خورشیدِ عالم

زمانہ غیبت میں وجود امام مہدی علیہ السلام سے استفادے کی کیفیت

 

امام زمان علیہ السلام سے عصرِ غیبت میں استفادے کی کیفیت کے حوالے سے ایک اہم تشبیہ متعدد روایات میں ذکر ہوئی ہے۔ ان روایات کے مطابق زمانہ غیبت میں لوگ آپ کے وجودِ مبارک سے ایسے استفادہ کریں گے جیسے بادلوں کی اوٹ میں موجود سورج سے کرتے ہیں۔ تشبیہ میں سب سے اہم بحث وجہِ شبہ کی ہوتی ہے۔ پس یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ وجودِ مبارک امام زمان علیہ السلام اور سورج کے درمیان وجہِ شبہ کیا ہے؟ اس حوالے سے علماء نے متعدد نکات ذکر کئے ہیں۔

 

۱۔ سورج چاہے ظاہر ہو یا بادلوں کے پیچھے، جس نظام میں ہم جی رہے ہیں اس کا مرکز ہے۔ اسی طرح امام زمان علیہ السلام کا وجود اس کائنات کا مرکز ہے جس کے گرد باقی تمام موجودات چکرکاٹ رہی ہیں۔ "ببقائه بقيت الدنيا وبيمنه رزق الوراء وبوجوده ثبتت الأرض والسماء."

 

۲۔ سورج کے فوائد بہت زیادہ ہیں جن میں سے اکثر فائدے سب انسانوں تک ہمیشہ پہنچتے رہتے ہیں، فرق نہیں کرتا سورج کے آگے بادل ہوں یا نہ ہوں۔ مثلا سورج کی حرارت اور روشنی جو بادلوں کے باوجود زمین تک پہنچتی رہتی ہیں۔ سورج کی کشش ثقل جس پر یہ نظام کھڑا ہے۔ اگر ایک لمحے کے لیے سورج ہٹ جائے اس نظام نے تباہ ہونا ہے۔ زمین پر موجوداکثر نعمتوں کا سورج سے واسطہ ہے۔ امام کے بارے بھی کہا گیا کہ ان کے وجود کی برکت سے زمین سے سبزہ اگتا ہے، بارانِ رحمت کا نزول ہوتا ہے، چشمے جاری ہوتے ہیں، نہریں بہتی ہیں۔(بِنَا يُنَزِّلُ اَلْغَيْثَ وَ تُنْشَرُ اَلرَّحْمَةُ وَ تَخْرُجُ بَرَكَاتُ اَلْأَرْضِ) لہذا کہا گیا اگر حجتِ خدا نہ ہوتو ساری زمین انسانوں سمیت برباد ہوجائے گی۔(لو بقيت الأرض بغير إمام لساخت)

 

۳۔ بادلوں نے سورج کو نہیں گھیرا، بلکہ ہمیں گھیرا ہو اہے جس کی وجہ سے ہم سورج کو دیکھنے سے محروم ہیں۔ سورج کے فیض میں کبھی کسی وقت کوئی کمی نہیں ہوئی۔ اس کا فیض مسلسل جاری ہے۔ فرض کریں یہی بادلوں کے پیچھے موجود سورج بھی نہ ہو تب اس نظام اور ہماری دنیا کا کیا بنے گا؟ وجودِ امام زمانؑ بھی اسی طرح ہے۔ آپؑ کے فرمان کےمطابق: ہم مسلسل تمہاری یاد اور فکر میں ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو سختیاں اور دشمن تمہیں گھیر لیتے۔"إنا غير مهملين لمراعاتكم ولا ناسين لذكركم ولولا ذلك لنزل بكم اللأواء واصطملكم الأعداء."

 

۴۔ سورج اور انسانوں کے درمیان بادلوں کا  پردہ ان لوگوں کے لیے جو بادلوں سے نیچے زندگی گزار رہے ہوں۔ اگر کسی میں یہ صلاحیت ہو کہ وہ بادلوں سے آگے کا فاصلہ طے کرے تب وہ سورج کی روشنی سے براہ راست فیض یاب ہو سکتا ہے۔ امام زمانؑ ان لوگوں کی نسبت غائب ہیں جو دنیا اور مادیات کے ساتھ چسپے ہوئے ہیں۔ جو لوگ معنویت کے آسمانوں میں سیر کررہے ہوتے ہیں وہ ہمیشہ امامؑ کے حضور میں ہیں۔

 

۵۔  بادلوں کی اوٹ میں موجود سورج سے استفادے کے باوجود لوگ بادلوں کے ہٹنے کے منتظر رہتے ہیں تاکہ استفادہ اور بڑھ جائے۔ انہیں علم ہے ان بادلوں نے بالآخر ہٹ جانا ہے۔  اسی طرح حقیقی منتظرین ہر لحظہ پردۂ غیبت کے ہٹنے کے منتظر رہتے ہیں اور کبھی مایوس نہیں ہوتے۔

 

۶۔ تمام تر دلیلوں کے باوجود اگر کوئی امام مہدیؑ کے وجود کا منکر ہو تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے تمام تر آثار کے باوجود کوئی پشتِ بادل موجود سورج کا منکر ہو۔

 

۷۔  بعض اوقات سورج کا پشتِ ابر چلے جانا لوگوں کی منفعت میں ہوتا ہے۔ اسی طرح بعض مصلحتوں کی بنا پر ایک مدت تک امام کا پردۂ غیب میں رہنا لوگوں کے فائدے میں ہے۔

 

۸۔ امام کا وجود سورج کی مانند ہے جس کا نفع ہر عام و خاص تک پہنچتا ہے۔ سورج بادلوں کے پیچھے ہو یا بادلوں کے بغیر جو "اندھا" ہو اس کے لیے سورج کی روشنی کسی کام کی نہیں۔

 

استفادہ از کتاب

بحار الانور، علامہ مجلسی، جلد 52

عصارہ خلقت، علامہ جوادی آملی


ٹیگس: امام مہدی, امام زمان
+ لکھاری عباس حسینی در 9 Apr 2020 و ساعت 12:1 AM |

امامِ غائب کی برکات

تحریر: عباس حسینی

 

ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال آئے کہ اس امام کا کیا فائدہ جو غائب ہیں؟ جو ہماری دسترس میں نہیں؟ جن سے ہم میل ملاقات نہیں کر سکتے؟جن سے ہم سوال اور مسائل نہیں پوچھ سکتے؟

 

امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کے اسباب پر اگر ہم غور کریں تو اس سوال کا جواب خود بخود واضح ہوگا۔ امام کی غیبت ہماری وجہ سے ہے۔ در حقیقت امام غیب میں نہیں ہم غیب میں ہیں۔ جن میں لیاقت اور استعداد ہے وہ امام سے ملاقات بھی کرتے ہیں اور ان کی فیوضات سے شرفیاب بھی ہوتے ہیں۔امام پردے میں نہیں، ہم پردے میں ہیں۔ بقول کسی شاعر کے:

پردہ آنکھوں پر پڑا ہے، وہ کہاں پردے میں ہیں؟!

 

البتہ عام لوگوں کی نسبت بھی امام کا وجود سراسر فیض، برکت، عطا، بخشش اور فائدہ مند ہے۔

یہاں ہم اس مختصر تحریر میں  امام کے وجود کےصرف  چند فوائد کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ (تفصیلات کے لیے کتابوں کی طرف مراجعہ کیجیے۔)

 

۱۔ بہت ساری روایات کے مطابق ہر دور میں خدا کی کسی حجت کا زمین پر ہونا ضروری ہے۔ امام فیضِ الہی کے مخلوقات تک پہنچنے کے لیے واسطہ ہوتے ہیں۔ اسی حجتِ خدا کی برکت سے زمین سے سبزہ اگتا ہے، بارانِ رحمت کا نزول ہوتا ہے، چشمے جاری ہوتے ہیں، نہریں بہتی ہیں۔(بِنَا يُنَزِّلُ اَلْغَيْثَ وَ تُنْشَرُ اَلرَّحْمَةُ وَ تَخْرُجُ بَرَكَاتُ اَلْأَرْضِ) لہذا کہا گیا اگر حجتِ خدا نہ ہوتو ساری زمین اپنے باسیوںسمیت برباد ہوجائے گی۔(لو بقيت الأرض بغير إمام لساخت)

 

۲۔ معنوی ہدایت: ظاہری ہدایت کے علاوہ باطنی اعمال کے ذریعے ہدایت (تکوینی ہدایت)بھی معصوم کا کام ہے۔ امام باطنی ہدایت کے ذریعے لوگوں کو خدا کی طرف بلاتے اور اس ذات باری کے قریب کرتے ہیں۔ قرآن کی تعبیر میں "وَجَعَلْنَاهُمْ اءَئِمَّةً یَهْدُونَ بِأمْرِنَا" امام کا کام امرِ خدا کے ذریعے لوگوں کی ہدایت ہے۔باطنی ہدایت  کا تعلق عالم امر اور ملکوت سے ہے۔ امام اپنی نورانیت اور باطنی تصرف کے ذریعے شائستہ افراد کو خدا کے قریب جانے میں مدد فرماتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مشہور مستشرق ہانری کربن نے کہا: تشیع دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے خدا اور مخلوق کے درمیان ہدایت کے وسیلے کو ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھا ہوا ہے۔تشیع کے مطابق ولایت کا سلسلہ اب بھی باقی ہے جس کا تعلق لوگوں کی معنوی ہدایت سےہے۔امام صادق ؑ نے اسی مطلب کی طرف اشارہ فرمایا: (مَا زَالَتِ اَلْأَرْضُ إِلاَّ وَ لِلَّهِ فِيهَا اَلْحُجَّةُ يُعَرِّفُ اَلْحَلاَلَ وَ اَلْحَرَامَ وَ يَدْعُو اَلنَّاسَ إِلَى سَبِيلِ اَللَّهِ .) جب تک زمین ہے اس میں اللہ کی طرف سے حجت بھی ضرور ہوگی جو لوگوں کو حلال اور حرام کے بارے بتائے گی اور لوگوں کو خدا کے راستے کی طرف دعوت دے گی۔

 

۳۔ دینِ خدا کی حفاظت: امیر المؤمنین ؑ کی حدیث(لا تخلو الارض من قائم لله بحجّة، إمّا ظاهراً مشهوراً، وإمّا خائفاً مغموراً، لئلاّ تبطل حجج الله وبيّناته) کے مطابق زمین کسی بھی وقت حجت خدا سے خالی نہیں ہو سکتی چاہے وہ حجت ظاہر ہو  چاہے مخفی، تاکہ دین ضائع ہونے سے اور تحریف سے بچ جائے۔ امام زمانؑ پردہ غیب سے دین کے امور کی سرپرستی فرما رہے ہوتے ہیں۔ آپ جہاں مناسب سمجھیں اپنے لطف کےذریعے فقہاء اور علماء کو درست راستے کی نشاندہی فرماتے  ہیں۔ اس حوالے سے شیخ مفید کا واقعہ مشہور ہے جہاں آپ نے ایک مسئلے میں غلط فتوی صادر کیا اور امام زمانؑ نے ان کے فتوی کی اصلاح کی۔ اسی طرح بہت سارے عرفاء کے واقعات ملتے ہیں جہاں وہ مختلف شکلوں میں اپنی مشکلات امام کی بارگاہ سے حل کرتے تھے۔اسی لیے امام صادقؑ نے فرمایا: (إِنَّ اَلْأَرْضَ لاَ تَخْلُو إِلاَّ وَ فِيهَا إِمَامٌ كَيْمَا إِنْ زَادَ اَلْمُؤْمِنُونَ شَيْئاً رَدَّهُمْ وَ إِنْ نَقَصُوا شَيْئاً أَتَمَّهُ لَهُمْ) زمین امام سے خالی نہیں رہے گی۔ اگر مومنین (دین میں) کچھ اضافہ کریں تو امام اسے کم کرتے ہیں، اگر کم کریں تو امام اسے پورا کرتے ہیں۔

 

۴۔ امام کا وجود امید کی کرن: ایک ایسے امام کا وجود جن کے بارے میں یہ عقیدہ ہو کہ انہوں نے دنیا سے ظلم و ستم کا خاتمہ کرنا ہے اور عدل و انصاف قائم کرتے ہوئے دنیا بھر کے مظلومین اور مستضعفین کے حقوق کا دفاع کرنا ہے تمام انسانیت کے لیے امید کا باعث ہے۔ ایسی صورت حال میں دنیا بھر کے مظالم دیکھتے ہوئے بھی انسان کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا۔ بشریت کے روشن مستقبل کی امید اسے ہمیشہ طاقت بخشتی ہے۔

 

۵۔ زمانہ غیبت میں امام عصرؑ سے استفادے کی کیفیت کے حوالے سے جب امام صادقؑ سے پوچھا گیا تو آپؑ نے یوں جواب دیا: (كما ينتفعون بالشمس إذا سترها السحاب) زمانہ غیبت میں امام سے لوگ ایسے فائدہ اٹھائیں گے جیسے بادلوں کی اوٹ میں موجود سورج سے لوگ استفادہ کرتے ہیں۔ امامؑ کے پردۂ غیب میں جانے کے اسباب پر بحث ایک الگ موضوع ہے، البتہ اس کی وجہ سے آپ کے وجود کے فائدے کم ضرور ہوئے ہیں، لیکن ختم ہرگز نہیں ہوئے، جیسے بادلوں کی اوٹ میں موجود سورج۔

 


ٹیگس: امام مہدی, امام زمان
+ لکھاری عباس حسینی در 8 Apr 2020 و ساعت 3:53 AM |

امام زمان علیہ السلام

اور

چھوٹی عمر کی امامت

تحریر: عباس حسینی

 

امامت ایک بہت بڑا منصب ہے۔ دین اور دنیا کے امور کی زمام سنبھالنے کا نام ہے۔ امام معاشرے کا پیشوا ہوتا ہے۔ امام،  ہادی اور رہبر ہوتا ہے جس کے پیچھے سارے معاشرے نے چلنا ہوتا ہے۔ اندرونی مسائل ہوں یا بیرونی مشکلات سب کو حل کرنے کی ذمہ داری امام کے کاندھوں پر ہوتی ہے۔ امامت کی ان تمام تر سنگین ذمہ داریوں کو دیکھتے ہوئے یہ سوال پیش آتا ہے کہ ایک چھوٹا سا بچہ کہ جس کی عمر پانچ یا آٹھ سال ہو وہ کیسے اتنی بڑی ذمہ داری سنبھال سکتا ہے؟ اس بات کی کیا توجیہ ہےکہ شیعوں کے ہاں پانچ اور آٹھ سال کےبچے امام بنتے رہے ہیں۔

 

یہ بات درست ہے کہ امام مہدی علیہ السلام جب منصب امامت پر فائز ہوئے اس وقت آپ کی عمر 5 سال تھی۔ اسی طرح  منصب امامت سنبھالتے وقت امام تقی علیہ السلام کی عمر 7 سال جبکہ  امام علی نقی علیہ السلام کی عمر 9 سال تھی۔

 

ایک تو وہی جواب ہے  جو امام جواد علیہ السلام نے اپنی امامت کے حوالے سے اشکال کرنے والوں کو دیا تھا کہ یہ منصب الہی ہے خدا جسے چاہے جب چاہے دیتا ہے۔ کسی کو بچپن میں دیتا ہے تو کسی کو چالیس سال کی عمر میں۔ حضرت عیسیؑ ابھی ماں کی گود میں تھے کہ اعلان فرمایا:" إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا" (میں خدا کا بندہ ہوں۔ اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔)قرآن نے حضرت یحیٰؑ کے بارے میں کہا: "يَا يَحْيَى خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّة وآتَيْناهُ الْحُكْمَ صَبِيَّاً" (اے یحیٰ، کتاب کو مضبوطی سے پکڑو، اور ہم نے اسے بچپنے میں حکم(نبوت) عطا کیا۔)اور یہ تو فخر عیسیؑ اور فخر یحیؑ ہیں، ان کی امامت کے بارے میں شک کیوں؟

 

 امام در حقیقت علم لدنی کا مالک ہوتا ہے۔ امام کسی کے پاس جا کر علم نہیں سیکھتا۔ امامت منصب الہی ہے۔ لیاقت دیکھ کر خدا کا عطا کیا ہوا تحفہ ہے۔ لہذا اس حوالے سے چھوٹی عمر اوربڑی عمر کا کوئی فرق نہیں۔ خداوند متعال اپنی بے پناہ قدرت کے ساتھ چھوٹے سے بچے کی عقل کو کامل بنا سکتا ہے۔ جس طرح چاہے کسی کو رشد دے سکتا ہے۔

 

اور پھر انسان کی حقیقت اس کا جسم نہیں، اس کی روح ہے۔ ائمہ علیھم السلام کی ارواح طیبہ کے حوالے سے روایات میں آیا ہے کہ

 خدا کی سب سے پہلی مخلوقات ہیں۔البتہ اس نورانی عالم میں وہ سب ایک نور تھےجو بسیط شکل میں موجود تھا۔ وہ نور تمام تر کمالات کا مالک تھا۔ پس جب ہم اس نورانی مرتبے کو ملحوظ رکھتے ہیں تب عالم مادی میں آنے کے بعد ان کی کم عمری پر اشکال بے معنی سا لگتا ہے چونکہ سارے کمالات ان کو پہلے سے حاصل ہیں۔ وہ عام انسانوں کی طرح ہرگز نہیں ہیں۔ پس اس حوالے سے عام انسانوں کے ساتھ ان کا مقایسہ درست نہیں۔

 

 تاریخی حوالے سے بھی دیکھیں تو سارا زمانہ ان کے علمی کمالات اور رشدِ عقلی کے معترف نظر آتا ہے۔ یحی بن اکثم کا واقعہ ملاحظہ کیجیے کہ جو ریاست کا مفتی اعظم تھا لیکن امام تقی علیہ السلام کی علمی قدرت کے سامنے ہار ماننے پر مجبور ہوگیا اور مامون عباسی  کو بھی کہنا پڑا: "وأن صغر السن فيهم لا يمنعهم من الكمال" کہ چھوٹی عمر اس خاندان میں کمالات کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے۔

 

 اسی طرح  تاریخ کہتی ہے کہ امام تقی علیہ السلام  کے بعض اصحاب آپ سے سوالات کرتے گئے اور چند دنوں کے اندر آپ نے  تیس ہزار سوالوں کے جواب دے دئیے جبکہ اس وقت آپ کی عمر صرف 9 سال تھی۔

 

سید محمد باقر صدر علیہ الرحمہ نے  استقراء کے حوالے سے اپنے جدید نظریے (جو حساب احتمالات پر قائم ہے)  کے مطابق اس مسئلے کو عقلی بنیادوں پر حل کیا ہے ۔

سید صدر کے مطابق اتنی کم عمری میں ائمہ علیھم السلام کا  منصب امامت سنبھالنا شیعیت کی حقانیت کی سب سےبڑی دلیل ہے۔  حالانکہ اس وقت شیعہ طائفہ میں بڑے بزرگان اور اصحاب بھی تھے لیکن سب ائمہ علیھم السلام کی امامت پر متفق تھے۔ یقینا ان ہستیوں میں کچھ ایسا دیکھا ہوگا جو ان کی امامت کے معترف ہوگئے۔

 

یہاں پر چند احتمالات ہیں۔

۱۔ لوگوں کو پتہ نہیں چلا کہ امام ابھی چھوٹے اور کم عمر ہیں۔ یہ احتمال ممکن نہیں چونکہ شیعہ اپنے اماموں کو لوگوں سے چھپا کر نہیں رکھتے تھے، بلکہ لوگوں کا امام سے براہ راست رابطہ ہوتا تھا۔

۲۔ اس وقت کے لوگ اتنے سادہ تھے کہ چھوٹے سے بچے کی امامت قبول  کر لی۔ یہ بات بھی ممکن نہیں چونکہ ان میں بڑے بڑے اصحاب بھی تھے جو مکتب امام صادق علیہ السلام کے پروردہ تھے۔ جو علمی اور فقہی اعتبار سے بڑے مراتب پر فائز تھے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک چھوٹے بچے نے اتنے بڑے اصحاب کو (نعوذ باللہ) اپنی "جھوٹی" امامت پر قائل کیا ہو؟جبکہ اس وقت شیعیت مدینے سے  لے کرکوفہ اور قم تک پھیلی ہوئی تھی۔

۳۔ امامت کا مفہوم لوگوں کے لیے واضح نہیں تھا۔ لوگ شاید امامت کو بادشاہت کی طرح نسل در نسل وراثت سمجھتے تھے۔ اس کی شروط اور تفصیلات سے آگاہ نہیں تھے۔تاریخی حوالے سے یہ بات بھی درست نہیں چونکہ تقریبا دو صدیوں سے شیعوں کے درمیان امامت کا سلسلہ چل رہا تھا اور اس کے مفہوم، شرائط اور صفات سے بخوبی آگاہ تھے۔

۴۔ چوتھا احتمال یہ ہے کہ سارے شیعوں نے جھوٹ اور باطل پر اتفاق کر لیا ہو۔ یہ بھی عقلی طور پر اور تاریخی بنیادوں پر ممکن نہیں۔ شیعوں میں بڑے متقی ، پرہیزگار اور باوفا اصحابِ ائمہؑ موجود تھے۔ ان سب کا جھوٹ پر اتفاق کیسے ممکن ہے؟تاریخ گواہ ہے کہ شیعوں نے اذیتیں اور صعوبتیں  برداشت کی ہیں لیکن اپنے عقیدے سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے۔

 

پس یہ سارے احتمالات جب ختم ہوں تو صرف یہی احتمال بچتا ہے کہ امام معصوم ہوتے تھےجن میں معاشرے کو چلانے کی تمام تر خداداد صلاحیتیں موجود تھیں۔ لہذا اس وقت کے بڑے بڑے اصحاب بھی حکمِ خدا کے تحت ان کی اتباع کرتے تھے۔ اگر خدا نخواستہ ان میں کسی قسم کی کمی ہوتی تو مخالفین زمین آسمان ایک کر دیتے کہ یہ دیکھو شیعوں کے امام میں یہ کمی ہے۔ وہ زمانہ علمی ترقی اور عروج کا زمانہ تھا۔ یونانی فلسفہ تک کا ترجمہ ہو چکا تھا۔ لیکن ان سب کے باوجود اپنے تو اپنے ، مخالفین کو بھی ان ائمہؑ  کی تعریفوں کے پل باندھتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ یہ سب ان کی حقانیت کی دلیل ہے۔

 

فلسفی حل اور جواب:

انسان کی عمر کا اندازہ عام طور پر زمین کی سورج کے گرد حرکت سے لگایا جاتا ہے۔ فرض کریں ایک انسان کی پیدائش سے لے کر اب تک زمین نے 30 مرتبہ سورج کے گرد اپنا چکر مکمل کر لیا ہے تو کہا جاتا ہے اس انسان کی عمر 30 سال ہے۔ فلسفی حوالے سے زمان، مقدارِ حرکت کا نام ہے۔ عام حساب و کتاب میں  انسان کی عمر کا لحاظ کرتے ہوئے انسان کی اپنی حرکت کا لحاظ کیے بغیر، زمین کی حرکت کو معیار بنایا جاتا ہے۔ جبکہ زمین کی حرکت کی نسبت انسان کی طرف دینا ایک نوع مجاز گویی ہے، حقیقت نہیں۔ یعنی حقیقت میں زمین نے حرکت کی ہے، انسان نے حرکت نہیں کی۔

 

انسان کی حقیقی حرکت یہ ہے کہ اس کا وجود اختیاری طور پر متحرک ہو اور قربِ پرودرگار کی منازل طے کرے۔ اس کی روح تجرد کے مراحل طے کرے۔ اس حرکت کا اگر لحاظ کیا جائے تب انسانوں کی حقیقی عمر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اب ممکن ہے ایک انسان عمومی اعتبار سے 50 سال کا سفر طے کرے لیکن روحانی حرکت کے لحاظ سے اس نے کوئی خاص فاصلہ طے نہ کیا ہو۔ پس ممکن ہے اس کی حقیقی عمر ایک بچے کی مانند ہو۔ جبکہ اس کے برخلاف، ممکن ہے ایک شخص جس کی عمر ظاہری لحاظ سے چند سال ہو، لیکن باطنی سیر اور کمالات کی طرف سفر کے لحاظ سے اس کی حقیقی عمر بہت زیادہ ہو۔ ائمہ علیہم السلام کے حوالے سے ہم اسی بات کے قائل ہیں۔


ٹیگس: امام مہدی, امام زمان
+ لکھاری عباس حسینی در 7 Apr 2020 و ساعت 1:59 AM |

امام زمان علیہ السلام اور لمبی عمر

تحریر: سید عباس حسینی

 

شیعہ عقائد کے مطابق امام مہدی علیہ السلام کی ولادت 255 ہجری میں ہو چکی ہے۔ اس وقت 1441 ہجری کا سال چل رہا ہے۔ اس لحاظ سے امام مہدی علیہ السلام کی عمرمبارک  1186 سال ہے۔ عام طور پر سوال کیا جاتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے ایک انسان اتنی لمبی عمر جی لے؟ دنیا میں جو اس وقت رائج ہے اس لحاظ سے زیادہ سے زیادہ ایک انسان سو سال یا اس سے کچھ زیادہ زندہ رہ سکتا ہے۔ اتنی لمبی مدت تک کے لیے  کوئی کیسے زندہ رہ سکتا ہے؟

 

اس سوال کے مختلف جوابات دئیےجا سکتے ہیں جن میں سے بعض نقضی جواب ہوں گے جو مخاطب کو چپ کروانے کے لیے دئیے جاتے ہیں، جبکہ کچھ حلی جوابات ہوں گے جو مسئلے کو سرے سے حل کریں گے۔

 

۱۔ ابلیس جو بدی کا محور ہے اورشیطان کا نمائندہ ہے اگر ہزاروں سال سے زندہ ہے تو رحمان کے نمائندے کے زندہ رہنے پر اشکال کیوں؟

 

۲۔ حضرت عیسیؑ کے بارے میں تمام مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ ہے کہ وہ زندہ ہیں۔ قرآن نےسورہ نساء کی آیات 157 تا 159 میں  کہا کہ حضرت عیسیؑ کے قتل ہونے کی بات غلط ہے۔ عیسائیوں کو اس حوالے سے غلط فہمی ہوئی ہے بلکہ اللہ تعالی نے انہیں اپنی طرف اٹھایا ہے۔ وَما قَتَلُوهُ وَما صَلَبُوهُ وَلكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ... وَ ما قَتَلُوهُ يَقِيناً بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَ كانَ اللَّهُ عَزِيزاً حَكِيماً  (انہوں نے حضرت عیسیؑ کو قتل کیا نہ سولی چڑھایا بلکہ دوسرے شخص کو ان کی شبیہ بنا دیا گیا تھا۔۔۔ انہوں نے مسیح کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں اپنی طرف اٹھایا ہے۔) حضرت عیسیؑ کی ولادت کو اس وقت 2020سال گزر چکے ہیں۔ اگر کسی مصلحت کے تحت عیسیؑ زندہ رہ سکتے ہیں تو آخری نؐبی کے وصی کے زندہ رہنے پر اشکال کیوں؟

 

۳۔ اسی طرح مسلمانوں کے مطابق حضرت خضرؑ بھی زندہ ہیں۔ کچھ روایات کےمطابق حضرت الیاسؑ بھی زندہ ہیں۔ حضرت ادریسؑ کے زندہ ہونے کے حوالے سے بھی اقوال موجود ہیں۔ ایسے میں صرف امام زمانؑ کی عمر مبارک پر اشکال کیوں؟

 

۴۔ تاریخی طور پر ثابت ہے کہ بہت سارے انبیاء بہت لمبی عمر پاتے رہے ہیں۔ مختلف روایات کے مطابق حضرت آدمؑ نے 930 سال، حضرت ہودؑ نے 670 سال، حضرت ایوبؑ نے 226 سال، حضرت یعقوبؑ نے 170 جبکہ حضرت نوحؑ نے 2500 سال عمر پائی۔ بعض روایات کےمطابق آپ کو کشتی بنانے میں 200 سال لگے۔ حضرت نوح ؑکے بارے میں قرآن(سورہ) میں آیا ہے کہ آپ نے 950 سال اپنی قوم میں تبلیغ کی۔ وَلَقَدْ أَرْسَلْنا نُوحاً إِلى قَوْمِهِ فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلاَّ خَمْسِينَ عاماً فَأَخَذَهُمُ الطُّوفانُ (اور بتحقیق ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان کے درمیان پچاس سے کم ایک ہزار سال رہے۔ پھر طوفان نے انہیں گرفت میں لیا۔)آیت طوفان سے پہلے کی مدت 950 سال بتار ہی ہے۔ وہ بھی اس وقت سے جب آپ مبعوث بہ رسالت ہوئے۔ پس ان مثالوں کو دیکھتے ہوئے کسی نیک شخصیت کے لیے لمبی عمر پانا  سنن الہٰی کے عینِ مطابق ہے۔

 

۵۔ ایک اور مثال اصحاب کہف کی ہے جن کے بارے میں قرآن میں ایک پوری سورت موجود ہے۔ قرآن کے مطابق وہ 309 سال تک زندہ رہے۔ وَلَبِثُوا فِي كَهْفِهِمْ ثَلَاثَ مِائَةٍ سِنِينَ وَازْدَادُوا تِسْعًا۔ وہ خدا جو اصحابِ کہف کو ایک خاص ہدف کے تک اتنی مدت تک زندہ رکھتاہے کسی مصلحت کے تحت امام مہدی علیہ السلام کو بھی زندہ رکھ سکتا ہے۔

 

6۔ یہ خدا کا ارادہ ہے کہ امام زمان علیہ السلام اتنی لمبی مدت تک زندہ رہیں اور جب تک خدا نے چاہا زندہ رہیں گے۔ خداکے "کن" اور ارادے کے سامنے کونسی چیز ٹھہر سکتی ہے؟ پس عمر امام زمان علیہ السلام پر اشکال در حقیقت خدا کے ارادے پر اشکال ہے۔ اللہ تعالی اپنا یہ ارادہ عام اور عادی طریقے سے بھی پوار کر سکتا ہے اور غیر عادی طریقے  "خرقِ عادت" کے ذریعے بھی۔ علامہ طباطائی کے نزدیک یہ خرقِ عادت کے ذریعے ہے۔ خرقِ عادت کوئی محال کام نہیں ہوتا بلکہ عام اسباب سے ہٹ کر غیر معلوم اور غیر مرئی اسباب کے ذریعے خداوند متعال وہ کام انجام دیتا ہے۔ پس طولِ عمر کے مختلف عوامل و اسباب ہو سکتے ہیں جن سے انسان اب تک غافل اور بے خبر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس آج بھی طولِ عمر کو ناممکن اور محال نہیں قرار دیتی۔ (شیعہ در اسلام)

 

7۔ انسان کی عمر کا تعلق گردشِ لیل و نہار سے ہے۔ جب ہماری زمین سورج کے گرد ایک چکر مکمل کرتی ہے تو اسے ایک شمسی سال کہاجاتا ہے۔ یہ چکر 365 دنوں میں مکمل ہوتا ہے۔ اب اگر کوئی ہستی "صاحب الزمان" ہو، زمان اس کے قبضہ قدرت میں ہو اور وہ زمان کا مالک ہو تب اس کے بارے میں طولِ عمر کا اشکال بے معنی سا لگتا ہے۔

 

خلاصہ یہ کہ کسی انسان کا طولِ عمر پانا نہ عقلی اور منطقی طور پر محال ہے اور نہ علمی اور سائنسی طور پر۔ اس کے باوجود کوئی اس بات کا منکر ہو تب اسے اپنی  دلیل پیش کرنی چاہیے۔


ٹیگس: امام مہدی, امام زمان
+ لکھاری عباس حسینی در 7 Apr 2020 و ساعت 1:55 AM |

امام کاظم علیہ السلام اور زندان

 

امام موسی کاظم علیہ السلام وہ امام ہیں جن کی مبارک عمر کے چودہ سال (بعض روایات کے مطابق سات سال) زندانوں میں گز گئے۔

آپ علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ جس طرح خوشی کے لمحات گزر جاتے ہیں اور ان کو دوام نہیں، بالکل اسی طرح سختی کے ایام نے بھی گزر جانا ہے۔ ہاں البتہ ایک ایسا دن ہے جس میں خداوند متعال ظالموں سے ان کے تمام تر مظالم کا بدلہ لے گا۔ آپ علیہ السلام نے زندان سے ھارون رشید کے نام ایک خط لکھا اس میں یہی پیغام موجود تھا۔ "إنه لن ينقضي عنّي يوم من البلاء إلّا انقضى عنك معه يوم من الرخاء حتّى نفضي جميعاً إلى يوم ليس له انقضاء يخسر فيه المبطلون" جس طرح میری سختی کے دن گزر رہے ہیں تیری خوشی کے دن بھی بالکل اسی طرح ختم ہو رہے ہیں۔ پھر ہم سب ایک ایسے دن میں جمع ہوں گے جس دن نے ختم نہیں ہونا۔ اس دن باطل کے پیروکار نقصان میں ہوں گے۔

امام عالی مقام علیہ السلام زندان کو عبادت، اطاعت اور صبر کی بہترین جگہ سمجھتے تھے۔ ان ذرائع سے انسان کمال کے مراتب طے کر سکتا ہے۔ انسان زندان کے ذریعے محکم ارادے کے ساتھ سختیاں برداشت کرنے کا درس حاصل کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امام علیہ السلام زندان کو خدا کا قرب حاصل کرنے کے لیے ایک بہترین فرصت سمجھتے تھے۔ جب زندان میں ڈالا گیا تب آپ علیہ السلام فرمایا: "اللهم إنّك تعلم أنّي كنت أسألك أن تفرغني لعبادتك ، اللهم وقد فعلت ، فلك الحمد" پروردگارا! تو خوب جانتا ہے میری دعا تھی کہ میں تیری عبادت کے لیے مکمل فرصت پیدا کروں۔ پروردگار تو نے یہ فرصت عطا کی ہے۔ تیرے لیے حمد ہے۔ امام عالی مقام رات بھر نماز، دعا، قرآن کی تلاوت اور عبادت میں مصروف رہتے اور دن کو اکثر روزے رکھتے۔

  انسان خدا کی رضا پر راضی رہتا ہے۔ امام علیہ السلام کو کاظم کہنے کی ایک وجہ ہی یہی بیان ہوئی ہے کہ آپ علیہ السلام لب شکایت سے تر کیے بغیر تمام تر سختیوں کو برداشت کرتے تھے اور بدترین دشمنوں کے مقابلے میں بھی اپنا غصہ ہمیشہ پی جاتے تھے۔

امام علیہ السلام نے زندان میں بہت زیادہ سختیاں جھیلیں لیکن اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے پر ہرگز راضی نہ ہوئے۔ جب کسی نے کہا کہ اگر آپ علیہ السلام فلاں بندے سے بات کر لیتے تو وہ ہارون کے سامنے آپ علیہ السلام کی سفارش کرتا اور اس سختی سے آپ علیہ السلام کو نجات  ملتی۔ آپ علیہ السلامنے فرمایا: میرے والد گرامی نے اپنے آباء سے نقل کیا ہے: "أن الله عزّ وجلّ أوحى إلى داود : يا داود ، إنّه ما اعتصم عبد من عبادي بأحد من خلقي دوني ... إلّا وقطعت عنه أسباب السماء ، وأسخت الأرض من تحته" اللہ تعالی نے حضرت داؤد پر وحی نازل کی: اے داؤد میری مخلوقات میں سے کوئی مجھے چھوڑ کر مخلوق سے مدد نہیں چاہتا۔۔ مگر یہ کہ آسمان کے تمام اسباب اس سے قطع ہو جاتے ہیں اور اس کے نیچے کی زمین کو وہ ناراض کر دیتا ہے۔


ٹیگس: امام کاظم
+ لکھاری عباس حسینی در 20 Mar 2020 و ساعت 8:36 PM |