتا۔
اخلاقِ جنگی: جنگ میں عام طور پر دشمن کو زیر کرنے کے لیے ہر قسم کے اسلحے، حیلے بہانے اور مکر وفریب سے استفادہ کیا جاتاہے۔ دشمن کا پیاسا لشکر جب حر بن یزید ریاحی کی قیادت میں امام کا راستہ روکنے پہنچا تو آپ اس موقعہ سے استفادہ کر سکتے تھے۔ لیکن آپ نے دشمن کے سپاہیوں کو حتی ان کے جانوروں کو بھی پانی پلایا۔ [6]جنگی تکنیک کے حوالوں سے یہ بھی خلاف منطق ہے۔ لیکن یہ تو صفین والے امام کے فرزند ہیں جنہوں نے بھی لشکرِ معاویہ کی طرف سے پانی بند کرنے کے باوجود جب نہر پر آپ کا قبضہ ہوا تو پانی بند کرنے سے انکار کیا تھا۔ ان کا تعلق اس خاندان سے ہے جو انتہائی سخت حالات میں بھی اخلاقی اصولوں کا خیال رکھتے ہیں۔ کبھی بھی اپنے ہدف کے حصول کے لیے پست طریقوں سے استفادہ نہیں کرتے۔
جنگی ٹیکنیک: امام عالی مقام جس وقت کربلا پہنچے ہیں سب سے پہلے آپ نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ کسی ایسی جگہ کا انتخاب کیا جائے جہاں سے دشمن کا مقابلہ کرنا آسان ہو، جہاں دشمن پشت کی طرف سے حملہ نہ کر سکے۔ اصحاب نے کہا کہ "ذو حسم" کا علاقہ ایسا ہی ہے، لہذا آپ نے جلدی سے اپنے کاروان کو "ذو حسم" پہنچایا اور خیمہ زن ہوگئے۔ [7] اسی طرح روز عاشور بھی امام عالی مقام نے جنگ سے پہلے خیموں کے گرد خندق کھودنے اور اس میں آگ لگانے کا حکم دیا۔[8] چونکہ علم تھا دشمن بہت پست قسم کے لوگ ہیں، اور خیموں پر پیچھے سے حملہ کرسکتے ہیں۔ دفاعی حوالے سے یہ انتہائی اہم قدم تھا۔ چونکہ اگر ایسا نہ کرتے تو آپ کی فکر ہمیشہ خیموں کی طرف اور مخدرات عصمت کی طرف ہوتی اور لڑائی متاثر ہوتی۔ خندق کھود کر اور اس میں آگ لگا کر آپ بہت حد تک مطمئن ہو کر دشمن کا مقابلہ کرنے چلے۔
جنگ کے آغاز سے انکار: امام عالی مقام نے کربلا میں دشمن پر تمام حجتیں تمام کیں تاکہ بعد میں دشمن کے پاس کوئی بہانہ نہ بچے۔ عاشور کی شب جس طرح سے آپ نے دشمن سے مانگ کر ایک رات کی مہلت لی ہے اسی طرح سے دشمن کو سوچنے سمجھنے کے لیے ایک رات کی مہلت دی بھی ہے ، کہ وہ اندازہ کریں کتنے بڑے جرم کا مرتکب ہونے جارہے ہیں۔ اسی طرح بار بار خطبہ دیتے ہوئے آپ دشمن کی ضمیر جگانے کی کوشش کرتے رہے ،جس کے کچھ اثرات بھی ہوئے۔ جیسے حر کا اپنے بیٹے اور غلام سمیت آپ کے لشکر میں آکر ملنا۔ لیکن تمام کوششوں کے باوجود دشمن جنگ کی ضد کرتے رہے تو پھر بھی آپ نے جنگ میں پہل کرنے سے انکار کیا۔ جس وقت آپ نے خیموں کی پشت پر خندق کھود کر آگ لگائی تو شمر قریب آیا اوراس نے آواز دی: "اے حسین، قیامت کی آگ سے پہلے دنیا میں ہی آگ لگا دی؟" تو اس وقت مسلم بن عوسجہ نے کہا: "یابن رسول اللہ ، میری جا ن آپ پر قربان، اگر اجازت دیں تو اک تیر سے میں شمرکا کام تمام کرسکتا ہوں ۔" امام علیہ السلام نے جوا ب دیا: "نہیں، میں پسند نہیں کرتا کہ جنگ کا آغاز میری طرف سے ہو۔"[9]
غازی عباس کو جنگ کی اجازت نہ دینا: مشہور یہی ہے کہ امام عالی مقام نے اپنے سب سے قوی سردار غازی عباس علمدار علیہ السلام کوباقاعدہ جنگ کی اجازت نہ دی۔ بعض محققین کے نزدیک آپ نے حر اور زہیر کو دشمنوں کے نرغے سے چھڑانے کے لیے مختصر جنگ کی۔ جب آپ نے جنگ کی اجازت چاہی توامام عالی مقام نے صرف اتنا کہا کہ ہوسکے تو بچوں کےلیے پانی کی کوئی سبیل کرو[10]۔ پس آپ کا مقصد کسی طرح خیموں تک پانی پہنچانا ٹھہر گیا۔ اس کی کیا وجوہات تھیں کہ امام نے غازی عباس کو باقاعدہ جنگ کی اجازت نہیں دی؟دفاعی حوالے سے کیا یہ درست اقدام تھا؟
محققین کے نزدیک شاید امام کے اس اقدام کی وجہ یہ تھی کہ حضرت عباس آپ کے لشکر کے علمدار تھے اور اس زمانے میں علم کا گرنا شکست کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ امام کی خواہش تھی آخری لمحات تک پرچم بلند رہے تاکہ اہل حرم کو حوصلہ ملتا رہے۔ لہذا امام عالی مقام نے ہر دفعہ حضرت عباس کو جنگ کی باقاعدہ اجازت دینے سے انکار کیا۔ [11]امام عالی مقام کے بیان میں یہی اشارہ ہے جب آپ نے ارشاد فرمایا: "آپ میرے لشکر کے علمدار ہیں۔ اگر آپ گئے تو میرا لشکر بکھر جائے گا۔"[12]
جنگی قانون سے ہٹ کر: عام طور پر جنگ کا قانون یہ ہے کہ سپہ سالار سب سے آگے ہوتا ہے اور فوج پیچھے ہوتی ہے۔ سپہ سالار سب سے پہلے خود کومیدان میں پیش کرتا ہے۔ جبکہ کربلا میں منظر برعکس نظر آتا ہے۔ اصحاب وانصار پہلے لڑتے ہیں، اور اہل بیت کے افراد بعد میں۔ جبکہ سپہ سالار سب سے آخر میں مقابلہ کے لیے جاتا ہے۔ شاید وجہ یہ ہو کہ باقی جنگوں میں مرنا مشکل جبکہ زندہ رہنا آسان ہوتا ہے، لیکن کربلا میں مرنا آسان تھا، جبکہ اتنے مصائب اور پیاس کی شدت میں زندہ رہنا، ساتھیوں کا غم سہنا ، لاشیں اٹھانا اور پھر شہید ہونا زیادہ مشکل مرحلہ تھا، اس لیے امام نے اپنے آپ کو سب سے آخر میں رکھا، کہ سب سے مشکل مرحلے کو خود اپنے لیے انتخاب کیا۔
دشمن کے اقدامات:
لشکرِ امام میں پھوٹ ڈالنے کی سازش: دشمن کی طرف سے ہر ممکن کوشش کی گئی کہ امام کے لشکر میں پھوٹ ڈالا جائے۔ اسی خاطر بعض افراد کے لیے امان نامہ دینے کی کوشش کی گئی۔ شمر کی طرف سے غازی عباس اور ان کے بھائیوں کے لیے امان دینے کی کوشش کی گئی کہ وہ بنی کلاب سے ہیں اور ننھیال کی طرف سے شمر کے خاندان سے ہیں۔ یہ جنگی تکنیک تھی جس کے ذریعے امام کی فوج کے قوی ترین سردار کو لشکر سے جدا کرنا چاہتے تھے اور فوج کی معنوی حالت کو نیچے لا کر نفسیاتی شکست دینا چاہتے تھے۔
شمر، امام کے لشکر کے قریب آیا اور آواز دی: "ہمارے بہن کی اولاد کہاں ہیں؟" تو حضرت عباس، جعفر اور عثمان نکل آئے۔ شمر نے کہا: "تم لوگ امان میں ہو چونکہ ماں کی طرف سے ہمارے رشتہ دار ہو۔ ان لوگوں کی طرف سے جواب آیا: "تم پر خدا کی لعنت ہو، تمہارے امان پر خدا کی لعنت ہو، تم ہمارے ماموں بن کر ہمیں امان دیتے ہو، جبکہ رسول اللہ ﷺ کے بیٹے کے لیے کوئی امان نہیں؟"[13] اس طرح حضرت عباس اور ان کے بھائیوں نے اپنی بصیرت سے دشمن کی سازش کو ناکام بنا دیا۔
پست ترین اقدامات، جیسے پانی بند کرنا: اس ۷۲ کے لشکر سے دشمن کے خوف کی یہ حالت تھی کہ ۷ محرم الحرام سے امام کے لشکر پر پانی بند کیا گیا۔ شاید دشمن کی خواہش یہ تھی کہ پیاس سے مجبور ہو کر امام عالی مقام اور آپ کا لشکر سر جھکانے پر مجبور ہوجائیں گے۔ لیکن کربلا کی اس تپتے صحراء میں العطش کی صداؤں میں لشکرِ امام نے شجاعت کے ایسے جوہر دکھائے کہ یقینا اگر پانی سے سیراب ہوتے تو جنگ کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔ سخت پیاس کی حالت میں جو ایسی جنگ لڑیں وہ اگر پانی سے سیراب ہوتے تو یقینا دشمن کے لیے مزید مشکلات پیدا کرتے۔
اہل بیت اطہار کو اسیر بنانے کی غلطی: دشمن ظاہری فتح اور جیت کی خوشی میں چور کربلا سے بچ جانے والے افراد کو بشمول امام زین العابدین علیہ السلام کو اسیر بنا کر پہلے کوفہ اور پھر وہاں سے شام لے گیا۔ جنگی حوالے سے یہ دشمن کی بہت بڑی غلطی تھی۔ دشمن کے اس غلط فیصلے سے امام زین العابدین علیہ السلام اور ثانی زہراء سلام اللہ علیہا نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور کربلا والوں کا پیغام شہر شہر پہنچانے کے علاوہ کربلا میں ڈھائے جانے والے مظالم کی داستان ساری دنیا تک پہنچائی اور یزید اور اس کے کارندوں کوہر دو جہان میں رسوا کیا۔
نتیجہ:
امام نے دشمن کا مقابلہ انتہائی بصیرت اور شجاعت سے کیا۔ ایسا نہیں ہے کہ اپنی کم تعداد اور دشمن کی بڑی تعداد دیکھ کر بغیر کسی مقابلے کے دشمن کے سامنے سر جھکائے ہوں۔ جنگ کے سارے تیکنیک آپ نے استعمال کیےاور منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھے۔ آپ اورآپ کے اصحاب کی شجاعت اور فداکاری دیکھ کر دشمن کے حوصلے پست ہوگئے۔ یہی وجہ ہے کہ آخری وقت تک کسی بزدل کی جرات نہیں تھی کہ آپ کے نزدیک آئے، حالانکہ آپ زخموں سے چور زمین پر نڈھال پڑے تھے۔ دشمن پتہ کرنا چاہتے تھے کہ آپ زندہ ہیں یا شہید ہوچکے؟ ایک لعین نے مشورہ دیا کہ آواز دو"خیموں پر حملہ ہوا" اگر حسین زندہ ہوا تو ضرور اٹھیں گے۔ یہ سب دشمن کے خوف اور بزدلی کی نشانی ہے۔ جبکہ امام عالی مقام اور آپ کے باوفا اصحاب نے شجاعانہ لڑتے ہوئے، دشمن کو للکارتے ہوئے ، جان جان آفرین کے حوالے کی۔
یہاں یہ بنیادی سوال اٹھتا ہے کہ اس جنگ کا نتیجہ کیا ہوا؟ کون ہارا کون جیتا؟
بظاہر دیکھاجائے تو امام حسین کے لشکر کو شکست ہوئی چونکہ سارے مارے گئے۔ جو بچ گئے تھے ان کو اسیر بنا لیا گیا۔ لاشوں کی بے حرمتی کی گئی۔ لیکن اس جنگ کے نتیجے کو ایک اور زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے، اور وہ زاویہ جنگ کے اہداف اور مقاصد کے حوالے سے ہے۔ یزیدی فوج کا مقصد امام عالی مقام سے بیعت لینا تھا جس میں وہ بری طرح ناکام ہوئی۔ امام نے عزت کو موت کو ذلت کی زندگی پر ترجیح دی۔ یزید کا مقصد اس واقعہ کو کربلا کی اس ریگزار میں دفن کرنا تھا لیکن ثانی زہراء اور امام چہارم کے خطبوں نے دشمن کے تمام عزائم خاک میں ملا دئیے۔ دشمن کی تمام پالیسیاں ناکام ہوگئیں اور بظاہر جیتنے کے باوجود ذلیل اور رسوا ہوگئے۔ امام عالی مقام نے نیزے پر بھی قرآن پڑھ کر، ثانی زہرا نے علی علیہ السلام کے لہجے میں خبطے ارشاد فرما کر، امام زین العابدین علیہ السلام نے یزید کے دربار میں دشمن کو ذلیل اور رسوا کر کے اپنی جیت اور فتح کا اعلان کیا۔
[1] ۔ اگرچہ کربلا کے واقعہ کےحقیقی علل و اسباب تقریبا ۵۰ سال پر محیط ہیں چونکہ کربلا کا آغاز سقیفہ ہے۔سقیفہ میں آکر اسلامِ ناب کے مقابلے میں جعلی اسلام کا تعارف کرایا گیا جس میں سیاست کو دین سے الگ کیا گیا۔ اگر سقیفہ کی پیداوار معاویہ جیسے دشمن ِاسلام کو شام پر مسلط نہ کرتے تو شاید اس سانحہ کے مقدمات ہی فراہم نہ ہوتے۔
[2] ۔ ابو مخنف کی روایت کے مطابق آپ کے لشکر میں ۳۲ گھڑ سوار اور ۴۰ پیدل تھے اس طرح مجموعی تعداد ۷۲ بنتی ہے۔ شیخ مفید نے بھی شہداء کے سروں کی تعداد ۷۲ لکھی ہے۔ اسی طرح سے زیارت ناحیہ میں، جو سید بن طاووس نے اپنی کتاب اقبال میں نقل کی ہے، ۷۲ شہداء کے نام ذکر ہوئے ہیں۔ [دیکھیے: مقتل ابی مخنف، ص 113، اور "بررسی تاریخ عاشوراء ، دکتور ابراہیم آیتی، ص 107۔]
[3] ۔ "كم من فئة قليلة غلبت فئة كثيرة بإذن الله۔" سورہ بقرہ، آیت 249۔
[4] . "إني لا أعلم أصحابا أولى ولا خيرا من أصحابي، ولا أهل بيت أبر ولا أوصل من أهل بيتي..." مقتل ابی مخنف، ص ۱۰۷, ارشاد، شیخ مفید، ج ۲، ص 91۔
[5] ۔"ألا وإني قد أذنت لكم فانطلقوا جميعا في حل ليس عليكم مني ذمام ، هذا الليل قد غشيكم فاتخذوه جملا" يا بني عقيل ، حسبكم من القتل بمسلم ، فاذهبوا أنتم فقد أذنت لكم"۔ دیکھیے: مقتل ابی مخنف، ص 107 تا 109، ارشاد، شیخ مفید، ج 2، ص 91، 92۔
[6] ۔ دیکھیے: مقتل ابی مخنف، ص 82۔
[7] ۔ دیکھیے: مقتل ابی مخنف ، ص 81۔
[8] ۔ "وجعلوا البيوت في ظهورهم ، وامر بحطب وقصب كان من وراء البيوت تحرق بالنار مخافة ان يأتوهم من ورائهم" مقتل ابی مخنف، ص 113، ارشاد، شیخ مفید، ج ۲، ص 95۔
[9] ۔ دیکھیے : مقتل ابی مخنف، ص ۱۱۶۔
[10] ۔ "فقال الحسين عليه السلام : فاطلب لهؤلاء الأطفال قليلا من الماء" دیکھیے: بحار الانوار، ج 45، ص 41۔
[11] ۔ دیکھیے۔ انٹرویو : محقق تاریخ رجبی دوانی۔ www.fardanews.com/fa/news/206825
[12] ۔ "فبكى الحسين عليه السلام بكاء شديدا ثم قال : يا أخي أنت صاحب لوائي وإذا مضيت تفرق عسكري" بحار الانوار، ج ۴۵، ص ۴۱۔
[13] ۔ "لعنك الله ولعن أمانك ، أتؤمننا وابن رسول الله لا أمان له ؟" دیکھیے: مقتل ابی مخنف، ص 104، ارشاد، شیخ مفید، ج ۲، ص ۸۹۔ بعض روایات کے مطابق دشمن کی طرف سے کئی بار کوشش کی گئی کہ کسی طرح سے حضرت عباس اور ان کے بھائی امان نامہ قبول کر لیں۔ اس مقصد کے لیے پہلے بھی کوششیں کی گئیں۔ بطور مثال عبد اللہ ابن ابی محل ،جو حضرت عباس علمدار وغیر کے ماموں زاد تھے ، کی طرف سے اپنے غلام عبد اللہ کے ہاتھوں بھی امان نامہ بھیجا گیا۔ جس کے جواب میں حضرت عباس نے کہا: "أمان الله خير من أمان ابن سمية." ملاحظہ ہو: مقتل ابی مخنف، ص 103، 104، بررسی تاریخ عاشورء، ابرہیم آیتی، ص 124۔
ٹیگس: کربلا
