خدا کی ذات کی معرفت ممکن نہیں۔۔!

تحریر: سید عباس حسینی

 

یہ بات اپنی جگہ ثابت ہے کہ خدا کی ذات لا محدود اور نا متناہی ہے۔ جبکہ انسان کی ذات اور اس کے پاس معرفت کےجتنے  وسائل ہیں سب محدود ہیں۔ انسانی حواس، انسانی تخیل اور انسانی عقل محدود ہے۔

علم کے ذریعے عالم، معلوم کا علمی طور پر احاطہ کرتا ہے۔

یہاں سے یہ بات سمجھنا آسان ہو جاتا ہے کہ ایک محدود ذات کے لیے، لا محدود اور نا متناہی ذات کا علم اور ادراک اور اس کا احاطہ ممکن ہی نہیں۔

مثلا ہم سب جانتے ہیں کہ عدد نا متناہی(Unlimited) ہے۔ ہم اس بات کا تصور تو کر سکتے ہیں، لیکن اس کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتے۔ مثلا ہم جتنا  بڑا عدد تصور کریں، اس سےبھی بڑا عدد  فرض کیا جا سکتا ہے۔ لہذا اس لا متناہی کی آخری حد تک ہم نہیں جاسکتے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اس کی آخری حد ہے ہی نہیں۔

اسی طرح خداوند متعال کی ذات ہے جس کی کوئی حد نہیں۔ جس چیز کی کوئی حد نہیں ، انسانی محدود عقل، اس تک پہنچ ہی نہیں سکتی۔ انسان ہمیشہ ہر چیز کو اس کی حدود (ماہیات) کے اندر ہی سمجھ سکتا ہے۔

انسان کے پاس موجود علم و معرفت کے وسائل کی کمزوری کو آپ یہاں سے بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ ایک عام سی چیز کو بھی سمجھنا ہو تو انسان اس کے حصے حصے کر کے سمجھتا ہے۔ اس کو ایک ہی دفعہ پورا سمجھنا انسان کے بس کی بات نہیں۔ مثلا میرے سامنے ایک کیک پڑا ہوتو اس کے رنگ کو میں آنکھ کے ذریعے سمجھوں گا، اس کے ذائقے کو زبان کے ذریعے، اس کی نرمی کوہاتھ کے ذریعے، اس کی خوشبو کو ناک کے ذریعے۔ اگر کسی انسان کے پاس کوئی حس کم ہو، وہ اس حس سے متعلق تمام علوم سے محروم ہوگا۔ پس جب ایک عام سی چیز کا ادراک، اس کے حصے کیے بغیر انسان کے بس کی بات نہیں، تو وہ ذات جو لا محدود ہے، جو بسیط ہے اورجس کے اجزاء نہیں ہیں،  اس کی معرفت کیسے ممکن ہوگی؟

ساتھ ہی یہ بات بھی مدنظر رہے کہ محدود، اور لا محدود کے درمیان فاصلہ بھی ہمیشہ لا محدود ہوتا ہے۔ پس ہمارے اور خدا کے درمیان وجودی طورپر فاصلہ لا محدود ہے، جس کو سمجھنا نہ کسی انسان کے بس کی بات ہے، اور نہ طے کرنا۔

اسی لیے مولائے متقیان علی بن ابی طالب علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں فرمایا:

الذي لايدرکه بعد الهمم ولا يناله غوص الفطن

خدا کی ذات وہ ہے جسےنہ بلند پرواز ہمتیں پا سکتی ہیں اور نہ عقل و فہم کی گہرائیاں اس کی تہہ تک پہنچ سکتی ہیں۔

البتہ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں، خدا کے وجود (موجود ہونے) کوہم نہیں سمجھ سکتے! خدا کا وجود عقلی اور فطری محکم دلیلوں کے ذریعے ثابت ہے۔ یہاں مراد یہ ہے کہ اس ذات کی حقیقت کو سمجھنا ہرگز ممکن نہیں۔ اسی لیے روایات میں کہا گیا خدا کی ذات میں غور و فکر کرنے سے بچو، گمراہ ہو جاو گے اور ہلاک ہو جاو گے۔  اس کی نعمتوں میں غور کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔

+ لکھاری عباس حسینی در 5 Nov 2018 و ساعت 10:0 PM |

اللہ تعالی کی سب سے پہلی مخلوق

 

بعض لوگوں سے اہل بیت کرام علیہم السلام کے فضائل برداشت نہیں ہوتے اور ہر کچھ عرصے بعد ان کے فضائل کو گھٹانے کی خاطر کوئی نیا مطلب گھڑ کر لاتے ہیں۔ آج ایک صاحب نے لکھا کہ "اللہ نے سب سے پہلے میرے نور کو خلق کیا والی حدیث نبوی کا خالق محی الدین ابن عربی گمراہ اور مشرک تھا ۔ اور یہ حدیث جھوٹی ہے" لیکن ان صاحب کو اتنی توفیق نہیں ہوئی کم از کم اپنی بنیادی کتابوں کا ہی مطالعہ کرتے۔۔ یہ حدیث بہت سارے ائمہ سے منقول ہے جسے یہ صاحب جھوٹ کہہ رہا ہے۔

یہاں انتہائی اختصار کے ساتھ اصول کافی کے باب مولد النبی سے صرف ۵ روایتیں پیش کر رہے ہیں جو واضح طور پر بیان کر رہی ہیں کہ اللہ تعالی نے سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ہمارے ائمہ معصومین علیہم السلام کے نور کو خلق کیا۔۔ اس حوالے سے روایات تواتر کی حد تک ہیں۔ ان سب کو یہاں نقل کرنے کا فی الحال وقت نہیں ہے۔  اصول کافی سے چند روایات ملاحظہ ہوں۔

 

۱۔  امام صادق علیہ السلام کی روایت ہے: اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں نے تجھے اور علی علیہ السلام کو نور کی شکل میں پیدا کیا۔ یعنی ایسی روح جو بدن کے بغیر ہے۔ قبل اس کے کہ آسمان، زمین، عرش اور سمندر کی تخلیق ہو۔

أَحْمَدُ بْنُ إِدْرِيسَ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى وَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حَدِيدٍ عَنْ مُرَازِمٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى يَا مُحَمَّدُ إِنِّي خَلَقْتُكَ وَ عَلِيّاً نُوراً يَعْنِي رُوحاً بِلَا بَدَنٍ قَبْلَ أَنْ أَخْلُقَ سَمَاوَاتِي وَ أَرْضِي وَ عَرْشِي وَ بَحْرِي‏. (اصول کافی، ج 1، 440، باب مولد النبی)

 

۲۔ امام باقر علیہ السلام کی روایت ہے کہ اے جابر! اللہ تعالی نے جسے سب سے پہلے خلق کیا وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ہے اور ان کی عترت (آل محمد) ہے۔۔۔

الْحُسَيْنُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ عَنِ الْمُفَضَّلِ عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: قَالَ لِي أَبُو جَعْفَرٍ ع يَا جَابِرُ إِنَّ اللَّهَ أَوَّلَ‏ مَا خَلَقَ‏ خَلَقَ مُحَمَّداً ص وَ عِتْرَتَهُ الْهُدَاةَ الْمُهْتَدِين‏ وَ أَجْرَى فِيهِ مِنْ نُورِهِ الَّذِي نُوِّرَتْ مِنْهُ الْأَنْوَارُ وَ هُوَ النُّورُ الَّذِي خَلَقَ مِنْهُ مُحَمَّداً وَ عَلِيّاً فَلَمْ يَزَالا نُورَيْنِ أَوَّلَيْنِ إِذْ لَا شَيْ‏ءَ كُوِّنَ قَبْلَهُمَا فَلَمْ يَزَالا يَجْرِيَانِ طَاهِرَيْنِ مُطَهَّرَيْنِ فِي الْأَصْلَابِ الطَّاهِرَةِ حَتَّى افْتَرَقَا فِي أَطْهَرِ طَاهِرِينَ فِي عَبْدِ اللَّهِ وَ أَبِي طَالِبٍ ع. (اصول کافی، ج1، ص 442، باب مولد النبی)

 

3. امام باقر علیہ السلام ہی کی روایت ہے کہ اللہ تعالی نے پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کی: میں نے تجھے اس وقت خلق کیا جب کوئی بھی چیز نہیں تھی۔

أَحْمَدُ عَنِ الْحُسَيْنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْفُضَيْلِ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ ع يَقُولُ‏ أَوْحَى اللَّهُ تَعَالَى إِلَى مُحَمَّدٍ ص أَنِّي خَلَقْتُكَ‏ وَ لَمْ تَكُ شَيْئا. (اصول کافی، ج 1، 440، باب مولد النبی)

 

4. امام جواد علیہ السلام کی روایت ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو، علی علیہ السلام کو، فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کو اس وقت خلق کیا جب خدا واحد اور متفرد تھا۔ اس کے بعد ایک مدت گزر گئی، پھر باقی تمام اشیاء کو خلق کیا۔

الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَشْعَرِيُّ عَنْ مُعَلَّى بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي الْفَضْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي جَعْفَرٍ الثَّانِي ع فَأَجْرَيْتُ اخْتِلَافَ الشِّيعَةِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى لَمْ يَزَلْ مُتَفَرِّداً بِوَحْدَانِيَّتِهِ ثُمَّ خَلَقَ مُحَمَّداً وَ عَلِيّاً وَ فَاطِمَةَ فَمَكَثُوا أَلْفَ دَهْرٍ ثُمَّ خَلَقَ جَمِيعَ الْأَشْيَاء. (اصول کافی، ج 1، 441، باب مولد النبی)

5. امام صادق علیہ السلام سے مفضل کی روایت ہے کہ  آپ نے فرمایا: اے مفضل ہم اس وقت بھی اپنے پروردگار کے پاس تھے جب کوئی دوسرا نہ تھا۔ ہم اس پرودگار کی تسبیح کرتے تھے، اس کی تقدیس کرتے تھے، تہلیل کرتے تھے، اس کی تجید کرتے تھے۔ اس وقت ہمارے سوا  نہ کوئی ملک مقرب تھا اور نہ کوئی ذی روح تھا۔ یہاں تک کہ خدا نے ارادہ کیا چیزوں کو خلق کرے، جیسے چاہیے خلق کرے۔ ملائکہ اور دوسری اشیاء کو خلق کرے۔ ان تمام چیزوں کاعلم بھی ہمارے پاس رکھا۔

عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حَمَّادٍ عَنِ الْمُفَضَّلِ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع كَيْفَ كُنْتُمْ حَيْثُ كُنْتُمْ فِي الْأَظِلَّةِ فَقَالَ يَا مُفَضَّلُ كُنَّا عِنْدَ رَبِّنَا لَيْسَ عِنْدَهُ أَحَدٌ غَيْرُنَا فِي ظُلَّةٍ خَضْرَاءَ نُسَبِّحُهُ وَ نُقَدِّسُهُ وَ نُهَلِّلُهُ وَ نُمَجِّدُهُ وَ مَا مِنْ مَلَكٍ مُقَرَّبٍ وَ لَا ذِي رُوحٍ غَيْرُنَا حَتَّى بَدَا لَهُ فِي خَلْقِ الْأَشْيَاءِ فَخَلَقَ مَا شَاءَ كَيْفَ شَاءَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ وَ غَيْرِهِمْ ثُمَّ أَنْهَى عِلْمَ ذَلِكَ إِلَيْنَا. (اصول کافی، ج 1، 441، باب مولد النبی)

+ لکھاری عباس حسینی در 2 Nov 2018 و ساعت 8:29 PM |

اربعین حسینی کی مختصر تاریخ

تحریر: سید عباس حسینی

(مجلہ سفیر روحانیت، زیر اہتمام جامعہ روحانیت بلتستان، شمارہ ۵، ۲۰۱۸ء میں چھپا مضمون)

اربعین عربی زبان میں چالیس کے عدد کو کہا جاتا ہے۔ فارسی میں اسے چہلم کہتے ہیں۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں کے درمیان آج بھی یہ رسم ہے کہ کوئی شخص اس دنیا سے چلا جائے تو اس کے چالیس روز بعد اس کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی، فاتحہ خوانی اور مجالس وغیرہ کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔

امام حسین علیہ السلام کی جہاں اور بہت ساری خصوصیات ہیں، وہیں ان کا یہ خاص امتیاز بھی ہے کہ ہمارے تمام اماموں میں سے صرف آپ علیہ السلام کے لیے اربعین کی زیارت کتابوں میں وارد ہوئی ہے اور اس زیارت کی خاص فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اربعین کے موقع پر آپ کی زیارت پر جانے کی بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے۔ اسی طرح سے آپ کی زیارت کے لیے پیدل جانے کے حوالے سے مختلف روایات آئی ہیں جو اس کام کے اجر وثواب کو مختلف انداز میں بیان کرتی ہیں۔

 آپ علیہ السلام کی شہادت چونکہ 10 محرم الحرام 61 ہجری میں ہوئی تھی، اس لحاظ سے 20 صفر 61 ہجری کو آپ کا اربعین بنتا ہے۔ آپ کے چاہنے والے اس وقت سے لے کر اب تک ہر سال اس مخصوص تاریخ کو آپ کا اربعین مناتے ہیں اور اس عظیم قربانی پر آپ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔دنیا بھر سے لاکھوں زائرین  20 صفر کی  تاریخ کو کربلا کا رخ کرتے ہیں اور آپ کی زیارت سے شرفیاب ہوتے ہیں۔ پچھلے چند سالوں میں جو ایک نیا سلسلہ دیکھنے کو آیا ہے وہ یہ ہے کہ اربعین حسینی کے موقع پر دنیا کا سالانہ سب سے بڑا مذہبی اجتماع کربلا میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس اجتماع کے دوران لاکھوں زائرین بصرہ، بغداد اور دوسرے عراقی شہروں خصوصا نجف سے کربلا کا فاصلہ پیدل طے کرتے ہیں اور پیادہ کربلا پہنچ کر امام عالی مقام کی خدمت میں حاضری دیتے ہیں اور اظہارِ عقیدت کرتے ہیں۔ اس دوران عراقی شہریوں کی طرف سے زائرین کی پذیرائی اور دل کھول کر خدمت قابلِ دید ہے جس کی مثال ملنا محال ہے۔

عددِ چالیس(اربعین) کا راز

علم الاعداد کے ماہرین نے چالیس کے عدد کی کچھ خصوصیات بیان کی ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کی تائید بہت سارے دینی معاملات اور احکام سے بھی ہوتی ہے۔ مثلا قرآن کریم کے مطابق اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام کو پہلےتیس دن کے لیے کوہ طور پر بلایا۔ پھر مزید دس دن کے اضافے کے ساتھ چالیس دن مکمل کیے۔ (اعراف:142) قرآن کریم کے مطابق انسان چالیس سال کی عمر میں رشدِ عقلی تک پہنچتا ہے۔(احقاف:15) یا جب اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کو صحرائے سینا میں بھٹکنے (تیہ) کی سزا دی اس کے لیے چالیس سال کی مدت مقرر کی۔ (مائدہ:26) اسی طرح روایات میں آیا ہے کہ جو شخص چالیس دنوں تک اپنے آپ کو اللہ کے لیے خالص کر لے اس کے دل سے حکمت کے چشمے اس کی زبان پر جاری ہوں گے۔[1] جو شخص بھی چالیس احادیث حفظ کرلے قیامت کے دن فقیہ اور عالم محشور ہوگا۔[2]  بہت سارے انبیاء جن میں سے ہمارے رسول حضرت محمد مصطفیﷺ بھی ہیں چالیس سال کی عمر میں مبعوث برسالت ہوئے۔ بعض گناہوں کے بارے میں روایات میں آیا ہے کہ ان کی وجہ سے چالیس روز تک عبادت قبول نہیں ہوتی۔ اسی طرح نماز شب  میں چالیس مومنوں کے  لیے دعا کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ بعض روایات کے مطابق جس شخص کے جنازے میں چالیس مومن اس کی مغفرت کے لیے دعا کریں اللہ تعالی اس کو بخش دیتا ہے۔ روایات کے مطابق مسجد کے اردگرد چالیس گھر تک مسجد کے ہمسائے شمار ہوتے ہیں۔ بہت ساری دعاوں کے بارے میں چالیس روز تک مسلسل پڑھنے کی تاکید ہوئی ہے۔ بعض پھلوں کے بارے میں روایات میں آیا ہے کہ ان کے چالیس روز تک کھانے کے مختلف اثرات ہیں۔ اس طرح کے اور بھی بہت سارے موارد روایات میں بیان ہوئے ہیں۔ ان کے علاوہ علم الاعداد کے ماہرین بھی اس عدد کی مختلف خصوصیات بیان کرتے ہیں۔

روایات کے مطابق جب بھی کوئی مومن بندہ اس دنیا سے جاتا ہے تو زمین اس کی موت پر چالیس دنوں تک گریہ کرتی ہے۔[3]  امام حسین علیہ السلام کے حوالے سے خصوصی طور پر روایات میں آیا ہے کہ آپ کی شہادت کے بعد چالیس دنوں تک آسمان آپ پر گریہ کناں رہا۔ راوی نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا: آسمان کا گریہ کیا تھا؟ آپ نے جواب میں فرمایا: چالیس روز تک سورج سرخی کے ساتھ نکلتا رہا اور اور سرخی کے ساتھ ڈوبتا رہا۔[4] اسی طرح روایات کے مطابق آپ کی شہادت کے بعد آسمان، زمین،سورج اور فرشتے چالیس دنوں تک آپ کے غم میں اشک بہاتے رہے۔ [5]

اربعینِ حسینی کی اہمیت:

امام عسکری علیہ السلام کی مشہور حدیث  جس میں آپ نے مومن کی پانچ علامات بیان کی ہیں اس حدیث میں اربعین کے موقع پر امام حسین علیہ السلام کی زیارت کو مومن کی علامت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: (عَلَامَاتُ‏ الْمُؤْمِنِ‏ خَمْسٌ صَلَاةُ الْخَمْسِينَ وَ زِيَارَةُ الْأَرْبَعِينَ وَ التَّخَتُّمُ فِي الْيَمِينِ وَ تَعْفِيرُ الْجَبِينِ وَ الْجَهْرُ بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيم)[6] اس روایت کے مطابق روزانہ 51 رکعت نماز(واجب اور مستحب نمازیں ملا کر)، دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا، سجدے میں سر خاک پر رکھنا، نماز میں بسم اللہ کو بلند آواز سے پڑھنا اور اربعین کی زیارت ایک مومن کی علامات ہیں۔

شیعوں کے نزدیک اربعینِ حسینی کی اہمیت اس وجہ سے بھی زیادہ ہے چونکہ تاریخ اور روایات کے مطابق امام زین العابدین علیہ السلام اور اہل بیت کرام کی مخدرات عصمت جنہیں واقعہ کربلا کے بعد اسیر بنا کر کوفہ و شام لے جایا گیا تھا وہ رہائی کے بعد اسی تاریخ کو واپس کربلا پہنچے تھے اور انہوں نے امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا کی پہلی بار زیارت کی تھی۔ تواریخ کے مطابق یہ قافلہ اپنے ساتھ امام حسین علیہ السلام کا کٹا ہوا سر بھی واپس لایا تھا، جسے کربلا ہی میں اسی تاریخ کو آپ کے جسد اطہر کے ساتھ دفن کیا گیا۔

اربعین حسینی کا پہلا زائر

تاریخ کے مطابق اربعینِ حسینی کا پہلا زائر صحابی رسول حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری ہیں آپ اپنے غلام عطیہ کے ساتھ 20 صفر 61 ہجری کو کربلا میں وارد ہوتے ہیں۔ اس وقت جابر کی بینائی ختم ہو چکی تھی۔ غلام کے مطابق جس وقت جابر کربلا پہنچے تو پہلے فرات میں غسل کیا، پھرقبر امام حسین علیہ السلام پر آئے اور عطیہ سے کہا: میرا ہاتھ قبر پر رکھ دیں۔ کچھ دیر بعد جابر بے ہوش ہو کر قبر پر گر پڑے۔ عطیہ نے چہرے پرپانی ڈالا اور جابر ہوش میں آئے۔ جابر نے تین مرتبہ بلند آوازسے کہا: یاحسین علیہ السلام۔ اور پھر کہا: "حَبیبٌ لا یُجیبُ حَبیبَه."[7] دوست، دوست کو جواب نہیں دے رہے۔ امام عالی مقام اور دوسرے شہداء کی زیارت کرتے ہیں۔ آپ کی موجودگی میں ہی امام زین العابدین علیہ السلام اور دوسرے اسیران اہل بیت شام سے کربلا پہنچتے ہیں جہاں سب مل کرشہداء کی زیارت بھی کرتے ہیں اور ماتم اور گریہ وزاری بھی کرتے ہیں۔[8]

پیادہ روی کی تاریخ:

امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیے ایک خصوصیت جو روایات میں ذکر ہوئی ہے وہ پیدل چل کر زیارت کرنے کی ہے۔ اس حوالے سے متعدد روایات ہیں جو اس کام کے بے شمار اجروثواب کو بیان کرتی ہیں۔ امام صادق علیہ السلام کی روایت کی مطابق "جو بھی امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیے پا پیاده آتا ہے اس کے ہر قدم پر اللہ تعالی ہزار نیکیاں لکھتا ہے، ہزار گناہ مٹا دیتا ہے اور ہزار مرتبہ اس کے درجات میں اضافہ کرتا ہے۔"[9] سب سے پہلی شخصیت جو پیدل چل کر امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیے آئی، وہ صحابی رسول جابر بن عبد اللہ انصاری ہیں۔ ان کے بعد بھی دنیا بھر سے عاشقان ِامامت و ولایت آپ کے زیارت کے لیے مختلف زمانوں میں آتے رہے۔ بعض محققین کے نزدیک ائمہ معصومین کے دور میں بھی لوگ دور دراز سے اربعین کے موقع پر آپ کی زیارت کے لیے پیدل آتے تھے۔ لہذا اس لحاظ سے ائمہ کے دور سے ہی یہ سنت چلی آئی ہے۔ بنی امیہ اور بنی عباس کی حکومتوں نے اگرچہ اس راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی بڑی کوششیں کیں، لیکن کسی نہ کسی شکل میں کربلا کی طرف پیادہ روی کا سلسلہ چلتا ہی رہا۔[10] معتصم عباسی کے دور میں اگرچہ زیارت ابا عبد اللہ سے روکنے کی بڑی کوششیں کی گئیں اور زائرین کے ہاتھ پاوں تک کاٹے گئے، لیکن زیارت کا سلسلہ نہ رک سکا۔ 

موجودہ دور میں جس شخصیت نے نجف سے کربلا تک پیدل زیارت پر جانے کی اس حسینی تحریک کا آغاز کیا وہ شیخ انصاری(وفات 1864ء) کی شخصیت ہیں۔ آپ کی مرجعیت کے زمانے میں کربلا کی طرف پیادہ روی کا زور و شور سے انتظام ہوتا تھا۔  ان کے بعد کچھ عرصے کے لیے یہ تحریک کم رنگ ہو کر رہ گئی لیکن شیخ میرزا حسین نوری(وفات 1902ء)، کتاب مستدرک الوسائل کے مصنف نے دوبارہ اس تحریک کو زندہ کیا۔ ان کے ساتھ ان کے چاہنے والوں کی بھی ایک کثیر تعداد ہوتی تھی جو ایک قافلے کی شکل میں کربلا کی طرف پیدل چلتے تھے۔  مجتہد وعارف بزرگوار میرزا جواد آقا ملکی تبریزی (وفات 1925ء) کے بارے میں بھی نقل کرتے ہیں کہ وہ بھی اپنی زندگی میں کئی بار نجف سے کربلا پیدل زیارت کے لیے جاتے رہے۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے شہید بزرگوار علامہ سید عارف حسین الحسینی(وفات 1988ء) کے بارے میں بھی علماء بیان کرتے ہیں کہ اکثر شبِ جمعہ پیدل نجف سے  کربلا امام عالی مقام کی زیارت کے لیے جاتے تھے۔

ان کے علاوہ بہت سارے علماء و مجتہدین کے بارے میں نقل ہوا ہے کہ کربلا کی طرف پیادہ روی کو انتہائی اہمیت دیتے تھے۔ "اعیان الشیعہ" کے مولف سید محسن امین عاملی(وفات 1952ء) اپنے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ میں دس سال تک نجف میں رہا ہوں۔ اس دوران سال بھر کی خاص مناسبتوں پر امام حسین علیہ السلام کی زیارت پر کربلا کی زیارت سے ضرور مشرف ہوتا تھا۔ اکثر پیدل کربلا کی طرف ہم چل پڑتے۔ اس سفر میں ان کے ساتھ جبل عامل اور نجف کے دوسرے طلاب بھی ملحق ہوتے اور ایک قافلہ سا بن جاتا۔ مشہور کتاب "الغدیر" کے مصنف علامہ امینی(وفات 1970ء) کے بارے میں بھی نقل ہوا ہے کہ اکثر پیدل کربلا جاتے تھے۔ کربلا کے نزدیک پہنچتے ہی ان کی حالت تبدیل ہو جاتی اور آنکھوں سے آنسووں کا نہ رکنے والے سلسلہ شروع ہو جاتا۔ سید محمود حسینی شاہرودی(وفات 1974ء) جو عراق کے مشہور مرجع تھے کے بارے میں نقل ہوا ہے کہ پیدل کربلا جاتے تھے۔ ان کے شاگرد اور عقیدت مند بھی انکے ساتھ ساتھ چلتے تھے۔ ان کے بارے مشہور ہے کہ چالیس بار پیدل امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیے گئے ہیں۔ امام خمینی کے فرزند حاج مصطفی خمینی(وفات1977ء) کے بارے نقل ہوا ہے کہ تمام اہم مناسبات جیسے نیمہ رجب، نیمہ شعبان، روز عرفہ اور مخصوصا اربعین کے موقع پر پیدل نجف سے کربلا جاتے تھے۔ لبنان کے مشہور عالم دین سید موسی صدر(گمشدگی 1979ء) کے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ آپ پیدل امام حسین علیہ السلام کی زیارت پر جانے کا عشق رکھتے تھے۔  ان تمام مجتہدین اور علماء کے علاوہ آیت اللہ   میرزا نائینی، شیخ محمد حسین غروی، آیت اللہ ملکوتی، شہید آیت اللہ مدنی اور بہت سارے علماء کے بارے نقل ہوا ہے کہ وہ سال بھر کی مختلف مناسبتوں خصوصا اربعین کے موقع پر کربلا کی طرف پیادہ روی کرتے تھے۔[11]

عراق کے سابق صدر صدام حسین کے دور میں کربلا کی طرف پیادہ روی پر پابندی لگائی گئی۔ اس کے باوجود عاشقین ابا عبد اللہ خفیہ راستوں سے چلتے ہوئے، راتوں کو سفر کرتے ہوئے اپنے آپ کو اربعین کے موقع پر کربلا پہنچاتے تھے۔ 2003ء  میں صدام کی حکومت کے خاتمے کے بعد اس تحریک نے مزید زور اور رونق پکڑ لی اور آج یہ اجتماع سالانہ منعقد ہونے والا دنیا کا سب سے بڑا دینی اجتماع ہے۔ پچھلے چند سالوں میں اس عظیم اجتماع میں شرکت کرنے والوں کی تعداد اڑھائی کروڑ تک بھی بتائی گئی ہے۔

آج اربعین کی تحریک ایک عالمگیر تحریک بن چکی ہے جو ظہور حضرت ولی عصر علیہ السلام کے لیے بہترین زمینہ فراہم کر سکتی ہے۔ بقول رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای: اربعین میں مقناطیسِ حسینی کا جاذبہ تمام لوگوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اربعین حسینی، شعائر اسلامی میں سے ہے۔ اربعین کے اس عظیم اجتماع کے پیچھے خدا کا ہاتھ ہے۔ یہ عشق اور بصیرت کا راستہ ہے۔ اس عظیم اجتماع میں صرف اجسام ایک دوسرے کے قریب نہیں آتے، بلکہ ارواح بھی ایک دوسرے سے مانوس ہوتی ہیں۔ یہ اجتماع اسلام کی عزت اور مسلمانوں کی وحدت کا سبب ہے۔[12]


حوالہ جات:

 

[1] ۔ "مَا أَخْلَصَ عَبْدٌ لِلَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ أَرْبَعِينَ صَبَاحاً إِلَّا جَرَتْ‏ يَنَابِيعُ‏ الْحِكْمَةِ مِنْ قَلْبِهِ عَلَى لِسَانِهِ." (عیون اخبار الرضا، محمد بن علی بن بابویہ، ج 2، ص 69، نشر جھان تہران، چاپ اول، 1378 ہجری۔)

[2] ۔ مَنْ حَفِظَ مِنْ أُمَّتِي أَرْبَعِينَ‏ حَدِيثاً يَنْتَفِعُونَ بِهَا بَعَثَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقِيهاً عَالِماً. (عیون اخبار الرضا، ج ۲، ص 35۔)

[3] ۔إِنَّ الْأَرْضِ‏ لَتَبْكِي‏ عَلَى الْمُؤْمِنِ إِذَا مَاتَ أَرْبَعِينَ صَبَاحاً. (امالی، شیخ طوسی، ص 535، دار الثقافہ قم، چاپ اول، 1414 ہجری۔)

[4] ۔  إِنَّ السَّمَاءَ بَكَتْ‏ عَلَى‏ الْحُسَيْنِ‏ بْنِ عَلِيٍّ وَ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا وَ لَمْ تَبْكِ عَلَى أَحَدٍ غَيْرِهِمَا قُلْتُ وَ مَا بُكَاؤُهَا قَالَ مَكَثَتْ أَرْبَعِينَ يَوْماً تَطْلُعُ كَشَمْسٍ بِحُمْرَةٍ وَ تَغْرُبُ بِحُمْرَةٍ قُلْتُ فَذَاكَ بُكَاؤُهَا قَالَ نَعَمْ. (کامل الزیارات، جعفر بن محمد قولویہ، ص 89، دار المرتضویہ نجف اشرف، چاپ اول، 1356 ہجری۔ )

[5] ۔  کامل الزیارات، ص 81۔

[6] ۔تهذیب الاحکام، طوسی، محمد بن حسن، ج 6، ص 52، دار الکتب الاسلامیہ، تهران، 1407ہجری۔

[7] ۔ بحار الانوار، محمد باقر مجلسی، ج 65، ص 130، دار احیاء التراث العربی بیروت، چاپ دوم، 1403 ہجری۔

[8] ۔ لہوف کی روایت کے مطابق: "وَ لَمَّا رَجَعَ نِسَاءُ الْحُسَيْنِ ع وَ عِيَالُهُ مِنَ الشَّامِ وَ بَلَغُوا الْعِرَاقَ قَالُوا لِلدَّلِيلِ مُرَّ بِنَا عَلَى طَرِيقِ كَرْبَلَاءَ فَوَصَلُوا إِلَى مَوْضِعِ الْمَصْرَعِ فَوَجَدُوا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ رَحِمَهُ اللَّهُ وَ جَمَاعَةً مِنْ بَنِي هَاشِمٍ وَ رِجَالًا مِنْ آلِ رَسُولِ اللَّهِ ص قَدْ وَرَدُوا لِزِيَارَةِ قَبْرِ الْحُسَيْنِ ع فَوَافَوْا فِي وَقْتٍ وَاحِدٍ وَ تَلَاقَوْا بِالْبُكَاءِ وَ الْحُزْنِ وَ اللَّطْمِ وَ أَقَامُوا الْمَآتِمَ الْمُقْرِحَةَ لِلْأَكْبَادِ وَ اجْتَمَعَ إِلَيْهِمْ نِسَاءُ ذَلِكَ السَّوَادِ فَأَقَامُوا عَلَى ذَلِكَ أَيَّاما." (اللھوف فی قتلی الطفوف، سید علی بن موسی ابن طاووس، ص 196، نشر جھان تہران، چاپ اول، 1348 شمسی۔ )

[9] ۔ "مَنْ أَتَى قَبْرَ الْحُسَيْنِ‏ مَاشِياً كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ وَ مَحَا عَنْهُ أَلْفَ سَيِّئَةٍ وَ رَفَعَ لَهُ أَلْفَ دَرَجَة" (وسائل الشیعہ، شیخ حر عاملی، ج 14، ص 440، موسسہ آل البیت قم، چاپ اول، 1409 ہجری۔)

[10] ۔ دیکھیے: دیکی شیعہ: http://fa.wikishia.net/

[11] ۔ اس حوالے سے دیکھیے: ویب سائٹ شیخ احمد شرفخانی: https://www.sharafkhani.com/

اور ولایت نیٹ: https://www.welayatnet.com/fa/news/100338

[12] ۔ ویب سائٹ آیت اللہ خامنہ ای: http://farsi.khamenei.ir/speech-content?id=34856

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ٹیگس: امام حسین, اربعین
+ لکھاری عباس حسینی در 30 Oct 2018 و ساعت 12:48 PM |

کیا امام حسین علیہ السلام کے قاتلین شیعہ تھے؟

کیا امام عالی مقام کو شیعوں نے بلا کر قتل کیا؟

 تحریر: سید عباس حسینی

 

جواب: یہاں ہم ابتدائی طور پر امام عالی مقام کے قتل میں ملوث چار اہم کرداروں  کا تذکرہ کرتے ہیں:

۱۔ یزید جوحاکم وقت تھا، اس  نے امام سے بیعت کا مطالبہ کیا تھا۔ امام نے یزید جیسے فاسق و فاجر کی بیعت سے انکار کیا۔ یزید اور اس کے کارندے امام سے بیعت لینے پر مصر رہے۔ نتیجے میں کربلا کی جنگ ہوئی اور امام عالی مقام شہید ہوئے۔ یزید جو کربلا کی جنگ کا اصلی محرک ہے اس کا مذہب کیا ہے یہ بات سب جانتے ہیں۔

۲۔عبید اللہ  ابن زیاد: جو پہلے بصرے کا گورنر تھا، بعد میں نعمان بن بشیر کی جگہ کوفے کا گورنر بنا۔ اس نے کوفے کے شیعوں کو ڈرا، دھمکا کر اور بعض کو قید میں ڈال کر یزید کی حکومت کوفے میں مستحکم کی۔ اسی کے حکم پر امام حسین علیہ السلام پر ساری سختاں ڈھائی گئیں اور لڑنے کے لیے کربلا فوج بھیجی گئی۔ ابن زیاد بھی بنی امیہ کا کارندہ ہے اور اس کے مذہب کے حوالےسے بھی زیادہ بات کرنے کی ضرورت نہیں۔

ابن زیاد کو یزید کی ہی طرف سے حکم آیا تھا کہ امام حسین علیہ السلام کوفے کی طرف نکلے ہیں لہذا ان کا کام تمام کرو اور انہیں مہلت مت دو۔  یہ بات ذہبی، سیوطی، یعقوبی، ابن عساکر وغیرہ سب نے لکھا ہے کہ حسین بن علی علیہما السلام سے جنگ کرنے، انہیں قتل کرنے اور ان کا سر شام بھیجنے کا حکم یزید کی طرفسے ہی تھا، اور یزید کے والی عبید اللہ نے یزید کے اس حکم کی تعمیل کی ہے ۔

3، 4۔ عمر بن سعد اور شمر بن ذی الجوشن: عمر بن سعد کو  ابن زیاد نے فوج کا سپہ سالار بنا کر کربلا روانہ کیا۔ بعد میں شمر کو بھیجا گیا کہ عمر بن سعد اگر کمزوری دکھائے تو تم سپہ سالار ہو۔ عمر بن سعد، سعد بن ابی وقاص کا بیٹا ہے۔ اس کا مذہب بھی واضح ہے کہ کوفے کے شیعوں اور اہل بیت کے چاہنے والوں میں اس کا شمار ہرگز نہ ہوتا تھا۔ شمر بن ذی الجوشن کا شمار بھی اہل بیت کے دشمنوں میں ہوتا تھا۔

 

کوفہ کے لوگوں نے امام کو خط لکھ کر بلایا تھا۔ یہ بات درست ہے۔ لیکن یہاں چند باتیں قابل توجہ ہیں۔

۱۔ حقیقی شیعہ وہ ہے جو اپنے امام کا تابعدار ہو۔ حقیقی محب وہ ہے جو اپنےامام سے محبت کرے۔ جو اپنے امام سے جنگ کرے اور مقابلے میں آئے وہ کیسے شیعہ ہو سکتے ہیں؟ شیعہ تو نام ہی پیروی اور اتباع  کرنے والے کا ہے۔ پس جو لوگ امام عالی مقام کے مقابلے میں آئے وہ در حقیقت شیعہ نہیں تھے۔

یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ کہیں حضرت رسول خداﷺ کو مدینے میں اذیت دینے  والے بعض صحابہ تھے۔ نہیں وہ منافقین تھے، جو صحابہ کے لباس میں تھے۔ کوئی جسے رسول مانتا ہو، خدا کا نمائندہ مانتا ہو، واجب الاطاعہ مانتا ہو اس کو کیسے اذیت دے سکتا ہے؟ کربلا میں امام عالی مقام کے مقابلے میں بھی ایسے ہی منافقین تھے۔

۲۔ ابتدا میں  کوفہ کے بہت  سارے لوگوں نے امام حسین علیہ السلام کی بیعت کی۔ لیکن کیا بیعت کرنے کا مطلب شیعہ ہونا ہے؟ اگر یہ بات ٹھیک ہو تو ان تمام لوگوں کو شیعہ مان لینا چاہیے جنہوں نے امام علی علیہ السلام کی بیعت کی تھی۔ پس اس لحاظ سے طلحہ، و زبیر و دیگر تمام لوگ شیعہ ہوئے۔ حالانکہ اس بات کو کوئی نہیں مانتا۔

۳۔ معاویہ بن ابی سفیان جب تخت حکومت پر آیا ہے اس نے شیعیان علی علییہ السلام کی ہر جگہ نسل کشی کی ہے۔ کوفہ چونکہ اس وقت شیعوں کا مرکز تھا، لہذا زیاد بن ابیہ کی خصوصی ڈیوٹی لگائی گئی۔ بہت ساروں کو قتل کیا گیا، اور بہت سارے ہجرت پر مجبور ہو گئے۔ معاویہ کے 20 سالہ دورِ حکومت کے بعد کوفہ میں ویسے بھی شیعوں کی تعداد انتہائی کم رہ گئی تھی اور بنی امیہ کے حامیوں کو یہاں بسایا گیا تھا۔ اس بات پر بہترین شاہد امام حسین علیہ السلام کا  روز عاشورہ دیا گیا وہ خطبہ ہے جس میں آپ اپنے دشمنوں کو ابو سفیان کے شیعہ کہہ کر خطاب کرتے ہیں اور فرماتے ہیں:ويحكم يا شيعةآ ل أبي سفيان! إن لم يكن لكم دين، وكنتم لا تخافون المعاد، فكونوا أحراراً في دنياكم هذه۔

اسی طرح سے کربلا میں لڑنے والے بعض سپاہیوں سے جب امام حسین علیہ السلام نے پوچھا کہ تم اتنے سارے مظالم کیوں کر رہے ہو تو ان کا جواب یہی تھا کہ تم سے اور تمہارے بابا سے ہماری دشمنی ہے۔ نقاتلك بغضاً لأبيك۔

جو شخص امام حسین علیہ السلام اور امام علی علیہ السلام سے بغض رکھتا ہو کیا وہ شیعہ ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔

ان تمام حقائق کے باوجود جو لوگ قاتلین امام حسین علیہ السلام کے شیعہ ہونے پر اصرار کرتے ہیں ہم ان سے کہیں گے وہ یزید سے بھی زیادہ یزیدی بننے کی کوشش مت کریں۔ کیونکہ یزید نے بھی کبھی یہ نہیں کہا تھا کہ امام حسین علیہ السلام کو ان کے شیعوں نے قتل کیا ہے اور میرا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ بلکہ یزید نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے یہ کہا تھا کہ اسے عبید اللہ بن زیاد نے قتل کیا ہے ۔ پھر بھی اگر کوئی اصرار کرتا ہے تو ہم ان سے کہتے ہیں کہ آئیے۔۔ کسی کا نام لینے کی ضرورت نہیں۔۔ سب مل کر قاتلین امام حسین علیہ السلام سے اظہار برائت کرتے ہیں، ان پر لعنت بھیجتے ہیں۔ جس جس کا بھی امام عالی مقام کے قتل میں جو بھی حصہ ہے، چاہے اس نے بیعت لینے کا حکم دیا ہو، چاہے اس نے کربلا کی طرف فوج  کو روانہ کیا ہو، چاہے اس نے سپہ سالاری کی ہو، چاہے اس نے نیزوں، تیروں اور تلواروں سے جنگ کی ہو۔۔ سب پر اللہ کی، اس کے رسول کی اورتمام لوگوں کی تا قیامت لعنت ہو۔ آمین۔

 


ٹیگس: امام حسین, شیعہ
+ لکھاری عباس حسینی در 27 Oct 2018 و ساعت 10:42 PM |

افلاطون اور ارسطو کے نظریات میں تین بنیادی فرق:

 

افلاطون اشراقی جبکہ ارسطو مشائی مکتب کا تھا۔ اشراقی روش میں زیادہ تر شہود اور تزکیہ نفس پر زور دیا جاتا ہے، جبکہ اشراقی روش خالص طور پر عقلی اور استدلالی روش ہے۔ یہاں ہم افلاطون اور ان کے شاگرد ارسطو کے نظریات میں موجود تین بنیادی فرق بیان کرتے ہیں۔

 

۱۔ افلاطون عالم مثل (Ideas) کے قائل تھے جس کے مطابق اس کائنات میں جو کچھ موجود ہے وہ در حقیقت اصل وجود نہیں ہے۔ اصل وجود کسی اور دنیا میں ہے، جبکہ اس دنیا میں جو کچھ موجود ہے وہ فقط سایہ ہے۔ مثلا اس دنیا میں جتنے انسان بستے ہیں ان سب کی ایک حقیقت اور اصل ہے جو عالم مثل میں ہے۔ جبکہ یہاں جتنے افراد نظر آتے ہیں وہ فقط اس اصلی وجود کے سایے کی مانند ہے۔
ارسطو اس نظریے کے سخت مخالف تھے اور کلی انسان کو صرف ذہن کی اختراع سمجھتے ہیں۔

 

۲۔ افلاطون قائل ہیں کہ انسان کی روح کا تعلق بھی اسی عالم مثل سے ہے۔ لہذا انسانوں کی تخلیق سے پہلے ان کی ارواح ایک بالاتر جہان یعنی عالم مثل میں موجود ہیں۔ جب انسانی بدن کی تخلیق ہوتی ہے تو وہ روح آکر اس بدن سے تعلق پیدا کر لیتی ہے۔
جبکہ ارسطو قائل ہے کہ انسانی جسم جب ایک خاص مرحلہ طے کرتا ہے تب اس کی روح کی پیدائش اسی بدن میں ہوتی ہے۔

 

۳۔ افلاطون کا نظریہ ہے کہ انسان تمام حقائق کا علم رکھتا ہے، چونکہ اسکی روح عالم مثل سے آئی ہے۔ لیکن اس مادی دنیا میں آکر وہ سب کچھ بھول جاتا ہے۔ انسان کے لاشعور میں ہرچیز کا علم موجود ہے، بس اسے یاد کرانے کی ضرورت ہے۔ پس علم کا تعلق یاد کرنے سے ہے، کوئی نیا اضافہ نہیں ہے۔
جبکہ ارسطو قائل ہیں کہ انسان جس وقت اس دنیا میں آتا ہے اس کی روح ایک سفید کپڑے کی مانند سفید ہے اور اس کے پاس کسی چیز کا علم نہیں ہے۔ ہاں علوم حاصل کرنے کی استعداد موجود ہے جس کے ذریعے وہ علوم کی تحصیل شروع کرتا ہے۔ پس علم کی تحصیل کی ابتدا اسی مادی دنیا سے شروع ہوتی ہے اور انسان کسی اور دنیا سے علم لے کر نہیں آتا۔

 


ٹیگس: ارسطو, افلاطون, مثل کا نظریہ
+ لکھاری عباس حسینی در 24 Oct 2018 و ساعت 11:57 PM |