امام صادق علیہ السلام اور دعوتِ امامت
حج کا موقع ہے۔ عرفات کے مقام پر تمام حاجی جمع ہیں۔ کوئی یمن سے، کوئی حجاز سے، کوئی کوفہ سے، کوئی بصرہ سے، کوئی مصر سے، کوئی ایران سے، غرض عالم اسلام کے کونے کونے سے لوگ حج کرنے مکہ آئے ہوئے ہیں۔ یقینا یہ مسلمانوں کا سب سے بڑا اجتماع تھا۔ اس دور میں ذرائع ابلاغ بھی محدود ہی تھے۔ خطابت کے ذریعے سے لوگوں سے مخاطب ہونا ہی سب سے بہترین ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ امام صادق علیہ السلام موقع غنیمت جانتے ہوئے ایک مرتبہ اس اجتماع میں کھڑے ہوتے ہیں۔ یقینا آپ علیہ السلام کوئی اہم پیغام پہنچانا چاہتے ہیں۔
ایک مرتبہ اس امام معصوم کی آواز عرفات کے میدان میں گونجی۔ ایک طرف رخ کیا اور اپنے پیغام کو تین مرتبہ دھرایا۔ پھر دوسری طرف رخ کیا اور تین مرتبہ دھرایا۔ اس طرح اپنے چاروں طرف رخ کر کے تین تین مرتبہ اور کل بارہ مرتبہ وہ پیغام تکرار فرمایا۔
امام عالی مقامؑ کا وہ اہم پیغام کچھ یوں تھا:
أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم كَانَ الْإِمَامَ ثُمَّ كَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ثُمَّ الْحَسَنُ ثُمَّ الْحُسَيْنُ ثُمَّ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ ثُمَّ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ ثُمَّ هَه
اے لوگو! رسول اللہﷺ لوگوں کے امام تھے۔ پھر علیؑ بن ابی طالبؑ امام تھے، پھر حسنؑ، پھر حسینؑ، پھر علی بن حسینؑ، پھر محمد بن علیؑ اور پھر میں۔
(هَه عرب کی خاص لغت میں "انا" کے معنی میں ہے۔ یعنی میں۔)
یقینا امام کا یہ پیغام چار سو پھیل گیا اور پھر جب حاجی اپنے اپنے علاقوں کی طرف واپس گئے تب ان کے ذریعے پورے عالم اسلام تک امام کا یہ پیغام پہنچ گیا۔ اس طرح امام نے حج کے عظیم اجتماع سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے حق اور حقیقت کا پیغام پورے عالم اسلام تک پہنچایا اور تمام لوگوں پر حجت تمام کی۔
(بحار الانور، ج 47، ص 58)
ٹیگس: امام صادق
