آيت الله العظمى سید شہاب الدین مرعشى نجفى

 

 موصوف کی ولادت

 موصوف سن 1315 ہجری قمری میں شہر نجف میں پیدا ہوئے، آپ کا نام شہاب الدین رکھا گیا، موصوف کے والد گرامی آیت الله سید شمس الدین محمود مرعشی (متولد 1279 و متوفی 1338 هجری قمری) نجف اشرف میں علوم اسلامی کے مدرس اور فقیہ تھے۔ آیت الله مرعشی نجفی نے پچپن کو اپنے اہل خانہ کی محبت بهری آغوش میں گزارا اور اسلامی تربیت میں پروان چڑھے، موصوف کی والده اتنی باایمان اور پاکدامن خاتون تھیں کہ انہوں نے موصوف کو کبھی بہی بغیر وضو کے دودھ نہیں پلایا۔ موصوف کا تعلیمی سفر

 موصوف نے لکھنا پڑھنا سیکھنے کے بعد نوجوانی کے عالم میں روحانیت کا لباس پہنا اور اسلامی علوم حاصل کرنے میں مشغول ہوگئے، ادبیات عرب، فقہ، اصول، حدیث، درایہ، رجال اور شرح حال وغیره کو حوزه علمیہ نجف کے جید علماء سے سیکھا، اُس کے بعد آیت الله آقا ضیاء عراقی (متوفی 1373 هجری قمری)٬ آیت الله شیخ احمد کاشف الغطاء (متوفی 1373) اور حوزه علمیہ نجف کے دیگر برجستہ اور جید مدرسین کے فقہ و اصول کے درس خارج میں شرکت کی۔ آیت الله مرعشی تعلیم سے اِس قدر عشق رکھتے تھے کہ ہر وقت غور و فکر کے ساتھ مشغول رہتے تھے، دسیوں سال تک حوزه علمیہ نجف اشرف میں مشہور و معروف اساتید کے دروس میں شرکت کی اور اُن کے خرمن علم سے فیض علم حاصل کیا۔ ایک مدت تک زیدیہ اور اہل سنت کے علماء سے علم حدیث حاصل کیا اور ان سے نقل احادیث کا اجازه لیا۔ موصوف کی شب و روز کی محنت آخرکار 27 سال کی عمرمیں نتیجہ بخش ہوئی اور موصوف درجہ اجتہاد پر فائز ہوگئے، موصوف کی علم دین کے سلسلہ میں انتهک کوشش واقعا قابل داد ہے٬ جیسا کہ موصوف خود اِس سلسلہ میں فرماتے ہیں: «ہم نے جوانی کے عالم میں کبھی بھی نفسانی خواہشوں کی پیروی نہیں کی اور ہمیشہ علم دین حاصل کرنے میں مشغول رہے،ہم شب و روز میں چند گھنٹوں کے علاوه نہیں سوتے تھے، ہمیں جہاں بھی استاد یا عالم یا مفید درس کا پتہ چلتا تھا، اُس استادعالم اور اُس کے جلسہ درس میں جانے میں دیر نہیں کیا کرتے تھے»۔ آیت الله مرعشی نجفی نے نجف، کربلا، کاظمین، سامرا، تہران اور قم میں سو سے زیاده اساتید کے سامنے زانوئے ادب تہہ کئے اور اُن کے علم و تقوی سے فیض حاصل کیا۔ موصوف تعلیم کے ابتدائی مرحلے سے ہی بلند ہمت، ذوق و شوق، تقوی، ذکاوت اور ہوشیاری نیز دیگر اخلاقی فضائل میں مشہور تھے۔ موصوف نے متعدد شیعہ مراجع تقلید سے «اجازه اجتهاد» حاصل کیا، جن میں سے بعض کے اسمائے گرامی اِس طرح ہیں: 1 .آیۃ الله العظمى آقا ضياء عراقى ( متوفى 1361 هجری قمری) 2 .آیۃ الله العظمى سيد ابوالحسن اصفهانى ( متوفى 1365 هجری قمری ) 3 .آیۃ الله العظمى شيخ عبدالكريم حايرى يزدى ( متوفى 1355 هجری قمری) آیت الله مرعشی نے سن 1388 هجری قمری میں اپنے والد گرامی کی وفات کے بعد علوم دینی حاصل کرنے کے لئے کاظمین، سامرا اور کربلا کا سفر کیا اور برسوں تک وہاں کے حوزات علمیہ میں برجستہ اور جید اساتید سے فیض حاصل کیا۔

ایران کا سفر

 اور آخرکار سن 1342 هجری قمری میں حضرت امام رضا علیہ السلام کے روضہ مقدس کی زیارت کے لئے ایران آئے۔ حضرت اما م رضا علیہ السلام کے مرقد مطہر کی زیارت کے بعد تہران گئے اور حوزه علمیہ تہران میں آیت الله شیخ عبد النبی نوری (متوفی 1344 هجری قمری)، آیت الله آقا حسین نجم آبادی (متوفی 1347 هجری قمری)، آیت الله مرزا طاہر تنکابنی (متوفی 1360هجری قمری)، آیت الله مراز مهدی آشتیانی (1372هجری قمری) وغیره سے علم فقہ و اصول اور فلسفہ و کلام کی تعلیم حاصل کی۔ دوسرے سال حضرت معصومہ قم (سلام الله علیها) کے مرقد مطہر کی زیارت کے لئے آئے۔


ادامه مطلب
+ لکھاری عباس حسینی در 20 Jul 2017 و ساعت 3:44 PM |

ويل للمطففين

 

قرآن مجید کی دو سورتیں لفظ "ویل" سے شروع ہوئی ہیں۔ ایک یہی سورہ "مطففین" ہے، اور دوسری سورہ "ھمزہ" ہے۔ دونوں سورتوں میں بات ان لوگوں کے متعلق ہے جو مال وثروت کے فریفتہ ہیں اور مالِ دنیا کے مقابلے میں حکم خدا سے سرپیچی کرتے ہیں۔

            ویل کے معنی یا تو ہلاکت اور رحمت خدا سے دوری کے ہے، یا جہنم کی ایک خاص وادی کے ہے جس کی وعید ان کو سنائی جا رہی ہے۔

            پرانے زمانے میں جنس کے بدلے جنس کا نظام رائج تھا، جس میں ایک جنس کے بدلے دوسری جنس تول کر دی جاتی تھی۔ اس دوران کچھ لالچی لوگ دو کام کیا کرتے تھے۔ جب دوسروں کا مال تول کر لینے کی باری ہوتی تو پورا تول لیا کرتے، جبکہ اپنی جنس دیتے وقت کم تول لیا کرتے۔ ایسے لوگوں کو قرآن نے مطففین کہا ہے اور ان کے اس عمل کی شدت سے مذمت کی ہے۔ کیا ان لوگوں کو یہ گمان بھی نہیں کہ ان کودوبارہ زندہ کیا جائے گا اور ان سے اس برے عمل کے بارے میں پوچھا جائے گا؟ پس قیامت کا گمان اور حساب وکتاب کا احتمال بھی برے اعمال سے بچانے کے لیے کافی ہے اور عاقل انسان اس احتمال کی بھی پرواہ ضرور کرتا ہے۔ جس طرح سے یہ لوگ جنس اور مال کو آج ترازو میں ڈال کر تولتے ہیں، قیامت کے دن ان کے اعمال تولے جائیں گے۔ (وَ الْوَزْنُ‏ يَوْمَئِذٍ الْحَق‏)۔ البتہ خدا کے ترازو اور میزان میں کمی بیشی نہیں ہوگی۔ وہ عدل الہی کا ترازو ہوگا۔

مفسرین کا بیان ہے کہ تطفیف صرف جنس کے بدلے جنس کے ساتھ خاص نہیں۔ صرف ترازو والے مورد کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ اجتماعی زندگی کے ہر موڑ پر جہاں کوئی معاملہ درکار ہو تطفیف کا مورد پیش آسکتا ہے۔

  • اگر کوئی مزدور طے شدہ مزدوری کے مطابق کام نہ کرے تب بھی تطفیف ہے۔
  • اگر کوئی استاد، کوئی ڈاکٹر، کوئی انجینئیر اپنی تنخواہ اور ذمہ داری کے مطابق فریضہ ادا نہ کرے تب بھی تطفیف ہے۔
  • اگر کوئی خطیب اپنے مقررہ وقت سے کم پڑھ کر پیسے پورے وصول کرے تب بھی تطفیف ہے۔

یہاں اس مورد میں قرآن کا اسلوب عجیب ہے۔ مطففین کے ذکر کے فورا بعد کہا یقینا فجار (فاجر لوگوں) کی کتاب اور ان کا نامہ اعمال سجین (زندان) میں ہے۔ پس قرآن نے مطففین کو فاجر کہا ہے اور فاجر لوگوں کے لیے جہنم کے زندان کا عذاب قرار دیا ہے۔

پھر قرآن مجید دوبارہ ویل کی وعید سناتا ہے، چونکہ یہ لوگ قیامت کا انکارکرتے ہیں۔ اور یہ انکار خود ان کے اعمال کا نتیجہ ہے، کسی فکری یا اعتقادی اصول کی بنیاد پر نہیں۔ اپنے غلط اعمال کو جب دیکھتے ہیں تو اس کی توجیہ کے لیے قیامت کا انکار کرتے ہیں۔ اگر قیامت کو مانیں گے تو حساب وکتاب کو ماننا پڑے گا۔ اگر حساب وکتاب ہی مد نظر ہے تو برے اعمال سے بچنا ہوگا۔ پس برے اعمال کی توجیہ کا یہی راستہ ہے کہ قیامت کا ہی انکار کر دیں۔ یہ قانون ہے کہ جس طرح انسان اپنے اعمال کو بناتا ہے، اسی طرح اعمال، انسان کے بننے میں اور اس کی پرورش میں کردار ادا کرتے ہیں۔ جس طرح برے عقیدے کے نتیجے میں برے اعمال صادر ہوتے ہیں، اسی طرح برے اعمال کے نتیجے میں برے عقیدے بھی بنتے ہیں۔

 

(استفادہ از مجموعہ شہید مرتضی مطھری، بخش تفسیر)

+ لکھاری عباس حسینی در 14 Jul 2017 و ساعت 12:52 PM |